اسلام آباد:نوید اقبال اپنے خاندان کوخوشیاں دیتے دیتے ہمیشہ کےلیے غمگین کرگئے:فون پرآخری بات کیا کی؟کزن نے بتادی ،اطلاعات کے مطابق اس وقت ایک طرف مری میں آنے والے برفانی طوفان کا ہرطرف شورشرابہ ہے تو دوسری طرف اس طوفان میں میں اپنی بیٹیوں ،بیٹے،بھانجی ، بہن اوربھتیجیوں کومری کی سیر کروانے والے نوید اقبال کے سفرآخرت سے پہلے کے لمحات پرمشتمل اہم الفاظ بھی اب میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں
سانحہ مری میں اہلخانہ کے ساتھ جاں بحق ہونے والے اسلام آباد پولیس کے اہلکار نوید اقبال کے کزن طیب گوندل واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے زارو قطار رو پڑے۔
اس حوالے سے نجی ٹی وی سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے مری میں جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکار نوید اقبال کے کزن طیب گوندل نے بتایا کہ ’نوید اقبال اپنی تین بیٹیوں، ایک بیٹے، بہن، بھانجی اور بھتیجے کےساتھ تھے، میں اس لیے بچ گیا کہ ہم لوکل ٹرانسپورٹ سے گئے اور نوید اپنی گاڑی سے گئے تھے، نوید نے شام 6 بجے کال کی کہ ہم پھنس گئے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’وہاں گاڑیاں 24 گھنٹے سے پھنسی ہوئی تھیں، انتظامیہ نے کوئی دھیان نہیں دیا تھا، نتھیا گلی میں 2 سے 4 ہزار گاڑیاں موجود تھیں، نوید سے میرا رابطہ آخری بار صبح 4 بجے ہوا جس پر نوید نے سی پی او ساجد کیانی کا نمبر مانگا، میری ان سے بھی بات ہوئی، انہیں نوید کی ریکارڈنگ بھیجی مگر انہوں نے دیکھ کر کوئی جواب نہیں دیا‘۔
طیب گوندل کا کہنا تھا کہ ’جی ٹی روڈ اور موٹروے نیچے سے کلیئر تھی مگر جہاں سے برفباری شروع ہوئی وہاں شدید ٹریفک کا سامنا کرنا پڑا جہاں سے کسی صورت واپسی ممکن نہیں تھی، ہمیں انتطامیہ نے کہیں آگے جانے سے نہیں روکا، اگر مجھے پتا چلتا تو نوید کو واپس بلا لیتا‘۔
واضح رہےکہ مری میں سیرو تفریح کے لیے جانے والے اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی نوید اقبال اہلخانہ کے ساتھ جاں بحق ہوگئے۔









میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پوسٹر شہر کے پنچ گنگا گھاٹ، رام گھاٹ، دشاسوامیدھ گھاٹ، آسی گھاٹ اور مانیکرنیکا گھاٹ پر دیکھے گئے۔ وشوا ہندو پریشد کے ایک مقامی رہنما راجن گپتا ایک ویڈیو کلپ میں یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ یہ کوئی پوسٹر نہیں ہے بلکہ دیگر مذہبی گروہوں سے تعلق رکھنے والوںکے لیے ایک انتباہ ہے کہ انہیں سناتن ثقافت کی علامتوں سے دور رہنا چاہیے ۔





ہائی سپیڈ موبائل براڈ بینڈ ٹیکنالوجی کا امریکہ میں افتتاح پانچ دسمبر کو ہونا تھا، لیکن ایرو سپیس کمپنیوں ایئربس اور بوئنگ کی جانب سے طیاروں کی اونچائی کی پیمائش کے لیے استعمال کیے جانے والے آلات میں ممکنہ مداخلت کے بارے میں خدشات کا اظہار کرنے کے بعد اسے پانچ جنوری تک موخر کر دیا گیا۔