Baaghi TV

Tag: بشریٰ بی بی

  • توشہ خانہ ٹو، بشریٰ بی بی کا وکیل نہ آیا، سماعت ملتوی

    توشہ خانہ ٹو، بشریٰ بی بی کا وکیل نہ آیا، سماعت ملتوی

    اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کیس پر سماعت کی

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا ،بشری بی بی سماعت کے لیے اڈیالہ جیل آئیں،بشریٰ بی بی کے وکیل ارشد تبریز کی عدم موجودگی کے باعث گواہ کا نہ تو بیان ریکارڈ ہو سکا اور نہ ہی جرح ہو سکی ،وکیل کوسین مفتی نے کہا کہ ارشد تبریز بیماری کے باعث آج عدالت پیش نہیں ہو سکے،پہلے ارشد تبریز اپنی جرح مکمل کریں گے اس کے بعد ہم اپنی جرح کا آغاز کریں گے،پراسیکیوشن ٹیم کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کی مخالفت کی گئی،سپیشل پراسیکوٹر ذولفقار نقوی نے کہا کہ عدالت بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو جرح شروع کرنے کا حکم دے۔ جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ آئندہ سماعت پر جرح شروع نہ کی گئی تو عدالت کاروائی کرے گی،عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت چھ جنوری تک ملتوی کر دی

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی

    توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت، گواہان پر وکلاء صفائی کی جرح مکمل

  • توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی

    عمران خان اور بشری عمران کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی کر دی گئی

    کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل کی عدالت میں پیش ہوئیں، عمران خان کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں گواہ کابینہ ڈویژن کے سیکشن آفیسر بنیامین کا بیان قلمبند کر لیا گیا وصول کیئے گئے تحائف کی تفصیلات عدالت میں پیش کر دی گئیں،سپیشل جج سنٹرل شاہ رخ خان ارجمند نےاڈیالہ جیل میں سماعت کی ،گواہ نے توشہ خانہ تحائف کی رجسٹریشن کا رجسٹر بھی عدالت میں پیش کیا،بشری بی بی کے وکیل ارشد تبریز نے گواہ پر ابتدائی جرح کی اورسماعت2جنوری تک ملتوی کر دی گئی،

    توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کررکھی ہے،عمران خان اور بشری بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا ۔عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہے اور پشاور میں ہے،

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    ریشم کی منفرد دعا جس کے باعث وہ تاحال غیر شادی شدہ ہیں

    پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا

  • توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

    توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

    اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت ہوئی

    سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا ،بشریٰ بی بی کیس کی سماعت کے لیے اڈیالہ جیل آئیں ،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل خالد یوسف اور عائشہ خالد پیش ہوئی،بشری بی بی کے وکیل ارشد تبریز عدالت میں پیش ہوئے،وکیل سلمان صفدر اور کوثین فیصل مفتی کی جانب سے ذاتی مصروفیات کے باعث سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی،وکلا کی عدم موجودگی کے باعث پراسیکوشن کے گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہو سکا،عدالت نے بغیر کارروائی توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 30 دسمبر تک ملتوی کر دی

    توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کررکھی ہے،عمران خان اور بشری بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا ۔عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہے اور پشاور میں ہے،

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ،پہلا ٹیسٹ میچ،جنوبی افریقا کا بولنگ کا فیصلہ

    ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ کراچی کے مسافروں کیلیے گیم چینجر ہے، شرجیل انعام میمن

  • 26 نومبر کے چار مقدمے، بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

    26 نومبر کے چار مقدمے، بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

    اسلام آباد: اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 4 مختلف مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی۔

    یہ مقدمات پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاج کے دوران بشریٰ بی بی کے خلاف درج کیے گئے تھے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ڈیوٹی جج شبیر بھٹی نے بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی اپنے وکلاء کے ہمراہ کمرہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ عدالت نے ان کی عبوری ضمانت 13 جنوری تک منظور کرلی۔عدالت نے بشریٰ بی بی کی ضمانت کے لیے 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت کی جانب سے عبوری ضمانت کی منظوری کے بعد بشریٰ بی بی کو کوئی فوری گرفتاری کا سامنا نہیں ہوگا۔

    یاد رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ ترنول میں ایک اور تھانہ رمنا میں تین مقدمات درج ہیں۔ یہ مقدمات پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاجی دھرنے کے دوران بشریٰ بی بی کے مبینہ کردار سے متعلق ہیں، جس کے نتیجے میں پولیس نے ان کے خلاف مقدمات درج کیے تھے۔اس عبوری ضمانت کی منظوری کے بعد بشریٰ بی بی کو کسی بھی طرح کی قانونی پریشانی سے بچت حاصل ہوئی ہے، اور ان کے وکلا نے عدالت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

    آذربائیجان ،طیارہ مبینہ میزائل حملے کا نشانہ بنا، دعویٰ

    جاپان ایئرلائنز پر سائبر حملہ،پروازوں میں تاخیر

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر

    اسلام آباد احتساب عدالت ،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف محفوظ شدہ فیصلہ نہ سنایا جا سکا

    سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی ،وکیل خالد چوہدری نے کہا کہ ہم توقع کر رہے ہیں آج فیصلہ آئیگا،جج احتساب عدالت نے کہا کہ فیصلہ تو آج نہیں آئیگا،چھٹیاں آرہی ہیں اور ہائیکورٹ کا کورس بھی ہے،دس منٹ تک تاریخ معلوم کر لیجئے گا، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے دلائل سننے کے بعد 18 دسمبر کو سینٹرل جیل اڈیالہ میں فیصلہ محفوظ کیا تھاجو آج سنایا جانا تھا تاہم آج نہیں سنایا گیا

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کے فیصلے کا معاملہ ، 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جنوری تک مؤخر کر دیا ،کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے وکیل خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،نیب کے پراسیکیوٹر سہیل عارف عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے کچھ دیر بعد محفوظ فیصلے کی نئی تاریخ مقرر کر دی، احتساب عدالت 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر 6 جنوری کو اڈیالہ جیل میں فیصلہ سنائے گی،احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • بشریٰ بی بی  کو 32 مقدموں میں ضمانت مل گئی

    بشریٰ بی بی کو 32 مقدموں میں ضمانت مل گئی

    سانحہ نو مئی کے32 مقدمات میں بشری بی بی نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں خود کو سرنڈر کر دیا

    راولپنڈی انسداد دہشت گردی اپنے وکلا کے ہمراہ پیش ہو گئیں ،اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،محمد فیصل مالک پر مشتمل وکلا کا پینل درخواست ضمانتوں کی پیروی کرے گا ،دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج کمرہ عدالت میں پہنچ گئے ،بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کریں گے،بشریٰ بی بی کی گاڑی کو انسداد دہشتگردی کی عدالت کے حدود میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی،

    بشری بی بی کی 32 مقدمات میں 13 جنوری تک عبوری ضمانت منظور کر لی گئی،عدالت نے بشری بی بی کو 13جنوری تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا،عدالت نے تمام مقدمات کے تفتیشی افسران کو نوٹس جاری کر دیئے۔عدالت نے آئندہ سماعت پر ریکارڈ طلب کر لیا، بشری بی بی کے خلاف مقدمات احتجاج کے واقعات پر اٹک اور پنڈی میں درج ہیں۔ درخواست ضمانتوں کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی ،ضمانت ملنے کے بعد بشری بی بی عدالت سےروانہ ہو گئیں،بشریٰ بی بی سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں موجود تھیں اور ان کی جانب سے ضمانتی مچلکے بھی جمع کرائے گئے۔

    بشریٰ بی بی بارے ٹویٹس،گلوکار سلمان احمد کو پی ٹی آئی نے پارٹی سے نکال دیا

    پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ 23 دسمبر کو سنایا جائیگا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ 23 دسمبر کو سنایا جائیگا

    اسلام آباد: احتساب عدالت نے اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    عدالت نے اس کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں کی جہاں دونوں ملزمان، عمران خان اور بشریٰ بی بی، عدالت میں موجود رہے۔احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا کی سربراہی میں اس کیس کی سماعت جاری تھی۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کے وکلا نے اپنے حتمی دلائل مکمل کرلیے جبکہ پراسیکیوشن ٹیم نے گزشتہ روز اپنے دلائل مکمل کیے تھے۔ عدالت نے فریقین کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور کہا کہ 23 دسمبر کو اس کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ اس فیصلے کا انتظار ملک بھر میں کیا جا رہا ہے کیونکہ اس مقدمے کی نوعیت اہم ہے اور اس سے سیاسی منظرنامے پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کر دی اور سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    بشری بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست پر 2 رکنی بنچ نے سماعت کی، جس میں جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس وقار احمد شامل تھے۔درخواست گزار کے وکیل عالم خان ادینزئی ایڈوکیٹ نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ بشری بی بی کو آج اسلام آباد میں توشہ خانہ ٹو کے کیس میں پیش ہونا ہے، اور وہ وہاں پر پیش ہوں گی۔ وکیل نے عدالت سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی کہ حفاظتی ضمانت میں مزید توسیع دی جائے تاکہ درخواست گزار کو قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہو سکے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بشری بی بی کے خلاف دو مختلف کیسز عدالت کے سامنے زیر سماعت ہیں، اور پہلے کیس میں انہوں نے رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں مزید کاروائی کے لیے رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔سپیشل ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے بھی عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروا دی اور بتایا کہ بشری بی بی کے خلاف نیب کے تین مختلف کیسز زیر تفتیش ہیں۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے۔عدالت نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ بشری بی بی کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے اور مزید قانونی کارروائی کو جاری رکھا جائے۔ اس کے بعد عدالت نے بشری بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 16 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔

    یہ مقدمات بشری بی بی اور ان کے شوہر عمران خان کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ ہیں، جن میں نیب اور دیگر ادارے کرپشن اور دیگر الزامات کی تفتیش کر رہے ہیں۔اب بشری بی بی کو اس عرصے میں قانونی معاملات میں راحت ملے گی اور انہیں حفاظتی ضمانت کی توسیع کا فائدہ حاصل ہوگا۔ ان کی آئندہ پیشیوں کا فیصلہ عدالت کی جانب سے 16 جنوری 2024 کو کیا جائے گا۔

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، پراسیکیوشن کے حتمی دلائل مکمل

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، پراسیکیوشن کے حتمی دلائل مکمل

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں پراسیکوشن نے حتمی دلائل مکمل کر لئے

    عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی، عدالت نے وکیل صفائی کو کل دلائل دینے کا حکم دے دیا، کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئیں تو عمران خان کو بھی عدالت پیش کیا گیا.  احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے ریفرنس پر سماعت کی ،پراسیکیوشن ٹیم نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں حتمی دلائل مکمل کر لیے ،نیب کے وکیل امجد پرویز کی جانب سے دلائل دیے گئے ،دلائل میں کہا گیا کہ چھ نومبر 2019 کو ڈیڈ سائن جبکہ رقم کی پہلی قسط 29 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں آچکی تھی ۔ڈیڈ کی منظوری کابینہ سے تین دسمبر 2019 کو لی گئی ۔کابینہ کو بھی نہیں بتایا گیا کہ پہلی قسط پاکستان پہنچ چکی ہے ۔ایسٹ ریکوری یونٹ اور نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان بات چیت 2018 سے جاری تھی۔ کابینہ کی منظوری سے پہلے ہی ڈیڈ این سی اے کو بھجوائی جا چکی تھی ۔معاملات پر پردہ ڈالنے کے لیے بعد میں کابینہ سے منظوری لی گئی۔ پیسے وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ کی بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منگوائے گئے۔ کوئی قانون یہ نہیں کہتا کہ نیشنل کرائم ایجنسی اور ایسٹ ریکوری یونٹ کے درمیان سائن ہونے والی ڈیڈ کو پبلک نہیں کیا جائے گا ۔ نیب قانون کے مطابق اگر پبلک افس ہولڈر کوئی بھی گرانٹ یا ڈونیشن لیتا ہے تو وہ حکومت پاکستان کی ملکیت ہوگی۔عمران خان نے بطور وزیراعظم فیور دی جس کے بدلے میں ڈونیشن ملی۔نیب ارڈیننس کے تحت اگر معاملہ پبلک افس ہولڈر کے پاس زیر التوا ہو تو اس شخص سے کوئی بھی چیز لینا رشوت ہے۔فرح گوگی کے نام پر بھی 240 کنال اراضی ٹرانسفر ہوئی،زلفی بخاری کے نام پر بھی جب زمین ٹرانسفر ہوئی اس وقت بھی ٹرسٹ کا وجود تک موجود نہیں تھا ،190 ملین پاؤنڈ کی ایڈجسٹمنٹ ہونے کے بعد ٹرسٹ بنایا گیا ،رولز اف بزنس 1973 کی بھی خلاف ورزی کی گئی ،کابینہ میں کوئی بھی معاملہ زیر بحث لانے سے سات روز قبل اسے سرکولیٹ کرنا ہوتا ہے ۔ کیا جلدی تھی کہ اس معاملے کو سات دن پہلے کا بینہ ممبران کو سرکولیٹ نہیں کیا گیا۔

    کل عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا کی جانب سے حتمی دلائل کا آغاز کیا جائے گا ،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت کل صبح ساڑھےدس بجے تک ملتوی کر دی گئی،6 نومبر کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا تھا، جہاں وکلا صفائی نے 35 گواہوں پر جرح مکمل کر لی تھی۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔  اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد: اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں 7 جنوری تک توسیع کر دی ہے۔ضمانتوں میں توسیع عمران خان کے چھ اور بشریٰ کے ایک مقدمے میں کی گئی ہے

    یہ فیصلہ عدالت نے دونوں ملزمان کے خلاف زیر سماعت مقدمات کی ضمانت کی درخواستوں پر کیا۔سماعت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔ وکلا نے بتایا کہ سینئر کونسل، جو مرکزی جیل اڈیالہ میں مصروف تھے، اس لیے وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہو سکے۔ اس پر عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کر دی اور اگلی سماعت 7 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔عدالت کے اس فیصلے سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مزید وقت مل گیا ہے تاکہ وہ مقدمات میں پیش رفت کر سکیں اور عدالت میں اپنے دفاع کے لیے تیاری کر سکیں۔

    یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مختلف مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں تحریک انصاف کی قیادت اور پارٹی کی جانب سے مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں سے کچھ میں ضمانت کی درخواستیں پہلے ہی دائر کی جا چکی تھیں، اور اس میں مزید پیش رفت کے لیے یہ فیصلہ اہمیت رکھتا ہے۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    فیصل آباد،پیزا ڈکیتی کی چوتھی واردات،پولیس بے بس