Baaghi TV

Tag: بلاول بھٹو

  • مولانا فضل الرحمان کو صدر بنانے سے متعلق فیصلہ نہیں ہوا،بلاول بھٹو

    مولانا فضل الرحمان کو صدر بنانے سے متعلق فیصلہ نہیں ہوا،بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2018کے انتخابات میں آر ٹی ایس متنازعہ بنا ،اب الیکٹرونک ووٹنگ مشین آر ٹی ایس پلس ثابت ہوگا وزیر خارجہ بننے سے متعلق فیصلہ پارٹی کرے گی،اس وقت ساری توجہ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے پر ہے-

    باغی ٹی وی : بلاول بھٹو نے کہا کہ صدر کے مواخذے اور مولانا فضل الرحمان کو صدر بنانے سے متعلق فیصلہ نہیں ہوا،کم عمر ضرور ہوں لیکن والدہ کی سیاست، مشکلات اور نقصان کو دیکھا ہے،صدارتی امیدوار کا فیصلہ پاکستان کی سوچ اور پارلیمان کے فیصلے کے مطابق ہوگا جس کے پاس اکثریت ہوگی صدر بننا اس کا حق ہوگا-

    چئیر مین پی پی نے کہا کہ میمو گیٹ کمیشن بھی جمہوریت کے خلاف سازش تھا، خط کے معاملے پر کمیشن کا قیام میمو گیٹ ٹو ہے جو ایک ناکام سازش کی کوشش ہے،حکومت نے خط کے معاملے پر وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کمیٹی کو متنازع بنانے کی کوشش کی،حکومت کےخلاف اگر واقعی کوئی سازش ہے تو کوئی پاکستانی اسے قبول نہیں کرے گا-

    پیپلزپارٹی رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ آج قانون کی حکمرانی کا دن ہے ، نمبرپورے ہیں، منحرف اراکین کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے-

    خالد مگسی نے کہا کہ ہمیں انہی لوگوں کے ساتھ سیاست کرنی ہے ، نیوٹرل نام کی کی طرح رجیم کا نام بھی گڑ بڑ کردیا گیا ہے-

    ن لیگی رہنمامرتضٰی جاوید عباسی نے کہا کہ ہوسکتا ہے اقتدار کو بچانے کیلئے حکومت سرپرائز کی کوشش کرے ،سپریم کورٹ نے آج ووٹنگ کا حکم دیا ہے اگرآج دوبارہ آئین شکنی کی تو پھر عدالت میں جائیں گے-

  • عمران خان انگلی کٹواکر خود کو شہید ثابت کرنا چاہتے ہیں: بلاول

    عمران خان انگلی کٹواکر خود کو شہید ثابت کرنا چاہتے ہیں: بلاول

    اسلام آباد:عمران خان انگلی کٹواکر خود کو شہید ثابت کرنا چاہتے ہیں: اطلاعات کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری کا کہنا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بعد عمران خان کو الیکشن میں بھی شکست دیں گے۔

     

     

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم 3 سال سے حکومت میں ہیں کسی پاکستانی کو چین سے بیٹھنے نہیں دیا، ہم نےان کوپارلیمان ،عدالت میں شکست دلائی۔

     

     

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد تحریک کے ذریعے جمہوری طریقے سے ہی وزیراعظم کو ہٹایا جارہا ہے اور ان کی بھرپور کوشش ہے کہ انگلی کٹا کر خود کو شہید ثابت کریں۔

     

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے 3سال قوم سے جھوٹ بولا، جاتے جاتے آئین شکنی کی اور عمران خان کو پتا ہے کہ وہ سازش سے نہیں جمہوری طریقے سے ہٹ رہے ہیں۔

     

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں مراسلے کے پیچھے کوئی سازش نہیں، اگر باہر سے مداخلت ہورہی ہے تو ہم نہ صرف مذمت کریں گے بلکہ روکیں گے، ہر پاکستانی چاہتا ہے کہ بیرونی مداخلت ہے تو سامنے آئے۔

     

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتا ہے خط عدالت نے نہیں دیکھا، کیا عدالت میں خط پیش کیا؟ ہمارا مطالبہ تھا کہ خط عدالت میں پیش کرو، وزیراعظم نے عدالت میں خط پیش کیا نہ قومی اسمبلی میں لارہے ہیں۔

     

    بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ پچھلے سیشن میں یہ بھاگے اور بھاگتے بھاگتے آئین شکنی کردی ،ہماری اکثریت ہے،جو ہم سیشن دکھا چکے ہیں۔

     

     

    اس کے علاوہ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عمران خان نے یکطرفہ الیکٹورل ریفارم کرایا،انہوں نے نہ صرف ہم سے بلکہ اتحادیوں سے بھی مشاورت نہیں کی جبکہ ہم الیکٹورل ریفارم مکمل کرتے ہی نئے انتخابات کی طرف بڑھیں گے۔

     

    ان کا کہنا تھا کہ جب عمران خان قائد حزب اختلاف بنیں تو اپنا مؤقف اور پروگرام عوام کے سامنے رکھیں۔

     

  • ہرصوبے اورہراکائی کی حکومتوں کوعدم اعتماد سے گرادیں گے:بلاول بھٹو

    ہرصوبے اورہراکائی کی حکومتوں کوعدم اعتماد سے گرادیں گے:بلاول بھٹو

    اسلام آباد:‏پیپلزپارٹی کا فیصلہ سامنے آیا کہ خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں بھی PTI حکومتوں کیخلاف تحاریکِ عدم اعتماد لائی جائیں۔ ھم اس سلسلے میں متحدہ اپوزیشن سے بات کرینگے

    مریم نوازاوربلاول بھٹوعمران خان کیخلاف متحد:ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ پررولا ڈال دیا،اطلاعات کے مطابق ابھی تھوڑی دیر پہلے پاکستان کے دوحکمران خاندانوں کےنوجوان جانشینوں نے بڑی حکمت عملی کے ساتھ وزیراعظم عمران خان کے خلاف الزامات لگا کرڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف کامیاب رولا ڈال دیا ہے ،

    ایک طرف مریم نواز نیوزکانفرنس کررہی ہیں تو دوسری طرف بلاول بھٹودونوں‌کی ایک ہی ٹائمنگ اداروں کومتاثرکرنے کی ایک حکمت عملی لگ رہی ہے ،

    آج پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کے غیر آئینی اقدام کو سر پرائز نہیں کہہ سکتے، یہ غداری ہے اور انہوں نے گزشتہ دن جو کیا وہ اپنی انا بچانے کیلئے کیا۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں بلاول کہا کہنا تھاکہ اپوزیشن سمیت کسی رکن پارلیمنٹ نے وہ سازشی مراسلہ نہیں دیکھا، مراسلے پر نہ کسی سفارتکار کو وزیراعظم ہاؤس یا دفتر خارجہ طلب کیا گیا نہ اس متعلق وزیر خارجہ نے امریکی حکومت سے کوئی شکایت کی۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اکثریت کھونے کا احساس ہوا تو انہوں نے بین الاقوامی سازش کا کہہ کر چلانا شروع کردیا۔

    بلاول کا کہنا تھاکہ عمران خان کے غیر آئینی اقدام کو سر پرائز نہیں کہہ سکتے، یہ غداری ہے اور انہوں نے گزشتہ دن جو کیا وہ اپنی انا بچانے کیلئے کیا۔

    خیال رہے کہ 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسہ عام سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے خط لہرایا تھا اور کہا تھاکہ ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی، میرے پاس خط ہے اور وہ ثبوت ہے۔

    قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر نے مبینہ سازش کو جواز بنا کر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد مستردکردی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے معاملے پر ازخود نوٹس لیا تھا اور اس پر عدالت میں سماعت جاری ہے۔

    دوسری جانب امریکا کی جانب سے پاکستان میں حکومت الٹنےکی سازش میں ملوث ہونےکے الزام کی تردید کی جاچکی ہے۔

  • عمران خان نے پاکستان کے آئین کو آگ لگائی ہے،ہم اس کی بغاوت کا مقابلہ کریں گے،بلاول بھٹو

    عمران خان نے پاکستان کے آئین کو آگ لگائی ہے،ہم اس کی بغاوت کا مقابلہ کریں گے،بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں غیر جمہوری حکومت اقتدار میں نہ آسکے پاکستان میں مضبوط نظام لانے کے لیے ہمیں اصلاحات کی ضرورت ہے، ہم عمران خان کی حکومت سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار انڈپینڈنٹ کے آرٹیکل میں بلاول بھٹو نے لکھا کہ 3 اپریل ہمارے لیے فتح کا دن تھا اورہم اداس بھی تھے، شکست کو تسلیم کرتے ہوئے عمران خان کا آخری مایوس کن عمل ایک اور بغاوت تھی، جس میں آئین کو منسوخ کر دیا گیا جمہوریت کو تہس نہس کر دیا گیا اس بار فرق صرف اتنا تھا کہ اس بغاوت کے معمار ایک سویلین عمران خان تھے-

    وقت آگیا ہے کہ نیشنل سیکیورٹی کے پاس ہوئے منٹس واضح ہوں،شہباز شریف

    چئیرمین پی پی پی نے لکھا کہ میں یہ 4 اپریل کو اس وقت لکھ رہا ہوں، جب سپریم کورٹ آف پاکستان عمران خان کی قانونی حیثیت اور ان کے ساتھیوں کے اقدامات پر فیصلہ دے رہی ہے، 4 اپریل 1979 کو میرے نانا ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ضیاالحق کی فوجی بغاوت کے بعد پھانسی دے دی گئی، اس کے نتیجے میں وزیراعظم کا عدالتی قتل کیا گیا جو پاکستان کے وفاقی، جمہوری آئین کے خالق ہیں۔

    بلاول نے لکھا کہ پاکستان کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں کوئی نمائندگی نہ رکھنے والی اور غیر جمہوری حکومت اقتدار میں نہ آسکے، اس کے لیے ہمیں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے، عمران خان اس غیر آئینی طریقہ کار کو بچانا چاہتا ہے جو اس جیسے آمروں کو برقرار رکھتا ہے، اس کوشش میں بھی اسے شکست ہوگی۔

    انہوں نے لکھا کہ عمران خان نے قومی اسمبلی کی اکثریت کھو دی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ اتوار کو کل 342 میں سے 197 ارکان میرے ساتھ اپوزیشن بنچوں پر آئے، انہیں عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنا پڑا جو کہ وزیراعظم کو ہٹانے کا واحد آئینی طریقہ ہے-

    وفاق کی طرح پنجاب میں بھی غیرآئینی اقدامات کی تیاری کی جارہی ہے،لیگی رہنما

    بلاول نے لکھا کہ ووٹ کا سامنا کرنے کے بجائے عمران خان کی پارٹی کے ڈپٹی اسپیکر نے پوری اپوزیشن پر الزام لگایا کہ اپوزیشن “غیر ملکی ایجنڈے” پر کام کر رہی ہے اور تحریک کو مسترد کر دیا عمران خان نے جلد ہی قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز دی، ڈپٹی اسپیکر اور خان صاحب کے دونوں اقدامات آئین پاکستان کی براہ راست خلاف ورزی تھے جمہوریت اور آئین پر اس حملے کی سنگینی اس حقیقت سے بڑھ گئی ہے کہ خان نے پارلیمنٹ میں ایسا کرنے کا فیصلہ کیا۔

    انہوں نے لکھا کہ اپنی بغاوت کی قیادت میں، خان اور ان کے حامیوں نے اپوزیشن کو دھمکایا، ڈرایا اور ڈرایا، اور جب یہ تمام کوششیں اپوزیشن کو ووٹ دینے سے روکنے میں ناکام رہیں اس نے وہی کیا جو آمروں نے آخری حربے کے طور پر کیا۔ اس نے آگ لگا دی. اس نے پاکستان کے آئین اور جمہوریت کو آگ لگانے کی کوشش کی عدم اعتماد کے ووٹ میں ایک یقینی اور زبردست شکست کے بعد اس نے پوری پارلیمنٹ کو ختم کرنے کی کوشش کی ہم عمران خان کی بغاوت کا مقابلہ کریں گے-

    چئیرمین پیپلز پارٹی نے لکھا کہمیں نے دو سال سے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ مانگا ہے۔ اس کے بعد سے اس نے نااہلی، تکبر اور آمریت کی حکومت کی صدارت کی ہے پاکستان میں مہنگائی، غربت، کرپشن ہماری ملکی تاریخ میں اپنے عروج پر ہے۔ سیاسی مخالفین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ میڈیا سنسرخاموش ہیں استثنیٰ کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔ جمہوریت کے فن تعمیر کو توڑا جا رہا ہے اور ریاستی اداروں پر حملہ کیا جا رہا ہے۔

    بلاول نے اپنے آرٹیکل میں لکھا کہ اتوار کو اپوزیشن بنچوں پر میرے ساتھ آنے والے ارکان کی طرف سے ملنے والے ووٹ پاکستانی آبادی کے کل ووٹوں کا 70 فیصد تھے عمران خان نے ووٹ لینے کے لیے غداری کے الزامات لگا کر انتہائی خطرناک کھیل کھیلا ہے، وہ پاکستانی ووٹنگ کی 70 فیصد آبادی پر غداری کے منصوبے میں ملوث ہونے کا الزام لگا رہے ہیں،، عمران خان نے نہ صرف جمہوری ووٹ سے بزدلانہ پسپائی اختیار کی ہے، بلکہ بظاہر اگلے انتخابات میں دھاندلی کے اپنے ارادے کا اظہار کیا ہے.

    عدالت نے 31 مارچ اور 3 اپریل کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس طلب کرلیے

    انہوں نے لکھا کہ پاکستان کے عام انتخابات سے قبل پارلیمنٹ کے ذریعے خان کو ہٹانے کی ایک وجہ انتخابی اصلاحات کرنا ہے، ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی اجازت دیتا ہو، سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ تاریخ کو اپنے آپ کو دہرانے نہ دے، سپریم کورٹ آف پاکستان آئین اور عوام کی مرضی کو غالب آنے دے.

    چئیرمین پیپلز پارٹی نے لکھا کہ اگر پاکستان کے آئین اور جمہوریت پر اس حملے کی مذمت نہ کی گئی، تو اس سے پاکستان کو دوبارہ آمریت کی تاریک حکمرانی کی طرف لوٹنے کا خطرہ ہے، ہم پاکستانی عوام ایسا نہیں ہونے دیں گے، عمران خان کو نہ صرف شکست ہوگی بلکہ ماضی کے ڈکٹیٹروں کے ساتھ تاریخ کے کوڑے دان میں بھی ڈال دیا جائے گا.

    عمران خان کو پتہ بھی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا،وہ اپنی حکومت ختم ہونے پرجشن منا…

  • عمران خان کو پتہ بھی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا،وہ اپنی حکومت ختم ہونے پرجشن منا رہے ہیں،بلاول بھٹو

    عمران خان کو پتہ بھی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا،وہ اپنی حکومت ختم ہونے پرجشن منا رہے ہیں،بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ چوروں کے خلاف نعرہ لگانے والا خود چور نکلا-

    باغی ٹی وی : بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان کو کہاتھا 18ویں ترمیم کو نہ چھیڑو ورنہ حکومت گرادیں گے3سالوں کی جدوجہد کے بعد سلیکٹڈ حکومت کو گھر بھیج دیا،ہم نےکہا تھاعوامی مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلےمستعفی ہوجائیں یہ کھلاڑی نہیں بزدل ہے-

    قومی اسمبلی تحلیل ہونے کا معاملہ: الیکشن کمیشن نے این اے 33 ہنگو میں ضمنی الیکشن ملتوی کردیا

    بلالو بھٹو نے کہا کہ اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن ارکان کی تعداد پوری تھی، اس شخص نے بھاگتے بھاگتے آئین کو توڑ دیا،عدالت کا جو بھی فیصلہ آیا نیازی مزید نہیں رہےگا،اگر پارلیمان پر آئین لاگو نہیں تو پھر پاکستان میں کہاں ہوتاہے،چاہتےہیں صاف و شفاف انتخابات ہوں،کوئی متنازعہ الیکشن نہ ہوں-

    چئیرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ عوام نے گالم گلوچ والی حکومت کو گھر بھیج دیا،کرپشن کے خلاف بات کرنے والا تاریخ کا کرپٹ شخص نکلا،آج علیم خان بھی وہی باتیں کررہے ہیں جو ہم کہتےتھے،عمران حکومت کو چلانے کے لیے پیسہ چلتاتھا پنجاب میں افسران کے تبادلوں کیلئےوزیراعظم کوپیسہ جاتاتھا-

    بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران کا کچن کرپشن کے پیسے سے چلتاتھا،فارن فنڈنگ کیس میں پھنسے ہوئے شخص کیخلاف کون سازش کرسکتا ہے،عمران کہتے ہیں کہ متحدہ اپوزیشن کے ارکان غدار ہیں،کیا بھٹو کا نواسہ ملک کا غدار ہوسکتاہے،یہ پاکستان کی سلامتی کا سوال ہے-

    ایوان صدر آرڈیننس فیکٹری بن چکا ہے،حمزہ شہباز

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے سکھر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے ایک ہفتہ مزید وزیراعظم رہنے کیلئے آئین کو توڑ دیا،امید ہے اعلیٰ عدالت آئین کے مطابق فیصلہ کرے گی عوامی مارچ کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت ختم ہو گئی،اس کا نیا پاکستان ختم ہو گیا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور عمران خان کو جمہوری طریقے سے بھگایا، اسے پتہ بھی نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا،وہ اپنی حکومت ختم ہونے پرجشن منا رہا ہے عمران خان پاکستان کے معاشی بحران کے ذمہ دار ہیں، انہوں نے پاکستانی اداروں کونقصان پہنچایا عمران خان بزدل شخص ہے،مقابلےسےبھاگ گئے۔

    عمران خان اب تم خط کے ذریعے ہیرو نہیں بن سکتے، مولانا فضل الرحمان

    جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹونے ملک کو آئین دیا،ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں، ہمیشہ جمہوریت کی بات کرتے ہیں ہمیں انتخابی اصلاحات کرنے سے روک دیا گیا ہے،اگر انتخابی اصلاحات کے بغیر انتخابات ہوئے تو وہ بھی متنازع ہوں گے انتخابات میں کامیاب ہو کر آنے والوں کو بھی سلیکٹڈ کہا جائے گا۔

    چئیرمین پی پی پی نے کہا کہ 2013 اور2018 کے انتخابات شفاف نہیں تھےمگرپھر بھی مقابلہ کیا، پیپلزپارٹی ہر وقت الیکشن کیلئے تیار ہے ہمارا مقصد سلیکٹڈ کی حکومت کو ختم کرنا تھا، ہم پرامید ہیں عدلیہ سے ہمیں انصاف ملے گا۔

    ٹوئٹر پر بشریٰ بی بی کی دوست فرح خان کا نام ٹاپ ٹرینڈ پرکیوں؟

  • کل ہماری سحری نئے پاکستان میں ہوگی:بلاول بھٹواُمید سے ہوگئے

    کل ہماری سحری نئے پاکستان میں ہوگی:بلاول بھٹواُمید سے ہوگئے

    اسلام آباد :بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ کل ہماری سحری نئے پاکستان میں ہوگی۔اطلاعات کے مطابق پی پی چیئرمین بلاول بھٹواُمید سے ہوگئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کل سے پاکستان میں ہرقسم کی پریشانیاں ختم ہوجائیں گی

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کو رمضان کی مبارکباد دیتا ہوں، کل ہماری سحری نئے پاکستان میں ہوگی، کل سےعوام کے مسائل کے حل کا آغاز ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ جمہوریت کیلئے فکرمند رہنے والے تمام افراد کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں، اب وقت آگیا ہے کہ آپ باعزت راستہ اپنائیں، کپتان کو اب اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ کپتان کو پہلے ہی مستعفی ہوجانا چاہیے تھا، ہارا ہوا شخص کوشش کرے گا تصادم اور بد امنی ہو، یہ پارلیمان کے اندر اور باہرفساد پھیلانے کی کوشش کرینگے۔

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ یہ اقتدار میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کریں گے، ہم موجودہ وزیراعظم کو جمہوری طریقے سے نکال رہے ہیں۔

    دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان اپنی شکست کو تسلیم کرنے کے بجائے قوم کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہے ہیں، اپنے طرز عمل اور دھمکیوں کے ذریعے قوم کو تقسیم کر رہے ہیں۔ غداری کا مقدمہ سب سے پہلے آپ کے خلاف درج ہونا چاہیے۔

    نیوز کانفرنس کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کی ساری اسٹرٹیجی آخری مرحلے میں کامیابی سے ہمکنار ہو گی، عمران نیازی اپنی شکست ماننے کے بجائے قوم کو تقسیم درتقسیم کرنے کی بھیانک سازش کرنے میں مصروف ہے۔ یہ تمام آئینی اداروں کا فرض ہے تمام اقدامات اٹھائیں۔ عمران نیازی آئین وقانون کے راستے پرچلنے سے انکاری ہے۔

  • بلاول بھٹو کی رکن قومی اسمبلی شاہ زین بگٹی کے گھر آمد،شاہ زین بگٹی کا حکومت سے علیحدگی کا اعلان

    بلاول بھٹو کی رکن قومی اسمبلی شاہ زین بگٹی کے گھر آمد،شاہ زین بگٹی کا حکومت سے علیحدگی کا اعلان

    چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی شاہ زین بگٹی کے گھر پہنچے جہاں دونوں رہنماؤں نے تحریک عدم اعتماد پر تفصیلی گفتگو کی شاہ زین بگٹی نے وفاقی کابینہ سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا-

    باغی ٹی وی : ملاقات کے موقع پر جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی نائب صدر میر چاکر بگٹی اور مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری مدنی بلوچ بھی موجودتھے جبکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سید یوسف رضا گیلانی، فیصل کریم کنڈی، شازیہ مری اور احسان اللہ مزاری موجود تھے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی کے درمیان ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا-


    ملاقات کے دوران رکن قومی اسمبلی شاہ زین بگٹی نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا کہا کہ ہم پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال کو دیکھ رہے ہیں،حکومت نے سوائے وعدوں کے کچھ نہیں کیا،ہم حکومت کے ساتھ ساڑھے 3 سال چلےسیاست میں اخلاقیات سے باہر گفتگو نہیں کرنی چاہیے-

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس
    کرتے ہوئے کہا کہ کہ شاہ زین بگٹی نے بہادرانہ فیصلہ کیا ہے وزیر اعظم اور اس کی حکومت کااپنے اتحادیوں سے سلوک افسوسناک ہے عمران خان صاحب نے اتحادیوں کو دھوکہ دیا،بلوچستان کے ایشوز بہت پیچیدہ ہیں بلوچستان کے عوام کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیاہمیں ملک کو مسائل سے نکالنے کے لیے مل کے محنت کرنا ہوگی-

    چئیرمین پی پی پی نے کہا کہ دوسرے اتحادیوں سے ہماری اور دوسری جماعتوں کی ملاقاتیں جاری ہیں، اتحادی فیصلے کر چکے ہیں، اب وزیراعظم کا وقت ختم ہو چکا ہے اب سرپرائز کا وقت ختم ہوچکا پاکستانی عوام جانتے ہیں وہ کسی قسم کے پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوں گے ہمیں ملک کو مسائل سے نکالنے کے لیے مل کر محنت کرنا پڑے گی-


    بلاول بھٹو نے کہا کہ آصف زرداری دور میں سب سے مل کر کام کیے،آصف زرداری ملک کا طاقتور سویلین صدر تھا ، آج بھی ہمیں بلوچستان کے عوام کو ان کے مسائل کا حل دکھانا پڑے گا،ہم بلوچستان کے اصل مسائل پر آواز اٹھائیں گے اورحل بھی کرائیں گے،ہم صرف جمہوری راستہ اختیار کر کے عمران خان کو ہٹائیں گے-

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران حکومت اکثریت کھو چکی ہے،ہارے ہوئے شخص کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے،ہم عمران خان کی کوئی خواہش پوری نہیں ہونے دیں گے، ایمرجنسی کی دھمکیاں، لاجز اورسندھ ہاؤس پر حملہ گھبراہٹ ہے،ہارنے والے بد امنی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں،عمران خان آج جلسے میں پوچھیں گے مجھے کیوں نکالا،ہماری کوشش ہے کہ یہ سارا عمل پر امن رہیں وزیر اعظم کوئی نوٹیفکیشن اور ایڈوائس کسی کو نہیں دے سکتا-
    https://twitter.com/ShahzainBugti3/status/1508011681330442240?s=20&t=gnbwVmVEVGDNhQbVHtV33w

  • پاکستان بھرمیں‌ روٹی،کپڑے اورمکان کا وعدہ پورا کیا:     کوئی لندن بھاگ گئےکوئی بھاگنےکیلیئےتیارہیں:بلاول بھٹو

    پاکستان بھرمیں‌ روٹی،کپڑے اورمکان کا وعدہ پورا کیا: کوئی لندن بھاگ گئےکوئی بھاگنےکیلیئےتیارہیں:بلاول بھٹو

    لاہور:پاکستان بھرمیں‌ پیپلز پارٹی نے روٹی،کپڑا اورمکان کا وعدہ پوراکیا:18ترمیم کرکےسب کوآزادیاں‌ دیں:اطلاعات کے مطابق آج ابھی تھوڑی دیر پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ناصر باغ لاہور میں خطاب کرتے ہوئےکہا ہےکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے پورے ملک میں‌ روٹی،کپڑا اور مکان کا وعدہ پورا کردیا ہے

    ناصر باغ لاہور میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی لاہور کے عوام کی ہے اور لاہور پیپلزپارٹی کا، پیپلزپارٹی کی بنیاد لاہو رمیں ہی رکھی گئی تھی، طاقت کا سرچشمہ عوام ہے، پیپلز پارٹی کے خلاف ہونے والی سازش عوام اور جمہوریت کے خلاف تھی، قائدعوام نے روٹی ،کپڑا،مکان کانعرہ دیا، بے نظیر بھٹو نے جمہوریت کی بحالی کے لیے 30سال محنت کی، پیپلزپارٹی کوکمزورکرنےکی سازش کی گئی، پی پی کی بنیاد لاہور میں رکھی گئی تھی۔

    بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے ہم نے صوبوں کو ان کا حق دلوایا، ترمیم سے پہلے لاہور کا پیسہ اسلام آباد میں خرچ ہوتا تھا، این ایف سی کے ذریعے ہم نے لاہور کو اس کے وسائل کا مالک بنایا، ہمارا جینا مرنا عوام کے ساتھ ہے، موجودہ حکمرانوں کا کوئی مستقبل نہیں انہوں نے بھی لندن بھاگ جانا ہے، ثابت کروں گا کہ میں نے لاہور کو نہیں چھوڑنا۔

    انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو صرف ایک موقع دیں، ہم آپ کو عوام کی خدمت کرکے دکھائیں گے، بیرون ملک پاکستان کی نمائندگی کرکے دکھائیں، مل کر جمہوریت کو بحال کریں گے، پیپلز پارٹی کے جیالوں نے جمہوریت کیلئے کوڑے کھائے ہیں، 18ویں ترمیم سے پہلے لاہور کا پیسہ اسلام آباد میں خرچ ہوتا تھا، لاہورمیٹروٹرین 18 ویں ترمیم کی وجہ سے بنی، آصف زرداری چین سے سی پیک لے کر آئے، موجودہ حکمرانوں کا کوئی مستقبل نہیں انہوں نے لندن بھاگ جانا ہے، میں نے پاکستان میں رہنا ہے کبھی نہیں بھاگوں گا۔

    ۔

  • چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹوکی مبشرلقمان سے ملاقات:زیربحث آئے اہم معاملات

    چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹوکی مبشرلقمان سے ملاقات:زیربحث آئے اہم معاملات

    لاہور:چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹوکی مبشرلقمان سے ملاقات:زیربحث آئے اہم معاملات،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کا مارچ لاہور میں داخل ہورہا ہے اور ساتھ ہی اس وقت بلاول بھٹواپنے اہم اورقابل اعتماد ساتھیوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں ، اس اہم ملاقات میں‌ ایک ملاقات سینیئر صحافی مبشرلقمان سے بھی ہوئی ہے

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق سینیئرصحافی مبشرلقمان سے ملاقات کے دوران اہم معاملات بھی زیربحث آئے ہیں ، اس موقع پر عدم اعتماد اور پیپلزپارٹی کے مستبقل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بھی کچھ معاملات پرسیر حاصل گفتگو ہوئی

    ادھرذرائع کےمطابق دیگر ملاقتوں میں بڑی بڑی شخصیات بھی شامل ہیں جن میں ممتاز قانون دان چوہدری اعتزاز احسن کو بھی ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا ، وہ ان ملاقاتوں میں زیادہ ترخاموش ہی دکھائی دیئے اور حالات کا ادراک کرتے رہے

    اس موقع پر بلاول بھٹو نے کہا کہ “اس وقت ہم اپنی ذات اور جماعت کیلئے نہیں نکلے، ہم قوم کے مفاد اور صاف و شفاف انتخابات کیلئے نکلیں ہیں۔”

    ادھر اس سے پہلے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ندیم افضل چن سے ملاقات کے دوران دوبارہ پیپلز پارٹی میں شمولیت پر انہیں خوش آمدید کہا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ سلیکٹڈ لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے اپنے گھر کی راہ لے گا۔

    پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کے آٹھویں روز قافلے لاہورپہنچ گئے ہیں، شرکا کیلئے ٹینٹ سٹی قائم کر دیا گیا۔ شہر بھر میں پارٹی پرچموں کی بہار ہے، بلاول بھٹو کے ناصر باغ جلسے سے خطاب کے بعد جی ٹی روڈ سے اسلام آباد روانگی شیڈول ہے۔ جلسے سے قبل جیالوں کے لیے پیپلز پارٹی لاہور انتظامیہ کی جانب سے ناشتے کا انتظام کیا گیا جس میں پوری، حلوہ اور پٹھوروں سے تواضع کی گئی، جیالے لاہوری ناشتے سے بھرپور لطف اندوز ہوتے رہے۔

    بلاول بھٹو زرداری جلسے سے قبل جوہر ٹاؤن لاہور میں واقع ندیم افضل چن کی رہائش گاہ پر پہنچے، اس موقع پر ندیم افضل چن نے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ پی ٹی آئی عوامی جماعت ہے لیکن یہ عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں مکمل ناکام رہی، اب پی ٹی آئی کا مقدر گھر جانا رہ گیا ہے۔ بلاول بھٹو نے ندیم افضل چن کو کہا کہ پیپلزپارٹی آپکا گھر ہے واپس آنے پر خوش آمدید کہتا ہوں، اسلام آباد پہنچنے سے پہلے سلیکٹڈ اپنے گھر کی راہ لے گا، پیپلزپارٹی عوامی طاقت پر یقین رکھتی ہے اب عوام ہی فیصلے کریں گے۔

    بلاول بھٹو ناصر باغ جلسے سے خطاب کے بعد عوامی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اپنی اگلی منزلوں کی جانب روانہ ہوں گے،ان کی دوسری تقریر مریدکے جبکہ تیسرا خطاب گوجرانوالہ کے شیرانوالہ باغ میں ہوگا، بلاول بھٹو کی حتمی منزل آج وزیرآباد ہوگی۔

    لاہور میں پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کا سفر چالیس کلو میٹر پر محیط ہے، لاہور پولیس لانگ مارچ کو بحریہ ٹاون سے امامیہ کالونی تک سیکورٹی مہیا کرے گی ۔شہر میں لانگ مارچ کے شرکا کے لیے آٹھ مقامات پر ویلکم کیمپ لگائے گئے ہیں ۔ ناصر باغ پر بارہ سو پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ لانگ مارچ کے روٹ پر چودہ سو اہلکار تعینات کئے گئے ہیں ، سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اونچی عمارتوں پر 335 روف ٹاپ اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ لانگ مارچ پر ایس ایس پی آپریشنز مستنصر فیروز سمیت سات ایس پیز ، سولہ ڈی ایس پیز اور 38 ایس ایچ اوز بھی تعینات رہیں گے۔

  • اسلام آباد میں  لشکرکشی کی دھمکیاں دینے والوپہلے اپنے گھر کی فکرکریں:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد میں لشکرکشی کی دھمکیاں دینے والوپہلے اپنے گھر کی فکرکریں:شاہ محمود قریشی

    عمر کوٹ: سندھ والو بہت جلد بھٹوکریسی سے تمہاری جان چھوٹ جائےگی:شاہ محمود قریشی کا عمرکوٹ میں خطاب ،اطلاعات کے مطابق وائس چیئرمین پاکستان تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر کوئی گروپ نہیں، جس نے پی ٹی آئی اور مجھے چھوڑنا ہے آج چھوڑ جائے۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کا سندھ حقوق مارچ آج عمرکوٹ پہنچا، جہاں پی ٹی آئی رہنما اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پرجوش خطاب کیا۔

    اپنے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 2013میں بھی کہا تھا کہ اوپر اللہ نیچے بلا ، مگر بلا نظر نہیں آیا کیونکہ 2013 میں بلے کے پیچھے کچھ بلیاں لگی تھیں جو بلے کا حق کھا گئی تھیں، اب ایسا نہیں ہوگا، عمرکوٹ والو، کیا اس بلی کو مزید میاؤ میاؤ کی اجازت دو گے؟اگر آپ تبدیلی لائیں گے تو ٹھپہ کس پر لگائیں گے؟ بلے پر۔

    وزیر خارجہ نے سال دو ہزار تیرہ کا تذکرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس روز آصف زرداری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو جیتنے نہیں دینا چاہے پولنگ اسٹیشنزکو آگ لگادو، آصف زرداری کے حکم پر 25پولنگ اسٹیشنز کو آگ لگائی گئی ، یہ تماشا نہ ہوتا تو وہ سیٹ بلے نے نکال لی تھی۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم ہار گئے یا ہرائے گئے وہ جیت گئے ہم نے مبارکباد دی، فرق اتنا ہے کہ تم نوٹ سے جیتے ہو ووٹ سے نہیں، ہم نے ہار کر بھی ترقیاتی کاموں کاجال بچھایا وہ جیت کر بھی منہ موڑ گئے، آج تھر کے 16لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ دےدیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے صحت کارڈ کی مخالفت کی تھی۔

     

    عمر کوٹ کی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ تھر والوں پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ بکتے ہیں ،یہ تہمت ہے، عمرکوٹ والوں سے کہتا ہوں کہ زرداری سے گھبرانا نہیں، آپ لوگوں کے بارے میں دو ہزار تیرہ میں بھی کہا گیا کہ یہ لوگ دبے ہوئے ہیں کچلے ہوئے یہ مقابلہ نہیں کرسکیں گے مگر آپ نے ثابت کر دکھایا تھا۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 2013میں بھی کہا تھا اوپر اللہ نیچے بلا ، مگر بلہ نظر نہیں آیا کیونکہ 2013 میں بلے کے پیچھے کچھ بلیاں لگی تھیں جو بلے کا حق کھا گئی تھیں، اب ایسا نہیں ہوگا، عمرکوٹ والو، کیا اس بلی کو مزید میاؤ میاؤ کی اجازت دو گے؟اگر آپ تبدیلی لائیں گے تو ٹھپہ کس پر لگائیں گے؟ بلے پر۔

    اپنے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے واضح الفاظ میں کہا کہ تحریک انصاف کے اندر کوئی گروپ نہیں، جس نے پی ٹی آئی اور مجھے چھوڑنا ہے آج چھوڑ جائے۔

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلاول تقریر کر رہا ہوتا ہے تو پیچھے سے عمران خان کی آواز آتی ہے ‘آپ نے گھبرانا نہیں ہے’ کیونکہ بچہ گھبرا رہا ہوتا ہے، کیونکہ چھاؤں کا پلا ہوا دھوپ میں کیسے کھڑا ہو سکتا ہے؟