Baaghi TV

Tag: بلدیاتی انتخابات

  • ایم کیو ایم کی درخواست پر بلدیاتی انتخابات منسوخ نہیں کیے جا سکتے،سپریم کورٹ

    ایم کیو ایم کی درخواست پر بلدیاتی انتخابات منسوخ نہیں کیے جا سکتے،سپریم کورٹ

    یہ امید نہ رکھیں کہ آئینی معاملے پر یونہی فیصلہ دے دیں گے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں سندھ کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واضح ہو گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور لوکل انتظامیہ کے اشتراک سے حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں،یہ واضح نہیں کہ جن عوامل کو سامنے رکھ کر حد بندی ہوتی ہے وہ کیا ہیں،ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ حکومت سندھ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں ہی حد بندی کی گائیڈ لائنز بنائی ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نکات پر فیصلہ نہیں دے سکتے جو سندھ ہائیکورٹ کے سامنے اٹھائے گئے ہوں بہتر ہو گا کہ ایم کیو ایم یہ جنگ متعلقہ فورم پر لڑے، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے وکلاء کو سننا چاہتے ہیں،

    ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم اور پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے متعدد بار آپ کو کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ پڑھیں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے میں واضح طور پر درج ہے کہ جون تک آپ نے کچھ نہیں کیا،سندھ ہائیکورٹ نے واضح کہا کہ ایم کیو ایم نے بلدیاتی انتخابات کے چند روز پہلے ترمیمی درخواست دائر کر دی،سندھ میں بلدیاتی انتخابات 26 جون کو شروع ہو چکے ہیں، فروغ نسیم نے کہا کہ عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ ایک بار مجھے سن لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ میں دائر ترمیمی درخواست میں ووٹ شمار ہونے یا نا ہونے کا نکتا اٹھایا ہی نہیں گیا، یہ امید نہ رکھیں کہ آئینی معاملے پر یونہی فیصلہ دے دیں گے،آپ الیکشن کمیشن اور حلقہ بندی کمیٹی کے ساتھ بیٹھ کر معاملہ حل کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایم کیو ایم وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا کیس واپس ہائیکورٹ بھیجوا دیں؟

    تحریک انصاف نے سندھ میں موجودہ حلقہ بندیوں پر انتخابات کرانے کی حمایت کر دی، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آدھا الیکشن ہوچکا جس پر قوم کا پیسہ اور وسائل لگے،اس عمل کو منسوخ کر کے نئے سرے سے الیکشن کروانا درست نہیں ہوگا،

    ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ ایم کیو ایم نے حلقہ بندی اتھارٹی سے رجوع ہی نہیں کیا،الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت مل کر کام کرتی ہیں الیکشن کمیشن کی ہدایت پر کئی حدبندیاں تبدیل کی گئیں ووٹرز کو حدبندی سے کوئی فرق نہیں پڑتا،سیاسی جماعتوں کا مسئلہ صرف میئر کے الیکشن کا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں کوئی حلقہ سات کوئی 10 لاکھ آبادی پر مشتمل ہے ،حلقے کے عوام کی نمائندگی تو ہو جاتی ہے حق ادا نہیں ہوتا،اس قسم کے مسائل کے حل پر الیکشن کمیشن کو توجہ دینی ہو گی ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسے اعتراضات کچھ حلقوں میں ہیں سب میں نہیں،جہاں سے اعتراضات آتے ہیں ہم ان پر غور کرتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ مستقل طور پر حل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کو سمجھائیں گے،

    سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق ایم کیو ایم کی درخواست نمٹا دی ،سپریم کورٹ نے کہا کہ ایم کیو ایم کی درخواست پر بلدیاتی انتخابات منسوخ نہیں کیے جا سکتے،ایم کیو ایم حلقہ بندیوں کے معاملے پر متعلقہ فورم سے رجوع کرے،پی ٹی آئی سندھ بلدیاتی الیکشن ایکٹ سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد کی درخواست دائر کرے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے بلدیاتی انتخابات کروانے کی حمایت کی الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام فہمیدہ مرزا کے حلقہ سے متعلق تحفظات دیکھیں،سندھ میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات 28 اگست کو ہوں گے

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

  • سندھ حکومت نے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست کی مخالفت کر دی

    سندھ حکومت نے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست کی مخالفت کر دی

    بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست پر سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت نے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست کی مخالفت کر دی ، وکیل ایم کیو ایم نے سپریم کورٹ میں موقف اپنایا کہ حلقہ بندی میں آبادی کا تناسب یکساں نہیں رکھا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن حلقہ بندی سے مطمئن ہے؟ ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ حلقہ بندیاں قانون کے مطابق ہوئی ہیں حد بندی صوبائی حکومت اور انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے،وکیل نے کہا کہ جہاں ایم کیو ایم کامیاب ہوئی وہاں ایک یونین کمیٹی 90 ہزار آبادی پر مشتمل ہے پیپلزپارٹی جن علاقوں سے کامیاب ہوتی وہاں یوسی 40 ہزار آبادی پرمشتمل ہے،

    وکیل خالد جاوید خان نے کہا کہ اس دلیل کو مان لیا جائے تو قومی و صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیاں ختم ہو جائیں گی،قومی اسمبلی کا کوئی حلقہ 3 اور کوئی 9 لاکھ آبادی پر مشتمل ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین کو 15 اگست کو تفصیل سے سن کر فیصلہ کرینگے،اگست کی 28 تاریخ کو الیکشن ہے اس لیے آئندہ سماعت پر کوئی التوا نہیں دینگے، اکیو ایم کی درخواست خارج بھی کی جا سکتی ہے، ایم کیو ایم کی درخواست صرف شہری علاقوں تک محدود ہے،

    پہلے مرحلے میں کامیاب ہونے والے نمائندوں کی فریق بننے کی درخواستیں منظور کر لی گئی سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کردی

     تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

  • بلدیاتی انتخابات ملتوی،جماعت اسلامی کی  الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر دھرنا دینے کی دھمکی

    بلدیاتی انتخابات ملتوی،جماعت اسلامی کی الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر دھرنا دینے کی دھمکی

    جماعت اسلامی نے گزشتہ روز الیکشن کمیشن کی جانب سے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کو ملتوی کرنے کی مذمت کرتے ہوئے دھرنا دینے کی دھمکی دی ہے-

    باغی ٹی وی : امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم سندھ کے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کی مذمت کرتے ہیں ہمارا مطالبہ ہے الیکشن وقت پر کرائے جائیں، ہم ان کی سازش کو ناکام کریں گے، الیکشن ملتوی کرنا جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے 22 جولائی کو الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے ہائیکورٹ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے پی ٹی آئی کے رہنما علی زیدی نے حیدرآباد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کی جانب سے سندھ میں بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کی مذمت کرتے ہیں الیکشن کمیشن پہلے ہی متنازع تھا اب اور ہوگیا، ہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

    خیال رہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 24 جولائی کو پولنگ ہونا تھی لیکن گزشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ملتوی کردیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیاگیا کراچی میں بارشوں کی پیشگوئی کے باعث انتخابات ملتوی کرنےکی درخواست کی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن نے فیصلہ متحدہ قومی موومنٹ، چیف سیکرٹری، جی ڈی اے اور صوبائی الیکشن کمشنرکی درخواست پرکیا ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ اب 28 اگست 2022 کو ہوگا۔

  • بلوچستان بلدیاتی انتخابات:خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی،چیف الیکشن کمشنر

    بلوچستان بلدیاتی انتخابات:خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی،چیف الیکشن کمشنر

    بلوچستان کے 8 اضلاع کی 13 یوسیز اور وارڈز میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ری پولنگ کا عمل پرامن طریقے سے جاری ہے –

    باغی ٹی وی : چیف الیکشن کمشنر کے مطابق الیکشن کمیشن کے سینئر افسران مرکزی کنٹرول روم سے پولنگ کی مانیٹرنگ کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ انتخابی ضابطے کی خلاف ورزی پر فوری ایکشن لیا جائے گا،عوام بے خوف و خطرحق رائے دہی کا استعمال کریں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی-

    انسانیت کی خدمت کرنے والے10 پاکستانیوں کیلئے ڈیانا ایوارڈ

    الیکشن کمیشن کے مطابق بلوچستان کے ضلع دکی،قلعہ عبداللہ سمیت 8اضلاع میں پولنگ جاری ہے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی شام پانچ بجے تک بغیر وقفے کے جاری رہے گی-

    ریٹرننگ افسر ( آر او) کے مطابق میونسپل کمیٹی قلعہ عبداللّٰہ کی وارڈ نمبر7 میں پولنگ کا آغاز ہوگیا ہے، یہاں ووٹرز کیلئے 2 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور دونوں پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے وارڈ نمبر 7 میں 1646 ووٹرز میں 1061 مرد اور 585 خواتین ووٹرز ہیں۔

    نوشکی کے بلدیاتی انتخابات میں یو سی8 کے وارڈ نمبر 7 میں پولنگ کاعمل جاری ہے، یہاں ووٹرز کی تعداد 528 ہے جن میں سے 295 مرد اور 233 خواتین ووٹرز شامل ہیں نوشکی میں ری پولنگ کےموقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، یہاں 2 امیدواروں میں مقابلہ ہے، علاقے میں 29 مئی کو پولنگ امیدوار کو غلط نشان الاٹ ہونے پر ملتوی کی گئی تھی۔

    کل سے سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کی پیشگوئی

    لورالائی کی میونسپل کمیٹی کے 2 وارڈز میں بلدیاتی انتخابات کے لئے ری پولنگ کا عمل آج جاری ہے، وارڈ نمبر4 اور 5 میں کُل ووٹرز کی تعداد 817 ہے،یہاں 29 مئی کو لڑائی جھگڑے پر پولنگ ملتوی کردی گئی تھی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق 29 مئی کو بلوچستان کے 8 اضلاع میں جھگڑے، بیلٹ پیپرز کی غلط چھپائی اور دیگر وجوہات پر الیکشن ملتوی ہوا تھا، ان میں ضلع دکی، قلعہ عبداللّٰہ، زیارت، لورالائی، ضلع پنجگور، سبی، نوشکی اور کیچ کے یوسیز اور وارڈز شامل ہیں۔

    لاہورانتظامیہ کی جانب سے سبزیوں اور پھلوں کے سرکاری ریٹ جاری

  • منظور وسان اپنا گھر کوٹ ڈیجی ہار گئے

    منظور وسان اپنا گھر کوٹ ڈیجی ہار گئے

    منظور وسان اپنا گھر کوٹ ڈیجی ہار گئے،اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیر سندھ منظور وسان کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ آبائی علاقےکوٹ ڈیجی میں پیپلزپارٹی کو شکست ہو گئی۔

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج آنے کا سلسلہ برقرار ہے۔

    منظور وسان کے آبائی علاقےکوٹ ڈیجی میں پیپلزپارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ٹاؤن کمیٹی کوٹ ڈیجی میں جی ڈی اے نے میدان مار لیا۔منظور وسان اپنا گھر کوٹ ڈیجی ہار گئے، 9 میں سے5 نشستوں پر جی ڈی اے امیدوار کامیاب ہوئے۔

    واضح رہے کہ منظور وسان نے کہا تھا پیپلزپارٹی 9 میں سے7 نشستوں پر کامیاب ہو گی۔ پیپلزپارٹی 9 کے بجائے 4 نشستیں حاصل کرنےمیں کامیاب ہوئی۔

    ادھرسندھ میں مار دھاڑ سے بھرپور بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ، پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، پولنگ سٹیشنز کے اندر موجود ووٹرز کو حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ 946 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔

    6 ہزار 277 سیٹوں میں سے 2 ہزار سے زائد کےنتائج موصول ہوگئے ہیں، جس کے مطابق پیپلز پارٹی سرفہرست ہے، جی ڈی اے کا دوسرا، جے یو آئی کا تیسرا، آزاد امیدوار کا چوتھا جبکہ پی ٹی آئی کا پانچواں نمبر ہے۔

  • پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدے پرکوئی پیشرفت نہیں ہوئی:وزیراعظم مداخلت کریں، وسیم اختر

    پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدے پرکوئی پیشرفت نہیں ہوئی:وزیراعظم مداخلت کریں، وسیم اختر

    کراچی :متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما وسیم اختر نےکہا ہےکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدے پرکوئی پیش رفت نہیں ہوئی، آصف زرداری ہماری باتوں کو سنجیدہ لیں، وزیراعظم مداخلت کریں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وسیم اخترکا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے ساتھ معاملات آگے نہیں بڑھ رہے، وزیر اعظم کو آگاہ کر دیا ہے، آصف زرداری ہماری باتوں کو سنجیدہ لیں، معاہدے پر عملدرآمد کے لیے وزیراعظم مداخلت کریں۔وسیم اختر نےکہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ شہری اور دیہی مسائل حل ہوں، آصف زرداری اور بلاول بھٹو بھی کہہ چکے ہیں کہ بلدیاتی نظام با اختیار ہو، مگر حکومت بن گئی اور سب مزےسےبیٹھ گئے لیکن معاہدے پرکوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔

    کراچی ضمنی الیکشن ،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر الیکشن کمیشن کو ہوش آ گیا

    نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیا بلدیاتی ایکٹ نہیں بنتا تو حکومت کے ساتھ کسی چیز میں حصہ نہیں لیں گے، سندھ حکومت ابھی بھی اختیارات نیچے دینے میں ہچکچا رہی ہے، بلدیاتی نظام کا مسودہ بن گیا ہے تو اسے فوری طور پر قانون بنا دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے وعدوں پر اعتبار ہے اور یقین ہے کہ بلدیاتی نظام کےمعاملے پر سپریم کورٹ کے احکامات پربھی مکمل عملدرآمد کیا جائےگا۔

    اب ہماری جنگ سڑکوں پر ہو گی، ایم کیو ایم کا بڑا اعلان

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سندھ بھر میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ٹرن آؤٹ کم ہے، فائرنگ ہوئی، ووٹرز خوف کا شکار ہیں ، بیلٹ پیپروں سے امیدواروں کے انتخابی نشانات غائب ہیں، الیکشن کمیشن کو اپنی کارکردگی دیکھنی چاہیے۔

    ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ چھوڑ دی

    سابق میئر کراچی کا کہنا تھا اندرون سندھ میں ڈاکو بیلٹ بکس اٹھا کرلےگئے ، سندھ کے 14 اضلاع میں دھاندلی کا بازار گرم ہے۔ پیپلز پارٹی ہماری اتحادی جماعت ہے لیکن الیکشن کمیشن کے ساتھ ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے گذارش کرتے ہیں کہ سندھ میں جاری بلدیاتی انتخابات فوری روکے جائیں، الیکشن کمشنر بہت اچھے افسر ہیں، ان سے درخواست ہے کہ ووٹرز لسٹوں اورحلقہ بندیوں کو درست کردیں۔

  • سندھ بلدیاتی الیکشن:پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

    سندھ بلدیاتی الیکشن:پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

    کراچی: سندھ میں مار دھاڑ سے بھرپور بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ، پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، پولنگ سٹیشنز کے اندر موجود ووٹرز کو حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی جبکہ ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے کے تحت 14 اضلاع میں پولنگ کے دوران دوران صوبے میں سکیورٹی سخت کی گئی، پولیس سمیت قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی بھاری نفری تعینات رہی، کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے چالیس ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں، بیالیس ایس ایس پیز اور 82 ڈی ایس پیز بھی نگرانی کر رہے ہیں، کوئیک رسپانس کیلئے رینجرز کو اسٹینڈ بائی رکھا گیا، حلقوں میں اسلحہ کی نمائش پر پابندی عائد کی گئی، صورتحال خراب کرنے والوں کیخلاف فوری مقدمہ درج کئے جانے کے احکامات جاری کئے گئے۔

    پولنگ کے دوران مختلف علاقوں میں دنگے فساد کے واقعات بھی پیش آئے، نوشہرو فیروز کے علاقے بھریاسٹی میں ووٹرز کے درمیان تصادم ہوا، پولنگ کچھ دیر کیلئے روکی گئی جبکہ پولیس کی اضافی نفری کو طلب کیا گیا۔

    ادھر اس سے پہلے متحدہ قومی مومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے رہنما وسیم اختر نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی کے اراکین ہنگاموں میں ملوث ہیں۔

    کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے رکن وسیم اختر نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران پیپلزپارٹی کے اراکین ملوث ہیں، فوج کو ایسے حالات کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جاسکے۔

    آئیندہ الیکشن کے لیے فریم ورک پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، فواد چوہدری

    وسیم اختر نے کہا کہ کہیں پولنگ کے دوران کچے کے ڈاکو عملے کو اغوا کرکے لے جارہے ہیں تو کہیں ہنگامے ہورہے ہیں، ادارے سیکورٹی کو مزید سخت کریں تاکہ انتخابات پر سوالیہ نشان نہ لگے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران بتایا کہ سندھ حکومت کے ساتھ معاہدے پر پیش رفت نہیں کررہی، جب تک بلدیاتی ایکٹ پر کام نہیں ہوگا ایم کیو ایم حکومت میں اور کوئی عہدہ نہیں لے گی۔

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی…

    ادھرسندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں متعدد پولنگ اسٹیشنز پر ہنگامہ آرائی، پولنگ بوتھ غائب کرنے، دھاندلی اور پولنگ عملے کو اغوا کرنے کی اطلاعات ہیں جب کہ ٹنڈو آدم میں پی ٹی آئی کے امیدوار کا بھائی جاں بحق ہوگیا۔

    سندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے، 5331 نشستوں پر 21298 امیدوار مدمقابل ہیں جب کہ 946 نشستوں پر امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب قرار پاچکے ہیں۔

    منظور وسان کی آئندہ انتخابات میں عمران خان کے بارے میں پیشگوئی

    سکھر، لاڑکانہ، شہید بے نظیر آباد اور میرپورخاص ڈویژن کے جن 14 اضلاع میں پولنگ ہوگی ان میں جیکب آباد، قمبر شہداد کوٹ، شکار پور، لاڑکانہ، کشمور، کندھ کوٹ، گھوٹکی، خیر پور، شکارپور، نوشہرو فیروز، شہید بے نظیر آباد، سانگھڑ، میرپور خاص، عمر کوٹ اور تھر پارکر شامل ہیں۔
    الیکشن کمیشن کی جانب سے 1985 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور 3448 کو حساس قرار دیا گیا ہے، بلدیاتی انتخابات کے لیے 1 لاکھ 2 ہزار 682 افراد پر مشتمل انتخابی عملہ خدمات انجام دے رہا

  • سندھ ہائیکورٹ، بلدیاتی انتخابات روکنے کی درخواستوں پرعدالت نے فیصلہ سنا دیا

    سندھ ہائیکورٹ، بلدیاتی انتخابات روکنے کی درخواستوں پرعدالت نے فیصلہ سنا دیا

    سندھ ہائیکورٹ، بلدیاتی انتخابات روکنے کی درخواستوں پرعدالت نے فیصلہ سنا دیا
    سندھ ہائیکورٹ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    فروغ نسیم نے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے 13 اپریل 2022 کوبلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا ،حکومت سندھ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پرعملدرآمد نہیں کیا،تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ بغیر اصلاحات الیکشن نہیں ہونا چاہیے الیکشن اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے،حکومت سندھ نے قانون سے ہٹ کرمرضی کی حلقہ بندیاں کیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 3 کروڑسے زائدبیلٹ پیپرچھپ چکے ہیں ،الیکشن کیلئے تمام انتظامات مکمل کرلیے اب تک 50 کروڑروپے خرچ ہو چکے،الیکشن کمیشن گھر گھر ووٹرزکی تصدیق کرا رہا ہے،کسی ووٹ کی تصدیق میں غلطی ہوئی تویہ بدنیتی نہیں،انسانی غلطی ہے،سندھ ہائیکورٹ نے بلدیاتی انتخابات روکنے سے متعلق دائر درخواستیں مسترد کردیں

    جماعت اسلامی کے وکیل چودھری آصف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے بلدیاتی اداروں کو خود مختاری بنانے کا حکم دیا تھا، سپریم کورٹ نے مقامی حکومتوں کے اداروں کو الگ فنڈز جاری کرنے کا حکم دیا تھا سپریم کورٹ نے آرٹیکل 140 اے کے تحت قانون سازی کے بعد انتخابات کا حکم دیا تھا سپریم کورٹ نے بلدیاتی اداروں کو بااختیارات بنانے کا حکم دیا تھا،جسٹس جنید غفار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے تو حکم دیا تھا بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، اس طرح انتخابات کرائے گئے تو بلدیاتی حکومت کمزور ترین تصور کیے جائیں گے،

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    حکومت کیخلاف بولنے والے صحافیوں کی تھانے میں برہنہ پریڈ،تصویر وائرل

  • اسلام آباد بلدیاتی انتخابات ملتوی ،الیکشن کمیشن کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں  بیان

    اسلام آباد بلدیاتی انتخابات ملتوی ،الیکشن کمیشن کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں بیان

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ن لیگ اورپیپلزپارٹی کی اسلام آباد بلدیاتی انتخابات روکنے کی درخواستیں منظور کر لیں-

    باغی ٹی وی : یونین کونسلز کی تعداد بڑھائے بغیر الیکشن روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کی اسلام آباد بلدیاتی انتخابات روکنے کی درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

    درخواست گزار طارق فضل چوہدری کی جانب سے عادل عزیز قاضی پیش ہوئے، انہوں نے موقف دیا کہ عدالت الیکشن کمیشن کو کہے کہ اسلام آباد میں یونین کونسلز کی تعداد کو بڑھایا جائے اور نئی حلقہ بندیوں کے مطابق انتخابات کا انعقاد ممکن بنایا جائے۔ جس پر الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے پر رضامندی ظاہر کردی۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ میں ووٹ منتقلی سے متعلق بھی پٹیشنز آئی ہیں وہ بھی دیکھ لیں۔

    دوران سماعت الیکشن کمیشن نے کہا کہ پہلے نئی حلقہ بندیاں کریں گے پھر بلدیاتی انتخابات کا شیڈول دیں گے، عدالت وفاقی حکومت کو بلدیاتی انتخابات کے لیے تعاون کا حکم دے-

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ 60روزمیں نئی حلقہ بندیاں کرکے الیکشن شیڈول کا اعلان کریں گے،الیکشن کمیشن نے عدالت میں موقف اپنایا کہ حکومتیں بلدیاتی انتخابات میں رکاوٹیں ڈالتی ہیں، عدالت وفاقی حکومت کو بلدیاتی انتخابات کی ذمہ داری پوری کرنےکا حکم دے 600 وارڈز میں ہم نے حلقہ بندیاں کرنی ہیں،جس میں کم ازکم دو ماہ کا وقت درکار ہوگا –

    چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے ریماکرس دیئے کہ انتخابات روکنے کی درخواستیں تو غیر موثر ہوگئیں ہیں-

    عدالت نے ن لیگ اورپیپلزپارٹی کی اسلام آباد بلدیاتی انتخابات روکنے کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن 65 روز میں نئی حلقہ بندیاں کرکے الیکشن شیڈول کا اعلان کرے-

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں 50 یونین کونسل کا الیکشن شیڈول واپس لیتے ہوئے 101 یونین کونسلز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    واضح رہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت نے عادل عزیز قاضی ایڈووکیٹ کے ذریعے عدالت میں درخواست جمع کروائی تھی جس میں مؤقف اختیار کیاگیا تھاکہ الیکشن کمیشن کو یونین کونسلوں کی تعداد میں اضافےکےبغیر بلدیاتی انتخابات سے روکا جائے درخواست میں سیکرٹری داخلہ، وفاق کو بذریعہ وزیراعظم کے سیکرٹری اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا تھا-

    چیف الیکشن کمشنر نے لیا نوٹس شاہ محمود کی پریس کانفرنس کا

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وفاقی حکومت نے 21 مئی 2022ء کو اسلام آباد کی یونین کونسلوں کی تعداد بڑھانے کا نوٹی فکیشن جاری کیا، جس کے بعد یونین کونسلز کی تعداد 50 سے بڑھا کر 101 کر دی گئی۔ 20 ہزار افراد کی نمائندگی کے تناسب سے یونین کونسلز کی تعداد بڑھائی گئی۔

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے یونین کونسلز کی تعداد میں اضافے کے بغیر لوکل گورنمنٹ الیکشن کے شیڈول کا اعلان کیا، جب کہ الیکشن کمیشن لوکل گورنمنٹ الیکشن سے قبل یونین کونسلوں کی تعداد بڑھانے کا پابند ہے۔ لہذا اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کو کالعدم قرار دیا جائے اور یونین کونسلوں کی تعداد میں اضافے کے بغیر لوکل گورنمنٹ الیکشن کا انعقاد روکا جائے۔

    الیکشن کمیشن نے صوبائی و قومی حلقوں کے ضمنی انتخابات میں فوج سے مدد طلب کرلی

  • بلوچستان بلدیاتی انتخابات:پولنگ کے دوران پرتشدد واقعات،1584 امیدوار بلامقابلہ منتخب

    بلوچستان بلدیاتی انتخابات:پولنگ کے دوران پرتشدد واقعات،1584 امیدوار بلامقابلہ منتخب

    کوئٹہ: بلوچستان کے 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کیلیے پولنگ کا عمل جاری ہے اس دوران 1584 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔

    باغی ٹی وی :بلوچستان کے 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات پر پولنگ کا عمل جاری ہے پولنگ کا عمل 8 بجے سے شام 5 بجے تک بغیر وقفہ کے جاری رہے گا-

    آڈیو ٹیپ عمران خان کی اصلیت اور دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے،وزیر اعظم

    پولنگ کے دوران سبی کی یونین کونسل مل چاچڑ کے وارڈ نمبر 4 میں دو گروپوں میں تصادم ہوا۔ جس کے نتیجے میں 10 افراد زخمی ہو گئے۔ جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ زخمیوں میں سے 3 افراد کی حالت تشویشناک ہے واقعے کی اطلاع ملتے ہی لیویز فورس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ تصادم کے بعد پولنگ کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔

    پولنگ کے دوران جھگڑے کا ایک اور واقعہ چمن کی میونسپل کارپوریشن وارڈ نمر 8 میں خواتین پولنگ اسٹیشن پر پیش آیا۔بیلٹ پیپرز کی کاپی باہر نکالنے پر پریزائیڈنگ آفسر کے ساتھ پولنگ ایجنٹس لڑ پڑیں اور امیدواروں کے حامی بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشن پہنچ گئے۔

    امیدواروں کے 50 سے زائد حامیوں نے پولنگ اسٹیشن پر دھاوا بول دیا اور پولنگ اسٹیشن میدان جنگ بن گیا۔ امیدواروں کے حامیوں نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ تصادم کے دوران پولنگ اسٹیشن کی کھڑکیاں، شیشے اور دروازے ٹوٹ گئے۔

    پاک بھارت آبی تنازعات،بات چیت کیلئے5 رکنی وفد بھارت روانہ

    الیکشن کمیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ پولنگ کا عمل پرامن طریقے سے بلوچستان کے 32 اضلاع میں جاری ہے، چیف الیکشن کمشنر مرکزی کنٹرول روم سے نگرانی کر رہے ہیں، اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن کوئٹہ میں قائم کردہ صوبائی کنٹرول روم سے پولنگ کے عمل کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں، تمام مانیٹرنگ ٹیمیں بلوچستان کے 32 اضلاع میں متحرک ہیں۔

    ترجمان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی پر فوری ایکشن لیا جائے گا، پولنگ میں مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے عوام بے خوف و خطر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں، آج گھروں سے نکلیں اور ووٹ ڈالیں۔

    ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی، کنٹرول روم کو اب تک کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی، کسی بھی شکایت کی صورت میں کنٹرول روم سے رابطہ کیا جائے۔

    بحیثیت اپوزیشن لیڈرمیری 2018 میں چارٹر آف اکانومی کی تجویز کو نظر انداز کیا…

    شکایات سے متعلق ترجمان الیکشن کمیشن نے بتایا کہ مرکزی کنٹرول روم الیکشن کمیشن اسلام آباد سیکریٹریٹ میں مانیٹرنگ جاری ہے، اب تک 16 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 13 کو حل کرلیا گیا بقیہ 3 شکایات کو حل کرنے کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    ترجمان کے مطابق تربت میں پولنگ دیر سے شروع ہونے پر شکایت موصول ہوئی، ضلعی دکی میں پولنگ میٹریل چھیننے کی شکایت پر ملی جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری کارروائی کا حکم دے دیا گیا۔

    دریں اثنا الیکشن کمیشن کے ممبر بلوچستان شاہ محمد جتوئی نے الیکشن کمیشن مرکزی کنٹرول روم اسلام آباد سیکریٹریٹ کا دورہ کیا اور مانیٹرنگ ٹیم سے شکایات کے بارے میں دریافت کیا۔ ویڈیو لنک پر کوئٹہ کنٹرول روم میں اسپیشل سیکریٹری اور صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان سے شکایات کے بارے میں استفسار کیا اور شکایات کے ازالے کے لیے ہدایات جاری کیں۔

    خواتین پر چوری کا الزام لگا کر تشدد کرنے والے 6 ملزمان گرفتار

    ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ 5 بجے کے بعد پولنگ اسٹیشنز کے احاطے میں موجود لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی، چیف الیکشن کمشنر، سیکریٹری الیکشن کمیشن اور اسپیشل سیکریٹری پولنگ کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں، پولنگ ختم ہونے کے بعد نتائج کی تیاری کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق پشین سے مجموعی طور پر 14 سو 53 امیدوار میدان میں ہے،پشین سے 7 خواتین امیدواران بھی میدان میں ہیں،پشین میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 2 لاکھ 2 ہزار 818 ہے پشین میں خواتین رجسٹرڈ ووٹرز ایک لاکھ 26 ہزار، مرد ووٹرز ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد ہیں-

    گجرات میں ٹی ایل پی کے تاریخی جلسہ عام کی تیاریاں مکمل،حافظ سعد حسین رضوی خطاب…

    پشین میں بلدیاتی انتخابات کیلئے قائم پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 505 ہےپشین میں مرد پولنگ اسٹیشنز 39، خواتین کیلئے 33 پولنگ اسٹیشنز قائم ہیں،پشین کے 67 یونین کونسل کے 380 وارڈز پر انتخابات ہوں گے پشین کے 67 یونین کونسل کے 380 وارڈز پر انتخابات ہوں گے-

    الیکشن کمیشن کے مطابق خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ57ہزار896 ہے ، مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ43ہزار828 ہے-

    بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات: دو ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنزحساس قرار

    بلوچستان کے ضلع صحبت پور میں بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ کا عمل جاری ،22یونین کونسل اور میونسپل کمیٹی کے144وارڈز ہیں 77 وارڈزمیں 77امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں 67 وارڈز پر171 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں 81پولنگ اسٹیشنز قائم،70 ہزار 691 ووٹرز ہیں صحبت پور کے تمام پولنگ اسٹیشنز حساس قرار،سیکیورٹی کےسخت انتظامات کئے گئے ہیں ،پولیس اورایف سی کے 747 اہلکار سیکیورٹی پرمامورہیں-

    32 اضلاع میں 5226 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں اور ان اضلاع میں 16195 امیدواران ہیں جن میں 132 خواتین بھی شام ہیں بلدیاتی الیکشن میں سب سے زیادہ خواتین امیدوار ضلع سبّی میں مدمقابل ہیں بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں 35 لاکھ 52 ہزار 398 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے تمام پریذائیڈنگ افسران آج شام کو پہنچ کر پولنگ اسٹیشن اور پولنگ بوتھ قائم کریں گے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق کوئٹہ اور لسبیلہ کے علاوہ بلوچستان کے 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں 2034 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے 7 میونسپل کارپوریشنز، 838 یونین کونسلز، 5345 دیہی اور 914 شہری وارڈز کیلئے امیدوار مدمقابل ہیں-

    عمران خان دوبارہ فساد کی کوشش کی تو جیل کا ٹچ دیکر حوالات بھیج دینگے: حمزہ شہبازکا بہاولپور میں خطاب

    بلدیاتی الیکشن کیلئے بلوچستان بھر میں 5226 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں، سکیورٹی خدشات کی بناء پر بلوچستان کے 2034 پولنگ اسٹیشنز حساس، 1974 کم حساس جبکہ 1218 پولنگ اسٹیشنز کو نارمل قرار دیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن حکام کے مطابق 12219 پولنگ بوتھ میں 6350 مردوں جبکہ 5880 خواتین کے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں تمام پولنگ اسٹیشنز پر ایف سی، لیویز اور پولیس تعینات کی جارہی ہے حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر دگنی سکیورٹی لگائی جارہی ہے۔

    ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق موسیٰ خیل، پیشن اور دیگر اضلاع میں 102 وارڈز میں بھی عدالتی احکامات کی بناء پر پولنگ نہیں ہورہی۔

    عمران خان پکڑے گئے:بُری طرح بے نقاب

    کوہلو ضلع کے 94 وارڈز کے 103 پولنگ اسٹیشنز میں انتخابی عمل شروع ہوا، ضلع کے دور دراز علاقوں ماوند، تمبو اور گرسنی میں بھی انتخابی عمل جاری ہے۔

    کوہلو میں انتخابی عمل صبح 8 سے بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گا، ضلع میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور ایک ہزار 200 سے زائد پولیس اہل کار تعینات ہیں۔

    بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بھی صوبے بھر کی طرح بلدیاتی انتخابات کا آغاز ہوا، پولنگ اسٹیشنز میں عوام کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، متعدد پولنگ اسٹیشنوں میں سہولیات ناکافی ہیں، بعض پولنگ اسٹیشنوں میں پنکھے نہ ہونے کی وجہ سے عملہ گرمی سے نڈھال ہے، ضلع بھر میں 376 امیدوار میدان میں ہیں۔

    پاکستان دنیا میں امن مشن کیلئے فوج دینے والا دوسرابڑا ملک ہے، آئی ایس پی آر

    ژوب کی 28 یونین کونسلوں کے 137 وارڈز کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے، انتخابات میں 528 امیدوار مد مقابل ہیں، بی اے پی کے 6، جے یو آئی (ف) کے 6 امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہو گئے، پشتونخوا میپ کے 2، ن لیگ کے 2 اور 10 آزاد امیدواروں سمیت 26 امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہو گئے ہیں۔ ژوب میں 40 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس اور 42 حساس قرار دیے گئے ہیں۔

    مستونگ سے مجموعی طور پر 500 امیدوار میدان میں ہیں، الیکشن کمیشن کے مطابق مستونگ سے ایک خاتون امیدوار بھی میدان میں ہے۔

    شیرانی میں پولنگ کا عمل جاری ہے، 18 یونین کونسلوں کے 86 وارڈز پر 281 امیدوار مدمقابل ہیں، 36 امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہو گئے، الیکشن کمیشن کے مطابق 7 انتہائی حساس جب کہ 42 حساس پولنگ اسٹیشن شامل ہیں۔

    جعفر آباد میں 2 لاکھ 62 ہزار 780 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، ووٹرز کی بڑی اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہی ہے۔

    پی ٹی آئی کی بھی غلطیاں ہیں کہ صورت حال اس نہج پر پہنچی ، فواد چوہدری