Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • بلوچستان میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں، 14 دہشت گرد  جہنم واصل

    بلوچستان میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں، 14 دہشت گرد جہنم واصل

    کوئٹہ اور شہر بارکھان میں انسداد دہشتگردی کے ادارے (سی ٹی ڈی) نے مختلف کارروائیاں کی ہیں جن میں 14 دہشت گرد مارے گئے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق یہ کارروائیاں خفیہ اطلاع پر کی گئیں پہلی کارروائی کوئٹہ میں کی گئی، اس دوران دہشت گردوں نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی جوابی کارروائی میں8دہشت گرد مارے گئے جبکہ تین اہلکار زخمی بھی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہےمارے گئے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا جا رہا ہے۔

    دوسری کارروائی ضلع بارکھان میں ہوئی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کے تبادلے میں چھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں تمام 6 دہشت گرد مارے گئے کارروائی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن بھی کیا تاکہ کسی ممکنہ سہولت کار یا فرار ہونے والے دہشت گرد کو گرفتار کیا جا سکے۔

    بلوچستان میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں، 14 دہشت گرد جہنم واصل

    بنگلہ دیش: وزیراعظم طارق رحمان نے 5 اہم وزارتیں اپنے پاس رکھ لیں

    پشاور ہائیکورٹ کے حکم پرموٹروے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی

  • بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان زندہ باد ریلی کا انعقاد

    بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان زندہ باد ریلی کا انعقاد

    بلوچستان کی تحصیل سنجاوی میں دہشت گردی کے خلاف احتجاج کے طور پر پاکستان زندہ باد ریلی کا انعقاد کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان زندہ باد ریلی میں ضلع زیارت ،ہرنائی اور تحصیل سنجاوی کے ہزاروں افراد نے شرکت کی، ریلی میں حب الوطنی سے سرشار شرکا ء نے فتنہ الہندوستان کیخلاف شدید نفرت کا اظہار کیا اور بھارت کیخلاف نعرے بازی کی۔

    پاکستان زندہ باد ریلی کے شرکاء نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ریلی میں سبز ہلالی پرچم اٹھائے شرکاء کی جا نب سے پاکستان و پاک افواج زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے شرکاء نے دہشت گردی کیخلاف سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    صوبائی وزیر حاجی نور محمد دومڑ کی قیادت میں قبائلی عمائدین ،سول سوسائٹی اور ہزاروں شہریوں نے بھی ریلی میں شرکت کی،بلوچستان کے غیور عوام نے سڑکوں پر نکل کر فتنہ الہندوستان کے گمراہ کن پروپیگنڈا کو مکمل مسترد کر دیا ہے۔

  • خاران اور گرد و نواح میں  زلزلہ

    خاران اور گرد و نواح میں زلزلہ

    بلوچستان کے ضلع خاران اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں-

    زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی ، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیالوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 3.6 ریکارڈ کی گئی ،زلزلے کا مرکز خاران شہر سے 43 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں تھا، جبکہ اس کی گہرائی 12 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

    واضح رہے گزشتہ روز بھی خضدار اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تھے۔

  • خضدار میں زلزلے کے جھٹکے

    خضدار میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے علاقے خضدار میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    بلوچستان کے علاقے خضدار میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.4 ریکارڈ کی گئی، حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی جبکہ اس کا مرکز خضدار سے 83 کلومیٹر شمال مشرق کی جانب واقع تھا۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم شہری احتیاطاً گھروں اور دفاتر سے باہرنکل آئے ماہرین کے مطابق کم شدت کے زلزلے عام طور پرزیادہ تباہ کن نہیں ہوتے تاہم احتیاطی تدابیراختیار کرنا ضروری ہے، ضلعی انتظامیہ صورتحال کی نگرانی کررہی ہے۔

    سپارکو کی رمضان المبارک کے چاند سے متعلق پیشگوئی جاری

    کراچی: جماعت اسلامی کا کل شہر میں 10 مقامات پر دھرنوں کا اعلان

    بنگلہ دیش انتخابات،نئے سیاسی دور کا آغاز،تحریر:کامران اشرف

  • بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان کا نام لیتے ہی محرومی، ناانصافی اور پسماندگی کی ایک طویل داستان سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ داستان صرف مرکز کی بے حسی کا نتیجہ ہے، یا اس میں صوبے کی اپنی قیادت کا کردار بھی شامل ہے؟ حالیہ دنوں چوہدری فواد حسین نے ایک سادہ مگر بنیادی سوال اٹھایا کہ اربوں روپے کے فنڈز بلوچستان کے لیے جاری ہوئے، مگر زمینی حقائق کیوں نہیں بدلے؟ یہ سوال بعض حلقوں کو ناگوار ضرور گزرا ہوگا، مگر اسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔

    بلوچستان پر دہائیوں سے چند مخصوص خاندانوں اور سرداروں کی سیاست حاوی رہی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں تک رسائی بھی انہی کو حاصل رہی، وزارتیں بھی انہی کے حصے میں آئیں اور مراعات بھی، مگر جب صوبے کی حالت پر نظر ڈالی جائے تو تعلیم کا فقدان، صحت کی ناگفتہ بہ صورتحال، ٹوٹی سڑکیں اور بے روزگار نوجوان دکھائی دیتے ہیں۔ اگر وسائل نہیں ملے تو آواز اٹھانا بجا ہے، لیکن اگر وسائل ملے اور پھر بھی عوام محروم رہے تو سوال قیادت سے ہوگا۔

    اسی دوران اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا یہ کہنا کہ فوج چند اضلاع کی نمائندہ ہے، ایک غیر ذمہ دارانہ بیان محسوس ہوتا ہے۔ افواجِ پاکستان میں ہر صوبے، ہر قومیت اور ہر علاقے کے لوگ شامل ہیں۔ بلوچ افسران اور جوان بھی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قومی اداروں کو لسانی یا علاقائی بنیاد پر تقسیم کرنے کا بیانیہ دراصل اتحاد کو کمزور کرتا ہے، مضبوط نہیں۔

    بلوچستان کے عوام کو جذباتی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور امن چاہیے۔ اگر سیاسی قیادت خود احتسابی سے گریز کرے اور ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈال دے تو مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ الجھتے چلے جاتے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کی سیاست نعروں سے نکل کر کارکردگی کی بنیاد پر کھڑی ہو۔ جو قیادت برسوں سے اقتدار میں رہی، اسے اپنا حساب دینا ہوگا۔ اور جو آج قومی اداروں پر تنقید کرتی ہے، اسے بھی ذمہ دارانہ زبان اختیار کرنی ہوگی۔ کیونکہ قومیں الزام تراشی سے نہیں، دیانتدار قیادت اور سنجیدہ طرزِ سیاست سے آگے بڑھتی ہیں۔

  • آپریشن رد الفتنہ بلوچستان میں خونریزی اور انتشار پھیلانے والوں کیلئے واضح پیغام ہے،سرفراز بگٹی

    آپریشن رد الفتنہ بلوچستان میں خونریزی اور انتشار پھیلانے والوں کیلئے واضح پیغام ہے،سرفراز بگٹی

    زیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے کہا ہے کہ آپریشن رد الفتنہ بلوچستان میں خونریزی اور انتشار پھیلانے والوں کیلئے واضح پیغام ہے-

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان اور ان کے سرپرستوں کو واضح اور دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی ایل اے ایک فتنہ ہے جو معصوم شہریوں اور مزدوروں کو نشانہ بناتا ہےیہ فتنہ بھارت کی ایماء پرپاکستان کی ترقی کے راستےمیں حائل ہے، پاکستان اپنی وحدت،ترقی اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، فتنہ انگیزی کی ہرکوشش کاموثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا ریاست الحمدللہ مضبوط اورقوم متحد ہے، پاکستان کے خلاف اٹھنے والا ہر ہاتھ قانون کے مطابق نہ صرف پوری طاقت سے روکا جائے گا بلکہ ہمیشہ کیلئے توڑ دیا جائے گا، انشاءاللہ، پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

    صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر،غیر مستند خبر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے،شرجیل میمن

    امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ ختم

    امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

  • بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل ،216 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل ،216 دہشتگرد جہنم واصل

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل کیا ہے جس کے تحت خواتین اور بچوں سمیت معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر امن و ترقی میں خلل ڈالنے والے بھارتی سپانسر شدہ دہشت گرد عناصر کے خلاف مربوط، تیز اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 29 جنوری 2026 کو پنجگور اور ضلع ہرنائی کے مضافات میں آپریشن شروع کیا گیا جب مصدقہ اور تصدیق شدہ انٹیلی جنس نے دہشت گرد عناصر کی موجودگی کی تصدیق کی جو مقامی عوام کے لیے ایک خطرہ ہیں اس مرحلے کے دوران، سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے شناخت شدہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں ہندوستانی پراکسی نیٹ ورکس سے وابستہ 41 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

    سیکورٹی فورسز کے جارحانہ اور ثابت قدم جوابات نے بلوچستان کے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے فتنہ الہندستان کے مذموم حملوں کو مؤثر طریقے سے ناکام بنا دیا ان کے نتیجے میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کا ایک وسیع سلسلہ متعدد علاقوں میں شروع کیا گیا تاکہ مسلسل کومبنگ اور سینیٹائزیشن آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کو ختم کیا جا سکے۔

    پیچیدہ منصوبہ بندی، قابل عمل انٹیلی جنس، اور بغیر کسی رکاوٹ کے مشترکہ عمل کے ذریعے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے آپریشن ردالفتنہ-1 کے تحت انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تعاون سے درستگی اور عزم کے ساتھ جواب دیا۔ ان اچھی طرح سے مربوط مصروفیات اور بعد ازاں کلیئرنس آپریشنز کے نتیجے میں، 216 دہشت گردوں کو جہنم میں بھیج دیا گیا ہے، جو دہشت گرد نیٹ ورکس کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے اور آپریشنل صلاحیتوں کو نمایاں طور پر تباہ کر رہے ہیں۔

    کارروائی کے دوران غیر ملکی ہتھیاروں، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور آلات کا کافی ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا ہے ابتدائی تجزیہ ان انتہا پسند پراکسیوں کو منظم بیرونی سہولت اور لاجسٹک سپورٹ کی نشاندہی کرتا ہےان آپریشنز کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 36 بے گناہ شہریوں نے شہادت کو گلے لگایا جب کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 22 بہادر جوانوں نے پاکستان کی علاقائی سالمیت اور اس کے شہریوں کے تحفظ کے لیے لازوال قربانیاں دیں ان کی ہمت، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم خدمت کی اعلیٰ روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔ قوم ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور تمام شہداء کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑی ہے۔

    پاکستان کی مسلح افواج حکومت پاکستان کے قومی ایکشن پلان کے دائرہ کار میں دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر سے نمٹنے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں اور دہشت گردی کے خطرات کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں پورے عزم کے ساتھ جاری رہیں گی،آپریشن ردالفتنہ 1 پاکستان اور خصوصاً بلوچستان کے قابل فخر لوگوں کے ہمیشہ تشدد پر امن، تقسیم پر اتحاد اور تشدد پر ترقی کو ترجیح دینے کے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں آپریشن ردّ الفتنہ-1 کی کامیابی پر پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے 216 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔

    محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں، عزم اور حوصلے کو سراہا اور کہا کہ ان کی شجاعت اور مؤثر کارروائیوں نے بلوچستان میں بدامنی کی سازش کو ناکام بنایا انہوں نے واضح کیا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا انجام عبرتناک موت ہے اور دہشتگردانہ نیٹ ورک کی قیادت اور آپریشنل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے جام شہادت نوش کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور معصوم شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا ہمارا فخر ہیں اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گاانہوں نے قوم کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے ہر خطرے کے خلاف بھرپور مؤثر کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

  • سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت

    سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کے روز بلوچستان میں 31 جنوری کو مختلف مقامات پر ہونے والے ’بزدلانہ اور گھناؤنے دہشت گرد حملوں‘ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے-

    یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہی گئی، جسے وزارتِ خارجہ نے بھی شیئر کیا بیان میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل کے ارکان نے ان حملوں کو ’انتہائی قابلِ مذمت‘ قرار دیتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    یہ بیان ہفتے کے اختتام پر بلوچستان میں مختلف مقامات پر ہونے والے مربوط دہشت گرد حملوں کے بعد سامنے آیا منگل کے روز سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران کالعدم عسکری تنظیم ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے 197 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ ان کارروائیوں میں 22 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

    کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ ’دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میں عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے، ار کا نِ سلامتی کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان حملوں کے ذمہ داروں، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے بیان میں تمام ممالک سے اپیل کی گئی کہ وہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت حکومتِ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

    سلامتی کونسل نے اس امر کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے تمام اقدامات ناقابلِ جواز اور مجرمانہ ہیں، چاہے ان کا مقصد، وقت، مقام یا مرتکب کوئی بھی ہو، اور ان کے خلاف اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔

  • خیبرپختونخوا  والے بتائیں تیراہ کو دیا گیا چار ارب روپے کہاں گیا؟عطا تارڑ

    خیبرپختونخوا والے بتائیں تیراہ کو دیا گیا چار ارب روپے کہاں گیا؟عطا تارڑ

    لاہور:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیز پراکسیز کا خاتمہ کرکے دم لے گی، انڈین میڈیا پر بیٹھ کر بلوچستان بلوچستان کیا جاتا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ رہے۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ کل بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی جانب سے بزدلانہ حملہ کیا گیا، سیکیورٹی فورسز پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، 80 سے اوپر دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا، بلوچستان بڑے نقصان سے بچ گیا یہ بارہ شہروں پر حملوں کے لئے آئے تھے، بھرپور مقابلہ کیا اور دہشت گردوں کو ہرایا، انڈین میڈیا پر بیٹھ کر بلوچستان بلوچستان کیا جاتا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ رہے۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کے خلاف کامیابی حاصل کی بھارت کو بہت تکلیف ہے، جب تم آئے تھے تو دم دبا کر بھاگے تھے، سیکیورٹی ایجنسیز ان پراکسیز کا خاتمہ کرکے دم لے گی کے پی کے ترجمان ٹی وی پر بیٹھ کر زبان درازی کرتے ہیں، آؤ پنجاب سے سیکھو، شہباز شریف پنجاب میں وزیر اعلی تھے تو بڑے بڑے پراجیکٹ بنے، اب وزیر اعلی پنجاب بڑے بڑے کام کررہی ہیں۔

    
بلوچستان پاکستان ہے، اس پر اٹھنے والا ہر ہاتھ توڑ دیا جائے گا: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ پوری قوم ان کو اربوں روپے دیتی ہے، ابھی تک کے پی کے میں ایک بھی کام نہیں کرسکے، ہمارے ہاں جب سیلاب آتا ہے تو وزیر اعلی پنجاب ان کی مدد کرتے ہیں، یہ کے پی کے والے بتائیں تیراہ کو دیا گیا چار ارب روپے کہاں گیا، باڑہ کا سیاسی اتحاد کہہ رہا ہے بد انتظامی اور بدعنوانی بھی ہے، وہاں کے لوگوں پر فتنہ الخوارج حملہ کرتی ہے تو پاک فوج آتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جب بھی ان کو مدد چاہیے ہوتی ہے کے پی کے کی حکومت غائب ہوتی ہے، ان کا کام صرف احتجاج اور اڈیالہ کے باہر بیٹھنا ہے، گورنر راج ایک آپشن ہے ہر وقت میسر ہوتی ہے، گورنر راج تب آتا ہے جب حکومت مکمل طور پر ناکام ہوجائے ان کو مالی معاونت ملتی ہے سپورٹ ملتی ہے، بانی پی ٹی آئی کا ایک معمولی سا علاج ہوا اور اڈیالہ منتقل کردیا گیا، بانی پی ٹی آئی سے رضامندی کے بعد ان کا طبی علاج کیا گیا۔

    محسن نقوی کی سی ایم ایچ کوئٹہ آمد، زخمی اہلکاروں کی عیادت

  • امریکی ناظم الامور  کی  بلوچستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کی شدید مذمت

    امریکی ناظم الامور کی بلوچستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کی شدید مذمت

    امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے 31 جنوری کو بلوچستان میں سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے کہا کہ ان حملوں کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے، جو امریکا کی جانب سے نامزد کردہ ایک غیر ملکی دہشتگرد تنظیم ہے، امریکا دہشتگردی کے متاثرین، ان کے خاندانوں اور تمام متاثرہ افراد کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہےانہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی عوام حق رکھتے ہیں کہ وہ تشدد اور خوف سے آزاد زندگی گزاریں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کی امن و استحکام کو یقینی بنانے کی کوششوں میں ایک مضبوط اور ثابت قدم شراکت دار ہے اور اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔