Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • امریکی ناظم الامور  کی  بلوچستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کی شدید مذمت

    امریکی ناظم الامور کی بلوچستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کی شدید مذمت

    امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے 31 جنوری کو بلوچستان میں سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے کہا کہ ان حملوں کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے، جو امریکا کی جانب سے نامزد کردہ ایک غیر ملکی دہشتگرد تنظیم ہے، امریکا دہشتگردی کے متاثرین، ان کے خاندانوں اور تمام متاثرہ افراد کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہےانہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی عوام حق رکھتے ہیں کہ وہ تشدد اور خوف سے آزاد زندگی گزاریں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کی امن و استحکام کو یقینی بنانے کی کوششوں میں ایک مضبوط اور ثابت قدم شراکت دار ہے اور اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

  • بلوچستان میں  بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے حملے ناکام، 2 روز میں 3 خودکش بمباروں سمیت 133 دہشتگرد ہلاک، 15 جوان شہید

    بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے حملے ناکام، 2 روز میں 3 خودکش بمباروں سمیت 133 دہشتگرد ہلاک، 15 جوان شہید

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے حملے ناکام بناتے ہوئے 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ 2 روز میں مجموعی طور پر 133 دہشتگرد مارے گئے، اس دوران سیکیورٹی فورسز کے 15 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کے گردونواح میں متعدد دہشتگرد کارروائیاں کرکے بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی غیر ملکی آقاؤں کی ہدایت پر کی جانے والی ان بزدلانہ دہشتگرد کارروائیوں کا مقصد مقامی آبادی کی زندگی کو مفلوج کرنا اور بلوچستان کی ترقی کو نقصان پہنچانا تھا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ان حملوں کے دوران ضلع گوادر اور خاران میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں دہشتگردوں نے بدنیتی سے 18 معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور مزدور شامل تھے، جو جامِ شہادت نوش کرگئے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر الرٹ تھے اور انہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔

    چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ،محسن نقوی

    آئی ایس پی آر کے مطابق بہادر افواج نے پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان بھر میں طویل، شدید اور جرات مندانہ کلیئرنس آپریشن کے دوران 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گردوں کو ہلاک کردیاکلیئرنس آپریشنز اور شدید جھڑپوں کے دوران وطن کے 15 بہادر سپوتوں نے جرات و بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز مسلسل جاری ہیں اور ان انسانیت سوز و بزدلانہ کارروائیوں میں ملوث منصوبہ سازوں، سہولت کاروں، معاونین اور حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا انٹیلی جنس رپورٹس نے واضح طور پر تصدیق کی ہے کہ یہ حملے پاکستان سے باہر سرگرم دہشتگرد عناصر نے منصوبہ بندی کے تحت کروائے، جو پورے واقعے کے دوران دہشتگردوں سے براہِ راست رابطے میں تھے۔

    پیپلز پارٹی نے سیاست کے بجائے ریاست کے مفاد کو ترجیح دی، راجا پرویز اشرف

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں سیکیورٹی فورسز ’عزم استحکام‘ کے تحت غیرملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ 30 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 41 دہشت گرد مارے گئے تھے گزشتہ 2 دنوں کے دوران کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں بلوچستان میں جاری آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو چکی ہے۔

    ٹیلی گراف نے مودی دور کی بدترین سفارتی ناکامیوں کا پردہ چاک کر دیا

  • چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ،محسن نقوی

    چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ،محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ہم حملہ کرنے والوں اور ان کے آقاؤں کو معاف نہیں کریں گے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد مشترکہ بیان میں کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 12 مقامات پر حملے کرنے والے تمام 92 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ حملوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آئے ہیں۔

    وزیرداخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں نے پلان کر کے حملے کیے جن کو ناکام بنادیا گیا اور آپریشن مکمل ہوگیا جس میں موجود تمام دہشت گردوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا گیا دو روز میں 108 دہشت گرد مارے جاچکے ہیں آج کے حملوں میں پولیس، ایف سی اور آرمی نے دہشت گردوں کا مقابلہ کر کے داستان رقم کردی۔

    انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے منصوبہ بندی سے حملے کیے جنہیں ناکام بنا دیا گیا، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی بہادر آدمی ہیں جو اس صورت حال کا سامنا کررہے ہیں، چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ہم حملہ کرنے والوں اور ان کے آقاؤں کو معاف نہیں کریں گے۔

    وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کیا کہ آپریشن مکمل ہوگیا تاہم حتمی تفصیلات اب آنا باقی ہیں، گوادر میں لیبر کالونی میں بلوچ شہریوں کو قتل کیا گیا جسکی شدید مذ مت کرتے ہیں، فورسز نے بھرپور اور بہترین ردعمل دے کر فتنہ الہندوستان کا مورال مزید کم کردیا کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کا تعاقب کر کے ٹھکا نے لگایا جائے گا،لیکن ایسے 10 حملے بھی دہشتگردی کے خلاف ہمارا عزم کمزور نہیں کر سکتے ہماری فورسز نے دہشتگردوں کو بھرپور اور بروقت جواب دیا، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن قریباً مکمل ہو چکا ہے، اور اب صرف تفصیلات آنا باقی ہیں، مصروفیات ترک کرکے کوئٹہ پہنچنے پر وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں-

    واضح رہے کہ فتنہ الہندوستان کے مسلح شرپسندوں نے 12 مقامات پر حملے کیے جس پر فورسز نے ردعمل دیتے ہوئے 67 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گوادر کی لیبر کالونی میں دہشت گردوں نے 11 بلوچ افراد کو قتل کیا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

  • دہشتگردوں اور ان کے ہینڈلرز کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،خواجہ آصف

    دہشتگردوں اور ان کے ہینڈلرز کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر پوری قوم کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یہ کسی حقوق کی جدوجہد کا نام نہیں، یہ بیرونی سرپرستی میں چلنے والی دہشتگردی ہے جس کا ہدف بلوچستان کے اپنے لوگ اور پاکستان ہے۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ عناصر نہ ترقی برداشت کرتے ہیں نہ امن، اسی لیے وہ مزدوروں، مسافروں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، ایسے عناصر ترقی کے منصوبوں اور روزگار کے مواقع تباہ کرنا چاہتے ہیں، اور سی پیک جیسے منصوبوں کے خلاف سازش کرتے ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہاکہ یہ گروہ منظم مجرمانہ نیٹ ورکس، منشیات پر چلنے والی معیشت، بھتہ خوری اور اسمگلنگ سے مالی مدد لیتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعے دہشتگردی کی تشہیر اور نوجوانوں کی بھرتی کرتے ہیں،ریاست پُرعزم ہے، ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مورال بلند ہے، اور ہم دہشتگردوں، سہولت کاروں اور بیرونی ہینڈلرز سب کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

    واضح رہے کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کی جانب سے کیے گئے حملے سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیے ہیں، اور دو روز میں اب تک 108 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے، دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے 10 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔

  • کوئٹہ:  شہید پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا، محسن نقوی سمیت اعلیٰ حکام کی شرکت

    کوئٹہ: شہید پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا، محسن نقوی سمیت اعلیٰ حکام کی شرکت

    کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والے بلوچستان پولیس کے بہادر اسپوتوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے-

    نماز جنازہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، صوبائی وزرا، اراکین اسمبلی اور آئی جی پولیس بلوچستان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی،شہدا کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ یہ بہادر اسپوت ہمار ے ماتھے کا جھومر اور قوم کا فخر ہیں، اور ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہدا کے ورثاء سے ملاقات کی اور ان سے تعزیت کی، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ دہشتگرد عناصر کبھی ریاست اور عوام کے عزم کے سامنے کامیاب نہیں ہوں گے،بلوچستان کے عوام اور سیکیورٹی فورسز نہایت بہادر اور باہمت ہیں،ہمارے بہادر جوانوں نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور اور مؤثر کارروائی کی، شہداء کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں، پوری قوم ان کو سلام پیش کرتی ہے،

    وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ شہدا کی قربانیوں سے ملک اور صوبے میں امن و امان کے قیام کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے اور ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ 2 روز کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 108 دہشتگردوں کو ہلاک کیا ہے، اس دوران دہشتگردوں کے خلاف لڑتے ہوئے 10 بہادر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے ہیں۔

  • بلوچستان میں شدید برفباری اور مشکلات کے باوجود پاک فوج ریلوے ٹریکس کی نگرانی پر مامور

    بلوچستان میں شدید برفباری اور مشکلات کے باوجود پاک فوج ریلوے ٹریکس کی نگرانی پر مامور

    بلوچستان میں شدید برفباری اور مشکلات کے باوجود پاک فوج ریلوے ٹریکس کی نگرانی پر مامور ہے۔

    پاک فوج شدید موسم اور دہشتگردی کے خطرات پر بیک وقت عزم و حوصلے کے ساتھ برسرِ پیکار ہے،مسافروں کی حفاظت کیلئے پاک فوج کے جوان برفباری میں بھی مسلسل اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں،جعفر ایکسپریس اور بولان ایکسپریس کے مسافروں کی حفاظت کے لیے پاک فوج کے جوان برفباری میں بھی مسلسل اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔

    پاک فوج کے جوان اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ریلوے لائنوں اور مسافر ٹرینوں کی حفاظت کر رہے ہیں،عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے جوان ہر دم تیار ہیں،سخت موسم اور کٹھن حالات میں بھی ریلوے لائنوں کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں، شدید برفباری میں بھی مسافر ٹرینوں اور ریلوے ٹریکس کی حفاظت کرنے والے پاک فوج کے جوان قوم کا حقیقی فخر ہیں۔

  • دالبندین اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    دالبندین اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے علاقے دالبندین اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی ریکٹر سکیل پر شدت 4.2 اور گہرائی 66 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ زلزلے کا مرکز دالبندین سے 47 کلومیٹر دور جنوب مشرق میں تھازلزلے کے بعد لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے تاہم زلزلے کے بعد فی الحال کسی قسم کے جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  • ملک میں بارش برسانے والا طاقتور سسٹم آج داخل ہونے کا امکان

    ملک میں بارش برسانے والا طاقتور سسٹم آج داخل ہونے کا امکان

    ملک میں برفباری اور بارش برسانے والا نیا طاقتور سسٹم آج داخل ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک اور سلسلہ آج ملک میں داخل ہو گا، جس سے آج رات سے بارشوں اور برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہو گا، نئے سسٹم کے تحت بلوچستان، گلگت بلتستان، کشمیر اور خیبر پختونخوا میں بارش اور برف باری متوقع ہےمری، گلیات، اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بھی بارش اوربرفباری ہو سکتی ہے۔ 25 سے 26 جنوری کے دوران سندھ کے کئی علاقوں میں بھی بارش کا امکان ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان کے سرد علاقوں میں شدید سردی اور بارش کے باعث آٹھویں جماعت کے امتحانات ملتوی کر دیئے گئےمحکمہ تعلیم بلوچستان کی جانب سے امتحانات ملتوی کرنے کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ڈائریکٹر تعلیمات بلوچستان کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر طلبا کی حفاظت اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے مڈل کے امتحانات مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،آٹھویں جماعت کے امتحانات اب 6 فروری سے شروع ہوں گے۔

    محکمہ تعلیم نے امتحانات کے لیے نظرثانی شدہ شیڈول بھی جاری کر دیا جبکہ ضلعی تعلیمی افسران (ڈی ای اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے امتحانی شیڈول سے متعلق طلبا اور والدین کو بروقت آگاہ کریں،موسمی صورتحال میں بہتری آنے تک طلبا کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ جبکہ امتحانات شفاف اور منظم انداز میں منعقد کیے جائیں گے۔

    جبکہ محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے سردی کی شدت کے سبب اسکول صبح 9 بجے شروع کرنے کے فیصلے میں توسیع کردی، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی نے نوٹی فکیشن جاری کردیا نوٹی فکیشن کے مطابق اسکول 4 فروری تک صبح 9 بجے کھلیں گے، فیصلے کا اطلاق سرکاری و نجی اسکولز پر یکساں ہوگا قبل ازیں 10 جنوری کو جاری کردہ ایک نوٹی فکیشن کے مطابق اوقات کار کی یہ تبدیلی 26 جنوری تک کی گئی تھی جس میں اب توسیع کی گئی ہے۔

    دریں اثناء چئیرمین آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن حیدر علی نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ موسم سے تحفظ اور تعلیمی عمل کا تسلسل وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی دانشمندانہ حکمت عملی ہے تاہم انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسٹیرنگ کمیٹی یا اس کی سب کمیٹی کا اجلاس فوری بلا کر 2026 کا تعلیمی کیلنڈر طے کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جماعت ہشتم تک کے امتحانات، بورڈز ایگزامینیشنز، ان کے نتائج کا شیڈول، نئے داخلے، تعلیمی سال کے آغاز اور تعطیلات سمیت دیگر اہم معاملات کو حتمی شکل دینا فوری ضرورت ہے جبکہ یکساں امتحانی نصاب اور پرچوں کی اسپیسیفیکیشن کا جلدسےجلد اجراء بورڈز، اساتذہ اور طالبعلموں کی تیاری کے لئے ضروری ہے۔

  • بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ

    بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ

    کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔

    اس حوالے سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہوگی،پبلک مقامات پر ہر قسم کے اجتماعات اور جلسوں پر بھی پابند ی ہوگی،کسی ایک جگہ 5 یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی ہوگی ،موٹرسائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی عائد ہوگی ،خواتین اور بچوں کو استشنیٰ حاصل ہوگا، بلوچستان میں دفعہ 144 کا اطلاق 31 جنوری 2026تک ہوگا۔

    اداکار آغا شیراز کو دل کا دورہ، اسپتال میں زیر علاج

    لکی مروت میں پولیس کا کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 3 خارجی جہنم واصل

    راولپنڈی :دفعہ 144 کے نفاذ میں مزید توسیع

  • مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل،صوبے میں بارش اور برفباری

    مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل،صوبے میں بارش اور برفباری

    مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں صوبے کے مختلف علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری کا آغاز ہو چکا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق چمن میں 15 ملی میٹر، جیوانی میں 13 ملی میٹر، کوئٹہ کے علاقے سمونگلی میں 7 ملی میٹر، کوئٹہ کے شہری علاقوں میں 6 ملی میٹر، اورماڑہ میں 3 ملی میٹر، پشین میں 2.5 ملی میٹر، پنجگور میں 2 ملی میٹر، دالبندین میں 1.3 ملی میٹر، قلات میں 1.0 ملی میٹر جبکہ گوادر میں 0.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    ادھر ضلع قلعہ عبداللہ، کان مہترزئی، توبہ کاکڑی، چمن، پشین اور مسلم باغ کے بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے،کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں یکم جنوری تک بارشوں اور بالائی علاقوں میں برفباری جاری رہنے کا امکان ہے۔

    جونیئر اسکواش چیمپئن شپ : پاکستانی کھلاڑیوں نے ٹائٹل جیت لیا

    کسانوں اور مقامی آبادی نے حالیہ بارش کو امید کی کرن قرار دیا ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور آئندہ دنوں میں مزید بارش اور برفباری کے امکانات موجود ہیں جو اگر مسلسل رہے تو بلوچستان میں جاری خشک سالی کے اثرا ت کسی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔

    قائداعظم کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے، شیخ خلیل الرحمن چاولہ