Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • بلوچستان:سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سیل قائم کرنے کا اعلان

    بلوچستان:سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سیل قائم کرنے کا اعلان

    کوئٹہ: حکومت بلوچستان نے صوبے میں امن و امان کی صورت حال کو مزید بہتر بنانے اور سیکیورٹی فیصلوں کو ڈیٹا پر مبنی بنانے کے لیے محکمہ داخلہ و قبائلی امور میں پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) سیل قائم کر دیا۔

    حکومت بلوچستان کے اعلامیے کے مطابق یہ اقدام جدید ٹیکنالوجی پر مبنی طرز حکمرانی کی طرف ایک اہم قدم ہے جو بلوچستان انٹیگریٹڈ سیکیورٹی آرکیٹیکچر (بی آئی ایس اے) سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے جرائم، سیکیورٹی خدشات اور ممکنہ خطرات سے بروقت نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اے آئی سیل کا بنیادی مقصد جرائم کے رجحانات کی نشان دہی، خطرناک علاقوں میں ممکنہ خطرات کی قبل از اطلاع اور سیکیورٹی رجحانات کا تجزیہ کرنا ہے، اس سے حکومت کو کسی بھی ناخوش گوار واقعے سے قبل حفاظتی اقدامات کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی،سیل حساس سکیورٹی ڈیٹا کی مکمل رازداری یقینی بناتے ہوئے ثبوت پر مبنی اور ڈیٹا ڈریون فیصلہ سازی میں معاو نت فراہم کرے گا۔

    سندھ میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں، ضیا الحسن لنجار

    محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اے آئی سیل باقاعدہ تجزیاتی رپورٹس تیار کر کے پالیسی سازی اور آپریشنل پلاننگ میں مدد دے گا، اس کے علاوہ، ریسرچ اور تیکنیکی ترقی کے لیے کوئٹہ میں قائم یونیورسٹیوں اور اداروں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔

    بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے میں سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے، یہ سیل نہ صرف موجودہ سیکیورٹی انفرا اسٹرکچر کو مضبوط بنائے گا بلکہ مستقبل میں ممکنہ خطرات کی پیشگوئی کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گاماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام صوبے میں امن و امان کی بحالی اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ ڈیٹا پر مبنی فیصلے سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے-

    ایف آئی اےنے ائیرپورٹس کو آئی سی 4نظام سےمنسلک کردیا

    حکومت بلوچستان نے اس اقدام کو ٹیکنالوجی پر مبنی گورننس کی طرف ایک سنگ میل قرار دیا ہے اور اے آئی سیل کا قیام ان کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کی جانب ایک نئی پیش رفت ہے۔

  • بلوچستان کے طالب علموں کےلئے اسکالر شپس کا اعلان

    بلوچستان کے طالب علموں کےلئے اسکالر شپس کا اعلان

    ہایئر ایجوکیشن کمیشن نے بلوچستان کے ہونہار طلبا کیلئے اسکالر شپس کا اعلان کیا ہے۔

    ہونہار طلبا کو جامعات میں ایل ایل ایم اور بیرون ملک ایل ایل ایم اور پی ایچ ڈی کی اسکالر شپس دی جائیں گی ، امیدوار کے پاس بلوچستان کا ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹ کا ہونا ضروری ہے،ایل ایل ایم کے لئے عمر کی بالائی حد 30 سال جبکہ پی ایچ ڈی کے لئے 35 سال مقرر کی گئی ہے،امیدواروں کیلئے اہلیت ٹیسٹ میں 50 فیصد نمبر ضروری ہیں، درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 13 جنوری 2026 مقرر کی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں ایچ ای سی نے ایل ایل بی ڈگری پروگرام میں داخلے کےلئے لا ایڈمیشن ٹیسٹ شیڈول بھی جاری کر دیا ہے جس کے مطابق درخواستیں 29 دسمبر تک جمع کرائی جا سکیں گی جبکہ ٹیسٹ 25 جنوری 2026 کو ہو گا۔

  • پھل فروش کے ہاں بیک وقت 4 بچوں کی پیدائش

    پھل فروش کے ہاں بیک وقت 4 بچوں کی پیدائش

    کوئٹہ:سیٹلائٹ ٹاوٴن کے علاقے میں مقیم محنت کش شہری راز محمد کے گھر خوشیوں نے دستک دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک نجی اسپتال میں چار بچوں (تین بیٹے اور ایک بیٹی) کی پیدائش ہوئی ہے۔خاندان اور اہلِ محلہ نے اس خیر و برکت پر خوشی کا اظہار کیا ہےراز محمد پیشے کے اعتبار سے فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہیں اور محنت مزدوری کے ذریعے اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالتے ہیں، ان کے پہلے سے دو بچے تھے جس کے بعد اب بچوں کی مجموعی تعداد 6 ہو گئی ہے،خوشیوں کے ساتھ والدین پر ذمہ داریوں کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔ محدود آمدنی کے باعث بچوں کی پرورش ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

    قبل ازیں صوابی کے باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں ایک خاتون کے ہاں بیک وقت چار بچوں کی پیدائش ہوئی تھی، 4 بچوں میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل تھیں،ماں اور بچے دونوں صحت مند ہیں جبکہ بچوں کے والدین کا تعلق گاؤں سلیم خان سے تھا،بچوں کی پیدائش بغیر آپریشن (نارمل ڈیلیوری) کے ہوئی
    بچوں کے والد مقصودعلی کا کہنا تھا کہ ایک ساتھ چار بچوں کی پیدائش پر بےحد خوش ہوں،اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

  • اسکول چھوڑنے کی بلند شرح،بلوچستان میں ارلی وارننگ سسٹم متعارف

    اسکول چھوڑنے کی بلند شرح،بلوچستان میں ارلی وارننگ سسٹم متعارف

    قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، بچوں کی ابتدائی تعلیم کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

    صوبے میں پرائمری سطح پر بچوں کے اسکول چھوڑنے کی شرح 59 فیصد ہے، جن میں 61 فیصد لڑکے اور 59 فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔ معاشی مسائل، بچوں سے مزدوری، اسکولوں تک طویل فاصلے اور بنیادی سہولیات کی کمی اس تشویشناک صورتحال کی اہم وجوہات قرار دی جاتی ہیں۔تعلیمی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتِ بلوچستان نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سرکاری اسکولوں میں ارلی وارننگ سسٹم نافذ کر دیا ہے۔ اس نظام کا مقصد ایسے بچوں کی بروقت نشاندہی کرنا ہے جو کسی بھی وجہ سے اسکول چھوڑنے کے خطرے کا شکار ہوں، تاکہ انہیں بروقت مدد فراہم کی جا سکے اور ان کا تعلیمی سفر جاری رہے۔

    اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بلوچستان نے یونیسف اور گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کے ساتھ مل کر 2016 سے 2021 تک ایک تفصیلی سروے کیا، جس میں بچوں کے اسکول چھوڑنے کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لیا گیا۔ انہی نتائج کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور وزیر تعلیم راحیلہ امین درانی کے وژن کے تحت یہ نظام تیار کیا گیا ہے۔

    ارلی وارننگ سسٹم کے تحت ہر طالب علم کی کارکردگی، رویے اور حاضری کو ایک جدید سافٹ ویئر کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا۔ اگر کسی بچے کی کارکردگی میں کمی، سیکھنے میں عدم دلچسپی یا مسلسل غیر حاضری سامنے آئے گی تو سسٹم خودکار طور پر اسے ’ہائی رسک‘ کے طور پر ظاہر کرے گا، جس کے بعد متعلقہ عملہ بروقت اقدام کرے

    سیکیورٹی میں نیا اضافہ،سی ٹی ڈی کا کمانڈ اینڈ کنٹرول موبائل یونٹ فعال

    بنگلادیش کو برآمد کے لیے 1 لاکھ ٹن چاول خریداری کا ٹینڈر جاری

  • بلوچستان کی حقیقی تصویر سامنے لانے کی ضرورت ہے،سرفراز بگٹی

    بلوچستان کی حقیقی تصویر سامنے لانے کی ضرورت ہے،سرفراز بگٹی

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہاہے کہ ہمیشہ حقیقت کو پرسپشن میں بدل دیا جاتا ہے اور بلوچستان کے کیس میں بھی یہی ہوا ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سپریم کورٹ بار کی تقریب ’میٹ دی لائر‘سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حالات بار کے سامنے رکھنا ان کے لیے فخر کی بات ہے، ان کی خواہش تھی کہ بلوچستان کے حوالے سے ان کیمرہ گفتگو کی جاتی کیونکہ کچھ باتیں کیمروں کے سامنے بیان کرنا مشکل ہیں، اسلام آباد میں گزشتہ 30 سے 40 برس سے جو کچھ بتایا جاتا رہا ہے وہ بلوچستان کی حقیقت نہیں بلکہ تاثر ہے، ہمیشہ حقیقت کو پرسپشن میں بدل دیا جاتا ہے اور بلوچستان کے کیس میں بھی یہی ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہم سب ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں، ہمارے مسائل اور ان کے حل آپس میں جڑے ہوئے ہیں لیکن اصل تصویر سامنے نہیں لائی گئی،میڈیا کا کردار خاص طور پر بلوچستان میں انتہائی اہم ہے جہاں صحافت بہت مشکل ہے پاکستان کا میڈیا ہمیشہ مظلوم اور محکوم طبقے کی آواز بنا ہے اور اسی کردار کی ضرورت بلوچستان کے معاملات میں بھی ہے،وکلا کی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، سیاست میں بولنے سے کوئی نہیں ڈرتا لیکن بلوچستان کی حقیقی تصویر سامنے لانے کی ضرورت ہےکیمرے بند کر کے بلوچستان کے اندرونی حالات پر زیادہ کھل کر بات ہو سکتی ہے۔

  • بلوچستان میں پہلی ٹرانس جینڈر پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ

    بلوچستان میں پہلی ٹرانس جینڈر پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ

    بلوچستان میں پہلی ٹرانس جینڈر پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیاگیاہے-

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 19واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی توثیق اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کی منظوری دے دی گئی بلوچستان میں پہلی ٹرانس جینڈر پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا پروانشل ایوی ایشن اسٹریٹجی اور 2025 تا 2027 کے تین سالہ ترقیاتی منصوبے کی منظوری دی گئی۔

    علاوہ ازیں ساکرن اور کربلا کو تحصیل کا درجہ دینے کی منظوری بھی دی گئی قانون شہادت ترمیمی بل کی صوبائی سطح پر توثیق کی گئی نفرت آمیز مواد کی اشاعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ (محکمہ داخلہ کی سفارشات پر) کیا گیا۔ بی ٹیوٹا کے تحت ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ انٹی گریشن کی توثیق کی گئی۔

    اوکاڑہ:اہم سڑک گزشتہ 25 برسوں سے خستہ حالی کا شکار ،ارباب اختیارخاموش،عوام پریشان

    صوبائی کابینہ نے دالبندین میں جدید پرنس فہد اسپتال کے قیام کی منظوری دی اسی طرح سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق خالق آباد اور شہید سکندر آباد کے نام بحال کرنے کی منظوری دی گئی دی ہاسپٹل ویسٹ مینجمنٹ رولز 2025 کی بھی منظوری دی گئی جبکہ افغانستان جانے والے ورلڈ فوڈ پروگرام کی ترسیلات کو ڈویلپمنٹ چارجز سے استثنیٰ قرار دیا گیا۔

    برطانوی ہائی کمشنر کی اسحاق ڈار سے ملاقات، سیلاب متاثرین کے لیے تعاون کا اعلان

  • بلوچستان کے 5 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس  بند رکھنے کا فیصلہ

    بلوچستان کے 5 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند رکھنے کا فیصلہ

    بلوچستان کے 5 اضلاع بشمول کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر 5 سے 6 ستمبر تک موبائل انٹرنیٹ سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان نے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں سفارش کی گئی ہے کہ کوئٹہ سمیت پانچ اضلاع میں تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ سروس بند رکھی جائے۔مراسلے کے مطابق پانچوں اضلاع میں 5 ستمبر سہ پہر 5 بجے سے 6 ستمبر رات 9 بجے تک انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی۔محکمہ داخلہ نے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدام تجویز کیا گیا ہے، جبکہ بلوچستان کے دیگر اضلاع میں انٹرنیٹ سروس پہلے ہی معطل ہے۔

    واضح رہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ کے احکامات پر مذکورہ اضلاع میں انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی تھی، تاہم اب دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت بلوچستان نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر 5 ستمبر (11 ربیع الاول) کو عام تعطیل کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

    حیدر علی کی معطلی،پی سی بی کا لائحہ عمل قانونی کارروائی کے بعد طے ہوگا

    میڈرڈ میں تکنیکی خرابی سے ہائی اسپیڈ ٹرین سروس شدید متاثر

    بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح میں اضافہ، مزید پانی آنے کا خدشہ

    اندرونی اختلافات،سنی اتحاد کونسل کے 26 اراکین نے استعفیٰ نہیں دیا، فہرست منظرعام پر

  • بلوچستان: سیاسی جماعتوں کا 8 ستمبر کو صوبے بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

    بلوچستان: سیاسی جماعتوں کا 8 ستمبر کو صوبے بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دو ستمبر کو سریاب روڈ پر ہوئے خودکش حملے کے خلاف سیاسی جماعتوں نے 8 ستمبر کو صوبے بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کردیا۔

    سیاسی جماعتوں نے کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس،کرتے ہوئے 8 ستمبر کو بلوچستان بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا،پریس کانفرنس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سردار اختر مینگل، نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل کبیر محمد، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر داود شاہ کاکڑ اور مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ ولایت حسین جعفری شامل تھے۔

    سربراہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قرآن کہتا ہے کہ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، مگر ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ ہم نے کیا جرم کیا ہے؟ ہم نے جلسے میں ایسا کیا کہا تھا کہ ہمیں اس سانحے کا سامنا کرنا پڑا؟75 سال گزر گئے لیکن آج بھی عوام غلامی کا طوق اٹھائے ہوئے ہیں ہم آقا و غلام کا رشتہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے،بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور ہم سب کو برابر سمجھتے ہیں۔ ہم قومی پرستی پر یقین نہیں رکھتے، ہم سب بھائی ہیں۔‘

    خطے میں امن واستحکام، قطر کی پاکستان کے کردار کی تعریف

    اچکزئی نے مزید کہا کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی تھانے جلا سکتے ہیں مگر ہم عوام کے جذبات سے کھیلنا نہیں چاہتے۔انہوں نے 8 ستمبر کو بلوچستان بھر میں پرامن احتجاج، پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا،محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ وہ جلسے کرتے رہیں گے اور ڈنکے کی چوٹ پر جلسے کریں گے، کوئی ان کے بچوں کو مارے گا تو وہ اس سڑک سے گزر بھی نہیں سکے گا،بلوچستان سمیت ہر قوم کو اپنے وطن پر اپنے حقوق ملنے چاہئیں، بلوچ کو بلوچ وطن پر، سندھی کو سندھ پر اور پنجابی کو پنجاب پر حق ہونا چاہیے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ 2 ستمبر کی شب دل چیر دینے والا واقعہ پیش آیا جس میں ان کے 14 کارکن اور ایک پولیس اہلکار شہید ہوئے، دھماکے سے 15 منٹ قبل ہمارے کارکن ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے، یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی کئی سانحات ہو چکے ہیں، ریاستی اداروں کو کیسے معلوم نہیں ہوتا کہ خودکش حملہ آور کہاں سے آتا ہے؟ اگر 2006 میں نواب اکبر بگٹی کے قتل سے سبق سیکھا جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، یہ نقصان صرف بی این پی کا نہیں بلکہ بلوچستان کا نقصان ہے۔ ہمارے شہداء نے نہ بینک لوٹا، نہ قتل کیا، نہ حکومت گرائی۔ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

    برطانیہ میں قومی کرکٹر حیدر علی کیخلاف ریپ کا مقدمہ خارج

    نیشنل پارٹی کے کبیر محمد نے کہا کہ موجودہ اسمبلیوں میں عوام کے حقیقی نمائندے موجود نہیں اور بلوچستان کے ساحل اور وسائل وفاق کے حوالے کیے جا رہے ہیں، 2 ستمبر کا سانحہ، جو سردار عطاء اللہ مینگل کی برسی کے موقع پر پیش آیا، پورے صوبے کے لیے دکھ کی گھڑی ہے،شہدا صرف بی این پی کے نہیں، بلکہ پورے بلوچستان کے ہیں اور حقیقی جمہوریت کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کاروباری افراد، زمینداروں، وکلاء اور سیاسی کارکنوں سے احتجاج میں بھرپور شرکت کی درخواست کی۔

    اے این پی کے اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وسائل ان کے لیے وبال بن گئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی سے بنائی جانے والی پالیسیاں بلوچ و پشتون اقوام کے روزگار کو تباہ کر رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کے داور شاہ کاکڑ نے کہا کہ دو ستمبر نے ظلم کی نئی تاریخ رقم کی اور فارم 47 کی حکومت کی کوئی حیثیت نہیں،انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی سمیت کابینہ کو مستعفی ہونا چاہیے، علامہ ولایت حسین جعفری نے کہا کہ ظالم کبھی باقی نہیں رہتا اور بندوق کے زور پر کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا انہوں نے کہا کہ ایک دن میں 100 جنازے اٹھانے والے اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    ’گھونگھٹ‘ میں کام کے دوران صائمہ پر عاشق ہوا، سید نور

    پریس کانفرنس کے اختتام پر شہدا کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ رہنماؤں نے اعلان کیا کہ 8 ستمبر کے احتجاج کے بعد تمام جماعتیں مل کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گی۔

  • منتظمین کی ضد پرجلسے کی اجازت دی،  ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان

    منتظمین کی ضد پرجلسے کی اجازت دی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان

    ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ جلسے کی اجازت نہیں دے رہے تھےلیکن منتظمین کی ضد پر اجازت دی، جلسے کی این او سی 3 بجے کے لیے دی گئی تھی لیکن جلسہ رات 9 بجکر 45 منٹ پر ختم ہوا تھا-

    کوئٹہ میں پریس کانفرنس یں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات ور پولیس حکام نے بتایا کہ گزشتہ شب دھماکے میں 15 افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہوئے،، دھماکا خودکش تھا اور 8 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، تھریٹس تھے اور جلسے کی اجازت نہیں دے رہے تھے لیکن منتظمین جلسہ کرنے پر بضد تھے، حکومت نےمجبور ہوکرجلسہ منعقد کرنے کےلیے این او سی جاری کیا۔

    حمزہ شفقات نے کہا کہ جلسہ کے منتظمین کو مغرب سے قبل ہی جلسہ ختم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، مگر جلسہ رات پونے 10 بجے ختم ہوا، خود کش حملہ آور کی شناخت تاحال نہ ہوسکی ہے، سخت سیکورٹی کے باعث خودکش حملہ آور جلسہ گاہ کے اندر نہیں جاسکا، اس وقت کوئٹہ کوسخت تھریٹس کاسامناہے،عیدمیلاد النبی پرسیکورٹی کےسخت انتظامات کررہےہیں، خودکش دھماکے کا واقعہ قابو سے باہر تھا، قانون نافذ کرنے والے ادارے جتنی کوششیں کرسکتے تھے انہوں نے کی۔

    سیاسی جماعتیں اور عوام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، میرسرفراز بگٹی

    عالمی بینک پاکستان کو 2 ارب ڈالر سے زائد قرض دے گا

    وینزویلا کی ’منشیات بردار‘ کشتی پر امریکی فوج کا حملہ، 11 افراد ہلاک

  • سیاسی جماعتیں اور عوام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، میرسرفراز بگٹی

    سیاسی جماعتیں اور عوام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، میرسرفراز بگٹی

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی،نےکہاکہ،کسی کو بھی بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی کی زیر صدارت منعقدہ امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اور آئی جی پولیس نے شاہوانی اسٹیڈیم دھماکے کی تفصیلات اور مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی،وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بحالی امن کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور عوام و میڈیا کو حکومتی اقدامات اور حقائق سے مسلسل آگاہ رکھا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اور عوام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، کیونکہ موجودہ تھریٹس الرٹ میں اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہےانہوں نے واضح کیا کہ شاہوانی اسٹیڈیم دھماکے کے ذمہ دار دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور کسی کو بھی بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔

    عالمی بینک پاکستان کو 2 ارب ڈالر سے زائد قرض دے گا

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سانحے کے شہدا کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، حکومت ہر قدم پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ زخمیوں کو بہترین علاج اور سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ شدید زخمیوں کو فضائی سروسز کے ذریعے کراچی منتقل کرنے کا فوری بندوبست کیا جائےوزیر اعلیٰ نے 12 ربیع الاول کے پروگرامز کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان تیار کرنے کی ہدایت بھی دی اورعوام سے اپیل کی کہ جلوسوں اور اجتماعات کے دوران حکومت اور اداروں سے بھرپور تعاون کریں۔

    ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں پانچویں بار توسیع