Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • بلوچستان : آواران میں گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی،4 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق،ایک کی تلاش جاری

    بلوچستان : آواران میں گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی،4 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق،ایک کی تلاش جاری

    بلوچستان کے علاقے آواران میں گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی، خواتین اور بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق آواران کے علاقے جھاو سیڑ ندی قومی شاہراہ پر منزل کی جانب رواں دواں گاڑی سیلابی ریلے میں ایک فیملی گاڑی سمیت بہہ گئی، جس میں خواتین اور بچوں سمیت 9 افراد شامل ہیں-

    ٹھٹھہ : پولیس کی کامیاب کارروائی، ونڈ پاور پراجیکٹس کیبل چوری میں ملوث ملزمان گرفتار

    امدادی کارکنوں نے خواتین اور بچوں سمیت 8 لاشیں نکال لیں لاشوں کو جھاو اسپتال منتقل کردیا ہے جبکہ ایک بچے کی تلاش تاحال جاری ہے۔

    مرنے والوں میں دو کی شناخت منیر احمد اور عزیر اللہ سمالاڑی کے ناموں سے ہوئی ہے جو سوراب گدر کے رہائشی بتائے جارہے ہیں۔

    زمان پارک میں بنکرز،اسلحہ ملا، آئی جی پنجاب نے آپریشن کی تفصیلات بتا دیں

  • ایم پی اے سردار یار محمد رند کے فرزند کے قافلے پر حملہ،دو محافظ جاں بحق ایک زخمی

    ایم پی اے سردار یار محمد رند کے فرزند کے قافلے پر حملہ،دو محافظ جاں بحق ایک زخمی

    کوئٹہ: ایم پی اے کچھی سردار یار محمد رند کے فرزند میر سردار خان رند کے قافلے پر حملے میں دو محافظ جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: اسسٹنٹ کمشنر ڈھاڈر فہد شاہ راشدی کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سردار رند کے قافلے کو ڈھاڈر کے علاقے نوشمان میں نشانہ بنایا گیا، دھماکہ آئی ای ڈی کے ذریعے کیا گیا، جاں بحق افراد اور زخمیوں کو سول ہسپتال ڈھاڈر منتقل کیا گیا ہے۔

    فہد شاہ راشدی کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ آئی ڈی بلاسٹ ہےمیر سردار خان رند محفوظ ہیں۔اے سی ڈھاڈر

    وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے سردار خان رند کے قافلے پر بم دھماکےکی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق ہونیوالے دونوں محافظوں کے خاندانوں سے اظہار تعزیت اور زخمی کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گرد عناصر خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں، صوبے میں امن و امان کی صورتحال ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔

  • صوبائی وزیرسردار عبدالرحمان کھیتران رہا

    صوبائی وزیرسردار عبدالرحمان کھیتران رہا

    کوئٹہ: صوبائی وزیرسردار عبدالرحمان کھیتران رہا ہو گئے-

    باغی ٹی وی: سردار عبدالرحمان کھیتران کو پولیس نے 22فروری کو کوئٹہ سے گرفتارکیاتھا،سردار عبدالرحمان کھیتران پر ایک خاتون سمیت3 افراد کے قتل کا الزام تھا،عدالت نے گزشتہ روز سردار عبدالرحمان کھیتران کی رہائی کا حکم دیا تھا-

    عمران خان کا کل لاہور میں انتخابی ریلی کی قیادت کا اعلان

    بلوچستان کے علاقے رکھنی کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے گزشتہ روز سانحہ بارکھان میں گرفتار صوبائی وزیر سردار عبدالرحمٰن کھیتران کی 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عدم شواہد کی بنیاد پر ضمانت منظور کی-

    سماعت سیشن جج رکھنی ملک سجاؤ دین کی عدالت میں ہوئی تھی سماعت کے بعد صوبائی وزیر کے وکیل ایڈووکیٹ منظور رحمانی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے مؤکل عبد الرحمٰن کھیتران کے خلاف کسی قسم کے الزامات ثابت نہیں ہوئے گواہان کی جانب سے بھی تمام تر الزامات غفور شاہ، سلام شاہ اور رؤف شاہ پر لگائے گئے جس پر عدالت نے سیشن عدالت نے پانچ لاکھ کے مچلکوں کے عوض سردار عبدالرحمن کھیتران کی ضمانت منظور کر لی۔

    افغانستان:صحافیوں کی ایک تقریب کے دوران دھماکہ،8 افراد جاں بحق متعدد زخمی

    بلوچستان کے ایک دور افتادہ ضلع میں بہیمانہ قتل کیے گئے تین افراد کی کنویں سے لاشیں برآمد ہونے کے بعد غم و غصے کا اظہار اور احتجاج کیا گیا اور غیر قانونی نجی جیلوں کے غیر انسانی مسئلے کو اجاگر کیا گیا۔

    قتل کیے گئے 2 مردوں اور خاتون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 2019 سے غیر قانونی نجی جیل میں قید تھے جسے مبینہ طور پر حکومت سے منسلک بلوچستان عوامی پارٹی کے سرکردہ رہنما عبد الرحمٰن کھیتران چلا رہے تھے۔

    بارکھان میں تین لاشیں ملنے کے بعد لواحقین کی جانب سے صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ بارکھان کے رہائشی خان محمد مری کے اہل خانہ سردار عبدالرحمن کھیتران کی نجی جیل میں قید تھے۔

    ملنے والی تین لاشوں میں سے دو لاشیں خان محمد مری کے بیٹوں کی ہے جس پر سردار عبدالرحمن کھیتران کی جانب سے کوئٹہ پولیس کو گرفتاری دی گئی تھی۔

    رمضان المبارک کا پہلا روزہ کب ہو گا؟

    پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ شب بارکھان سے 7 کلو میٹر کی مسافت پر واقع ایک کنویں سے بوری بند تین لاشیں برآمد ہوئیں جن میں ایک لاش خاتون اور دو لاشیں مردوں کی ہیں، لاشیں نویں سے نکال کر سول ہسپتال بارکھان منتقل کر دی گئیں، جہاں انہیں عبدالقیوم بجرانی مری نے شناخت کر لیا جس سے پولیس نے انہیں ان کا وارث قرار دیا ہے، قانونی چارہ جوئی کے بعد لاشیں ان کے حوالے کردی گئیں۔

  • خضدار میں زلزلے کے جھٹکے

    خضدار میں زلزلے کے جھٹکے

    خضدار میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    باغی ٹی وی: بلوچستان کے ضلع خضدار میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ،زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے کے سبب لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کلمہ شریف کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے-

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز خضدار کے شمال 45 کلومیٹر کی دوری پرتھا زلزلے کی گہرائی 5 کلومیٹرریکارڈ ہوئی اور اس کی شدت ریکٹراسکیل پر 4.2 ریکارڈ ہوئی۔

  • کوئٹہ میں دھماکا،6 افراد جاں بحق

    کوئٹہ میں دھماکا،6 افراد جاں بحق

    کوئٹہ میں گیس لیکج کے دھماکے میں 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: ریسکیو ذرائع کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سکی کلاں میں ہونے والے گیس لیکج کے دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں میں 2 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں۔

    7 سالہ بچی کا زیادتی و بدفعلی کے بعد قتل،ملزم گرفتار

    دھماکے میں 4 افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے کنبڑی کے پل کے قریب بلوچستان کانسٹیبلری کی وین پر دھماکے کے نتیجے میں 9 سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 13 زخمی ہوئے تھے-

    دبئی میں موجود بھتہ خور گینگ کا ملزم کلاکوٹ سے گرفتار

    بولان پولیس کا کہنا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں بلوچستان کانسٹیبلری کا ٹرک الٹ گیا تھا بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکار سبی میلے میں ڈیوٹی انجام دینے کے بعد کوئٹہ واپس آ رہے تھے کہ بولان کے علاقے میں دھماکے کا شکار ہو گئےدھماکے کے فوری بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور ریسکیو ٹیمیں دھماکے کی جگہ پہنچ گئیں۔

    دھماکا موٹرسائیکل پر خودکش حملہ آور نے کیا تھا جس میں 9 جاں بحق جبکہ 13 زخمی ہوگئے ہیں، دھماکے میں زخمی ہونے والے 3 افراد کی حالت تشویشناک تھی جنہیں سی ایم ایچ سبی منتقل کردیا گیا ۔

    بولان میں بلوچستان کانسٹیبلری وین کے قریب دھماکا، 9 اہلکار شہید

  • بلوچستان: اعلیٰ افسران سمیت 68 پولیس اہلکار معطل

    بلوچستان: اعلیٰ افسران سمیت 68 پولیس اہلکار معطل

    کوئٹہ: آئی جی بلوچستان نے ایس ایچ او، سب انسپکٹر سمیت 68 اہلکاروں کو معطل کردیا۔

    باغی ٹی وی : مقامی میڈیا کے مطابق آئی جی پولیس بلوچستان نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد 68 اہلکاروں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے انہیں معطل کردیا۔

    قومی ایئرلائن نے حج 2023 کیلئے کرایوں کا اعلان کردیا

    ترجمان بلوچستان کے مطابق معطل ہونے والوں میں ایس ایچ او، سب انسپکٹر اور دیگر افسران سمیت اہلکار شامل ہیں، جنہیں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور حکم عدولی پر برطرف کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس عبدالخالق شیخ نے سب انسپکٹرز سمیت دیگر اہلکاروں کا تبادلہ بحیثیت انسٹرکٹر پولیس ٹریننگ کالج سریاب روڈ کیا تھا۔ جن میں 5 ایس ایچ اوز ایس ایچ او بروری درین خان،ایس ایچ اوگوالمنڈی اعجاز احمد، ایس ایچ او قائد آباد سلیم رضا، ایس ایچ او زرغون آباد آصف مروت، ایس ایچ او سول لائن مٹھا خان اور سی آئی اے انچارج نظام خان سمیت 49 سب انسپکٹرز، 2 اے ایس آئیز اور اہلکار شامل ہیں۔

    سب سے بات کرنے سمجھوتہ کرنے کو تیار ہوں، عمران خان

    آئی جی کے احکامات پر عملدرآمد نہ کیا جس پر آئی جی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان تمام کو معطل کردیا معطل ہونے والوں میں ایک خاتون اہلکار بھی شامل شامل ہیں۔

    پولیس کی جانب سے تاحال یہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں کہ معطل ہونے والے اہلکار بلوچستان کے کن تھانوں میں تعینات تھے۔

    امیر ممالک غریب ملکوں کو شیطانی حربوں سے تنگ کررہے ہیں ،سیکرٹری اقوام متحدہ

  • ہرنائی میں کان کنوں پر فائرنگ،4 کان کن ہلاک اور 3 زخمی،جنوبی وزیرستان میں بم دھماکہ،بچہ جاں بحق

    ہرنائی میں کان کنوں پر فائرنگ،4 کان کن ہلاک اور 3 زخمی،جنوبی وزیرستان میں بم دھماکہ،بچہ جاں بحق

    ڈی آئی خان: جنوبی وزیرستان بم دھماکے کے باعث بچہ جاں بحق جبکہ 2 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی:جنوبی وزیرستان میں یہ دھماکہ گاؤں دژہ غونڈئی میں ہوا،ابتدائی اطلاعات کے مطابق بم سڑک کے قریب نصب کیا گیا تھا تاہم پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہےزخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال لے جایا گیا ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان میں ہرنائی کے علاقے خوست کوئل مائنز ایریا میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 4 کان کن جاں بحق ہوگئے۔

    لیویز حکام کے مطابق فائرنگ سے تین افراد زخمی بھی ہوئے، واقعے میں جاں بحق کانکنوں کی لاشوں اور زخمیوں کو ہرنائی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے خوست میں کوئلہ کانکنوں پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور انسانیت سوز ہے، غریب اور بے قصور محنت کشوں کو مارنے والے انسان کہلانے کے لائق نہیں۔ دہشت گردی کے بد ترین واقعےمیں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروٴے کار لائے جائیں مائننگ ایریاز میں سیکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے۔

  • بلوچستان کے ضلع آواران میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے ضلع آواران میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے ضلع آواران میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    باغی ٹی وی:بلوچستان کے ضلع آواران میں آنے کم شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا-

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق 4.6 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ زلزلے کا مرکز آواران سے 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سالوں میں آوارن میں متعدد بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ضلع آواران اور اس سے متصل ضلع کیچ کے بعض علاقے 24 ستمبر 2013 کو زلزلے کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی سے دوچار ہوئے تھے۔

    اس زلزلے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 400 افراد ہلاک جبکہ 599 زخمی ہوئے تھے۔

  • بارکھان واقعہ: کنویں سےملنے والی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل

    بارکھان واقعہ: کنویں سےملنے والی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل

    سانحہ بارکھان میں کنویں سےملنے والی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :واضح رہے کہ خان محمد مری کے دوبیٹوں اور ایک نامعلوم خاتون کی لاش بلوچستان کے علاقے بارکھان کے کنویں سے ملی تھیں جس کے بعد دعویٰ کیا گیا تھاکہ کنویں میں سے ملنے والی خاتون کی لاش گراں ناز کی ہے لہٰذا گزشتہ روز کنویں سے ملنے والی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کیا گیا۔

    پولیس سرجن ڈاکٹرعائشہ فیض کے مطابق کنویں سے ملنے والی لاشوں میں سے ایک لڑکی کی لاش ہے جس کی عمر 17 سے 18 سال ہے، مقتولہ کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کیا گیا لڑکی کےسر پر تین گولیاں ماری گئیں اور شناخت چھپانے کےلیے چہرے اور گردن پر تیزاب پھینکا گیا۔پولیس سرجن نے بتایا کہ قتل کی گئی لڑکی گراں ناز نہیں بلکہ اس کی بیٹی ہوسکتی ہے۔

    لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ ظوی خاندان کی بازیابی کے لیے آپریشن مشرقی بلوچستان اورجنوبی پنجاب میں عمل میں لایا گیا لیویزکوئیک رسپانس فورس کےآپریشن میں تمام مغویوں کو بازیاب کرالیا گیا، بازیاب ہونے والوں میں مغوی خاتون گراں ناز، 4 بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہے۔

    لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ خان محمد مری کی بیوی گراں ناز ،بیٹی اور ایک بیٹے کو بارکھان بارڈر ایریا سے بازیاب کرایا گیا جبکہ دو بیٹےڈیرہ بگٹی بارکھان بارڈر ایریا اور ایک بیٹا دکی کے علاقے نانا صاحب سے بازیاب کرایا گیا تمام 6 افراد سرکار کی حفاظتی تحویل میں ہیں ان کو میڈیا کے سامنے لاکر تفصیلات دی جائیں گی۔

    لیویز ذرائع کے مطابق اغواء کار گروہ نے گرفتاری سے بچنے کے لیے مزاحمت کی کوشش نہیں کی،آپریشنزمیں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔

    واضح رہے کہ سردار عبدالرحمان کھیتران پر گراں ناز مری اور ان کے بیٹوں کو یرغمال بنانے اور قتل کرنے کا الزام ہے قتل کے الزام میں بلوچستان کے برطرف وزیر مواصلات سردار عبدالرحمان کھیتران کو حراست میں لے لیا گیا۔

  • کس سے نجات پہلے ضروری ہے؟

    کس سے نجات پہلے ضروری ہے؟

    کس سے نجات پہلے ضروری ہے؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ارض پاک پاکستان کو بنے تقریباً 75 سال ہو چکےاس ملک کو بنانے کا مقصد ایک آزاد خودمختار ریاست تھا جو کہ صرف اور صرف قرآن و حدیث کے تابع ہونی تھی مگر افسوس صد افسوس کہ اتنے برس گزرنے کے بعد بھی غلبہ جہالت و ظلم کا ہے جو کہ قیام پاکستان سے قبل بھی تھا یعنی وہ مقصد حاصل نا ہوس سکا جس کی ضرروت تھی-

    کہیں مہنگائی و بے روزگاری نے مار رکھا ہے تو کہیں وڈیرے جاگیر دار لوگوں کو جانوروں کی طرح مار رہے ہیں گزشتہ دن بلوچستان میں کنوئیں سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں جن کا قاتل صوبائی وزیر سردار کھیتران تاحال آزاد گھوم رہا ہے اور یقیناً وہ آزاد ہی گھومے گا کیونکہ ریاست میں قانون تو ہے مگر ماڑے کے لئے تگڑے کے لئے قانون بہت کمزور ہے –

    بلوچستان کے ضلع بارکھان میں کنوئیں سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں وڈیروں کے ٹکڑوں پہ پلنے والی پولیس فوری حرکت میں ائی کیونکہ نوکری بھی تو کرنی ہے کبھی سرکار کی تو کبھی سردار کی پولیس نے بتایا کہ تینوں مقتولین کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا جبکہ مقتولہ خاتون کے چہرے پر تیزاب ڈال کر اسے مسخ کیا گیا ہے-

    لاشیں شناخت کیلئے ڈی ایچ کیو ہسپتال بارکھان منتقل کی گئیں جہاں خاتون سمیت تینوں لاشوں کی شناخت ہوگئی لاشیں خان محمد مری نامی شخص کی اہلیہ اور دو بیٹوں کی ہیں جو کہ صوبائی وزیر سردار کھیتران کی نجی جیل میں قید تھے مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مزید پانچ افراد صوبائی وزیر کی نجی جیل میں تا حال قید ہیں –

    چند دن قبل مقتولہ خاتون نے قرآن ہاتھ میں پکڑ کر اپنی فریاد جاری کی تھی جو کہ سوشل میڈیا پہ وائرل بھی ہوئی صاحب اختیار لوگوں تک پہنچی بھی اس مظلوم عورت کی فریاد تھی کہ اس کی بیٹی اور اس کے ساتھ روزانہ زنا کیا جاتا ہے تاہم پھر بھی کسی کے کان پہ جو تک نا رینگی-

    واضع رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی سینکڑوں ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں مگر ان سرداروں وڈیروں کو کوئی لگام نہیں ڈالی جا سکی اور شاید ڈالی بھی نا جا سکے گی کیونکہ یہ جمہوریت ہے اور جمہوریت میں فیصلے جمہور دیکھ کر کئے جاتے ہیں ناکہ انسانی منشور دیکھ کر افسوس کہ قوم کو مہنگائی نے اس قدر مار دیا کہ غریب اب سانسیں بھی مشکل سے ہی لے سکتا ہے مگر اس سے بھی بڑا افسوس کہ مغلوب عوام کو جب جی چاہتا ہے جیسے مرضی قتل کر دیا جاتا ہے اور ظالم کا ہاتھ روکنا تو دور کی بات اس کے خلاف آواز بلند کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ انصاف کی عدم دستیابی ہے-

    اس قوم کو روزی روٹی میں اس قدر مگن و مجبور کر دیا گیا کہ کوئی لبوں پہ حرف شکایت نا لائے اور جو لائے وہ زندہ نا رہنے پائے
    جمہوری مفاد کی خاطر لوگوں کو مہنگائی کے خلاف سڑکوں پہ انے کی اور دنگے فساد کی ترغیب دی جاتی ہے جو کہ سراسر غلط ہے
    مگر اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف اٹھنے کی ترغیب بلکل نہیں دی جاتی کیونکہ وہ جانتے ہیں جو آج کسی دوسرے کے خلاف اٹھ گئے کل وہ ہمارے خلاف بھی الم بغاوت بلند کریں گے

    اسی ڈر سے وہ لوگوں کو غیر ضروری کاموں میں الجھا کر مہنگائی کے خلاف سڑکوں پہ آنے کو جہاد قرار دیتے ہیں حالانکہ قرآن میں اللہ تعالی فرماتے ہیں

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ۗ فَمَنِ اعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ

    مسلمانو ! جو لوگ قتل کر دیے جائیں ان کے لیے تمہیں قصاص (یعنی بدلہ لینے کا حکم دیا جاتا ہے۔ (لیکن بدلہ لینے میں انسان دوسرے انسان کے برابر ہے) اگر آزاد آدمی نے آزاد آدمی کو قتل کیا ہے تو اس کے بدلے وہی قتل کیا جائے گا (یہ نہیں ہوسکتا کہ مقتول کی بڑائی یا نسل کے شرف کی وجہ سے دو آدمی قتل کیے جائیں جیسا کہ عرب جاہلیت میں دستور تھا) اگر غلام قاتل ہے تو غلام ہی قتل کیا جائے گا ( یہ نہیں ہوسکتا کہ مقتول کے آزاد ہونے کی وجہ سے دو غلام قتل کیے جائیں) عورت نے قتل کیا ہے تو عورت ہی قتل کی جائے گی اور پھر اگر ایسا ہو کہ کسی قاتل کو مقتول کے وارث سے کہ (رشتہ انسانی میں) اس کا بھائی ہے معافی مل جائے (اور قتل کی جگہ خوں بہا لینے پر راضی ہو جائے) تو (خوں بہا لے کر چھوڑ دیا جا سکتا ہے) اور ( اس صورت میں) مقتول کے وارث کے لیے دستور کے مطابق (خوں بہا کا) مطالبہ ہے اور قاتل کے لیے خوش معاملگی کے ساتھ ادا کر دینا۔ اور دیکھو یہ ( جو قصاص کے معاملہ کو تمام زیادتیوں سے پاک کرکے عدل و مساوات کی اصل پر قائم کر دیا گیا ہے تو یہ) تو تمہارے پروردگار کی طرف جرف سے تمہارے لیے سختیوں کا کم کر دینا اور رحمت کا فیضان ہوا۔ اب اس کے بعد جو کوئی زیادتی کرے گا تو یقین کرو وہ (اللہ کے حضور) عذاب درد ناک کا سزاوار ہو گا

    قتل کے بدلے قتل اور خون بہا لے کر معافی بھی ہےمگر سب خاموش کوئی نہیں کہتا مظلوموں کو کہ اٹھو اپنی آنے والی نسلوں کے لئے نکلوں ہتھیار پکڑو ظالموں کو مارو اور اگر وہ ڈر کر معافی مانگ کر خون بہا دے دیں تو اسے معاف کرو پیسہ لے کر تاکہ آگے اسے اسے پتہ ہو خون اتنا سستا نہیں مگر افسوس کون ہے جو بتائے گا؟کون ہے جو راستہ دکھائے گا کیونکہ اب تو راستے بغیر مفاد نہیں دکھائے جاتے