Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • مون سون کا چوتھا اورطاقتور سسٹم بلوچستان میں داخل ہونے کا امکان

    مون سون کا چوتھا اورطاقتور سسٹم بلوچستان میں داخل ہونے کا امکان

    محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ مون سون کا چوتھا اور ایک اور طاقتور سسٹم بلوچستان میں داخل ہونے کو تیار ہے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 10 اگست سے مون سون کے چوتھے اسپیل کا بلوچستان میں داخل ہونے کا امکان ہے، اس دوران شمال مشرقی اور جنوب وسطی اضلاع میں موسلادھار بارشوں ہو سکتی ہیں۔

    پنجاب کے سیاحتی مقامات پر ہیلپ لائن 1421 کا آغاز کر دیا گیا

    دوسری جانب کمشنر آواران داؤد خلجی کا کہنا ہے کہ ضلع آواران میں امدادی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں، سیکریٹریز محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے آواران پہنچے ہیں علاقہ مکینوں کے مطابق مون سون بارشوں سے قدرتی چراہ گاہیں بحال ہوگئی ہیں۔

    چرواہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جانوروں میں بیماریوں کے تدارک کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے۔

    واضح رہے کہ بلوچستان تاحال گزشتہ دنوں شدید بارشوں سے ہونے والی تباہی سے تاحال نہیں نکل سکا ہے، ایسے میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام سست روی کاشکار ہے چمن، پشین، قلعہ عبداللّٰہ، قلعہ سیف اللّٰہ، ہرنائی، زیارت میں متاثرین مسائل کا شکار ہیں۔

    بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی مشکلات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئیں ہیں انتظامیہ سیلاب متاثرین سے شناختی کارڈ دکھانے کا کہہ رہی ہے جبکہ متاثرین کا سب کچھ سیلاب میں بہہ گیا ہے، لوگ انتظامیہ کے ہتک آمیز سلوک کی شکایت کر رہے ہیں۔

    پنجاب، خیبرپختونخوا اورسندھ کےمختلف علاقوں میں آج بھی بار شوں کی پیشگوئی

    بلوچستان کا ضلع لسبیلہ ایسا خطہ ہے، جہاں آبادی دور دراز اور میلوں کے فاصلے پر واقع ہے، سیلاب کی تباہ کاریوں سے بدحال لوگوں کو امداد ملنے میں دشواریوں کا سامنا رہاپانی میں ڈوبے گھروں کا سامان بہہ چکا، شناختی کارڈ اور دیگر سامان بھی باقی نہ رہا، سوال یہ ہے کہ اب انتظامیہ کی شرط کیسے پوری کی جائے؟

    متاثرین کا کہنا ہے کہ قدرتی آفات سے متاثرہ خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت اور مقامی انتظامیہ کا فرض ہے کہ ان کے بےجا مطالبات کی بجائے ان کے زخموں پر مرہم رکھے اور نقصانات کا ازالہ کرے۔

    کراچی: پولیس افسران بھی ڈاکوؤں کے نشانے پر، اسسٹنٹ کمشنر کو اسلحے کے زور پر لُوٹ لیا گیا

  • بلوچستان کے ڈاکٹروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے:ڈاکٹر تنظیمیں

    بلوچستان کے ڈاکٹروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے:ڈاکٹر تنظیمیں

    کوئٹہ :بلوچستان کے ڈاکٹروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے:اس حوالے سے کوئٹہ میں ڈاکٹر تنظمیوں نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویڈیو کوئٹہ کے نہیں بلکہ برازیل کے کسی اسپتال کی ہے۔

    کوئٹہ میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر ڈاکٹر آفتاب کاکڑ، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور پیرامیڈیل اسٹاف کےعہدیداروں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کو سازش کے تحت کوئٹہ کے ڈاکٹروں کے ساتھ منسوب کیا گیا۔

    لوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 176ہو گئی

    شرکاء کا موقف تھا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان نے بھی بغیر انکوائری کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے جو قابل مذمت ہے۔

    عہدیداروں کا کہنا تھا کہ چند دن پہلے بھی کوئٹہ کے نجی اسپتال میں ایک واقعہ رونما ہوا تھا جس میں ایک ذہنی مرض میں مبتلا خاتون نے ڈاکٹر پر دوران علاج نازیبا حرکت کرنے کا الزام لگایا تھا جو بعد میں غلط ثابت ہوا۔

    بلوچستان کےعوام فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں:ترجمان فرح شاہ

    انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرتنظمیوں نے واقعے کی تحقیقات کی اور اسپتال کی سی سی ٹی وی ویڈیوز بھی دیکھی ہیں،ایف آئی اے کا سائبرکرائم سیل بھی واقعے کی تحقیقات کررہا ہے، خاتون نے بعد میں معافی بھی مانگی ہے لیکن سازش کے تحت جعلی ویڈیو بناکر بلوچستان کے ڈاکٹروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی،جاں بحق افراد کی تعداد 166ہوگئی

    ڈاکٹرتنظیموں نے مطالبہ کیا کہ ایف آئی اے اور دیگر حکومتی ادارے واقعے کی تحقیقات کریں اور جعلی ویڈیو کو وائرل کرنے میں ملوث افراد کو گرفتارکرکے سخت سزا دی جائے۔

  • بلوچستان کےعوام فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں:ترجمان فرح شاہ

    بلوچستان کےعوام فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں:ترجمان فرح شاہ

    کوئٹہ: بلوچستان حکومت کی ترجمان فرح عظیم شاہ نے کہا ہے کہ ہم سوشل میڈیا کی جنگ پر غیر ملکی سازش کا آلہ کار بن چکے ہیں، ملکی سالمیت پر ہماری زبانیں بند کی جائیں۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان حکومت کی ترجمان فرح عظیم شاہ نے کہا کہ سوشل میڈیا کی جنگ پر ہم غیر ملکی سازش کا آلہ کار بن چکے ہیں۔ اگرچہ ہم محب وطن ہیں لیکن ہم سب پاکستانی ہیں اور وطن سے محبت کرتے ہیں۔

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 176ہو گئی

    فرح شاہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ یہ رنجشیں بھلا کر متحد ہونے کا وقت ہے، مل کر غیر ملکی سازش کو شکست دیں، پاکستان توڑنے کی سازش کی جارہی ہے، وزیراعلیٰ تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں۔ . کرنا چاہتے ہیں

    پنجاب،مشرقی اور جنوبی بلوچستان میں بارش کا امکان

    انہوں نے کہا کہ کوئی پاکستان کے اداروں پر انگلی اٹھانے کو برداشت نہیں کرے گا، پاک فوج کے ہیروز کے لیے ہماری جانیں قربان ہیں، کور کمانڈر جنرل سرفراز انسانیت کی مثال تھے۔

    ناراض بلوچ بھائی اسلحے کے بل پر مسئلہ حل کرنا چاہیں گے تو بھول جائیں، ترجمان

    ترجمان بلوچستان حکومت کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، پاک فوج ہماری قومی سلامتی کی ضامن اور نظریاتی سرحد کی محافظ ہے۔

  • بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی،جاں بحق افراد کی تعداد 166ہوگئی

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی،جاں بحق افراد کی تعداد 166ہوگئی

    بلوچستان میں سیلاب اور بارشوں سے مزید2افراد جاں بحق ،تعداد166ہوگئی ہے-

    باغی ٹی وی : پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں بارشوں سے مختلف حادثات میں 75افراد زخمی ہوئے،بلوچستان بارش کے باعث 15ہزار 337مکانات کو نقصان پہنچا ،بلوچستان بارشوں اور سیلاب سے 23 ہزار 13 مویشی ہلاک ہوئے-

    پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں سیلاب اور بارشوں سے2 لاکھ ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئیں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ریلیف کی سرگرمیاں جاری ہیں ،بلوچستان میں ریلیف سرگرمیوں میں انتظامیہ ، پاک فوج ، بحریہ اور ایف سی سرگرم ہیں-

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ملک کےبیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا،آزادکشمیر، پنجاب، خیبرپختونخوا،گلگت بلتستان اوربلوچستان میں بارش کا امکان ہے،اسلام آباد میں رات کے دوران تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے-

    محکمہ موسمیات کےمطابق خضدار،بو لان، کو ہلو، قلات، لسبیلہ، زیارت اور بارکھان میں بارش کا امکان ہے ،خطہ پوٹھوہار، گوجرانوالہ، لاہور، سا ہیوال، اوکا ڑہ اور سیالکوٹ میں بارش متوقع ہے،نارووال اورمنڈی بہاؤالدین میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق میرپور خاص میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش متوقع ہے دیر، چترال، سوات، مانسہرہ، مردان، کوہاٹ،بنوں ،مالا کنڈ، خیبراورکرم میں بارش کا امکان ہے-

  • وزیراعظم کا ریسکیوکے اقدامات کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کرنے کا حکم

    وزیراعظم کا ریسکیوکے اقدامات کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کرنے کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو، ریلیف اوربحالی کے اقدامات کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کرنے کا حکم دیا ہے

    حکام کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت کے تعاون سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں تیزی لائی گئی ہے، دیگر صوبوں کی حکومتوں کے تعاون سے اقدامات کئے جا رہے ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے متعلقہ حکام کو بلوچستان میں خاص طور پر بولان، کوئٹہ، ژوب، دکی، خضدار، کوہلو، کیچ، مستونگ، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ اور سبی جیسے علاقوں میں امدادی رقوم کی تقسیم کا عمل تیز کر نے کی ہدایت کی گئی ہے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے متاثرین کی امداد کا عمل مربوط، موثر اور تیز بنایا جائے، سیلاب متاثرین ہم سب کی طرف دیکھ رہے ہیں، کوتاہی برداشت نہیں کروں گا، متاثرین کو خوراک، ادویات اور رہائش کی سہولیات یقینی بنائیں

    سیلاب سے ہونے والے نقصان کے سرکاری اعداد وشمارجاری

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    ملک میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    وزیراعظم نے یکساں انداز میں ملک بھر میں سیلاب متاثرین کی بھرپور مدد کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں صفائی، بروقت سپرے کے انتظامات کئے جائیں تا کہ ڈینگی اوردیگر وباؤں سے بچا جاسکے متاثرین کو پینے کے پانی کی فراہمی کےلئے مؤثر اقدامات کریں تاکہ لوگوں کو پیٹ کے امراض سے بچایا جاسکے بلوچستان کے متعلقہ علاقوں میں خوراک، میڈیکل کیمپ اور شیلٹر کا بندوبست کر دیا گیا ہے

  • پنجاب،مشرقی اور جنوبی بلوچستان میں بارش کا امکان

    پنجاب،مشرقی اور جنوبی بلوچستان میں بارش کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں موسم گرم رہے گا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے پنجاب،مشرقی اور جنوبی بلوچستان میں بارش کا امکان ہے ،آزادکشمیر، خیبرپختونخوا اورگلگت بلتستان میں بارش کا امکان ہے-

    پنجاب، خیبرپختونخوا، کراچی سمیت مختلف علاقوں میں بارش کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر، کرم، وزیرستان،ٹا نک، کرک، لکی مروت، خیبر، اور کز ئی اورڈیرہ اسماعیل خان میں بارش کا امکان ہے ، دیر، چترال، سوات، مانسہرہ، مردان، کوہاٹ، پشاور، بنوں اورمالا کنڈ میں بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق جیکب آباد، دادو ، جام شورو اورکراچی میں چند مقامات پر تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا امکان ہے ،ملتان، ڈی جی خان، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، سرگودھا ، منڈی بہاولدین اور میا نوالی میں بارش متوقع ہے –

    محکمہ موسمیات کے مطابق خطہ پوٹھوہار،خو شاب،گوجرانوالہ، لاہور، سا ہیوال، اوکا ڑہ اوربھکر میں بارش کا امکان ہے مو سٰی خیل، قلعہ سیف اللہ، کوئٹہ ، لورا لائی، بارکھان میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے ژوب، خضدار،بو لان، سبی، کو ہلو، قلات، لسبیلہ اور زیارت میں بارش کا امکان ہے-

    چندہ دینے والے افراد کو پتا ہی نہیں تھا کہ ان کا پیسہ چیریٹی کے بجائے پی ٹی آئی…

    دوسری جانب پی ڈی ایم اے نے بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی-

    پی ڈی ایم اے کے مطابق ایک لاکھ 98 ہزار 461 ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں، سولر پلیٹس، ٹیوب ویلزکو نقصان پہنچا بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے23 ہزار 13 مویشی مر چکے ہیں ،بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے 6 شاہراہیں ،16 پل شدید متاثر ہوئے-

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے13 ہزار 975 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ مختلف حادثات میں 74 افراد زخمی ہوئے،بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سےمزید 15افراد جاں بحق، تعداد 164 ہوگئی جاں بحق افراد میں 67 مرد، 43 خواتین اور 54 بچے شامل ہیں-

    دوسری جانب محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب نے آج کا ائیر کوالٹی انڈیکس جاری کردیا،محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے مطابق ٹاون ہال لاہور میں ائیر کوالٹی انڈیکس 85 ریکارڈ کیا گیا ،ٹاون شپ سیکٹر ٹو میں ائیر کوالٹی انڈیکس155ریکارڈ کیا گیا –

    گرین فورٹ ٹو،لاہور میں ائیر کوالٹی انڈیکس157 ریکارڈ کیا گیا ،محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے مطابق تمام ڈیٹا چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر مرتب کیا گیا-

    غیر ملکی فنڈنگ لینے والی سیاسی جماعت کا وجود برقرار نہیں رہ سکتا،الیکشن ایکٹ

  • ہیلی کاپٹر حادثہ،کور کمانڈر سمیت چھ افسران شہید، ڈی جی آئی ایس پی آر کی تصدیق

    ہیلی کاپٹر حادثہ،کور کمانڈر سمیت چھ افسران شہید، ڈی جی آئی ایس پی آر کی تصدیق

    ہیلی کاپٹر حادثہ،کور کمانڈر سمیت چھ افسران شہید، ڈی جی آئی ایس پی آر کی تصدیق

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کے حوالہ سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد شہید ہو گئے ہیں، اللہ تمام افسران کی شہادت قبول کرے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ خراب موسم کی وجہ سے ہوا، واقعہ کی مزید تحقیقات ہونے کے بعد تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی کاپٹر میں کور کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد اور 12 کور کے انجینیئر بریگیڈیئر خالد سوار تھے ہیلی کاپٹر میں سوار افراد میں پائلٹ میجر سعید، معاون پائلٹ میجر طلحہٰ اورکریو میں چیف نائیک مدثر بھی شامل تھے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بریگیڈ یئر امجد حنیف کی بطور میجر جنرل ترقی کی منظور ی ہوچکی تھی شہید ڈی جی کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد حنیف کا راولا کوٹ سےتعلق تھا میجرجنرل امجد حنیف نے سوگواران میں بیوہ، بیٹی اور2 بیٹے چھوڑے ،کمانڈر انجینئر 12 کور شہید بریگیڈئیرمحمد خالد کافیصل آباد سےتعلق تھا،بریگیڈئیرمحمد خالد نے سوگواران میں بیوہ،3 بیٹیاں اور3 بیٹے چھوڑے،

    قبل ازیں دوسری جانب خضدار پولیس نے کورکمانڈر کوئٹہ کے ہیلی کاپٹر کا ملبہ ملنے کی تصدیق کردی ہے، نجی ٹی وی کے مطابق ڈی آئی جی خضدار نے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کا ملبہ ملنے کی تصدیق کی اور کہا کہ ہیلی کاپٹر کا ملبہ سسی پنوں مزار کے قریب موسیٰ گوٹھ سے ملا ہے ہیلی کاپٹر کا ملبہ کراچی سے 45 کلو میٹر دورعلاقے سے ملا ہے جو موسیٰ گوٹھ کے قریب درے گئی پہاڑی سلسلہ ہے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ہیلی کاپٹر لاپتہ ہونے کے بعد پاکستانی قوم کی جانب سے افواج پاکستان کے جوانوں کی سلامتی کے لئے دعائیں جاری تھیں

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرمی چیف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے اور بلوچستان ہیلی کاپٹر حادثے کے شہداء کیلئے اظہار افسوس کیا ہے، صدر مملکت نے ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے فوجی افسران اور جوانوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے صدر مملکت نے شہداء کیلئے بلندی درجات کی دعا کی، ان کے اہل خانہ کیلئے اظہارہمدردی بھی کیا صدر مملکت نے ملک و قوم کیلئے شہداء کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ قوم کے فرض شناس بیٹے بلوچستان میں سیلاب سے متعلق امدادی کاموں میں مصروف تھے، شہداء نے اپنے فرض کی ادائیگی اور قوم کی خدمت کیلئے انتہائی جانفشانی، محنت اور لگن سے کام کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا، بے لوث خدمت کے جذبے سے سرشار یہ سپوت قوم کے محسن ہیں،صدر مملکت نے اپنے دورہ گوادر کے دوران کور کمانڈر لیفٹنٹ جنرل سرفراز علی سے ملاقات اور بریفنگ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بریفنگ کے دوران میں نے کورکمانڈر لیفٹنٹ جنرل سرفراز علی کو انتہائی قابل، ذہین اور فرض شناس افسر پایا،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ امدادی سرگرمیوں کے دوران خراب موسم کی وجہ سے حدِ نگاہ کم ہوئی جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹر کو حادثہ درپیش آیا،ہیلی کاپٹر کا ملبہ حاصل کرلیا گیا ہے اور تمام فوجی افسران و جوان جام شہادت نوش کرچکے ہیں،صدر مملکت نے گفتگو میں شہداء کے جنازے میں بنفسِ نفیس شرکت کرنے اور اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرنے کا بھی ذکر کیا

    آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر سسی پنوں کے قریب تباہ ہو گیا.

    وزیراعظم نے آرمی ایوی ایشن کے لاپتہ ہیلی کاپٹر سے متعلق تازہ ترین معلومات حاصل کیں

  • شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ،مکانات کی تباہی کا خدشہ

    شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ،مکانات کی تباہی کا خدشہ

    کوئٹہ:شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ آیا ہے ،سیلاب کے بعد بلوچستان کے ساحل سمندرکے قریب زلزلہ کے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے ہیں۔لوگوں پرخوف کے سائے ہیں ،اطلاعات ہیں کہ اس زلزلے میں پانی میں گھرے ہوئے مکانات کے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 ریکارڈ کی گئی جس کی گہرائی زیرزمین 60 کلومیٹرتھی، زلزلے کا مرکز پسنی کے قریب آف کوسٹل ایریا تھا، 10 منٹ کے وقفے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کی شدت 5.0 ریکارڈ کی گئی۔

    زلزلے کے جھٹکے گوادر اور بلوچستان کی دیگر ساحلی پٹی پر بھی محسوس کیے گئے، فوری طور پر زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم زلزلے کے جھٹکوں کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع اس وقت سیلاب کی لپیٹ میں ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

    بارشیں اور سیلاب سے بلوچستان میں حالات خراب، ہر طرف تباہی، سیکڑوں مکانات زمین بوس ہوگئے، متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں سیلاب سے تباہی پھیل گئی، جاں بحق افراد کی تعداد 127 ہوگئی، سیکڑوں مکانات زمین بوس ہو گئے اور 565 کلومیٹر شاہراہوں کو نقصان پہنچا، گیارہ پل سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے، متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

  • بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارش اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی جبکہ سیکڑوں مکانات بھی تباہ ہوگئے۔ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچنے سے پاک ایران مال بردار ٹرین سروس معطل کر دی گئی جبکہ قومی شاہراہ کو نقصان پہنچنے سے بلوچستان سے کراچی جانے والے پھل اور سبزیوں کی ترسیل بھی معطل ہوگئی۔

    متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی طبی امداد فراہم کرنے اور مواصلاتی ڈھانچے کو کھولنے کے علاوہ ریسکیو، امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اٹک، تربیلا، چشمہ اور گڈو کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ سندھ کے علاوہ تمام دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

    آئی ایس پی آر مردان میں سب سے زیادہ 133 ملی میٹر اور مہمند میں 85 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مردان میں پانی نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔ ضلع مہمند کے مقامی نالوں میں سیلاب کی اطلاع ملی ہے۔ سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں اضلاع میں میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں۔

    جھل مگسی گندھاوا کا مکمل رابطہ بحال کر دیا گیا ہے۔گندھاوا اور گردونواح میں آرمی میڈیکل کیمپ میں 115 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ خضدار ایم-8 اب بھی منقطع ہے۔ رابطے کی بحالی پر کام جاری ہے جبکہ حافظ آباد میں سی ایم ایچ خضدار اور ایف سی کی جانب سے لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 145 متاثرہ افراد کا علاج کیا گیا۔ باباکوٹ اور گندھا کی متاثرہ آبادی کے لیے بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب متاثرین میں راشن اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا۔ گندکھا میں فیلڈ میڈیکل کیمپ میں مختلف مریضوں کا علاج کیا گیا۔چمن میں بارش نہیں ہوئی۔ باب دوستی مکمل طور پر فعال ہے۔ نوشکی پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔پکا ہوا کھانا 1000 سے زیادہ لوگوں کو دیا گیا ہے۔ 3 مقامات پر تباہ ہونے والے این-40 کی مرمت کر کے ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔ لسبیلہ علاقے میں بارش نہیں ہوئی۔ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے.گوادر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے حب اور اتھل کا دورہ کیا۔ قراقرم ہائی وے میں سکندر آباد کے قریب 2 مٹی تودے گرنے کی اطلاع تھی۔ ایف ڈبلیو او کی جانب سے سڑک کو یک طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    بلوچستان کے اکثر علاقوں میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی ریلوں سے بیشتر رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔

    صوبے بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے پیش آنے والے حادثات میں ساڑھے 13 ہزار مکانات متاثر ہوئے ہیں جبکہ بجلی کے 140 کھمبے گر چکے ہیں۔ کوئٹہ میں انگوروں کے باغات تباہ ہو گئے، ضلع واشک میں سیلابی ریلہ پیاز سے بھری بوریاں بہا کر لے گیا۔

    محکمۂ موسمیات نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آج بھی موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر دی۔
    کوئٹہ، ژوب، زیارت، موسیٰ خیل، قلعہ عبداللّٰہ، پشین، بارکھان میں آج بادل برس سکتے ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش ژوب میں 45 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔تاریخ رقم کرنے والا مون سون کا چوتھا اسپیل بلوچستان کے جنوب مشرق اور وسطی علاقوں میں تباہ کاریوں کا باعث بن رہا ہے۔

     

    سکھر بیراج سے مزید 12 لاشیں برآمد

     

     

    شمال میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع قلعہ سیف اللّٰہ کے دور افتادہ علاقے اور بلوچستان کے بلند ترین مقام کان مہتر زئی میں نظامِ زندگی مفلوج ہو گیا۔پہاڑوں پر زندگی گزارنے والے حالات سے مجبور ہو کر شہروں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

     

    سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

     

     

    بلوچستان میں بارشوں اور ڈیموں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی، دشتگور انکی ندی سے تین بچیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی.

    بارشوں اور مختلف واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد میں 45 مرد، 32 خواتین جبکہ 38 سے زائد بچے شامل ہیں، جن میں سے بیشتر سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے، اس کے علاوہ ہزاروں مویشی بھی سیلابی ریلے میں بہہ کر ہلاک ہوگئے۔وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ متاثرین کے نقصان کا ازالہٰ اور انکی جلد از جلد بحالی کی جائے گی۔

    بلوچستان کے سابق وزیراعلی نواب اسلم رسانی نے موٹر سائیکل پراپنے حلقہ میں سیلاب اور بارشون سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے.

    علاوہ ازیں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں 43 مرد، 7 خواتین اور گیارہ بچے شامل ہیں۔جھل مگسی، قلعہ عبداللہ، نوشکی، مستونگ سمیت دیگر علاقے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ہیں، جہاں سیلابی ریلوں کی تباہی سے سیکڑوں گھر ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں اور مقامی شہری بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔

    دوسری جانب لک پاس کے قریب واقع ڈیم ٹوٹنے کے باعث کوئٹہ تفتان شاہراہ زیرآب گئیں، جس کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بارش اور سیلاب سے بلوچستان میں 2 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوگئی جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ 15 پُل متاثر ہوئے، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا متعلقہ اداروں کے ہمراہ ریسکیو آپریشن جاری جاری ہے جبکہ پانچ میڈیکل کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ سیلابی ریلے میں دالبندین کے قریب ریلوے ٹریک بہہ گیا جس کے نتیجے میں پاک ایران ریلوے سروس کو بند کردیا گیا جبکہ باب دوستی سے پانی کی نکاسی کر کے اسے پیدل آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    مزید برآں ڈی جی پی ڈی ایم اے نےڈی جی خان ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا،ڈی جی پی ڈی ایم اے نے سیلاب سے جان بحق ہونے والے خاندانوں سے ملاقات کی اورلواحقین سے اظہار تعزیت کیا،ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے عثمان خالد اور ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی ڈی جی پی ڈی ایم اے کےہمراہ تھے.

    ڈی جی پی ڈی ایم اے فیصل فرید کا کہنا تھا کہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر بہت افسوس ہوا،مشکل گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔سیلاب سے ڈی جی خان ڈویژن کو بہت نقصان ہوا،حکومت پنجاب کی جانب سے گھروں، فصلوں اور مویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی،میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جا رہی ہیں۔ سانپ کے کاٹنے سمیت دیگر ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب متاثرین میں خشک راشن،اور خیمہ جات کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ سیلاب کے پانی کا اخراج کافی حد ہو چکا،متاثرین کی گھروں میں شفٹنگ جاری ہے۔ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی خود مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز سے ریلیف کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے-

    ڈیرہ غازی خان ڈویژن اور میانوالی کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اےکمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان انور نے تونسہ شریف کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار جعفر خان بزدار،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو طیب خان،اے سی تونسہ اسد چانڈیہ اور دیگر دوران ہمراہ تھے ڈی جی خان نےسیلاب کی تباہی کاریوں کا جائزہ لیا۔ سیلاب متاثرین میں خیمے اور خشک راشن کے تھیلے تقسیم کئے۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر محمد عثمان انور نے کہا کہ مزید بارش نہ ہونے پر تین روز کے اندر ہر متاثرہ گھر تک امدادی سامان پہنچا دیں گے ۔امدادی سامان کی شفاف تقسیم کےلئے بستی سطح کی ٹیمیں تشکیل دے دیں ہیں۔سروے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں۔تخمینہ مکمل ہونے پر گھر اور فصلوں کا ازالہ کیا جائیگا
    سردار جعفر خان بزدار نے کہا کہ متاثرہ انفراسٹرکچر کی جلد بحالی ممکن بنائی جائے ۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سیلاب زدگان کے دکھ میں برابر کی شریک ہیں۔ہر متاثرہ فرد کی بحالی تک کام کرتے رہیں گے،کمشنر عثمان انور نے بستی چھتانی کا بھی دورہ کیا۔سیلابی ریلے میں جاں بحق افراد کےلئے فاتحہ خوانی اور لواحقین سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔

  • بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب اور طوفانی بارشوں سے متاثرہ عوام کے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے لئے دن رات کوششیں جاری ہیں۔ متاثرہ بہنوں، بھائیوں اور بچوں کی مکمل بحالی اور نقصانات کے ازالے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ، مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں انہیں تنہاءنہیں چھوڑیں گے۔ بلوچستان سمیت صوبائی حکومتوں سے مل کر متاثرین کی امداد اور بحالی کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

    وزیراعظم شہبازشریف بلوچستان کے سیلاب اور طوفانی بارشوں سے تباہی کا شکار جھل مگسی کے علاقوں اور ا س کے مضافاتی دیہات کے جائزے کے دوران متاثرہ عوام اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا۔ وزیراعظم گاﺅں شمبانی میں رکے اور سیلاب متاثرین عوام سے ملے اور ان کی شکایات سنیں۔ وزیراعظم کو اپنے درمیان موجود پاکر اور ان کے تسلی دینے پر متاثرین نے وزیراعظم زندہ باد کے نعرے لگائے اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں آج آپ کو یہ یقین دہانی کرانے آیا ہوں کہ وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو اوران کی صوبائی حکومت کے ساتھ ہم مل کر وفاقی حکومت آپ کی پوری مدد کریں گے۔ بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں متاثرین کی مدد کریں گے۔ جہاں جہاں جہاں نقصان ہوا ہے، وہاں ریلیف پہنچا رہے ہیں۔ ان شاءاللہ آپ کے ساتھ پوری پوری مدد کریں گے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ بارشوں سے پچھلے تیس سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ۔ ماضی نسبت اس مرتبہ کئی گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ تقریبا پورے پاکستان میں تقریبا 300 سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں 124 لوگ وفات پاگئے ہیں جن میں خواتین، مرد اور بچے شامل ہیںجبکہ بے شمار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ مالی معاوضہ جانی نقصان کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ زندگی بھر لوگ اپنے پیاروں کو ہمیشہ یاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ غم بھلایانہیں جاسکتا اور نہ ہی اس کی کوئی تلافی ہوسکتی ہے۔ لیکن بحرحال زندگی گزارنی ہے ۔ حکومت نے متاثرین کی امداد کے لئے حتی المقدورکوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کیلئے 10 لاکھ امداد فراہم کی جارہی ہے، زخمیوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ گھروں میں کچے اور پکے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات پر امداد کو یکساں اور بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ زخمیوں کی امداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کردیا ہے جبکہ جزوی طور پر متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ اور مکمل طور پر متاثرہ گھروں کیلئے 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کردی گئی ہے۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ فوری طور پر میڈیکل کیمپ قائم کیاجائے۔ ادویات اور ویکسین فراہم کی جائے۔ انہوں نے جانوروں کے علاج معالجے کے لئے ویٹنری ڈاکٹروں کی ٹیم بھی فوری بھجوانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے علاقے میں مزید کشتیاں اور راشن کے تھیلے فراہم کرنے کابھی حکم دیا۔ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے متاثرہ گاﺅں اور اس کے مضافات میں متاثرین کی مدد کے لئے ٹیمیں روانہ کردی ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں کے دورے پر آیا ہوں جہاں سیلابی پانی نے تباہی مچائی ہے۔ دیہات بری طرح متاثر ہوئے ہیں، آبادی کے علاوہ مال مویشی اور املاک کا بھی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی میں جھل مگسی کے ایک گاﺅں سے ہوکر آیا ہوں۔ اس گاﺅں میں آٹھ سے 10 فٹ تک پانی آیا تھا۔ علاقہ مکینوں نے بتایا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ یہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ویسے بھی جھل مگسی میدانی علاقہ ہے جانی نقصان زیادہ نہیں ہوا۔ البتہ گھروں، مال مویشی کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، ژوب لورالائی، لسبیلیہ سمیت دیگر علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور ان کی حکومت کے ساتھ مل کردن رات بھرپور کام کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کرمتاثرین کی فوری مدد اور بحالی کے لئے کوششیں جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہاکہ تین چار روز قبل سیلاب اور بارش سے متاثرین اور ان کے نقصانات کے ازالے کے جائزے اور اقدامات کے حوالے سے اسلام آباد میں اجلاس منعقد کیا تھا جس میں وزرا اعلی اور چیف سیکریٹریز موجود تھے۔ عوام نے خیرمقدم کیا۔ قبل ازیں ہفتے کی صبح وزیراعظم بلوچستان کے لئے روانہ ہوئے ۔ علی الصبح موسم کی خرابی کی وجہ سے ان کی روانگی موخر ہوئی تھی تاہم وزیراعظم کی ہدایت پر موسم بہتر ہوتے ہی وہ بلوچستان کے لئے روانہ ہوگئے۔

    وزیراعظم شہبازشریف جیکب آباد پہنچے تو ’نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی‘ (این ڈی ایم اے) کے حکام اور چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز اوقلی نے بریفنگ دی جس کے بعد وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے لئے جھل مگسی روانہ ہوئے۔ وزیراطلاعات مریم اورنگزیب، سردار خالد مگسی، سینیٹر مولاناعبدالغفور حیدری، وزیرہاوسنگ مولانا عبدالواسع ، وزیرمملکت پاور محمد ہاشم نوتیزئی ، معاون خصوصی سید فہد حسین اور چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔