Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • مون سون بارشیں،سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں داخل

    مون سون بارشیں،سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں داخل

    بلوچستان میں مون سون بارشوں سے مختلف حادثات میں اب تک 69 افراد جاں بحق جبکہ 432 مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بلوچستان سمیت ملک کے بیشتر حصے میں مون سون کی طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے حکومت بلوچستان نے بارشوں سے متاثرہ 9 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ مشرقی بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں رابطہ سڑکیں متاثرہوئی ہیں جبکہ شہریوں کو بارش میں بلوچستان پنجاب بارڈرشاہراہ استعمال کرنے سے اجتناب کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    کوہ سلیمان اور فورٹ منرو میں بارش کے بعد سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں داخل ہوگئے اور سوناری پل کا ایک حصہ دوبارہ سیلابی ریلےمیں بہہ گیا۔

    اس کے علاوہ کوہلو کا کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ مچھ میں سیلابی صورتحال برقرار ہے اور مچھ پل بہہ جانے سے آمدورفت بھی معطل ہے۔

    دوسری جانب کراچی کے مختلف علاقوں میں صبح سویرے بارش سے موسم خوشگوار لیکن شہر کی بعض سڑکوں اور پلوں پر پانی جمع ہو گیا لاڑکانہ، میرپورخاص اور گرد و نواح میں بھی صبح سویرے ہونے والی بارش کے بعد گرمی کی شدت کچھ حد تک کم ہوگئی۔

    حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں درخت گرنے سے 11 کلو واٹ کی تاریں ٹوٹ گئیں جس کے باعث کئی گھنٹے سے بجلی کی فراہمی معطل ہے اور شدید گرم موسم کے باعث شہری دوہری اذیت میں مبتلا ہیں۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارش کے سسٹم کی شدت اب بھی بر قرار ہے، سندھ کے مختلف مقامات پر اس سسٹم نے اچھی بارش برسائی ہے، سسٹم 18 جولائی تک سندھ پر اثر انداز رہے گا۔

    بلوچستان میں سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے امداد کی فراہمی جاری ہے ،این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب زدگان کیلئے مزید ایک ہزار رہائشی خیمے فراہم کر دیئے ہیں ،اس سے قبل پی ڈی ایم اے نے بلوچستان کو 300 رہائشی خیمے مہیا کئے تھے،خیمے پی ڈی ایم اے بلوچستان کے حوالے کر دئیے گئے-

    محکمہ موسمیات نے آج سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر میں بارش کی پیشگوئی بھی کی ہے لاہور میں جزوی طور پر مطلع ابرآلود رہے گا –

  • زیارت سے اغوا سیاحوں کی تلاش کیلئے آپریشن جاری

    زیارت سے اغوا سیاحوں کی تلاش کیلئے آپریشن جاری

    زیارت سے اغوا سیاحوں کی تلاش جاری

    بلوچستان کے ضلع زیارت سے دو سیاحوں کو نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا گیا

    سیاح فیملی کے ہمراہ زیارت جارہے تھے ورچوم کے قریب نامعلوم کار سوار فیملی کو چھوڑ کر سیاحوں کو اپنے ہمراہ نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔ بازیابی کےلئے آپریشن جاری ہے

    وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے زیارت کے علاقے ورچوم سے سیاحوں کے اغواء کے واقعہ کا نوٹس لے لیا اور وزیراعلئ نے محکمہ داخلہ اور ضلعی انتظامیہ سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی وزیراعلئ نے سیاحوں کی باحفاظت بازیابی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی، وزیراعلی نے زیارت سمیت صوبے کے تمام سیاحتی مقامات پر حفاظتی مزید موثر بنانے کی ہدایت کر دی

    کیا میں نے کوئی قتل کیا کوئی جوا خانہ بنایا؟ احسن اقبال کا عدالت میں بیان

    نیب کی غفلت سے میرا بازو مستقل ٹیڑھا ہو گیا، احسن اقبال نیب اور حکومت پر برس پڑے

    صوبائی مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے سیاحوں کے ورچوم سے اغواء ہونے والے افراد کا نوٹس لے لیا ہے ،مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کی ملاقات کر کے پولیس اور متعلقہ اداروں کو سیاحوں کی جلد بازیابی کی ہدایت کی اور کہا کہ معاملے کے حل تک انتظامیہ کوچین سے نہیں بیٹھنے ديں گے۔ اس طرح کے واقعات باعث تشویش ہے ۔صوبے کے امن وامان کو خراب کرنے کی ایک بار پھر کوشش کی گئی ہےبہت جلد اس معاملے کو انشاء اللہ حل کریں گے ۔اغواء کاروں کی تلاش میں آپریشن جاری ہے

    علاوہ ازیں کوئٹہ کے دارالامان سے تین لڑکیاں لاپتہ ہوگئیں ،کوئٹہ بروری کے دارالامان سے تین لڑکیاں لاپتہ ہوگئیں لاپتہ 2 لڑکیوں کا تعلق کوئٹہ اور ایک کی زیارت سے ہے پولیس نے دارالامان کی وارڈان کو حراست میں لے لیا دارالامان محکمہ سماجی بہبود کے زیرنگرانی قائم ہے پولیس کے مطابق لاپتہ لڑکیوں کے تلاش جاری ہے

  • بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے تباہی

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے تباہی

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں بارشوں نے تباہی مچادی۔

    باغی ٹی وی : وندر، اوتھل، لاکھڑا اور بیلہ کی ندی نالوں میں طغیانی سے متعدد کچے مکانات گرگئے، وندر ندی سے اونچےدرجےکا ریلا گزرا جس سے 2 دیہات زیر آب آ گئے جب کہ سیلابی پانی سے مزید گو ٹھ ڈوبنے کا خدشہ ہے۔

    فوج کے دستے اور رینجرز اہلکار کراچی میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف

    ڈپٹی کمشنر کے مطا بق وندرندی کےقریب رہائشیوں کو محفوظ مقام پرمنتقل کر دیا گیا ہے تاہم سیلاب سے5 دیہات متاثر ہوئے ہیں سانول گوٹھ میں 80 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا اور سیلاب متاثرہ 200 گھرانوں کو ہائی اسکول وندر کیمپ میں رکھا گیا ہے۔

    سیلابی صورتحال سے سیکڑوں افراد متاثر ہوئے جب کہ بیلہ کی پورالی ندی میں طغیانی سے تھرڑا بند اور اوتھل میں آہورہ بند ٹوٹ چکے ہیں۔

    دوسری جانب کراچی میں مسلسل چوتھے روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا، دوپہرسے شروع ہونے والی اس موسلا دھار بارش سے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ندیوں میں پانی کا بہاﺅ تیز ہوگیا، ملیر میمن گوٹھ کے بعد گڈاپ ندی میں بھی طغیانی ہے۔

    عوام کے تحفظ اور مدد کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے،وزیر اعظم

    کراچی میں غیر معمولی بارشوں سے پیدا صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں کرا چی، بالخصوص جنوبی علاقوں میں گزشتہ 6-8 گھنٹوں کے دوران شدید بارش ہوئی-

    کراچی کے چند علاقوں میں 106 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی گجر، اورنگی اور محمود آباد سمیت تمام نالوں سے بارش کے پانی کی نکاسی جاری ہے-

    کراچی میں اربن فلڈنگ کی صورتحال ہے شہر کے نشیبی علاقوں سے نکاسی آب کا کام جاری ہے سول انتظامیہ، پاک فوج اور رینجرز کہ 388 ٹیمز مسلسل۔نکاسی آب میں مصروف ہے کراچی کے بڑے برساتی نالوں میں پانی کا بہائو عروج پر ہے برساتی نالوں میں پانی کی انتہائی سطح کے بعد ڈی واٹرنگ سے ہی زیرآب علاقوں کو کلئیر کیا جا سکتا ہے-

    بارش نے ایک بار پھر کراچی کے انفراسٹرکچر کی خامیوں کا پول کھول دیا،ایم کیو ایم…

  • سابق وزیرداخلہ سرفرازبگٹی کے قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکا

    سابق وزیرداخلہ سرفرازبگٹی کے قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکا

    کوئٹہ :بلوچستان کے سابق وزیرداخلہ سینیٹر سرفراز بگٹی کے قافلے کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکا ہوا ہے، دھماکے میں گارڈ زخمی ہوگیا، جبکہ سینیٹر سرفراز بگٹی دھماکے میں محفوظ رہے۔

    ذرائع کے مطابق کشمور ڈیرہ بگٹی روڈ پرسینیٹر سرفراز بگٹی کے قافلے کے قریب دھماکا ہوا ہے، دھماکے میں سینیٹر سرفراز بگٹی دھماکے میں محفوظ رہے، دھماکا سرفراز بگٹی کی گاڑی گزرنے کے بعد ہوا، جس کے باعث قافلے میں شامل دوسری گاڑی کو نقصان پہنچا اور ایک گارڈ زخمی ہوگیا ہے۔

    ڈی سی ڈیرہ بگٹی ممتاز کھیتران کا کہنا ہے کہ جس مقام پر دھماکہ ہوا وہ روجھان پور کا علاقہ ہے، ڈیرہ بگٹی کی انتظامیہ بھی موقع پر پہنچ رہی ہے۔بتایا گیا ہے سینیٹر سرفراز بگٹی عید منانے ڈیرہ بگٹی جا رہے تھے

    یاد رہے کہ اس سال کے آغاز میں بھی سرفرازبگٹی پرقاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے،یہ جنوری 2022 کا واقعہ ہے جب بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں موندرانی مٹ کے قریب دہشت گرد وں نے حملہ کیا ہے، بم دھماکے کے نتیجے میں 4 لیویز اہلکار شہید اور 9 افراد زخمی ہو گئے۔

    سابق وزیرِ داخلہ بلوچستان و سینیٹر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ شہید افراد میں ان کے کزن بھی شامل ہیں، بلوچ ریپبلکن آرمی کے دہشت گرد اس حملے میں ملوث ہیں۔

    سابق وزیرِ داخلہ بلوچستان، سینیٹر سرفراز بگٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت مذاکرات کے نام پر مذاق کر رہی ہے حالانکہ لوگوں کی مدد کرنا ریاست کی ذمے داری ہے۔

    ایسے ہی 2016 میں بھی سرفرازبگٹی پرحملہ ہوا تھا جس میں‌ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے قافلے پر دوبارہ قاتلانہ حملہ کیا گیا،جس میں سرفراز بگٹی محافظوں سمیت حملے میں محفوظ رہے۔ اس وقت صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی سوئی سے ڈیرہ بگٹی جا رہے تھے کہ گھات لگائے دہشت گردوں نے ان کے قافلے پر حملہ کردیا، خوش قسمتی سے صوبائی وزیر داخلہ محافظوں سمیت قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے، لیویز اور فورسز کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے

  • کورکمانڈرکوئٹہ بلوچستان میں‌ سیلاب اوربارشوں سے متاثرین کی مدد کوپہنچ گئے،پی ڈی ایم اے کا بھی دورہ

    کورکمانڈرکوئٹہ بلوچستان میں‌ سیلاب اوربارشوں سے متاثرین کی مدد کوپہنچ گئے،پی ڈی ایم اے کا بھی دورہ

    کوئٹہ :کورکمانڈرکوئٹہ بلوچستان میں‌ سیلاب کی صورتحال کومسلسل مانیٹرکررہےہیں،پی ڈی ایم اے کا بھی دورہ ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں‌ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا جائزہ لینے کیے لیے کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے آج PDMA بلوچستان کا دورہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق کور کمانڈر کو صوبے میں سیلاب کی صورتحال اور مختلف اداروں کی جانب سے جاری امدادی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیاگیا ۔

    اس موقع پر وزیر داخلہ/پی ڈی ایم اے، چیف سیکرٹری بلوچستان اور ڈی جی پی ڈی ایم اے نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور آبادی کو زیادہ سے زیادہ اور بروقت ریلیف فراہم کرنے پر سول انتظامیہ کو سیکورٹی فورسز کی مدد کو سراہا۔

    کور کمانڈرجنرل سرفراز علی نےاس موقع پر قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا اور جاری امدادی کارروائیوں میں صوبائی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کو سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    انہوں نے صوبے بھر میں ریلیف آپریشن کرنے والے تمام محکموں کی کوششوں کو بھی سراہا اور حوصلہ افزائی کی۔

     

    یاد رہےپی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں سے اب تک 60 سے زائد افراد جاں بحق، 78 افراد زخمی، 676مکانات اور 5 برج تباہ ہوئے۔بلوچستان سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ 400 سولر پلیٹس، الیکٹرک پول اور زرعی اراضی کو نقصان ہوا جبکہ برساتی نالوں، کاریزات اور آبی گزرگاہوں پر آباد کاری نقصان کی بڑی وجہ ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات اور متاثرین حکومتی امدادی سرگرمیوں سے مطمئن نہیں، اقدامات کے حوالے سے صرف بلند وبانگ اعلانات ہی ہورہے ہیں۔

    کراچی میں 24گھنٹوں میں کہاں کتنےبادل برسے؟تازہ ترین اعدادوشمارجاری

    دوسری جانب شمالی بلوچستان میں طوفانی بارش کا سلسلہ جاری ہے، کوژک ٹاپ اور شیلا باغ میں موسلادھار بارش ہوئی جبکہ کوئٹہ چمن شاہراہ سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہوگئی اور چمن کا ملک کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

    کشمور،گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ

    توبہ اچکزئی میں سیلابی ریلے تین ڈیم بہا لے گئے جبکہ قلعہ عبداللّٰہ کے چار چھوٹے ڈیمز میں بھی شگاف پڑگئے جس کے باعث پانی مکانوں میں داخل ہوگیا اور فصلوں اور باغات کو شدید نقصان پہنچا۔

  • سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    اسلام آباد:پاکستان کے صوبے سندھ اور بلوچستان میں جولائی کے مہینے میں مون سون کی بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

    وزارت موسمياتى تبدیلی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ بارش سندھ میں ہوئی جو معمول سے 61 ملی میٹر زیادہ تھی، جب کہ بلوچستان میں 39 ملی میٹر زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

     

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں 10.5 ملی میٹر، اور بلوچستان میں 6.9 ملی میٹر بارش ہوئی۔ آزاد جموں و کشمیر میں معمول سے تقریباً 10 ملی میٹر زیادہ بارشیں ہوئیں۔ گلگت بلتستان اور کشمیر میں معمول سے کم بارشیں ریکارڈ ہوئیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ملک میں معمول سے 28 ملی میٹر زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    دوسری جانب ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ آج بروز ہفتہ 9 جولائی سے 12 جولائی کے دوران پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔

    میٹ آفس کے مطابق آج اور کل اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور کے نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے، جب کہ گوجرانوالہ، سرگودھا، ساہیوال، فیصل آباد اور لاہور ڈویژن میں بارش متوقع ہے۔ موسلا دھار بارش کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی اور گوجرانوالہ ڈویژن کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، مسافر اور سیاح محتاط رہیں، دریاؤں اور نہروں میں نہانے اور نشیبی علاقوں میں گاڑیاں کھڑی کرنے سے گریز کریں۔

     

    پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ آج خضدار، قلات، چمن، دالبندین، مسلم باغ، لسبیلہ، پنجگور، آواران، خاران، ژوب، بارکھان میں بھی بارش کا امکان ہے۔دوسری جانب بدین کے مختلف دیہی علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے باعث 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    علاوہ ازیں بلوچستان کے شہر حب میں ریلے میں پھنسنے والی خواتین اور بچوں سمیت 29 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا، نورانی کراس پر ریلے گزرنے کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوگئی ہے۔

    شہر قائد میں تیز بارش کے باعث بدھ سے اب تک مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات میں 17 افراد جاں بحق ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق گارڈن شو مارکیٹ میں کرنٹ لگنے سے 20 سالہ رحمان نوجوان کی ہلاکت ہوئی جبکہ منگھوپیر میں کرنٹ لگنے 23 سالہ رقیب جاں بحق ہوگیا۔

    لانڈھی مانسہرہ کالونی میں گھر میں کرنٹ لگنے سے 38 سالہ خاتون جاں بحق جبکہ کورنگی مہران ٹاؤن میں کام کے دوران 25 سالہ عبدالخالق جاں بحق ہوا۔

    اس کے علاوہ نارتھ کراچی ارسلان ہومز میں ایک گھر کے اندر کرنٹ لگنے سے ایک بچہ بھی جاں بحق ہوا جس کی شناخت 13 سالہ مذمل ولد مظفر کے نام سے ہوئی ہے۔

    کورنگی میں 100 کواٹرز کے قریب گھر کے اندر پانی کی موٹر سے کرنٹ لگنے سے بزرگ شہری جان بحق ہوگیا جبکہ محمد علی سوسائٹی میں پی ایس او پمپ کے قریب بجلی کا کرنٹ لگنے سے 15 سالہ بچہ جان کی بازی ہار گیا۔

    ادھربلوچستان میں اب تک بارش سے 60 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ پی ڈی ایم اے نے مزید بارش کی پیشگوئی کردی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں مون سون بارش کا اسپیل 10 جولائی کے بعد بھی جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ عوام حکومتی سرگرمیوں سے نالاں ہیں۔

    کرونا وائرس: گزشتہ 24 گھنٹوں میں 7 مریض انتقال کرگئے

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں سے اب تک 60 سے زائد افراد جاں بحق، 78 افراد زخمی، 676مکانات اور 5 برج تباہ ہوئے۔بلوچستان سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ 400 سولر پلیٹس، الیکٹرک پول اور زرعی اراضی کو نقصان ہوا جبکہ برساتی نالوں، کاریزات اور آبی گزرگاہوں پر آباد کاری نقصان کی بڑی وجہ ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات اور متاثرین حکومتی امدادی سرگرمیوں سے مطمئن نہیں، اقدامات کے حوالے سے صرف بلند وبانگ اعلانات ہی ہورہے ہیں۔

    کراچی میں 24گھنٹوں میں کہاں کتنےبادل برسے؟تازہ ترین اعدادوشمارجاری

    دوسری جانب شمالی بلوچستان میں طوفانی بارش کا سلسلہ جاری ہے، کوژک ٹاپ اور شیلا باغ میں موسلادھار بارش ہوئی جبکہ کوئٹہ چمن شاہراہ سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہوگئی اور چمن کا ملک کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

    کشمور،گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ

    توبہ اچکزئی میں سیلابی ریلے تین ڈیم بہا لے گئے جبکہ قلعہ عبداللّٰہ کے چار چھوٹے ڈیمز میں بھی شگاف پڑگئے جس کے باعث پانی مکانوں میں داخل ہوگیا اور فصلوں اور باغات کو شدید نقصان پہنچا۔

  • بلوچستان میں طوفانی بارش سے تباہی،اموات میں اضافہ،670  مکانات کو پہنچا نقصان

    بلوچستان میں طوفانی بارش سے تباہی،اموات میں اضافہ،670 مکانات کو پہنچا نقصان

    بلوچستان میں طوفانی بارش سے تباہی،اموات میں اضافہ،670 مکانات کو پہنچا نقصان

    بلوچستان میں طوفانی بارش سے بڑی تباہی کئی افراد جان کی بازی ہار گئے بلوچستان میں پچھلے تین ہفتوں سے مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے

    بلوچستان 24 گھنٹے کے دوران مزید 7 افراد بارشوں سے جاں بحق ہو گئے ہیں ،اموات کی مجموعی تعداد 56 ہو گئی ہے، گزشتہ روز تک جاں بحق افراد میں 10 مرد، 22 خواتین اور 24 بچے شامل ہیں،بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 48 افراد زخمی ہوئے، بارشوں سے 670 مکانات کو نقصان پہنچا،بارش سے کوئٹہ، لورالائی، سبی، ہرنائی، دکی، کوہلو، بارکھان اور ژوب زیادہ متاثر ہوئے ہیں بلوچستان کے ضلع پنجگور میں بارش کے ںاعث کچے دیوار گرنے سے ملبے تلے تب کر چار بچے جانبحق ہوگئے۔

    چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی نے حالیہ بارشوں کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں ڈیمزاور کینالز کو پہنچنے والے نقصانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین سی ایم آئی ٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثر ہونے والے بندات کی فوری طور پر تحقیقات کریں اور بتایا جائے کہ نقصانات محض بارشوں کی وجہ سے ہوا ہے یا ان ڈیموں کی تعمیر میں نقائص موجود تھے انہوں نے کہا کہ نقائص کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا

    بلوچستان پنجاب شاہراہ مختلف مقامات پر بند ہوگئی ہے رابطہ پل بہہ جانے سے کوہلو سے کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج اور لیویز کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    مارگلہ ہلز میں آگ لگا کر ویڈیو بنانے والی خاتون ٹک ٹاکر کے 3 ساتھی گرفتار کر لئے گئے ہیں

  • ہرنائی میں بارشوں اور سیلاب کے باعث ایمرجنسی نافذ ،پنجاب شاہراہ ٹریفک کےلیے بند

    ہرنائی میں بارشوں اور سیلاب کے باعث ایمرجنسی نافذ ،پنجاب شاہراہ ٹریفک کےلیے بند

    بلوچستان :مون سون بارشیں، ہرنائی میں سیلاب کے باعث ایمرجنسی نافذ کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : ہرنائی میں بارش اور سیلابی ریلوں کے باعث پنجاب شاہراہ ٹریفک کےلیے بند کر دی گئی۔سیلابی ریلوں سے ہرنائی کوئٹہ شاہراہ کے دوبڑے رابطہ پل متاثر ہوئے۔

    لاہور،کراچی اوراسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے

    ہرنائی کےلیے بنائے گئے حفاظتی بند بھی سیلاب ریلوں سے متاثر ہوئے ہرنائی کے مرزا کلی ،لعل خان حفاظتی بند سیلاب میں بہہ گئے چھوٹے حفظاطتی بند کی ٹوٹنے سے سیلابی پانی ہرنائی میں داخل ہو گیا۔

    ہرنائی میں طوفانی بارشوں نے نظام زندگی تباہ کر دیا۔ سیلابی ریلے بجلی کے کھمبے بھی بہا کر لے گئے۔سیلابی پانی کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے سے ہرنائی کے کچے مکانات متاثر ہوئے۔

    ڈپٹی کمشنر نثار احمد مستوئی ،اسسٹنٹ کمشنر لیویز فورس نےمتاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ڈپٹی کمشنر ہرنائی کی جانب سے ضلع میں بارشوں اور سیلاب کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

    قبل ازیں کوئٹہ میں مون سون بارشوں سے ہونے والے نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی گئی تھی پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات کا کہنا تھا بارشوں سےاب تک 39 افراد جاں بحق ہوئے،جاں بحق ہونے والوں میں 10 مرد، 16 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 47 افراد زخمی ہوئے بارشوں سے سب سے زیادہ کوئٹہ، لسبیلہ، سبی،ہرنائی،دکی متاثر کوہلو ،بار کھان ،ژوب اور ڈیرہ بگٹی بھی بارشوں سے متاثر ہوئے مجموعی طور پر صوبے بھر میں 241 مکانات منہدم ہوئے ۔

    واضح رہے کہ خلیج بنگال سے ملک میں داخل ہونے والا مون سون سسٹم پنجاب، سندھ، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں وقفے وقفے سے بارشوں کا باعث بن رہا ہےمحکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشیں ہورہی ہیں اور یہ سلسلہ جمعرات کی صبح تک جاری رہے گا۔

    حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر) کی 23 ویں برسی

  • بلوچستان میں مون سون بارشوں سے تباہی،کوئٹہ آفت زدہ قرار، ایمرجنسی نافذ

    بلوچستان میں مون سون بارشوں سے تباہی،کوئٹہ آفت زدہ قرار، ایمرجنسی نافذ

    بلوچستان میں مون سون بارشوں سے تباہی،حکومت نے کوئٹہ کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کردی۔

    باغی ٹی وی : کوئٹہ میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے گذشتہ روز کوئٹہ میں مون سون کی بارشوں کے باعث صوبے کے ندی نالے بھر گئے پی ڈی ایم بلوچستان کی جانب سے کہا گیا ہےکہ چھتیں اور دیواریں گرنے سمیت مختلف حادثات میں 14 افراد جاں بحق ہو گئے اور متعدد زخمی ہیں۔

    شہروز کاشف اور فضل علی نانگا پربت سے واپسی پر لاپتہ

    جاں بحق افراد میں سے 6 کا تعلق کوئٹہ 3 کا تربت جبکہ خضدار اور قلعہ سیف اللہ میں مرنے والوں کی تعداد ایک ایک ہے سریاب مشرقی بائی پاس نواں کلی میں درجنوں مکانات زیر اب آگئے۔چالیس سے زیادہ خاندان بے گھر ہوگئے۔ ان علاقوں میں مال مویشیوں کو بھی نقصان پہنچاتھا۔

    بلوچستان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کےمطابق بارشوں کےباعث قلعہ سیف اللہ، ژوب، پشین، ہرنائی اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جبکہ مسلم باغ، قمرالدین اور خشنوب میں سیلابی صورتحال ہے خشنوب میں متعدد دیہات میں رات کو سیلابی ریلے داخل ہوئے جبکہ خشنوب میں رابطہ پل سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے ریسکیو اہلکاروں کو متا ثرین تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    پاکستان میں موسم کیسا رہے گا؟

    محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ایک ہفتے تک مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا پی ڈی ایم کے اعداد وشمار کے مطابق اس سال جون اور جولائی میں ہونے والے بارشوں سے اب تک صوبہ بھر میں 31 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں-

    اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق مسلم باغ سول اسپتال کے وارڈز اور ایمرجنسی میں پانی بھر گیا جبکہ مسلم باغ کے پہاڑی علاقوں میں بارشوں سے 100سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ کان مہترزئی، لوئی بند اور راغہ سلطان زئی میں رابطہ سڑکیں سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں۔

    چمن انتظامیہ کے مطابق بادی زئی اور تورخیل میں سیلابی ریلے سے 70 سے زائد مکانات متاثر ہوئے جبکہ طوفانی بارشوں کے باعث ہرنائی-پنجاب-لورالائی شاہراہ آمدورفت کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

    لیویز حکام کے مطابق افغان سرحدی علاقےقمرالدین میں والین ڈیم کاایک حصہ ٹوٹ جانے کے باعث ڈیم کا پانی نشیبی علاقوں میں داخل ہوا اور 11 گھر بہا لےگیا، قمرالدین کے متاثرین کو محفوظ مقامات پرمنتقل کردیا گیا ہےجبکہ لورا لا ئی کی پٹھان کوٹ ندی سے دو بچوں کی لاشیں ملی ہیں۔

    لیویز حکام کا کہنا ہے کہ قلعہ سیف اللہ، ژوب اور ہرنائی کے دور افتادہ علاقوں کی اکثر رابطہ سڑکیں متاثر ہیں اور کئی علاقوں میں ریسکیو سرگرمیوں میں دشواری کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب غذر کے گاؤں شیر قلعہ میں آسمانی بجلی گرنے سے ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 8 ہو گئی ڈپٹی کمشنر غذر کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ سے 3 افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کے دوران لاپتہ ہونے والے محکمہ برقیات کے 6 ملازمین محفوظ ہیں۔

    ڈی سی غذر کا بتانا ہے کہ گزشتہ روز گاؤں شیر قلعہ میں لینڈسلائیڈنگ سے متعدد مکانات اور 2 بجلی گھر سیلابی ریلے کی زد میں آگئے تھے لینڈ سلائیڈنگ سے محکمہ برقیات کے 6 ملازمین بھی لاپتہ ہو گئے تھے۔

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹی 20 سیریزکا انعقاد تین شہروں میں ہونے کا امکان

  • بلوچستان میں طوفانی بارشیں،3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ،متعلقہ ادارے الرٹ

    بلوچستان میں طوفانی بارشیں،3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ،متعلقہ ادارے الرٹ

    بلوچستان بھر میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، کوئٹہ میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق اور 20 سے زاید زخمی ہوئے ہو گئے۔ مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ڈیم کے قریب دو پچیاں برساتی پانی میں بہہ گئیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، کوئٹہ میں طوفانی بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے، نواحی علاقوں میں درجنوں کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے.کوئٹہ کے علاقے سریاب میں چھت اور دیواریں گرنے سے 3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے، مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ڈیم کے قریب دو پچیاں برساتی پانی میں بہہ گئیں جن کی تلاش جاری ہے،، شہر کے مختلف علاقوں میں 20 سے زاید افراد زخمی بھی ہوئے۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔

    کیسکو حکام کے مطابق شہر میں بجلی مرحلہ وار بحال کی جا رہی ہے جبکہ شہر کا بڑا حصہ صبح سے بجلی سے محروم ہے۔ مشیر داخلہ و پی ڈی ایم اے میرضیا لانگو نے حالیہ بارشوں سے پیدا ہونیوالی صورتحال پر کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں مون سون کی بارشیں گزشتہ روز سے شروع ہوچکی ہیں، بارشوں سےاب تک کوئٹہ میں 6 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ضرورت کے مطابق پی ڈی ایم اے کی جانب سے بارشوں سے متاثر ہونیوالے اضلاع میں امدادی سامان بھجوایا جا رہا ہے۔

    مشیر داخلہ نے بتایا کہ بارشوں کے بعد حکومت بلوچستان، پی ڈی ایم اے اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں جہاں جس چیز کی ضرورت ہوگی وہاں پہنچائی جائے گی تاہم ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بلوچستان کے تمام ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں پی ڈی ایم اے کے آفس بنائے جائیں گے۔

    دوسری طرف محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مرطوب ہوائیں داخل ہونے کے نتیجے میں ملک میں گزشتہ کئی دنوں سے مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے،پیر کو سندھ، کشمیر اور بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں بارشیں ہوئیں۔ سب سے زیادہ بارش بالا کوٹ میں40 ملی میٹر ہوئی۔ سرجانی کراچیاور سکھر میں 23 جبکہ جیکب آباد میں 19ملی میٹر بارش ہوئی۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش لسبیلہ میں 33 ملی میٹر، جبکہ کوئٹہ اور پنجگور میں 22 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ آئندہ دو دنوں تک بلوچستان، پنجاب، سندھ اور کشمیر میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔