Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • پاکستان کے حق میں نعرہ لگانے پر گولی ماردی جاتی ہے،قائمہ کمیٹی نے کیا برہمی کا اظہار

    پاکستان کے حق میں نعرہ لگانے پر گولی ماردی جاتی ہے،قائمہ کمیٹی نے کیا برہمی کا اظہار

    پاکستان کے حق میں نعرہ لگانے پر گولی ماردی جاتی ہے،قائمہ کمیٹی نے کیا برہمی کا اظہار

    اسلام آباد(محمداویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران نے حکام پی ایم سی کی طرف سے فاٹا کے طلباء کامعاملہ حل کرنے کے لیے پی ایم سی کونسل کے اجلاس کی تاریخ نہ دینے پر جھاڑپلا دی

    سیکرٹری پی ایم سی کوجھاڑ پلانے پر سیکرٹری سیفران نے ارکان کمیٹی کوکہا کہ آپ میرے افسران کو ہراساں نہیں کر سکتے ہماری بھی عزت ہے،ارکان کمیٹی نے کہا کہ سیکرٹری پی ایم سی کے کونسل اجلاس کی تاریخ دینے کے بجائے کہے رہے کہ جلد ازجلد بلایاجائے گا کمیٹی تاریخ کا پوچھ رہی ہے یہ کمیٹی کی توہین کررہے ہیں کمیٹی کوئی مذاق نہیں ہے۔کمیٹی نے پی ایم سی کو بلوچستان کے طلبہ کا مسٗلہ حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جہاں سے ان طلبہ کا تعلق ہے وہاں پاکستان کے حق میں نعرہ لگانے پر گولی ماردی جاتی ہے آپ ان کے ساتھ یہ رویہ رکھ کرکیا پیغام دے رہے ہیں ۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران نے جلاس میں مسلسل نہ آنے پرصدر پاکستان میڈیکل کمیشن ڈاکٹرارشد تقی کا معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیج دیا،نائب صدر پی ایم سی کو بلوچستان کے طلبہ کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ پر کمیٹی نے اگلے اجلاس میں طلب کرلیا۔کمیٹی نے سابقہ فاٹا کے لیے میڈیکل کالجوں میں مختص نشستوں کواگلے پانچ سال کے لیے بھی توسیع دینے کی سفارش کردی۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کااجلاس چیئرمین سینیٹرہلال الرحمن کی زیرصدرات ہوا۔اجلاس میں سینیٹردنیش کمار، انور الحق کاکڑ، انور لال دین، بہرمندتنگی، صابر شاکر شاہ دوست محمد خان نے شرکت کی۔سابقہ فاٹا میں صحت شعبہ میں غیرمقامی لوگوں کوبھرتی کرنے پر کمیٹی نے بھرتی ہونے والوں کی تفصیلات شناختی کارڈنمبر سمیت طلب کرلیں کمیٹی نے کہاکہ سابقہ فاٹا میں صحت کے شعبہ میں غیرمقامی لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے اگلے اجلاس میں تمام بھرتی ہونے والے ملازمین کے شناختی کارڈ بھی دیئے جائیں۔ سینیٹر بہرمندتنگی نے کہا کہ پی ایم سی والے کتوں سے بدترسلوک میڈیکل کے طلبہ سے کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے طلبہ خودکشیاں اور نشہ کی طرف چلے جاتے ہیں۔بلوچستان کے طلبہ نے کمیٹی کوبتایا کہ پی ایم سی کے افسر ان کا رویہ انتہائی تضحیک آمیز ہوتا ہے، ہم ایچ ای سی کے سامنے دھرنہ دے کر بیٹھے ہیں۔نائب صدرپی ایم سی ڈاکٹرعلی رضا سگریٹ پی کر ہمیں کہہ رہا تھا کیا مسئلہ ہے 5 منٹ میں مسئلہ بتائیں۔ بلوچستان کے 6سو طلبہ کا کالج غیر رجسٹرڈ طلبہ کا نقصان ہورہاہے۔اب وہ کالج پی ایم سی میں رجسٹرڈ ہوگئے ہیں مگر ہم تیسرے سال کے طلبہ ہیں ہمیں رجسٹرڈٖ کیا جائے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پی ایم سی نے ویسے بھی ڈاکٹر کے لیے این ایل ای ٹیسٹ لے گی اگر ہم پاس نہیں کریں گے تو ہم پریکٹس نہیں کرسکیں گے ۔ طلبہ سے تضحیک آمیز رویہ رکھنے پر کمیٹی نے نائب صدرپی ایم سی علی رضا کو کمیٹی میں طلب کرلیا۔ سینیٹرانور الحق کاکڑ نے کہاکہ بچوں کے ساتھ جو رویہ اختیار کیاگیا وہ افسوس ناک ہے آوارن میں لوگ علی الاعلان پاکستان کے خلاف ہیں پاکستان کے حق میں بات کرنیوالوں کو گولی ماردی جاتی ہے بچہ اس علاقہ سے آ رہا ہے مگر ہم ان کے ساتھ یہ رویہ رکھ رہے ہیں۔

    حکام پی ایم سی امداد علی نے کمیٹی کوبتایا کہ صدر پی ایم سی ڈاکٹرارشد تقی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس کی وجہ سے وہ کمیٹی میں نہیں آئے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ مسلسل تیسری بار وہ کمیٹی میں نہیں آرہے ہیں پچھلی مرتبہ بھی پی ایم سی حکام کے کہنے پرایجنڈا موخرکیا گیا کہ وہ اگلے اجلاس میں آئیں گے۔ ارکان کمیٹی نے کہا کہ تیسری مرتبہ صدر پی ایم سی کمیٹی میں نہیں آئے اس معاملہ کو استحقاق کمیٹی میں بھیج دیں کہ کیون وہ باربار کہنے کے باجود کمیٹی میں نہیں آرہے ہیں۔کمیٹی نے صدر پی ایم سی کامعاملہ استحقاق کمیٹی میں بھیج دیا کہ انہوں نے کمیٹی کااستحقاق مجروع کیا ہے اب وہ استحقاق کمیٹی میں جواب دیں ۔ سینیٹردوست محمد خان نے کہا کہ 265سابقہ فاٹا کا کوٹہ ہے اس کو حل کیا جائے طلبہ دھرنہ دئیے ہوئے ہیں ۔ 2011میں یہ کوٹہ پانچ سال کا تھا اس کے بعد اس میں 5سال اضافہ کیا گیا۔ہماری حکومت بھی اس میں مزید پانچ سال اضافہ کی خواہش مند ہے۔کمیٹی نے سفارش کردی کہ سابقہ فاٹا کامیڈیکل کالجوں میں 265سیٹوں کواگلے پانچ سال کے لیے بھی توسیع دی جائے سابقہ فاٹا کے طلبہ نے کمیٹی کو بتایا کہ 45دن سے ایچ ای سی کے سامنے دھرنہ دیا ہواہے۔

    وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ

    انور الحق کاکڑ نے کہاکہ چیف سیکرٹری خدا بن گئے ہیں ایچ ای سی کو فون کرنا چاہیے کہ وہ کیوں نہیں کر رہا ہے اس کی وجہ سے بچے سفر(تکلیف) ہورہے ہیں۔کمیٹی نے تمام چیف سیکرٹریز کو خط لکھنے کی ہدایت کردی۔حکام ایچ ای سی نے کہاکہ میڈیکل سیٹوں کے حوالے سے سندھ، بلوچستان اورکشمیر کے چیف سیکرٹری نے جواب نہیں دیا۔انور الحق کاکڑ نے کہاکہ بتایاجائے کہ کونسل کا اجلاس کب ہوگا جس میں اس معاملہ کورکھا جائے گا۔پی ایم سی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کونسل اجلاس جتنا جلدی ممکن ہوگا کیاجائے گا۔انور الحق نے کہاکہ آپ جتنا جلدی ممکن ہو گا کریں گے اس کا بتائیں یہ سال لگے گا دہائیاں لگیں گیں ہمیں بتایا جائے۔کمیٹی تاریخ مانگ رہی ہے۔اس پر سیکرٹری سیفران نے کہاکہ آپ ہمارے افسران کو ہراساں نہیں کرسکتے ہیں۔ہمارے افسران کی بھی عزت کہ جائے۔

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

    وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی بھی اسلام آباد پولیس کے خلاف بول اٹھے

    اسلام آباد جرائم کا گڑھ بن گیا، روز پولیس مقابلے، ڈکیتیاں، وجہ کیا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    انور الحق کاکڑ نے کہاکہ میں کسی کوہراساں نہیں کررہاہوں۔یہ افسران محترم ہیں ہماری عزت نہیں ہے۔بلوچستان کے لوگوں کو شہری سمجھتے ہوتے تو ان کا مسئلہ حل ہوجاتا۔کمیٹی نے ایچ ای سی حکام ہدایت کی کہ 265طلبہ کے کوٹہ کے حوالے سے آج ہی پی ایم سی کو لکھیں پی ایم سی حکام نے یقین دہانی کروائی کہ وہ اس حوالے سے سرکولیشن سمری کے ذریعے اس کوکونسل ممبران کوبھیج دیں گے اگر وہ منظوری دیں گے تو کوٹہ بحال کردیں گے،کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے اور وہاں سے منظوری لی جائے تاکہ پی ایم سی پر اس پر عمل کرناضروری ہوجائے۔سینیٹرصابر شاہ سیکرٹری سیفران کوکہاکہ اپ سیکرٹری پی ایم سی کے حق میں اس لیے بولے کہ وہ بھی سندھی ہے یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔پی ایم سی کی طر ف سے کونسل کی تاریخ نہ دینا کمیٹی سے مذاق ہے

  • مسافر بس نے موٹر سائیکل سواروں کو روند ڈالا،1 بچی جاں بحق،کوئٹہ میں نوجوان جاں بحق

    مسافر بس نے موٹر سائیکل سواروں کو روند ڈالا،1 بچی جاں بحق،کوئٹہ میں نوجوان جاں بحق

    گوجرہ /کوئٹہ :گوجرہ کے انڈر پاس کے قریب مسافر بس اور موٹر سائیکل سواروں کے درمیان خطرناک تصادم کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے،تفصیلات کے مطابق حادثے کے نتیجے میں 8سالہ بچی جاں بحق جبکہ والدہ سمیت 2افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔

    ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والی بچی کی شناخت منیحہ کے نام سے ہوئی ہے جبکہ شدید زخمیوں میں 30سالہ طیبہ اور اظہر شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ حادثہ بس ڈرائیور کی غفلت اور تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔

    دنیا بھرمیں ٹریفک حادثے انسانی جانوں کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر سامنے آ رہے ہیں، عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال لاکھوں افراد ٹریفک حادثات کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

    ایک عالمی تحقیقاتی ادارے کے مطابق پاکستان میں ہلاکتوں کا باعث بننے والے پچاس عوامل اوربیماریوں میں ٹریفک حادثات پندرہویں نمبر پر ہیں۔

    پاکستان میں ایڈز، ناقص خوراک، مرگی، تشدد کئی قسم کے سرطان اور خود کشیوں کی وجہ سے انفرادی طور پر ہونے والی اموات سے ٹریفک حادثات میں مرنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔

    اس رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ٹریفک حادثات موٹر سائیکل سواروں آٹو رکشا والوں اور موٹر کاروں اور وینز چلانے والوں کو پیش آئے اس کے بعد بسوں اور ٹرکوں کے حادثات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ادھر بلوچستان کے شہر دکی میں گیس لیکج کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق دکی کے علاقے کلی سراج الدین ناصر میں گیس لیکج کے باعث دم گھٹنے سے نوجوان جانبحق ہوگیا، جانبحق ہونے والے نوجوان کی شناخت بخت محمد ولد کمال خیل ناصر کے نام سے ہوئی ہے۔

    ہسپتال ذرائع کا ہے کہ بخت محمد غسل خانے میں گیس لیکج کی وجہ سے دم گھٹنے کی وجہ سے جانبحق ہوا۔

    واضح رہے کہ گیس لیکج گیزر کی وجہ سے ہوئی۔یہ بھی یاد رہے کہ کچھ روز قبل راولپنڈی میں بھی گھر میں گیس لیکج سے گھر کی چھت تباہ ہوگئی تھی ۔

    گیس لیکج دھماکے سے خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد جھلس گئے تھے، جن کو بروقت ہولی فیملی ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

    ترجمان ریسکیو کا کہنا تھا کہ جھلس جانے والوں میں راج ولی اور اس کا بھائی کاشف علی جبکہ ان دونوں کی بیویاں اور 4 کم عمر بچے شامل ہیں۔

  • بلوچستان: ڈاکٹرز اور حکومت میں ڈیڈ لاک برقرار، مریض رل گئے

    بلوچستان: ڈاکٹرز اور حکومت میں ڈیڈ لاک برقرار، مریض رل گئے

    کوئٹہ: بلوچستان میں ینگ ڈاکٹرز اور صوبائی حکومت کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے،جس کی وجہ سے مریض سخت سردی میں رسوا ہورہےہیں مگرڈاکٹرز ہیں‌ کہ انکو اپنے مفاد کےعلاوہ کسی پرواہ نہیں‌

    بلوچستان حکومت اور ینگ ڈاکٹرز کے درمیان جاری ڈیڈ لاک کے باعث مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ہڑتال کے سبب سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈیز اور ان ڈور سروسز بند ہوئے تین ماہ بیت گئے جس کے باعث بچوں، بزرگ اور خواتین مریضوں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

    صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی ہڑتال کی وجہ سے مریض نجی اسپتالوں کا رخ کرنے اور مہنگا علاج کرانے پر مجبور ہیں۔

    واضح رہے کہ چند رو قبل اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے ینگ ڈاکٹرز نے ریڈزون جانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے ڈاکٹرز پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے 20 ڈاکٹروں کو گرفتار کرلیا جب کہ اس دوران 6 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

    خٰیال رہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی ہڑتال کئی روز سے جاری ہے۔

    گزشتہ روز صوبائی وزیر صحت سید احسان شاہ نے سرکٹ ہاؤس دالبندین میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے، ڈاکٹرز پر لاٹھی چارج مسئلے کا حل نہیں لیکن امن و امان قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات پر غور کرنے کے لیے کمیٹی بن چکی ہے، کمیٹی کی تشکیل کے باجود ریڈ زون پر دھرنا دے کر ڈیوٹی نہ کرنا بلا جواز ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تنخواہیں بڑھانے کے علاوہ ینگ ڈاکٹرز کے تمام مطالبات ماننے کو تیار ہیں، ڈاکٹرز کی تنخواہیں بڑھانے سے خزانے پر سالانہ 7 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

    سید احسان شاہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان معاشی طور پر کمزور ہے ہم دوسرے صوبوں کے برابر تنخواہیں نہیں بڑھا سکتے، اب بھی 17 گریڈ کے ڈاکٹر کی تنخواہ اسی گریڈ کے اسسٹنٹ کمشنر سے زیادہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی درمیانی راستہ نکال کر ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج ختم کیا جائے۔

    صوبائی وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر اور ڈی ایچ او ادویات کی خریداری کرسکتے ہیں، میڈیکل اسٹور ڈیپارٹمنٹ ایک کرپٹ ادارہ ہے جس سے خریداری کا اختیار واپس لے رہے ہیں۔

  • ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کا ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اجرا کا خیر مقدم

    ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کا ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اجرا کا خیر مقدم

    کوئٹہ:۔وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کا ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اجرا کا خیر مقدم ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ‌ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے پہلی قومی سلامتی پالیسی بنانے والوں کوخراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ وقت کی ضرورت تھی

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے اس موقع پر کہا کہ قومی سلامتی پالیسی سیاسی و عسکری قیادت کے ملکی دفاع کے عزم کی عکاس ہے ۔وزیراعلئ بلوچستان نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی ملکی سلامتی اور مضبوط معیشت کی بنیاد ثابت ہو گی۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی پالیسی سے ملک کا دفاع اور معاشی مستقبل مزید مضبوط و محفوظ ہو گا ،قومی سلامتی پالیسی میں دفاع معیشت قومی تشخص سمیت ہر شعبہ کا احاطہ کیا گیا ہے

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ ایک جوہری صلاحیت کی حامل ریاست کو معاشی طور پر بھی مضبوط بنانے میں قومی سلامتی پالیسی اہم پیش رفت ہے،ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیۓ پاک افواج کا کردار ہمیشہ سے قابل فخر رہا ہے۔

    وزیراعلٰی نے کہا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی کی چھتری تلے اب ہم بحثیت ایک قوم اپنے ملک کو ہر شعبہ میں ترقی یافتہ بنائیں گے۔اپنی کمزوریوں پر قابو پا کر پاکستانی قوم جلد ایک عظیم قوم کے طور پر ابھرے کی

  • پاک فضائیہ کی بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی ترسیل

    پاک فضائیہ کی بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی ترسیل

    پاک فضائیہ کی بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی ترسیل

    اک فضائیہ کے طیاروں نے 13 پروازوں کے ذریعے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان اور خوراک کی ترسیل کی۔ پاک فضائیہ کے C-130 طیاروں نے 131,887 پاؤنڈ سے زائد امدادی سامان جس میں راشن ، پینے کا پانی، ادویات، کمبل اور خیمے شامل ہیں آفت زدہ علاقے میں پہنچایا۔ پسنی میں پی اے ایف ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے زیر نگرانی پی اے ایف میڈیکل کیمپ پہلے ہی سیلاب سے متاثرہ افراد کو چوبیس گھنٹے طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ مزید برآں، پی اے ایف ہیلی کاپٹرز سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

    سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پی اے ایف کے متعلقہ شعبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے حصہ لیں۔ پاک فضائیہ نے آرمی ایوی ایشن اور پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹروں کے بیڑے کے ساتھ سیلاب زدہ علاقوں میں اپنے ہیلی کاپٹر بھی تعینات کیے ہیں۔

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    بے اولاد ہیں، بچہ خرید لیں، بچے پیدا کرنے کی فیکٹری، تہلکہ خیز انکشاف

    پڑھانے کیلئے آنیوالے معلم نے 8 سالہ طالبعلم سے کیں نازیبا حرکات

    16 سالہ لڑکی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا سفاک گرفتار

    گھناؤنا کام کر کے پولیس کورشوت دینے والا ملزم گرفتار

    رائیونڈ ،اغوا ہونے والے لڑکے کی لاش گیارہ روز بعد نہرسے برآمد

  • مری ، بلوچستان اوردیگرعلاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی وزیراعظم براہ راست نگرانی کرنےلگے

    مری ، بلوچستان اوردیگرعلاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی وزیراعظم براہ راست نگرانی کرنےلگے

    اسلام آباد : مری ، بلوچستان اوردیگرعلاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی وزیراعظم براہ راست نگرانی کرنےلگے ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر بلوچستان میں بارشوں سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی سامان روانہ کردیا گیا، سامان میں نکاسی آب کے لیے پمپ، ٹینٹ،کمبل ،راشن بیگ شامل ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ترجمان این ڈی ایم اے کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین این ڈی ایم اے نے گورنراور وزیراعلیٰ بلوچستان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ، جس میں بارش ،برفباری سے نقصانات اورامداد کی ضرورت پر بات چیت کی گئی۔

    ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر سی 130طیارے پر امدادی سامان روانہ کردیا گیا ہے، امدادی سامان میں نکاسی آب کےلیےپمپ، ٹینٹ،کمبل ،راشن بیگ شامل ہیں۔

    این ڈی ایم اےصوبائی حکام اورپی ڈی ایم اے سے رابطے میں ہے جبکہ پاک فوج ،ایف سی کےدستے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

    گذشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے بارشوں سے نقصانات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کو متاثرین کو امداد پہنچانے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ متاثرین کی ہرممکن مدد کی جائے۔

    خیال رہے بلوچستان میں بارش اور برفباری سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا ہے اور کئی اضلاع میں سیلابی صورتحال سے نظام زندگی مفلوج ہے۔

    ادھراسلام آباد سے ملنےوالی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم اس وقت خود براہ راست مری ، بلوچستان اور ملک کے دیگرحصوں میں بارشوں ، سیلاب اور برفانی طوفان سے پیدا ہونے والی صور تحآل کودیکھ رہے ییں اور ہنگامی اقدامات کی ہدایات دے رہے ہیں

  • بلوچستان ، سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کی امدادی کارروائیاں جاری

    بلوچستان ، سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کی امدادی کارروائیاں جاری

    بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری

    08 جنوری 2022: پاک فضائیہ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج اور بحریہ کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ آپریشنز کے دوران پاک فضائیہ کے ٹرانسپورٹ طیاروں نے 77,860 پاؤنڈ سے زائد امدادی سامان سیلاب سے متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جن کا زمینی رابطہ شدید بارشوں اور حالیہ سیلاب کے باعث منقطع ہو گیا ہے۔ ہوائی جہاز کے ذریعے لے جانے والے امدادی سامان میں راشن، خیمے، کھانے پینے کی اشیاء، ادویات، پینے کا پانی، کمبل اور ضروری مشینری شامل ہے۔ ملک بھر اور بالخصوص سیلاب زدہ علاقوں میں نامساعد موسمی حالات کے باوجود پاک فضائیہ کے پائلٹ اس مشکل وقت میں قوم کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں۔

    سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پی اے ایف کے متعلقہ شعبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے حصہ لیں۔ پاک فضائیہ نے آرمی ایوی ایشن اور پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹروں کے بیڑے کے ساتھ سیلاب زدہ علاقوں میں اپنے ہیلی کاپٹر بھی تعینات کیے ہیں۔

    پاک بحریہ کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ بلوچستان کے دور دراز ساحلی علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں خوراک، پینے کا صاف پانی اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی کی گئی پاک بحریہ کی میڈیکل ٹیموں نے مختلف علاقوں میں میڈیکل کیمپ لگائے جہاں لوگوں کو علاج اور ادویات کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ پاک بحریہ کے جوانوں نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے علاوہ مختلف علاقوں میں کھڑا پانی نکالنے میں بھی مقامی افراد کی مدد کی۔ پاک بحریہ مشکل کی اس گھڑی میں ساحلی علاقوں کے عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

  • ہم حاضر:ہم قربان:اے اہل بلوچستان:گوادرمیں پاک فوج کی طرف سے بارشوں اورسیلاب سے متاثرین کی مدد جاری

    ہم حاضر:ہم قربان:اے اہل بلوچستان:گوادرمیں پاک فوج کی طرف سے بارشوں اورسیلاب سے متاثرین کی مدد جاری

    راولپنڈی:ہم حاضر:ہم قربان:اے اہل بلوچستان:گوادرمیں پاک فوج کی طرف سے بارشوں اورسیلاب سے متاثرین کی مدد جاری،اطلاعات کے مطابق پاک فوج ، نیوی اور ایف سی کے دستوں کا گوادر میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری جبکہ سیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ بھی لگایا جارہا ہے ۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق گزشتہ 96 گھنٹوں سے بلوچستان کی ساحلی پٹی شدید بارشوں کی زد میں ہے، پاک فوج ، نیوی اور ایف سی کے دستوں کا گوادر میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ کلانچ اور سردشت میں خصوصی امدادی سرگرمیاں شروع کی جا رہی ہیں ۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرین میں خیمے ، کمبل اورراشن ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچائےگئے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل بھی جاری ہے جبکہ پاک فضائیہ کے سی ون تھرٹی طیاروں کے ذریعے پسنی میں امدادی سامان پہنچایاگیا ۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کلانچ، سردشت اور سن سٹار کی وادیوں اور دور دراز دیہات میں ریلیف کی خصوصی کوششیں جاری ہیں، گوادر کے پرانے علاقوں سے بھی پانی نکالنے کا عمل جاری ہے، آرمی ، ایف سی اور پاکستان کوسٹ گارڈ کی طرف سے متاثرین کے لئے میڈیکل کیمپس قائم کئے گئے ہیں جبکہ گوادر اولڈ ٹاؤن بھی پانی نکالنے کے آپریشن کا مرکز رہا ہے اورمتاثرہ علاقوں سے سیلابی پانی کو نکالنے پر توجہ دی جا رہی ہے ۔

    ادھر کمشنرمکران ڈویژن شبیراحمدمینگل نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مکران ڈویژن کے ضلع گوادر اور ضلع کیچ کے بیشتر علاقوں گوادرشہر ،سنٹسر ، پسنی اور ضلع کیچ کےسب تحصیل بلنگورمیں طوفانی بارشوں سے کافی نقصانات ہوئے ہیں اورلوگوں کے گھر زیرآب آگئے تھے جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت کی جانب سے ضلع گوادراورکیچ کے سب تحصیل بلنگورکو آفت زدہ قراردیاہے،

    انہوں نے کہا کہ لوگوں کی حفاظت اورکسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکران کے تینوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے اورضروری اقدامات کرنے کا حکم دے دیا گیاہے ، انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تربت کے ڈپٹی کمشنرنے آج بھی دشت سمیت مختلف علاقوں کا دورہ کرکے امدادی سرگرمیوں اورنقصانات کا جائزہ لیاہے،جبک پی ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی سامان بھی پہنچ چکے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امداد دینے کے لیے ہمارے پاس سامانوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید امدادی سامان بھی منگوائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ،پی ڈی ایم اے،لیویز،پولیس،پاک فوج،ایف سی ،تحصیل انتظامیہ ،نیوی سمیت تمام ادارے مکران ڈویژن کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف عمل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ضلع کے افسران کی چھٹیاں بھی منسوخ کردیئے ہیں۔انہوں نے کیچ ،گوادرسمیت مکران کے عوام سے اپیل کی کہ کمزور بندات اورندیوں کے پاس کم از کم رات کو نہیں ٹھہریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں ۔اگر کسی بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہوا تو اپنے اپنے علاقوں کے انتظامیہ کو فوری طور پر اطلاع دیں تاکہ انہیں ریسکو اور امدادی سرگرمیاں وقت پر پہنچائی جاسکیں ۔

    رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی کی حالیہ طوفانی بارشوں سے ہونے والے نقصانات سے نمنٹے کے لئے پسنی میں ہنگامی اجلاس صدارت کی ۔ جس میں رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ کمشنر مکران شبیر جان مینگل ڈپٹی کمشنر گوادر کیپٹن ر جمیل احمد بلوچ اسسٹنٹ کمشنر پسنی محمد جان بلوچ اور دیگر مختلف محکموں کے آفیسران نے شرکت کی ۔

    اسسٹنٹ کمشنر پسنی محمد جان بلوچ نے حالیہ طوفانی بارشوں سے متاثرہ علاقوں اور اب تک کی پیش رفت سے رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی کو تفصیلی بریفینگ دی ۔ رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ

    اس مشکل کی گھڑی میں پسنی کی عوام کے ساتھ ہوں ہم ہر ممکن کوشش اور اقدامات اٹھا رہے ہیں تاکہ لوگوں کو فوری ریلیف فراہم کر سکیں ۔ طوفانی بارشوں سے ہونی والی تباہی اور نقصانات کا جائزہ لے نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے گا ۔اس موقع پر انہوں نے پریس کلب پسنی کے سامنے بیھٹے احتجاجی میونسپل کمیٹی پسنی ڈیلی ویجیز ملازمین سے بھی ملاقات کی ۔

    میونسپل کمیٹی پسنی کے ملازمین کو یقین دہانی کرائی کہ آپ کے تنخواہوں اور مستقل ملازمت کے مطالبے کو وزیراعلی بلوچستان اور اسمبلی میں آواز اٹھاؤں گا ۔

    رکن صوبائی اسمبلی میرحمل کلمتی رکن صوبائی اسمبلی ثنا بلوچ کمشنر مکران شبیر احمد مینگل ڈپٹی کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد بلوچ پسنی میں طوفانی بارشوں سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور جائزہ لیا

  • گوادر:بارشیں،سیلاب اورسخت سردی ،پاک فضائیہ کا سی 130 طیارہ گوادر پہنچ گیا

    گوادر:بارشیں،سیلاب اورسخت سردی ،پاک فضائیہ کا سی 130 طیارہ گوادر پہنچ گیا

    گوادر:گوادر:بارشیں،سیلاب اورسخت سردی:پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں‌ جاری:پاک فضائیہ کا سی 130 طیارہ گوادر پہنچ گیا،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے معاشی حب گوادر میں شدید بارشوں اور سیلاب کی ابتر صورت حال پر پاکستان آرمی مقامی انتظامیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ہے۔

    پسنی میں بارشوں سے نقصان کا تخمینہ لگانے اور ضلعی انتظامیہ کی مدد کیلئے پاکستان آرمی اور پی ڈی ایم اے کی امدادی ٹیموں کا ریسکیو آپریشن جاری ہے، ریسکیو آپریشن کے لئے آرمی ہیلی کاپٹرز کو استعمال کیا جارہا ہے، جس کا مقصد دور دراز علاقوں کے متاثرین میں جلد از جلد بنیادی ضروریات کو فراہم کرنا ہے۔

    اسی تناظر میں پاک فوج نے پسنی ، گوادر کے نشیبی علاقوں میں سیلابی ریلے میں پھنسے افراد کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ٹینٹ ،کھانے پینے کی اشیا فراہم کیں۔

    ادھر بلوچستان کےعلاقےضلع کیچ میں سیلابی بارشیں تباہی مچانے کے بعد تھم گئیں، لیکن معمولات زندگی بحال نہ ہو سکی ،طوفانی بارشوں نے کیچ کے متعد دعلاقوں کو شدید متاثر کیا، متعدد مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی علاقوں میں سیلابی ریلا سڑکوں کو بھی بہا لےگیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے, لیویز اور ایف سی کا بھی ریلیف آپریشن جاری ہے، ڈی سی کیچ نےطوفانی بارشوں کے پیش نظربلنگور کو آفت زدہ قرار دے کر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایمرجنسی نمبر جاری کردئیے ہیں۔

    پاک فضائیہ کا C-130 طیارہ گوادر بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی سامان لے کرپسنی ائیر پورٹ پہنچ گیا۔ پاک فضا ئیہ، حکومت پاکستان کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن سر انجام دے رہی ہے۔ طیارہ 39,860 پاؤنڈ سے زائد امدادی سامان لے کر روانہ ہوا جن میں خوراک، ٹینٹ اور ادویات شامل ہیں۔

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق حالیہ سیلاب نے گوادر کے نشیبی علاقوں میں بہت تباہی مچائی ہےجس سے دیہات اور انفراسٹرکچر کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ پاک فضائیہ نے ہمیشہ فضائی سرحدوں کے دفاع کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کے دوران عوام کی امداد کے لیے اپنا کردار بھرپور ادا کیا ہے۔

  • بارشیں،سیلاب:بلوچستان میں آج بھی پاک فوج کی طرف سے ریلیف اور ریسکیوخدمات جاری

    بارشیں،سیلاب:بلوچستان میں آج بھی پاک فوج کی طرف سے ریلیف اور ریسکیوخدمات جاری

    گوادر:بارشیں،سیلاب:بلوچستان میں آج بھی پاک فوج کی طرف سے ریلیف اور ریسکیوخدمات جاری ،اطلاعات کے مطابق گوادر میں سیلابی صورتحال کے بعد پاک فوج اور نیوی کے دستوں کا ریلیف اور ریسکیو جاری ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق گوادر میں بارشوں سے کامیاب سیلابی صورتحال کے بعد ریلیف اور ریسکیو جاری ہے۔ پاک فوج اور نیوی کے دستے کے علاوہ میں ریسکیو اور ریلیف میاں بیوی میں۔ مقامی افراد کو محفوظ مقام میں منتقلی کا عمل بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی کے مطابق درست افراد میں پھنسے افراد کو خوراک اور غذائی اشیا کی فراہمی کا عمل بھی جاری ہے۔

    یاد رہے کہ کل بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کے بعد سیلابی صورت حال پیدا ہونے کے بعد پاک فوج کی طرف سے ریلیف اور ریسکیو سروس فراہم کی گئی تھیں اور مسلسل فراہم بھی کی جارہی ہیں‌

    کل بھی پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے پانی نکالنے کا عمل بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مقامی آبادی اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کرنے کے ساتھ ساتھ گوادر اور تربت کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوج کا امدادی کام جاری ہے، پسنی، جیوانی، سربندر، نگور میں خوراک اور شیلٹرز کی فراہمی بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران سول انتظامیہ کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا جا رہا ہے۔