Baaghi TV

Tag: بنگلہ دیش

  • شیخ حسینہ واجد کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری

    شیخ حسینہ واجد کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری

    ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بنگلہ دیش کی عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کا دوسری بار وارنٹ گرفتار ی جاری کیا دوسرا وارنٹ شیخ حسینہ کے دور حکومت میں جبری گمشدگیوں سے متعلق ہے۔

    چیف پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت نے شیخ حسینہ واجد سمیت 11 افراد کے وارنٹ جاری کیے ہیں، اور یہ جاری کیا گیا ایک اور وارنٹ جبری گمشدگیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر جاری کیا گیا شیخ حسینہ واجد کا دوسرا وارنٹ بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کی جانب سے جاری کیا گیا۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں بس پر فائرنگ، 3 اسرائیلی ہلاک 7 زخمی

    رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیشی سیکیورٹی اہلکاروں نے مبینہ طور پر 500 سے زائد افراد کو اغوا کیا تھا جن میں سے کچھ کو برسوں سے خفیہ جیلوں میں رکھا گیا،حسینہ واجد کی برطرفی کے بعد سے متاثرین نے اپنے اوپر جانے والی سختیوں کے دردناک واقعات سنائے۔

    کانگو میں 102 مسلح ڈاکوؤں کو پھانسی دے دی گئی

    واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد گزشتہ سال شدید عوامی احتجاج کے بعد بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت چلی گئی تھیں،عدالت کی جانب سے اس سے قبل بھی انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں شیخ حسینہ واجد کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے،سابق وزیراعظم حسینہ واجد اورعوامی لیگ پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف قتل، تشدد اور جبری گمشدگی کے 60 سے زیادہ مقدمات درج ہیں۔

    بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں باغیوں کا حملہ، 10 سیکیورٹی اہلکار ہلاک

  • بنگلہ دیش  کےبھارت میں ججز تربیتی پروگرام منسوخ

    بنگلہ دیش کےبھارت میں ججز تربیتی پروگرام منسوخ

    بنگلہ دیش نے بھارت میں 50 ججوں اور عدالتی افسران کے تربیتی پروگرام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اتوار کے روز بنگلہ دیش کی وزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکلر میں کیا گیا۔

    اس تربیتی پروگرام میں شامل ہونے والے اہلکاروں میں اسسٹنٹ ججز، سینئر اسسٹنٹ ججز، جوائنٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور دیگر مساوی سطح کے عدالتی افسران شامل تھے۔ یہ پروگرام بھارت میں 10 سے 20 فروری تک منعقد ہونا تھا، تاہم اب اس کی منسوخی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔وزارت قانون کے سرکلر کے مطابق، یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات کی تعمیل میں کیا گیا۔ سرکلر میں کہا گیا کہ بھارت میں ججز کی تربیت کے لیے منظور شدہ اس پروگرام کو اب منسوخ کیا جا رہا ہے۔

    ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیشی عبوری حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات مزید کشیدہ ہو چکے ہیں۔ محمد یونس کی سربراہی میں بنگلہ دیشی حکومت کی تشکیل کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ آیا ہے، جس کے نتیجے میں اس تربیتی پروگرام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
    اس فیصلے کے بعد، دونوں ممالک کے عدالتی افسران اور دیگر حکومتی اہلکاروں کے درمیان تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سیاسی تناؤ کا یہ واقعہ دونوں ممالک کے حکومتی تعلقات اور عدالتی تعاون پر ایک نیا سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے۔

    اس پیش رفت کے بعد، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان عدالتی اور قانونی تعاون میں ممکنہ تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ملکوں کی عدالتوں میں کام کرنے والے افسران کو نئے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی رسک برقرار رہیں گے،گورنر اسٹیٹ بینک

    ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

  • اسحاق ڈار کا آئندہ ماہ ملائشیا ،بنگلہ دیش کا دورہ متوقع

    اسحاق ڈار کا آئندہ ماہ ملائشیا ،بنگلہ دیش کا دورہ متوقع

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا آئندہ ماہ ملائشیا اور بنگلہ دیش کا دورہ متوقع ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی آئندہ ماہ دورہ ملائشیا و بنگلہ دیش کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں، جبکہ اسحاق ڈار 3 فروری سے 5 فروری تک ملائشیاء کا دورہ کریں گے۔ دفتر خارجہ نے ملائشیا کے دورے کے حوالے سے معاملات کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے، جبکہ انہیں ملائشیا کے دورے کی دعوت ملائشیائی وزیر اعظم انور ابراہیم نے دی ہے۔ اسحاق ڈار اپنے دورہ ملائشیا میں ملائشیا کے وزیر خارجہ داتو سری اتامہ حاجی محمد بن حاجی حسن سے ملاقات کریں گے، اس کے علاوہ نائب وزیراعظم کی ملائشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سمیت دیگر قیادت سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ دورہ ملائشیا کا بنیادی مقصد تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کا فروغ ہے، جبکہ دورے کے دوران پاک ملائشیا تعلقات، تجارت، باہمی منسلکی، توانائی اور زراعت پر بات چیت ہوگی۔ حلال انڈسٹری اور سیاحت، سیاحتی تبادلوں، عوامی سطح کے روابط اور بزنس ٹو بزنس روابط پر خصوصی بات چیت کی جائے گی، جبکہ دورہ ملائشیا میں پاک ملائشیا باہمی تجارت کا حجم بڑھانے پر غور کیا جائے گا۔سفارتی ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ آئندہ ماہ ہی بنگلہ دیش کا دورہ بھی کریں گے، وہ یہ دورہ بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس کی دعوت پر کر رہے ہیں، جبکہ دورہ بنگلہ دیش کے پروگرام کو دونوں ممالک کی وزارت خارجہ حتمی شکل دے رہی ہیں۔

    وزیراعظم کی یو اے ای کے صدر سے ملاقات، تعلقات میں بہتری پرگفتگو

    آفتاب اقبال کی مانچسٹر میں بداخلاقی، اوورسیز پاکستانی پھٹ پڑے

    امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون میں پیشرفت

    کراچی میں دو نئے پاسپورٹ آفس قائم

  • 2009 میں بنگلہ دیش رائفلز  کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغازکر دیا گیا

    25 سے 26 فروری 2009ء کو بنگلہ دیش رائفلز کی جانب سے ہیڈکوارٹرز پلکھانا میں بغاوت ہوئی،غیر معمولی حالات کے دوران کم از کم 74 افراد کی ہلاکت ہوئی جس میں کئی شہری شامل تھے،ایک رپورٹ کے مطابق حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بھارت سے مدد مانگی،بھارت بنگلہ دیش کے حالات کو خراب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے،بغاوت کے بعد مختلف حلقوں نے الزامات عائد کیے کہ شیخ حسینہ اور بھارتی حکام نے سیاسی فائدے کے لیے اس صورتحال کو ترتیب دیا تھا،

    لواحقین کے مطالبے پر بنگلہ دیش نے 2009 کی بغاوت کے حوالے سے نئی تحقیقات کا آغاز کیا ہے، جس میں غیر ملکی مداخلت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، بنگلہ دیش میں 2009 کی بنگلہ دیش رائفلز کے بغاوت کے متاثرین کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے لیے انصاف اور مزید تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں،مظاہرین بنگلہ دیش رائفلز (بی ڈی آر) کے اصل نام کی بحالی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ بغاوت کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے "بارڈر گارڈ بنگلہ دیش(بی جی بی) رکھا گیا تھا،بھارت کی مداخلت نے بنگلہ دیش میں فوج اور حکومت کے درمیان اختیارات کے توازن کو بدل کر رکھ دیا،حقائق یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ بھارت خطے کے چھوٹے ممالک میں ہمیشہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرتا رہا ہے

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

    کراچی، فرنیچر مارکیٹ میں آگ ، 30 سے زائد دکانیں جل گئیں

  • بنگلہ دیش: 2009 کی ناکام فوجی بغاوت اورقتل عام کی تحقیقات کا حکم

    بنگلہ دیش: 2009 کی ناکام فوجی بغاوت اورقتل عام کی تحقیقات کا حکم

    بنگلہ دیش نے 2009 میں ناکام فوجی بغاوت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے کریک ڈاؤن کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کا حکم دے دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پُرتشدد بغاوت کے باعث جنوبی ایشیا کی قوم میں صدمے کی لہر دوڑ گئی تھی اور بغاوت کرنے والوں کو فوج کی طرف سے کچلنے کے ساتھ ختم ہوا تھا، اس دوران متعدد شہریوں کو گرفتار کیا گیا اور موت کی سزا سنائی گئی تھی۔لیکن یہ تحقیقات شیخ حسینہ کے دور میں کی گئی تھیں جنہیں اگست میں ایک انقلاب کے ذریعے وزیر اعظم کے عہدے سے معزول کر دیا گیا تھا اور وہ پرانے حلیف بھارت بھاگ گئیں تھیں۔بغاوت جس میں کئی لوگ مارے گئے، اس کی سابقہ سرکاری تحقیقات میں عام فوجیوں میں برسوں سے پائے جانے والے غصے کو وجہ ٹھہرایا گیا جب کہ اہلکاروں نے محسوس کیا کہ تنخواہوں میں اضافے اور بہتر برتاؤ کے لیے ان کی اپیلوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔اس کے زوال کے بعد سے تشدد میں مارے گئے فوجیوں کے اہل خانہ تحقیقات کو دوبارہ کھولنے کی مہم چلا رہے ہیں۔انہوں نے بارہا شیخ حسینہ پر الزام لگایا کہ وہ بغاوت کے خطرے سے دوچار رہنے والے ملک میں خود کو مضبوط کرنے کے لیے فوج کو کمزور کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔مظاہرین نے اس سازش میں بھارت کے ملوث ہونے کا بھی الزام لگایا ہے۔ان دعووں کی وجہ سے بھارت کے مشتعل ہونے کا خدشہ ہے جب کہ اس نے فوری طور پر الزامات کا جواب نہیں دیا۔انکوائری کمیشن کے سربراہ اے ایل ایم فضل الرحمٰن نے صحافیوں کو بتایا ہمارا مقصد اس بات کا تعین کرنا ہے کہ آیا اس سانحے میں کسی بیرنی عنصر کا کردار تھا یا نہیں جب کہ قومی اور عالمی سازش کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔باغیوں نے فروری 2009 میں بیرکوں میں قتل و غارت گری شروع کرنے سے قبل نیم فوجی فورس بنگلہ دیش رائفلز (بی ڈی آر) کے ہیڈکوارٹر سے ہزاروں ہتھیار چرا لیے تھے۔آرمی کی جانب سے کچلے جانے سے قبل بغاوت تیزی سے پھیلی اور ہزاروں فوجیوں نے ہتھیاروں پر قبضہ کر لیا اور باغیوں سے وفاداری کا عہد کیا گیا۔اس قتل عام کے بعد ہزاروں افراد کو پکڑ کر خصوصی فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا گیا جب کہ شییخ حسینہ کی اس وقت کی نو منتخب حکومت نے دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی۔سیکڑوں فوجیوں کو موت سے لے کر چند سال تک قید کی سزائیں دی گئیں جب کہ اقوام متحدہ نے بنیادی معیارات پر پورا نہ اترنے پر سزا دینے کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔شیخ حسینہ کی آہنی ہاتھوں والی حکمرانی کو نئی دہلی کی حمایت حاصل تھی اور 77 سالہ سابق وزیر اعظم ان دنوں بھارت میں ہی رہ رہی ہیں جب کہ اس سے دونوں ملک کے درمیان تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا ہے۔یاد رہے کہ پیر کے روز بنگلہ دیش نے کہا کہ اس نے بھارت سے حسینہ واجد کو واپس بھیجنے کی درخواست کی ہے تاکہ وہ قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم“ کے الزامات کا سامنا کریں۔

    سال2024 پیٹرولیم لیوی کی ریکارڈ 808 ارب کی وصولیاں

    وزیر داخلہ سندھ کی سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت

    میزائل حملےکے نتیجے میں آزربائیجان کا مسافر طیارہ تباہ ہوا

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ اسرائیلی حملے میں بال بال بچ گئے

  • بنگلہ دیش کا  بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ

    بنگلہ دیش کا بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ

    ڈھاکا: بنگلہ دیش نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کےلئے بھارت سے مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : شیخ حسینہ واجد رواں برس اگست میں اپنی حکومت کے اختتام کے بعد بنگلہ دیش سے بھارت فرار ہوگئی تھیں تاہم اب شیخ حسینہ کی حوالگی کے حوالے سے بنگلہ دیشن نے بھارت کو درخواست دی جس کی بنگلہ دیشی قائم مقام وزیرِ خارجہ توحید حسین نے تصدیق بھی کردی۔

    ڈھاکا میں صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کو آگاہ کر دیا ہے کہ شیخ حسینہ عدالتی عمل کےلئے یہاں مطلوب ہیں شیخ حسینہ مفرور ہیں، انہیں بنگلہ دیش کے حوالے کیا جائے، یہ درخواست ایک نوٹ وربل کے ذریعے بھیجی گئی ہے لیکن اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    بھارتی حکومت کی جانب سے توحید حسین کے بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم توقع کی جارہی ہے کہ بھارت اس معاملے پر جلد جواب دے گا۔

    دمشق ائیرپورٹ کا فضائی آپریشن بحال
    اس سے قبل بنگلہ دیش کے قائم مقام وزیرِ داخلہ جہانگیر عالم نے کہا تھا کہ ان کی وزارت نے شیخ حسینہ کی واپسی کےلئے وزارتِ خارجہ کو خط بھیجا ہے،بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان حوالگی کا معاہدہ موجود ہے اور اس معاہدے کے تحت شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش واپس لایا جا سکتا ہے۔
    لکی مروت میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، ایک دہشتگرد ہلاک

  • راحت فتح علی خان کی ڈھاکہ میں کنسرٹ میں شرکت،مشیر اطلاعات سے ملاقات

    راحت فتح علی خان کی ڈھاکہ میں کنسرٹ میں شرکت،مشیر اطلاعات سے ملاقات

    پاکستان کے مشہور گلوکار راحت فتح علی خان نے ڈھاکہ کے آرمی اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے ’ایکوز آف ریوولوشن‘ کنسرٹ میں پرفارم کرکے بنگلادیش میں پاکستانی موسیقی کی محافل سجا دیں۔

    اس شاندار کنسرٹ کا مقصد نہ صرف پاکستانی گلوکاری کی مقبولیت کو فروغ دینا تھا بلکہ بنگلادیش میں حالیہ احتجاجی مظاہروں میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کے لیے مالی مدد فراہم کرنا تھا۔راحت فتح علی خان اور ان کی ٹیم نے اس کنسرٹ میں بغیر کسی معاوضے کے پرفارم کیا، اور منتظمین سے ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل ہونے والے کسی بھی منافع کو بھی لینے سے گریز کیا۔ اس کے علاوہ، کنسرٹ میں بنگلادیش کے مشہور مقامی بینڈز جیسے آرٹ سیل، چرکٹ، آفٹرمتھ اور سلسیلا نے بھی پرفارم کیا۔ اس کے علاوہ، ریپ آرٹسٹ شیزان اور حنان نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

    اس کنسرٹ کا اہتمام کرنے والی تنظیم ’اسپرٹس آف جولائی‘ کا کہنا تھا کہ اس ایونٹ کا مقصد 2023 کے جولائی-اگست میں بنگلادیش میں ہونے والے پرتشدد احتجاج میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کی مدد کرنا تھا۔ منتظمین نے کہا کہ کنسرٹ سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی ’شہدا میموریل فاؤنڈیشن‘ کو عطیہ کی جائے گی، جو متاثرہ خاندانوں کے لیے کام کرتی ہے۔کنسرٹ میں شرکت کرنے والے طلبا کے لیے خصوصی رعایتیں بھی دی گئیں تاکہ وہ اس ایونٹ میں شریک ہو سکیں۔ بنگلادیش کے انقلاب میں طلبا کے اہم کردار کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ٹکٹ خریدنے والے طلبا کو 16 فیصد سے 36 فیصد تک خصوصی رعایت دی گئی تھی۔

    کنسرٹ کے ٹکٹس کو تین مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا
    وی آئی پی ٹکٹس کی قیمت 10 ہزار بنگالی ٹکا تھی، لیکن طلبا کے لیے اس میں 16 فیصد رعایت دے کر قیمت 8 ہزار 400 بنگالی ٹکا کر دی گئی۔
    پہلی قطار کے ٹکٹس کی قیمت 45 ہزار بنگالی ٹکا تھی، جس میں 24 فیصد رعایت کے بعد قیمت 3 ہزار 420 بنگالی ٹکا مقرر کی گئی۔
    جنرل ٹکٹ کی قیمت 2500 بنگالی ٹکا تھی، جس میں 36 فیصد رعایت دے کر اسے صرف 1 ہزار 600 بنگالی ٹکا کر دیا گیا۔
    ڈھاکہ کی تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں میں خصوصی بوتھ بھی قائم کیے گئے تھے تاکہ طلبا آسانی سے ٹکٹ خرید سکیں۔

    اس سے قبل پاکستانی گلوکار عاطف اسلم بھی بنگلادیش میں اپنے کنسرٹ ’میجیکل نائٹ 2.0‘ میں پرفارم کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے اپنی پرفارمنس سے سامعین کا دل جیت لیا۔ عاطف اسلم نے ڈھاکہ کے آرمی اسٹیڈیم میں ہونے والے کنسرٹ میں دو گھنٹے زائد پرفارم کیا اور سامعین کی درخواست پر مزید گانے گائے۔ ان کی پرفارمنس کے دوران انہوں نے اپنے مداحوں سے گفتگو کی اور پوسٹرز، تصاویر، اور ٹی شرٹس پر دستخط بھی کیے۔

    یہ دونوں کنسرٹ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستانی فنکار نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے فن کا لوہا منواتے ہیں اور موسیقی کے ذریعے ثقافتی روابط کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔

    راحت فتح علی خان کی بنگلہ دیش کے مشیر اطلاعات ناہید اسلام سے ملاقات
    پاکستان کے مشہور گلوکار راحت فتح علی خان نے اتوار کے روز بنگلہ دیش کے سیکرٹریٹ میں مشیر اطلاعات و نشریات محمد ناہید اسلام سے ملاقات کی ہے،بنگلہ دیش میں پاکستان کے ثقافتی ورثہ اور موسیقی کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے، ناہید اسلام، جو وزارتِ پوسٹس، ٹیلی کمیونیکیشنز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مشیر بھی ہیں، نے راحت فتح علی خان کی صلاحیتوں کو سراہا اور کہا کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر اور دنیا بھر کے موسیقی کے دنیا کے لئے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ راحت فتح علی خان بنگلہ دیش میں بھی بہت مقبول ہیں اور ان کے مداحوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔مشیر اطلاعات نے گلوکار کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہفتے کے روز ڈھاکہ کے آرمی اسٹیڈیم میں ہونے والے موسیقی کے کنسرٹ میں شرکت کی۔ ناہید اسلام نے اس موقع پر کہا کہ جولائی میں ہونے والی عوامی بغاوت کے بعد بنگلہ دیش میں اس طرح کے ثقافتی پروگرامز کی تنظیم کی ضرورت تھی تاکہ لوگوں میں ہم آہنگی اور ثقافتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

    اس ملاقات کے دوران، راحت فتح علی خان نے بنگلہ دیش کی میلوڈیز اور ثقافت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بنگلہ دیش میں آ کر بہت خوش ہیں اور یہ دعوت دینے پر موجودہ عبوری حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔اس ملاقات میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر برائے بنگلہ دیش محمد واصف، وزارتِ پوسٹس و ٹیلی کمیونیکیشنز کے سیکرٹری ڈاکٹر محمد مشتاق الرحمان، اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کی سیکرٹری مہبوبا فرجانہ بھی موجود تھے۔

    راحت فتح علی خان نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ بنگلہ دیش کی موسیقی اور ثقافتی ورثے کی عالمی سطح پر ترویج کے لیے تعاون کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی موسیقی کا عالمی منظرنامے پر بڑا مقام ہے اور وہ اسے مزید اجاگر کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

    یاد رہے کہ راحت فتح علی خان کی آواز اور موسیقی کے انداز نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں دلوں کو جیتا ہے، اور ان کی بنگلہ دیش میں موجودگی نے مقامی موسیقی کے شائقین کے لیے ایک یادگار لمحہ پیدا کیا ہے۔

  • وزیراعظم پاکستان اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان ملاقات

    وزیراعظم پاکستان اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان ملاقات

    وزیراعظم پاکستان اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف اور عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کے درمیان قاہرہ میں D-8 سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی، جو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان موجودہ خیر سگالی اور برادرانہ تعلقات کی حقیقی عکاسی کرتی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط کو اجاگر کیا۔ انہوں نے دوطرفہ تعاون بالخصوص تجارت، عوام کے درمیان رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کے شعبوں میں پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اقتصادی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کیمیکلز، سیمنٹ کلینکرز، آلات جراحی ، لیدر مصنوعات اور آئی ٹی سیکٹر جیسے شعبوں میں تجارت کو فروغ دینے کے لیے وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم شہباز نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت اور سفر کی سہولت کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات پر بنگلہ دیش کا شکریہ ادا کیا۔ جس میں پاکستان سے آنے والے سامان کے 100% فزیکل معائنہ کی شرط کو ختم کرنا اور ڈھاکہ ایئرپورٹ پر پاکستانی مسافروں کی جانچ پڑتال کے لیے قائم کیے گئے خصوصی سیکیورٹی ڈیسک کو ختم کرنا شامل ہے۔ وزیراعظم نے پاکستانی ویزا کے درخواست دہندگان کے لیے اضافی کلیئرنس کی شرط ختم کرنے پر بنگلہ دیش کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،شعیب شاہین کی درخواست پرحکم امتناع جاری

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

  • 80 ہزار کروڑ ٹکے کرپشن: حسینہ واجد اور انکے خاندان کیخلاف تحقیقات کا فیصلہ

    80 ہزار کروڑ ٹکے کرپشن: حسینہ واجد اور انکے خاندان کیخلاف تحقیقات کا فیصلہ

    بنگلہ دیش کے انسداد بدعنوانی کمیشن نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اوران کے خاندان کے خلاف 80 ہزار کروڑ ٹکے کی کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ان الزامات میں روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ سے 5 بلین ڈالر (59,000 کروڑ ٹکے) کی بدعنوانی کا الزام شامل ہے جبکہ اس منصوبے سمیت دیگر منصوبوں میں کی گئی بدعنوانی کا تخمینہ 80،000 کروڑ ٹکے لگایا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ملزمان میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ، ان کی بہن شیخ ریحانہ، ان کے بیٹے سجیب واجد جوئے اور ان کی بھانجی ٹیولپ صدیق سمیت خاندان کے دیگر افراد شامل ہیں، سابق وزیر اعظم کے خاندان کے خلاف الزامات میں روپ پور کے علاوہ آشریان جیسے منصوبوں میں بھی بے ضابطگیاں شامل ہیں۔روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ میں شیخ حسینہ کے خاندان کی بدعنوانی سے متعلق رپورٹس 19 اگست کو متعدد اخبارات میں شائع ہوئیں، جن کا بعد میں رٹ پٹیشن میں حوالہ دیا گیا۔ان رپورٹوں میں گلوبل ڈیفنس کارپوریشن کی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ شیخ حسینہ، سجیب واجد جوائے اور ٹیولپ صدیق نے ایک غیر ملکی بینک کے ذریعے 5 ارب ڈالر کی خورد برد کی جبکہ شیخ حسینہ پر روپ پور پراجیکٹ سے 5 بلین ڈالر سے زائد کا گھپلا کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

    سیالکوٹ:انسداد پولیو مہم میں 7 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے

    کراچی :570 مخدوش عمارتیں،ہزاروں افراد کے تاحال رہائش پذیر

  • بنگلہ دیش میں کرنسی نوٹوں سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹانے کا فیصلہ

    بنگلہ دیش میں کرنسی نوٹوں سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹانے کا فیصلہ

    ڈھاکا:بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے کرنسی نوٹوں سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عوامی انقلاب کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا، عبوری حکومت کی جانب سے مختلف تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، عبوری حکومت نے شیخ مجیب الرحمان کا دیا گیا نعرہ ”جوئے بنگلہ“ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق اپیلیٹ ڈویژن کے فیصلے کے بعد جوئے بنگلہ کو اب قومی نعرہ نہیں سمجھا جائے گا، عبوری حکومت نے بنگلہ دیشی کرنسی نوٹوں سے شیخ مجیب الرحمان کی تصویر ہٹانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

    بنگلہ دیش بینک نئے نوٹ چھاپ رہا ہے، جس میں حالیہ انقلاب کی خصوصیات بھی شامل ہیں، ڈھاکہ ٹریبیون نےطالب علموں کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا جس نے حسینہ کو 5 اگست کو ہندوستان فرار ہونے پر مجبور کیا تھانوبل انعام یافتہ محمد یونس نے عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر چیف ایڈوائزر کا چارج سنبھالا-

    مرکزی بینک کے مطابق 20، 100، 500 اور 1000 روپے کے نوٹ عبوری حکومت کی ہدایات پر چھاپے جا رہے ہیں، نئے نوٹوں میں’ شیخ مجیب الرحمان کی تصویر شامل نہیں ہوگی، مذہبی ڈھانچے، بنگالی روایات، اور جولائی کے انقلاب کے دوران کھینچی گئی "گرافٹی” کو شامل کیا جائے گا۔

    بنگلہ دیش بینک کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر حسنیارا شیکھا نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ نئے نوٹ کو اگلے چھ ماہ کے اندر مارکیٹ میں جاری کیا جا سکتا ہے۔

    اخبار کے مطابق، بینک اور وزارت خزانہ کے حکام نے کہا کہ موجودہ نوٹوں سے لیڈر کی تصویر ہٹا دی جائے گی انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر، چار نوٹوں کے ڈیزائن کو تبدیل کیا جا رہا ہے، اور باقی کو مرحلہ وار دوبارہ ڈیزائن کیا جائے گا۔

    وزارت خزانہ کے فنانس انسٹی ٹیوٹ ڈویژن نے ستمبر میں نئے نوٹوں کے لیے ایک تفصیلی ڈیزائن کی تجویز پیش کی تھی۔