Baaghi TV

Tag: بنگلہ دیش

  • پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

    شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات ابھر کر سامنے آرہے ہیں.12 دسمبر 2024 کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس آڈیٹوریم اسلام آباد میں پاک بنگلہ دیش تعلقات پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا.کانفرنس کا انعقاد رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلوبل یوتھ ایسوسی ایشن، پاک سوشل الائنس اور پاکستان سول سوسائٹی کے اشتراک سے کیا گیا. کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور قومی ترانے کی مسحور کن دھنوں سے ہوا.کانفرنس میں بنگلہ دیش سے خواتین و حضرات بشمول ڈاکٹر پروفیسر شاہدزمان، سابق ڈین ڈھاکہ یونیورسٹی، اور بین الاقوامی اسکالر نے آن لائن شرکت کی،

    1971 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیش سے اتنی بڑی تعداد میں کسی پاکستانی تقریب میں شرکت کی گئی. بنگلہ دیشی شرکاء نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور بھارتی ہندوتوا کی لعنت کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا. شرکاء نے مشترکہ امن وخوشحالی اور ترقی کے لیے مل کر آگے بڑھنے پر زور دیا. پاکستان کی طرف سے ممتاز ماہرین تعلیم، نوجوان رہنما، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، اور کامیاب کاروباری افراد مرکزی مقررین تھے. تمام شرکاء نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر زور دیا.شرکاء نے جعلی خبروں سے بچنےاور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت وقت کو اجاگر کیا .شرکاء نے مشرقی پاکستان میں 1971 کے ہنگامہ خیز سال کے دوران ہمارے فوجیوں، بہاریوں اور محب وطن شہریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا . تقریب میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی مختلف یونیورسٹیوں کے نوجوانوں اور یتیم خانوں کے بچوں کی بڑی تعداد میں شرکت. کانفرنس کا اختتام بنگلہ دیش سے آئےمہمان مقررین اور تمام شرکاء کے شکریہ کے ساتھ ہوا. کانفرنس کے مقررین، یوتھ ٹیم لیڈرز اور کانفرنس کے منتظمین کو یادگاری شیلڈز اور اسناد بھی پیش کی گئیں

    20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

  • بنگلہ دیشی سیاستدان نے بھارتی علاقے  پر اپنا دعوی کر دیا

    بنگلہ دیشی سیاستدان نے بھارتی علاقے پر اپنا دعوی کر دیا

    بنگلہ دیشی سیاستدان روح کبیر نے بھارتی ریاست مغربی بنگلہ، بہار اور اڈیشہ کے بنگلہ دیش کا حصہ ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں انڈیا کے ری پبلک ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ چٹاگانگ بھارت کا حصہ تھا۔بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے سینئر جوائنٹ سیکریٹری روح کبیر رضوی نے بھارتی ٹی وی کے اس دعویٰ پر فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی ریاست مغربی بنگال، بہار اور اڈیشہ بنگلہ دیش کا حصہ ہیں۔روح کبیر رضوی نے انڈین چینل کے دعوے پر خبردار کیا کہ بنگلہ دیش بھارتی بنگال، بہار اور اڈیشہ جیسے علاقوں پر بھی ملکیت کا دعویٰ کرے گا، جہاں کبھی مسلم نوابوں کی حکومت تھی۔انہوں نے بھارت کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ نیپال، بھوٹان، سری لنکا، مالدیپ اور پاکستان انڈیا کے نفرت انگیز اور بدنیتی پر مبنی رویے کی وجہ سے اس کے ساتھ نہیں ہیں اور اب بنگلہ دیش بھی آپ کے ساتھ نہیں ہے۔ یہ صرف اور صرف آپ کے تکبر اور استحصالی رویہ کی وجہ سے ہے جس کا آپ مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔دوسری جانب بنگلہ دیشی سیاستدان کے اس دعوے پر بھارتی مغربی بنگال کی وزیراعلٰی ممتا بینر جی بھی کھل کر میدان میں آ گئیں اور اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے دھمکی دے ڈالی کہ جب بیرونی طاقتیں انڈیا سرزمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گی، تو انڈین لالی پاپ نہیں چوس رہیں ہوں گے۔واضح رہے کہ حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے اور بھارت میں روپوشی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور اس کا اظہار بیانات اور اقدامات سے ہو رہا ہے۔

    سندھ میں 25 دسمبر کو عام تعطیل کا اعلان

    پٹرول مزید مہنگا ہونے کا امکان

    بجلی صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کا منصوبہ سامنے آ گیا

  • منفی پروپیگنڈے، بنگلہ دیش میں بھارتی ٹی وی چینلز پر پابندی کی درخواست دائر

    منفی پروپیگنڈے، بنگلہ دیش میں بھارتی ٹی وی چینلز پر پابندی کی درخواست دائر

    بنگلہ دیش میں ملک دشمن عناصر کے طور پر سرگرم اور ریاست مخالف پروپیگنڈے میں ملوث بھارتی ٹی وی چینلز پر پابندی کی درخواست دائر کردی گئی۔

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق بھارتی میڈیا چینلز حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمےکے بعد سے بھارت بنگلہ دیش کیخلاف مسلسل منفی پروپیگینڈا کر رہا ہے،کبھی بنگلہ دیش کی عبوری حکومت پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ بنگالی ہندوئوں کیخلاف تعصبانہ کارروائی میں ملوث ہے اور کبھی ان پر حملوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے،بھارت کی جانب سے یہ تمام منفی پروپیگینڈا کرنے کیلئے نجی نیوز ٹی وی چینلز کا استعمال کیا جا رہا ہے جن کی نشریات بنگلہ دیش میں بھی دکھائی جاتی ہیں،اسی بنیاد پر اب بنگلہ دیش کے ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں بھارتی ٹی وی چینلز پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ پٹیشن کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک آپریشن ایکٹ 2006ء کے تحت ایڈووکیٹ اکلاس الدین بھویاں کی جانب سے دائر کردی گئی ہے، ہائیکورٹ نے رٹ پٹیشن کو سماعت کیلئے مقرر کرلیا ہے اور جسٹس فاطمہ نجیب اور جسٹس سکدار محمود درازی پر مشتمل بینچ تشکیل دیا گیا ہے،درخواست میں وزارت اطلاعات اور وزارت داخلہ، بنگلہ دیش ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری کمیشن کے سیکرٹریوں کو مدعی کے طور پر نامزد کیا گیا ہے” بنگلہ دیشی میڈیا کےمطابق سٹار جلسہ ، سٹار پلس، زی بنگلہ اور ریپبلک بنگلہ پر پابندی کا مطالبہ کیاگیا ہے،درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ بھارتی چینلز پر اشتعال انگیز خبریں دکھائی جا رہی ہیں،بنگلہ دیشی ثقافت کے خلاف مواد نوجوانوں پر منفی اثر ڈال رہا ہے،مزید یہ الزام لگایا گیا ہے کہ یہ چینل بغیر کسی اصول کی پیروی کیے چلائے جارہے ہیں۔

    ن لیگی امیدواروں کی درخواستیں منظور، اسلام آباد کے کیسز دوسرے ٹریبونلز کو منتقل

    کے الیکٹرک نے کراچی ریلوے اسٹیشنوں کی بجلی کاٹ دی

    علی امین گنڈاپور کا قیام امن پر سکیورٹی اداروں کو سلام

  • مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز جھڑپیں، بنگالی عوام سے پر امن رہنے کی اپیل

    مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز جھڑپیں، بنگالی عوام سے پر امن رہنے کی اپیل

    بنگلہ دیش کی اہم سیاسی جماعتوں نے ہندو مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران وکیل کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں وسیع پیمانے پر پر تشدد واقعات کے بعد عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر سیف الاسلام الف منگل کے روز اس وقت انتقال کر گئے جب ہندو پنڈت چنموئے کرشنا داس برہمچاری کی ضمانت مسترد ہونے کے بعد ان کے مشتعل حامیوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی، ہندو پنڈت کو ایک ریلی کے دوران بنگلہ دیشی پرچم کی بے حرمتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔مسلم اکثریتی ملک میں اگست میں طلبہ کی زیرقیادت احتجاج کے نتیجے میں مطلق العنان سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کا تختہ الٹنے کے بعد سے بین المذاہب تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں جب کہ وہ اپنی حکومت جانے کے بعد بھارت فرار ہو گئی تھیں۔حسینہ واجد کے 15 سالہ دور اقتدار میں ان کے دو اہم مخالف جماعتوں بنگلہ دیشی نیشنل پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی نے عوام پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔آج روزنامہ پرتھم الو نے بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ تازہ ترین اشتعال کے پیچھے شکست زدہ فاشسٹ گروپ کا ہاتھ ہے، ان کا اشارہ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کی طرف تھا۔انہوں نے اخبار کو بتایا کہ یہ واقعہ مکمل طور پر نا قابل قبول ہے، ہم اس کی سختی سے مذمت کرتے ہیں اور سب پر زور دیتے ہیں کہ وہ پرامن طریقے سے صورتحال سے نمٹیں۔جماعت اسلامی کے شفیق الرحمٰن نے جاری بے امنی کا الزام ایک ملک کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کرنے والے مفاد پرست گروپ پر لگایا۔سڑکوں پر مظاہروں کے دوران عالمی ہندو مذہبی گروپ انٹرنیشنل سوسائٹی فار کرشنا کانسیئسنس ( آئی ایس کے سی او این )جسے ہرے کرشنا تحریک بھی کہا جاتا ہے، پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا، ہندو پنڈت چنموئے کرشنا داس برہمچاری کا تعلق مبینہ طور پر اس گروپ ہے۔اسلامی مدارس کی ایک تنظیم حزبِ اسلام کے رہنما مامون الحق نے گروپ پر پابندی کا مطالبہ کرنے کے لیے ریلی نکالی جس میں الزام لگایا گیا کہ یہ بھارت کی جانب سے حسینہ واجد کو اقتدار میں واپس لانے کا ایک محاذ ہے، جو ان کی معزول کردہ حکومت سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں ہندو مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کے نتیجے میں وکیل کی ہلاکت کے بعد پولیس نے 21 افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا، گرفتار ہونے والے 21 افراد میں سے 6 پر شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ اور کالعدم طلبہ تنظیم ’چھاترا لیگ‘ کا رکن ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔

    وفاق میں ہمت ہےتو گورنر راج لگا کر دکھائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    پی ٹی آئی شرپسندوں کا پولیس سے زبردستی نعرے لگوانے کا قابل مذمت واقعہ

    انڈونیشیا اور ملائیشیا میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، 30 افراد جاں بحق

    پی ٹی آئی پر پابندی ،قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

  • پاکستان تعیناتی میرے کیریئر کا بہترین دور ہے،بنگلہ دیشی سفیر

    پاکستان تعیناتی میرے کیریئر کا بہترین دور ہے،بنگلہ دیشی سفیر

    اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی سے بنگلا دیش کے ہائی کمشنر محمد روح العالم صدیقی نے ملاقات کی،جس میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ماجلاس کے حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور بنگلا دیش میں کرکٹ کے کھیل کے فروغ پر بھی بات چیت کی گئی اور بنگلا دیشی ہائی کمشنر نے چیمپئنزٹرافی کے انعقاد کے حوالے سے پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف اور بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس کے مابین باکو میں ملاقات انتہائی خوش گوار رہی، وزیراعظم پاکستان کی خصوصی ہدایت پر بنگلا دیش کا جلد دورہ کروں گا اور اس دورے کا مقصد بنگلہ دیش کی حکومت اورعوام کے ساتھ خیر سگالی اور دو طرفہ تعلقات مضوط تر بنانے ہیں، پاکستان اوربنگلا دیش کے درمیان دیرینہ برادارنہ تعلقات ہیں، پاکستان بنگلا دیش کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کا خواہاں ہے،چیمپینز ٹرافی کے بھر پور انعقاد کے لیے تمام تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔

    اس موقع پر بنگلا دیشی ہائی کمشنر محمد روح العالم صدیقی نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ اور آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ بنگلہ دیش میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بے پناہ پذیرائی اور سپورٹ حاصل ہے بنگلا دیش پاکستان کے ساتھ برادرنہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، دونوں ملکوں کے مابین عوامی سطح پر بہترین روابط ہیں، پاکستان تعیناتی میرے کیریئر کا بہترین دور ہے اور مجھے بہت محبت ملی ہے اور سفارتی برادری میں پاکستان بہترین ڈیوٹی اسٹیشن مانا جاتا ہے۔

  • بنگلہ دیش میں ڈینگی سےاموات 400 سے زائد ہو گئیں

    بنگلہ دیش میں ڈینگی سےاموات 400 سے زائد ہو گئیں

    بنگلہ دیش کو حالیہ برسوں کے مقابلے میں ڈینگی کی بدترین وبا کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں اب تک 400 سے زائد اموات ہوچکی ہیں.

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ رواں سال ڈینگی سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث کم ازکم 407 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ ملک بھر میں 78 ہزار 595 مریضوں کو ہسپتالوں میں داخل کروایا گیا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے اور مون سون کا موسم طول پکڑنے کے باعث ڈینگی کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کے نتیجے میں بالخصوص شہری علاقوں میں ہسپتالوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔نومبر کے وسط تک 4 ہزار 137 مریضوں کا علاج کیا گیا ہے جن میں سے 1835 کاتعلق دارالحکومت ڈھاکا اور 2 ہزار338 کا تعلق دیگر علاقوں سے ہے۔معروف معالج ڈاکٹر اے بی ایم عبداللہ کا کہنا ہے کہ اگر ڈینگی کی جلد تشخیص کی جائے اور اس کا مناسب علاج کیا جائے تو اموات میں ایک فیصد سے بھی کم کمی لائی جا سکتی ہے۔شہروں کی گنجان آبادی اس بیماری کے پھیلاؤ کو بڑھادیتی ہے جو کہ عموماً مون سون کے موسم میں جون تا ستمبر عام بات ہے گوکہ اس سال اسکی مدت بڑھ گئی ہے۔درجہ حرارت میں اضافے اور طویل مون سون، جوکہ موسمیاتی تبدیلی سے تعلق رکھتے ہیں، مچھروں کی افزائش میں اضافے کی وجہ بنے ہیں جوکہ وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ بنا ہے۔دوسری طرف محکمہ صحت کے حکام نے مچھروں کے کاٹنے سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ ماہرین چاہتے ہیں کہ جہاں مچھروں کی افزائش ہوتی ہے وہاں جمے ہوئے پانی کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔

  • بھارت میں روپوش حسینہ واجد کی ٹرمپ کو مبارک

    بھارت میں روپوش حسینہ واجد کی ٹرمپ کو مبارک

    بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر انہیں مبارکباد دی ہے۔

    بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت میں چھپنے والی حسینہ واجد نے ٹرمپ کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بنگلہ دیش اور امریکہ کے دوطرفہ اور کثیر الجہتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ شیخ حسینہ نے 47ویں امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پر عوامی لیگ کے آفیشل فیس بک پیج پر ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا کہ "امریکی عوام نے ڈونلڈ ٹرمپ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔”شیخ حسینہ نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو نہیں بھول سکتی۔ انہوں نے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ بنگلہ دیش اور امریکہ کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کام کریں گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا بنگلہ دیش کے حوالے سے نقطہ نظر ان کے پہلے صدارتی دور میں واضح ہو چکا ہے۔ وہ بنگلہ دیش کو ایک جمہوریت پسند ملک کے طور پر دیکھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے بنگلہ دیش میں ہندو برادری پر ہونے والے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ مسئلہ امریکی ہندو کمیونٹی کے لیے بہت اہم ہے۔ ٹرمپ نے دنیا بھر میں ہندو برادری کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

    امریکی صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے طویل انتخابی مہم کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار کملا ہیرس کو شکست دے کر اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کومبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

  • منی لانڈرنگ،آمدن سے زائد اثاثے،بنگلہ دیش کے سابق آرمی چیف پر سفری پابندی عائد

    منی لانڈرنگ،آمدن سے زائد اثاثے،بنگلہ دیش کے سابق آرمی چیف پر سفری پابندی عائد

    بنگلہ دیش کے سابق آرمی چیف عزیز احمد پر سفری پابندی عائد کر دی گئی ہے

    ایک عدالت نے سابق آرمی چیف عزیز احمد اور ان کی اہلیہ دلشاد نہار کاکولی پر سفری پابندی عائد کر دی ہے۔یہ حکم جمعرات کو ڈھاکہ میٹروپولیٹن سیشن جج محمد عصام جہانگیر حسین نے انسداد بدعنوانی کمیشن (اے سی سی) کی درخواست کے بعد جاری کیا۔انسداد بد عنوانی کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر زکریا نے سابق آرمی چیف عزیز احمد کے خلاف سفری پابندی کی درخواست دائر کی تھی۔ سماعت کے دوران انسداد بد عنوانی کمیشن کے پبلک پراسیکیوٹر محمود حسین جہانگیر نے دلائل دیئے۔ سماعت کے بعد عدالت نے سفری پابندی کا حکم دے دیا۔

    درخواست میں تفتیشی افسر نے سابق آرمی چیف عزیز احمد کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال، مختلف بے ضابطگیاں اور بدعنوانی کے الزامات کا ذ کر کیا جس کے ذریعے سابق آرمی چیف عزیز احمد نے اور ان کے خاندان کے افراد نے اپنی معلوم آمدنی سے زائد اثاثے بنائے۔ان الزامات میں ملائیشیا، سنگاپور اور دبئی میں کاروبار کرنے اور جائیداد خریدنے کے لیے مختلف بینکوں اور ہنڈیوں کے ذریعے منی لانڈرنگ بھی شامل ہے۔تحقیقات جاری ہے متعلقہ دستاویزات اور معلومات اکٹھی کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    بھارت حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے، مرزا فخر الاسلام

    حسینہ دہلی میں بیٹھ کر عوامی فتح کو ناکام بنانے کی سازش کر رہی ہے،مرزا فخرالاسلام

    حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی کی درخواست دائر

    مچھلی کے تاجر کے قتل پر حسینہ واجدکے خلاف مقدمہ درج

    گرفتاری کا خوف،حسینہ کی پارٹی کے رہنما”دودھ کا غسل” کر کے پارٹی چھوڑنے لگے

    بنگلہ دیش، ریلوے اسٹیشن پر لوٹ مار،تشدد،100 سے زائد زخمی

    ڈاکٹر یونس کی مودی کو فون کال، اقلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی

    حسینہ واجد پر قتل کا ایک اور مقدمہ درج

  • بھارت میں روپوش حسینہ واجد کے وارنٹ گرفتاری جاری

    بھارت میں روپوش حسینہ واجد کے وارنٹ گرفتاری جاری

    بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ شیخ کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں

    انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے خلاف جولائی اور اگست میں امتیازی سلوک کے خلاف طلبہ تحریک کے دوران بڑے پیمانے پر ہلاکتوں پر گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔عدالتی کارروائی کے باضابطہ آغاز کے بعد جمعرات کو ٹربیونل نے یہ وارنٹ جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ حسینہ کو 18 نومبر تک اس کے سامنے پیش کیا جائے۔عدالت نے عوامی لیگ کے جنرل سیکرٹری عبیدالقادر اور 44 دیگر کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیئے ہیں،آئی سی ٹی پراسیکیوٹر بی ایم سلطان محمود کا کہنا ہے کہ ٹریبونل کے سامنے دو درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں، پہلی حسینہ کے وارنٹ گرفتاری کے لیے اور دوسری 45 دیگر کے لیے۔ ٹریبونل نے دونوں درخواستوں کو قبول کرتے ہوئے 18 نومبر تک طلب کر لی ہے۔

    ٹربیونل کی کارروائی 11:30 بجے کے فوراً بعد شروع ہوئی، بینچ کی سربراہی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے چیئرمین جسٹس محمد غلام مرتضیٰ مجمدار نے کی۔قبل ازیں رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ استغاثہ جولائی سے اگست کے عرصے کے دوران ہونے والے مظالم کے سلسلے میں حسینہ سمیت 50 افراد کے وارنٹ گرفتاری طلب کرے گا۔

    حسینہ واجد، ان کی عوامی لیگ پارٹی اور 14 جماعتی اتحاد کے دیگر رہنماؤں، صحافیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سابق اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف اب تک جبری گمشدگی، قتل اور اجتماعی قتل کی 60 سے زائد شکایات انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل میں دائر کی جا چکی ہیں۔

    اتوار کو ٹریبونل کے چیف پراسیکیوٹر ایڈووکیٹ تاج الاسلام نے میڈیا کو بتایا کہ جولائی میں ہونے والے اجتماعی قتل کے ملزمان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ اور سفری پابندیاں رواں ہفتے کے اندر طلب کی جائیں گی۔
    انہوں نے مزید کہا کہ حسینہ سمیت مفرور ملزمان کو واپس لانے کے لیے انٹرپول کی مدد لی جائے گی جو اس وقت بیرون ملک ہیں۔

    بھارت حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے، مرزا فخر الاسلام

    حسینہ دہلی میں بیٹھ کر عوامی فتح کو ناکام بنانے کی سازش کر رہی ہے،مرزا فخرالاسلام

    حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی کی درخواست دائر

    مچھلی کے تاجر کے قتل پر حسینہ واجدکے خلاف مقدمہ درج

    گرفتاری کا خوف،حسینہ کی پارٹی کے رہنما”دودھ کا غسل” کر کے پارٹی چھوڑنے لگے

    بنگلہ دیش، ریلوے اسٹیشن پر لوٹ مار،تشدد،100 سے زائد زخمی

    ڈاکٹر یونس کی مودی کو فون کال، اقلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی

    حسینہ واجد پر قتل کا ایک اور مقدمہ درج

    5 اگست کی شام، واقعات کے ایک انتہائی ڈرامائی موڑ میں، بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ، ہندوستان کے شہر دہلی کے قریب ہندن ایئربیس پر اتریں۔ بنگلہ دیشی فضائیہ کے طیارے میں ان کے ساتھ ان کی چھوٹی بہن شیخ ریحانہ بھی تھیں۔اگلے دن، بھارتی حکومت نے باضابطہ طور پر ملکی پارلیمان میں ان کی آمد کا اعلان کیا۔ تاہم، دہلی سے شیخ حسینہ کے ہندوستان میں قیام کے حوالے سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہوا ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان حسینہ واجد سے متعلق تمام سوالات سے گریز کر رہے ہیں اور حکومتی سطح پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔مزید یہ کہ دہلی سے اس بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ آیا اسے سیاسی پناہ دی جائے گی۔سرکاری معلومات کی اس کمی نے حسینہ کے وہاں قیام کے حوالے سے بڑے پیمانے پر قیاس آرائیوں اور افواہوں کو جنم دیا ہے۔

    ہندوستان میں اترنے کے بعد حسینہ نے اپنی پہلی رات غازی آباد کے ہندن ایئربیس کے وی آئی پی لاؤنج میں گزاری۔ ہندن، بنیادی طور پر ایک فوجی ایئربیس ہے اور وہاں اعلیٰ فوجی حکام کے قیام کے لیے انتظامات ہیں۔ اگلے دن، مبینہ طور پر اسے غازی آباد میں نیم فوجی دستوں کے ایک محفوظ گھر یا گیسٹ ہاؤس میں منتقل کر دیا گیا، جو ریاست اتر پردیش میں ہے۔تاہم یہ معلوم ہوا ہے کہ اسے ایک رات دیر گئے اندھیرے کی آڑ میں ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے وہاں سے دہلی کے ایک خفیہ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔ تقریباً 10-12 دن پہلے، جنوبی دہلی کے باشندوں نے رات گئے ایک ہیلی کاپٹر کو اڑتے دیکھا، ایسے اوقات میں ہیلی کاپٹروں کا دہلی کے اوپر سے پرواز کرنا غیر معمولی بات ہے۔ مشرقی اور جنوبی دہلی کے مختلف حصوں سے کئی مقامی لوگوں نے اس واقعہ کا مشاہدہ کیا اور کچھ نے سوشل میڈیا پر تصاویر بھی پوسٹ کیں۔اس کے بعد کے واقعات کا تجزیہ کرنے پر ماہرین کو کافی حد تک یقین ہے کہ حسینہ اور ریحانہ کو اسی رات ہیلی کاپٹر کے ذریعے دہلی لایا گیا تھا۔ دہلی کے اندر کئی فوجی ہیلی پیڈ ہیں، اور ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر ان میں سے ایک پر اترا، جہاں سے انہیں کار کے ذریعے قریبی خفیہ مقام پر پہنچایا گیا۔

    شیخ حسینہ کی بیٹی، صائمہ وازد، جسے پوتول کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بنیادی طور پر گزشتہ سال سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے جنوب مشرقی ایشیائی علاقائی ڈائریکٹر کے طور پر اپنے کردار کی وجہ سے دہلی میں مقیم ہیں۔ وہ جنوبی دہلی کے ایک اعلیٰ درجے کے علاقے میں انتہائی محفوظ ماحول میں رہتی ہے۔ تاہم، جب حسینہ 5 اگست کو ہندوستان پہنچی تو صائمہ تھائی لینڈ میں ڈبلیو ایچ او کے مشن پر تھیں لیکن جلد ہی دہلی واپس آگئیں۔حسینہ کی آمد کے ڈھائی دن بعد، صائمہ نے 8 اگست کی صبح ٹویٹ کیا کہ وہ اس بات سے دل شکستہ ہیں کہ وہ "اس مشکل وقت میں” اپنی والدہ سے نہیں مل سکیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ہی شہر میں رہنے کے باوجود ماں بیٹی کی ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی تھی۔صائمہ کو شاید حسینہ سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جو کہ اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی کی افسر کے طور پر ہندوستان میں عارضی طور پر پناہ لے رہی تھی۔ اگرچہ حسینہ ان کی والدہ ہیں لیکن صائمہ کی سرکاری حیثیت نے ایسی ملاقات کو سفارتی طور پر حساس بنا دیا۔تاہم 24 گھنٹے کے اندر صائمہ نے ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی والدہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    دہلی میں کئی سینئر عہدیداروں نے اشارہ دیا کہ ماں اور بیٹی نے شہر میں کئی بار ذاتی طور پر ملاقات کی تھی، لیکن ان ملاقاتوں کو مختلف وجوہات کی بناء پر عام نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے صورتحال کو عوام کی نظروں سے دور رکھنے کو ترجیح دی۔ایک ذریعہ نے یہاں تک کہا کہ ماں اور بیٹی دہلی میں ایک ساتھ یا ایک ہی چھت کے نیچے رہ رہے ہیں، حالانکہ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔صائمہ وازد چند روز قبل ڈبلیو ایچ او کے کاروبار کے سلسلے میں مشرقی تیمور روانہ ہوئی تھیں، اس لیے ان کی والدہ سے کوئی بھی ملاقات ان کی روانگی سے قبل ہو سکتی ہے۔

    حسینہ جن حالات میں بھارت پہنچی، اس کے پیش نظر بھارت کی سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے ایسے مہمانوں کو ڈیبریف کرنے کا رواج ہے۔ بنگلہ دیش کے سابق وزیر اعظم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔اس ڈیبریفنگ کا مقصد اس صورتحال کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھا کرنا ہے جس کی وجہ سے اسے اپنا ملک چھوڑنا پڑا، اس دوران مختلف افراد یا تنظیموں کے کردار اور اس میں ملوث افراد کے اقدامات یا بیانات۔ اس کا مقصد اسے یہ بتانا بھی ہے کہ ہندوستان اپنے قیام کے دوران اس سے کیا توقعات رکھتا ہے۔یہ ڈیبریفنگ سیشن عام طور پر کئی دنوں میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حسینہ پہلے بھی اس طرح کے کئی سیشنز سے گزر چکی ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ 1959 میں اس خطے سے فرار ہو کر ہندوستان میں داخل ہوئے تو انہوں نے بھی وسیع بحث کے سیشنز سے گزرا۔دلائی لامہ 31 مارچ کو اروناچل پردیش میں توانگ سرحد کے ذریعے ہندوستان میں داخل ہوئے اور پھر میدانی قصبے تیز پور میں اترے۔ اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو سے ملاقات کے لیے دہلی لائے جانے سے پہلے ہندوستان کی سیکورٹی ایجنسیوں نے انہیں تین ہفتے تک وہاں ڈیبری کیا۔ تاہم دلائی لامہ کو دہلی کی طرف سے ان کی آمد سے قبل سیاسی پناہ کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، یہ وعدہ پورا کیا گیا۔

    اسی طرح، جب ہندوستانی فضائیہ کے لڑاکا طیارے کے پائلٹ ابھینندن کو 2019 میں پاکستان میں ایک پاکستانی جنگی طیارے کا تعاقب کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا، تو پاکستان کی جانب سے اسے ہندوستان کے حوالے کرنے کے بعد ان کی بھی ہندوستانی فوج کی طرف سے ڈیبرینگ ہوئی تھی۔ ایسے حالات میں اس طرح کے طریقہ کار معیاری ہوتے ہیں۔

    حسینہ کے معاملے میں غیر معمولی بات یہ ہے کہ ان کے ڈیبریفنگ سیشنز ذاتی طور پر ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کر رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم کے اعزاز، اہمیت اور وقار کو دیکھتے ہوئے، اجیت نے بظاہر یہ ذمہ داری خود لی ہے۔اجیت ڈووال نے بھی حسینہ کا ذاتی طور پر استقبال کیا جب وہ 5 اگست کو ہندن ایئربیس پر پہنچیں۔ اس بات کی بھی تصدیق ہوئی ہے کہ شیخ حسینہ گزشتہ چند دنوں میں کئی بار ہندوستان کے اعلیٰ حکام سے رابطے میں رہی ہیں، حالانکہ ان افراد کی صحیح شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

    حسینہ کو تیسرے ملک بھیجنے کی کوشش
    یہ قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں کہ شیخ حسینہ کے ہندوستان میں قیام کو بڑھایا جا سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی، ہندوستان انہیں کسی تیسرے "دوستانہ” ملک میں بھیجنے کا امکان بھی تلاش کر رہا ہے۔ہندوستان کا سرکاری موقف یہ ہے کہ شیخ حسینہ "عارضی طور پر” ہندوستان میں ہیں، یعنی ہندوستان ان کی آخری منزل نہیں ہے اور وہ محض ہندوستان کے راستے کسی دوسرے ملک کی طرف سفر کر رہی ہیں۔ لیکن ہندوستانی حکومت نے اس بارے میں کوئی ٹائم لائن فراہم نہیں کی ہے کہ وہ کب تک ہندوستان میں رہ سکتی ہیں اور نہ ہی اس بارے میں کوئی تبصرہ کیا ہے کہ آیا انہیں سیاسی پناہ دی جائے گی۔شیخ حسینہ جب پہلی بار ہندوستان میں اتریں تو دہلی میں ایک توقع تھی کہ شاید وہ چند گھنٹوں میں برطانیہ روانہ ہو جائیں گی۔ جب یہ عمل نہ ہوا تو دہلی نے دوسرے ممالک تک رسائی شروع کر دی۔یہ معلوم ہوا ہے کہ جن ممالک نے ابتدائی طور پر رابطہ کیا ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چند یورپی ممالک (ممکنہ طور پر فن لینڈ، جمہوریہ چیک اور سلووینیا) شامل تھے۔تاہم، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ حسینہ نے ان میں سے کسی بھی ملک میں سیاسی پناہ کی درخواست نہیں دی۔ تمام بات چیت بھارت نے کی تھی۔ ایک دوسرے ملک کے ساتھ بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی، قطر، جو مشرق وسطیٰ میں ایک انتہائی بااثر اقتصادی طاقت ہے۔اگرچہ حسینہ کو سیاسی پناہ دینے کے حوالے سے قطر کے ساتھ "غیر رسمی” بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے، لیکن یہ بات چیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔ یہ پیچیدہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔تاہم، اگر حسینہ کو کسی موزوں تیسرے ملک بھیجنے کی کوشش بالآخر ناکام ہو جاتی ہے، تو بھارت ذہنی طور پر اسے سیاسی پناہ دینے اور ملک میں رہنے کی اجازت دینے کی تیاری کر رہا ہے۔ شیخ حسینہ کی دہلی آمد کے تین ہفتے بعد، یہ ہندوستان کے موقف کا نچوڑ ہے۔

  • وزیراعظم اور بنگلہ دیش حکومت کے چیف ایڈوائزر کی ملاقات

    وزیراعظم اور بنگلہ دیش حکومت کے چیف ایڈوائزر کی ملاقات

    نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف سے بنگلہ دیشی حکومت کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ہوئی ،ملاقات میں دو طرفہ تعلقات ، اقتصادی تعاون کی وسعت پر تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات میں اہم علاقائی و عالمی امور بھی زیر غور آئے ،ملاقات میں جنوبی ایشاء میں امن، استحکام اور ترقی کی نئی راہیں تلاش کرنے پر غور کیا گیا

    وزیراعظم شہباز شریف کی کویت کے ولی عہد سے ملاقات
    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس کے موقع پر کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الحمد المبارک الصباح سے ملاقات کی۔وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ اور دوستانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں بشمول سیاسی، اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں تعاون اور عوامی اور سماجی تبادلے بڑھانے کے حوالے سے گفتگو کی۔وزیراعظم پاکستان نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت کویت اور پاکستان کے درمیان اقتصادی روابط اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے عمل درآمد کے عزم کا اظہار کیا۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تعاون بڑھانے کا اعادہ کیا۔

    Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif held a meeting with the Crown Prince of Kuwait, His Highness Sheikh Sabah Al-Khaled Al-Hamad Al-Mubarak Al-Sabah on the sidelines of the 79th United Nations General Assembly Session.

    وزیر اعظم شہباز شر یف کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات
    دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شر یف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی، اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ میں امن مشن کے طور پر پاکستان کی خدمات کو سراہا، سیکرٹری جنرل اور وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان اور مشرق وسطیٰ سمیت خطے میں ہونے والی پیش رفت اور مشترکہ تشویش کے دیگر امور پر تبادلہ خیال بھی کیا،سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ میں امن مشن کے طور پر پاکستان کی خدمات کو سراہا

    pmun

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی ترک صدر عزت مآب رجب طیب ایردوان سے نیویارک میں یواین جنرل اسمبلی کے79ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا اور تجارت،سرمایہ کاری،دفاع سلامتی کے شعبوں میں باہمی طور پر مفید تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔انہوں نے مستقبل قریب میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پاکستان-ترکیہ اعلیٰ سطحی سٹریٹجک کوآپریشن کونسل (HLSCC) کے آئندہ 7ویں اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور بالخصوص غزہ میں جاری نسل کشی اور سنگین انسانی صورتحال پر بھی تبادلہِ خیال کیا۔ انہوں نے غزہ میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور گشیدگی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔وزیرِاعظم نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر (IIOJK) کے مظلوم عوام کے لیے ترکیہ کی مضبوط اور مستقل حمایت کو سراہا۔ملاقات کے دوران صدر اردوان نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی معاشی پالیسیوں کی تعریف کی جن کی بدولت پاکستان کی معیشت میں استحکام آیا اور وزیرِاعظم کی قیادت اور اقتصادی اصلاحات کے عزم کو سراہا۔ مزید برآں صدر اردوان نے وزیراعظم شہباز شریف کو سالگرہ کی مبارکباد بھی دی۔

    آئی ایم ایف کی شرائط کڑی تھیں،کچھ کا تعلق چین سے تھا،وزیراعظم

    وزیر اعظم کی مالدیپ کے صدر سے ملاقات: تجارت، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلی میں تعاون کا عہد