Baaghi TV

Tag: بنگلہ دیش

  • 80 ہزار کروڑ ٹکے کرپشن: حسینہ واجد اور انکے خاندان کیخلاف تحقیقات کا فیصلہ

    80 ہزار کروڑ ٹکے کرپشن: حسینہ واجد اور انکے خاندان کیخلاف تحقیقات کا فیصلہ

    بنگلہ دیش کے انسداد بدعنوانی کمیشن نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اوران کے خاندان کے خلاف 80 ہزار کروڑ ٹکے کی کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ان الزامات میں روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ سے 5 بلین ڈالر (59,000 کروڑ ٹکے) کی بدعنوانی کا الزام شامل ہے جبکہ اس منصوبے سمیت دیگر منصوبوں میں کی گئی بدعنوانی کا تخمینہ 80،000 کروڑ ٹکے لگایا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ملزمان میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ، ان کی بہن شیخ ریحانہ، ان کے بیٹے سجیب واجد جوئے اور ان کی بھانجی ٹیولپ صدیق سمیت خاندان کے دیگر افراد شامل ہیں، سابق وزیر اعظم کے خاندان کے خلاف الزامات میں روپ پور کے علاوہ آشریان جیسے منصوبوں میں بھی بے ضابطگیاں شامل ہیں۔روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ میں شیخ حسینہ کے خاندان کی بدعنوانی سے متعلق رپورٹس 19 اگست کو متعدد اخبارات میں شائع ہوئیں، جن کا بعد میں رٹ پٹیشن میں حوالہ دیا گیا۔ان رپورٹوں میں گلوبل ڈیفنس کارپوریشن کی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ شیخ حسینہ، سجیب واجد جوائے اور ٹیولپ صدیق نے ایک غیر ملکی بینک کے ذریعے 5 ارب ڈالر کی خورد برد کی جبکہ شیخ حسینہ پر روپ پور پراجیکٹ سے 5 بلین ڈالر سے زائد کا گھپلا کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

    سیالکوٹ:انسداد پولیو مہم میں 7 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے

    کراچی :570 مخدوش عمارتیں،ہزاروں افراد کے تاحال رہائش پذیر

  • بنگلہ دیش میں کرنسی نوٹوں سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹانے کا فیصلہ

    بنگلہ دیش میں کرنسی نوٹوں سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹانے کا فیصلہ

    ڈھاکا:بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے کرنسی نوٹوں سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عوامی انقلاب کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا، عبوری حکومت کی جانب سے مختلف تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، عبوری حکومت نے شیخ مجیب الرحمان کا دیا گیا نعرہ ”جوئے بنگلہ“ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق اپیلیٹ ڈویژن کے فیصلے کے بعد جوئے بنگلہ کو اب قومی نعرہ نہیں سمجھا جائے گا، عبوری حکومت نے بنگلہ دیشی کرنسی نوٹوں سے شیخ مجیب الرحمان کی تصویر ہٹانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

    بنگلہ دیش بینک نئے نوٹ چھاپ رہا ہے، جس میں حالیہ انقلاب کی خصوصیات بھی شامل ہیں، ڈھاکہ ٹریبیون نےطالب علموں کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا جس نے حسینہ کو 5 اگست کو ہندوستان فرار ہونے پر مجبور کیا تھانوبل انعام یافتہ محمد یونس نے عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر چیف ایڈوائزر کا چارج سنبھالا-

    مرکزی بینک کے مطابق 20، 100، 500 اور 1000 روپے کے نوٹ عبوری حکومت کی ہدایات پر چھاپے جا رہے ہیں، نئے نوٹوں میں’ شیخ مجیب الرحمان کی تصویر شامل نہیں ہوگی، مذہبی ڈھانچے، بنگالی روایات، اور جولائی کے انقلاب کے دوران کھینچی گئی "گرافٹی” کو شامل کیا جائے گا۔

    بنگلہ دیش بینک کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر حسنیارا شیکھا نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ نئے نوٹ کو اگلے چھ ماہ کے اندر مارکیٹ میں جاری کیا جا سکتا ہے۔

    اخبار کے مطابق، بینک اور وزارت خزانہ کے حکام نے کہا کہ موجودہ نوٹوں سے لیڈر کی تصویر ہٹا دی جائے گی انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر، چار نوٹوں کے ڈیزائن کو تبدیل کیا جا رہا ہے، اور باقی کو مرحلہ وار دوبارہ ڈیزائن کیا جائے گا۔

    وزارت خزانہ کے فنانس انسٹی ٹیوٹ ڈویژن نے ستمبر میں نئے نوٹوں کے لیے ایک تفصیلی ڈیزائن کی تجویز پیش کی تھی۔

  • حسینہ واجد اور دیگر سابق اعلیٰ حکام جبری گمشدگیوں میں ملوث تھے،انکوائری کمیشن رپورٹ

    حسینہ واجد اور دیگر سابق اعلیٰ حکام جبری گمشدگیوں میں ملوث تھے،انکوائری کمیشن رپورٹ

    ڈھاکا: بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دور اقتدار میں زیادتی کے واقعات کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے پولیس کے خوفناک مسلح یونٹ ’ریپڈ ایکشن بٹالین‘ کو توڑ نے کی سفارش کی ہے-

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق حسینہ واجد کی حکومت پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا تھا، ان میں سینکڑوں سیاسی مخالفین کا ماورائے عدالت قتل اور سینکڑوں کو غیر قانونی طور پر اغوا کرکے غائب کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ نگراں حکومت نے جبری گمشدگیوں سے متعلق قائم کردہ انکوائری کمیشن نے کہا کہ انہیں ملنے والے شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ حسینہ واجد اور دیگر سابق اعلیٰ حکام جبری گمشدگیوں میں ملوث تھے، جو مبینہ طور پر ریپڈ ایکشن بٹالین (آر اے بی) کی جانب سے کی گئی تھیں۔

    حسینہ واجد کے 15 سالہ دور حکومت کے دوران انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات کے جواب میں امریکا نے 2021 میں اپنے 7 سینئر افسران کے ساتھ آر اے بی نیم فوجی پولیس فورس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

    کمیشن کے ایک رکن نور خان لٹن نے کہا کہ آر اے بی نے کبھی بھی قانون کی پاسداری نہیں کی، ان کی طرف سے کیے جانے والے مظالم میں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور اغوا جیسے خطرناک جرائم شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ 77 سالہ حسینہ واجد 5 اگست کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پڑوسی ملک انڈیا فرار ہو گئی تھیں، جب ڈھاکہ میں طالب علموں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے دوران وزیر اعظم کے محل پر دھاوا بول دیا گیا تھا۔

  • بنگلہ دیش میں انتخابات کب؟ عبوری چیف ایڈوائزر کا اعلان

    بنگلہ دیش میں انتخابات کب؟ عبوری چیف ایڈوائزر کا اعلان

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے ملک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے اہم اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عام انتخابات 2025 کے آخر اور 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہونے کی توقع ہے۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب ملک بھر میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کے لیے دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

    پیر 16 دسمبر کو اپنے خطاب میں محمد یونس نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کو مکمل کیے بغیر انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کے عمل کو مکمل کرنے کے بعد ہی انتخابات کرائے جائیں تاکہ انتخابی عمل شفاف اور منصفانہ ہو۔محمد یونس نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں درست ووٹر لسٹوں اور دیگر بنیادی اصلاحات پر متفق ہو جاتی ہیں، تو نومبر 2025 کے آخر تک انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر تمام اصلاحات پر عمل درآمد کا عمل مکمل ہو جاتا ہے تو انتخابات میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، انتخابی اصلاحات عبوری حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور ان اصلاحات کے ذریعے انتخابی عمل کو زیادہ شفاف اور منصفانہ بنایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں جولائی 2023 میں طلباء کے پرتشدد مظاہروں کے بعد سیاسی منظرنامہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ ان مظاہروں کے دوران 77 سالہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو 5 اگست 2023 کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ ہزاروں مظاہرین نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کیا تھا، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کو بھارت کے شہر اگرتلہ اور پھر دہلی کے قریب غازی آباد کے ہنڈن ایئربیس منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس وقت شیخ حسینہ بھارت میں کسی نامعلوم مقام پر مقیم ہیں۔شیخ حسینہ کے استعفیٰ کے بعد محمد یونس کو 8 اگست 2023 کو عبوری حکومت کا چیف ایڈوائزر مقرر کیا گیا تھا، اور ان کی قیادت میں عبوری حکومت نے انتخابی اصلاحات کی تیاری شروع کر دی ہے۔

    محمد یونس کے اس اعلان کے بعد بنگلہ دیش کی سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی اصلاحات اور ان کی ٹائم لائن پر مذاکرات کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ تاہم، سب سے بڑا چیلنج اب یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اصلاحات کے مسودے پر کس طرح متفق ہوتی ہیں اور ان کے نفاذ میں کتنی تاخیر ہوتی ہے۔ عبوری حکومت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ اصلاحات کے عمل کو کب تک مکمل کر پاتی ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کیسے پیدا ہوتا ہے۔

  • مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس مکمل

    مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس مکمل

    آج، 16 دسمبر 2024ء کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس بیت گئے ہیں۔ یہ وہ دن تھا جب 1971ء میں مشرقی پاکستان ،بنگلہ دیش الگ ہو گیا تھا۔ اس سانحے کو تاریخ میں "سقوط ڈھاکا” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے 24 سال بعد، پاکستان کے مشرقی بازو کا علیحدہ ہونا ایک دردناک اور اہم واقعہ تھا جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر کی سیاسی تاریخ کو بدل دیا۔

    سقوط ڈھاکا ایک سنگین سانحہ تھا جس میں لاکھوں افراد کی جانیں گئیں، لاکھوں خاندان برباد ہوئے اور پاکستان کا جغرافیائی وجود متاثر ہوا۔ اس دن کا دلی غم آج بھی پاکستانی قوم کے دلوں میں تازہ ہے، اور یہ دن ہمیں اپنے ماضی کے جمہوری، سیاسی اور سماجی تنازعات سے سبق سکھاتا ہے۔سقوط ڈھاکا کے موقع پر بھارتی فوج نے بنگلہ دیش کی آزادی کی حمایت میں بھرپور مداخلت کی تھی۔ بھارتی فوج نے اس دوران نہ صرف بنگلادیش کی آزادی کے لیے لڑائی کی بلکہ ڈھاکا ٹیلی ویژن کی عمارت سے جدید مشینری بھی چرا کر اپنے ساتھ لے گئی تھی،

    اگرچہ بنگلہ دیش آج ایک آزاد ملک کے طور پر موجود ہے، لیکن 1971ء کی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دشمنی اور تقسیم کی جو دیوار کھڑی کی گئی تھی، وہ وقت کے ساتھ بتدریج کم ہو رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے، تاہم سقوط ڈھاکا کی تلخ یادیں اور وہ دور کی سیاسی حقیقتیں دونوں قوموں کی تاریخ کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔

    آج جب ہم 1971ء کی اس قومی سانحے کو یاد کرتے ہیں تو یہ وقت ہمیں اس بات کا بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں اور ایسی خامیوں کو دور کریں جو ملک کی یکجہتی اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ سقوط ڈھاکا ہمیں ایک قوم کے طور پر اپنی تقدیر کے فیصلے میں ذمہ داری اور ہوشیاری کا سبق دیتا ہے۔سقوط ڈھاکا ایک ایسا دردناک واقعہ تھا جس نے پاکستانی قوم کو گہرے سیاسی اور سماجی زخم دیے، مگر اس دن کی یادیں ہمیں ایک مضبوط اور یکجا پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

  • پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    پاک بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

    شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات ابھر کر سامنے آرہے ہیں.12 دسمبر 2024 کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس آڈیٹوریم اسلام آباد میں پاک بنگلہ دیش تعلقات پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا.کانفرنس کا انعقاد رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلوبل یوتھ ایسوسی ایشن، پاک سوشل الائنس اور پاکستان سول سوسائٹی کے اشتراک سے کیا گیا. کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور قومی ترانے کی مسحور کن دھنوں سے ہوا.کانفرنس میں بنگلہ دیش سے خواتین و حضرات بشمول ڈاکٹر پروفیسر شاہدزمان، سابق ڈین ڈھاکہ یونیورسٹی، اور بین الاقوامی اسکالر نے آن لائن شرکت کی،

    1971 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیش سے اتنی بڑی تعداد میں کسی پاکستانی تقریب میں شرکت کی گئی. بنگلہ دیشی شرکاء نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور بھارتی ہندوتوا کی لعنت کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا. شرکاء نے مشترکہ امن وخوشحالی اور ترقی کے لیے مل کر آگے بڑھنے پر زور دیا. پاکستان کی طرف سے ممتاز ماہرین تعلیم، نوجوان رہنما، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، اور کامیاب کاروباری افراد مرکزی مقررین تھے. تمام شرکاء نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر زور دیا.شرکاء نے جعلی خبروں سے بچنےاور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت وقت کو اجاگر کیا .شرکاء نے مشرقی پاکستان میں 1971 کے ہنگامہ خیز سال کے دوران ہمارے فوجیوں، بہاریوں اور محب وطن شہریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا . تقریب میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی مختلف یونیورسٹیوں کے نوجوانوں اور یتیم خانوں کے بچوں کی بڑی تعداد میں شرکت. کانفرنس کا اختتام بنگلہ دیش سے آئےمہمان مقررین اور تمام شرکاء کے شکریہ کے ساتھ ہوا. کانفرنس کے مقررین، یوتھ ٹیم لیڈرز اور کانفرنس کے منتظمین کو یادگاری شیلڈز اور اسناد بھی پیش کی گئیں

    20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

  • بنگلہ دیشی سیاستدان نے بھارتی علاقے  پر اپنا دعوی کر دیا

    بنگلہ دیشی سیاستدان نے بھارتی علاقے پر اپنا دعوی کر دیا

    بنگلہ دیشی سیاستدان روح کبیر نے بھارتی ریاست مغربی بنگلہ، بہار اور اڈیشہ کے بنگلہ دیش کا حصہ ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں انڈیا کے ری پبلک ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ چٹاگانگ بھارت کا حصہ تھا۔بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے سینئر جوائنٹ سیکریٹری روح کبیر رضوی نے بھارتی ٹی وی کے اس دعویٰ پر فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی ریاست مغربی بنگال، بہار اور اڈیشہ بنگلہ دیش کا حصہ ہیں۔روح کبیر رضوی نے انڈین چینل کے دعوے پر خبردار کیا کہ بنگلہ دیش بھارتی بنگال، بہار اور اڈیشہ جیسے علاقوں پر بھی ملکیت کا دعویٰ کرے گا، جہاں کبھی مسلم نوابوں کی حکومت تھی۔انہوں نے بھارت کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ نیپال، بھوٹان، سری لنکا، مالدیپ اور پاکستان انڈیا کے نفرت انگیز اور بدنیتی پر مبنی رویے کی وجہ سے اس کے ساتھ نہیں ہیں اور اب بنگلہ دیش بھی آپ کے ساتھ نہیں ہے۔ یہ صرف اور صرف آپ کے تکبر اور استحصالی رویہ کی وجہ سے ہے جس کا آپ مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔دوسری جانب بنگلہ دیشی سیاستدان کے اس دعوے پر بھارتی مغربی بنگال کی وزیراعلٰی ممتا بینر جی بھی کھل کر میدان میں آ گئیں اور اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے دھمکی دے ڈالی کہ جب بیرونی طاقتیں انڈیا سرزمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گی، تو انڈین لالی پاپ نہیں چوس رہیں ہوں گے۔واضح رہے کہ حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے اور بھارت میں روپوشی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور اس کا اظہار بیانات اور اقدامات سے ہو رہا ہے۔

    سندھ میں 25 دسمبر کو عام تعطیل کا اعلان

    پٹرول مزید مہنگا ہونے کا امکان

    بجلی صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کا منصوبہ سامنے آ گیا

  • منفی پروپیگنڈے، بنگلہ دیش میں بھارتی ٹی وی چینلز پر پابندی کی درخواست دائر

    منفی پروپیگنڈے، بنگلہ دیش میں بھارتی ٹی وی چینلز پر پابندی کی درخواست دائر

    بنگلہ دیش میں ملک دشمن عناصر کے طور پر سرگرم اور ریاست مخالف پروپیگنڈے میں ملوث بھارتی ٹی وی چینلز پر پابندی کی درخواست دائر کردی گئی۔

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق بھارتی میڈیا چینلز حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمےکے بعد سے بھارت بنگلہ دیش کیخلاف مسلسل منفی پروپیگینڈا کر رہا ہے،کبھی بنگلہ دیش کی عبوری حکومت پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ بنگالی ہندوئوں کیخلاف تعصبانہ کارروائی میں ملوث ہے اور کبھی ان پر حملوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے،بھارت کی جانب سے یہ تمام منفی پروپیگینڈا کرنے کیلئے نجی نیوز ٹی وی چینلز کا استعمال کیا جا رہا ہے جن کی نشریات بنگلہ دیش میں بھی دکھائی جاتی ہیں،اسی بنیاد پر اب بنگلہ دیش کے ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں بھارتی ٹی وی چینلز پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ پٹیشن کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک آپریشن ایکٹ 2006ء کے تحت ایڈووکیٹ اکلاس الدین بھویاں کی جانب سے دائر کردی گئی ہے، ہائیکورٹ نے رٹ پٹیشن کو سماعت کیلئے مقرر کرلیا ہے اور جسٹس فاطمہ نجیب اور جسٹس سکدار محمود درازی پر مشتمل بینچ تشکیل دیا گیا ہے،درخواست میں وزارت اطلاعات اور وزارت داخلہ، بنگلہ دیش ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری کمیشن کے سیکرٹریوں کو مدعی کے طور پر نامزد کیا گیا ہے” بنگلہ دیشی میڈیا کےمطابق سٹار جلسہ ، سٹار پلس، زی بنگلہ اور ریپبلک بنگلہ پر پابندی کا مطالبہ کیاگیا ہے،درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ بھارتی چینلز پر اشتعال انگیز خبریں دکھائی جا رہی ہیں،بنگلہ دیشی ثقافت کے خلاف مواد نوجوانوں پر منفی اثر ڈال رہا ہے،مزید یہ الزام لگایا گیا ہے کہ یہ چینل بغیر کسی اصول کی پیروی کیے چلائے جارہے ہیں۔

    ن لیگی امیدواروں کی درخواستیں منظور، اسلام آباد کے کیسز دوسرے ٹریبونلز کو منتقل

    کے الیکٹرک نے کراچی ریلوے اسٹیشنوں کی بجلی کاٹ دی

    علی امین گنڈاپور کا قیام امن پر سکیورٹی اداروں کو سلام

  • مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز جھڑپیں، بنگالی عوام سے پر امن رہنے کی اپیل

    مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز جھڑپیں، بنگالی عوام سے پر امن رہنے کی اپیل

    بنگلہ دیش کی اہم سیاسی جماعتوں نے ہندو مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران وکیل کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں وسیع پیمانے پر پر تشدد واقعات کے بعد عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر سیف الاسلام الف منگل کے روز اس وقت انتقال کر گئے جب ہندو پنڈت چنموئے کرشنا داس برہمچاری کی ضمانت مسترد ہونے کے بعد ان کے مشتعل حامیوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی، ہندو پنڈت کو ایک ریلی کے دوران بنگلہ دیشی پرچم کی بے حرمتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔مسلم اکثریتی ملک میں اگست میں طلبہ کی زیرقیادت احتجاج کے نتیجے میں مطلق العنان سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کا تختہ الٹنے کے بعد سے بین المذاہب تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں جب کہ وہ اپنی حکومت جانے کے بعد بھارت فرار ہو گئی تھیں۔حسینہ واجد کے 15 سالہ دور اقتدار میں ان کے دو اہم مخالف جماعتوں بنگلہ دیشی نیشنل پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی نے عوام پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔آج روزنامہ پرتھم الو نے بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ تازہ ترین اشتعال کے پیچھے شکست زدہ فاشسٹ گروپ کا ہاتھ ہے، ان کا اشارہ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کی طرف تھا۔انہوں نے اخبار کو بتایا کہ یہ واقعہ مکمل طور پر نا قابل قبول ہے، ہم اس کی سختی سے مذمت کرتے ہیں اور سب پر زور دیتے ہیں کہ وہ پرامن طریقے سے صورتحال سے نمٹیں۔جماعت اسلامی کے شفیق الرحمٰن نے جاری بے امنی کا الزام ایک ملک کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کرنے والے مفاد پرست گروپ پر لگایا۔سڑکوں پر مظاہروں کے دوران عالمی ہندو مذہبی گروپ انٹرنیشنل سوسائٹی فار کرشنا کانسیئسنس ( آئی ایس کے سی او این )جسے ہرے کرشنا تحریک بھی کہا جاتا ہے، پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا، ہندو پنڈت چنموئے کرشنا داس برہمچاری کا تعلق مبینہ طور پر اس گروپ ہے۔اسلامی مدارس کی ایک تنظیم حزبِ اسلام کے رہنما مامون الحق نے گروپ پر پابندی کا مطالبہ کرنے کے لیے ریلی نکالی جس میں الزام لگایا گیا کہ یہ بھارت کی جانب سے حسینہ واجد کو اقتدار میں واپس لانے کا ایک محاذ ہے، جو ان کی معزول کردہ حکومت سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں ہندو مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کے نتیجے میں وکیل کی ہلاکت کے بعد پولیس نے 21 افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا، گرفتار ہونے والے 21 افراد میں سے 6 پر شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ اور کالعدم طلبہ تنظیم ’چھاترا لیگ‘ کا رکن ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔

    وفاق میں ہمت ہےتو گورنر راج لگا کر دکھائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    پی ٹی آئی شرپسندوں کا پولیس سے زبردستی نعرے لگوانے کا قابل مذمت واقعہ

    انڈونیشیا اور ملائیشیا میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، 30 افراد جاں بحق

    پی ٹی آئی پر پابندی ،قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

  • پاکستان تعیناتی میرے کیریئر کا بہترین دور ہے،بنگلہ دیشی سفیر

    پاکستان تعیناتی میرے کیریئر کا بہترین دور ہے،بنگلہ دیشی سفیر

    اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی سے بنگلا دیش کے ہائی کمشنر محمد روح العالم صدیقی نے ملاقات کی،جس میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ماجلاس کے حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور بنگلا دیش میں کرکٹ کے کھیل کے فروغ پر بھی بات چیت کی گئی اور بنگلا دیشی ہائی کمشنر نے چیمپئنزٹرافی کے انعقاد کے حوالے سے پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف اور بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس کے مابین باکو میں ملاقات انتہائی خوش گوار رہی، وزیراعظم پاکستان کی خصوصی ہدایت پر بنگلا دیش کا جلد دورہ کروں گا اور اس دورے کا مقصد بنگلہ دیش کی حکومت اورعوام کے ساتھ خیر سگالی اور دو طرفہ تعلقات مضوط تر بنانے ہیں، پاکستان اوربنگلا دیش کے درمیان دیرینہ برادارنہ تعلقات ہیں، پاکستان بنگلا دیش کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کا خواہاں ہے،چیمپینز ٹرافی کے بھر پور انعقاد کے لیے تمام تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔

    اس موقع پر بنگلا دیشی ہائی کمشنر محمد روح العالم صدیقی نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ اور آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ بنگلہ دیش میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بے پناہ پذیرائی اور سپورٹ حاصل ہے بنگلا دیش پاکستان کے ساتھ برادرنہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، دونوں ملکوں کے مابین عوامی سطح پر بہترین روابط ہیں، پاکستان تعیناتی میرے کیریئر کا بہترین دور ہے اور مجھے بہت محبت ملی ہے اور سفارتی برادری میں پاکستان بہترین ڈیوٹی اسٹیشن مانا جاتا ہے۔