ڈھاکہ: بنگلادیش کرکٹ ٹیم کو دورہ بھارت سے قبل دھمکیاں ملنے لگیں۔
باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹ کے مطابق بنگلادیشی ٹیم دو ٹیسٹ میچز کھیلنے کے لیے بھارت روانہ ہونا ہے لیکن اس سے قبل ہی ٹیم کو دھمکیاں موصول ہونے لگیں، شیڈول کے تحت بنگلہ دیش کو پہلا ٹیسٹ 19 ستمبر چنئی میں اور 27 ستمبر کو کانپور میں دوسرا ٹیسٹ کھیلنا ہے بنگلادیشی ٹیم کے خلاف ہندو جماعت نے کانپور ٹیسٹ کے دوران احتجاج کی کال دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث کانپور ٹیسٹ کو اندور منتقل کیا جاسکتا ہےہندو محاسبہ کے نائب صدر جیویر بھردواج کا کہنا ہے کہ ہم گوالیار میں بنگلہ دیش کے ساتھ ٹی 20 میچ بھی نہیں ہونے دیں گے، ٹیسٹ سیریز کا آغاز 19 ستمبر سے ہوگا۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لیا ہے اور ہم بی سی سی آئی سے رابطے میں ہیں۔
بنگلہ دیش میں قتل کے مقدمے میں نامزد کھلاڑی اور عوامی لیگ کے سابق رکن اسمبلی شکیب الحسن پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے کے بعد دیگر کھلاڑیوں کے ہمراہ بنگلہ دیش واپس نہیں جا رہے
بنگلہ دیشی ٹیم کی واپسی کے لیے کراچی ائیرپورٹ پہنچ گئی ہے، کھلاڑی اور آفیشلز رات گئے اسلام آباد سے کراچی پہنچے تھے جہاں انہوں نے رات کو کراچی کے ہوٹل میں قیام کیا،بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم اور آفیشلز دو مختلف پروازوں سے وطن واپس جا رہے ہیں، بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کراچی سے دبئی اور دوحہ کے راستے بنگلہ دیش پہنچے گی،تاہم ائیرپورٹ ذرائع کا بتانا ہے کہ بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے سینئر کھلاڑی شکیب الحسن بنگلہ دیش واپس نہیں جا رہے، شکیب الحسن فی الحال کراچی سے دبئی چلے گئے ہیں، شکیب الحسن رات کو ٹیم سے الگ ہو کر تنہا کراچی سے دبئی گئے ہیں،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں ویڈیو بنانے لگا تھا اور بتانا تھا کہ بنگلہ دیش سے پاکستان ہار جائے گا،لیکن پھر میں نے کہا کہ اللہ کرے جیت جائے، پھر صبح تک کا میں نے انتظار کیا، صبح ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کی اور بتایا کہ لگتا ہے کہ دو گھنٹے کے بعد یہ ختم ہوجانا ہے معاملہ ہمارا، ہولڈ کر لی میں نے وہ ویڈیو، ہمت نہیں ہو رہی تھی، انسان پاکستان کا برا سوچ نہیں سکتا جو پاکستانی ہو، دوسرا پاکستان کے خلاف شرط نہیں لگا سکتا یہ بہت مشکل کام ہے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کمال کی بات ہے کہ بنگلہ دیش سے ہم پہلا ٹیسٹ میچ ہار گئے، بنگلہ دیش سے ہم سیریز ہار گئے،ہوم سیریز ہار گئے، اس سے پہلے ہم امریکہ، آئرلینڈ، افغانستان سے ہارے، یہ سب ایک سال میں ہوا، جب انڈیا میں ورلڈ کپ ہو رہا تھا اور سایہ کارپوریشن کا بھانڈا میں نے پھوڑا تھا تو "آلو” نے بڑی باتیں کی تھی اور کچھ لوگ اس کے فیور میں آکر وی لاگ کر رہے تھے، یہ کھیل نہیں تم لوگوں نے بنایا ہوا ہے پیسے کمانے کا،بھائی جان نے ریزائن کر دیا کہ جب تک میرے اوپر ثابت نہیں ہوتا میں نہیں آؤں گا، میں نے تو اس وقت چھ کھلاڑیوں کے نام دیئے تھے، کل ذکا اشرف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ 166 کھلاڑی سایہ کارپوریشن کے کنٹریکٹ میں ہیں، تو انہوں نے ہی ٹیم میں ہونا ہے پھر ٹیم میں سٹہ،جوا، لڑائیاں ،جھگڑے چلنے ہیں، پھر ٹیم ایک نہیں ہونی، بڑا واویلا مچا تھا پھر ذکا اشرف نے کہا کہ ہمیں موقع دینا چاہئے انکوائری کر رہا ہوں ،کیا نتیجہ نکلا، یہ بورڈ بھی کرمنل ہے کیونکہ یہ جھوٹ بولتے، دھوکہ دیتے ہیں،نیشنل سٹیڈیم، قذافی سٹیڈیم کو گرا کر دوبارہ بنائیں گے کیونکہ اربوں کے ٹھیکے ہیں، اب اگلے ماہ انگلینڈ نے آنا ہے اور کوئی میڈیا رائٹس لینے کو تیار نہیں ہے، یہ بنگلہ دیش سے ہار میں کافی چیزیں ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کرکٹ کیا ہوئی،کیا نہیں ہوئی شاہین آفریدی نے 127 پر گیند پھینکی، یہ باتیں توکوئی کرکٹر کرے گا تو بہتر ہو گا، وہ عاقب جاوید،ظہیر عباس و دیگرکریں ، میں کچھ اور باتیں بتانے لگا ہوں، بنگلہ لیگ کو ن کون کھیل رہا تھا، میں اب چیلنج کر رہا ہوں کتنے پیسے یہ لیگلی پاکستان میں لے کر آئے، بنگلہ لیگ دنیا کی سب سے کرپٹ لیگ ہے،ہر کھلاڑی بتائے گا آنے والے میچز،سیریز کی بکنگ ،پیمنٹ وہیں پر ہوتی ہیں، آج اگر ایف آئی اے انکوائری کر لے، محسن نقوی کے انڈر ہے، وہ انکوائری کروائیں کہ کتنے کھلاڑی ہیں جن کے دبئی اوریو کے میں اکاؤنٹس ہیں، پھر آئیں میرے اوپر کیس کریں، کیس تو ہم آپ کے اوپر کریں گے، تم نے ہر وقت ملک کو بے عزت کروایا، سوال پوچھو توسیلفیاں کھنچوانے کے ڈالر لیتے ہو، یہ ورلڈ کپ کھیلنے گئے تھے، کتنے کھلاڑیوں نے باہر کی نیشنلٹی کے لئے اپلائی کیا ہوا، سب پتہ ہے، انہوں نے سب پیسہ باہر رکھا ہوا، محسن نقوی وزیر داخلہ بھی ہیں کر لیں انکوائری ، دودھ کا دودھ ،پانی کا پانی ہو جائے گا اور وہ جو اپنے آپ کو کنگ کہتا تھا کنگ اس وقت تھا جب کراچی کنگ کے لئے کھیلتا تھا اب تو کوئین بھی نہیں کہہ سکتے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا کہ سایہ کارپوریشن سب کو لے ڈوبے گی، آئیں ناں کیس کریں، میں یہیں بیٹھا ہوں، تین چار ہفتے بعد انگلینڈ کی ٹیم آ رہی ہے، کوچز کو پی سی بی بزنس کلاس ٹکٹ دے رہی ہے، یہ چھٹیوں پر باہر جا رہے ہیں، تین ہفتے کا انگلینڈ ٹیم کے آنے سے قبل کیمپ لگنا چاہئے لیکن نہیں ہماری ڈیل ہی ایسی نہیں ہیں،اب پتہ چل گیا میں کہہ رہا تھا کہ یہ منہ کالا کروانے والے پلیئر ہیں اورپھر ان کے فین جو پاکستان سے عشق کرتے ہیں وہ انکے جھوٹ سے مرعوب ہو جاتے ہیں،بنگلہ دیش نے اس طرح مارا، ذرا شرم کر لیتے، چالیس چالیس کی عمر میں آ کر سیکھنا ہے آپ لوگوں نے تو بڑا کب ہونا ہے.
پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود نے بنگلہ دیش سے سیریز میں تاریخی وائٹ واش پر مایوسی کا اظہار کیا ہے
پریس کانفرنس کرتے ہوئے شان مسعود کا کہنا تھا کہ ہوم سیزن کی شروعات شکست سے ہوئی ہے، جس پر مایوسی ہے،ہم نے اس سیریز کا 10 مہینے تک انتظار کیا تھا اور دونوں میچز میں بنگلہ دیش ٹیم کو آؤٹ کر سکتے تھے، لیکن ایسا نہ کر سکے، ہم اچھا کھیل پیش نہ کرنے پر قوم سے معافی چاہتے ہیں، پاکستان نے سیریز میں بہت غلطیاں کیں اور بنگلہ دیش نے ہم سے زیادہ ڈسپلن سے کرکٹ کھیلی، شکست پر بہت مایوسی ہوئی ہے، ٹیسٹ کرکٹ میں بولر اور بیٹرز کےلیے فٹنس بہت اہم ہوتی ہے ، فٹنس کا معیار بہتر کرنے کی ضرورت ہے، ہم نے دو بہترین مواقع ضائع کردیے اور ٹیسٹ کرکٹ میں ہمیں اپنی مینٹل اور فزیکل فٹنس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے،فٹنس چار پانچ دن کی ہوتی ہے، ہم نے کافی بار اس سیریز میں دیکھا،ہمیں اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جب ہم دس ماہ بعد ٹیسٹ میچ کھیلیں گے اور بیچ میں ریڈ بال نہیں کھیلیں گے تو ہمیں سب کو توجہ دینی ہو گی،
شان مسعود کا مزید کہنا تھا کہ ہم ہوم سیریز کے لیے پُرچوش تھے، مگر اس سیریز کا نتیجہ بھی آسٹریلیا کی سیریز کی طرح ہی نکلا،میری کپتانی میں یہ چوتھی مرتبہ ہے کہ ہم حریف ٹیم پر سبقت لیے ہوئے تھے اور میچ ہار گئے، دوسری اننگز میں دباؤ ہوتا ہے جس پر پاکستان کو کام کرنا ہو گاپاکستان کو وکٹیں یکے بعد دیگرے گرنے پر کام کرنا ہو گا، کپتانی تبدیلی کے لیے قبول کی تھی، جتنا بھی وقت ملے گا بطور کپتان اپنا 100 فیصد دوں گا، میلبرن ٹیسٹ ہمارے ہاتھ میں تھا جو نہیں جیت پائے،پاکستانی کھلاڑیوں کو ریڈ بال کا تجربہ دینا ہو گا، شاہین آفریدی نے گزشتہ چند عرصے سے تینوں فارمیٹس کی کرکٹ کھیلی ہے، نسیم شاہ کئی ماہ بعد کم بیک کر رہے ہیں، تمام صورتِ حال کو دیکھنا پڑے گا، پاکستان کے کئی کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلے 10 ماہ ہو گئے، خرم شہزاد بد قسمتی سے آج بولنگ کے لیے دستیاب نہیں تھے، پاکستان نے مکمل کوشش کی، میچز نہیں پکڑ پائے، میر حمزہ اور محمد علی نے لمبے اسپیل کروائے، ٹیسٹ کرکٹ سب سے بڑا فارمیٹ ہے جس میں تجربہ چاہیے، ٹیسٹ کرکٹ زیادہ کھیلنی پڑے گی، ڈومیسٹک کرکٹ بھی زیادہ کھیلنی ہو گی۔
شان مسعود کا مزید کہنا تھا کہ قوم سے ہاتھ کھڑا کر کے معذرت کرتے ہیں،ہم اچھا نہیں کھیلے، پاکستان کی کرکٹ کو بہتر کرنا چاہتے ہیں، مداحوں سے ہمیشہ پیار ملا ہے، نتیجے پر بہت افسوس ہے، پچ اور ٹیم پر کبھی سوال نہیں اٹھایا، پچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، فلیٹ وکٹیں بناتے تو پھر بات کی جاتی، ہمیں نظر آ رہا ہے کہ کہاں بہتری لانے کی ضرورت ہے
دوسری جانب بنگلادیشی کپتان نجم الحسین شانتو نے جیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیریز میں ہمارے فاسٹ بولرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ،جیت کا سہرا تمام کرکٹرز کے سر ہے،مہدی حسن میراز محنتی کرکٹر ہیں اور وہ تسلسل کے ساتھ اچھی کارکردگی دے رہے ہیں، سیریز میں بھی مہدی حسن میراز نے شاندار کارکردگی دکھائی۔
بنگلہ دیش نے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں چھ وکٹوں سے شکست دے دی، بنگلہ دیش ٹیسٹ سیریز جیت گیا،
بنگلہ دیشی ٹائیگرز نے پاکستانی شاہینوں کو ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کر دیا،سیریز دو صفر سے اپنے نام کرلی۔گرین شرٹس کو ہوم گراؤنڈ پر سیریز کی شکست نے پاکستان ٹیم کی کارکردگی کو بے نقاب کردیا، دوسرا ٹیسٹ بھی بنگلہ دیش نے 6 وکٹوں سے جیت لیا ۔انتہائی کشیدہ ملکی سیاسی صورتحال میں بنگالی ٹائیگرزکا مورال تمام سیریز کےدوران ہائی رہا،بنگلا دیش نے سیریز میں دو صفر سے کلین سوئپ کیا، پاکستان کرکٹ ٹیم تاریخ میں دوسری مرتبہ اپنی سرزمین پر حریف کے ہاتھوں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا ، بنگلا دیش نے دونوں میچز باآسانی جیتے، دوسرے ٹیسٹ میں 185 رنز کے ہدف کے تعاقب میں مہمان ٹیم بنگلہ دیش نے چار وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کرلیا،بارش اور خراب روشنی کے باعث چوتھے دن کا کھیل جلد ختم کردیا گیا تھا اور آج مہمان ٹیم نے اپنی اننگز 42 رنز سے آگے بڑھائی۔
ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کا کھیل بارش کی وجہ سے منسوخ ہوگیا تھا اور ٹاس بھی نہ ہوسکا تھا پھر دوسرے دن پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 274 رنز بنائے جس کے جواب میں مہمان ٹیم 262 رنز بنا کر 12 رنز کے خسارے میں چلی گئی تھی، پاکستان ٹیم نے 12 رنز کی برتری کے ساتھ اپنی دوسری اننگز آگے بڑھائی اور 172 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور یوں بنگلا دیش کو جیت کے لیے 185 رنز کا ہدف ملا۔
اس سے قبل پنڈی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں بھی بنگلادیش نے قومی ٹیم کو دس وکٹوں سے شکست دی تھی
بنگلہ دیشی اب بغیر ویزہ فیس کے پاکستان کا سفر کر سکتے ہیں۔پاکستان نے نئی ویزا پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت بنگلہ دیش سمیت 126 ممالک کے شہری بغیر ویزہ فیس کے پاکستان کا سفر کر سکیں گے۔
ایک سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق، بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر احمد معروف نے اس بات کا اعلان اس وقت کیا جب انہوں نے پیر کے روز امور داخلہ کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد جہانگیر عالم چودھری سے ملاقات کی۔انہوں نے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا۔دونوں ممالک کے درمیان آخری براہ راست پرواز پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے 2018 میں چلائی تھی۔
ملاقات کے دوران انہوں نے سیلاب کے بعد بحالی کے پروگرام، دوطرفہ تعلقات میں مزید بہتری، ویزا کے عمل میں نرمی، دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پرواز کے آپریشن اور زرعی تحقیق میں تعاون جیسے وسیع تر دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے آغاز میں، مشیر نے ہائی کمشنر کا خیرمقدم کیا اور انہیں ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں آنے والے حالیہ تباہ کن سیلاب کے بارے میں آگاہ کیا۔ہائی کمشنر نے مشیر کو سیلاب متاثرین کی مدد کی یقین دہانی کرائی۔ہائی کمشنر نے نشاندہی کی کہ بنگلہ دیش میں حالیہ امتیازی سلوک کے خلاف طلبہ کی تحریک نے پاکستان پر بھی اثر ڈالا اور کہا کہ بہت سے پاکستانی شہریوں نے بنگلہ دیشی پرچم لہرا کر طلبہ اور عوام کی جیت کا جشن منایا۔
موجودہ عبوری حکومت کے بڑے چیلنجز کے بارے میں مشیر نے انہیں بتایا کہ حکومت کا سب سے بڑا چیلنج کرپشن کی روک تھام اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے۔ دونوں فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان ویزا کے اجراء کے عمل کو آسان بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ملاقات میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام، انسداد دہشت گردی اور زرعی تحقیق کے شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وزارت داخلہ کے سینئر حکام، ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے قونصلر کامران دھنگل اور زین عزیز سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
سابق وزیراعظم اور عوامی لیگ کی صدر شیخ حسینہ، پارٹی کے جنرل سکریٹری عبیدالقادر اور دیگر 339 افراد کے خلاف طلبہ تحریک کے دوران پانچ افراد کی ہلاکت کے سلسلے میں قتل کے پانچ الگ الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
متاثرین کے لواحقین نے پیر کو ڈھاکہ کی مختلف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالتوں میں مقدمات درج کرائے تھے۔سیف عرفات شریف کی والدہ مریم نے اپنے بیٹے کے قتل پر شمیم عثمان اور نذر اسلام بابو جیسی اہم شخصیات سمیت 94 افراد پر الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کرایا۔شریف، جو سفر باڑی پولیس اسٹیشن کے سامنے رضاکارانہ طور پر کام کر رہا تھا، کو 14 اگست کو ٹریفک کا انتظام کرتے ہوئے گلے کے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔سید الاسلام یاسین کی والدہ شلپی اختر نے شیخ حسینہ، عبیدالقادر اور دیگر 13 افراد کے خلاف اپنے بیٹے کی موت کا مقدمہ درج کرایا، جو اسی مقام پر ہوا تھا۔تحریک کے دوران قتل ہونے والے عبید الاسلام کے رشتہ دار محمد علی نے مقدمہ درج کرایا تھا۔اس کیس میں شیخ حسینہ، عبید القادر اور 58 دیگر نامزد ہیں۔دیگر قابل ذکر ملزمان میں اسد الزمان خان کمال، حسن محمود، رمیش چندر سین دروپدی اگروالا اور ہارون الرشید شامل ہیں۔شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ 4 اگست کو شام 5 بجے کے قریب سفر باڑی میں کجلا پٹرول پمپ کے سامنے عوامی لیگ کے اراکین سمیت 14 پارٹی اتحاد کے رہنماؤں نے بھیڑ پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں عبیدال کی موت ہو گئی۔رسل کو 5 اگست کو صبح 10:30 بجے کے قریب کجلا فٹ برج کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ان کے بھائی روبیل نے شیخ حسینہ اور عبید القادر سمیت 36 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔دیگر ملزمان میں اسد الزمان خان کمال، مشی الرحمان ملا شاجل، چوہدری عبداللہ المامون اور ہارون الرشید شامل ہیں۔یہ مقدمہ ڈھاکہ میٹروپولیٹن مجسٹریٹ صدام حسین کی عدالت میں دائر کیا گیا، جس نے سفر باڑی پولیس کو شکایت کو بطور ثبوت قبول کرنے کی ہدایت کی۔شوبو کو 19 جولائی کو دھان منڈی تھانے کی روڈ نمبر 3 کے قریب تحریک کے دوران قتل کیا گیا تھا۔ان کی والدہ رینو نے ڈھاکہ میٹروپولیٹن مجسٹریٹ بیگم فرح دیبا چندا کی عدالت میں شیخ حسینہ اور عبیدالقادر سمیت 138 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔عدالت نے پولیس بیورو آف انویسٹی گیشن (پی بی آئی) کو ان الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔اس کیس کے قابل ذکر ملزمان میں اسد الزماں خان کمال، عبداللہ المامون، ہارون الرشید، معین الحسین خان اور ڈاکٹر سمنتا لال سین شامل ہیں۔تحریک کے دوران آکسفورڈین لیبارٹری کالج کے ایچ ایس سی کے امیدوار آصف ابن ارمان عیسیٰ کے قتل کی کوشش کے الزام میں شیخ حسینہ اور دیگر 33 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔عیسیٰ کے والد ابوذر محمد ارمان علی جیول نے ڈھاکہ کے میٹروپولیٹن مجسٹریٹ افنان سومی کی عدالت میں مقدمہ درج کرایا۔ عدالت نے پی بی آئی کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔اس کیس کے دیگر ملزمان میں عبیدالقادر، اسد الزماں خان کمال، صابر حسین چودھری، چودھری عبداللہ المامون، حبیب الرحمن، ہارون الرشید، بپلاب کمار سرکار شامل ہیں۔ طلبہ تحریک کے دوران عیسیٰ کو 19 جولائی کو رام پورہ تھانہ کے بناسری علاقے میں گولی مار دی گئی تھی۔
بنگلہ دیش، سابق پولیس افسر کو فرار ہوتے ہوئے ایئر پورٹ سے گرفتار کرلیا گیا،
ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس (ڈی ایم پی) کی جاسوسی برانچ (ڈی بی) نے پیر کو حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ڈھاکہ ضلع کے سابق ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (کرائم اینڈ آپریشنز) عبداللہیل کیفی کو حراست میں لے لیا۔اس پر 5 اگست کو اشولیہ میں طلباء اور لوگوں کو قتل کرنے اور جلانے کا الزام تھا۔ڈی بی ذرائع کے مطابق انہیں عبداللہ کیفی کے فرار ہونے کی اطلاع ملی تھی،جس پر پولیس نے کاروائی کی ،ڈی ایم پی کے جوائنٹ کمشنر (ڈی بی-نارتھ) ربیع الحسین بھویاں نے رات 11 بجے میڈیا کو بتایا کہ کیفی سے اشولیہ کے واقعے کے حوالے سے پوچھ گچھ کی ضرورت ہے۔”اسے پوچھ گچھ کے لیے ڈی بی آفس لایا جا رہا ہے،
قانون نافذ کرنے والے حکام نے اطلاع دی کہ کیفی کو سنگین الزامات کا سامنا ہے، جس پر 5 اگست کو ڈھاکہ کے اشولیہ میں طلباء اور لوگوں کو قتل کرنے اور جلانے کا الزام ہے۔پانچ اگست کو ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک وین پر کئی خون آلود لاشوں کا ڈھیر دکھایا گیا ہے، جس میں پولیس جیکٹس پہنے دو افراد ایک اور لاش کو ڈھیر پر پھینک رہے ہیں،تحقیقات پر پتہ چلا کہ ویڈیو میں دکھایا گیا مقام ساور کے بیپل میں اشولیہ پولیس اسٹیشن کے قریب ہے۔لاشوں کو بعد میں پولیس وین میں جلا دیا گیا تھا،
5 اگست 2024 کو ساور میں جھڑپوں کے دوران کم از کم 31 افراد کی ہلاک ہو گئے، مزید برآں، کم از کم 15 مزید شدید زخموں کی وجہ سے دوران علاج دم توڑ گئے۔اس دن کم از کم 45 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں سے بہت سے دیگر ہسپتالوں میں گولی لگنے سے زخمی ہو کر زیر علاج ہیں۔
بنگلہ دیش اور پاکستان کی ٹیموں کے مابین راولپنڈی میں ٹیسٹ میچ کھیلا جا رہا ہے،
دوسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن پاکستان کی بیٹنگ لائن ناکام رہی، پاکستان کی پوری ٹیم 172 رنز پر آؤٹ ہو گئی،پاکستان نے مہمان ٹیم بنگلہ دیش کو جیت کے لئے 185 رنز کا ہدف دے دیا،پاکستان کے کھلاڑی عبداللہ شفیق 3، خرم شہزاد صفر، صائم ایوب 20، شان مسعود 28 ،بابر اعظم 11 ، سعود شکیل 2، محمد رضوان 43، محمد علی صفر، ابرار احمد دو اورمیر حمزہ 4 رنز بناکر آؤٹ ہوئے،جبکہ سلمان علی آغا 47 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
راولپنڈی میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ کے چوتھے دن کا آغاز پاکستان نے دو وکٹوں کے نقصان کے ساتھ 21 رنز کی برتری سے کیا،کھیل کے تیسرے دن پاکستان کی دو وکٹیں چوتھے اوور میں گرگئی تھیں، عبد اللہ شفیق 3 اور خرم شہزاد بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے،کھیل کے تیسرے دن پہلے گھنٹے پاکستانی بولرز چھائے رہے اور 6 کھلاڑیوں کو پویلین بھیج دیا مگر پھر وکٹ کیپر بیٹر لٹن داس کے 138 اور مہدی حسن کے 78 رنز کی بدولت بنگلادیشی ٹیم پہلی اننگز میں 262 رنز بنا سکی اور 12 رنز کے خسارے میں چلی گئی،ان دونوں بیٹرز نے ساتویں وکٹ پر 165 رنزکی شراکت لگائی، پاکستان کی جانب سے خرم شہزاد نے 6 جب کہ میر حمزہ اور سلمان علی آغا نے 2 ، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
دوسری جانب بنگلا دیشی بیٹر لٹن داس نے کہا ہے کہ دوسرے ٹیسٹ کی وکٹ بیٹنگ کو مدد نہیں کر رہی ہے، ابتدا میں صرف 26 رنز پر 6 کھلاڑی آؤٹ ہوئے تو کچھ دباؤ ضرور تھا مگر مہدی حسن میراز نے مثبت سوچ کے ساتھ بیٹنگ کی اور پاکستانی بولنگ لائن کا دباؤ کم کیا،
بنگلہ دیش میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 59 ہو گئی، 5.4 ملین سے زیادہ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں
ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریلیف منسٹری کی رپورٹ کے مطابق، ہفتہ تک 11 اضلاع میں حالیہ سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 59 ہو گئی ہے۔تازہ ہلاکتوں میں سے چار کا تعلق فینی سے جبکہ ایک ضلع نواکھلی سے بتایا گیا ہے۔اب تک، سیلاب نے کومیلا میں 14، چٹگانگ میں چھ، فینی میں 23، نواکھلی میں نو، کاکس بازار میں تین اور برہمن باڑیا، کھگراچھڑی، مولوی بازار اور لکشمی پور اضلاع میں بالترتیب ایک ایک کی جان لی ہے۔مرنے والوں میں 41 مرد، چھ خواتین اور 12 بچے تھے۔
سیلا ب زدہ اضلاع میں 696,995 خاندان پھنسے ہوئے ہیں، 11 اضلاع کی 504 میونسپلٹیز یا یونینوں میں 5,457,702 افراد متاثر ہوئے ہیں۔وزارت کے مطابق چٹاگانگ، حبیب گنج، سلہٹ، کاکس بازار اور کھگرا چاری اضلاع میں سیلاب کی صورتحال مستحکم ہے جبکہ مولوی بازار، برہمن باڑیا، کومیلا، فینی، نواکھلی اور لکشمی پور اضلاع میں سیلاب کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، کم از کم 393,305 افراد نے 3,928 پناہ گاہوں میں پناہ لی ہے جبکہ وہاں 36,139 گھریلو جانور رکھے گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کل 519 میڈیکل ٹیمیں طبی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔سیلاب زدہ اضلاع میں اب تک 4.52 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جبکہ 20,650 ٹن چاول، 15,000 خشک خوراک یا دیگر کھانے پینے کی اشیاء اور بچوں کی خوراک اور چارہ ہر ایک کے لیے 35 لاکھ روپے مختص کیا گیا ہے۔
ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد پناہ گاہوں میں پناہ لینے والے کچھ لوگوں نے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔کچھ سیلاب زدہ علاقوں میں سڑکوں کی آمدورفت میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے جبکہ متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔