Baaghi TV

Tag: بھارت

  • پاک بھارت کے درمیان آبی تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات جاری

    پاک بھارت کے درمیان آبی تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات جاری

    اسلام آباد: پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات شروع ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ کریں گے جب کہ بھارت کی جانب سے مذاکرات کی قیادت انڈس واٹر کمشنر پی کے سکسینا کر رہے ہیں، مذاکرات میں پاکستان دریائے سندھ پر بھارتی ڈیمز کی تعمیر پر اپنا موقف پیش کرے گا پاکستان کی جانب سے بھارتی آبی منصوبوں پر اعتراضات کے بعد یہ پہلا اجلاس ہوگا۔

    آبی تنازعات پر پاک بھارت مذاکرات کا آغاز یکم مارچ سے اسلام آباد میں ہوگا،انڈس…

    مذاکرات میں پکل ڈوئل اور لوئر کلنائی ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کی تعمیر پر بھی بات چیت ہو گی، بھارتی ڈیمز کی تعمیر پر پاکستان کی جانب سے اٹھانے جانے والے اعتراضات پر بھی بات ہو گی، سیلاب کے سیزن کے دوران ایڈوانس انفارمیشن آف فلڈ کے نظام کا معاہدہ طے پائے جانے کا امکان ہے، مذاکرات میں دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ پر بھی بات چیت ایجنڈا کا حصہ ہے۔

    وزارت آبی وسائل کے حکام نے کہا کہ دریائے چناب پر624 میگا واٹ کیرو پن بجلی منصوبہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے، پاکستان کو دریائے سندھ پر 24 میگاواٹ کے نیموں چلنگ ڈیم اور دریائے پونچھ پر مانڈی ڈیم کی تعمیر پر بھی اعتراض ہے۔

    ہونڈا موٹر سائیکلز کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

    کمشنر انڈس واٹر کمیشن نے کہا تھا کہ پاکستان دریا سندھ پر ہی 19 میگاواٹ کے ٹربوک شیوک اور 25 میگاواٹ کے ہنڈررمان کے ڈیزائن پر بھی اعتراض اٹھائے گا دریا سندھ پر ہی ساڑھے 18 میگاوٹ کے سانکو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 19 میگاواٹ کے مینگڑم سانگرا پر بھی اعتراض اٹھائے جانے والے اعتراضات پر بات ہوگی۔

    حکام نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ پر مزید دو چھوٹے پن بجلی منصوبے بھی لگائے جا رہے ہیں۔

    انڈس واٹر کمشنر نے بتایا کہ بھارتی وفد اجلاس کے بعد 4 مارچ کو بھارت روانہ ہوجائے گا۔

    آسٹریلوی کرکٹرزکے خاندان کو بھارت کیجانب سے دھمکیاں ، پی سی بی کا رد عمل

  • بھارت میں زرعی پیداوار میں بڑے پیمانے پر کمی کا خدشہ: قحط پیدا ہوسکتا ہے:اقوام متحدہ

    بھارت میں زرعی پیداوار میں بڑے پیمانے پر کمی کا خدشہ: قحط پیدا ہوسکتا ہے:اقوام متحدہ

    نئی دلی:بھارت میں زرعی پیداوار میں بڑے پیمانے پر کمی کا خدشہ:اگلے چند سالوں میں قحط پیدا ہوسکتا ہے:اطلاعات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث بھارت میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے زرعی پیداوار میں بڑے پیمانے پر کمی کا خدشہ ہے اور موسمیاتی تبدیلی سے بھارت کے ساحلی علاقوں اور ہمالیہ سے متصل خطے بری طرح متاثرہوں گے ۔

    بھارت کے متعلق یہ انکشاف اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے برے میں بین الحکومتی پینل کی رپورٹ میں کیاگیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق اگر بھارت نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں تاخیر کی تو اس تبدیلی کی شدت پوری دنیا کے لیے بہت مہلک ثابت ہوگی۔ رپورٹ میں بھارت میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے زرعی پیداوار میں بڑے پیمانے پر کمی کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    آئی پی سی سی کی رپورٹ تیار کرنے والوں میں سے ایک انجل پرکاش نے کہا کہ آئندہ سال میں شہری آبادی کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوگااور اگلے 15 برس میں ملک کی 60 کروڑ کی آبادی شہروں میں مقیم ہو گی جو کہ موجودہ امریکہ کی آبادی سے دوگنی ہو گی۔ بھارت کی ساحلی پٹی 7500کلومیٹر پر محیط ہے۔ ممبئی، کولکتہ، چنائی، وشاکھاپٹنم، پوری اور گوا جیسے علاقوں میں زیادہ گرمی پڑ سکتی ہے۔ ان علاقوں کو سطح سمندر بلند ہونے کی وجہ سے سیلاب جیسے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے اوران علاقوں میں سمندری طوفان کا بھی خطرہ ہے۔

    اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے برے میں بین الحکومتی پینل کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی نصف آبادی کو خطرات لاحق ہیں۔ تمام تر کوششوں کے باوجود ماحولیاتی نظام میں بہتری نہیں ہورہی ہے ۔ اگر درجہ حرارت 1-4ڈگری سیلسیس بڑھنے کا اندازہ لگایا جائے تو بھارت میں، چاول کی پیداوار میں 10سے 30فیصد تک ، جب کہ مکئی کی پیداوار میں 25سے 70فیصد تک کمی ہو سکتی ہے ۔

    سائوتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ زراعت اور خوراک کے نظام سے متعلق خطرات بتدریج بڑھیں گے، جس کے پورے خطے پر مختلف اثرات ہوں گے۔رپورٹ میں لوگوں کے لیے اس خطرے سے نمٹنے اور اپنی زندگی کے حالات کو بہتر بنانے کے طریقے بھی بیان کیے گئے ہیں۔رپورٹ کو 195 ممالک نے منظور کیاہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں گرمی اور نمی کی مقدار بڑھے گی اور یہ انسانوں کے لیے خطرہ بن جائے گی۔ ہندوستانی شہر شدید گرمی، شہری سیلاب، سطح سمندر میں اضافے کے مسائل اورطوفانوں کا شکار رہیں گے۔ اس صدی کے وسط تک بھارت کو ساحلی سیلاب کے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ رپورٹ میں جنوبی ہندوستان کے تلنگانہ میں پرانی پانی کی ذخیرہ اندوزی کی ٹیکنالوجی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ 67 ممالک کے 270 سے زائد سائنسدانوں نے تیار کی ہے اور اسے 195 حکومتوں نے منظور کیا ہے۔ رپورٹ سے ظاہر ہوتاہے کہ بگڑتی ہوئی آب و ہوا کے اثرات دنیا کے ہر حصے میں تباہ کن ہیں اور وہ اس سیارے پر موجود ہر جاندار چیز کو متاثر کرتے ہیں یعنی انسان، جانور، وہ پودوں اور پوری ماحولیات کو متاثر کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کی 3ارب60کروڑکی آبادی ان علاقوں میں رہتی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ اثر پڑ سکتا ہے۔ اگلی دو دہائیوں میں دنیا بھر میں درجہ حرارت میں 1.5 سینٹی گریڈ تک اضافے کا امکان ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے غذائی تحفظ، آبی قلت، جنگلات میں لگنے والی آگ، صحت، نقل و حمل کا نظام، شہری انفراسٹرکچر، سیلاب جیسے مسائل میں اضافے کا خدشہ ہے۔یہ رپورٹ آئی پی سی سی کی چھٹی تشخیصی رپورٹ کی دوسری قسط ہے۔ چھٹی رپورٹ اس سال مکمل ہو جائے گی۔

  • آسٹریلوی کرکٹرزکے خاندان کو بھارت کیجانب سے دھمکیاں ، پی سی بی کا رد عمل

    آسٹریلوی کرکٹرزکے خاندان کو بھارت کیجانب سے دھمکیاں ، پی سی بی کا رد عمل

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آسٹریلوی کرکٹرز کے خاندان کو بھارت کی جانب سے دھمکیاں ملنے کے حوالے سے اپنا بیان جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کو دھمکی آمیز میسجز اور پوسٹ سے مکمل باخبر ہیں، ہماری سیکورٹی ایجنسیز دونوں بورڈز سے رابطے میں ہیں اور واقعے کی تحقیقات کررہی ہیں۔

    پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی روکنے کیلئے بھارتی سازش ناکام

    ترجمان پی سی بی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا سرگرمیوں کے لیے جامع سیکورٹی پلانز ترتیب دیئے گئے ہیں اور اس حوالے سے کوئی خطرہ نہیں ہے اس حوالے سے مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔

    اس سے قبل پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی روکنے کے لیے بھارتی حکومت آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو دھمکی آمیز پیغامات بھیجے گئے ہیں تاکہ وہ بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم کی طرح دورہ ادھورا چھوڑ کر چلی جائے۔

    گزشتہ دنوں 26 فروری 2022 کوپاکستان کا دورہ کرنے والی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے ایک رکن کے خاندان کو انسٹا گرام پر دھمکی آمیز پیغامات بھیجے گئے جس میں انہیں پاکستان جانے پر خطرناک نتائج بھگتنے کی دھمکی دی گئی۔

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کی کامیابی کا سہرا تماشائیوں کے سرہے،رمیز راجا

    ظاہر دھمکی آمیز پیغامات بھجوانے کے لیے انسٹا گرام پر فیک اکاؤنٹ jyot.isharma391 کا استعمال کیا گیا لیکن تفصیلی تحقیقات کے دوران اس دھمکی آمیز پیغامات کے پیچھے بھارتی گجرات میں مقیم مرائدل تیوا ڑی کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آئے ہیں۔

    مرائدل تیواڑی بھارتی گجرات میں آئی ایم سی لمٹیڈ میں بطور انوائرمینٹل، ہیلتھ اور سیفٹی آفیسر کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کا ای میل ایڈریس mridul.tiwari07@gmail.com جبکہ موبائل فون 00917060185885 نمبر ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس پاکستان کے دورے پر آئی نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے اہلخانہ کو بھی اسی طرح دھمکیاں دی گئی تھیں جس کے بعد وہ پہلے میچ سے قبل دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس چلی گئی تھی جبکہ انگلش کرکٹ بورڈ نے بھی اپنا شیڈول دورہ ملتوی کردیا تھا۔

    ٹیم آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کی قیادت محمد رضوان کے سپرد

  • بھارت:انتخابی جلسے میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے پر 7 افراد پر مقدمات درج

    بھارت:انتخابی جلسے میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے پر 7 افراد پر مقدمات درج

    الہٰ آباد: بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک عوامی اجتماع میں پاکستان زندہ باد کے نعروں نے پولیس کی دوڑیں لگوادیں-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق الہٰ آباد کے انتخابی حلقے ہنڈیا میں سماج وادی پارٹی کے امیدوار کی انتخابی مہم جاری تھی اس دوران ایک جلسے میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئےانتخابی جلسے میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگنے پر پولیس حرکت میں آگئی اور ویڈیوز کی مدد سے 7 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ریاست میں اس وقت اسمبلی انتخابات جاری ہیں اور اس الیکشن میں پاکستان کا نام بار بار لیا جا رہا ہے۔

    بھارت میں ایک اور طیارہ زمین بوس،پائلٹ ہلاک

    پولیس کا کہنا ہے کہ انتخابی جلسے میں امیدوار موجود نہیں تھے اس لیے انہیں کیس میں شامل نہیں کیا گیا جلد ساتوں ملزمان کو حراست میں لے لیا جائے گا۔

    سماج وادی پارٹی کے ترجمان نے اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمراں جماعت بی جے پی سیاسی مخالفت کی تمام حدیں پار چکی ہے اور اس قسم کے ہتھکنڈوں سے اپنی شکست کو ٹال نہیں سکتے۔

    مقامی پولیس اسٹیشن کے سربراہ کیسو داس ورما کا کہنا تھا، ابتدائی تفتیش کے دوران ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ویڈیو پریاگ راج کے برہوت قصبے میں شوٹ کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں سات افراد کی شناخت ہو گئی ہے پولیس ویڈیو میں ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والے دیگر افراد کی شناخت کا بھی پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    بھارت میں سکھ لڑکی اور لڑکے کوپگڑی کے ساتھ اسکول آنے سے روک دیاگیا

    پولیس کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ابھی کسی کو گرفتار نہیں کیا گيا ہے تاہم بتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایف آئی آر میں، جن افراد کا نام درج ہیں، ان کا تعلق سماج وادی پارٹی سے ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے تعلقات اچھے نہیں ہیں اور ملک میں ایک ایسی فضا قائم ہے کہ پاکستان سے متعلق کوئی بھی مثبت بات کہنے کو بھی معیوب سمجھا جاتا ہے ماضی میں بھی کئی بار پاکستان زندہ باد کہنے کے واقعات پر متعدد افراد کے خلاف کیسز درج ہونے کے ساتھ ہی انہیں گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

    ڈرائیور نے کچوریاں لینے کیلئے ٹرین کو بریک لگا دی،ویڈیو وائرل

  • بلوچستان اسمبلی میں بھارت میں حجاب پر پابندی کے خلاف قرارداد منظور

    بلوچستان اسمبلی میں بھارت میں حجاب پر پابندی کے خلاف قرارداد منظور

    کوئٹہ: بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے بھارت میں حجاب پر پابندی کے خلاف قرارداد منظور کرلی-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ڈپٹی اسپیکر بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت بلوچستان اسمبلی اجلاس ہوا جس میں بھارت میں حجاب پر پابندی اور مسکان خان کو ہراساں کرنے کے خلاف قرارداد منظور کی گئی –

    بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر، بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا

    قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ بھارت آر آر ایس کے مذہبی انتہا پسندوں کی آماہ جگاہ بن چکا ہے جبکہ مودی کے بھارت میں انسانیت اور اخلاقیات کا جنازہ نکالا جا رہا ہے بھارت میں اقلتیں تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہیں، اقوام عالم انسانی حقوق کی پامالی پر بھارت سے باز پرس کرے۔

    دریں اثنا ایوان نے بلوچستان ٹریفک انجیرنگ کے مسودہ کا قانون بھی منظور کیا اجلاس میں رکن اسمبلی ثنا بلوچ نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کا مائیک سسٹم درست اور دیگر جدید سہولیات فراہم کی جائیں۔

    بھارت میں سکھ لڑکی اور لڑکے کوپگڑی کے ساتھ اسکول آنے سے روک دیاگیا

    واضح رہے کہ بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر حال ہی میں ریاست بہارمیں ایک بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا تھا ریاست بہارکے ایک بینک میں کیشئیرنے حجاب پہننے والی خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا۔ کیشئیرنے خاتون سے کیش حاصل کرنے کے حجاب اتارنے کا مطالبہ کیا باحجاب خاتون نے حجاب اتارنے سے انکارکردیا خاتون اوران کے والد کے شدید احتجاج پربینک کوانہیں رقم دینے پرمجبورہونا پڑا۔

    حجاب کیس: عبوری پابندی صرف طلبا پر لاگو ہوتی ہے اساتذہ پر نہیں ، ہائی کورٹ

    دوسری جانب گیسٹ فیکلٹی کے طور پر کام کرنے والی ایک انگلش لیکچرر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے کیونکہ کرناٹک کے تماکورو ضلع میں پڑھاتے ہوئے انہیں حجاب سے پرہیز کرنے کو کہا گیا تھا انہوں نے کہا کہ یہ میری عزت نفس کا معاملہ ہے میں حجاب کے بغیر پڑھا نہیں سکتی تین سالوں سے میں جین پی یو کالج میں بطور گیسٹ لیکچرر کام کر رہی ہوں۔ ان تین سالوں میں مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوئی اور میں نے آرام سے کام کیا۔ لیکن، کل میرے پرنسپل نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ کلاسز کا انعقاد حجاب یا کسی مذہبی علامت کے بغیر ہونا چاہیے۔-

    حجاب تنازع: عدالت سے رجوع کرنے والی طالبہ کےبھائی پر حملہ

  • روس خلائی اسٹیشن کا 5 سو ٹن ملبہ بھارت پر گرنے کا خدشہ

    روس خلائی اسٹیشن کا 5 سو ٹن ملبہ بھارت پر گرنے کا خدشہ

    ماسکو: روس پر پابندیوں کی وجہ سے 5 سو ٹن روسی خلائی اسٹیشن کا ملبہ بھارت پر گرنے کا خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی : روسی خلائی پروگرام کے سربراہ دیمتری روگوزین نے خبردار کیا کہ ان کے ملک پر لگائی گئی نئی پابندیوں کے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے پروگرام کے لیے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکی پابندیوں کے باعث روس کی خلائی پروگرام میں عدم شرکت کی وجہ سے 500 ٹن خلائی اسٹیشن کا ملبہ بھارت پر گر سکتا ہے۔

    یوکرین میں‌ پاکستانی سفارتخانے کی بمباری کے دوران پاکستانیوں کے لیے خدمات کےتفصیلات آگئیں

    دیمتری روگوزین نے کہا کہ اگر اسپیس اسٹیشن مدار سے نکل گیا تو ملبہ چین اور بھارت پر گرے گا امریکی پابندیوں کی وجہ سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں روس کی شراکت داری ختم ہو جائے گی جو اس خلائی پروگرام کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔

    روگوزین کے ٹویٹس نے ریاستہائے متحدہ پر روسی خلابازوں اور ان کے بین الاقوامی ہم منصبوں کے درمیان پہلے سے ہی "محدود تبادلے” کا الزام لگایا، اور کہا کہ مزید سرگرمی آئی ایس ایس معاہدے کو ناقابل تلافی طور پر توڑ سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ روس، امریکہ، کینیڈا، جاپان اور متعدد یورپی ممالک خلائی پروگرام کا حصہ ہیں۔

    فرانسیسی بحریہ کا روس جانے والے کارگوجہازپر قبضہ

    روس نے جمعرات کو یوکرین پر فوجی حملوں کے سلسلے میں حملہ کر دیا۔ اس کارروائی کی بین الاقوامی مذمت کے ساتھ ساتھ نئی اقتصادی پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں، جن کے بارے میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ روس کے خلائی پروگرام کو نقصان پہنچے گا۔

    گزشتہ روز امریکی صدر جو بائیڈن نے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس کو یوکرین پر بلا جواز حملے کے نتائج بھگتنا ہوں گے روسی بینک کے 250 ملین ڈالرز کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے، پابندیوں سے چار روسی بینک متاثر ہوں گے روس کی برآمدات سمیت دیگر شعبوں پر بھی پابندیاں لگائیں گے۔

    تاہم، ناسا نے کل بعد میں اسپیس ڈاٹ کام کو بتایا کہ خلا میں امریکہ اور روس کے درمیان سول تعاون جاری رہے گا، خاص طور پر آئی ایس ایس کے حوالے سے۔

    یوکرینی فوجی کا ملکی دفاع کی خاطرانتہائی اہم قدم،روسی افواج لمبا راستہ اختیار کرنے…

    اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق روگوزین نے بہت مختلف لہجہ اختیار کیا، یہ تجویز کیا کہ نئی پابندیوں کے نتیجے میں ممکنہ طور پر ISS زمین پر بے قابو ہو کر گر سکتا ہے۔ (یوروپی اسپیس ایجنسی کے مطابق ISS کا روسی حصہ پورے کمپلیکس کے لئے رہنمائی، نیویگیشن اور کنٹرول کے لئے ذمہ دار ہے۔ اور روسی پروگریس کارگو کرافٹ ISS کے لئے وقفہ وقفہ سے مدار کو بڑھانے میں اضافہ فراہم کرتا ہے، اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ یہ ڈوب نہ جائے۔ زمین کے ماحول میں بہت کم ہے۔)

    یوٹیوب،گوگل اور ٹوئٹر نے بھی روس پر پابندیاں عائد کر دیں

    آئی ایس ایس پر روس کے کنٹرولنگ فنکشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، روگوزین نے کہا کہ بائیڈن "لوپ سے باہر” ہیں اور وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ روسی نظاموں کی وجہ سے ہے کہ خلائی اسٹیشن "خلائی ردی کے ساتھ خطرناک جوڑ” کو چکما سکتا ہے۔

    روگوزین نے کہا کہ خلائی ردی ریاستہائے متحدہ کے "ہنرمند تاجروں” سے آتا ہے۔ اس نے نام نہیں بتائے، لیکن یہ ممکنہ طور پر اسپیس ایکس کے بانی اور سی ای او ایلون مسک کا حوالہ ہے، جن کی کمپنی اسٹار لنک نامی ایک بہت بڑا سیٹلائٹ-انٹرنیٹ نکشتر بنا رہی ہے اسپیس ایکس پہلے ہی 2,000 سے زیادہ اسٹار لنکک سیٹلائٹ لانچ کر چکا ہے اور بالآخر تقریباً 40,000 کرافٹ کو مدار میں پہنچا سکتا ہے۔

    روس اور یوکرین پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں،طالبان

  • بھارت میں سکھ لڑکی اور لڑکے کوپگڑی کے ساتھ اسکول آنے سے روک دیاگیا

    بھارت میں سکھ لڑکی اور لڑکے کوپگڑی کے ساتھ اسکول آنے سے روک دیاگیا

    بنگلورو: ہندوؤں کی انتہا پسندی بڑھ گئی حجاب تنازعہ جاری ہے اس دوران کرناٹک سے دوایسی خبریں آئی ہیں جن کے مطابق سکھ بھی نشانے پر آگئے ہیں، اطلاعات کے مطابق ایک لڑکی کو اسکول میں پگڑی اتارنے کو کہا گیا جب کہ ایک دوسرے واقعے میں ایک چھ سالہ سکھ بچے کو پگڑی کے ساتھ اسکول آنے سے روکا گیا-

    بھارتی میڈیا کے مطابق کلاسوں میں حجاب پہننے سے متعلق تنازعہ کے درمیان، ماؤنٹ کارمل پی یو کالج میں ایک سکھ (امر دھاری) لڑکی سے اپنی پگڑی اتارنے کو کہا گیا اسی کے ساتھ کالج کے کچھ والدین نے یہ بھی شکایت کی کہ ان کی بیٹیوں کو حجاب اتارنے کے لیے کہے جانے کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔

    ہندوانتہا پسندوں‌ کی سکھ لڑکیوں سے زیادتیاں:تلنگانہ میں سکھ لڑکی سے زیادتی:احتجاج…

    حکام اب س پیش رفت کی نگرانی کر رہے ہیں، کیونکہ حساس مسئلہ ریاستی دارالحکومت کے دیگر کالجوں میں بھی پھیل سکتا ہے۔ اگرچہ ریاست بھر کے کالجوں میں حجاب کے ساتھ کلاسوں میں شرکت کی اجازت سے انکار پرطلبا نے احتجاج کیا، لیکن اب تک اس کا بنگلورو میں بڑے پیمانے پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔

    ہائیکورٹ کی خصوصی بنچ نے بدھ کے روز واضح کیا کہ جب تک معاملہ نمٹا نہیں جاتا، پری یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ انڈرگریجویٹ کالج میں کسی بھی مذہبی علامت کی اجازت نہیں ہے جس کے بعد کالج کی طالبات کے والدین، جنہیں حکام نے حجاب ہٹانے کے لیے کہا تھا، نے مطالبہ کیا ہے کہ ہائی کورٹ کے حکم کو تمام طالبات پر یکساں طور پر لاگو کیا جائے۔

    یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب پنجاب یونیورسٹی ایجوکیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر جی۔ سری رام، جو پیر کو پریکٹیکل امتحان کے دوران کالج کا معائنہ کر رہے تھے، نے عدالت کے حکم کے مطابق دو طالبات کو حجاب اتارنے کی ہدایت کی اس سے طلبہ میں غم و غصہ پھیل گیا اور طلبہ نے اس کی شدید مخالفت کی اگرچہ کالج کے اہلکاروں نے زیادہ تر طالب علموں کو کامیابی کے ساتھ قائل کر لیا، لیکن کچھ نے اصرار کیا کہ اگر وہ حجاب کو ہٹانا چاہتے ہیں، تو دوسروں کو بھی کوئی مذہبی علامت پہننے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

    بھارتی حکومت کا "سکھ فار جسٹس” سےمتعلق ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس…

    دریں اثنا، ماؤنٹ کارمل پی یو کالج کے حکام نے ایک سکھ لڑکی کو ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کرنے کے لیے اپنی پگڑی اتارنے کو کہا حکام نے اس کے بارے میں اس کے والد کو میل بھی کیا 16 فروری کو لڑکی کو پگڑی اتارنے کو کہا گیا لیکن وہ نہیں مانی اس کے بعد اسکول کے حکام نے سکھ لڑکی کے والد کو صورتحال سے آگاہ کیا اور اس کے اہل خانہ نے کالج کو بتایا کہ وہ اپنی پگڑی نہیں اتارے گی اور وہ اس معاملے پر قانونی رائے لیں گے محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے عبوری حکم میں پگڑی کی کوئی بات نہیں ہے۔

    جبکہ دوسری جانب یہ بھی خبرہے کہ ڈسٹرکٹ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی چائلڈ لائن کو منگلورو کے ایک پرائیویٹ اسکول کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرے گی جس نے مبینہ طور پر سکھ برادری کے ایک چھ سالہ لڑکے کو داخلے سے انکار کر دیا تھا، جس نے ‘پٹکا’ پگڑی پہن رکھی تھی۔

    اس دوران سی ڈبیلوسی کی صدرنے بتایا کہ سکھ برادری کے طلباء کو ‘پٹکا’ اور ‘کڑا’ پہننے کی اجازت ہے یہ کرناٹک ہائی کورٹ کے کلاس رومز کے اندر حجاب (دوپٹہ) پہننے کے عبوری حکم پر اسکول انتظامیہ کا گھٹن والا ردعمل ہے-

    انہوں نے چائلڈ لائن کو سکھ طالب علم کے داخلے سے انکار پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی راشٹریہ سکھ سنگت کو بتایا گیا کہ اسکول انتظامیہ 28 فروری کو حتمی فیصلہ کرے گی۔

    بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر، بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا

  • ڈرائیور نے کچوریاں لینے کیلئے ٹرین کو بریک لگا دی،ویڈیو وائرل

    ڈرائیور نے کچوریاں لینے کیلئے ٹرین کو بریک لگا دی،ویڈیو وائرل

    نئی دہلی: بھارت میں ٹرین ڈرائیور نے کچوریاں لینے کیلئے ٹرین کو بریک لگا دی ،اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بڑی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پھاٹک پر ایک شخص کچوریاں لیے ٹرین کے آنے کا انتظار کر رہا ہے اور ٹرین کے قریب آنے پر ڈرائیور بریک لگا کر اس شخص سے کچوریاں وصول کرتا ہے اور پیسے دیتا ہے۔

    روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے ٹریک کی آمد کی وجہ سے پھاٹک بند ہے اور دونوں اطراف گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں لیکن ٹرین ڈرائیور کسی کی بھی پروا کئے بغیر ٹرین کو بریک لگا لیتا ہے۔
    https://twitter.com/shah_bikrant/status/1496505077439291410?s=20&t=NDtDa9QCy5w70EwIP8oc6w
    بھارت میں ٹرین ڈرائیور کی اس حرکت پر پھاٹک کے باہر کھڑے شخص نے اس تمام معاملے کی موبائل سے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کر دی جس کے کیپشن میں لکھا کہ ڈرائیور نے الوار کی مشہور کچوری لینے کے لیے ٹرین روک دی جس کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    یوکرین میں روس:اب کیا کرے گا مغرب کی دھمکیوں کا پتہ چل گیا


    سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیو پر لوگوں نے کمنٹس کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کہ معاملات پاکستان اور ہندوستان میں عام ہوتے جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

    ٹرمپ کی آوازدبانے والوں کوشکست:ٹرمپ ٹروتھ سوشل ایپ کو پہلے 48 گھنٹوں میں نصف ملین…

  • ہندوانتہا پسندوں‌ کی سکھ لڑکیوں سے زیادتیاں:تلنگانہ میں سکھ لڑکی سے زیادتی:احتجاج جاری

    ہندوانتہا پسندوں‌ کی سکھ لڑکیوں سے زیادتیاں:تلنگانہ میں سکھ لڑکی سے زیادتی:احتجاج جاری

    تلنگانہ :ہندوانتہا پسندوں‌ کی سکھ لڑکیوں سے زیادتیاں:تلنگانہ میں سکھ لڑکی سے زیادتی:احتجاج جاری،اطلاعات کے مطابق سکھ تنظیموں کا حیدر آباد میں سکھ لڑکی کی آبروریزی کے واقعے نے سکھوںمیں شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔ سکھ تنظیموں نے بہیمانہ واقعے کے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پنجاب کے شہر جالندھر میںمنعقدہ سکھ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد میں ہونے والے واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔ کمیٹی کے سربراہ تیجندر سنگھ پردیسی، ہرپال سنگھ چڈھا، ہرپریت سنگھ نیتو، گرویدر سنگھ سدھو اور وکی خالصہ نے اس موقع پر کہا کہ اس طرح کے واقعات سے سکھ برادری میں کافی غصہ پایا جاتا ہے۔

    خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ سکھ رہنماﺅں کہا کہ بھارت میں امن و امان مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ انہوںنے آبروریزی کے ملزموں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔

    اجلاس میں ہرویندر سنگھ چٹکارا، ہرپریت سنگھ سونو، گرجیت سنگھ ستنامیاں، ہرپال سنگھ پالی چڈا، لکھبیر سنگھ لکھا، گرودیپ سنگھ لکی، منمیدر سنگھ بھاٹیہ، گرویدر سنگھ ناگی، ہرپریت سنگھ رابن، امندیپ سنگھ بگا، پربھجوت سنگھ خالصہ، جتندر سنگھ کوہلی، ہرجیت سنگھ۔ سنگھ بابا، سربجیت سنگھ کالدا، منجیت سنگھ وکی، کلدیپ سنگھ ویردی، پلویدر سنگھ بابا، ابھیشیک سنگھ، نوجوت سنگھ، ہرویدر سنگھ ببلو، سنی اوبرائے، تیجندر سنگھ سنت نگر، کملجیت سنگھ دھونی اور اوتار سنگھ اور دیگر موجود تھے۔

    خیال رہے کہ بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں ہر 15 ویں منٹ میں ایک خاتون کہیں نہ کہیں ’ریپ‘ کا شکار بن رہی ہے، جب کہ ملک کی کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں خواتین محفوظ ہوں۔جبکہ غیرجانبدارذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہر 10 منٹ بعد خاتون ریپ کا نشانہ بن رہی ہے بھارت میں خواتین پر تشدد اور ریپ کے واقعات میں تقریبا 10 فیصد اضافہ ہوا۔

  • بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر، بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا

    بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر، بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا

    نئی دہلی: بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر ریاست بہارمیں ایک بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست بہارکے ایک بینک میں کیشئیرنے حجاب پہننے والی خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا۔ کیشئیرنے خاتون سے کیش حاصل کرنے کے حجاب اتارنے کا مطالبہ کیا باحجاب خاتون نے حجاب اتارنے سے انکارکردیا خاتون اوران کے والد کے شدید احتجاج پربینک کوانہیں رقم دینے پرمجبورہونا پڑا۔

    باحجاب خاتون کا کہنا تھا کہ انہیں حجاب کرنے کی وجہ سے اپنے ہی اکاؤنٹ سے پیسے نکالنے سے روک دیا گیا۔

    دوسری جانب گیسٹ فیکلٹی کے طور پر کام کرنے والی ایک انگلش لیکچرر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے کیونکہ کرناٹک کے تماکورو ضلع میں پڑھاتے ہوئے انہیں حجاب سے پرہیز کرنے کو کہا گیا تھا انہوں نے کہا کہ یہ میری عزت نفس کا معاملہ ہے میں حجاب کے بغیر پڑھا نہیں سکتی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تین سالوں سے میں جین پی یو کالج میں بطور گیسٹ لیکچرر کام کر رہی ہوں۔ ان تین سالوں میں مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوئی اور میں نے آرام سے کام کیا۔ لیکن، کل میرے پرنسپل نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ کلاسز کا انعقاد حجاب یا کسی مذہبی علامت کے بغیر ہونا چاہیے۔-

    انہوں نے کہا کہ پچھلے تین سالوں سے، میں حجاب پہن کر لیکچر دے رہی ہوں، اس سے میری عزت نفس مجروح ہوئی ہے اور میں اس کالج میں مزید کام نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے، میں نے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیا مذہب کا حق ایک آئینی حق ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کے غیر جمہوری عمل کی مذمت کرتی ہوں۔

    کالج انتظامیہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ دریں اثنا، اس کے استعفیٰ کے خط پر آنے والے بہت سے الفاظ نے لیکچرر کی زبان کی مہارت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق انچ سو سے زائد قانون کے طالب علموں، قانونی ماہرین اور وکلاء نے حجاب کے معاملے پر ایک کھلا خط لکھا خط میں مسلم لڑکیوں کو حجاب پہننے پر تعلیمی اداروں میں داخلے سے روکنے کی شدید مذمت کی گئی ہے خط میں ایسی کاروائی کو آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق ہائی کورٹ ججز،سابق چیئرمین کرناٹک اسٹیٹ بیک ورڈ کلاس کمیشن، سینئر ایڈوکیٹس، پروفیسر اور مصنفین ،سپریم کورٹ ایڈوکیٹس، جندل گلوبل لاء اسکول کی پروفیسر، ایکٹوسٹ اور لاء گریجویٹ،پارٹنر، ڈائیلاگ پارٹنرز لیبر ایڈووکیٹس اور ماہر قانون شامل ہیں-

    خط میں کہا گیا ہے کہ ہم کرناٹک ہائی کورٹ کے عبوری حکم سے یکساں طور پر فکر مند ہیں، جس میں طلبہ کو چاہے ان کا مذہب کوئی بھی ہو، اسکارف، حجاب،پہننے سے روکا گیا ہے کورٹ کے عبوری حکم کے بعد، ہم مسلم طلباء اور عملے کی سرعام تذلیل کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر ضلع انتظامیہ کی ہدایات پر اسکولوں اور کالجوں میں داخلے سے قبل اپنے حجاب کو اتارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    مسلم لڑکیوں اور خواتین کی یہ بے عزتی غیر انسانی، عوامی نظر میں آئین کی توہین اور پوری کمیونٹی کی عوامی تذلیل کے مترادف ہے۔ عزت کے ساتھ زندگی کے ان کے بنیادی حق کا تحفظ کرنے میں ناکامی پر ہم شرم سے سر جھکا لیتے ہیں قانونی برادری کے ارکان کے طور پر، ہم جانتے ہیں کہ داؤ پر لگے حقوق کی تفہیم کے لیے کسی مسئلے کا تعین انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

    اس میں مزید کہا گیا ہے کہ،اس طرح کے فیصلے کا اثر مسلم خواتین کو تعلیم سے دور کرنا اور ہمارے ملک میں تعلیمی بحران کو بڑھانا ہے۔ صرف حجاب پہننے کی بنیاد پر خواتین کو تعلیم سے روکنا مناسب نہیں ہے۔ مسلم خواتین کی خودمختاری، پرائیویسی اور وقار کے خلاف مطلق یکسانیت مسلط کرنا غیر آئینی ہے۔ اس بنیاد پر خواتین کو حجاب پہننے کا حق حاصل ہے اور اسی طرح حجاب نہ پہننے کا حق بھی ہےتاہم، مسلم خواتین کے حقوق پر موجودہ حملہ کوئی نیا یا الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ اسے اس کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔اس سے کرناٹک اور پورے ملک میں فرقہ وارانہ پولرائزیشن ہورہا ہے۔