Baaghi TV

Tag: بھارت

  • پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے،  عارف علوی

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے، عارف علوی

    تحریک انصاف کے رہنما سابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے جو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اور طاقت کے تناسب کو برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ ہم اپنے جارح پڑوسی کے ساتھ سیکیورٹی کی غیر متوازن صورتحال سے بچنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ ہمارے میزائل ٹیکنالوجی بھی مقامی سطح پر تیار کی گئی ہے اور اس کا مقصد صرف امن قائم رکھنا ہے، لیکن اس وقت ہمیں بھارت کی طرف سے ہائپرسونک میزائلوں کی تیز تر ترقی کی وجہ سے یہ توازن خطرے میں نظر آ رہا ہے۔

    عارف علوی نے اپنے بیان میں بھارت کی ترقی پذیر میزائل ٹیکنالوجی، خاص طور پر براه موس 1 اور براه موس 2 کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے مارچ 2022 میں ایک براه موس 1 میزائل کا تجربہ کیا تھا، جو ہریانہ سے پاکستان کی سرحد پر گرا۔ یہ میزائل 3،700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پاکستان کی سرحد تک پہنچا اور اس کا پرواز کا وقت محض سات منٹ تھا۔ بھارت نے اس واقعے کو ایک حادثہ قرار دیا، لیکن اس سے پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ بھارت نے حال ہی میں براه موس 2 کا تجربہ کیا ہے جس کی رفتار 9،800 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، اور اس کی پرواز کا وقت پہلے سے بھی کم، یعنی محض 2 منٹ رہ گیا ہے، جس سے پاکستان کے پاس جوہری ردعمل کے لیے کوئی وقت نہیں بچتا۔ انہوں نے کہا کہ براه موس میزائل جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اس طرح کی ترقی پاکستان کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بن سکتی ہے۔عارف علوی نے بھارت کی جوہری پروگرام کے حوالے سے اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو بھی بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں جوہری مواد کی سمگلنگ اور اس کی بلیک مارکیٹنگ کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں، جس میں 1992 سے لے کر 2024 تک متعدد واقعات شامل ہیں۔ ان میں سے چند سنگین واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں متعدد مرتبہ یورینیم کی سمگلنگ کی کوششیں کی گئی ہیں، جو جوہری مواد کے غیر قانونی استعمال کی واضح مثالیں ہیں۔ ان واقعات میں 1992 میں 2 کلو یورینیم کی سمگلنگ، 2008 میں نیپال جانے والے یورینیم کی سمگلنگ، اور 2024 میں کیلیفورنیئم کی سمگلنگ جیسے سنگین معاملات شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے برعکس، پاکستان میں ایسی کوئی سنگین وارداتیں رپورٹ نہیں ہوئیں، اور اس سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کی جوہری پالیسی اور اس کے رویے کے حوالے سے عالمی برادری کا موقف انتہائی جانبدار ہے۔عارف علوی نے اپنے بیان میں امریکہ کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے حالیہ پابندیوں کی مذمت کی، جو ان کے مطابق، بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کو غیر منصفانہ طور پر ہدف بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں پاکستان کے لیے ایک موجودہ خطرہ بن سکتی ہیں اور اس سے خطے میں ایک نیا تناؤ پیدا ہو گا، جو ایک ممکنہ دھماکے کے خطرے کو بڑھا دے گا۔پاکستان تحریک انصاف نے بھی ان پابندیوں کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد پاکستان کی سیکیورٹی کو مزید کمزور کرنا ہے۔ پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ان پابندیوں کے نتائج پاکستان کی بقاء کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

    گورنرسندھ کا مہاجر کلچر ڈے منانے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ کتنی بڑی کرپشن کا کیس , عمران خان قومی مجرم

    طالبان کے حمایتی عمران خان کے ساتھ امریکی ہمدردیاں کیوں؟

    سلمان احمد کو بشری پر تنقید مہنگی پڑ گئی، پارٹی میں رہنے کیلیے بشری کی وفاداری ضروری

  • بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے خلاف مقدمہ درج

    بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے خلاف مقدمہ درج

    بھارت میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقدام قتل کا مقدمہ درج کروایا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انڈیا اتحاد نے پارلیمنٹ کے احاطے میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سے متعلق ریمارکس کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی اور دھکم پیل جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ پارلیمنٹ کے احاطے میں پیش آئے ہنگامے کے دوران راہل گاندھی کی مبینہ طور پر دھکا دینے کی حرکت کی وجہ سے ان کے دو ارکان پارلیمنٹ زخمی ہو گئے۔بی جے پی کے دونوں زخمی ارکان پارلیمنٹ کو فوری طور پر آر ایم ایل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ارکان کی حالت بہتر بتائی گئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے زخمی ارکان سے فون پر بات کی اور ان کی صحت سے متعلق معلومات حاصل کیں۔بی جے پی نے راہل گاندھی پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان پر پارلیمانی اقدار کو پامال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی نے دہلی پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے دوسری جانب کانگریس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بی جے پی کی جانب سے اپوزیشن کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ پارٹی نے واقعہ کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ یہ واقعہ پہلے سے ہی کشیدہ پارلیمانی ماحول کو مزید گرم کر رہا ہے۔

    وزیراعظم کی ترک صدر سے ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری پر بات چیت

    کرم میں ستی گندم دینے کا فیصلہ، اپیکس کمیٹی اجلاس طلب

  • بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،رکن پارلیمنٹ مکیش راجپوت زخمی،آئی سی یو داخل

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،رکن پارلیمنٹ مکیش راجپوت زخمی،آئی سی یو داخل

    بھارتی سیاست میں ایک نیا تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے حوالے سے ایک متنازعہ بیان دیا، جس پر اپوزیشن جماعتوں میں شدید احتجاج دیکھنے کو ملا۔

    جمعرات کو پارلیمنٹ میں اس تنازعے پر ہنگامہ بڑھ گیا، اور اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے "مکڑ دروازے” پر شدید احتجاج کیا۔ اس دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی پر الزام ہے کہ انہوں نے دو بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کو دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ارکان زخمی ہو گئے۔بی جے پی کے دو ارکان پارلیمنٹ، پرتھاپ سرنگی اور مکیش راجپوت، پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب ہونے والے اس تصادم میں زخمی ہو گئے۔ مکیش راجپوت کو شدید چوٹیں آئیں اور انہیں دہلی کے رام منوہر لوہیا اسپتال میں آئی سی یو میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اسپتال کے مطابق، پرتھاپ سرنگی کو بھی سر میں شدید چوٹ آئی تھی اور انہیں بھی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

    پرتھاپ سرنگی نے واقعہ کے بارے میں بتایا، "راہل گاندھی نے ایک ایم پی کو دھکیل دیا، اور وہ مجھ پر گر گیا جس سے میں گر گیا۔ میں سیڑھیوں کے قریب کھڑا تھا جب راہل گاندھی آیا اور اس ایم پی کو دھکیل دیا جس کے نتیجے میں وہ مجھ پر جا گرا۔”

    راہل گاندھی نے بی جے پی ارکان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کی عمارت کے داخلی دروازے کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے اور انہیں دھکیلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور بی جے پی کے ارکان مجھے روکنے، دھکیلنے اور دھمکانے کی کوشش کر رہے تھے۔” جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مالیکار جن کھڑگے اور پریانکا گاندھی کو بھی دھکیل دیا گیا تھا، تو انہوں نے جواب دیا، "ایسا ہوا ہے، مگر ہمیں ان دھکیلنے کی حرکتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”

    بی جے پی اور کانگریس کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات
    بی جے پی اور کانگریس دونوں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں کہ مخالف فریق نے پارلیمنٹ میں تشویش پیدا کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ بی جے پی ارکان کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی اور اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے داخلی راستے پر ان پر حملہ کیا، جبکہ اپوزیشن نے بی جے پی پر الزامات عائد کیے کہ وہ پارلیمنٹ میں امبیڈکر کے حوالے سے امیت شاہ کے بیانات کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    یہ تمام واقعات وزیر داخلہ امیت شاہ کے بی آر امبیڈکر سے متعلق ایک بیان کے بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "امبیڈکر اب فیشن بن چکے ہیں”۔ اس بیان پر اپوزیشن جماعتیں شدید ناراض ہو گئیں اور انہوں نے امیت شاہ سے معافی کی درخواست کی۔ اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر کانگریس اور انڈیا اتحاد کے ارکان نے امیت شاہ کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج کیا اور ان کی استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

    انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ میں بی آر امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے احتجاج کیا اور "جے بھیم” اور "امیت شاہ معافی مانگو” کے نعرے لگائے۔ احتجاج کے دوران، کانگریس کے مالیکار جن کھڑگے، راہل گاندھی اور پریانکا گاندھی سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے نیلے رنگ کے کپڑے پہن کر احتجاج میں شرکت کی۔ یہ نیلا رنگ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سے جڑا ہوا ہے، جو بھارت کے آئین کے معمار تھے۔دوسری طرف، بی جے پی کے اراکین نے بھی پارلیمنٹ میں مارچ کیا اور اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ امبیڈکر کی توہین کر رہے ہیں۔ بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو امبیڈکر کے حوالے سے اپنے رویے پر معافی مانگنی چاہیے۔

    اس ہنگامے کے بعد، لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائی کو معطل کر دیا گیا۔ اپوزیشن نے امیت شاہ سے معافی کا مطالبہ کیا اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی بات کی۔ اس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں دونوں جانب سے شدید نعرے بازی کا سامنا رہا۔

    مکیش راجپوت، جو اس واقعہ کے دوران زخمی ہوئے، بی جے پی کے ایک نمایاں رکن پارلیمنٹ ہیں اور فی الحال اتر پردیش کے فریدآباد سے لوک سبھا کے ممبر ہیں۔ انہوں نے حالیہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں سماج وادی پارٹی کے امیدوار، نوال کشور شکیا کو شکست دی تھی۔ راجپوت نے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی ہے اور ان کی سیاسی سرگرمیاں خاصی فعال ہیں۔

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

    بھارت:بھکاریوں کو بھیک دینے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ

  • بھارت:بھکاریوں کو بھیک دینے والوں  کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ

    بھارت:بھکاریوں کو بھیک دینے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ

    اندور: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں نئے سال سےبھیک دینے والوں کے خلاف قانون نافذ کیا جائے گا، گداگری کے خلاف جاری مہم میں تو ہمیشہ بھکاریوں کے خلاف کارروائی کی جاتی رہی ہے، لیکن اب بھیک دینے والوں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اِندور میں بھکاریوں کو پیسے دینے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے آگاہی مہم بھی چلائی جارہی ہےبھیک مانگنے کے خلاف آگاہی مہم اس ماہ کےآخر تک جاری رہے گی اور یکم جنوری سے بھیک دینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    اِندور پولیس کا کہنا ہے کہ بھیک کے خلاف ہماری مہم اس ماہ کے آخر تک چلے گی اور یکم جنوری سے بھیک دینے والوں پر ایف آئی آر کاٹی جائےگی پولیس حکام نے لوگوں سے درخواست کی کہ بھکاریوں کو بھیک دے کر اس گناہ میں حصے دار نہ بنیں۔

    کلکٹر اندور، اشیش سنگھ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں پہلے ہی بھیک مانگنے پر پابندی تھی، لیکن اس کا اثر نہ ہونے کے برابر تھا حالانکہ بھکاریوں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی، مگر ان کا طاقتور مافیا انہیں فوراً ضمانت دلوا لیتا تھا اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب بھیک دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق انتظامیہ نے گزشتہ کچھ ماہ میں بہت سے گینگ پکڑے ہیں جو لوگوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کرتے ہیں، ضلعی انتظامیہ کے مطابق کئی بھیک مانگنے والے گروہ بھی سامنے آئے ہیں، جن کے خلاف دوبارہ آبادکاری کا عمل شروع کر دیاگیا ہے۔

    یاد رہے کہ وفاقی وزارتِ سماجی انصاف و انسانی حقوق نے اندور سمیت بھارت کے 10 شہروں میں بھکاریوں کو آزاد کرنے کے لیے ایک پائلٹ پروجیکٹ بھی شروع کیا ہے۔

  • بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

    نئی دہلی: لوک سبھا میں اس وقت شدید ہنگامہ برپا ہو گیا جب بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ نے کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو پارلیمنٹ کے اندر داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔

    راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کے ارکان نے نہ صرف انہیں روکنے کی کوشش کی بلکہ دھمکیاں بھی دیں۔ یہ تنازعہ اس وقت بڑھا جب راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ، جن میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے، پرینکا گاندھی اور دیگر خواتین ارکان شامل تھیں، پارلیمنٹ کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔راہل گاندھی نے اس واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں پارلیمنٹ میں اپنے آئینی حق کے تحت داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن بی جے پی کے ارکان نے مجھے دھکیلنا شروع کر دیا اور میرے ساتھ بدسلوکی کی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ حملہ غیر جمہوری ہے اور ہم اپنے حق کے لیے پارلیمنٹ میں جائیں گے، ہمیں دھکم پیل سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بی جے پی ہمیں روک نہیں سکتی۔ ‘‘ راہل گاندھی نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا تاکہ اپوزیشن کو پارلیمنٹ کی کارروائی سے باہر رکھا جا سکے۔ ’’یہ تمام کوششیں آئین کے خلاف ہیں اور بی جے پی اپنی تانا شاہی کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے،‘‘

    دوسری طرف، بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرتاب سنگھ سارنگی نے الزام عائد کیا کہ راہل گاندھی نے انہیں دھکیل کر سیڑھیوں سے گرایا جس کی وجہ سے ان کے سر پر چوٹ آئی۔ سارنگی نے کہا کہ ’’راہل گاندھی نے ایک رکن پارلیمنٹ کو دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں وہ گر گئے اور زخمی ہو گئے۔‘‘ تاہم، راہل گاندھی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کسی کو دھکیلنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

    کانگریس نے اس معاملے پر بی جے پی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس واقعے سے بی جے پی کے ارکان کی غنڈہ گردی سامنے آئی ہے۔ کانگریس نے اس واقعے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس میں صاف طور پر دکھایا گیا ہے کہ بی جے پی کے ارکان نے پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے اپوزیشن ارکان کو روکا اور دھکم پیل کی۔ کانگریس نے اس رویے کو ’’جمہوری قدروں کے خلاف‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی تانا شاہی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اپوزیشن پارٹیوں نے وزیر داخلہ امت شاہ کے ایک حالیہ بیان کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ امت شاہ نے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی شخصیت اور ان کے کام کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے ہیں، جس کے خلاف وہ احتجاج کر رہے ہیں۔

    آج لوک سبھا میں اپوزیشن کے اراکین، جن میں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی بھی شامل تھے، وزیر داخلہ امت شاہ کے امبیڈکر پر دئیے گئے حالیہ بیان کے خلاف پارلیمنٹ میں شدید احتجاج کر رہے تھے۔ اپوزیشن نے امت شاہ سے معافی اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ اس دوران راہل گاندھی نیلی ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھے، جبکہ پرینکا گاندھی نے بھی نیلی ساڑی زیب تن کی تھی، جو بابا صاحب امبیڈکر کے ساتھ اظہار یکجہتی کی علامت تھی۔لوک سبھا میں اپوزیشن رہنماؤں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی قیادت میں انڈیا بلاک کے اراکین نے پارلیمنٹ کے احاطے میں بابا صاحب امبیڈکر کی مورتی کے سامنے احتجاجی مارچ نکالا۔ پرینکا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے بابا صاحب کا مذاق اُڑایا ہے اور ان کی تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے، جو ان کے مطابق بابا صاحب کے وقار کی توہین ہے۔

    پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھی شدید ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ اپوزیشن اراکین نے ’’جئے بھیم‘‘ کے نعرے لگائے اور لوک سبھا و راجیہ سبھا میں امبیڈکر کے خلاف بی جے پی کے بیانات پر احتجاج جاری رکھا۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے اجلاس کے آغاز میں ایک رکن کو سالگرہ کی مبارکباد دی، تاہم اپوزیشن کا احتجاج مسلسل جاری رہا۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی، جن میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا شامل ہیں، امت شاہ کے بیان پر شدید ہنگامے کی وجہ سے متعدد بار ملتوی کی گئی۔

    دوسری جانب بی جے پی نے بھی دہلی سنسد مارگ پر واقع پولیس اسٹیشن میں راہل گاندھی کے خلاف شکایت درج کرادی ہے۔ انوراگ ٹھاکر،بانسری سوراج تھانہ پہنچے تھے جہاں انہوں نے کانگریس کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔اب پولیس اس پورے معاملے کی تحقیقات کرے گی۔

    ڈی جی سپورٹس بورڈ کی تعیناتی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آپریشنل کرنے کی تیاریاں آخری مراحل

  • بھارتی کھلاڑی روی چندرن ایشون کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    بھارتی کھلاڑی روی چندرن ایشون کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    بھارت کے مشہور اسپن باؤلر، روی چندرن ایشون نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

    یہ اعلان انہوں نے برسبین میں آسٹریلیا کے خلاف جاری تیسرے ٹیسٹ میچ کے اختتام پر کیا، جہاں انہوں نے بھارت کے کپتان روہت شرما کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر ایشون نے اپنے کیرئیر کے اختتام پر جذباتی باتیں کیں اور ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے کرکٹ کے سفر میں ان کا ساتھ دیا۔پریس کانفرنس میں روی چندرن ایشون نے کہا: "کرکٹ کے اس سفر میں جس نے بھی میری مدد کی، ان سب کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، خاص طور پر بی سی سی آئی، ویرات کوہلی، روہت شرما، اجنکیا رہانے، اور چتیشور پجارا کا۔ آپ لوگ میرے لیے بہت خاص رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا: "آج میں اپنے کیرئیر کا آخری دن منانے آیا ہوں۔ میں نے کرکٹ کے اس سفر کو بہت انجوائے کیا، اور اس دوران کئی یادگار لمحے گزارے۔ ریٹائرمنٹ کا یہ لمحہ میرے لیے بہت جذباتی ہے۔”

    روی ایشون کے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے بھی اپنے آفیشل سوشل میڈیا پیجز پر ایشون کے زبردست کیرئیر پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ بی سی سی آئی نے کہا کہ "روی چندرن ایشون کا کیرئیر شاندار رہا، جس میں ان کی بے شمار کامیابیاں شامل ہیں۔ ان کی انٹرنیشنل کرکٹ میں خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔”

    روی چندرن ایشون نے 106 ٹیسٹ میچز میں بھارت کی نمائندگی کی، اور اس دوران انہوں نے 537 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے کیرئیر کا سب سے بڑا کارنامہ ہیں۔ ان کا بولنگ اسٹرائیک ریت میں ایک خاص جگہ رکھتا ہے اور وہ بھارت کے سب سے کامیاب اسپن باؤلر میں شمار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایشون نے 116 ون ڈے اور 65 ٹی ٹوئنٹی میچز بھی کھیلے ہیں۔

    زراعت، مویشی بانی، دیہی معیشت کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ سندھ کا کیڈٹ کالج پٹارو کیلئے سولرسسٹم کی تنصیب کا اعلان

  • دولہا نئی نویلی دلہن جنگل میں چھوڑ کر فرار

    دولہا نئی نویلی دلہن جنگل میں چھوڑ کر فرار

    بھارت کی ریاست تلنگانہ میں دولہا خودکشی کی کوشش کرنے والی اپنی نئی نویلی دلہن کو جنگل میں چھوڑ کر فرار ہوگیا۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ریاست مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والا وکرم ملازمت کے سلسلے میں بنگلورو میں قیام پذیر تھا جہاں اس کی ملاقات رابعہ نامی لڑکی سے ہوئی۔وکرم اور رابعہ کو پہلی ملاقات میں ایک دوسرے سے پیار ہوگیا تھا اور انہوں نے 4 دسمبر کو شادی کی، لیکن بہت جلد دونوں کے درمیان جھگڑے ہونے لگے۔جوڑا بنگلورو چھوڑ کر حیدر آباد منتقل ہوگیا لیکن ان کے درمیان جھگڑے ہوتے رہے۔ایک دن رابعہ نے دلبرداشتہ ہو کر زیادہ مقدار میں نیند کی گولیاں کھا لیں جس سے ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔ وکرم نے اسے اسپتال منتقل کرنے کے بجائے ملوگومنڈل کے ون ٹی مامڑی جنگل میں چھوڑ کر فرار کہیں فرار ہوگیا۔جنگل کے اطراف رہائش پذیر افراد نے معاملے علم میں آنے پر پولیس اطلاع دی اور رابعہ کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے نئی نویلی دلہن کے اہل خانہ سے رابطہ کر کے ان کو اطلاع دی۔پولیس دولہا کا سراغ لگانے کیلیے چھاپے مار رہی ہے.

    جاپان صحت، سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر دے گا

    وزارت قانون کا ضابطہ فوجداری 1898 میں اصلاحات کرنے کا اعلان

    یونان کشتی حادثہ، نوجوانوں نے ایجنٹ کو 24 لاکھ فی کس دیے

    اوگر کی منظوری، گیس کی قیمتوں میں 25.78 فیصد تک اضافہ

  • روس نے ویزا فری انٹری دینے کا اعلان کر دیا

    روس نے ویزا فری انٹری دینے کا اعلان کر دیا

    روس نے 2025 سے بھارتیوں کو بغیر ویزا انٹری کی سہولت دینے کا اعلان کیا ہے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی شہری اگست 2023 سے روس کے لیے ای-ویزا کے بھی اہل ہیں، جس کے اجرا میں تقریباً چار دن لگتے ہیں۔ روس اور ہندوستان کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرتے ہوئے روس نے بھارتی شہریوں کو ویزے کے بغیر انٹری دینے کی اجازت دے دی ہے۔جون 2023 میں دونوں ممالک نے ویزا پابندیوں میں کمی کے حوالے سے بات چیت کی تھی، تاہم اب روس کے نئے ویزا قوانین نافذ ہونے کے بعد بھارتی شہری بغیر ویزا روس کا سفر کر سکیں گے۔دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں روس نے بھارتیوں کو 9,500 ای-ویزا جاری کیے، اس برس 60 ہزار سے زیادہ بھارتیوں نے ماسکو کا سفر کیا، جو 2022 کے مقابلے میں 26 فی صد زیادہ ہے۔واضح رہے کہ اس وقت روس ویزا فری انٹری کی سہولت صرف چین اور ایران کے مسافروں کو دیتا ہے، تاہم بھارت کے ساتھ بھی اس سہولت پر غور کیا جا رہا ہے، اور امکان ہے کہ 2025 سے اس کا آغاز ہو جائے گا۔ روس کے ساتھ بھارت کے ان قریبی روابط پر امریکا ہمیشہ تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔

    کالعدم تنظیم کی فنڈنگ، سہولت کاری میں ملوث ملزم گرفتار

    شہریت کی تصدیق،حمیدہ بانو 22 برس بعد بھارت روانہ

    تنگوانی: دو افراد دن دہاڑے اغوا، پولیس خاموش تماشائی

    کراچی پولیس نے ہفتہ وار کارروائیوں کی رپورٹ جاری کردی

  • داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی منشیات کیس میں گرفتار

    داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی منشیات کیس میں گرفتار

    ممبئی داؤد ابراہیم کے مبینہ اہم ساتھی دانش مرچنٹ، جسے دانش چکنا بھی کہا جاتا ہے، کو منشیات کے ایک کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔

    مرچنٹ کو اس کے ساتھی قادر غلام شیخ کے ہمراہ گرفتار کیا گیا ہے۔ مرچنٹ کو ڈونگری علاقے میں داؤد ابراہیم کی منشیات کی سرگرمیوں کا انچارج سمجھا جاتا ہے اور پولیس کے مطابق وہ اس کیس میں مطلوب ملزم تھا۔ممبئی پولیس کے ذرائع کے مطابق مرچنٹ کی گرفتاری ایک طویل تفتیش کے بعد عمل میں آئی۔ یہ تفتیش گزشتہ ماہ دو ملزمان محمد عاشق الرحمن اور ریحان شکیل انصاری کی گرفتاری کے بعد شروع ہوئی تھی۔این ڈی ٹی وی کے مطابق، گرفتاریوں کا یہ سلسلہ 8 نومبر کو شروع ہوا، جب مرین لائنز سٹیشن کے قریب سے 144 گرام منشیات کے ساتھ عاشق الرحمان کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران عاشق نے بتایا کہ یہ منشیات ڈونگری میں انصاری سے حاصل کی گئی تھیں۔ اس انکشاف کے بعد پولیس نے ریحان شکیل انصاری کو گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے مزید 55 گرام منشیات برآمد کیں۔انصاری نے تفتیش کے دوران بتایا کہ یہ منشیات دانش مرچنٹ اور اس کے ساتھی قادر فانٹا نے فراہم کی تھیں۔ پولیس نے اس معلومات کی بنیاد پر مرچنٹ اور فانٹا کی تلاش شروع کی۔

    پولیس کئی ہفتوں سے مرچنٹ اور فانٹا کی تلاش کر رہی تھی۔ 13 دسمبر کو ایک مخبر کی اطلاع پر پولیس نے ڈونگری علاقے میں چھاپہ مارا اور دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ایک محتاط آپریشن کے ذریعے ان کی گرفتاری عمل میں آئی۔ پوچھ گچھ کے دوران دونوں نے منشیات کے اس ریکٹ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ اس سے پہلے، 2019 میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے ڈونگری میں داؤد ابراہیم کی منشیات کی فیکٹری کو ختم کر دیا تھا اور اس کارروائی میں کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط کی تھیں۔ اس وقت دانش مرچنٹ کو راجستھان سے گرفتار کیا گیا تھا، اور وہ حالیہ رہائی تک جیل میں رہا تھا۔ پولیس کے مطابق مرچنٹ اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری داؤد ابراہیم کے منشیات کے نیٹ ورک کو مزید کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان ملزمان کی گرفتاری کے بعد یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید اہم ملزمان کی گرفتاری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    بھارتی میڈیا کا کراچی میں داؤد ابراہیم کی چھتیسویں بار کرونا سے موت کا دعویٰ

    ممبئی بم دھماکوں کے ملزم ،داؤد ابراہیم کے ساتھی یوسف میمن کی جیل میں ہوئی موت

    داؤد ابراہیم کا بھارت میں پھر چرچا، بھارت سرکار نے بڑا قدم اٹھا لیا

    دہلی سے مسلم نوجوان گرفتار،داؤد ابراہیم سے تعلق،پاکستان سے تربیت لی، دہلی پولیس کا دعویٰ

    داؤد ابراہیم کی تلاش اوراسکی دولت کے بارے میں تحقیقات کیلیے آپریشن مزید تیز

  • پریانکا گاندھی نے مودی کی تقریر کو ریاضی کا پریڈ قرار دے دیا

    پریانکا گاندھی نے مودی کی تقریر کو ریاضی کا پریڈ قرار دے دیا

    پریانکا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر کو اسکول میں ریاضی کا پیریڈ قرار دے دیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی سیاسی جماعت کانگریس کی رہنما پریانکا گاندھی نے مودی کی تقریر کو بورنگ کہہ دیا، اور نریندر مودی کی پارلیمنٹ میں 110 منٹ سے زائد کی تقریر کو اسکول کے ریاضی کے ڈبل پیریڈ جیسا قرار دے دیا۔پریانکا گاندھی نے کہا مودی کی تقریر تھی یا ریاضی کا ڈبل پیریڈ، مودی نے ایک بھی ایسی بات نہیں کہی جو نئی ہو، انھوں نے ہمیں بہت بور کر دیا تھا، یہ مجھے دہائیوں پیچھے لے گیا اور ایسا لگا جیسے میں ریاضی کے اُس ڈبل پیریڈ میں بیٹھی ہوں۔ جے پی نِڈا جی بھی ہاتھ مل رہے تھے لیکن جیسے ہی مودی ان کی طرف دیکھتے تو وہ ایسی اداکاری کرنے لگتے جیسے توجہ سے سن رہے ہوں، امیت شاہ نے بھی اپنا سر پکڑ رکھا تھا، پیوش گوئل اونگھ رہے تھے، یہ میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا، میں نے سوچا تھا کہ وزیر اعظم کچھ نیا، کچھ اچھا کہیں گے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی نے اپنی تقریر میں گاندھی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہ کانگریس کے ایک خاندان نے آئین کو پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، میں اس ایک خاندان کا ذکر کر رہا ہوں کیوں کہ ہمارے 75 سال کے سفر میں انھوں نے 55 سال حکومت کی، اس خاندان کی غلط سوچوں، بری پالیسیوں کی روایت مسلسل جاری ہے۔ اس خاندان نے ہر سطح پر آئین کو چیلنج کیا ہے۔

    خیبر پختونخوا سے وفاق پر تین بار حملے کیا گیا، رانا ثناء اللہ

    بہاولپور: زیادتی کے بعد تیزاب گردی،لڑکی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا، مرکزی ملزم گرفتار

    کراچی: 3 کروڑسے مرمت پائپ لائن چار روز بھی نہ چل سکی

    پیپلز پارٹی کا وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہراولپنڈی،اسلام آباد، لاہور کے تعلیمی اداروں میں کل چھٹی کا اعلان