Baaghi TV

Tag: بھارت

  • بھارتی کھلاڑی روی چندرن ایشون کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    بھارتی کھلاڑی روی چندرن ایشون کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    بھارت کے مشہور اسپن باؤلر، روی چندرن ایشون نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

    یہ اعلان انہوں نے برسبین میں آسٹریلیا کے خلاف جاری تیسرے ٹیسٹ میچ کے اختتام پر کیا، جہاں انہوں نے بھارت کے کپتان روہت شرما کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر ایشون نے اپنے کیرئیر کے اختتام پر جذباتی باتیں کیں اور ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے کرکٹ کے سفر میں ان کا ساتھ دیا۔پریس کانفرنس میں روی چندرن ایشون نے کہا: "کرکٹ کے اس سفر میں جس نے بھی میری مدد کی، ان سب کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، خاص طور پر بی سی سی آئی، ویرات کوہلی، روہت شرما، اجنکیا رہانے، اور چتیشور پجارا کا۔ آپ لوگ میرے لیے بہت خاص رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا: "آج میں اپنے کیرئیر کا آخری دن منانے آیا ہوں۔ میں نے کرکٹ کے اس سفر کو بہت انجوائے کیا، اور اس دوران کئی یادگار لمحے گزارے۔ ریٹائرمنٹ کا یہ لمحہ میرے لیے بہت جذباتی ہے۔”

    روی ایشون کے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے بھی اپنے آفیشل سوشل میڈیا پیجز پر ایشون کے زبردست کیرئیر پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ بی سی سی آئی نے کہا کہ "روی چندرن ایشون کا کیرئیر شاندار رہا، جس میں ان کی بے شمار کامیابیاں شامل ہیں۔ ان کی انٹرنیشنل کرکٹ میں خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔”

    روی چندرن ایشون نے 106 ٹیسٹ میچز میں بھارت کی نمائندگی کی، اور اس دوران انہوں نے 537 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے کیرئیر کا سب سے بڑا کارنامہ ہیں۔ ان کا بولنگ اسٹرائیک ریت میں ایک خاص جگہ رکھتا ہے اور وہ بھارت کے سب سے کامیاب اسپن باؤلر میں شمار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایشون نے 116 ون ڈے اور 65 ٹی ٹوئنٹی میچز بھی کھیلے ہیں۔

    زراعت، مویشی بانی، دیہی معیشت کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ سندھ کا کیڈٹ کالج پٹارو کیلئے سولرسسٹم کی تنصیب کا اعلان

  • دولہا نئی نویلی دلہن جنگل میں چھوڑ کر فرار

    دولہا نئی نویلی دلہن جنگل میں چھوڑ کر فرار

    بھارت کی ریاست تلنگانہ میں دولہا خودکشی کی کوشش کرنے والی اپنی نئی نویلی دلہن کو جنگل میں چھوڑ کر فرار ہوگیا۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ریاست مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والا وکرم ملازمت کے سلسلے میں بنگلورو میں قیام پذیر تھا جہاں اس کی ملاقات رابعہ نامی لڑکی سے ہوئی۔وکرم اور رابعہ کو پہلی ملاقات میں ایک دوسرے سے پیار ہوگیا تھا اور انہوں نے 4 دسمبر کو شادی کی، لیکن بہت جلد دونوں کے درمیان جھگڑے ہونے لگے۔جوڑا بنگلورو چھوڑ کر حیدر آباد منتقل ہوگیا لیکن ان کے درمیان جھگڑے ہوتے رہے۔ایک دن رابعہ نے دلبرداشتہ ہو کر زیادہ مقدار میں نیند کی گولیاں کھا لیں جس سے ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔ وکرم نے اسے اسپتال منتقل کرنے کے بجائے ملوگومنڈل کے ون ٹی مامڑی جنگل میں چھوڑ کر فرار کہیں فرار ہوگیا۔جنگل کے اطراف رہائش پذیر افراد نے معاملے علم میں آنے پر پولیس اطلاع دی اور رابعہ کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے نئی نویلی دلہن کے اہل خانہ سے رابطہ کر کے ان کو اطلاع دی۔پولیس دولہا کا سراغ لگانے کیلیے چھاپے مار رہی ہے.

    جاپان صحت، سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر دے گا

    وزارت قانون کا ضابطہ فوجداری 1898 میں اصلاحات کرنے کا اعلان

    یونان کشتی حادثہ، نوجوانوں نے ایجنٹ کو 24 لاکھ فی کس دیے

    اوگر کی منظوری، گیس کی قیمتوں میں 25.78 فیصد تک اضافہ

  • روس نے ویزا فری انٹری دینے کا اعلان کر دیا

    روس نے ویزا فری انٹری دینے کا اعلان کر دیا

    روس نے 2025 سے بھارتیوں کو بغیر ویزا انٹری کی سہولت دینے کا اعلان کیا ہے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی شہری اگست 2023 سے روس کے لیے ای-ویزا کے بھی اہل ہیں، جس کے اجرا میں تقریباً چار دن لگتے ہیں۔ روس اور ہندوستان کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرتے ہوئے روس نے بھارتی شہریوں کو ویزے کے بغیر انٹری دینے کی اجازت دے دی ہے۔جون 2023 میں دونوں ممالک نے ویزا پابندیوں میں کمی کے حوالے سے بات چیت کی تھی، تاہم اب روس کے نئے ویزا قوانین نافذ ہونے کے بعد بھارتی شہری بغیر ویزا روس کا سفر کر سکیں گے۔دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں روس نے بھارتیوں کو 9,500 ای-ویزا جاری کیے، اس برس 60 ہزار سے زیادہ بھارتیوں نے ماسکو کا سفر کیا، جو 2022 کے مقابلے میں 26 فی صد زیادہ ہے۔واضح رہے کہ اس وقت روس ویزا فری انٹری کی سہولت صرف چین اور ایران کے مسافروں کو دیتا ہے، تاہم بھارت کے ساتھ بھی اس سہولت پر غور کیا جا رہا ہے، اور امکان ہے کہ 2025 سے اس کا آغاز ہو جائے گا۔ روس کے ساتھ بھارت کے ان قریبی روابط پر امریکا ہمیشہ تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔

    کالعدم تنظیم کی فنڈنگ، سہولت کاری میں ملوث ملزم گرفتار

    شہریت کی تصدیق،حمیدہ بانو 22 برس بعد بھارت روانہ

    تنگوانی: دو افراد دن دہاڑے اغوا، پولیس خاموش تماشائی

    کراچی پولیس نے ہفتہ وار کارروائیوں کی رپورٹ جاری کردی

  • داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی منشیات کیس میں گرفتار

    داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی منشیات کیس میں گرفتار

    ممبئی داؤد ابراہیم کے مبینہ اہم ساتھی دانش مرچنٹ، جسے دانش چکنا بھی کہا جاتا ہے، کو منشیات کے ایک کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔

    مرچنٹ کو اس کے ساتھی قادر غلام شیخ کے ہمراہ گرفتار کیا گیا ہے۔ مرچنٹ کو ڈونگری علاقے میں داؤد ابراہیم کی منشیات کی سرگرمیوں کا انچارج سمجھا جاتا ہے اور پولیس کے مطابق وہ اس کیس میں مطلوب ملزم تھا۔ممبئی پولیس کے ذرائع کے مطابق مرچنٹ کی گرفتاری ایک طویل تفتیش کے بعد عمل میں آئی۔ یہ تفتیش گزشتہ ماہ دو ملزمان محمد عاشق الرحمن اور ریحان شکیل انصاری کی گرفتاری کے بعد شروع ہوئی تھی۔این ڈی ٹی وی کے مطابق، گرفتاریوں کا یہ سلسلہ 8 نومبر کو شروع ہوا، جب مرین لائنز سٹیشن کے قریب سے 144 گرام منشیات کے ساتھ عاشق الرحمان کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران عاشق نے بتایا کہ یہ منشیات ڈونگری میں انصاری سے حاصل کی گئی تھیں۔ اس انکشاف کے بعد پولیس نے ریحان شکیل انصاری کو گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے مزید 55 گرام منشیات برآمد کیں۔انصاری نے تفتیش کے دوران بتایا کہ یہ منشیات دانش مرچنٹ اور اس کے ساتھی قادر فانٹا نے فراہم کی تھیں۔ پولیس نے اس معلومات کی بنیاد پر مرچنٹ اور فانٹا کی تلاش شروع کی۔

    پولیس کئی ہفتوں سے مرچنٹ اور فانٹا کی تلاش کر رہی تھی۔ 13 دسمبر کو ایک مخبر کی اطلاع پر پولیس نے ڈونگری علاقے میں چھاپہ مارا اور دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ایک محتاط آپریشن کے ذریعے ان کی گرفتاری عمل میں آئی۔ پوچھ گچھ کے دوران دونوں نے منشیات کے اس ریکٹ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ اس سے پہلے، 2019 میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے ڈونگری میں داؤد ابراہیم کی منشیات کی فیکٹری کو ختم کر دیا تھا اور اس کارروائی میں کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط کی تھیں۔ اس وقت دانش مرچنٹ کو راجستھان سے گرفتار کیا گیا تھا، اور وہ حالیہ رہائی تک جیل میں رہا تھا۔ پولیس کے مطابق مرچنٹ اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری داؤد ابراہیم کے منشیات کے نیٹ ورک کو مزید کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان ملزمان کی گرفتاری کے بعد یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید اہم ملزمان کی گرفتاری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    بھارتی میڈیا کا کراچی میں داؤد ابراہیم کی چھتیسویں بار کرونا سے موت کا دعویٰ

    ممبئی بم دھماکوں کے ملزم ،داؤد ابراہیم کے ساتھی یوسف میمن کی جیل میں ہوئی موت

    داؤد ابراہیم کا بھارت میں پھر چرچا، بھارت سرکار نے بڑا قدم اٹھا لیا

    دہلی سے مسلم نوجوان گرفتار،داؤد ابراہیم سے تعلق،پاکستان سے تربیت لی، دہلی پولیس کا دعویٰ

    داؤد ابراہیم کی تلاش اوراسکی دولت کے بارے میں تحقیقات کیلیے آپریشن مزید تیز

  • پریانکا گاندھی نے مودی کی تقریر کو ریاضی کا پریڈ قرار دے دیا

    پریانکا گاندھی نے مودی کی تقریر کو ریاضی کا پریڈ قرار دے دیا

    پریانکا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر کو اسکول میں ریاضی کا پیریڈ قرار دے دیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی سیاسی جماعت کانگریس کی رہنما پریانکا گاندھی نے مودی کی تقریر کو بورنگ کہہ دیا، اور نریندر مودی کی پارلیمنٹ میں 110 منٹ سے زائد کی تقریر کو اسکول کے ریاضی کے ڈبل پیریڈ جیسا قرار دے دیا۔پریانکا گاندھی نے کہا مودی کی تقریر تھی یا ریاضی کا ڈبل پیریڈ، مودی نے ایک بھی ایسی بات نہیں کہی جو نئی ہو، انھوں نے ہمیں بہت بور کر دیا تھا، یہ مجھے دہائیوں پیچھے لے گیا اور ایسا لگا جیسے میں ریاضی کے اُس ڈبل پیریڈ میں بیٹھی ہوں۔ جے پی نِڈا جی بھی ہاتھ مل رہے تھے لیکن جیسے ہی مودی ان کی طرف دیکھتے تو وہ ایسی اداکاری کرنے لگتے جیسے توجہ سے سن رہے ہوں، امیت شاہ نے بھی اپنا سر پکڑ رکھا تھا، پیوش گوئل اونگھ رہے تھے، یہ میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا، میں نے سوچا تھا کہ وزیر اعظم کچھ نیا، کچھ اچھا کہیں گے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی نے اپنی تقریر میں گاندھی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہ کانگریس کے ایک خاندان نے آئین کو پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، میں اس ایک خاندان کا ذکر کر رہا ہوں کیوں کہ ہمارے 75 سال کے سفر میں انھوں نے 55 سال حکومت کی، اس خاندان کی غلط سوچوں، بری پالیسیوں کی روایت مسلسل جاری ہے۔ اس خاندان نے ہر سطح پر آئین کو چیلنج کیا ہے۔

    خیبر پختونخوا سے وفاق پر تین بار حملے کیا گیا، رانا ثناء اللہ

    بہاولپور: زیادتی کے بعد تیزاب گردی،لڑکی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا، مرکزی ملزم گرفتار

    کراچی: 3 کروڑسے مرمت پائپ لائن چار روز بھی نہ چل سکی

    پیپلز پارٹی کا وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہراولپنڈی،اسلام آباد، لاہور کے تعلیمی اداروں میں کل چھٹی کا اعلان

  • دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

    دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

    بھارتی دارالحکومت دہلی میں فضائی آلودگی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے والدین کو ایک مشکل فیصلہ درپیش ہے: یہاں رہنا یا کہیں اور جانا ہے

    45 سالہ امریتہ روشہ ان والدین میں شامل ہیں جو اپنے بچوں کے ساتھ دہلی چھوڑنے کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ ان کے دونوں بچے — 4 سالہ ونا یا اور 9 سالہ ابھیراج — سانس کی تکالیف میں مبتلا ہیں اور انہیں دوا کی ضرورت ہے۔”ہمارے پاس دہلی چھوڑنے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا،” امریتہ نے سی این این کو بتایا، جب وہ دہلی کے جنوبی علاقے میں اپنے گھر میں آخری لمحوں کی پیکنگ کر رہی تھیں۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ عمان جا رہی ہیں، جہاں انکے شوہر شوہر ملازمت کی وجہ سےمقیم ہیں۔

    ہر سال، دہلی میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ایک دھند یا اسموگ کا غبار شہر کو گھیر لیتا ہے، جو دن کو رات میں تبدیل کر دیتا ہے اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس آلودہ ہوا سے بچے، خاص طور پر وہ جو کمزور مدافعتی نظام کے حامل ہیں، سانس کی مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔

    امریتہ اپنے بچوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرتی ہیں، وہ دہلی سے باہر جا کر آلودہ ہوا سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔

    دہلی کے ایک غریب علاقے میں، مسکان اپنے بچوں کے نیبلائزر کے لئے دوائی کے آخری قطرے دیکھ کر پریشان ہیں۔ نیبلائزر ایک ایسا آلہ ہے جو مائع دوا کو دھواں کی صورت میں تبدیل کر کے ماسک یا ماؤتھ پیس کے ذریعے سانس میں لیا جاتا ہے۔مسکان کا کہنا ہے، "ہم اپنے بچوں کو دوا کا نصف حصہ دیتے ہیں کیونکہ ہمیں اور دوائی خریدنے کا پیسہ نہیں ہے۔” ان کے دونوں بچے، چاہت (3 سال) اور دیا (1 سال) بچپن سے ہی نیبلائزر پر ہیں، کیونکہ دونوں کی سانس لینے میں مشکلات پیدا ہو گئی تھیں۔مسکان نے یہ نیبلائزر 9 ڈالر میں خریدا تھا، جو اس نے سڑکوں پر کچرا اکٹھا کرنے اور محنت کر کے کمائے تھے۔ ان کے شوہر ایک دن کے مزدور ہیں۔”جب وہ کھانستے ہیں تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ میرے بچے مر نہ جائیں۔ میں پریشان رہتی ہوں اور ہر وقت فکر میں ڈوبی رہتی ہوں کہ کہیں کچھ برا نہ ہو جائے،” مسکان نے کہا۔

    دہلی کے بچوں کی تکالیف سال بہ سال بڑھتی جا رہی ہیں۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ آتِشی نے کہا، "بچوں کو سانس لینے کے لئے سٹیرائڈز اور انہیلرز پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے… پورا شمالی بھارت ایک طبی ایمرجنسی کی حالت میں ہے۔”بھارتی سپریم کورٹ نے آلودگی کو کم کرنے کے لئے اقدامات کی نگرانی شروع کر دی ہے، جو عموماً گاڑیوں کے دھویں، فصلوں کی جلاوٹ اور تعمیراتی کام کی وجہ سے ہوتی ہے، ساتھ ہی موسم اور موسمی حالات بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔ان اقدامات میں گاڑیوں پر پابندی، تعمیراتی کام پر روک، اور سڑکوں پر پانی چھڑکنا شامل ہیں۔ حکام نے عوامی نقل و حمل میں اضافہ کیا ہے اور فصلوں کی جلاوٹ پر سخت کارروائی کی ہے۔

    رینبو چلڈرن ہسپتال میں پیڈیاٹرک انٹینسیو کیئر یونٹ کے ڈاکٹر منجندر سنگھ رندھاؤا نے کہا کہ اس سال وہ پہلی بار بچوں میں آسمہ کی بیماری کی علامات شدید حالت میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق، طویل مدت میں آلودگی سانس، مدافعتی نظام اور قلبی نظام پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔سی این این نے بھارتی حکومت سے اس پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے، لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔

    پچھلے ماہ دہلی کے کچھ حصوں میں فضائی آلودگی کی سطح 1,750 تک پہنچ گئی تھی، جو عالمی سطح پر صحت کے لئے انتہائی خطرناک مانی جاتی ہے۔ انڈیکس پر 300 سے زیادہ کی کوئی بھی سطح صحت کے لئے نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔اس دوران، PM 2.5 ذرات، جو ہوا میں انتہائی باریک ذرات ہوتے ہیں اور پھیپھڑوں میں گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں، کی سطح عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ حدوں سے 70 گنا تک تجاوز کر گئی تھی۔ ان ذرات کا سانس میں آنا بچوں میں دماغی صلاحیتوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

    کچھ والدین، جیسے دیپتی رامداس، اپنے بچوں کی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے دہلی چھوڑ چکے ہیں۔ جب ان کے بیٹے رودرا کی پیدائش ہوئی، تو انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ دہلی چھوڑنا پڑے گا۔ لیکن جب رودرا کو جنوری 2022 میں پیڈیاٹرک انٹینسیو کیئر یونٹ میں داخل کرایا گیا، تو ڈاکٹروں نے کہا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کے پھیپھڑے بہتر طور پر ترقی کریں تو دہلی چھوڑنا ضروری ہے۔دیپتی نے اپنے خاندان کے ساتھ جنوبی بھارت کے ریاست کیرالہ کا رخ کیا۔ "یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ مجھے اپنی پسندیدہ نوکری چھوڑنی پڑی اور میرا شوہر دہلی میں کام کے لئے رہ گیا، جس کی وجہ سے ہمارا رشتہ طویل فاصلے کا بن گیا۔”لیکن دیپتی کو سکون اس بات کا ہے کہ کیرالہ میں رودرا کو کبھی سانس لینے میں تکلیف نہیں ہوئی۔ وہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی اپنے والد سے ملنے آئی تھیں، لیکن چند دنوں میں ہی رودرا کی حالت پھر خراب ہو گئی اور اسے نیبلائزر کی ضرورت پیش آئی۔”اسے اس حالت میں دیکھنا دل پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے،” دیپتی نے کہا۔

    دہلی میں فضائی آلودگی کا مسئلہ سال بہ سال سنگین تر ہوتا جا رہا ہے، اور اس کا اثر بچوں کی صحت پر براہ راست پڑ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف امیر خاندان دہلی چھوڑنے کا آپشن رکھتے ہیں، وہیں غریب لوگ اس مسئلے کا سامنا کرتے ہیں اور اپنے بچوں کی صحت کے بارے میں مسلسل فکر مند رہتے ہیں۔

  • کراچی،بھارتی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ

    کراچی،بھارتی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ

    کراچی: جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر بھارت کے مسافر بردار طیارے نےایمرجنسی لینڈنگ کی ہے،

    دوران سفر مسافر کی طبیعت بگڑنے کی وجہ سے بھارتی پرواز نے لینڈنگ کی،ایوی ایشن ذرائع کے مطابق، بھارتی ائیرلائن کی پرواز AI-201 دہلی سے جدہ جا رہی تھی کہ پاکستان کی فضائی حدود میں ایک مرد مسافر کی حالت اچانک خراب ہو گئی۔ جہاز کے عملے نے فوری طور پر متاثرہ مسافر کو آکسیجن فراہم کی تاکہ اس کی حالت کو سنبھالا جا سکے، تاہم مسافر کی حالت بدستور خراب ہوتی گئی۔ طیارے کا عملہ مسلسل کوشش کر رہا تھا مگر مسافر کی حالت میں کوئی بہتری نہ آئی، جس کے بعد پائلٹ نے فوری طور پر کراچی ائیر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا۔بھارتی پائلٹ نے کراچی ائیر ٹریفک کنٹرول کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر درخواست کی کہ طیارہ کراچی میں ایمرجنسی لینڈنگ کرے تاکہ مسافر کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ ائیرپورٹ حکام نے پائلٹ کی درخواست پر فوری ردعمل دیتے ہوئے لینڈنگ کی اجازت دے دی۔

    جیسے ہی اجازت ملنے کے بعد طیارے نے اپنے روٹ میں تبدیلی کی اور جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی جانب رخ کر لیا۔ طیارہ بغیر کسی مزید دقت کے ائیرپورٹ پر کامیابی سے لینڈ کر گیا۔ ائیرپورٹ پر موجود حکام اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی میڈیکل ٹیم نے فوری طور پر طیارے کے اندر جا کر مسافر کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق، طیارے کی لینڈنگ کے بعد میڈیکل ٹیم نے متاثرہ مسافر کو فوراً طبی امداد دی، جس کے بعد اس کی حالت میں کچھ بہتری آئی۔ مسافر کو ائیرپورٹ کے میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا تاکہ اس کی حالت کا مزید جائزہ لیا جا سکے۔ ایوی ایشن حکام نے بتایا کہ مسافر کی حالت اب خطرے سے باہر ہے ،پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ائیرپورٹ حکام نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس ایمرجنسی لینڈنگ کی اجازت دی اور اس عمل کو انتہائی پروفیشنل انداز میں انجام دیا۔ بھارتی ائیرلائن کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان اس تعاون کو دونوں ممالک کے درمیان مثبت اشارہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    انڈیگو کا کمال،پروازوں میں تاخیر،مسافر 24 گھنٹے تک بے حال

    یورپی یونین کے بعد برطانیہ کی پروازیں بھی کھلنے کی امید

    پی آئی اے کی کراچی سے تربت کے لیے پروازیں دوبارہ شروع

  • بنگلہ دیشی سیاستدان نے بھارتی علاقے  پر اپنا دعوی کر دیا

    بنگلہ دیشی سیاستدان نے بھارتی علاقے پر اپنا دعوی کر دیا

    بنگلہ دیشی سیاستدان روح کبیر نے بھارتی ریاست مغربی بنگلہ، بہار اور اڈیشہ کے بنگلہ دیش کا حصہ ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں انڈیا کے ری پبلک ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ چٹاگانگ بھارت کا حصہ تھا۔بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے سینئر جوائنٹ سیکریٹری روح کبیر رضوی نے بھارتی ٹی وی کے اس دعویٰ پر فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی ریاست مغربی بنگال، بہار اور اڈیشہ بنگلہ دیش کا حصہ ہیں۔روح کبیر رضوی نے انڈین چینل کے دعوے پر خبردار کیا کہ بنگلہ دیش بھارتی بنگال، بہار اور اڈیشہ جیسے علاقوں پر بھی ملکیت کا دعویٰ کرے گا، جہاں کبھی مسلم نوابوں کی حکومت تھی۔انہوں نے بھارت کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ نیپال، بھوٹان، سری لنکا، مالدیپ اور پاکستان انڈیا کے نفرت انگیز اور بدنیتی پر مبنی رویے کی وجہ سے اس کے ساتھ نہیں ہیں اور اب بنگلہ دیش بھی آپ کے ساتھ نہیں ہے۔ یہ صرف اور صرف آپ کے تکبر اور استحصالی رویہ کی وجہ سے ہے جس کا آپ مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔دوسری جانب بنگلہ دیشی سیاستدان کے اس دعوے پر بھارتی مغربی بنگال کی وزیراعلٰی ممتا بینر جی بھی کھل کر میدان میں آ گئیں اور اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے دھمکی دے ڈالی کہ جب بیرونی طاقتیں انڈیا سرزمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گی، تو انڈین لالی پاپ نہیں چوس رہیں ہوں گے۔واضح رہے کہ حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے اور بھارت میں روپوشی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور اس کا اظہار بیانات اور اقدامات سے ہو رہا ہے۔

    سندھ میں 25 دسمبر کو عام تعطیل کا اعلان

    پٹرول مزید مہنگا ہونے کا امکان

    بجلی صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کا منصوبہ سامنے آ گیا

  • انڈیگو کا کمال،پروازوں میں تاخیر،مسافر 24 گھنٹے تک بے حال

    انڈیگو کا کمال،پروازوں میں تاخیر،مسافر 24 گھنٹے تک بے حال

    استنبول کے ایئرپورٹ پر انڈیگو کی فلائٹس 6E 12 (استنبول سے دہلی) اور 6E 18 (استنبول سے ممبئی) میں 24 گھنٹوں سے زیادہ کی تاخیر کا سامنا کرنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    یہ فلائٹس بدھ کی رات روانہ ہونے والی تھیں، لیکن متعدد مرتبہ انہیں بغیر کسی مناسب اپ ڈیٹ کے ملتوی کر دیا گیا، جس کے باعث مسافر پریشانی کا شکار ہوگئے۔ جمعہ کی صبح تک، 39 گھنٹوں کی اس آزمائش کے بعد بھی انڈیگو نے پرواز کے روانگی کے اوقات کی تصدیق نہیں کی تھی۔پریشان حال مسافروں نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربات شیئر کیے اور ایئرلائن کی جانب سے اس صورت حال کے انتظام میں ناکامی پر برہمی کا اظہار کیا۔ شوبھم بنسال، ایک متاثرہ مسافر نے لنکڈ ان پر لکھا: "میں ان 400 مسافروں میں سے ایک ہوں جو گزشتہ 24 گھنٹوں سے استنبول میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انڈیگو سے کوئی جواب (یا) اپ ڈیٹس نہیں ملی۔ کیا یہ ایئرلائن چلانے کا طریقہ ہے؟”

    اسی طرح، انوشری بھنسالی نے واقعات کے افراتفری پر مبنی تسلسل کا ذکر کیا۔ "پرواز کو ایک گھنٹے کے لیے دو مرتبہ تاخیر کی گئی، پھر اسے منسوخ کر دیا گیا اور آخرکار 12 گھنٹے بعد دوبارہ شیڈول کیا گیا،” انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا۔ بھنسالی، جو بخار اور تھکاوٹ کا شکار تھیں، نے کہا کہ مسافروں کو رہائش، کھانے کے واؤچرز یا انڈیگو کے نمائندوں کی جانب سے کسی مدد کی پیشکش نہیں کی گئی۔

    ایک اور مسافر، روہن راجہ نے بتایا کہ سرد موسم میں لوگ مشکلات کا شکار ہو رہے تھے کیونکہ ایئرلائن کی طرف سے ان جگہوں تک پہنچنے کے لیے کوئی ٹرانسپورٹ کا انتظام نہیں کیا گیا، جہاں رہائش فراہم کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

    مسافروں کو اطلاع دی گئی کہ انہیں استنبول ایئرپورٹ کے لاؤنج تک رسائی فراہم کی جائے گی، لیکن یہ تدبیر ناکافی ثابت ہوئی۔ "لاؤنج بہت چھوٹا تھا اور اتنے زیادہ مسافروں کو جگہ دینا ممکن نہیں تھا۔ ہم میں سے بہت سے افراد گھنٹوں تک کھڑے رہے، جبکہ مناسب سہولتیں بھی فراہم نہیں کی گئیں۔ نہ تو متبادل پروازیں پیش کی گئیں، نہ ہی کوئی مناسب رابطہ کیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کے معاوضے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا،” ممبئی جانے والے مسافر پارشوا میہتا نے کہا۔میہتا نے انڈیگو کی "بنیادی کسٹمر سروس کی فاش ناکامی” کی مذمت کی اور تمام متاثرہ مسافروں کے لیے معافی اور مناسب معاوضے کا مطالبہ کیا۔

    انڈیگو نے اس خلل کے لیے معذرت پیش کی اور ایک بیان میں کہا، "ہم استنبول کے لیے انڈیگو کی پروازوں میں تاخیر سے آگاہ ہیں۔ ہم اپنے صارفین کی سہولت کو اولین ترجیح دیتے ہیں، اور ہماری ٹیمیں تمام رابطہ پوائنٹس پر مسافروں کی مدد کے لیے دستیاب ہیں۔ انڈیگو اپنے صارفین کو پہنچنے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہے۔”لیکن اس معذرت کے باوجود، ایئرلائن نے تاخیر کی وجوہات کی تفصیل فراہم نہیں کی اور نہ ہی کسی معاوضے کے منصوبوں کا اعلان کیا، جس کی وجہ سے مسافر ناراض ہیں۔

    یہ واقعہ انڈیگو کی حالیہ شمولیت کے پس منظر میں آیا ہے، جب اسے 2024 کی ایئرہیلپ اسکور رپورٹ میں دنیا کی بدترین ایئرلائنز میں شامل کیا گیا۔ اس رپورٹ میں انڈیگو کو 109 ایئرلائنز میں سے 103 واں نمبر دیا گیا، جس کی وجہ کسٹمر کی تسلی بخش سروس اور پروازوں کی معطلی کے دعووں کی ناقص بنیاد پر توجہ دی گئی۔

    عالمی درجہ بندی،بھارتی انڈیگو بدترین ایئر لائنز میں شامل

    بھارتی ایئر لائن انڈیگو کو ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات کی وجہ سے نقصان

    انڈیگو ایئر لائن کا کمال،اے سی بند،مسافر پھٹ پڑے

    دہلی سے وارنسی جانے والی ’انڈیگو‘ کی فلائٹ میں ’بم کی افواہ‘

    کولکتہ ایئر پورٹ پر ایئر انڈیا اور انڈیگو کے طیارے ٹکرا گئے

    بھارت،ایئر لائن کو دھمکیوں کے بعد 10 ہوٹل کو بم سے اڑانے کی دھمکی

  • دہلی،شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرا دیا گیا

    دہلی،شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرا دیا گیا

    شام میں جاری بغاوت کے بعد اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے، دہلی میں واقع شام کے سفارتخانے نے اپنا پرانا قومی پرچم اتار کر باغیوں کا جھنڈا لہرا دیا ہے۔ اس اقدام کو ایک اہم سفارتی پیغام سمجھا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان میں موجود شام کے سفارتکاروں نے باغیوں کی حکومت کو تسلیم کر لیا ہے۔

    شام کے نئے جھنڈے میں سبز، سفید، سیاہ اور سرخ رنگ شامل ہیں، جو نہ صرف امید، آزادی، امن، جدوجہد اور انقلاب کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ اس پر موجود تین سرخ ستارے شام کی انقلابی تحریک کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ یہ جھنڈا اس بات کی علامت ہے کہ شام میں جاری سیاسی تبدیلی اور باغیوں کی حکومت کی تسلیمیت میں اہم پیش رفت ہو چکی ہے۔پرانے قومی پرچم میں دو سبز ستارے تھے جو شام اور مصر کے ماضی کے اتحاد کی علامت تھے۔ تاہم، اب جو نیا جھنڈا اپنایا گیا ہے، وہ شام کی انقلابی تحریک اور اس کے نئے سیاسی رخ کو ظاہر کرتا ہے۔

    شام کے مختلف شہروں میں بھی باغیوں کی حکومت کی جانب سے نئے پرچم کو اپنانا شروع کر دیا گیا ہے۔ حمص، ادلب، حلب، حمہ، درعا اور دمشق جیسے اہم شہروں میں باغیوں نے اپنے نئے جھنڈے لہرا دئیے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تبدیلی دارالحکومت دمشق میں آئی ہے، جہاں باغیوں نے 11 دن کی سخت لڑائی کے بعد قبضہ مکمل کیا، جس کے بعد شام کے صدر بشار الاسد ملک چھوڑ کر روس میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

    شام میں اس سیاسی تبدیلی کو عالمی سطح پر مختلف ردعمل کا سامنا ہے۔ برلن، استنبول اور ایتھنز جیسے شہروں میں باغیوں کے حامیوں نے نئے جھنڈے کو لہرا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ عالمی سطح پر یہ سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں کہ مختلف ممالک، خاص طور پر ہندوستان جیسے بڑے ممالک، اب اس سیاسی تبدیلی کے بعد شام کی حکومت کے ساتھ اپنے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کیسے ترتیب دیں گے۔ہندوستان کے لیے یہ نیا سیاسی منظرنامہ ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ہندوستان نے ہمیشہ بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہیں اور اس کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات استوار کیے ہیں۔ تاہم، اب جب کہ باغیوں کی حکومت نے نئے جھنڈے کو اپنانا شروع کر دیا ہے، ہندوستان کے لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ اس نئی حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے گا یا پھر اس کی پالیسی میں تبدیلی لائے گا۔

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ