Baaghi TV

Tag: بھارت

  • بھارتی ریاست چھتیس گڑھ   میں   باغیوں کا حملہ، 10 سیکیورٹی اہلکار ہلاک

    بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں باغیوں کا حملہ، 10 سیکیورٹی اہلکار ہلاک

    چھتیس گڑھ:بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع بیجاپور میں سیکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی پر ماو نواز باغیوں کے حملے میں 10 اہلکار ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق نکسل باغیوں نے پولیس اہلکاروں کو لے جانے والی گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے سے اڑا دیا، واقعے میں 8 پولیس اہلکار اور ڈرائیور سمیت 9 افراد ہلاک ہوگئے،ہلاک سیکیورٹی اہلکار نارائن پور، دانتے واڈا اور بیجاپور میں آپریشن کے بعد واپس آرہے تھے،پولیس کے مطابق دھماکے کے وقت گاڑی میں 20 اہلکار موجود تھے۔

    پچھلے دنوں چھتیس گڑھ میں سیکیورٹی اہلکاروں اور ماو نواز باغیوں کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں جس میں دونوں طرف سے لوگوں کی ہلاکت ہوئی بھارت کی بہت سی ریاستیں مودی سرکار کی انتہا پسند پالیسیوں سے تنگ ہیں جبکہ آئے روز فالس فلیگ آپریشنز کی آڑ میں بے گناہ لوگ جان سے جاتے ہیں، چھتیس گڑھ میں ہونے والا حملہ بھی بھارت میں بگڑتی سیکیورٹی صورتحال کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

    معروف بھارتی اداکارہ نے نند ساس اور شوہر کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا

    یہ حملہ گزشتہ دو برسوں کے دوران نکسل باغیوں کی جانب سے کیا جانے والا سب سے بڑا حملہ ہے، اس سے قبل اپریل 2023 میں ہونے والے ایک حملے میں 10 پولیس اہلکار اور ایک سویلین سمیت 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

  • بنگلہ دیش  کےبھارت میں ججز تربیتی پروگرام منسوخ

    بنگلہ دیش کےبھارت میں ججز تربیتی پروگرام منسوخ

    بنگلہ دیش نے بھارت میں 50 ججوں اور عدالتی افسران کے تربیتی پروگرام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اتوار کے روز بنگلہ دیش کی وزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکلر میں کیا گیا۔

    اس تربیتی پروگرام میں شامل ہونے والے اہلکاروں میں اسسٹنٹ ججز، سینئر اسسٹنٹ ججز، جوائنٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور دیگر مساوی سطح کے عدالتی افسران شامل تھے۔ یہ پروگرام بھارت میں 10 سے 20 فروری تک منعقد ہونا تھا، تاہم اب اس کی منسوخی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔وزارت قانون کے سرکلر کے مطابق، یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات کی تعمیل میں کیا گیا۔ سرکلر میں کہا گیا کہ بھارت میں ججز کی تربیت کے لیے منظور شدہ اس پروگرام کو اب منسوخ کیا جا رہا ہے۔

    ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیشی عبوری حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات مزید کشیدہ ہو چکے ہیں۔ محمد یونس کی سربراہی میں بنگلہ دیشی حکومت کی تشکیل کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ آیا ہے، جس کے نتیجے میں اس تربیتی پروگرام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
    اس فیصلے کے بعد، دونوں ممالک کے عدالتی افسران اور دیگر حکومتی اہلکاروں کے درمیان تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سیاسی تناؤ کا یہ واقعہ دونوں ممالک کے حکومتی تعلقات اور عدالتی تعاون پر ایک نیا سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے۔

    اس پیش رفت کے بعد، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان عدالتی اور قانونی تعاون میں ممکنہ تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ملکوں کی عدالتوں میں کام کرنے والے افسران کو نئے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی رسک برقرار رہیں گے،گورنر اسٹیٹ بینک

    ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

  • بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس  کا پہلا کیس رپورٹ

    بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس کا پہلا کیس رپورٹ

    بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس (HMPV) کا پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے جس سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    بھارتی ریاست بنگلورو سے تعلق رکھنے والے 8 ماہ کے بچے میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس وائرس کے مزید دو کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے ایک بچہ 8 ماہ کا ہے اور دوسرا 3 ماہ کا۔ ایچ ایم پی وی، جس کا مطلب ہیومن میٹا نیومو وائرس ہے، ایک وائرس ہے جو سانس کی نالیوں کو متاثر کرتا ہے اور برونکوپنیومونیا جیسے سنگین مرض کا سبب بن سکتا ہے۔ اس وائرس کی موجودگی میں شدید بخار، کھانسی، سانس میں تکلیف، اور جسمانی تھکاوٹ جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس خاص طور پر بچوں اور بزرگ افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔

    ان بچوں کو اسپتال لایا گیا تھا جہاں ڈاکٹرز نے ان میں برونکوپنیومونیا کی علامات پائیں۔ برونکوپنیومونیا ایک قسم کا نمونیا ہوتا ہے جس میں پھیپھڑوں کے برونچی اور چھوٹے ہوا کے تھیلے (الیوولی) میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔ اس بیماری کی علامات میں بخار، کھانسی، سانس میں دقت، تیز سانس، جسم میں درد، تھکاوٹ اور بھوک میں کمی شامل ہو سکتی ہیں۔

    چین میں تیزی سے پھیلنے والا ہیومن میٹا نیومو وائرس گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان میں بھی موجود ہے۔ قومی ادارہ صحت پاکستان کے مطابق، اس وائرس کی موجودگی پاکستان میں پچھلے کئی سالوں سے ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

    بھارتی میڈیا "انڈیا ٹوڈے” کے مطابق، دونوں بچوں کی کوئی سفری تاریخ سامنے نہیں آئی ہے، یعنی ان دونوں بچوں نے کسی بھی ایسے علاقے کا سفر نہیں کیا جہاں یہ وائرس پہلے سے پھیل چکا ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ وائرس مقامی سطح پر بھی پھیل سکتا ہے، جس سے مزید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے، جیسے کہ ہاتھ دھونا، ماسک کا استعمال، اور کمزور قوت مدافعت والے افراد کو وائرس کے اثرات سے بچانا۔ اس کے علاوہ، اگر کسی میں برونکوپنیومونیا کی علامات ظاہر ہوں، تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے تاکہ بیماری کی شدت سے بچا جا سکے۔

    اداکارہ ریما خان پر دھوکا دہی کا الزام

    مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

  • کرکٹ آسٹریلیا نے سنیل گواسکر کو اختتامی تقریب میں نہ بلانے کی غلطی تسلیم کر لی

    کرکٹ آسٹریلیا نے سنیل گواسکر کو اختتامی تقریب میں نہ بلانے کی غلطی تسلیم کر لی

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے حال ہی میں بھارت کے ساتھ بورڈر-گواسکر ٹرافی جیتنے کے بعد ایک اہم اختتامی تقریب کا انعقاد کیا تھا، لیکن اس تقریب میں بھارت کے سابق کپتان سنیل گواسکر کو مدعو نہ کرنے پر کرکٹ آسٹریلیا کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب آسٹریلیشین کپتان پیٹ کمنز کو ٹرافی دی گئی اور اس موقع پر سابق آسٹریلوی کپتان ایلن بورڈر نے پیٹ کمنز کو بورڈر-گواسکر ٹرافی تھمائی۔

    اگرچہ سنیل گواسکر اس وقت ایس سی جی (سڈنی کرکٹ گراؤنڈ) میں موجود تھے، لیکن انہیں اس خصوصی تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا جس پر کرکٹ حلقوں میں خاصی مایوسی اور تنقید کی لہر دوڑ گئی۔ بعض کرکٹ ماہرین اور شائقین نے اس بات پر اعتراض کیا کہ یہ ایک غیر ضروری اور غیر مناسب فیصلہ تھا، کیونکہ گواسکر اور بورڈر دونوں ہی کرکٹ کی دنیا کے کھلاڑی ہیں اور ان کا اسٹیج پر موجود ہونا اس اہم موقع کی وقعت میں اضافہ کرتا۔

    کرکٹ آسٹریلیا کے ترجمان نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ انہیں یہ قدم اُٹھانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ ایک غلط فیصلہ تھا اور یہ بات درست ہے کہ اگر دونوں سابق کپتان، ایلن بورڈر اور سنیل گواسکر، اسٹیج پر موجود ہوتے تو یہ ایک زیادہ باوقار منظر پیش کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت پہلے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اگر آسٹریلیا جیتے گا تو ایلن بورڈر ٹرافی دیں گے، اور اگر بھارت جیتتا تو سنیل گواسکر کو یہ اعزاز دیا جاتا۔

    اس حوالے سے سنیل گواسکر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خوش تھے کہ وہ اسٹیڈیم میں موجود تھے، لیکن اگر انہیں ٹرافی دینے کی تقریب کا حصہ بننے کا موقع ملتا تو انہیں بہت اچھا لگتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آسٹریلیا جیتا یا بھارت، اگر مجھے اپنے دوست ایلن بورڈر کے ساتھ ٹرافی دینے کا موقع ملتا تو یہ میرے لیے ایک بہت بڑی خوشی کی بات ہوتی۔

    یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کی موجودگی اور ان کی عزت افزائی کے حوالے سے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ سنیل گواسکر جیسے کھلاڑی کے نہ بلائے جانے سے کرکٹ آسٹریلیا کو نہ صرف عوامی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ ان کے اپنے کھلاڑیوں اور کرکٹ کے شائقین کے درمیان ایک غلط پیغام بھی گیا۔

    سوشل میڈیا پر پیار، 10 سالہ لڑکی اور 16 سالہ لڑکے کی بھاگنے کی کوشش

    لکی مروت،دہشت گردوں کی فائرنگ،دو پولیس اہلکار شہید

  • بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال اٹھنے لگے

    5 جنوری 2025ء کوبھارتی ریاست گجرات میں کوسٹ گارڈ ہیلی کاپٹر تباہ ہوا،ہیلی کاپٹر حادثے میں تین افراد ہلاک ہوئے،بھارتی پولیس کے مطابق ”ہیلی کاپٹر معمول کی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوا” "عملے کے 3 افراد کو شدید زخمی حالت میں ریسکیو کیا گیا“

    مودی کے دور اقتدار میں دیگر شعبوں میں نااہلی کے ساتھ شعبہ ہوا بازی میں بھی آئے روز حادثات ہو رہے ہیں ،کبھی بھارت کے جنگی طیارے تباہ ہوتے ہیں، کبھی بحریہ کے جہازوں کو حادثات پیش آتے ہیں اور کبھی ہیلی کاپٹر موت بن جاتے ہیں ،اس کی بڑی وجہ کرپشن اور اہم شعبوں میں رشوت کے عوض نااہل افراد کی بھرتیاں ہیں،بھارت میں ہیلی کاپٹر حادثات کی ایک لمبی فہرست ہے،گزشتہ دو سالوں کے دوران بھارت میں کئی ہیلی کاپٹر حادثات ہوچکے ہیں جن میں فوجی اور نیم فوجی ہیلی کاپٹر شامل ہیں

    16 مارچ 2023ء کو آرمی چیتا ہیلی کاپٹر ریاست ارونا چل پردیش میں گر کر تباہ ہوا جس میں دونوں پائلٹ ہلاک ہوئے، اپریل 2023 میں ہندوستانی بحریہ کو ALH Dhruv ہیلی کاپٹر کوممبئی میں تکنیکی خرابی کے باعث ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی، مئی 2023 میں ہندوستانی کوسٹ گارڈ کا ALH دھروہیلی کاپٹر بحیرہ عرب میں دوران آپریشن تباہ ہوا ،اس حادثے نے آپریشنل حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھا دئیے، اکتوبر 2023 میں ہندوستانی فضائیہ کے ALH دھرو ہیلی کاپٹرکو ریاست بہار میں امدادی مشن کے دران ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی،اس حادثے نے آپریشنل صلاحیتوں پر سوال اٹھادئیے،4 نومبر2023 کو کوچی میں چیتک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا جس میں ایک ہلاکت ہوئی ، مارچ 2024 میں پوربندر میں کوسٹ گارڈ ALH دھرو ہیلی کاپٹر گجرات میں لینڈنگ کے دوران تباہ ہوا جس میں عملے کے تین افراد ہلاک ہوئے،2 ستمبر 2024 کو بحیرہ عرب میں ایک اور کوسٹ گارڈ ALH Dhruv ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشن کے دوران تباہ ہوا،ایک سال میں دوسرے حادثے نے طیاروں کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھائے

    بھارتی فضائی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں آئے روز ہیلی کاپٹرز کے حادثات نے عملے کی صلاحیتوں پر سوالات اٹھادئیے،ہیلی کاپٹرز کے آئے روز حادثات کے باعث ان کا کسی بھی ریسکیو آپریشن میں استعمال بھی اب خطرناک بن چکا ہے، اس طرح کے ہیلی کاپٹر حادثات دراصل مودی سرکار کی کرپشن اور میرٹ سے ہٹ کر تعیناتیوں کا نتیجہ ہیں،

    کراچی،تاجر پر حملے کا مقدمہ ترجمان میئر کے خلاف درج

    سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

  • بھارتی کوسٹ گارڈ کا ہیلی کاپٹر  تباہ،3 افراد ہلاک 2 زخمی

    بھارتی کوسٹ گارڈ کا ہیلی کاپٹر تباہ،3 افراد ہلاک 2 زخمی

    ریاست گجرات میں بھارتی کوسٹ گارڈ کا ہیلی کاپٹر زمین بوس ہوگیا اور اس میں آگ بھڑک اُٹھی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست گجرات کے علاقے پوربندر میں انڈین کوسٹ گارڈ کے ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹر نے معمول کی تربیتی پرواز بھری تھی، ہیلی کاپٹر میں 5 افراد موجود تھے پرواز بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد ہیلی کاپٹر کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا سرچ آپریشن کے لیے بھیجی گئی ٹیم کو کچھ ہی دوری پر ہیلی کاپٹر کا ملبہ مل گیا ملبے سے تین لاشیں اور دو زخمیوں کو نکالا گیا۔

    بھارتی کوسٹ گارڈ کے ترجمان نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاہم ابتدائی طور پر لگتا ہے کہ ہیلی کاپٹر کو حادثہ فنی خرابی کے باعث پیش آیا۔

    بھارت کو ایک اور دھچکا، چین نے لداخ کے اہم حصے اپنے نام کرلئے

    واضح رہے کہ نااہلی، غفلت اور کرپشن کے باعث بھارتی فوج کے طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کے خزاں رسیدہ پتوں کی طرح بکھرنے کے درجنوں واقعات کے بعد گزشتہ برس ایک اہم حفاظتی اپ گریڈ کا آغاز کیا گیا تھا یہ اپ گریڈیشن مکمل ہوچکی ہے اور مقامی طور پر بنائے گئے ہیلی کاپٹرز پر نصب اپ گریڈ شدہ کنٹرول سسٹم سے ان کی فضائی صلاحیت میں بہتری کی توقع بھی کی جا رہی تھی لیکن حادثات پھر بھی نہ رک سکے۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے سرفراز احمد کو ڈرافٹ سے ریلیز کر دیا

  • بھارت کو ایک اور دھچکا، چین نے لداخ کے اہم حصے اپنے نام کرلئے

    بھارت کو ایک اور دھچکا، چین نے لداخ کے اہم حصے اپنے نام کرلئے

    چین نے ہوتان پریفیکچر میں لداخ کے کچھ حصے شامل کر کےدو نئی کاؤنٹیوں کے قیام کا اعلان کر دیاہے ، اس پیشرفت پر مودی حکومت سیخ پا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی وزارت خارجہ نے جمعہ کو بیجنگ کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کرایایہ پہلا موقع ہے جب بھارت اور چین نے ہمالیائی سرحدی تنازعے پر کھلے طور پر اعتراض کیا ہےچین کی جانب سے یہ اعلان 5 سال بعد سرحدی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے چند دن بعد کیا گیا ،بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے گزشتہ ماہ بیجنگ کا دورہ کرکے سرحدی علاقوں پر مذاکرات بھی کئے تھے

    دسمبر 2024ء میں چینی دفاعی ترجمان نے کہا تھا کہ:’’سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھنے کیلئے مشترکہ کوششوں کیلئے تیار ہیں‘‘

    بھارت کو ایک اور دھچکا، چین نے لداخ کے اہم حصے اپنے نام کرلئے

    بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جسوال کا کہنا ہے کہ ’’ہوتان پریفیکچر میں دو نئی کاونٹیز کے کچھ حصے لداخ میں آتے ہیں‘‘

    چینی خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق ’’ہیآن کاؤنٹی اور ہیکانگ کاؤنٹی کا قیام چینی کمیونسٹ پارٹی اور ریاستی کونسل کی منظوری کے بعد کیا گیا‘‘،ہیان کی کاؤنٹی کا سیٹ ہونگلیوٹاؤن شپ ہے، جبکہ ہیکانگ کی کاؤنٹی کا سیٹ زیڈولا ٹاؤن شپ ہے، ان کاؤنٹیوں میں اکسائی چن کے علاقے کا ایک بڑا حصہ شامل ہے، جس پر بھارت چین پر غیر قانونی طور پر قبضے کا الزام لگاتا ہے-

    امریکی صدر جوبائیڈن اور اہلیہ کو کتنے قیمتی تحائف موصول ہوئے؟

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2020 میں لداخ میں سرحدی کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان جھڑپوں میں کئی بھارتی فوجی ہلاک ہوئے بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع پر نئی پیشرفت خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے، چین کبھی بھی ایسا قدم نہیں اٹھاتا جس میں اسے کوئی شک و شبہ ہو لہٰذا اب بھارت کیلئے مشکلات بڑھیں گی-

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے واویلا دراصل خطے میں اسکی بالادستی کے خواب کو لگے دھچکے کارد عمل ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ جمارکھا ہے اوراب چین کے ہاتھوں اسکےساتھ بھی وہی ہوا  –

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے سرفراز احمد کو ڈرافٹ سے ریلیز کر دیا

    نئی کاؤنٹیز کے قیام کا نہ تو علاقے پر ہماری خودمختاری کے حوالے سے ہندوستان کے دیرینہ اور مستقل موقف پر کوئی اثر پڑے گا اور نہ ہی اس پر چین کے غیر قانونی اور زبردستی قبضے کو قانونی حیثیت ملے گی۔

    دونوں فریقوں نے گزشتہ اکتوبر میں ایل اے سی کے ساتھ ملٹری گشت پر ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا، جو مئی 2020 سے کشیدگی کا مسئلہ بنا ہوا تھا جب حریف فوجیں لداخ میں 3,500 کلومیٹر (2,174 میل) لائن آف ایکچوئل کے ساتھ مٹھی لڑائی میں مصروف تھیں۔ کنٹرول — متنازعہ جموں و کشمیر کے علاقے لداخ میں ان کی ڈی فیکٹو بارڈر۔

    شادی سے انکار کرنے پر 50 سالہ خاتون ڈاکٹر کا نوجوان پر تشدد،زبان کاٹ دی

    جولائی 2020 میں ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 24 فوجی مارے گئے تھے جن میں سے 20 ہندوستان اور چار چین سے تھے۔ اس کے نتیجے میں ایک کشیدہ اور طویل عرصے سے جاری تعطل پیدا ہوا جس میں دونوں فریقوں نے خطے میں ہزاروں فوجی اہلکار اور بھاری ہتھیاروں کو تعینات کرتے دیکھا ہے۔

    خطے میں کشیدگی بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے اور لداخ کو خطے سے دو وفاق کے زیر انتظام مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے چند ماہ بعد شروع ہوئی تھی، تاہم، کشیدگی میں آسانی اس وقت آئی جب دونوں ممالک کے سفارت کاروں نے کئی میٹنگیں کیں اور بعد میں ہندوستانی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے دسمبر میں بیجنگ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چینی نائب صدر ہان ژینگ سمیت حکام سے ملاقات کی۔

    سائبر ٹرک دھماکے سے پھٹنے کے بعد ٹیسلا کا بڑا قدم

  • آسٹریلیا سے شکست:بھارت  ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل سےباہر

    آسٹریلیا سے شکست:بھارت ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل سےباہر

    سٍڈنی: آسٹریلیا نے سڈنی ٹیسٹ میں بھارت کو شکست دے کر 5 میچوں پر مشتمل بورڈر گواسکر ٹرافی اپنے نام کر لی۔

    باغی ٹی وی: آسٹریلیا نے بھارت کو سڈنی ٹیسٹ میں 6 وکٹوں سے شکست دےکر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے فائنل کے لیے بھی کوالیفائی کر لیا سڈنی ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے 6 وکٹوں سےکامیابی حاصل کی، انڈیا نے پہلی اننگز میں 185 اور دوسری اننگز میں 157 رنز بنائے ۔

    آسٹریلیا نے پہلی اننگز میں 181 اور دوسری اننگز میں 4 وکٹوں پر 162رنز بنائے دوسری اننگز میں آسٹریلیا کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے بیو ویسٹر نے ناقابل شکست 38 رنز بنائے جبکہ ٹریوس ہیڈ 34 رنز بنا کر ناٹ آوٹ رہے۔

    صدر آصف زرداری کا صائم ایوب کو فون،چوٹ کے بارے دریافت

    آسٹریلیا کے اسکاٹ بولینڈ میچ میں مجموعی طور پر 10 وکٹیں حاصل کرنے پر بہترین کھلاڑی قرار پائے جبکہ بھارت کے جسپریت بمراہ کو سیریز میں 32 وکٹیں لینے اور 42 رنز بنانے پر بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔

    دوسری جانب جنوبی افریقا ورلڈ ٹیسٹ چیمئن شپ کے لیے کوالیفائی کر چکا ہے، اس بار ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان ہوگا۔

    خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کا عرس ،بھارت نے 400 پاکستانی زائرین کے ویزے روک لیے

  • بھارت کے نامور ایٹمی سائنسدان چل بسے

    بھارت کے نامور ایٹمی سائنسدان چل بسے

    نئی دہلی: بھارت کے 1975 اور 1998 کے جوہری تجربات میں مرکزی کردار ادا کرنے والے نامور سائنسدان راجگو پالا چدمبرم انتقال کر گئے-

    باغی ٹی وی : بھارتی جوہری توانائی کے اعلامیہ کے مطابق ہندوستان کے نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر راجگو پالا چدمبرم 4 جنوری 2025 کی صبح انتقال کر گئے، سائنس میں ان کی بصیرت اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا چدمبرم 1936 میں پیدا ہوئے، وہ چنائی کے پریذیڈنسی کالج اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلورو کے سابق طالب علم تھے-

    جوہری توانائی کے اہلکار نے بتایا کہ 88 سالہ چدمبرم جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے وابستہ تھے،ان کے قریبی لوگوں کے مطابق، چدمبرم نومبر میں بی اے آر سی میں گر گئے تھے اور ان کے سر میں چوٹ آئی تھی اور انہیں جسلوک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ انہیں ڈسچارج کر دیا گیا تھا، لیکن صحت کے مسائل کی وجہ سے دوبارہ داخل کر دیا گیا اور آج صبح ان کا انتقال ہو گیا۔

    ورلڈ بینک سے پاکستان کو 40 ارب ڈالرز قرض ملنے کا امکان

    اعلامیہ کے مطابق ،چدمبرم ملک کے مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے، جن میں بھارت کے پرنسپل سائنسی مشیر (2001-2018)، بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر (1990-1993) رہے۔چدمبرم اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین اور ہندوستان حکومت کے سیکرٹری (1993-2000) بھی رہے انہوں نے انٹرنیشنل اٹا مک انرجی ایجنسی (IAEA) (1994–1995) کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں، چدمبرم نے ہندوستان کی جوہری صلاحیتوں میں اضافے کے لئے اہم کردار ادا کرتے ہوئے 1974 میں ملک کے پہلے جوہری تجربے میں اہم کردار ادا کیا، اور 1998 میں پوکھران-II جوہری تجربات کے دوران محکمہ جوہری توانائی کی ٹیم کی قیادت کی۔

    68 سالہ شخص نے اپنی ہونے والی بہو سے شادی رچا لی

    بھارتی جوہری توانائی کے اعلامیہ کے مطابق عالمی معیار کے ماہر طبیعیات کے طور پر ڈاکٹر چدمبرم کی تحقیق نے ہائی پریشر فزکس، کرسٹا لوگرافی اور میٹریل سائنس کے شعبوں نمایاں اضافہ کیا ڈاکٹر چدمبرم نے بھارت میں توانائی، صحت کی دیکھ بھال اور اسٹریٹجک خود انحصار ی جیسے شعبوں کی ترقی اور متعدد پروجیکٹوں کو مکمل کیا، انہوں نے ہندوستان کے سائنس و ٹیکنالوجی کے منظر نامے کو نمایاں طور پر آگے بڑھایا۔

    اعلامیہ کے مطابق سپر کمپیوٹرز کی ہندوستان کی مقامی ترقی کی شروعات اور نیشنل نالج نیٹ ورک کو تصور کرنے میں بھی ان کا اہم کردار تھا، چدمبرم نے ملک میں تحقیق اور تعلیمی اداروں کو فروغ دیا،انہیں 1975 میں پدم شری اور 1999 میں پدم وبھوشن سمیت دیگر اہم ملکی اعزازات سے نوازا گیا ان کو کئی یونیورسٹیوں سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں ملیں، وہ ممتاز ہندوستانی اور بین الاقوامی سائنس اکیڈمیوں کے سربراہ تھے۔

    چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ؟

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے ہندوستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں بھرپور کردار ادا کرنے پر ڈاکٹر چدمبرم کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

  • سوشل میڈیا کی دوستی،بھارتی نوجوان پاکستان پہنچ گیا

    سوشل میڈیا کی دوستی،بھارتی نوجوان پاکستان پہنچ گیا

    بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے ایک 30 سالہ نوجوان بادل بابو نے سوشل میڈیا پر پاکستانی لڑکی سے محبت میں گرفتار ہو کر غیر قانونی طور پر سرحد پار کی اور پاکستان پہنچ گیا۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، بادل بابو نے فیس بک پر ایک پاکستانی لڑکی سے دوستی کی تھی، جس کے بعد وہ اس لڑکی سے ملنے کے لیے سرحد عبور کر کے پاکستان پہنچا۔ پاکستانی حکام نے اُسے گرفتار کر لیا ہے اور اس وقت اس سے تفتیش جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق، بادل بابو نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ اس کی ملاقات اس پاکستانی لڑکی سے فیس بک پر ہوئی تھی، اور وہ اُسی سے ملنے کے لیے پاکستان آیا تھا۔ پاکستانی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ بادل بابو نے کس طرح سرحد پار کی اور کیا اس کے پاس قانونی دستاویزات تھے یا نہیں۔

    اس واقعہ نے ایک اور بار یہ سوال اٹھایا ہے کہ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر ہونے والی محبتوں کے باعث لوگ اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر سرحدوں کو پار کرتے ہیں۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب کسی نے سوشل میڈیا کے ذریعے محبت کے نتیجے میں سرحد پار کی ہو۔ اس سے پہلے بھی متعدد افراد نے ایسی محبتوں کے نتیجے میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کی ہیں۔ سال 2023 میں، سیما حیدر نامی پاکستانی خاتون نے پب جی گیم پر بھارتی لڑکے سے دوستی کی اور اس کے بعد وہ اپنے چار بچوں کے ساتھ نیپال کے راستے بھارت پہنچ گئیں، جس کے بعد بھارتی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔

    اسی سال، 19 سالہ پاکستانی لڑکی اقرا جیوانی کی دوستی 25 سالہ بھارتی شہری ملائم سنگھ یادیو سے آن لائن گیم کے ذریعے ہوئی۔ اس دوستی کے بعد دونوں نے نیپال میں شادی کر لی۔ اس طرح کے واقعات سوشل میڈیا کی محبتوں کے حوالے سے ایک نیا رجحان بن گئے ہیں جہاں افراد اپنی زندگیوں کے فیصلے آن لائن تعلقات کے نتیجے میں کرتے ہیں۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں، اور سرحد پار محبت کی کہانیاں دونوں ممالک میں خبریں بن چکی ہیں۔ گزشتہ سال ایک بھارتی لڑکی انجو نے فیس بک پر دوستی کے بعد پاکستان آ کر دیر بالا میں پاکستانی نوجوان نصر اللہ سے نکاح کیا تھا۔ ایسے واقعات معاشرتی اور سیاسی سطح پر دونوں ممالک میں بحث کا موضوع بنتے ہیں۔

    ان واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے محبت اور تعلقات کے تصور کو نئی جہت دی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات بھی سامنے آئی ہیں۔ سرحدوں کے پار جانے والے افراد کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات ان کی زندگیاں خطرے میں بھی آ جاتی ہیں۔پاکستانی حکام اس وقت بادل بابو کی تفتیش کر رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا وہ کسی اور مقصد کے لیے سرحد پار کر کے آیا تھا یا صرف محبت کی وجہ سے ایسا کیا۔ اس واقعہ نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ سوشل میڈیا کا اثر افراد کی ذاتی زندگیوں پر کتنا گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

    مری میں بارش متوقع،پنجاب میں دھند،سندھ میں موسم سرد،خشک

    جاپانی فحش فلموں کی اداکارہ کی دورہ لاہور کی تصاویر وائرل