Baaghi TV

Tag: بھارت

  • 2009 میں بنگلہ دیش رائفلز  کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغازکر دیا گیا

    25 سے 26 فروری 2009ء کو بنگلہ دیش رائفلز کی جانب سے ہیڈکوارٹرز پلکھانا میں بغاوت ہوئی،غیر معمولی حالات کے دوران کم از کم 74 افراد کی ہلاکت ہوئی جس میں کئی شہری شامل تھے،ایک رپورٹ کے مطابق حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بھارت سے مدد مانگی،بھارت بنگلہ دیش کے حالات کو خراب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے،بغاوت کے بعد مختلف حلقوں نے الزامات عائد کیے کہ شیخ حسینہ اور بھارتی حکام نے سیاسی فائدے کے لیے اس صورتحال کو ترتیب دیا تھا،

    لواحقین کے مطالبے پر بنگلہ دیش نے 2009 کی بغاوت کے حوالے سے نئی تحقیقات کا آغاز کیا ہے، جس میں غیر ملکی مداخلت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، بنگلہ دیش میں 2009 کی بنگلہ دیش رائفلز کے بغاوت کے متاثرین کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے لیے انصاف اور مزید تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں،مظاہرین بنگلہ دیش رائفلز (بی ڈی آر) کے اصل نام کی بحالی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ بغاوت کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے "بارڈر گارڈ بنگلہ دیش(بی جی بی) رکھا گیا تھا،بھارت کی مداخلت نے بنگلہ دیش میں فوج اور حکومت کے درمیان اختیارات کے توازن کو بدل کر رکھ دیا،حقائق یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ بھارت خطے کے چھوٹے ممالک میں ہمیشہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرتا رہا ہے

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

    کراچی، فرنیچر مارکیٹ میں آگ ، 30 سے زائد دکانیں جل گئیں

  • جاسوسی سرگرمیاں، بھارت کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ

    جاسوسی سرگرمیاں، بھارت کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ

    بھارت کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے، بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر 30 دسمبر 2024 سے قطر کا تین روزہ دورہ کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اگست 2022 میں قطر نے دہرا گلوبل ٹیکنالوجیز کے تحت کام کرنے والے 8 سابق بھارتی بحریہ افسران کو جاسوسی کے الزامات پر گرفتار کیا، ان پر قطر کی U212 جدید آبدوزوں کی خفیہ معلومات اسرائیل، بھارت کی ایجنسی را اور ایران کے ساتھ شیئر کرنے کا الزام تھا۔قطر کی 2024 میں کل آبادی تقریباً 3.12 ملین ہے، جن میں صرف 12 فیصد قطری شہری ہیں، ہندوستانی سب سے بڑی تارکین وطن برادری ہیں، جو کل آبادی کا تقریباً 21.8 فیصد ہیں اور تعمیرات، صحت عامہ اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں خدمات فراہم کرتے ہیں۔ان افسران میں کپتان نووتج سنگھ گل اور بیرندر کمار ورما جیسے اعلیٰ عہدے کے افراد شامل تھے، 2023 میں سزائے موت سنانے کے بعد انہیں فروری 2024 میں رہا کر دیا گیا۔بھارتی وزیر خارجہ کا یہ دورہ جاسوسی کے الزامات، تارکین وطن کے تنازعات، اسرائیل کی حمایت اور غیر جانبداری کے خدشات کے درمیان ہندوستان کے تعلقات کو نئے سرے سے جوڑنا ہے، کیونکہ عرب ممالک کے لیے ہندوستان کی قابل اعتماد حیثیت پر کافی سوالات اٹھتے ہیں۔بھارت کی عالمی جاسوسی سرگرمیاں دستاویزی طور پر ثابت ہوچکی ہیں، 2019 میں ایک بھارتی جوڑے کو جرمنی میں کشمیری اور سکھ گروہوں پر جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس سے قبل 2016 میں بھارتی بحریہ کے کمانڈر کلبھوشن یادو کو پاکستان میں دہشت گرد نیٹ ورک چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، 2015 میں سری لنکا نے سیاسی مداخلت کے لیے بھارت کے را کے اسٹیشن چیف کو ملک بدر کیا۔نریندر مودی کے باعث بھارت کی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کئے جاچکے ہیں، 2024 میں بھارت نے فلسطین کی جانب سے پیش کردہ پہلی اقوام متحدہ کی قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، جو اس کے روایتی فلسطین نواز موقف سے ہٹ کر تھا۔اس فیصلے نے بھارت کو BRICS بلاک اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سے دور کر دیا، جس سے اس کی غیر جانبداری پر خدشات پیدا ہوئے ہیں، یہ عمل فلسطین بحران کے درمیان بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اتحاد کی عکاسی کرتا ہے۔عرب دنیا میں بھارت کی قابل اعتماد حیثیت پر سوالات کھڑے ہو چکے ہیں، حماس حملوں کے بعد اسرائیل نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر بھارت کا عوامی طور پر شکریہ ادا کیا، بھارتی اکاؤنٹس سے پرو اسرائیل ہیش ٹیگز کا رجحان نمایاں نظر آتا ہے۔بھارتی تارکین وطن برادری نے عالمی سطح پر اہم کردار ادا کیا ہے لیکن ان کی سرگرمیاں اکثر تنقید کا شکار رہتی ہیں، مشرق وسطیٰ میں، تارکین وطن کی کمیونٹیز ثقافتی اور اقتصادی تبادلے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں لیکن انہیں ہندوتوا نظریے کو فروغ دینے سے باز نہیں آتے۔آسٹریلیا میں بھی بھارتی خفیہ کارروائیاں بے نقاب ہوئیں، جہاں را کے ایجنٹوں نے تارکین وطن کی کمیونٹیز اور سیاستدانوں کو نشانہ بنایا، سکیورٹی کلیئرنس رکھنے والے افراد کو بھرتی کیا اور حساس دفاعی معلومات تک رسائی حاصل کی۔عرب ممالک کو بھارت پر اپنے اعتماد پر نظرثانی کرنی چاہیے، مضبوط ثقافتی اور اقتصادی تعلقات کے باوجود، جاسوسی، اسرائیل کی حمایت، اور نظریاتی اثرات جیسے واقعات مشرق وسطیٰ میں تعلقات کی پاکیزگی کے لئے چیلنج ہیں۔

    دبئی: 461 ملین درہم کی منی لانڈرنگ کرنے والا گروہ گرفتار

    جو بائیڈن کا یوکرین کیلئے 2 ارب 50 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

    اہلسنت و الجماعت کا بھی کراچی میں دھرنوں کا اعلان

    پراپرٹی ٹیکس کمی کیلئے آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے ایک استعفیٰ مانگا، 31 استعفے آ گئے

  • پوسٹ مارٹم کے دوران مردہ شخص کے حلق سے زندہ چوزا نکل آیا

    پوسٹ مارٹم کے دوران مردہ شخص کے حلق سے زندہ چوزا نکل آیا

    پوسٹ مارٹم کے دوران ڈاکٹرز اس وقت حیران رہ گئے جب مردہ شخص کے حلق سے زندہ چوزا نکل آیا –

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والے ایک 35 سالہ شخص کے پوسٹ مارٹم کے دوران ایک زندہ چوزا حلق میں بند پایا گیا، جس سے کئی سوالات کھڑے ہوگئے آنند یادو کو گھر میں نہانے کے بعد اچانک چکر آنے لگے اور وہ بے ہوش ہو گیا جس کے بعد اسے ہسپتال لے کر جایا گیا تو ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔

    پہلے تو ڈاکٹروں کو معلوم نہیں تھا کہ اس کی موت کیوں ہوئی، لیکن پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد انہیں ایک حیران کن وجہ معلوم ہوئی کہ تقریباً 8 انچ زندہ چوزا، اس کے گلے میں پھنس گیا تھا۔

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر سنتو بیگ نے کہا کہ چوزا پھنسنے کے باعث آنند کی سانس کی نالی اور گلا بند ہوگیا تھا جس کی وجہ سے اس کا دم گھٹنے لگا، ڈاکٹر بیگ، جنہوں نے 15 ہزار سے زائد پوسٹ مارٹم کیے ہیں، نے کہا کہ میں نے اپنے کیریئر میں اس طرح کا کیس پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

    سابق کرکٹر ارشد پرویز انتقال کر گئے

    علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ آنند یادو کو بچے پیدا کرنے کے مسائل کا سامنا تھا، اس لیے وہ مدد کے لیے ایک جعلی عامل کے پاس گیا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ جعلی عامل نے اسے حلق میں چوزا رکھنے کا مشورہ دیا جس پر اس نے عمل کیا، پولیس کا کہنا ہے کہ حکام یادیو کی موت کی تحقیقات کر رہی ہے۔

    ریشم کی منفرد دعا جس کے باعث وہ تاحال غیر شادی شدہ ہیں

  • سوشل میڈیا کی دوستی،  منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

    سوشل میڈیا کی دوستی، منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

    سوشل میڈیا پر دوستی کی ایک اور حیران کن داستان سامنے آئی ہے، جہاں ہمسایہ ملک بھارت کا رہائشی مجنوں اپنی لیلیٰ کو پانے کے لیے پاکستانی سرزمین تک پہنچ گیا۔

    بھارتی شہری بادل بابو ولد کرپال سنگھ، جو کہ بھارت کے صوبہ پنجاب کے علاقے سے تعلق رکھتا ہے، سوشل میڈیا پر نواحی گاؤں مونگ کی رہائشی لیلیٰ کے ساتھ دوستی کی تھی۔بتایا گیا ہے کہ بادل بابو کی لیلیٰ کے ساتھ سوشل میڈیا پر تعلقات اتنے بڑھ گئے کہ وہ اپنی محبوبہ سے ملنے کے لیے پاکستان پہنچ آیا۔ اس نے بغیر کسی قانونی سفری دستاویزات کے پاکستان کی سرحد عبور کی اور مونگ کے قریب ایک مقام پر قیام کیا۔جب مقامی لوگوں کو اس بھارتی شہری کی موجودگی کا علم ہوا، تو انھوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس تھانہ صدر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بادل بابو کو گرفتار کر لیا اور اسے حوالات میں بند کر دیا۔ پولیس نے اس کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    مقدمہ سب انسپکٹر غلام رضا کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ گرفتار بھارتی شہری پولیس کو پاکستان میں قیام کے حوالے سے کوئی قانونی دستاویزات فراہم نہیں کر سکا۔ پولیس حکام کے مطابق بادل بابو کے خلاف کارروائی جاری ہے اور اسے قانونی کارروائی کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ سوشل میڈیا کے ذریعے پیدا ہونے والی محبت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قانونی مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ پولیس حکام نے عوام کو اس بات کا مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے کسی دوسرے ملک جانے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ ایسا عمل نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ اپنی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔مقامی عوام اس واقعے کو ایک سنگین صورتحال کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور سفری قوانین کی سختی کے باوجود ایسی کوششوں کا ہونا ایک سنگین نوعیت کی بات ہے۔

    جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

    سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی وفات،جوبائیڈن سمیت سابق صدور کا اظہار تعزیت

  • بھارتی دہشت گردی، پاکستان کا دفاع اور ٹرمپ کی پالیسی، تجزیہ : شہزاد قریشی

    بھارتی دہشت گردی، پاکستان کا دفاع اور ٹرمپ کی پالیسی، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کسی عالمی طاقت کے توازن میں بگاڑ کے لئے کسی بھی قسم کے عزائم نہیں رکھتا یہ بات امریکہ سمیت مغربی ممالک جانتے ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کے بارے میں ایک متنازعہ فیصلہ کیاہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کو لے کر ہمارے سیاستدانوں نے دلیل کے بجائے غلیل اٹھا لی ہے جیسا کہ ملک کے صدر آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں امریکہ کو للکارا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ بائیڈن انتظامیہ اور ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں بہت فرق ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان کے بارے کیا پالیسی ہوگی ۔ بہت ہی تھوڑا فاصلہ باقی ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک جانتے ہیں کہ بھارت پاکستان کو لیکر کس پالیسی پر گامزن ہے ۔ بھارت کے جارحانہ عزائم سے امریکہ سمیت عالمی قوتیں آگاہ ہیں اور پاکستان کو اپنی سلامتی اور بقا کو برقرار رکھنے کے لئے اپنا دفاع مضبوط رکھنے کا پورا حق ہے۔پاکستان کے دفاع کو مستحکم دیکھ کر بھارت کو تکلیف ہے۔ بھارت نے خود خطے میں سب سے زیادہ تباہ کن ہتھیار حاصل کئے ہوئے ہیں ۔ عالمی طاقتوں سے دفاعی نظام حاصل کر رکھا ہے ۔ اُمید ہے کہ آنے والی ٹرمپ انتظامیہ بائیڈن انتظامیہ کے ان فیصلوں پر عمل نہیں کرے گی امریکہ اور پاکستان دونوں اتحادی ملک ہیں پاکستان نے 9/11 کے بعددہشت گردی کے خاتمے کے لئے جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ آج تک پاکستان دہشت گردی کی زدمیں ہے ۔عالمی دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کا کردار کیا رہا اور بھارت افغانستان میں قیام امن کو برباد کرنے کا کردار ادا کرتا ہے۔ دہشت گردوں کی پشت پناہی میںملوث رہا جبکہ پاکستان میں دہشت گردی میں بھی ملوث رہا جس کا ثبوت پاکستان کے پاس موجود ہے۔ نئی آنے والی ٹرمپ انتظامیہ کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ مشرق وسطیٰ سمیت روس یوکرین جنگ عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق مشرق و سطیٰ میں طویل جنگ نہیں چاہتے جبکہ امریکی دفاعی ادارے چین کو امریکی طاقت اور مفاعدات کے لئے سب سے زیادہ ممکنہ چیلنجز کے طورپر دیکھ رہے ہیں۔ٹرمپ کے پاس عالمی دنیا کے لئے نئی خارجہ پالیسی کا تعین کرنے کا اہم اختیار ہوگا۔ پاکستان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ2025 وائٹ ہائوس کی خارجہ پالیسی کا نقطہ نظر 2024 بائیڈن انتظامیہ سے مختلف ہوگا۔ پاکستا ن کو نئی ٹرمپ انتظامیہ کو دلیل کے ساتھ اپنے دفاع اور دیگر مسائل سے آگاہ کرنا ہوگا۔سیاسی جماعتوں کو غلیل سے نہیں دلیل کے ساتھ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ بات کرنا ہوگی۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • سکھ برادری کا بھارتی وزیر خارجہ  کی  واشنگٹن آمد پر احتجاج

    سکھ برادری کا بھارتی وزیر خارجہ کی واشنگٹن آمد پر احتجاج

    واشنگٹن ڈی سی میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی آمد کے خلاف سکھ برادری کے رہنماؤں نے شدید احتجاج کیا۔

    احتجاج میں شریک مظاہرین نے خالصتان تحریک کے حق میں نعرے بازی کی اور بھارتی وزیر خارجہ کی ملاقات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایس جے شنکر بھارت میں سکھوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں اور ان کی پالیسیاں سکھوں کے خلاف سازشوں کی عکاسی کرتی ہیں۔مظاہرین نے اپنے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی پرچم پر تلواروں سے حملہ کیا اور نعرے لگائے کہ بھارت کی حکومت سکھوں کے خلاف عالمی سطح پر جرائم میں ملوث ہے۔ یہ احتجاج واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ میں ایس جے شنکر کی ملاقات کے دوران کیا گیا، جہاں خالصتان کے حامیوں نے بھارتی وزیر خارجہ کی موجودگی میں سخت احتجاج کیا۔

    احتجاج کے دوران ڈاکٹر بخشش سنگھ سندھو نے کہا کہ "ایس جے شنکر بھارت میں سکھوں کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں اور ان کے اقدامات عالمی سطح پر سکھوں کے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی حکومت عالمی سطح پر سکھوں کے حقوق کی پامالی کر رہی ہے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔گرپتونت سنگھ پنوں نے بھی شدید الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ایس جے شنکر نہ صرف بھارت میں سکھوں کے خلاف ظلم کی حمایت کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اس معاملے میں بھارت کی پالیسیوں کا دفاع کر رہے ہیں۔” انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کے وزیر خارجہ کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔

    مظاہرین نے اس موقع پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کے خلاف بھی نعرے لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت عالمی سطح پر سکھوں کی نسل کشی کو فروغ دے رہی ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ مظاہرین نے ایس جے شنکر کے ساتھ ملاقات کرنے والے امریکی حکام پر بھی تنقید کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ بھارت کے وزیر خارجہ کے خلاف عالمی پابندیاں عائد کی جائیں۔بھارت کی حکومت عالمی سطح پر سکھوں کے خلاف نسل کشی کی سازش کر رہی ہے اور اس کے خلاف عالمی برادری کو ایک سخت موقف اپنانا ہوگا۔

    اس احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے بھارتی حکومت کے اقدامات کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک بھارت اپنے سکھ شہریوں کے حقوق کا احترام نہیں کرتا، تب تک اس کے حکام کو عالمی سطح پر مسترد کرنا چاہیے۔

    خاتون جیل افسر کا قیدی کے ساتھ جنسی تعلق،ویڈیو لیک

    مسلمان کی جائیداد میں غیر مسلم کا حصہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

  • مستقبل میں بھارت سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک بن جائے گا، رپورٹ

    مستقبل میں بھارت سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک بن جائے گا، رپورٹ

    اسلام آباد: زمین مختلف مذاہب کا گھر ہے، جن میں ہندومت، اسلام، عیسائیت، بدھ مت، جین مت، زرتشت اور سکھ مت شامل ہیں،لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ 2050 تک مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی کس ملک میں ہوگی؟

    باغی ٹی وی : پیو ریسرچ سینٹر کے نئے مذہبی تخمینوں کے اعداد و شمار کے مطابق آنے والی دہائیوں میں، ہندوستان کو دنیا کے تین بڑے مذاہب میں سے دو میں سے سب سے زیادہ آبادی رکھنے کا اعزاز حاصل ہوگا – اسلام اور ہندو ازم،ہندوستان پہلے ہی دنیا کے بیشتر ہندوؤں کا گھر ہے 2010 میں، دنیا کے 94% ہندو ہندوستان میں رہتے تھے، اور یہ 2050 میں درست رہنے کی امید ہے، جب 1.3 بلین ہندوؤں کے ملک میں رہنے کا امکان ہے۔

    دنیا میں موجود 1445 سال پرانی کمپنی جس نے 2 عالمی جنگیں دیکھیں

    پیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے شائع کردہ ایک رپورٹ میں حیران کن انکشاف کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق، ہندوستان 2050 تک سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک بن جائے گا جبکہ اب تک انڈونیشیا مسلم آبادی والا سب سے بڑا ملک ہے لیکن بھارت 2050 تک 311 ملین نفوس کے ساتھ انڈونیشیا کو پیچھے چھوڑ دے گا اور سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک بن جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق آبادی میں ان اضافوں کا تخمینہ 2010-2050 تک لگایا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان 273 ملین تعداد کے ساتھ دوسرا سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک ہوگا پاکستان کے بعد 2010 سے اب تک مسلمانوں کی سب سے زیادہ تعداد والا ملک انڈونیشیا ہے جو 2050 تک 257 ملین مسلمانوں کی آبادی ساتھ تیسرے نمبر پر آنے کا امکان ہے۔

    فیروز خان کی دوسری اہلیہ کے ہمراہ خوشگوار موڈ میں تصاویر وائرل

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا بڑا مذہبی گروہ بن جائے گا 2050 تک ہندوستان میں 31 کروڑ مسلمان ہوں گے جو عالمی مسلم آبادی کا 11 فیصد بنتے ہیں،اس اہم متوقع نمو کی بڑی وجہ دیگر مذہبی گروہوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی کم عمری میں شادی اور طرز معاشرت ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں ہندوؤں کی سب سے زیادہ آبادی برقرار رہے گی، جو بڑھ کر 1.03 بلین ہو جائے گی، پیو ریسرچ سنٹر کی ایک تحقیق میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کی بڑی وجہ کم عمری اور اعلی شرح پیدائش کو قرار دیا گیا ہے،مسلمانوں کی اوسط عمر 22 سال ہے جب کہ ہندوؤں کی اوسط عمر 26 سال اور عیسائیوں کی 28 سال ہے۔

    کریتی سینن کی بوائے فرینڈ سے تعلقات کی افواہیں پھر گردش کرنے لگیں

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہندوستان میں مسلمان خواتین کے اوسطاً 3.2 بچے ہیں، جب کہ ہندو خواتین کے 2.5 بچے ہیں، اور عیسائی خواتین کے اوسطاً 2.3 بچے ہیں مسلم آبادی کے اضافے سے بھارت کی ثقافتی اور مذہبی ہم آہنگی میں تنوع پیدا ہوگا، جو ملکی ثقافت کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مسلمانوں کی بڑھتی آبادی مختلف شعبوں، جیسے کاروبار، صنعت، اور دستکاری میں نئی صلاحیتیں اور مواقع پیدا کر سکتی ہے تاہم بڑھتی مسلم آبادی کے ذریعے حکومت پر سماجی انصاف، تعلیم، اور صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے دباؤ میں بھی بڑھ سکتا ہے۔

    کتنا حق مہر دیا گیا؟جویریہ سعود نے 19 ویں سالگرہ پر یادگارویڈیو جاری کردی

    رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر حکومت اور عوام مل کر تعلیم، روزگار، اور سماجی ہم آہنگی پر توجہ دیں تو یہ اضافہ بھارت کے لیے ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ چیلنجز اور تنازعات پیدا کر سکتا ہے،متوازن پالیسیاں اور عوامی شعور اس مسئلے کا بہترین حل ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ آزادی کےبعد تقریباً 70 سالوں میں مذہبی تشدد نے ہزاروں مزید جانیں لے لی ہیں،جن میں جدید ہندوستان کے بانی مہاتما گاندھی کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم اندرا گاندھی بھی شامل ہیں، مذہبی پابندیوں کے بارے میں پیو ریسرچ سینٹر کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان دنیا میں مذہب سے متعلق سماج دشمنیوں کی اعلیٰ ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔

    عمران خان حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور

    یہاں تک کہ ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی مذہبی عدم برداشت کے الزامات لگائے گئے ہیں، جو 2002 میں ریاست گجرات میں مسلم مخالف تشدد کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے، جس میں کچھ اندازوں کے مطابق 2,000 افراد ہلاک ہوئے تھے مودی، جو اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے، پر الزام ہے کہ انہوں نے قتل کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے کیونکہ وہ ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ہیں اور مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی جانب سے تشدد کا ارتکاب کیا گیا تھا۔

    ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں انسانی مداخلت کم کر رہے ہیں، وزیر خزانہ

  • سماعت کیوں ملتوی کی، ملزم نے جج کو چپل مار دی

    سماعت کیوں ملتوی کی، ملزم نے جج کو چپل مار دی

    بھارت میں مہاراشٹر کے تھانہ ضلع کی ایک مقامی عدالت میں قتل کے مقدمے میں گرفتار ایک قیدی نے مقدمے کی کارروائی ملتوی ہونے پر جج پر چپل پھینک دی۔

    یہ واقعہ گزشتہ روز اس وقت پیش آیا جب ملزم کرن سنتوش بھرم، جو 2012 میں قتل کے مقدمے میں گرفتار ہوا تھا، عدالت میں پیش ہوا۔ملزم کرن سنتوش بھرم کے خلاف قتل کا مقدمہ گزشتہ کئی برسوں سے زیر سماعت تھا۔ گزشتہ روز جب عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تو ملزم شدید غصے میں آ گیا۔ جج کی طرف سے مقدمے کی تاریخ ملتوی ہونے کے بعد ملزم نے کمرہ عدالت سے باہر نکل کر دروازے کے قریب کھڑے ہو کر اپنی چپل اٹھائی اور جج پر پھینک دی۔ چپل کمرہ عدالت میں ایک میز سے ٹکرا گئی، جس کے بعد کمرہ عدالت میں سنسنی پھیل گئی۔

    واقعے کے فوراً بعد عدالت کے عملے نے پولیس کو اطلاع دی اور ملزم کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو مقامی عدالت کے سامنے پیش کیا اور اس کی پولیس تحویل حاصل کر لی۔ عدالت کے حکام نے اس کارروائی کو سنگین توہین عدالت قرار دیا اور ملزم کے خلاف مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔

    یہ واقعہ نہ صرف عدلیہ کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ اس نے عوامی سطح پر بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ عدلیہ میں ہونے والی کارروائیوں کو کس طرح کنٹرول کیا جائے تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ وکلاء اور قانونی ماہرین نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے.

    ہمیں نئی نسل کے ڈیجیٹل حقوق کے لئے جدو جہد کرنا ہو گی،بلاول بھٹو

    آذربائیجان کے نائب وزیر دفاع کی ایئر چیف سے ملاقات

  • مرد استاد کو "حاملہ” ہونے پر سکول سے ملی چھٹی

    مرد استاد کو "حاملہ” ہونے پر سکول سے ملی چھٹی

    بھارتی بہار کے محکمہ تعلیم کی جانب سے ایک انتہائی حیران کن اور غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک میں بحث چھیڑ دی ہے۔

    اس بار محکمہ تعلیم نے ایک مرد ٹیچر کو حاملہ ہونے کی بنیاد پر زچگی کی چھٹی دے دی ہے، جسے سن کر ہر کوئی دنگ رہ گیا۔ حاجی پور کے ایک اسکول میں تعینات بی پی ایس سی کے ایک مرد ٹیچر جتیندر کمار سنگھ کو محکمہ تعلیم نے حاملہ ہونے کی بنیاد پر "میٹرنٹی لیو” دے دی۔یہ واقعہ حاجی پور مہوا بلاک کے حسن پور اوستی ہائی اسکول کا ہے، جہاں جتیندر کمار سنگھ کے نام پر زچگی کی چھٹی کی درخواست محکمہ تعلیم کے ای-پورٹل پر منظور کر لی گئی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ زچگی کی چھٹی صرف خواتین کو دی جاتی ہے جب وہ حمل سے ہوں اور بچے کو جنم دینے والی ہوں، مگر یہاں یہ چھٹی ایک مرد ٹیچر کو دی گئی ہے۔ محکمہ تعلیم اور اساتذہ کے محکمے کی ویب سائٹ پر جتیندر کمار سنگھ کو حاملہ قرار دے کر چھٹی دی گئی، جس نے پورے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب جتیندر کمار سنگھ کے چھٹی کے ریکارڈ کو دیکھنے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انہیں زچگی کی چھٹی دی گئی ہے۔ محکمہ تعلیم کے پورٹل پر واضح طور پر یہ ذکر تھا کہ جتیندر کمار سنگھ حاملہ ہیں اور اس وجہ سے وہ چھٹی پر ہیں۔ اس غیر معمولی صورتحال نے لوگوں کو چکرا کر رکھ دیا اور سوشل میڈیا پر اس پر مذاق اڑایا جانے لگا۔

    اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد، حاجی پور بلاک ایجوکیشن آفیسر ارچنا کماری نے اس غلطی کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تکنیکی خرابی تھی جس کے باعث مرد ٹیچر کو زچگی کی چھٹی دے دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ "مرد اساتذہ کو ایسی چھٹی نہیں دی جاتی اور یہ صرف خواتین اساتذہ کا حق ہے، جو حمل سے ہوں اور بچے کو جنم دینے والی ہوں۔” ارچنا کماری نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ اس خرابی کو جلد درست کیا جائے گا اور ایسی غلطیاں مستقبل میں نہیں ہوں گی۔

    اس خبر کے پھیلنے کے بعد، ریاست کے مختلف حصوں سے اس پر ردعمل آنا شروع ہو گیا ہے۔ لوگوں نے اس عجیب و غریب واقعے پر حیرانی کا اظہار کیا اور محکمہ تعلیم کی بے احتیاطی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، کچھ لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر یہ واقعہ ایک مرد ٹیچر کے ساتھ ہو سکتا ہے تو دوسرے معاملات میں بھی ایسی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔

    پشاور ہائیکورٹ کا سینیٹ الیکشن معاملہ جلد حل کرنے کا حکم

    ٹرمپ کا اعلان، خواجہ سراؤں کے لئے مشکلات

  • داؤد ابراہیم کے بھائی اقبال کاسکر کا فلیٹ قبضے میں لے لیا گیا

    داؤد ابراہیم کے بھائی اقبال کاسکر کا فلیٹ قبضے میں لے لیا گیا

    بھارت میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کیس میں داؤد ابراہیم کے بھائی اقبال کاسکر سے منسلک ایک فلیٹ کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

    یہ جائیداد مبینہ طور پر بھتہ خوری کے ذریعے حاصل کی گئی تھی اور اس کا تعلق ایک سابقہ تفتیش سے ہے جو 2017 میں تھانے پولیس کے انسداد بھتہ خوری سیل نے کی تھی۔ای ڈی کی جانب سے کی گئی حالیہ کارروائی میں نیوپولیس ٹاور، تھانے میں واقع فلیٹ کو ضبط کر لیا گیا ہے۔ یہ فلیٹ مارچ 2022 سے عارضی طور پر اقبال کاسکر اور اس کے ساتھیوں سے منسلک تھا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ جائیداد بھتہ خوری کے ذریعے حاصل کی گئی تھی، جس میں متعدد تاجروں سے جائیدادیں اور پیسے بٹورے گئے تھے۔ای ڈی کی تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اقبال کاسکر اور اس کے ساتھیوں، جن میں ممتاز شیخ اور اسرار سعید شامل ہیں، نے کئی تاجروں کو دھمکیاں دیں اور ان سے جائیدادیں اور بڑی رقمیں وصول کیں۔ ایک مخصوص کیس میں بلڈر پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ایک پراپرٹی کو ممتاز شیخ کے نام پر رجسٹر کرے، جس کی قیمت تقریباً 75 لاکھ روپے تھی۔

    سال 2022 میں ای ڈی نے اس معاملے میں تحقیقات تیز کیں اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔ ای ڈی نے پی ایم ایل (منی لانڈرنگ) کے تحت چارج شیٹ بھی داخل کی تھی، جو تھانے پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر پر مبنی تھی۔ ایف آئی آر میں بھتہ خوری کے علاوہ دیگر سنگین الزامات شامل تھے۔اس کارروائی کے بعد ای ڈی نے واضح کیا ہے کہ وہ اقبال کاسکر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف منی لانڈرنگ اور دیگر جرائم کے سلسلے میں اپنی تحقیقات جاری رکھے گا۔ اس ضبطی کارروائی کو ای ڈی کی طرف سے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو کہ منی لانڈرنگ اور مافیا کے خلاف کی جانے والی اس کی مسلسل جدوجہد کا حصہ ہے۔

    داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی منشیات کیس میں گرفتار

    داؤد ابراہیم کی پارٹیز میں رقص کےلگائے گئے الزام پر سالوں بعدٹوئنکل کھنہ کا مزاحیہ ردعمل

    داؤد ابراہیم سے رشتے داری پر فخر ہے، جاوید میانداد