Baaghi TV

Tag: بھارت

  • بنگلہ دیش کا  بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ

    بنگلہ دیش کا بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ

    ڈھاکا: بنگلہ دیش نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کےلئے بھارت سے مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : شیخ حسینہ واجد رواں برس اگست میں اپنی حکومت کے اختتام کے بعد بنگلہ دیش سے بھارت فرار ہوگئی تھیں تاہم اب شیخ حسینہ کی حوالگی کے حوالے سے بنگلہ دیشن نے بھارت کو درخواست دی جس کی بنگلہ دیشی قائم مقام وزیرِ خارجہ توحید حسین نے تصدیق بھی کردی۔

    ڈھاکا میں صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کو آگاہ کر دیا ہے کہ شیخ حسینہ عدالتی عمل کےلئے یہاں مطلوب ہیں شیخ حسینہ مفرور ہیں، انہیں بنگلہ دیش کے حوالے کیا جائے، یہ درخواست ایک نوٹ وربل کے ذریعے بھیجی گئی ہے لیکن اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    بھارتی حکومت کی جانب سے توحید حسین کے بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم توقع کی جارہی ہے کہ بھارت اس معاملے پر جلد جواب دے گا۔

    دمشق ائیرپورٹ کا فضائی آپریشن بحال
    اس سے قبل بنگلہ دیش کے قائم مقام وزیرِ داخلہ جہانگیر عالم نے کہا تھا کہ ان کی وزارت نے شیخ حسینہ کی واپسی کےلئے وزارتِ خارجہ کو خط بھیجا ہے،بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان حوالگی کا معاہدہ موجود ہے اور اس معاہدے کے تحت شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش واپس لایا جا سکتا ہے۔
    لکی مروت میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، ایک دہشتگرد ہلاک

  • امریکی عدالت میں اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی مجرم قرار

    امریکی عدالت میں اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی مجرم قرار

    پیگاسس اسپائی ویئر کا معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر چھا یا ہوا ہے اور ہندوستان میں اس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

    امریکی عدالت نے اسرائیل کی معروف اسپائی ویئر بنانے والی کمپنی این ایس او گروپ کو پیگاسس کے ذریعے 1400 واٹس ایپ صارفین کی جاسوسی کا ذمہ دار قرار دیا ہے، جن میں 300 ہندوستانی افراد شامل ہیں۔ ان میں اہم شخصیات جیسے صحافی، سیاستدان، سرکاری افسران اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔امریکی عدالت میں این ایس او گروپ کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس کی سماعت جج فلِس ہیملٹن نے کی۔ جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ این ایس او گروپ نے امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی اور متاثرین کو نشانہ بنانے کے لیے اس نے اپنے اسپائی ویئر کا استعمال کیا۔ عدالت نے کمپنی کو ان کارروائیوں کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار قرار دیا۔

    رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں پیگاسس اسپائی ویئر کا استعمال کئی اہم شخصیات کے خلاف کیا گیا تھا۔ ان میں اپوزیشن کے رہنما، مرکزی وزراء، سرکاری افسران، اور سماجی کارکن شامل تھے۔ 2021 میں انکشاف ہوا کہ پیگاسس کے ذریعے 300 سے زیادہ ہندوستانی موبائل نمبروں کو ٹارگٹ کیا گیا تھا، جن میں دو مرکزی وزراء، تین اپوزیشن رہنما، متعدد صحافی، اور کاروباری شخصیات بھی شامل تھے۔یہ انکشافات ہندوستان میں سیاسی ہلچل کا سبب بنے تھے اور مودی حکومت پر شدید سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اپوزیشن نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کی نگرانی کے لیے غیر قانونی طریقے استعمال کر رہی ہے۔

    پیگاسس اسپائی ویئر کا استعمال دنیا بھر کی حکومتوں کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر اہم شخصیات کی جاسوسی کے لیے کیا گیا تھا۔ 2021 میں امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے این ایس او گروپ کو بلیک لسٹ کر دیا تھا اور امریکی اداروں پر اس کے پروڈکٹس خریدنے پر پابندی لگا دی تھی۔این ایس او گروپ نے ہمیشہ اپنے موقف کا دفاع کیا ہے اور واضح کیا کہ اس کی مصنوعات صرف حکومتوں اور سرکاری ایجنسیوں کے لیے دستیاب ہیں، نہ کہ فرد یا غیر سرکاری اداروں کے لیے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف دہشت گردی اور جرائم کی روک تھام کے لیے اسپائی ویئر فراہم کرنا تھا۔ تاہم، اس کے باوجود پیگاسس کے استعمال کے حوالے سے عالمی سطح پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

    ہندوستانی حکومت نے ہمیشہ پیگاسس کے ذریعے جاسوسی کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور نہ ہی حکومت نے کسی قسم کی جاسوسی کی ہے۔

    نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت نے 2017 میں اسرائیل سے ہتھیاروں کی خریداری کے ساتھ جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والا سوفٹ وئیر اسپائی وئیرخریدنے کا بھی معاہدہ کیا بھارتی حکومت اوراسرائیل کے ہتھیاروں کی خریدی کے معاہدے میں اسپائی وئیرکی خریداری بھی شامل تھی۔

    موبائل فون کی ہیکنگ کے لیے اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ سافٹ ویئر پیگاسس استعمال کیا جا رہا ہے۔ واٹس ایپ پر صرف ایک مس کال کی مدد سے فون ہیک ہو جاتا ہے، یہ مس کال بھی بعد میں کال لاگ سے ختم کر دی جاتی ہے۔ پیگاسس کے گوگل پر جاری وکی پیڈیا کے مطابق پیگاسس ایک اسپائی ویئر ہے جو اسرائیلی سائبرارمز فرم این ایس او گروپ نے تیار کیا ہے جو iOS اور Android کے زیادہ تر ورژن چلانے والے موبائل فون (اور دیگر آلات) پر چھپ چھپا کر انسٹال کیا جاسکتا ہے۔ 2021 پروجیکٹ پیگاسس انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ پیگاسس سافٹ ویئر 14.6 آئی او ایس تک کے حالیہ iOS ورژنز کا استحصال کرنے کے قابل ہے

    واشنگٹن پوسٹ اور دیگر میڈیا ذرائع کے مطابق ، پیگاسس سافٹ ویئر اس قدر طاقتور ہے کہ نہ صرف کسی فون (ٹیکسٹس ، ای میلز ، ویب سرچ) سے تمام مواصلات کی کی اسٹروک مانیٹرنگ کے قابل بناتا ہے بلکہ یہ آپ کی فون کالز سن اور ریکارڈ کر سکتا ہے۔ آپ کے بھیجئے گئے پیغامات کو کاپی کر سکتا ہے۔آپ کے فون میں موجود تمام تصاویر، ویڈیوز اور فائلز تک رسائی حاصل کرسکتا ہے جبکہ این ایس او گروپ کو دونوں کو ہائی جیک کرنے کی بھی اجازت دیتا ہےصرف یہی نہیں، یہ سافٹ ویئر آپ کے موبائل فون میں لگے کیمرے اور مائیک کے ذریعے چوبیس گھنٹے آپ کی جاسوسی کر سکتا ہے۔ایک بار آپ کا فون ہیک ہو جائے تو آپ کہاں جاتے ہیں، کس سے ملتے ہیں، کیا کھاتے پیتے ہیں، یہ سب راز نہیں رہتا۔اس کمپنی کی پہلے امریکی نجی ایکویٹی فرم فرانسسکو شراکت دار کی ملکیت تھی اس کے بعد بانیوں نے اسے 2019 میں واپس خریدلیا تھا اسرائیلی کمپنی یہ سافٹ ویئر دنیا کی مختلف حکومتوں کو بیچ چکی ہے۔این ایس او نے کہا ہے کہ وہ”مجاز حکومتوں کو ایسی ٹیکنالوجی مہیا کرتی ہے جو ان کو دہشت گردی اور جرائم سے مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے-اس سافٹ ویئر کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ کئی سال تک آپ کے فون کے ذریعے آپ کی نگرانی کر سکتا اور آپ کو اس کا علم تک نہیں ہوتا ایپل کا جدید ترین آپریٹنگ سسٹم اور اینڈرائیڈ کا کوئی بھی ورژن اس سے محفوظ نہیں۔

    9 مئی سانحہ: ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے مزید 11 ملزمان جیل منتقل

    اسپتال میں علاج کیلئے آئی خاتون کے ساتھ سکیورٹی گارڈ کی زیادتی

  • بھارتی اداکار کے گھر پر حملہ کرنیوالے 8 طلبا گرفتار

    بھارتی اداکار کے گھر پر حملہ کرنیوالے 8 طلبا گرفتار

    بھارت کی تیلگو فلم انڈسٹری کے سپر اسٹار، الو ارجن، جنہیں "پشپا” کے کردار کے لیے شہرت حاصل ہے، پر عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبا نے حملہ کر دیا۔

    حملہ آوروں نے کچھ روز قبل، الو ارجن کی فلم پشپا 2 کے پریمیئر کے دوران سینڈھیا تھیٹر میں بھگدڑ کے باعث جاں بحق ہونے والی خاتون کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے کا مطالبہ کیا تھا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے الو ارجن کے گھر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، اور گھر کے احاطے میں رکھی گملے توڑ دیے۔ انہوں نے احتجاجاً ٹماٹر بھی پھینکے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں کے ہاتھوں میں بینرز تھے جن پر "انصاف ہونا چاہیے” جیسے نعرے درج تھے۔ ان طلبا کا کہنا تھا کہ وہ فلم کی ٹیم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ خاتون کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیں۔

    حملے کی اطلاع ملتے ہی حیدرآباد پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے دوران خدشہ ظاہر کیا کہ حملے میں عثمانیہ یونیورسٹی کے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اراکین ملوث ہو سکتے ہیں۔ پولیس نے مزید بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کی بھی تصدیق کی جا رہی ہے کہ آیا حملہ کسی منظم احتجاج کا حصہ تھا یا یہ ایک ذاتی کارروائی تھی۔اس حملے سے قبل، الو ارجن نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پیغام پوسٹ کیا تھا جس میں انہوں نے اپنے مداحوں سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار ذمے داری سے کریں اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا گالی گلوچ سے اجتناب کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں قانون کے مطابق ہی ردعمل دیا جائے، اور کسی کو بھی حالات سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

    الو ارجن نے اپنی طرف سے اس سانحے کے متاثرین کے لیے اقدامات بھی کیے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ جاں بحق ہونے والی خاتون کے اہل خانہ کو 25 لاکھ روپے کا معاوضہ دیں گے اور زخمیوں کے علاج کے تمام اخراجات خود برداشت کریں گے۔ تاہم، طلبا کی جانب سے ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کیے جانے کے بعد یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔

    یہ واقعہ نہ صرف حیدرآباد بلکہ پورے بھارت میں بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ جہاں ایک طرف سپر اسٹار الو ارجن نے متاثرین کے لیے مدد کی پیشکش کی، وہیں طلبا کی جانب سے اس معاملے پر عدالت سے انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پولیس اس حملے کے محرکات کی جانچ کر رہی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ جلد اس واقعے کی حقیقت سامنے آ جائے گی۔

  • بھارت کے میچز کیلئے عرب امارات کا نیوٹرل وینیو فائنل

    بھارت کے میچز کیلئے عرب امارات کا نیوٹرل وینیو فائنل

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے متحدہ عرب امارات کوچیمپئنزٹرافی کے لیے نیوٹرل وینیو کے طور پر منتخب کر لیا ہے۔

    پی سی بی ترجمان عامر میر نے بتایا کہ بورڈ نے آئی سی سی کو اس بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ اب انڈیا اور پاکستان کے درمیان چیمپئنز ٹرافی کے میچز متحدہ عرب امارات میں ہوں گے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ چیمپئنز ٹرافی کے لیے نیوٹرل وینیو کا فیصلہ میزبان پاکستان کو کرنا تھا۔ وینیو کا حتمی فیصلہ پاکستان میں موجود متحدہ عرب امارات کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شیخ النہیان اور پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کی ملاقات کے بعد ہوا۔ اعلان کے مطابق 2027 تک پاکستان بھارت کا دورہ نہیں کرے گا اور بھارتی کی میزبانی میں ہونے والے تمام ایونٹس میں پاکستان کے میچز بھی نیوٹرل وینیو پر کھیلے جائیں گے۔آئی سی سی نے یہ بھی کہا تھا کہ اسے بھارت، پاکستان اور ایک تیسرے ایشیائی رکن ملک یا (ایک ایسوسی ایٹ ایشیائی ملک) کو شامل کرکے کسی نیوٹرل مقام پر سہ فریقی یا چار ملکی ٹورنامنٹ کے انعقاد پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف سے وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات

    وزیراعظم شہبازشریف سے وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات

    عبداللہ شفیق نے بدترین ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    مریم نواز کا پارا چنار کو ادویات کی فراہمی کا وعدہ پورا

  • بھارتی آرمی چیف کی موت، ہیلی کاپٹر کریش کی  رپورٹ 3 سال بعد سامنے آ گئی

    بھارتی آرمی چیف کی موت، ہیلی کاپٹر کریش کی رپورٹ 3 سال بعد سامنے آ گئی

    نئی دہلی: بھارتی آرمی چیف کی موت، ہیلی کاپٹر کریش کی رپورٹ سامنے آ گئی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی چیف آف اسٹاف جنرل پبن کی ہیلی کاپٹرکریش میں موت سے متعلق رپور ٹ 3 سال بعد منظر عام پر آئی ہے جس میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کی ہیلی کاپٹر کریش میں موت کی وجہ کو انسانی غلطی کو قرار دے دیا گیا-

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے ایوان زیریں لوک سبھا میں پارلیمانی کمیٹی برائے دفاع کی پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دسمبر 2021 کو ہیلی کاپٹر حاد ثہ انسانی غلطی کی وجہ سے ہوا تحقیقاتی ٹیم نے حادثے کی ممکنہ وجہ جاننے کے لیے تمام گواہوں سے بات چیت کی، فلائٹ ڈیٹا، ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈ کے مکمل تجزیہ کے بعد رپورٹ مرتب کی گئی، 22-2021 میں مجوعی طور پر 9 حادثات پیش آئے تھے، 8 دسمبر کو بھارتی جنرل کے ہیلی کاپٹر کا حادثہ انسانی کوتاہی کی وجہ سے ہوا۔

    واضح رہے کہ بھارتی فضائیہ کا ایم آئی 17 جنرل پبن راوت، ان کی اہلیہ اور بھارتی افواج کے 12 اہلکاروں کو لے کر تامل نائیڈو میں موجود سولر ایئر فورس بیس سے روانہ ہوا تھا بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر ویلنگٹن میں ڈیفنس اسٹاف سروسز کالجز جا رہا تھا۔ اور لینڈنگ سے چند منٹ قبل پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔

  • ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث

    ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث

    امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خود دیے گئے لقب "ٹیرِف مین” پر قائم ہیں۔ اس بار، وہ اپنی حلف برداری سے پہلے دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    اس ماہ کے شروع میں، ٹرمپ نے برکس ممالک کو خاص طور پر نشانہ بنایا، اور انہیں دھمکی دی کہ اگر وہ ایک نئی کرنسی تشکیل دیتے ہیں یا امریکی ڈالر کی جگہ کوئی اور کرنسی اختیار کرتے ہیں، تو ان پر 100 فیصد ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔بھارت، جو کہ برکس کا بانی رکن ہے اور اس تنظیم میں چین اور روس جیسے ممالک شامل ہیں، اس وقت اس عالمی تنظیم میں طاقتور اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے اس سے پہلے بھارتی تجارتی تعلقات کے حوالے سے نئی دہلی کو "بہت بڑا بدسلوکی کرنے والا” قرار دیا تھا، اور اس پر الزامات لگائے تھے۔

    ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں اسٹیل اور ایلومینیم پر ٹیکس عائد کیے تھے، جس سے جوابی اقدامات کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔ اس کے بعد ٹرمپ نے بھارت کو ترجیحی تجارتی حیثیت سے محروم کر دیا، جس سے بھارت کی اربوں ڈالر مالیت کی مصنوعات امریکی ٹیکسوں سے مستثنیٰ تھیں، اور اس فیصلے نے بھارتی حکام میں غصے کی لہر دوڑائی۔تاہم، ان سب کے باوجود، منتخب صدر ٹرمپ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ گرم جوش ذاتی تعلقات رکھتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی تعریف کی تھی، خاص طور پر جب ٹرمپ نے مودی کے گھر کے ریاست گجرات کا دورہ کیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ قریبی تعلقات بھارت کو ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں فائدہ دے سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کے اقتدار میں بھارت کی پوزیشن ایک منفرد مقام پر آتی ہے۔ Harsh Pant، جو کہ اوبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے نائب صدر ہیں، نے سی این این کو بتایا کہ "دیگر برکس ممالک جیسے روس، چین اور برازیل امریکہ مخالف جذبات رکھتے ہیں، لیکن بھارت ان میں شامل نہیں ہے۔” بھارت کی اس منفرد پوزیشن کو اس کے حق میں سمجھا جا سکتا ہے، خاص طور پر اس کی اقتصادی طاقت اور عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کے پیش نظر۔برکس ممالک کے درمیان یہ امکان بھی موجود ہے کہ وہ امریکی ڈالر سے دوری اختیار کریں اور اپنی مشترکہ کرنسی تشکیل دیں یا کسی دوسرے مالیاتی نظام کی طرف بڑھیں۔ ایسے میں ٹرمپ کا دباؤ بھارت کے لیے ایک موقع فراہم کر سکتا ہے کہ وہ گروپ کے دیگر اراکین کو اس راستے پر چلنے سے روکے تاکہ امریکہ کے ردعمل سے بچا جا سکے۔

    بھارت میں اب بھی امریکہ کے لیے مثبت جذبات پائے جاتے ہیں، اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں مضبوطی آئی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں بھارت کے ساتھ تعلقات اچھے رہے، اور اس کی وجہ سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ کا دوسرا دور زیادہ خلفشار کا باعث نہیں بنے گا۔بھارتی وزیر خارجہ سبھرمیمنیم جے شنکر نے حال ہی میں کہا تھا کہ بھارت امریکی ڈالر کی طاقت کو کمزور کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت امریکی کرنسی کے ساتھ اپنے تعلقات میں استحکام کی خواہش رکھتا ہے۔

    مودی اور ٹرمپ نے اپنے ذاتی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ 2019 میں، ٹرمپ کے دورے پر بھارتی وزیراعظم مودی کو ٹیکساس میں "ہاؤڈی مودی” ریلی میں زبردست پذیرائی ملی تھی۔ اس کے بعد، 2020 میں، احمد آباد میں "نمستے ٹرمپ” کے عنوان سے ہونے والی ریلی میں 1,25,000 افراد نے ٹرمپ کا خیرمقدم کیا تھا۔اگرچہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات نے امریکہ کے حق میں توازن برقرار رکھا ہے، تاہم ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ 10 فیصد عمومی ٹیکس بھارت پر اثرانداز ہو سکتا ہے، کیونکہ بھارت امریکی مارکیٹ میں بہت زیادہ برآمدات کرتا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں، امریکہ نے بھارت سے تقریباً دوگنا مال درآمد کیا ہے جو اس نے بھارت کو برآمد کیا۔

    بھارت اب ایک اہم مینوفیکچرنگ مرکز بن چکا ہے، خاص طور پر کمپنیوں جیسے ایپل کے لیے، جو چین کے بجائے بھارت میں اپنی سپلائی چین کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ 2024 کے ابتدائی 10 مہینوں میں، امریکہ نے بھارت سے 73 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات درآمد کیں، جبکہ بھارت کو امریکہ سے صرف 35 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔اگرچہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں، تاہم بھارت کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہو سکتا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مستحکم کرے اور اپنے عالمی مقام کو مزید مستحکم کرے۔ ٹرمپ اور مودی کے درمیان مضبوط ذاتی تعلقات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں فاصلہ کم ہو گا،

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

    پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، تاہم اسے کسی بھی بیرونی جارحیت سے اپنے دفاع کا بنیادی حق حاصل ہے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں خواجہ سعد رفیق نے امریکی حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بھارت کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو نظرانداز کرتا ہے اور اس کی دوہری پالیسی کو سامنے لایا۔ "پاکستان کبھی بھی دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہا، لیکن امریکہ کیوں پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے خوفزدہ ہے؟” انہوں نے سوال اٹھایا کہ امریکہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت سزائیں کیوں عائد کرتا ہے جبکہ کوئی بھی ملک پاکستان سے کبھی کسی خطرے کا شکار نہیں ہوا۔سعد رفیق نے کہا کہ "پاکستان کا جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام صرف اپنے دفاع کے لیے ہے، اور یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ اپنے دفاعی توازن کو قائم رکھنے کے لیے ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی حکام کو خطے میں طاقت کے توازن اور اسٹریٹجک استحکام کو خراب کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔”

    خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کی کوشش کی ہے اور وہ اپنے دفاعی وسائل کو بڑھانے کا حق رکھتا ہے تاکہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنی دوہری پالیسیوں سے باہر نکل کر حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے اور خطے کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانی چاہیے۔خواجہ سعد رفیق نے امریکی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے دفاعی پروگرام پر ناپسندیدہ دباؤ ڈالنے کی بجائے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔

    پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ

    میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

  • بپن راوت ہیلی حادثہ انسانی غلطی قرار،پارلیمانی کمیٹی رپورٹ پیش

    بپن راوت ہیلی حادثہ انسانی غلطی قرار،پارلیمانی کمیٹی رپورٹ پیش

    8 دسمبر 2021 کو ہندوستان کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کا ہیلی کاپٹر حادثہ، جس میں ان کی اہلیہ مدھولیکا راوت اور دیگر فوجی اہلکار بھی جان سے گئے، یہ حادثہ تمل نادو کے علاقے کنور کے قریب پیش آیا تھا جب ایک ایم آئی-17 وی5 ہیلی کاپٹر پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے روز ہیلی کاپٹر سولور ایئر بیس سے ولنگٹن دفاعی خدمات اسٹاف کالج جا رہا تھا۔ اس دوران یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ مدھولیکا راوت اور 11 دیگر فوجی اہلکار موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اس حادثے کا واحد زندہ بچنے والا فرد شوریہ چکر اعزاز یافتہ گروپ کیپٹن ورون سنگھ تھا، مگر وہ بھی شدید زخمی ہونے کے بعد ایک ہفتے کے اندر انتقال کر گیا تھا،پارلیمانی کمیٹی نے بتایا کہ 8 دسمبر 2021 کو ایم آئی-17 وی5 حادثے کے پیچھے انسانی غلطی کارفرما تھی

    حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس حادثے کی بنیادی وجہ انسانی غلطی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 13ویں دفاعی منصوبہ بندی کے دوران ہندوستانی فضائیہ کے کل 34 حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 9 حادثات 2021-22 میں اور 11 حادثات 2018-19 میں ہوئے تھے۔ ان حادثات کا تجزیہ کرنے کے بعد کمیٹی نے واضح کیا کہ اکثر واقعات میں انسانی چوک یا غفلت ملوث تھی۔ رپورٹ کے مطابق، وزارت دفاع نے اس حادثے کے اسباب کو دوبارہ دہرانے سے بچنے کے لیے تربیت، آلات، آپریشنز اور دیکھ بھال کے تمام پہلوؤں پر نظرثانی کی ہے۔ وزارت نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں کہ مستقبل میں اس طرح کے حادثات نہ ہوں۔ ان اقدامات میں فضائی عملے کی تربیت کے معیار کو بہتر بنانا، ہیلی کاپٹر کے آلات اور دیکھ بھال کی پروسیجرز کی جانچ اور ضروری تبدیلیاں شامل ہیں۔

    یہ حادثہ نہ صرف ہندوستانی فوج کے لیے ایک سنگین سانحہ تھا بلکہ اس نے دفاعی نظام میں مختلف پہلوؤں پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ تاہم، وزارت دفاع اور فوج کی جانب سے اس قسم کے حادثات کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسی مشکلات سے بچا جا سکے اور فوجی اہلکاروں کی زندگی کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔اس حادثے کی تحقیقات اور اس کے نتائج نے فوجی اداروں کی کارکردگی اور حفاظتی تدابیر کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے ہیں، اور یہ واقعہ فوجی حادثات کی روک تھام کے لیے مزید احتیاطی تدابیر کے نفاذ کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

    قبل ازیں بھارتی فضائیہ کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ابتدائی رپورٹ سامنے لائی گئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ ہیلی موسم کی خرابی کی وجہ سے تباہ ہوا، رپورٹ میں کہا گیا کہ موسم غیر متوقع طور پرتبدیل ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹر بادلوں میں چلا گیا تھا ، بادلوں میں جانے سے پائلٹ موسم کو نہ سمجھ سکا،اس وجہ سے حادثہ ہوا ہے،بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت ہیلی حادثے کی تحقیقات کرنیوالے کمیٹی کی سربراہی ایئر مارشل مانویندر سنگھ نے کی، تحقیقاتی کمیٹی میں بھارتی فوج، بھارتی نیوی کے افسران بھی شامل تھے، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں بھارتی فضائیہ کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم نے جائے وقوعہ کے قریب گواہوں سے بھی تحقیقات کی اور انکا بیان لیا، تحقیقاتی ٹیم نے ہیلی کاپٹر کے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ کو بھی چیک کیا اور کاک پٹ وائس ریکارڈ کو بھی چیک کر کے تحقیقات کا حصہ بنایا گیا،

    دوسری جانب چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے ہیلی حادثے اور ممکنہ موت پر بھارت کے اندر فوجی حلقوں میں جشن کا سماں تھا، وہ ہندوستانی فوج کے اندر ایک نفرت انگیز آدمی تھا جس نے آر ایس ایس اور مودی کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے یہ نئی ترقی حاصل کی تھی بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو رافیل طیاروں میں کرپشن کا سامنا رہا بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے

    جی ایچ کیو حملہ کیس، شیخ رشید کی بریت کی درخواست مسترد،فیصلہ جاری

    افغانستان ،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

  • پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے،  عارف علوی

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے، عارف علوی

    تحریک انصاف کے رہنما سابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے جو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اور طاقت کے تناسب کو برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ ہم اپنے جارح پڑوسی کے ساتھ سیکیورٹی کی غیر متوازن صورتحال سے بچنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ ہمارے میزائل ٹیکنالوجی بھی مقامی سطح پر تیار کی گئی ہے اور اس کا مقصد صرف امن قائم رکھنا ہے، لیکن اس وقت ہمیں بھارت کی طرف سے ہائپرسونک میزائلوں کی تیز تر ترقی کی وجہ سے یہ توازن خطرے میں نظر آ رہا ہے۔

    عارف علوی نے اپنے بیان میں بھارت کی ترقی پذیر میزائل ٹیکنالوجی، خاص طور پر براه موس 1 اور براه موس 2 کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے مارچ 2022 میں ایک براه موس 1 میزائل کا تجربہ کیا تھا، جو ہریانہ سے پاکستان کی سرحد پر گرا۔ یہ میزائل 3،700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پاکستان کی سرحد تک پہنچا اور اس کا پرواز کا وقت محض سات منٹ تھا۔ بھارت نے اس واقعے کو ایک حادثہ قرار دیا، لیکن اس سے پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ بھارت نے حال ہی میں براه موس 2 کا تجربہ کیا ہے جس کی رفتار 9،800 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، اور اس کی پرواز کا وقت پہلے سے بھی کم، یعنی محض 2 منٹ رہ گیا ہے، جس سے پاکستان کے پاس جوہری ردعمل کے لیے کوئی وقت نہیں بچتا۔ انہوں نے کہا کہ براه موس میزائل جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اس طرح کی ترقی پاکستان کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بن سکتی ہے۔عارف علوی نے بھارت کی جوہری پروگرام کے حوالے سے اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو بھی بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں جوہری مواد کی سمگلنگ اور اس کی بلیک مارکیٹنگ کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں، جس میں 1992 سے لے کر 2024 تک متعدد واقعات شامل ہیں۔ ان میں سے چند سنگین واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں متعدد مرتبہ یورینیم کی سمگلنگ کی کوششیں کی گئی ہیں، جو جوہری مواد کے غیر قانونی استعمال کی واضح مثالیں ہیں۔ ان واقعات میں 1992 میں 2 کلو یورینیم کی سمگلنگ، 2008 میں نیپال جانے والے یورینیم کی سمگلنگ، اور 2024 میں کیلیفورنیئم کی سمگلنگ جیسے سنگین معاملات شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے برعکس، پاکستان میں ایسی کوئی سنگین وارداتیں رپورٹ نہیں ہوئیں، اور اس سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کی جوہری پالیسی اور اس کے رویے کے حوالے سے عالمی برادری کا موقف انتہائی جانبدار ہے۔عارف علوی نے اپنے بیان میں امریکہ کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے حالیہ پابندیوں کی مذمت کی، جو ان کے مطابق، بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کو غیر منصفانہ طور پر ہدف بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں پاکستان کے لیے ایک موجودہ خطرہ بن سکتی ہیں اور اس سے خطے میں ایک نیا تناؤ پیدا ہو گا، جو ایک ممکنہ دھماکے کے خطرے کو بڑھا دے گا۔پاکستان تحریک انصاف نے بھی ان پابندیوں کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد پاکستان کی سیکیورٹی کو مزید کمزور کرنا ہے۔ پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ان پابندیوں کے نتائج پاکستان کی بقاء کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

    گورنرسندھ کا مہاجر کلچر ڈے منانے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ کتنی بڑی کرپشن کا کیس , عمران خان قومی مجرم

    طالبان کے حمایتی عمران خان کے ساتھ امریکی ہمدردیاں کیوں؟

    سلمان احمد کو بشری پر تنقید مہنگی پڑ گئی، پارٹی میں رہنے کیلیے بشری کی وفاداری ضروری

  • بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے خلاف مقدمہ درج

    بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے خلاف مقدمہ درج

    بھارت میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقدام قتل کا مقدمہ درج کروایا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انڈیا اتحاد نے پارلیمنٹ کے احاطے میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سے متعلق ریمارکس کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی اور دھکم پیل جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ پارلیمنٹ کے احاطے میں پیش آئے ہنگامے کے دوران راہل گاندھی کی مبینہ طور پر دھکا دینے کی حرکت کی وجہ سے ان کے دو ارکان پارلیمنٹ زخمی ہو گئے۔بی جے پی کے دونوں زخمی ارکان پارلیمنٹ کو فوری طور پر آر ایم ایل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ارکان کی حالت بہتر بتائی گئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے زخمی ارکان سے فون پر بات کی اور ان کی صحت سے متعلق معلومات حاصل کیں۔بی جے پی نے راہل گاندھی پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان پر پارلیمانی اقدار کو پامال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی نے دہلی پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے دوسری جانب کانگریس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بی جے پی کی جانب سے اپوزیشن کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ پارٹی نے واقعہ کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ یہ واقعہ پہلے سے ہی کشیدہ پارلیمانی ماحول کو مزید گرم کر رہا ہے۔

    وزیراعظم کی ترک صدر سے ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری پر بات چیت

    کرم میں ستی گندم دینے کا فیصلہ، اپیکس کمیٹی اجلاس طلب