Baaghi TV

Tag: بھارت

  • پاکستان دشمنی کی پالیسی پرششی تھرور کا دو ٹوک موقف

    پاکستان دشمنی کی پالیسی پرششی تھرور کا دو ٹوک موقف

    بھارتی سیاستدان اور کانگریس کے سینئر رہنما ششی تھرور نے پاکستان کے خلاف مستقل دشمنی سے خطے میں امن کے امکانات کمزور ہوئے ہیں اور یہ طویل مدت میں مفید ثابت نہیں ہو سکی۔

    بھارتی اخبار میں شائع اپنے کالم میں ششی تھرور کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک مخصوص خطرہ ہے مگر پورے پاکستانی معاشرے کو ایک ہی نظر سے دیکھنا درست نہیں اس طرح کا رویہ شدت پسند عناصر کو مضبوط اور امن کے حامی طبقات کو کمزور کر سکتا ہےبھارت کو پاکستان کو مستقل طور پر شیطان بنا کر پیش کرنے کے بجائے ایسے ماحول کے قیام کی کوشش کرنی چاہیے جو خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دے سکے ان کے مطابق مذاکرات اور سفارتی رابطے کو کمزوری سمجھنا ایک غلط سوچ ہے جبکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے بات چیت ناگزیر ہے۔

    ششی تھرور نے اپنے کالم میں سخت پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں بھی زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئیں اور اس سوچ سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان فاصلے مزید بڑھتے ہیں۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت میں ایک ایسا طبقہ سامنے آ رہا ہے جو پاکستان کے ساتھ مکالمے اور کشیدگی میں کمی کا حامی ہے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ششی تھرور کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارتی سیاست میں پاکستان مخالف بیانیے پر اندرونی سطح پر بحث اور سوالات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں امن اور اقتصادی استحکام کیلئے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم موجودہ سیاسی حالات میں یہ عمل آسان نہیں ہوگا۔

  • پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ سے بائیکاٹ، بنگلہ دیشی حکومت کا ردِعمل سامنے آگیا

    پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ سے بائیکاٹ، بنگلہ دیشی حکومت کا ردِعمل سامنے آگیا

    آئی سی سی ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر بنگلہ دیشی حکومت کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق مشیر کھیل آصف نذرل نے پاکستان کے مؤقف کو اصولی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا ہے،وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے اور اس کی وجہ بنگلادیش کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔

    بنگلہ دیشی مشیر کھیل آصف نذرل کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے نکالے جانے کے معاملے پر اصولی اور جرات مندانہ مؤقف اپنایا،پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے تحت بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا، جس پر وہ پاکستانی قیادت کے شکر گزار ہیں۔

    روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا انکشاف

    آصف نذرل نے اس موقع پر زور دیا کہ کھیل کو سیاست سے پاک رہنا چاہیے اور عالمی کھیلوں کے مقابلوں میں منصفانہ رویہ اختیار کیا جانا ضروری ہے کھیلو ں کے میدان کو تنازعات سے دور رکھنا ہی عالمی سپورٹس کی بہتری کے لیے اہم ہے۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو کابینہ اجلاس کے دوران کہا تھا کہ ہم بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلیں گے کیونکہ کھیل کے میدان پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ ہم نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ ہمیں مکمل طور پر بنگلادیش کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے میرے خیال میں یہ بہت مناسب فیصلہ ہے۔

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    اس سے قبل حکومت پاکستانی نے یکم فروری کو ایک سوشل میڈیا پر جاری پیغام کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے مگر 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلا جائے گا۔

    اس حوالے سے آئی سی سی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کونسل کو باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا ہےگزشتہ روز بھارتی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئی سی سی نے مسئلے کے حل کے لیے نائب سربراہ عمران خواجہ کو پاکستان سے بیک ڈور بات چیت کا ٹاسک سونپا ہے۔

    بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے،سلمان علی آغا

  • بھارت : تین بہنوں کی خودکشی کی وجہ کوریائی پاپ کلچر  سے جنونی لگاؤ تھا،پولیس

    بھارت : تین بہنوں کی خودکشی کی وجہ کوریائی پاپ کلچر سے جنونی لگاؤ تھا،پولیس

    بھارت کے شہر غازی آباد میں تین بہنوں کی خودکشی کے بعد ملنے والے ایک نوٹ نے ثابت کیا ہے کہ وہ کوریائی پاپ کلچر کی جنون کی حد تک دیوانی تھیں، ساتھ ہی نوٹ میں گھر کے دباؤ اور خاندانی مالی مشکلات کے آثار بھی نمایاں ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں بہنوں کی عمریں 12، 14 اور 16 سال تھیں، جنہوں نے اپنی رہائشی عمارت کی نویں منزل سے کود کر جانیں دیں، واقعے کے پیچھے آن لائن کوریائی ڈرامے اور گیمز کے لیے شدید لگاؤ، گھر کے اندر شدید دباؤ اور خاندانی مالی مشکلات بنیادی وجوہات تھیں۔

    بچیوں کی جانب سے لکھے گئے نوٹ میں خاندان سے متعدد بار معافی مانگی گئی اور یہ احساس ظاہر کیا گیا کہ ان کے احساسات اور جذبات کر ٹھیک طرح سے سمجھا نہیں گیا اور وہ سخت ذہنی دباؤ کا شکار تھیں،کئی صفحات پر مشتمل نوٹ میں کورین میوزک گروپ ’کے-پاپ‘ اور کوریائی اداکاروں کے لیے شدت سے عقیدت کا ذکر تھا۔

    نوٹ میں بچیوں نے لکھا تھا کہ ہمیں کوریائی پاپ موسیقی سے بے حد محبت تھی، ہمیں افسوس ہے کہ شاید آپ سمجھ نہیں پائے کہ ہمارے لیے یہ کتنا اہم تھا یہ ہماری زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ تھا بعض اوقات لگتا تھا کہ یہ دنیا ہمارے لیے سب کچھ سے زیادہ معنی رکھتی ہے،نوٹ میں بہنوں نے اپنی کوریائی پسندیدگی اور کے-پاپ، ڈراماز، اور آن لائن گیمز جیسے ’دی بے بی ان یلو‘، ’ایول نن‘ اور دیگر کوریائی، چینی، تھائی اور جاپانی شوز کا ذکر بھی کیا۔

    انہوں نے لکھا کہ کوریا ہماری زندگی ہے، آپ نے ہمیں ہماری زندگی چھوڑنے پر مجبور کیا، اب آپ نے اس کا ثبوت دیکھ لیا،نوٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ ،کسی بھارتی سے شادی کرنے کا سوچنا ہمیں ذہنی دباؤ دیتا تھا، کیونکہ ہم اپنے آپ کو کوریائی دنیا کے قریب محسوس کرتے تھے، ہمیں توقع نہیں تھی کہ ہم اپنی زندگی کے بارے میں ایسے جذبات محسوس کریں گے معاف کرنا،ممی، پاپا۔‘

    پولیس کے مطابق بہنیں کئی سال سے اسکول نہیں جارہی تھیں، اپنا زیادہ تر وقت موبائل فونز پر گزارتی تھیں، اور والد کی سخت تربیت سے دلبرداشتہ تھیں بہنوں نے سوشل میڈیا پر ایک اکاؤنٹ بھی بنایا تھا، جس پر خاصی تعداد میں فالورز جمع ہوئے اور انہوں نے علیزہ، ماریہ اور سِنڈی جیسے مغربی نام بھی رکھے تھے۔

    والد چیتن کمار کو ان کے اکاؤنٹ کا تقریباً دس دن قبل معلوم ہوا، جس کے بعد انہوں نے اسے حذف کر دیا اور بچیوں کے فونز ضبط کر لیےاور انہیں کہا کہ وہ کوریائی مواد نہ دیکھیں اور آن لائن گیمز نہ کھیلیں، جس سے وہ شدید غصے اور ذہنی دباؤ میں تھیں کیونکہ انہیں وہ کوریائی شوز اور مواد دیکھنے کا موقع نہیں ملا جو وہ روزانہ فالو کرتی تھیں۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق غازی آباد کے ایڈیشنل کمشنر آف پولیس، الوک پریادرش نے کہا کہ یہ بچیاں کے-ڈراماز کے زیرِ اثر تھیں انہوں نے اسکو ل چھوڑ دیا اور اپنا ہر وقت موبائل پر دیکھنے میں صرف کیا منگل کی رات، جب باقی خاندان سو گیا، یہ بچیاں اپنے کمرے میں بند ہو گئیں اور خودکشی کر لی۔

    والد چیتن کمار نے تصدیق کی کہ ان کی بیٹیاں کے-ڈراماز کی بہت بڑی مداح تھیں اور تینوں نے کم از کم تین سال سے اسکول جانا بند کر دیا تھا۔ سب سے بڑی بچی کلاس 7 میں، دیگر دو کلاس 6 اور 5 میں اسکول چھوڑ چکی تھیں،تین ماہ قبل بچیوں نے یوٹیوب پر اپنا چینل بنایا تھا، جسے انہوں نے حذف کر دیا، جس سے بہنیں بہت دل شکستہ ہو گئیں۔

    حادثے سے قبل منگل کی رات خاندان نے بھنڈی اور روٹی کا کھانا کھایا، اس کے بعد بچیاں کمرے میں بند ہو گئیں والد کے مطابق، تھوڑی دیر بعد چیخوں اور گرنے کی آوازیں آئیں، جس کے بعد وہ تینوں بہنیں مردہ حالت میں ملی اس واقعے کی تحقیقات میں کچھ تنازعات بھی سامنے ہیں ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ دو بہنیں ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کودی تھیں جبکہ تیسری الگ کھڑکی سے نیچے اتری۔

    تاہم ایک گواہ نے انڈیا ٹوڈے ٹی وی کو بتایا کہ اس نے دیکھا کہ دو بہنیں کودنے کی کوشش کر رہی تھیں جبکہ تیسری انہیں روکنے کی کوشش کر رہی تھی، پولیس نے کہا کہ کیس میں خاندان کے مالی دباؤ، والد کے سخت ڈسپلن اور بچوں کی آن لائن کوریائی دنیا سے لگاؤ سب پہلو شامل ہیں اور تحقیقات جاری ہیں،ابتدائی طور پر پولیس اس کیس کو خودکشی کے طور پر دیکھ رہی ہے مگر ہر زاویے سے چھان بین کی جارہی ہے۔

  • بھارت دنیا بھر میں سائبر فراڈ کا گڑھ بن گیا

    بھارت دنیا بھر میں سائبر فراڈ کا گڑھ بن گیا

    مریکی حکام کی تحقیقات میں بھارت میں بڑے پیمانے پر ہونے والے سائبر فراڈ کا انکشاف ہوا ہے، جس میں بھارتی کال سینٹرز کے ملوث ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی ریاست میری لینڈ میں کروڑوں ڈالر کے مالی فراڈ کی تحقیقات کے دوران بھارت سے چلنے والے منظم فراڈ نیٹ ورک کا سراغ ملا ہے تین بھارتی کال سینٹرز نے 650 سے زائد امریکی شہریوں کو نشانہ بنایا، جنہیں مجموعی طور پر 48 ملین ڈالر سے زائد کا مالی نقصا ن پہنچا ان کال سینٹرز سے وابستہ افراد خود کو امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نمائندہ ظاہر کرتے تھے۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جعل ساز ای میلز، فون کالز اور جعلی پاپ اپ پیغامات کے ذریعے امریکی شہریوں کو خوفزدہ کر کے رقم وصول کرتے رہے امر یکی حکام کی فراہم کردہ معلومات پر بھارتی ایجنسیوں نے کارروائی کرتے ہوئے فراڈ نیٹ ورک کے چھ سرغنہ گرفتار کر لیے جبکہ بڑی مقدار میں الیکٹرانک سازوسامان بھی ضبط کیا گیا۔

    ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹ جمی پال نے بھی بھارت میں قائم تین کال سینٹرز سے منسلک فراڈ نیٹ ورک کے خاتمے کی تصدیق کی ہے بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ریاستی اداروں کی جعلی شناخت کا استعمال ریاستی نگرانی کی کمزوری اور انتظامی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق بھارت میں حالیہ منظم سائبر فراڈ کے واقعات کمزور ضابطہ کاری اور ادارہ جاتی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہے ہیں-

  • مئی 2020میں بھارت چین کا تصادم،بھارتی  اسٹریٹجک ناکامیا ں اور دفاعی کمزوریاں نمایاں

    مئی 2020میں بھارت چین کا تصادم،بھارتی اسٹریٹجک ناکامیا ں اور دفاعی کمزوریاں نمایاں

    دفاعی ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت مشرقی لداخ میں اپریل اور مئی 2020 کے دوران چین کی تیز رفتار اور منظم فوجی پیش قدمی کا بروقت اندازہ لگانے میں ناکام رہا-

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ میں ہونے والی حالیہ گرما گرم بحث نے 2020 میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر چین کے ساتھ پیش آنے والے فوجی تصادم کے دوران نئی دہلی کی اسٹریٹجک ناکامیوں اور دفاعی کمزوریوں کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہےدفاعی ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤ ں کا کہنا ہے کہ بھارت مشرقی لداخ میں اپریل اور مئی 2020 کے دوران چین کی تیز رفتار اور منظم فوجی پیش قدمی کا بروقت اندازہ لگانے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کو واضح تزویراتی برتری حاصل ہوئی۔

    یہ معاملہ اس وقت دوبارہ منظرِ عام پر آیا جب سابق بھارتی آرمی چیف جنرل (ر) ایم ایم نرواَنے کی غیر شائع شدہ کتاب “Four Stars of Destiny” کے اقتباسات ایک بھارتی جریدے میں رپورٹ ہوئے،کتاب کے مسودے کے مطابق چین نے تبت میں جاری فوجی مشقوں سے دستے اچانک ایل اے سی کے اگلے مورچوں پر منتقل کیے، جس نے بھارتی افواج کو ششدر کر دیا۔

    مولانا طاہر اشرفی کا کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی

    جنرل نرواَنے، جو دسمبر 2019 سے اپریل 2022 تک بھارتی فوج کے سربراہ رہے، اعتراف کرتے ہیں کہ بھارت چین کی فوجی نقل و حرکت کی رفتار اور پیمانے کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہا، اگرچہ بعد ازاں بھارتی فوج نے پوزیشنز مستحکم کر لیں، تاہم ابتدائی انٹیلی جنس خلا بھاری ثابت ہوایہ کشیدگی اپریل اور مئی 2020 میں جھڑپوں کی صورت میں بڑھی اور 15 جون 2020 کو گلوان وادی میں خونریز ہاتھا پائی پر منتج ہوئی، جس میں 45 برس بعد پہلی مرتبہ بھارت چین سرحد پر ہلاکتیں ہوئیں۔

    منگل کے روز پارلیمنٹ میں بحث کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن کی جانب سے کتاب کے حوالے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاحال شائع نہیں ہوئی تاہم قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے مسودے پر مبنی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت بحران سے متعلق حقائق کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق چین نے بالآخر ایل اے سی کے ساتھ 40 سے 50 ہزار فوجی تعینات کر دیے، جس کے جواب میں بھارت کو ہنگامی بنیادوں پر اضافی فوج، توپ خانہ، میزائل اور راکٹ سسٹمز تعینات کرنا پڑے۔

  • تین بہنوں کی نویں منزل سے کود کر خودکشی،گیمنگ ایپلیکیشن سے ٹاسک پر شبہ

    تین بہنوں کی نویں منزل سے کود کر خودکشی،گیمنگ ایپلیکیشن سے ٹاسک پر شبہ

    بھارتی ریاست اترپردیش کے شہرغازی آباد میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں 3 کمسن بہنوں نے مبینہ طور پر آن لائن گیمنگ کی لت اور والدین کی جانب سے مخالفت کے بعد 9 ویں منزل سے کود کر اجتماعی خودکشی کر لی۔

    واقعے کے بعد بچیوں کا 8 صفحات پر مشتمل ایک نوٹ سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے والدین سے معذرت کرتے ہوئے اپنی گیمنگ سرگرمیوں کی تفصیل بیان کی ہے،نوٹ ایک جیب میں رکھی ڈائری میں تحریر کیا گیا تھا جو ہندی اور انگریزی میں لکھا گیا ہے، بچیوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پوری ڈائری ضرور پڑھیں کیونکہ اس میں لکھی ہر بات سچ ہے-

    نوٹ میں لکھا تھا کہ اس ڈائری میں جو کچھ بھی لکھا ہے وہ سب پڑھ لو کیونکہ یہ سب سچ ہے، ابھی پڑھو! مجھے بہت افسوس ہے ممی پاپا سوری، اس جملے کے ساتھ ایک روتا ہوا ایموجی بھی بنایا گیا تھا،یہ نوٹ پولیس نے تفتیش کے لیے اپنے قبضے میں لے لیا ہے بچیوں کے کمرے کی دیوار پر بھی ایک جملہ لکھا ہوا ملا کہ ’میں بہت، بہت اکیلی ہوں-

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق واقعے کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ 16 سالہ نشیکا، 14 سالہ پراچی اور 12 سالہ پاکھی اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت موبائل فونز پر گزارتی تھیں اور ایک کوریائی ٹاسک بیسڈ آن لائن گیمنگ ایپ کی عادی تھیں،جس کی لت انہیں کورونا وبا کے دوران لگی۔

    والد نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی بیٹیاں کھیل کے آخری مرحلے پر تھیں، مجھے کوئی اندازہ نہیں کہ یہ سب کیسے ہوا وہ آخری ٹاسک مکمل کر رہی تھیں اس گیم میں کل 50 ٹاسک تھے، اور میری 14 سالہ بیٹی اس کھیل کی لیڈر تھی، فیصلے کرتی تھی کہ کون سا کمانڈ مکمل کرنا ہے وہ ہمیشہ ایک ساتھ کھیلتی تھیں اور کسی کو شک نہیں ہونے دیا کہ وہ ایسا کر رہی ہیں،والد نے شک ظاہر کیا کہ بچیوں نے کھیل کے ایک ٹاسک کے تحت بالکونی سے چھلانگ لگانے کے لیے چھوٹی ٹو اسٹیپ سیڑھی استعمال کی ہے-

    ان کی گیم سے اس حد تک وابستگی تھی کہ انہوں نے اپنے لیے کوریائی نام بھی رکھے ہوئے تھے اور گیم میں دیے گئے ٹاسک بھی پورے کرتی تھیں نوٹ میں اس بات کے واضح شواہد ملے ہیں نوٹ میں لکھا تھا ’ہم کوریا کو چھوڑ نہیں سکتے، کوریا ہی ہماری زندگی ہے آپ ہمیں آزاد نہیں کر سکتے، ہم اپنی زندگی ختم کر رہے ہیں۔

    والد چیتن کمار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس گیم کے بارے میں علم نہیں تھا، اگر معلوم ہوتا تو وہ بچیوں کو ہرگز کھیلنے کی اجازت نہ دیتےجو کچھ ہوا وہ انتہائی خوفناک ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا کسی اور بچے کے ساتھ ہو، میں والدین سے اپیل کرتا ہوں کہ بچوں کو ویڈیو گیمز سے دور رکھیں۔‘

    بھارتی میڈیا کے مطابق، رہائشیوں نے رات کے سناٹے میں زور دار آواز سنی اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو سیل کیا اور لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیں۔

    پولیس سپرنٹنڈنٹ اتُل کمار سنگھ کے مطابق، واقعہ رات 12 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا اور فوری کارروائی کے باوجود بچیوں کو زندہ نہیں بچایا جا سکا،پولیس نے یہ واضح کیا ہے کہ ابھی یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ خودکشی کا براہِ راست تعلق آن لائن گیمنگ سے تھا تفتیش میں خاندان کے افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور بچیوں کے موبائل فونز اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے سائبر ماہرین کو بھی اس معاملے میں شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ آن لائن ایپ کے استعما ل اور ڈیجیٹل تعاملات کی جانچ کی جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر پولیس نمیش پٹیل کے مطابق کمزور تعلیمی کارکردگی اور مالی مسائل کے باعث بچیاں زیادہ تر گھر پر ہی رہتی تھیں حالیہ دنوں میں اہلِ خانہ نے موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندیاں عائد کردی تھیں، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف مقامی کمیونٹی بلکہ ملک بھر میں والدین اور نوجوانوں کے درمیان آن لائن سرگرمیوں اور ان کی ممکنہ خطرناک عادات کے بارے میں ایک مرتبہ پھر ایک فکری بحث کو جنم دیا ہےیہ اندوہ ناک حادثہ نیا نہیں بلکہ ماضی میں بھی بچوں اور نوجوانوں میں آن لائن گیمز کی لت یا خطرناک ٹاسکس کی وجہ سے المناک نتائج سامنے آ چکے ہیں۔

    ڈیجیٹل دنیا میں موجود کچھ گیمز اور چیلنجز محض تفریح نہیں بلکہ بچوں کی ذہنی صحت اور جان کے لیے سنگین خطرہ بن رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ماہرین بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ والدین بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر نظر رکھیں، ان سے مسلسل مکالمہ کریں، اور انہیں ایسی آن لائن سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بروقت آگاہی اور رہنمائی فراہم کریں۔

  • اگر راستے میں ایک ہندوستانی  اور ایک سانپ ملے، تو پہلے ہندوستانی کو مارو،سینئیر سفارتکار

    اگر راستے میں ایک ہندوستانی اور ایک سانپ ملے، تو پہلے ہندوستانی کو مارو،سینئیر سفارتکار

    ناروے کے سفارتکار نے جیفری ایپیسٹن فائلز میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام آنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب آپ کسی ہندوستانی اور سانپ سے ملیں تو پہلے ہندوستانی کو ماریں۔

    بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات کے حالیہ انکشاف نے پوری دنیا، خاص طور پرہندوستان میں ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے عوام کے لیے جاری کیے گئے 30 لاکھ صفحات پر مشتمل ان دستاویزات میں ناروے کے سابق بااثر سفارتکار ٹیرجے روڈ لارسن کا ایک ای میل سامنے آیا ہے، جس میں ہندوستانیوں کے خلاف انہوں نے تبصرہ کیا ہے-

    روس کے سرکاری میڈیا آر ٹی (RT) کے مطابق، 25 دسمبر 2015 کو ٹیرجے روڈ لارسن نے جیفری ایپسٹین کو ایک ای میل بھیجی تھی۔ یہ ای میل اس وقت بھیجی گئی جب ایپسٹین نے ایک ہندوستانی سیاستدان کا پیغام لارسن کو فارورڈ کیا تھا جواب میں لارسن نے ایک کہاوت استعمال کرتے ہوئے لکھا:کیا تم نے یہ کہاوت سنی ہے اگر راستے میں ایک ہندوستانی اور ایک سانپ ملے، تو پہلے ہندوستانی کو مارو۔

    ٹیرجے روڈ لارسن ناروے کے ایک بہت ہی بااثر سفارتکار رہے ہیں انہیں 1990 کی دہائی میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والی تاریخی ‘ اوسلو امن عمل ‘ کا مرکزی شخص سمجھا جاتا ہے۔ وہ اقوام متحدہ میں سفیر اور مشرق وسطی امن عمل کے خصوصی رابطہ کار جیسے بڑے عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ 2020 تک وہ انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ کے صدر تھے، لیکن ایپسٹین کے ساتھ ان کے مالی تعلقات کی خبر آنے کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیاتھا۔

    حال ہی میں جاری ہونے والے ان دستاویزات میں صرف لارسن ہی نہیں بلکہ کئی دیگر جگہوں پر بھی ہندوستان کا ذکر آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ایپسٹین ہندوستان ، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان پردے کے پیچھے اپنا اثر بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔

    جیفری ایپسٹین ایک امریکی فنانسر تھا، جس پر نابالغوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات تھے۔ 2019 میں جیل میں اس کی مشکوک موت کے بعد ہی اس کے بااثر روابط کی تحقیقات چل رہی ہیں۔ اب امریکی قانون کے تحت جاری کیے گئے ان دستاویزات میں دنیا کے بڑے رہنماؤں، صنعتکاروں اور مشہور شخصیات کے نام سامنے آ رہے ہیں جو کسی نہ کسی طرح ایپسٹین کے رابطے میں تھے۔

  • بھارتی گروہ کینیڈا سمیت  مختلف ممالک میں بھتہ خوری، بلیک میلنگ اور منظم جرائم میں ملوث

    بھارتی گروہ کینیڈا سمیت مختلف ممالک میں بھتہ خوری، بلیک میلنگ اور منظم جرائم میں ملوث

    بھارتی منظم جرائم پیشہ گروہ کینیڈا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں عوام کے جان و مال کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

    آسٹریلوی جریدے اسپیکٹیٹر آسٹریلیا کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کینیڈا، امریکا اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس بھتہ خوری، بلیک میلنگ اور منظم جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں ان گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث مقامی کمیونٹیز میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔

    اسپیکٹیٹر آسٹریلیا کے مطابق کینیڈا کے شہر سرے میں رواں سال جنوری سے اب تک بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے بھتہ خوری کے 35 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ صوبہ اونٹاریو میں گزشتہ تین برسوں کے دوران 1500 سے زائد بلیک میلنگ کیسز سامنے آ چکے ہیں، کینیڈا میں سرگرم بدنام زمانہ بھارتی بشنوئی گروہ منظم جرائم اور بھتہ خوری میں ملوث ہے بعض سکھ تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ گروہ بھارتی حکومت کی ایما پر کینیڈا میں خالصتان حامی کارکنوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    کینیڈین صحافیوں کے مطابق رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کی رپورٹس میں بھی متعدد بار یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت اپنے مفادات کے لیے ان جرائم پیشہ گروہوں کو استعمال کر رہی ہے۔

    عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ممالک کی خودمختاری کو نظرانداز کرتے ہوئے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا استعمال بھارت کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی کا باعث بن رہا ہے بھارتی شہریوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے بڑھتے واقعات میزبان ممالک کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں۔

  • شوہر کے مذاق نے خاتون کی جان لے لی

    شوہر کے مذاق نے خاتون کی جان لے لی

    بھارت میں ایک خاتون نے شوہر کے مزاحیہ انداز میں انہیں ’بندریا‘ کہنے پر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

    یہ افسوسناک واقعہ بھارت اترپردیش کے شہر لکھنؤ کے اندرا نگر علاقے میں پیش آیا،ابتدائی تحقیقات کے مطابق گھر کا ماحول خوشگوار تھا اور ہنسی مذاق جاری تھا۔ اسی دوران شوہر نے مزاحیہ انداز میں اپنی اہلیہ کو ’بندریا‘ کہہ دیا، جس سے تنو سنگھ شدید صدمے کا شکار ہو گئیں اور انہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ جس کے بعد پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر لاش قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی۔

    رپورٹس کے مطابق تنو سنگھ ماڈل بننے کی خواہشمند تھیں اور اپنے جسمانی حسن کے حوالے سے بہت حساس تھیں۔ وہ اپنے شوہر راہول سنگھ کے ساتھ اندرا نگر میں رہائش پذیر تھیں تنو کی بہن انجلی نے بتایا کہ بدھ کی شام خاندان والے سیتا پور میں ایک رشتہ دار کے گھر سے واپس آئے۔ گھر پہنچنے کے بعد سب لو گ ادھر ادھر بیٹھے خوشگوار ہنسی مذاق میں مصروف تھے، اسی دوران شوہر نے مذاقاً تنو کو ’بندریا‘ کہا، جس سے وہ شدید تکلیف میں مبتلا ہو گئیں اور غصے میں اپنے کمرے میں چلی گئیں۔

    ابتدائی طور پر خاندان کے افراد یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ جلد معمول پر آجائیں گی، اس لیے کسی نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی تقریباً ایک گھنٹے بعد، جب کھانے کے لیے بلایا گیا اور کوئی جواب نہ آیا، تو گھر والوں نے کمرے میں جا کر دیکھا کہ تنو کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی تنو اپنے کیریئر اور جسمانی حسن کے حوالے سے بہت حساس تھیں اور اسی وجہ سے شوہر کے مذاق کو برداشت نہیں کر پائیں، جس کا نتیجہ یہ افسوسناک واقعہ نکلا۔

    پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں معاملہ خاندان کے اندر ہلکی پھلکی جھڑپ اور مذاق کی وجہ سے دل برداشتگی کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے۔

  • بھارتی گلوکار اریجیت سنگھ کے ریسٹورنٹ میں کھانوں کی  حیران کن قیمت

    بھارتی گلوکار اریجیت سنگھ کے ریسٹورنٹ میں کھانوں کی حیران کن قیمت

    معروف بھارتی گلوکار اریجیت سنگھ کے آبائی شہر میں ایک ایسا ریسٹورنٹ قائم ہے جہاں معیاری اور بھرپور کھانا صرف 40 روپے میں دستیاب ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اریجیت سنگھ کا یہ ریسٹورنٹ ’ہیشل‘ بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد کے شہر جیا گنج میں واقع ہے، بتایا گیا ہے کہ یہ ریسٹورنٹ گلوکار کا خاندانی کاروبار ہے، جسے ان کے والد چلا رہے ہیں، اریجیت سنگھ کا ریسٹورنٹ ’ہیشل‘ اپنی نہایت کم قیمتوں اور لذیذ بھارتی کھانوں کی وسیع اقسام کے باعث خاصی شہرت رکھتا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اس ریسٹورنٹ میں معاشرے کے ایک مخصوص طبقے کو صرف 40 روپے میں کھانا فراہم کیا جاتا ہے، جن میں طلباء، مزدور اور بزرگ شہری شامل ہیں، یہ وہ افراد ہیں جنہیں مناسب قیمت پر قابلِ اعتماد اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی اشد ضرورت ہوتی ہے، ریسٹورنٹ کے مینیو میں پنجابی اور بنگالی کھانے شامل ہیں۔ سبزیوں پر مشتمل مکمل تھالی تقریباً 40 روپے میں دستیاب ہے، جبکہ طلباء کے لیے اس کی قیمت مزید کم کر کے صرف 30 روپے مقرر کی گئی ہے۔