اسلام آباد میں منعقدہ ’سعودی کمپنی فارمیشن اور بزنس ایکسٹینشن سمٹ 2026‘ کے دوران پاکستان کی 12 کمپنیوں اور سعودی عرب کے الراعی گروپ کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے، جن کے تحت پاکستانی کمپنیاں سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور کاروبار کا آغاز کریں گی۔
اسلام آباد میں الراعی گروپ کے زیر اہتمام منعقدہ ’سعودی کمپنی فارمیشن اور بزنس ایکسٹینشن سمٹ 2026‘ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا کہ سعودی وژن 2030 پاک سعودی تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا اہم موقع فراہم کر رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات ایمان، باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، جبکہ سعود ی وژن 2030 نےعالمی سرمایہ کاری اورنجی شعبے کےفروغ کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں،جن سےپاکستانی کاروباری برادری بھرپور استفادہ کرسکتی ہے۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے الراعی گروپ اور مملکت سعودی عرب کو کامیاب سمٹ کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ایک اہم پیش رفت ہے انہوں نے یقین دلایا کہ سینیٹ اور حکومت پاکستان معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔
الراعی گروپ کے چیئرمین بلال ایم زبیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وژن 2030 کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 100 فیصد ملکیتی حقوق، آسان بینکاری سہولیات اور کم از کم سرمائے کی شرط کے بغیر کاروبار شروع کرنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے پاکستان کی کوئی بھی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی یا پارٹنرشپ فرم، جو کم از کم ایک سال سے فعال ہو، مطلوبہ دستاویزات جمع کرا کے سعودی عرب کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کا حصہ بن سکتی ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نجی شعبے کے درمیان روابط مضبوط بنانے پر زور دیا اور پاک سعودی تجارتی تعلقات کے فروغ میں الراعی گروپ کے کردار کو سراہاسمٹ میں سفارت کاروں، سرمایہ کاروں اور ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کی نمایاں کامیابی پاکستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 12 ممتاز کمپنیوں اور سعودی عرب کے الراعی گروپ کے درمیان مفاہمتی یادد ا شتوں (ایم او یوز) پر دستخط تھے، جن کے تحت پاکستانی کمپنیاں سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور اپنے کاروبار کا آغاز کریں گی شرکا نے اس پیشرفت کو دو نوں برادر ممالک کے درمیان طویل المدتی اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔









