ہر چار میں سے ایک امریکی سمجھتا ہے کہ وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے عشائیے میں ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملہ جعلی تھا،امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اس شک میں مبتلا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے حالیہ قاتلانہ حملے واقعی حقیقت تھے یا انہیں محض سیاسی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ایک ڈرامے کے طور پر پیش کیا گیا۔
امریکا میں خبروں اور معلوماتی ویب سائٹس کی ریٹنگ جاری کرنے والے ادارے نیوز گارڈ نے 28 اپریل سے 4 مئی تک سروے جاری کردیا سروے میں ایک تہائی ڈیموکریٹس نے حصہ لیا سروے میں 18 سے 29 سال کی عمر کے امریکیوں نے قاتلانہ حملہ جعلی قرار دیا ، جبکہ عمر رسیدہ امریکی سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ پر حملہ اصلی تھا۔
‘نیوز گارڈز ریئلٹی چیک‘ کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے اس سروے کے مطابق 30 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں ٹرمپ پر ہونے والے تین حملوں میں سے کم از کم ایک واقعہ پہلے سے طے شدہ یا ’اسٹیجڈ‘ تھا یہ سروے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ ہفتے قبل ہی وائٹ ہاؤس کے نمائندگان کے عشایئے کے دوران ایک مسلح شخص نے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پکڑ لیا تھا۔
نیوز گارڈ کی سینئر ایڈیٹر صوفیہ روبنسن کے مطابق، اس حملے کے ایک ہفتے کے اندر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایسی پوسٹس کی گئیں جنہیں 9 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا گیا، حالانکہ ان دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھےسروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ 18 سے 29 سال کے نوجوان اور ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی ان حملوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والوں میں سب سے آگے ہیں۔
ڈیموکریٹس میں سے 42 فیصد کا خیال ہے کہ جولائی 2024 میں پنسلوانیا میں ہونے والا ’بٹلر حملہ‘ ایک ڈرامہ تھا، جبکہ 34 فیصد نے وائٹ ہاؤس کے ڈنر والے واقعے کو جعلی قرار دیا جبکہ اب ٹرمپ کی اپنی پارٹی یعنی ریپبلکنز کے اندر بھی شک پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے، جہاں 13 فیصد ووٹرز نے حالیہ حملے کو اسٹیجڈ قرار دیا۔
صوفیہ روبنسن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی تحریک کے اندر کچھ دراڑیں پڑ رہی ہیں، جس کی وجہ ایران کے ساتھ جنگ یا ایپسٹین فائلوں جیسے معاملات ہو سکتے ہیں، جس سے ان کے اپنے حامی بھی اب ان سازشی نظریات پر یقین کرنے لگے ہیں“۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے ان لوگوں کو ”بیمار“ قرار دیا جو ان حملوں کو ڈرامہ قرار دے رہے ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین اور حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے ٹھوس ثبوت موجود ہیں، جیسے کہ بٹلر حملے میں حملہ آور مارا گیا اور وفاقی اداروں نے ملزمان کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کی۔
میامی یونیورسٹی کے پروفیسر جوزف اسکنکسی کے مطابق جن لوگوں کا عالمی نقطہ نظر سازشی ہوتا ہے، انہیں ہر کونے میں سائے نظر آتے ہیں،ان کا ماننا ہے کہ چاہے حکومت کتنے ہی ثبوت پیش کر دے، ایسے نظریات کا مکمل خاتمہ مشکل ہے، جیسے کہ جان ایف کینیڈی کے قتل یا ویکسین کے بارے میں اب بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور پکڑا گیا تھا بعد ازاں ملزم پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔









