Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • جنگ و جدل کے بجائے ’امن کو ایک اور موقع‘ دیں، شہباز شریف

    جنگ و جدل کے بجائے ’امن کو ایک اور موقع‘ دیں، شہباز شریف

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ میں تازہ کشیدہ صورت حال اور تشدد کی نئی لہر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ و جدل کے بجائے ’امن کو ایک اور موقع‘ دیں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک اہم اور اسٹرٹیجک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل اور ایران کا نام لیے بغیر مشرقِ وسطیٰ کی تازہ نازک صورتحال کا احاطہ کیا،وزیراعظم نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ و جدل کے بجائے ’امن کو ایک اور موقع‘ دیں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں تازہ کشیدگی اور تشدد اس بات کی واضح اور خطرناک یاددہانی ہے کہ ایک ’غیر مستحکم جنگ بندی‘ کتنے سنگین خطرات اور ناقا بلِ برداشت نتائج کا باعث بن سکتی ہے انہوں نے بین الاقوامی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عارضی اور کمزور اقدامات مستقل امن کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

    وزیراعظم نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ثالثی کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اس بحران سے لاتعلق نہیں رہ سکتا پاکستان اپنے برادر ممالک اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تنازع کے مستقل، پرامن اور سفارتی حل کے لیے سنجیدہ، تعمیری اور مسلسل کوششیں کر رہا ہے،جب ایک منصفا نہ اور پائیدار حل کے حصول کا مقصد قریب دکھائی دے رہا ہو، تو ایسے نازک وقت میں کشیدگی کا اچانک بڑھ جانا اب تک کی تمام سفارتی کوششوں اور امن کی امیدوں کو یکسر نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ حالیہ بحران محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سیکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے پاکستا ن روایتی طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل، خاص طور پر مسئلہ فلسطین کے پائیدار اور دو ریاستی حل کا حامی رہا ہے۔

    شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی تمام متعلقہ عالمی اور علاقائی طاقتوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور جاری سفارتی کوششوں کو کامیا ب ہونے کا پورا موقع فراہم کریں تشدد، بارود اور تباہی کے راستے کے بجائے صرف اور صرف ’امن اور سفارت کاری کی راہ‘ اختیار کی جانی چاہیے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ یہی واحد راستہ ہے جو خطے میں حقیقی استحکام اور دیرپا امن کے حصول کی روشن امید فراہم کرتا ہے۔

    وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی اور علاقائی امن کے لیے اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ تمام فریقین اپنے اپنے تنازعات کے حل کے لیے میز پر بیٹھیں، مذاکرات کریں اور سفارت کاری کو ہر دوسرے راستے پر ترجیح دیں تاکہ مزید معصوم انسانی جانوں کے ضیاع اور بڑے پیما نے پر ہونے والی مالی و جغرافیائی تباہی کا راستہ روکا جا سکے۔

  • گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات

    گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے گورنر ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری، ترقیاتی تعاون اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا میں معدنیات، سیاحت، توانائی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا گیا، جبکہ صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی تعاون بڑھانے کے امور بھی زیر بحث آئےفریقین کے درمیان قبائلی اضلاع اور خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی اسکالرشپس کے فروغ پر بھی گفتگو ہوئی اس موقع پر پاکستان اور امریکا کے درمیان خیبرپختونخوا میں ترقیاتی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔

    ملاقات میں توانائی، سیاحت اور انسانی وسائل کی ترقی کے نئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ صوبے میں پائیدار ترقی کے لیے نجی شعبے اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے کردار کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا،ملاقات میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔

    اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے کہاکہ صوبہ قیمتی اور نایاب معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور یہاں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں انہوں نے امریکی سرمایہ کاروں کو معدنیات، سیاحت، توانائی اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔

    ملاقات میں خیبرپختونخوا کے نوجوانوں میں موجود کھیلوں کے ٹیلنٹ کے فروغ پر بھی بات چیت ہوئی، گورنر نے بتایا کہ خیبر کرکٹ لیگ کا انعقاد جولائی میں کیا جا رہا ہے فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حجم میں اضافے کے لیے تجارتی وفود کا تبادلہ ناگزیر ہے۔

    امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو جدید تربیت اور ہنر کی فراہمی میں دلچسپی کا اظہار کیا انہوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی پر گورنر خیبرپختونخوا کو مبارکباد بھی دی اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو زرداری اور پارٹی کارکنان کی مؤثر انتخابی مہم کے باعث پیپلز پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی۔

    ملاقات کے اختتام پر گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیا۔

  • بھارت کی جانب سے   ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، فرانسیسی اخبار

    بھارت کی جانب سے ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، فرانسیسی اخبار

    فرانس کے اخبار ’لی مونڈے‘ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی کو جنوبی ایشیا کے امن اور آبی سلامتی کے لیے ’خطرناک ترین موڑ‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کو بڑے خطرے اورتشویش سے آگاہ کیا ہے۔

    پیر کو اخبار نے اپنی شائع شدہ ایک تفصیلی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا یہ آبی تنازع اب صرف ان 2 جوہری ممالک تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے بھیانک اثرات پورے خطے کے امن، معیشت اور ماحولیات پر مرتب ہو سکتے ہیں عالمی مبصرین اس رپورٹ کو خطے میں ابھرتے ہوئے ایک نئے بحران کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔

    فرانسیسی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اپریل 2025 میں رونما ہونے والے ’پہلگام واقعے‘ کے بعد نئی دہلی نے اپنے رویے میں جارحانہ تبدیلی لائی اور پانی کو ایک سفارتی و سیاسی دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ کوئی ایسا دستاویز نہیں جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کر سکے، اس تاریخی معاہدے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم صرف اور صرف دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) کی باہمی رضامندی اور دستخطوں سے ہی ممکن ہے عالمی ثالثی عدالت‘ کا مؤقف اس معاملے پر بالکل واضح ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی مکمل طور پر مؤثر، قانونی اور نافذ العمل ہے اور کوئی بھی ملک بین الاقوامی قوانین کو پسِ پشت ڈال کر اس سے انحراف نہیں کر سکتا۔

    اخبار نے بھارتی ہٹ دھرمی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے پاکستان کو ’ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا‘ (پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار) فراہم نہ کرنا بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے بروقت سیلابی انتباہ جاری کرنا اور آبی خطرات کا مؤثر انتظام کرنا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ ستمبر 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہوا تھا، جس کے تحت 3 مشرقی دریا بھارت اور 3 مغربی دریا پاکستان کو دیے گئے تھے۔ تاریخی طور پر یہ معاہدہ جنگوں کے دوران بھی برقرار رہا، لیکن حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کی تعمیر نے شدید قانونی اور تکنیکی تنازعات کھڑے کر دیے ہیں، جنہیں پاکستان اپنے آبی حقوق پر ڈاکہ تصور کرتا ہے۔

    فرانسیسی اخبار نے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے کسانوں اور مقامی آبادی پر پڑنے والے تباہ کن اثرات پر بھی روشنی ڈالی،رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی کے غیر متوقع اخراج یا بندش کے باعث اچانک آنے والے سیلابوں نے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور زرعی زمینوں پر ریت کی موٹی تہیں جم جانے سے وہ بنجر ہو رہی ہیں خاص طور پر ’دریائے چناب‘ کے کناروں پر آباد ہزاروں خاندانوں کو اپنے مویشیوں، تیار فصلوں اور گھریلو املاک کے ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے ایک بڑا انسانی اور معاشی المیہ جنم لے رہا ہے۔

    اخبار’لی مونڈے‘نے اس حساس معاملے پر پاکستان کے اصولی اور قانونی مؤقف کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام آباد نے واضح کر دیا ہے کہ پانی کے قدرتی بہاؤ کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی بھارتی کوشش کو ایک ‘سنگین اشتعال انگیزی’ اور جارحیت تصور کیا جائے گااخبار نے بھارتی سیاسی قیادت کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پانی جیسے اہم قدرتی وسیلے کو سیاست کی نذر کرنے کی بدترین مثال قرار دیا، جبکہ دوسری طرف پاکستان کی جانب سے بھارت کی ان دھمکیوں کو ‘واٹر ٹیررازم’ (آبی دہشت گردی) کا نام دیے جانے کے مؤقف کو بھی عالمی منظر نامے پر پیش کیا ہے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خدشات محض روایتی سیاسی بیان بازی نہیں ہیں، بلکہ یہ براہِ راست انسانی حقوق، زراعت، غذائی تحفظ اور ملک کی بقا سے جڑے ہوئے ہیں یہ حقیقت انتہائی اہم ہے کہ پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ زراعت اور آبپاشی کا پورا نظام دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر انحصار کرتا ہے چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس لیے ان دریاؤں کے پانی میں کوئی بھی غیر قانونی تبدیلی پوری ملکی معیشت کو زمین بوس کر سکتی ہے اور کروڑوں انسانوں کو قحط سالی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

    اس جیو پولیٹیکل تنازع کا ایک اور دلچسپ اور اہم رخ پیش کرتے ہوئے ’لی مونڈے‘ نے نشاندہی کی ہے کہ جو سلوک بھارت پاکستان کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے، خود بھارت کو بھی بعینہ اسی قسم کے خطرات کا سامنا ہے بھارت کو بالائی علاقے کے ملک چین کی جانب سے پانی کے دباؤ کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں اور اسے ’دریائے برہم پترا‘ کے حوالے سے بالکل وہی تشویش درپیش ہے جو پاکستان کو دریائے سندھ کے طاس کے بارے میں ہے اگر بھارت یکطرفہ اقدامات کی روایت قائم کرتا ہے، تو وہ چین کے ہاتھوں اپنے ہی جال میں پھنس سکتا ہے۔

    اخبار نے خبردار کیا ہے کہ آبی تنازع اب محض 2 ممالک کا دوطرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ اب پوری علاقائی سلامتی اور ماحولیاتی استحکام کا ایک بڑا معاملہ بن چکا ہے‘موسمیاتی تبدیلی’، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلاؤ اور دونوں ممالک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پانی کے دستیاب وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے ان حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سائنسی اور سفارتی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

    انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا شفاف اور بروقت تبادلہ ناگزیر ہے، ورنہ یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی آبی قوانین اور زیریں دھارے کے ممالک کے حقوق کے لیے ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن نظیر قائم کر دیں گے عالمی سطح پر اب پانی کو جنگ، سیاسی دباؤ یا انتقامی کارروائی کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرنے کے پاکستانی مؤقف کو بھرپور توجہ اور تائید حاصل ہو رہی ہے۔

  • پاکستان نے 737 بھارتی سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کر دیے

    پاکستان نے 737 بھارتی سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کر دیے

    پاکستان ہائی کمیشن نے بھارت سے تعلق رکھنے والے 737 سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کر دیے ہیں تاکہ وہ پاکستان میں منعقد ہونے والی گرو ارجن دیو جی کی سالانہ تقریبات میں شرکت کر سکیں۔

    نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے مطابق یہ مذہبی تقریبات 10 سے 19 جون 2026 تک پاکستان میں منعقد ہوں گی، جن میں شرکت کے لیے بھارتی سکھ یاتری مختلف مقدس مقامات کی زیارت بھی کریں گے ویزوں کا اجرا مذہبی سیاحت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے عزم کے تحت کیا گیا ہے، تاکہ سکھ برادری اپنے مذہبی فرائض اور رسومات کی ادائیگی کے لیے پاکستان کا سفر کر سکے۔

    پاکستان کی جانب سے بھارتی سکھ یاتریوں کو بابا گورو نانک کے جنم دن کی تقریبات کے موقع پر بھی ویزے جاری کیے جاتے ہیں، اور ان کی بھرپور مہمان نوازی کی جاتی ہے۔

  • پاکستان ہاکی فیڈریشن  اور پارکو کے درمیان ہاکی کوچز کی تربیت کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    پاکستان ہاکی فیڈریشن اور پارکو کے درمیان ہاکی کوچز کی تربیت کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    پاکستان ہاکی فیڈریشن اور پاکستان عرب ریفائنری کمپنی (پارکو) کے درمیان ہاکی کوچز کی تربیت کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو گئے۔

    تقریب میں صدر پی ایچ ایف محی الدین وانی اور منیجنگ ڈائریکٹر پارکو مرتضیٰ قریشی نے ایم او یو پر دستخط کیے جبکہ وفاقی سیکرٹری پیٹرولیم عابد یعقوب اور ذیشان نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پی ایچ ایف محی الدین وانی نے کہا کہ قومی کھیل کی ترقی اور بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کوچز کی تربیت کا پروگرام ملک بھر میں شروع کیا جائے گا تاکہ جدید تقاضوں کے مطابق کوچنگ کا معیار بہتر بنایا جا سکے۔محی الدین وانی نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن جونیئر ٹیموں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور ہاکی کو اس کا کھویا ہوا مقام دلانے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

    اس موقع پر سیکرٹری پیٹرولیم عابد یعقوب نے کہا کہ پارکو ایک اچھے مقصد کے لیے قومی کھیل کی سرپرستی کر رہی ہےامید ہے کہ مشترکہ کاوشوں سے پا کستان ہاکی دوبارہ عالمی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی شناخت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پی ایچ ایف محی الدین وانی نے کہا کہ قومی ٹیم کی پرو لیگ اور ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کی گئی ہے. بہتری کا عمل جاری ہے اور موجودہ خامیوں کو دور کرنے کے لیے مسلسل کام کیا جا رہا ہے، بہتر نتائج کیلئے پرامید ہیں، کوریا کی ہاکی ٹیم کو پاکستان مدعو کیا جا رہا ہے اور کورین ٹیم پاکستان کی سینئر اور جونیئر ٹیموں کے خلاف میچز کھیلے گی، جس سے قومی کھلاڑیوں کو قیمتی بین الاقوامی تجربہ حاصل ہوگا۔

  • فلپائن میں 7.8 شدت کا زلزلہ، 32 افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ

    فلپائن میں 7.8 شدت کا زلزلہ، 32 افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ

    ، 7.8 شدت کے زلزلے اور اس کے بعد آنے والی سونامی نے جنوبی فلپائن میں تباہی مچا دی، زلزلے کے نتیجے اب تک کم از کم 32 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے جب کہ درجنوں افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

    جنوبی فلپائن کا جزیرہ منڈاناؤ پیر کی صبح 7.8 شدت کے زلزلے سے لرز اٹھا، زلزلے کا مرکز سرانگانی صوبے کے ساحل سے تقریباً 32 کلومیٹر دور سمندر میں تھا تاہم اس کے اثرات دور دور تک محسوس کیے گئےبین الاقوامی اداروں کے مطابق زلزلے کی گہرائی تقریباً 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث جھٹکو ں کی شدت سطح زمین پر زیادہ محسوس کی گئی۔

    زلزلے کے فوری بعد ایک میٹر بلند سونامی کی لہریں ساحلی علاقوں سے ٹکرا گئیں، جس کے باعث خوف و ہراس پھیل گیا، زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ شہری خوفزدہ ہو کر گھروں، دفاتر اور تعلیمی اداروں سے باہر نکل آئے جب کہ قیامت خیز زلزلے کے جھٹکوں سے کئی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور درجنوں دیگر املاک کو بھی شدید نقصان پہنچازلزلے کے باعث اب تک کم از کم 32 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 200 سے زائد افراد زخمی ہیں جب کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

    زلزلے کے بعد فلپائن، انڈونیشیا، جاپان اور آسٹریلیا میں سونامی الرٹ جاری کردیا گیا جب کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں یہ رواں سال دنیا کا سب سے طاقتور زلزلہ ہے، جو صرف 8 ماہ قبل آنے والے فلپائن کے ایک اور بڑے زلزلے کے بعد پیش آیا ہے۔

    دوسری جانب پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر نے زلزلے کے بعد سونامی وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں کے دوران فلپائن، انڈونیشیا، پلاؤ، تائیوان اور پاپوا نیو گنی کے بعض ساحلی علاقوں میں سمندر کی غیر معمولی لہریں پیدا ہو سکتی ہیں۔

    حکام متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں جب کہ امدادی ٹیمیں بھی الرٹ کر دی گئی ہیں زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکیں اور حکام کی جانب سے مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان ریلویز کا مزید 15 ٹرینیں آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

    پاکستان ریلویز کا مزید 15 ٹرینیں آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

    پاکستان ریلویز نے مزید 15 ٹرینیں آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان ریلویز نے ایک بار پھر پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر ریل گاڑیاں چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ اشتہار بھی جاری کر دیا گیا ہے لاہور میں ٹرینوں کی نیلامی 16 جون کو ریلوے ہیڈکوارٹر میں کی جائے گی جہاں اوپن بولی کے ذریعے عمل مکمل کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ٹرینوں کی نیلامی میں حصہ لینے کے لیے بعض نجی کمپنیوں کو اہل قرار دیا گیا ہے، جن ٹرینوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں ہزارہ ایکسپریس، عوام ایکسپریس، قراقرم ایکسپریس، کراچی ایکسپریس، ملت ایکسپریس، فرید ایکسپریس، بہاؤالدین زکریا ایکسپریس، راوی ایکسپریس، لاثانی ایکسپریس، تھل ایکسپریس، میانوالی ایکسپریس، سکھر ایکسپریس، نارووال پسنجر، سیالکوٹ ایکسپریس اور فیض احمد فیض پسنجر شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بعض ٹرینوں کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے اوپن نیلامی کی گئی تھی، تاہم اس عمل میں محدود دلچسپی دیکھنے میں آئی ذرائع کے مطابق صرف چند ٹرینوں کی بولی دی گئی جبکہ دیگر ٹرینوں کے لیے کسی کمپنی نے دلچسپی ظاہر نہیں کی ایک کمپنی نے میانوالی ایکسپریس حاصل کرنے کے بعد کچھ عرصے میں ہی مختلف وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اسے واپس کر دیا تھا۔

  • آزاد کشمیر سے متعلق تارکین وطن اور برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے بیانات مسترد

    آزاد کشمیر سے متعلق تارکین وطن اور برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے بیانات مسترد

    اسلام آباد: پاکستان نے برطانیہ میں مقیم بعض تارکین وطن کے آزادکشمیر پر غیرذمہ دارانہ بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے-

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور غیر ملکیوں کے بیانات غیر ذمہ دارانہ اور غلط ہیں،پاکستان اور آزاد کشمیر کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کیا جائے یہ افراد اپنے ملک کی مثبت ترقی میں کردار ادا کریں،پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام کرتی ہیں پاکستان بعض برطانوی اراکین پارلیمنٹ کےغیر ضروری بیانات اور سوالات کا بھی نوٹس لیتا ہے، یہ بیانات برطانوی اراکین پارلیمنٹ کے اس مسئلے کے تاریخی پس منظر سے عدم واقفیت کے عکاس ہیں، نوآبادیاتی دور کی سوچ رکھنے والوں کو یاد دلانا ضروری ہے پاکستان خودمختار اور جمہوری ریاست ہے ، پاکستان دیگرممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر یقین رکھتا ہے، پاکستان دوسروں سے بھی اسی طرز عمل کی توقع کرتا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور آزاد کشمیر حکومتیں شہریوں کے پرامن اجتماع کا احترام کرتے ہیں، آزادی اظہار اور جمہوری عمل میں شرکت کے آئینی حقوق کو بھی مکمل طور پر تسلیم اور ان کا احترام کرتے ہیں توڑپھوڑ،عوامی خدمات خصوصاً اسپتالوں کو نقصان پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں، بے گناہ شہریوں یا قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا قتل بھی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ پاکستان برطانوی حکومت سے مطا لبہ کرتا ہےکہ کالعدم تنظیموں کی حمایت کرنے والوں کو باز رہنےکی تلقین کرے، برطانوی حکومت ایسے افراد کو جمہوری عمل، عدالتی فیصلوں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرنے کی ہدایت دے، آزاد کشمیر اورپاکستان کے آئین، جمہوری اقدار، عدالتی فیصلوں اور قانون کی بالادستی کی ضمانت دیتے ہیں۔

  • تیزاب گردی کیس:سپریم کورٹ نے مجرم عبدالمنان کی کم عمری کی بنیاد پر نرمی کی اپیل مسترد کر دی،عمر قید کی سزا برقرار

    تیزاب گردی کیس:سپریم کورٹ نے مجرم عبدالمنان کی کم عمری کی بنیاد پر نرمی کی اپیل مسترد کر دی،عمر قید کی سزا برقرار

    سپریم کورٹ نے تیزاب گردی کے مجرم عبدالمنان کی کم عمری کی بنیاد پر نرمی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ دے دیا، کہا کہ عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فروخت پر مکمل پابندی لگائی جائے، حکومت تیزاب کے متاثرین کے لیے "قومی بحالی فنڈ” قائم کرے۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے سماعت کی کیس کا 13صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے تحریر کیا فیصلے میں عدالت نے فیصل آباد کی خاتون اقرا پروین پر تیزاب پھینکنے والے عبدالمنان کی درخواست خارج کردی سپریم کورٹ نے مجرم عبدالمنان کی عمر قید کا فیصلہ برقرار رکھا، عدالت کا متاثرہ خاتون کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دے دیا۔

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ وحشیانہ اور پہلے سے منصوبہ بندی کیے گئے جرم میں کم عمری کی ڈھال استعمال نہیں ہوسکتی، تیزاب کا حملہ قتل سے بھی زیادہ ہولناک جرم ہے، قتل انسان کو ایک بار ختم کرتا ہے، تیزاب کا شکار شخص روز مرتا اور "زندہ لاش” بن جاتا ہے، سپریم کورٹ نے مجرم عبد المنان کو متاثرہ لڑکی کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

    عدالت نے ہائی کورٹس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ تیزاب گردی کے کیسز کا ٹرائل ہر صورت 4 ماہ میں مکمل کیا جائے، عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فرو خت پر مکمل پابندی لگائی جائے، تیزاب کی خرید و فروخت کے لیے بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل سسٹم قائم کیا جائے، تیزاب خریدنے والے کا نام، شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک (انگوٹھے کا نشان) لینا لازمی قرار دیا جائے، حکومت تیزاب کے متاثرین کے لیے "قو می بحالی فنڈ”(National Acid Survivors’ Rehabilitation Fund) قائم کرے، تیزاب حملے کے مستقل متاثرین کو معذوری سرٹیفکیٹ اور سرکاری نوکریوں میں کوٹا دیا جائے، ہائی کورٹس تیزاب گردی کے کیسز کی خود نگرانی کریں، متاثرین کو مزید ذہنی اذیت سے بچانے کے لیے تیز رفتار ٹرائل ناگزیر ہے۔

    عدالت نے فیصلے میں لکھاکہ متاثرین کی پلاسٹک سرجری اور نفسیاتی علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے، مستقل معذور یا بیروزگار ہو جانے والے متاثرین کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے، تیزاب کے حملے سے شدید متاثرہ افراد کو باقاعدہ "معذوری سرٹیفکیٹ” جاری کیے جائیں، متاثرین کو سرکاری نوکریوں، تعلیمی اداروں اور فلاحی اسکیموں میں خصوصی کوٹہ دیا جائے، تیزاب گردی کے متاثرین کی سوشل ڈیتھ سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی اور سما جی بحالی کے اقدامات کرے، تیزاب گردی کے متاثرین کے معاشی تحفظ کیلئے ماہانہ معاوضہ مقرر کیا جائے، قومی بحالی ہدایات مرتب کی جائیں جن میں متاثرین کی تاعمر علاج و بحالی مختص فنڈز سے ہوسکے۔

    عدالت نے رجسٹرار کو فیصلے کی کاپی تمام ہائیکورٹس کو بھجوانے کا حکم دے دیا سپریم کورٹ نے کہا فیصلے کی کاپی سیکریٹری قانون، چیئرمین قانون و انصاف کمیٹی، تمام صوبائی محکمہ قانون کو بھجوائی جائیں، فیصلے کی کاپی اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو بھیجی جائیں۔

  • عوام کو دھوکہ دینے والے فراڈیوں کے اب اخبارات میں تصویر کے ساتھ اشتہار دیں گے،چئیرمین نیب

    عوام کو دھوکہ دینے والے فراڈیوں کے اب اخبارات میں تصویر کے ساتھ اشتہار دیں گے،چئیرمین نیب

    چئیرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل(ر) نذیر احمد نے کہا کہ رئیل سٹیٹ مافیا کیلئے بڑے مہذب الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں حالانکہ یہ سخت سے سخت ترین سزا کے مستحق ہیں یہ میرے ذاتی دشمن ہیں یہ قانون کی گرفت میں آئیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق چئیرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل(ر) نذیر احمد نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا بزنس کمیونٹی کو وہ مقام اور حیثیت نہیں دیا گیا جو ان کا حق ہے مجھے 20 کیسز چیمبز یا بزنس فورمز سے ملے تھے اور الحمد اللہ 20 میں سے 19 کیسز ختم کرادیئے ہیں،لاہور کی آدھی رنگ روڈ سرکاری زمین پرائیوٹ لوگوں کو دے کر پھر ان سے زمین حاصل کی گئی، 18 ارب ڈالر کی اکانومی صوبہ پنجاب میں جنریٹ کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ علامتی ایم او یوز نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہوں عوام کو دھوکہ دہی دینے والے فراڈیوں کے اب اخبارات میں تصویر کے ساتھ اشتہار دیں گے وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں ہوں گے رئیل اسٹیٹ میں بھی نیب نے ایک جامع لائحہ عمل بنایا ہے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی ریفارمز لانے جا رہے ہیں رئیل اسٹیٹ کی ٹرانزیکشن تین لوگوں کے درمیان ہو گی پراپرٹی کی کوئی بھی ڈیل کیش پر نہیں ہو گی چار سے ماہ پانچ کے بعد فائل کی کوئی اوقات نہیں ہو گی۔

    چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ ہر پلاٹ پر بار کوڈ والا نمبر ہوگا کوئی فائل کی دھوکہ دہی نہیں دے سکے گا رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں تمام منظوریاں ایک ہی چھت تلے ملیں گی نیب کا ڈائریکٹر لیول کا بندہ ریگولیٹری بورڈ میں شامل ہو گا 15 ہزار ارب روپے کی ریکوری ہم نے3 سالوں میں کی 1999 سے 2023 تک 880 ارب روپے کی ریکوری کی گئی ہم نے تین سال میں یہ ریکوری کو15 ہزار ارب روپے پر لے گئے ہیں رئیل سٹیٹ مافیا کیلئے بڑے مہذب الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں حالانکہ یہ سخت سے سخت ترین سزا کے مستحق ہیں یہ میرے ذاتی دشمن ہیں یہ قانون کی گرفت میں آئیں گے۔