چئیرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل(ر) نذیر احمد نے کہا کہ رئیل سٹیٹ مافیا کیلئے بڑے مہذب الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں حالانکہ یہ سخت سے سخت ترین سزا کے مستحق ہیں یہ میرے ذاتی دشمن ہیں یہ قانون کی گرفت میں آئیں گے۔
تفصیلات کے مطابق چئیرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل(ر) نذیر احمد نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا بزنس کمیونٹی کو وہ مقام اور حیثیت نہیں دیا گیا جو ان کا حق ہے مجھے 20 کیسز چیمبز یا بزنس فورمز سے ملے تھے اور الحمد اللہ 20 میں سے 19 کیسز ختم کرادیئے ہیں،لاہور کی آدھی رنگ روڈ سرکاری زمین پرائیوٹ لوگوں کو دے کر پھر ان سے زمین حاصل کی گئی، 18 ارب ڈالر کی اکانومی صوبہ پنجاب میں جنریٹ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ علامتی ایم او یوز نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہوں عوام کو دھوکہ دہی دینے والے فراڈیوں کے اب اخبارات میں تصویر کے ساتھ اشتہار دیں گے وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں ہوں گے رئیل اسٹیٹ میں بھی نیب نے ایک جامع لائحہ عمل بنایا ہے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی ریفارمز لانے جا رہے ہیں رئیل اسٹیٹ کی ٹرانزیکشن تین لوگوں کے درمیان ہو گی پراپرٹی کی کوئی بھی ڈیل کیش پر نہیں ہو گی چار سے ماہ پانچ کے بعد فائل کی کوئی اوقات نہیں ہو گی۔
چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ ہر پلاٹ پر بار کوڈ والا نمبر ہوگا کوئی فائل کی دھوکہ دہی نہیں دے سکے گا رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں تمام منظوریاں ایک ہی چھت تلے ملیں گی نیب کا ڈائریکٹر لیول کا بندہ ریگولیٹری بورڈ میں شامل ہو گا 15 ہزار ارب روپے کی ریکوری ہم نے3 سالوں میں کی 1999 سے 2023 تک 880 ارب روپے کی ریکوری کی گئی ہم نے تین سال میں یہ ریکوری کو15 ہزار ارب روپے پر لے گئے ہیں رئیل سٹیٹ مافیا کیلئے بڑے مہذب الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں حالانکہ یہ سخت سے سخت ترین سزا کے مستحق ہیں یہ میرے ذاتی دشمن ہیں یہ قانون کی گرفت میں آئیں گے۔
