Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • امریکا نے مہنگے جاسوس ڈرون کی آبنائے ہرمز میں تباہ ہونے کی تصدیق کردی

    امریکا نے مہنگے جاسوس ڈرون کی آبنائے ہرمز میں تباہ ہونے کی تصدیق کردی

    امریکی نیوی نے خلیج فارس میں اپنے جدید اور انتہائی مہنگے جاسوس ڈرون کی تباہی کی تصدیق کردی-

    ایرانی نیوز ایجنسی ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق امریکی نیوی کے مطابق MQ-4C ٹرائٹن نامی بغیر پائلٹ نگرانی کرنے والا طیارہ 9 اپریل کو خلیج فارس کے علاقے میں تباہ ہوا، حکام نے اس واقعے کو حادثہ قرار دیا ہے، تاہم اس کے اسباب کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    ڈرون کے اچانک آن لائن فلائٹ ٹریکنگ سسٹمز سے غائب ہونے کے بعد متعدد ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اسے ایرانی فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا، اگرچہ اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، لیکن واقعے نے خطے میں کشیدگی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

    ایم کیو-4 سی ٹرائٹن ایک انتہائی جدید اور قیمتی ڈرون ہے، جس کی مالیت تقریباً 23 کروڑ 50 لاکھ سے 25 کروڑ ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس کی زیادہ قیمت کے باعث اب تک صرف 20 طیارے ہی سروس میں شامل کیے گئے ہیں یہ ڈرون طویل فاصلے تک سمندری نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے اور 13 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج کے ساتھ وسیع علاقے پر مسلسل نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اس میں جدید ریڈار سسٹم، الیکٹرو آپٹیکل اور انفراریڈ سینسرز نصب ہوتے ہیں جو سمندر میں جہازوں اور دیگر اہداف کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق ڈرون کے غائب ہونے سے قبل اس کی پرواز میں اچانک تبدیلی آئی اور وہ تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی سے تیزی سے نیچے آتے ہوئے 10 ہزار فٹ سے کم سطح پر پہنچ گیااس دوران ڈرون نے ہنگامی سگنل بھی نشر کیے، جن میں پہلے کمیونیکیشن کی خرابی کا کوڈ اور بعد میں مکمل ایمرجنسی کا کوڈ شامل تھا امریکی نیوی کےمطابق یہ ڈرون خلیج فارس اور آبنائےہرمز میں نگرانی کا مشن مکمل کرنے کےبعد اٹلی کے نیول ایئر اسٹیشن سگونیلا میں اپنے اڈے کی جانب واپس جا رہا تھا۔

    واضح رہے کہ 2019 میں بھی ایران نے اسی نوعیت کے ایک امریکی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے ملبے کی تصاویر بھی جاری کی گئی تھیں۔

  • پاکستانیوں سمیت دیگر کا برطانیہ میں رہائش کیلئے خود کو ہم جنس پرست ظاہر کرنے کا انکشاف

    پاکستانیوں سمیت دیگر کا برطانیہ میں رہائش کیلئے خود کو ہم جنس پرست ظاہر کرنے کا انکشاف

    بی بی سی کی خفیہ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ قانونی مشیر پناہ گزینوں کو ہم جنس پرستوں کے طور پر سیاسی پناہ حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

    بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کچھ مشیر اور وکیل پناہ گزینوں کو سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے ہم جنس پرست ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنے کی ترغیب اور مدد دیتے ہیں یہ پناہ کے قوانین کو غلط استعمال کرنے کی ایک کوشش ہے۔

    تحقیقات میں سامنے آیا کہ پناہ کے متلاشی افراد کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ حکام کو بتائیں کہ انہیں ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے اپنے ملک میں خطرہ ہے، یہ مسئلہ ان پناہ کے متلاشیوں کے لیے قانونی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے جو واقعی خطرے کا شکار ہیں، برطانوی حکومت نے پناہ کے طریقہ کار میں سختی کی ہے، جس سے اس طرح کے معاملات پر مزید نظر رکھی جا رہی ہے۔

    اس کے بعد وہ ہم جنس پرست ہونے کا دعوی کرتے ہوئے پناہ کی درخواست دیتے ہیں اور اگر وہ پاکستان یا بنگلہ دیش واپس لوٹتے ہیں تو انہیں اپنی جانوں کا خطرہ ہے بی بی سی کی اس رپورٹ کے جواب میں ہوم آفس نے کہا کہ "جو کوئی بھی نظام کا استحصال کرنے کی کوشش کرتا پایا گیا اسے قانون کی پوری طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا، بشمول برطانیہ سے اخراج بھی۔”

    برطانیہ کا سیاسی پناہ کا عمل ان لوگوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو اپنے آبائی ممالک واپس نہیں جا سکتے کیونکہ وہ خطرے میں ہوں گے، مثال کے طور پر پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں جہاں ہم جنس پرستوں کا جنسی تعلق غیر قانونی ہے جن میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی تھی،پاکستانی طالب علم اور وزٹ ویزا رکھنے والے، وکلاء کی مدد سے، پناہ کے دعوے کرنے کے لیے "شواہد” جمع کرتے ہیں کہ وہ ہم جنس پرست ہیں-

    لیکن بی بی سی نیوز کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ قانونی مشیروں کی طرف سے اس عمل کا منظم طریقے سے استحصال کیا جا رہا ہے جو ملک میں رہنے کے خواہشمند تارکین سے فیسیں لے رہے ہیں یہ اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے سٹوڈنٹ، ورک یا سیاحتی ویزے کی میعاد ختم ہو چکی ہوتی ہے، بجائے اس کے کہ وہ لوگ جو چھوٹی کشتیوں پر یا دوسرے غیر قانونی راستوں سے ملک میں پہنچے ہوں یہ گروپ اب تمام سیاسی پناہ کے دعووں کا 35% بناتا ہے، جو 2025 میں 100,000 سے اوپر تھا۔

    رپورٹ کے مطابق ابتدائی شواہد اکٹھے کرنے کے بعد، بشمول ٹپ آف، خفیہ رپورٹرز کو یہ تحقیق کرنے کے لیے بھیجا کہ امیگریشن ایڈوائزر کس طرح لوگوں کو پناہ کے جھوٹے دعوے کرنے میں مدد کرنے کے لیے تیار تھےرپورٹرز نے خود کو پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی طلباءظاہر کیا جن کے ویزے ختم ہونے والے تھے۔

    تحقیقات نے دریافت کیا ایک قانونی فرم نے سیاسی پناہ کا من گھڑت دعویٰ لانے کے لیے 7,000 پاؤنڈ تک چارج کیا اور وعدہ کیا کہ ہوم آفس کی طرف سے انکار کا امکان "بہت کم” ہے جعلی سیاسی پناہ کے متلاشی اپنے کیسوں کو تقویت دینے کے لیے طبی ثبوت حاصل کرنے کے لیے افسردہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے جی پیز کے پاس گئے، یہاں تک کہ ایک نے ایچ آئی وی پازیٹیو ہونے کا جھوٹ بھی بولا۔

    ایک امیگریشن ایڈوائزر نے فخر کیا کہ اس نے جعلی دعوے لانے میں مدد کرنے میں 17 سال سے زیادہ کا وقت گزارا ہے اور کہا کہ وہ کسی کو یہ دکھاوا کرنے کا بندوبست کر سکتی ہے کہ اس کے کسی کلائنٹ کے ساتھ ہم جنس پرستوں کے جنسی تعلقات ہیں خفیہ رپورٹر کو یہاں تک کہا گیا کہ وہ برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے بعد اپنی بیوی کو پاکستان سے لا سکتا ہے اور پھر وہ ہم جنس پرست ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔

    ایک اور فرم سے منسلک ایک وکیل نے ایک خفیہ رپورٹر کو بتایا کہ اس نے لوگوں کو ہم جنس پرست یا ملحد ہونے کا بہانہ کرنے میں کامیابی سے پناہ حاصل کرنے میں مدد کی تھی۔ اس نے £1,500 کی فیس کے لیے جعلی دعوے میں مدد کرنے کی پیشکش کی اور کہا کہ ثبوت بنانے کے لیے مزید £2,000-£3,000 خرچ ہوں گے جبکہ یہاں کوئی بھی ہم جنس پرست نہیں ہے’.

    مشرقی لندن کے بیکٹن کے ایک پُرسکون کونے میں واقع ایک کمیونٹی سنٹر میں منگل کی شام، 175 سے زیادہ لوگ ایک تقریب کے لیے جمع ہوئےکچھ نے Worcester LGBT کے زیر اہتمام ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے ساؤتھ ویلز، برمنگھم اور آکسفورڈ تک کا سفر کیا ہے، جو خود کو ہم جنس پرستوں اور ہم جنس پرست پناہ گزینوں کے لیے ایک معاون گروپ کے طور پر بیان کرتا ہے۔

    گروپ کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ صرف حقیقی ہم جنس پرستوں کو ہی پناہ دی جاتی ہے لیکن سب کچھ ویسا نہیں ہے جیسا لگتا ہےفہر نامی ایک شخص کا کہنا ہے کہ "یہاں زیادہ تر لوگ ہم جنس پرست نہیں ہیں ذیشان نامی شخص نے کہا کہ "یہاں کوئی بھی ہم جنس پرست نہیں ہے۔ 1٪ بھی ہم جنس پرست نہیں ہیں۔ 0.01٪ بھی ہم جنس پرست نہیں ہیں۔”

  • افغانستان پر انحصار  ختم،ایران کے ذریعے وسطی ایشیا کیلئے نیا تجارتی راستہ فعال

    افغانستان پر انحصار ختم،ایران کے ذریعے وسطی ایشیا کیلئے نیا تجارتی راستہ فعال

    پاکستان نے اپنی علاقائی تجارت کو وسعت دینےکے لیے پاک ایران سرحد پر واقع ’گبد بارڈر ٹرمینل‘ کو بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (ٹی آئی آر) سسٹم کے تحت فعال کر دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اب پاکستان، افغانستان کے راستے پر انحصار کیے بغیر ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کر سکے گا، جو کہ نہ صرف ایک مختصر راستہ ہے بلکہ موجودہ حالات میں زیادہ محفوظ اور جدید متبادل بھی ہے اس نئے تجارتی راستے کے زریعے کراچی سے تاشقند (ازبکستان) کے لیے گوشت کے کنٹینرز کی پہلی کھیپ کامیابی کے ساتھ روانہ کر دی گئی ہے کسٹمز کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد یہ کنٹینرز ٹی آئی آر فریم ورک کے تحت ایران کے را ستے اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔

    یہ تجارتی راہداری نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (این ایل سی) کی جانب سے فعال کی گئی ہے جو اس سے قبل بھی چین، ایران اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک تک متعدد تجارتی راہداریاں فعال کر چکی ہے گبد بارڈر کا فعال ہونا ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کو متبادل راستوں کی شدید ضرورت تھی۔

    گزشتہ سال اکتوبر سے افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات اور بار بار سرحد کی بندش کی وجہ سے پاکستانی برآمد کنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا تھاافغانستان کے راستے بند ہونے کی وجہ سے پاکستان سے وسط ایشیائی ممالک کو برآمدات رک گئی تھیں، جس نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک پہنچنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے، گبد بارڈر ٹرمینل، جو گوادر سے صرف 70 کلومیٹر اور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، مستقبل میں علاقائی تجارت کا مرکز بن سکتا ہے۔

    پاکستان کے ساتھ ایران کی 900 کلومیٹر طویل سرحد پر ہمیشہ سے ایک مضبوط غیر رسمی تجارت پہلے سے ہی جاری ہے حکومتِ پاکستان نے برآمدات کو آسان بنانے کے لیے بینکنگ قوانین میں بھی عارضی نرمی کی ہےعام طور پر برآمد کنندگان کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ بینکوں کے ذریعے ادائیگیوں کا ریکارڈ رکھیں، لیکن ایران اور وسطی ایشیا کے لیے بعض اشیا بشمول خوراک، ادویات اور خیموں کی برآمد پر یہ شرط جون 2026 تک ختم کر دی گئی ہے اس اقدام کا مقصد بیوروکریسی کی رکاوٹیں کم کرنا ہے تاکہ تاجر جلد از جلد اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچا سکیں۔

    ازبکستان پاکستان کے لیے گوشت کی برآمدات کی ایک بہت بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔مالی سال 2025 کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان کی گوشت کی مجموعی برآمدات میں ازبکستان کا حصہ 39 فیصد رہا، جو متحدہ عرب امارات (26 فیصد) سے بھی زیادہ ہے اسی اہمیت کے پیشِ نظر ایران کے ذریعے متبادل راستہ بنانا پاکستان کی معاشی ضرورت بن گیا تھا۔

  • روس اور چین کا مغربی دباؤ کے مقابلے میں اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ

    روس اور چین کا مغربی دباؤ کے مقابلے میں اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ

    روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف 2 روزہ سرکاری دورے پر منگل کو چین پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے۔

    روس اور چین نے مغربی دباؤ کے مقابلے میں اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے عالمی و علاقائی امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے مغرب پر بیجنگ اور ماسکو کو محدود کرنے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

    ماسکو کے مطابق ان مذاکرات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، یوکرین بحران سمیت متعدد اہم عالمی و علاقائی امور پر بات چیت کی گئی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ، برکس، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، جی 20 اور ایپیک جیسے عالمی فورمز میں مشترکہ تعاون کو بھی ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔

    ملاقات کے ابتدائی مرحلے میں دونوں وزرائے خارجہ نے کہا کہ حالیہ عرصے میں عالمی نظام کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ سرگئی لاروف نے کہا کہ لاطینی امریکا، وینزویلا اور مشرقِ وسطیٰ میں پیش آنے والے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ بحرانوں کی بڑی وجہ مغربی ممالک کی پالیسیاں ہیں۔

    انہوں نے یوکرین جنگ کو ’مصنوعی طور پر پیدا کردہ تنازع‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغرب کا مقصد روس کو اسٹریٹجک طور پر کمزور کرنا ہے یورپی ممالک اس تنازع کو استعمال کرتے ہوئے یوریشیا کے مغربی حصے میں ایک نیا جارحانہ اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں یوریشیا کے مشرقی حصے میں بھی تائیوان، جنوبی بحیرۂ چین اور جزیرہ نما کوریا کے گرد ’خطرناک کھیل‘ کھیلے جا رہے ہیں، جن کا مقصد چین اور روس کو محدود کرنا ہے۔

    چین نے آبنائے ہرمز سے جہاز رانی پر امریکی پابندیوں کو ’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام‘ قرار دیا ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود نازک جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے،چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں، مذاکرات کو آگے بڑھائیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جلد بحال کی جائے۔

    روسی اور چینی وزرائے خارجہ نے 2026 کے لیے باہمی سفارتی رابطوں کا روڈ میپ بھی طے کیا، جسے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ممکنہ دورۂ چین کی تیاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے لاوروف نے عندیہ دیا کہ رواں سال دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مزید ملاقاتوں کے مواقع موجود ہیں اور ان ملاقاتوں کی تفصیلات پر بات چیت جاری ہے۔

  • ڈیرہ مراد جمالی میں پولیو ٹیم پر فائرنگ ، ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار شہید

    ڈیرہ مراد جمالی میں پولیو ٹیم پر فائرنگ ، ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار شہید

    ڈیرہ مراد جمالی میں پولیو ٹیم پر فائرنگ کے واقعے میں ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق واقعہ ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے ٹی این ٹی کالونی میں اُس وقت پیش آیا جب پولیو ٹیم معمول کے فرائض سرانجام دے رہی تھی فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا،واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق شہید اہلکار کی لاش کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کی شناخت فرمان بشیر بہرانی کے نام سے ہوئی ہے سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

  • لائیو شو میں فضا علی کی غیر اخلاقی حرکت، پیمرا نے ایکشن لےلیا

    لائیو شو میں فضا علی کی غیر اخلاقی حرکت، پیمرا نے ایکشن لےلیا

    لائیو شو میں فضا علی کی غیر اخلاقی حرکت پر ایکشن لیتے ہوئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹیلی ویژن چینل کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ لائیو شو کے دوران میزبان فضا علی کے شوہر نے انہیں کندھوں پر اٹھا لیاتھا اس منظر کے بعد سے رہنما ن لیگ حنا پرویز ٹ اور صحافی روؤف کلاسرا سمیت سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی تھی اور پیمرا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    اس کے بعد پیمرا نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ چینل سے وضاحت طلب کر لی ہے پیمرا کا کہنا ہے کہ براڈکاسٹرز کو مواد کی نشریات کے دوران پیشہ ورانہ معیار اور اخلاقی ضابطوں کی مکمل پابندی یقینی بنانی چاہیے۔

    فضا علی نے اس پر وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایک مختصر سا لمحہ بغیر کسی سیاق و سباق کے وائرل کیا گیا، جبکہ یہ محض ایک ہلکا پھلکا اور بے ساختہ اشارہ تھا جس کا کوئی منفی مطلب نہیں لیا جانا چاہیے، وہ ہمیشہ اپنے کام اور ناظرین کا احترام کرتی آئی ہیں اور آئندہ بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں اسی سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ نبھاتی رہیں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات کسی بات کی جتنی بھی وضاحت کی جائے، اسے غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے اسی لیے وہ ایسے معاملات میں خاموشی کو بہتر حکمتِ عملی سمجھتی ہیں وہ اس وقت اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات اور ذاتی زندگی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور سب کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہیں۔

  • یو اے ای اور چین کے درمیان 24 سٹریٹیجک معاہدوں پر دستخط

    یو اے ای اور چین کے درمیان 24 سٹریٹیجک معاہدوں پر دستخط

    متحدہ عرب امارات اور چین نے دوطرفہ غیر تیل تجارت کو 100 بلین ڈالر سے زائد تک پہنچانے کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے 24 سٹریٹیجک معاہدوں پر دستخط کیے ہیں،جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اور قدم ہے۔

    یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری میں اضافے اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد تجارتی حجم کو بلند ترین سطح پر لانا ہے ان معاہدوں کا اعلان ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان کے سرکاری دورے کے ساتھ بیجنگ میں منعقدہ یو اے ای-چین بزنس پروموشن کانفرنس کے دوران کیا گیا، جو ایک سینئر وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات اور چین کے درمیان شراکت داری پچھلی دہائی کے دوران مسلسل بڑھی ہے، جس کی حمایت بڑھتے ہوئے تجارتی حجم اور سیکٹر کے روابط میں توسیع سے ہوئی ہے،خارجہ تجارت کے وزیر ڈاکٹر تھانی بن احمد الزیودی نے کہا کہ تعلقات ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں-

    قبل ازیں چینی وزیر خا رجہ وانگ ای نے بیجنگ میں متحدہ عرب امارات کے صدر کے چینی امور کے خصوصی ایلچی خالدون المبارک سے ملاقات کی ۔خالدون المبارک متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد کے دورہ چین میں ان کے ہمراہ ہیں ۔ پیر کے روز وانگ ای نے کہا کہ دونوں ممالک کے سربراہان کی حکمت عملی کی رہنمائی میں ، چین اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات ترقی کی جانب گامزن رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد کا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لئے ایک اہم دورہ ہے۔

    وانگ ای نے اس یقین کا اظہار کیا کہ دونوں فریقوں کی مشترکہ کوششوں سے یہ دورہ کامیاب ہوگا۔چینی وزیر خارجہ نے مشرق وسطی کے موجودہ حالات پر چینی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چین خلیجی عرب ممالک کی جائز حفاظتی تشویش کو مکمل طور پر سمجھتا ہے اور متحدہ عرب امارات کی قومی خود مختار ی، سلامتی اور جائز حقوق کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا بین الاقوامی برادری کے مشترکہ مفاد کے مطابق نہیں ہے، اور مسئلہ کے حل کا بنیادی طریقہ سیاسی اور سفارتی ذرائع سے مکمل اور دیرپا جنگ بندی کا حصول ہے ۔

    وانگ ای نے کہا کہ چین ہمیشہ امن کے قیام اور جنگ روکنے میں سرگرم رہا ہے، اور دیگر ممالک بشمول متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر مشرق وسطی کے حالات کو جلد از جلد امن اور استحکام کی جانب واپس لانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھنے کو تیار ہے-

  • ایران نے چینی سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو ہدف بنایا، فنانشل ٹائمز

    ایران نے چینی سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو ہدف بنایا، فنانشل ٹائمز

    فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر چین میں تیار کردہ ایک جدید جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے انٹیلی جنس حاصل کی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیک شدہ ایرانی عسکری دستاویزات کے مطابق یہ نظام 2024 کے آخر میں پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو اسپیس فورس نے حاصل کیا یہ سیٹلائٹ،جسے ٹی ای ای-01بی کہا جاتا ہےچین سےخلا میں بھیجنے کےبعد ایک نجی کمپنی کے ذریعے ایران کے کنٹرول میں آیایہ سیٹلائٹ تقریباً آدھے میٹر ریزولوشن کی تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ایران کے اپنے موجودہ سیٹلائٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید ہے۔

    دستاویزات کے مطابق ایرانی عسکری کمانڈروں نے مارچ کے دوران اس سیٹلائٹ کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی نگرانی کی ان میں پرنس سلطان ایئر بیس اور دیگر اہم عسکری تنصیبات شامل ہیں، جہاں حالیہ کشیدگی کے دوران حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

    سیٹلائٹ سروس فراہم کرنے والی چینی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا نظام صرف زرعی، سمندری اور شہری منصوبہ بندی کے لیے ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا فوجی استعمال بھی ممکن ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایران نے اس منصوبے کے لیے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور اسے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت حاصل کیا گیا۔

    امریکی حکام کے مطابق چین کی بعض کمپنیوں اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے جبکہ چین کی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تنازعات میں اضافے کے بجائے امن اور مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔

  • محسن نقوی کی چینی قونصل جنرل سے ملاقات

    محسن نقوی کی چینی قونصل جنرل سے ملاقات

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں چینی قونصل خانے کے دورے کے دوران چینی قونصل جنرل یانگ یونڈونگ سے ملاقات کی-

    محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ چینی سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل کے حل اور سہولتوں کی فراہمی کے لیے جلد اسلام آباد میں ایک خصوصی کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں چینی بزنس کمیونٹی کو مدعو کیا جائے گا ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، سرمایہ کاری کے فروغ، سیکیورٹی صورتحال اور چینی شہریوں کو درپیش امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی،وزیرِ داخلہ نے کراچی میں مقیم چینی تاجروں کو درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کی سہو لت اور تحفظ کو اولین ترجیح دے رہی ہے-

    انہوں نے قونصل جنرل اور چینی سرمایہ کاروں کو مجوزہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی محسن نقوی نے اس موقع پر پاکستان میں چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ سیکیورٹی مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاک چین تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

  • ٹیکس کا پیسہ قوم کی امانت ، اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے،وزیراعظم

    ٹیکس کا پیسہ قوم کی امانت ، اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایف بی آر کے امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ٹیکس کا پیسہ قوم کی امانت ہے، اس کی حفاظت ہمارا فرض اور ایک ایک پائی کا حساب دینا ذمہ داری ہے۔

    اجلاس کے موقع پر اوور انوائسنگ کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی،اجلاس میں وفاقی وزراء مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک ہوئے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ 2017 سے 2022 کے دوران اوور انوایسنگ کامکروہ دھندا چلتا رہا اور متعلقہ ادارے اپنے فرائض سے مسلسل غافل رہےانہوں نے اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی تیز کر نے کی ہدایت کی۔

    انہوں نے مشتاق احمد سکھیرا کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ کی توصیف کی جبکہ شاہد خان کی سربراہی میں غفلت کے مرتکب افراد اور اداروں کا تعین کرنے اور انکے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے کیلئے ایک کمیٹی بنا کر جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی وزیراعظم نے زور دیا کہ ایسے واقعات کو مستقبل میں روکنے کے جامع حکمت عملی بنائی جائے۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ فائننشل مونیٹرنگ یونٹ( FMU) کو ایک فعال ادارہ بنایا جائے اور اس میں ایف آئی اے اور انٹیلیجنس بیورو کے نمائندے بھی شامل کیے جائیں،اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایف بی ار نے سنٹرلائز ڈپرائس ویریفکیشن پورٹل بنایا ہے،جون کے آخر تک یہ پورٹل بینکوں کے ساتھ منسلک ہو جائے گا ایف بی آر کے پوسٹ کلیرنگ آڈٹ ونگ نے اکتوبر 2022 میں اس اوور انوائسنگ دھندے کی نشاندہی کی اس دوران مرتکب افراد کے خلاف 13 ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں ، اور قانونی کارروائی جاری ہے۔