Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ملک بھر میں آج سے شدید گرمی، کئی شہروں میں درجہ حرارت 50 ڈگری کے قریب پہنچنے کا امکان

    ملک بھر میں آج سے شدید گرمی، کئی شہروں میں درجہ حرارت 50 ڈگری کے قریب پہنچنے کا امکان

    محکمہ موسمیات نے ملک کے بیشتر علاقوں میں آج سے 12 جون تک شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی لہر کے خدشے کا انتباہ جاری کیا ہے-

    تازہ موسمی پیش گوئی کے مطابق بالائی فضاؤں میں بلند دباؤ کے نظام کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت معمول سے 4 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے متعدد علاقوں میں گرمی کی شدت میں نمایاں اضا فہ متوقع ہے ماہرین کے مطابق 8 سے 11 جون کے دوران ہیٹ ویو اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے جبکہ بعض علاقوں میں رات کے اوقات میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے-

    کراچی میں درجہ حرارت 40 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ سندھ اور بلوچستان کے بعض اضلاع میں پارہ 48 سے 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے کئی شہروں میں بھی درجہ حرارت 44 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

    پنجاب کے وسطی اور بالائی علاقوں، بشمول راولپنڈی، اسلام آباد، اٹک، چکوال، جہلم، گجرات اور دیگر شہروں میں درجہ حرارت 41 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں پشاور، مردان، بنوں، لکی مروت، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں درجہ حرارت 41 سے 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر طبی مسائل کے خطرات بڑھ سکتے ہیں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی استعمال کریں اور بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھیں۔

    دوسری جانب (این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ شمالی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھل سکتے ہیں، جس سے بعض علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلابی صورتحال کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

  • گلگت بلتستان میں  24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں 24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں پرپولنگ کا عمل جاری ہے،پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا،جبکہ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق 24 حلقوں میں مجموعی طور پر 404 امیدوار مدِمقابل ہیں، جن میں 396 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں پیپلز پارٹی کے 23 جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار ، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9 امیدوار شامل ہیں مجلس وحدت المسلمین کے 7، جما عت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6، 6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شریک ہیں، جبکہ سب سے زیادہ 266 آزاد امیدوار بھی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے لیے گلگت بلتستان بھر میں 1389 پولنگ اسٹیشنز اور 2450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں ان میں خواتین کے لیے 1112، مردوں کے لیے 1268 جبکہ 68 مشترکہ پولنگ بوتھ مختص کیے گئے ہیں جن میں 551 کو انتہائی حساس اور 349 کو حساس قرار دیا گیا ہے، 9 لاکھ 58 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کے اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ مختلف انتخابی حلقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فلیگ مارچ بھی کیا ہے۔

    حلقہ جی بی اے-1 گلگت میں 23 امیدوار میدان میں ہیں، اس حلقے میں 47 ہزار 373 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 25 ہزار 412 مرد اور 21 ہزار 961 خواتین ووٹرز شامل ہیں، یہاں 80 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 49 انتہائی حساس اور 31 حساس ہیں۔ پولنگ کے شفاف انعقاد کے لیے 1300 پولنگ عملہ اور 550 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-2 گلگت میں 40 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 55 ہزار 849 ہے، جن میں 29 ہزار 839 مرد اور 26 ہزار 10 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ اس حلقے میں 91 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور حساس مراکز پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-3 گلگت میں امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ 122 ہے۔ یہاں 52 ہزار 161 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں 27 ہزار 351 مرد اور 24 ہزار 810 خواتین شامل ہیں اس حلقے کے 82 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 16 انتہائی حساس اور 16 حساس قرار دیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 4 میں بھی 22 امیدوار مدمقابل ہیں، جہاں ن لیگ کے امتیاز حسین، پیپلز پارٹی کے علی اختر، اسلامی تحریک کے محمد ایوب اور آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد کے درمیان مقابلہ ہے اور یہاں 60 پولنگ اسٹیشنز پر 29 ہزار 973 ووٹرز موجود ہیں۔

    حلقہ جی بی 5 میں 23 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جہاں ن لیگ کے جاوید علی، پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد، اسلامی تحریک کے پرنس قاسم، ایم ڈبلیو ایم کے ریاض اکبر اور آزاد امیدوار وزیر جہانگیر کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہے اور یہاں 32 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 6 میں 27 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے پرنس سلیم خان، پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نیک نام کریم مدمقابل ہیں، جہاں 89 پولنگ اسٹیشنز پر 52 ہزار 41 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

    حلقہ جی بی 7 میں 13 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے اکبر خان اور پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی کے ساتھ ساتھ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال مقپون اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ محمد زکریا بھی قسمت آزما رہے ہیں۔

    حلقہ جی بی 8 میں 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے امتیاز حیدر، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ اور ایم ڈبلیو ایم کے میثم کاظم کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 9 میں 12 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، جس میں ن لیگ کے اجمل حسین، پیپلز پارٹی کے فدا محمد نوشاد اور آزاد امیدوار وزیر سلیم مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 10 میں 13 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے وزیر حسین، پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان، استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ڈاکٹر محمد شریف کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 11 میں 11 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں ن لیگ کے محسن رضوی، پیپلز پارٹی کے اقبال حسن، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محسن زیدی اور آزاد امیدوار ڈاکٹر شجاعت میثم شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 12 میں 10 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جہاں ن لیگ کے طاہر شگری، پیپلز پارٹی کے عمران ندیم، اسلامی تحریک کے راجا اعظم خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حسن شگری میدان میں ہیں۔

    حلقہ جی بی 13 میں 13 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے رانا فرمان علی، پیپلز پارٹی کے فہد حنیف اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شاہدہ خورشید مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 14 میں 33 امیدوار میدان میں ہیں جہاں ن لیگ کے رانا محمد فاروق اور پیپلز پارٹی کے سید محمد عباس کے درمیان 49 پولنگ اسٹیشنز پر بڑا مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 15 میں 20 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالواجد، پیپلز پارٹی کے بشیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نوشاد عالم کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 16 میں 14 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں ن لیگ کے انجینئر محمد انور، پیپلز پارٹی کے عطا اللہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سید عابد اقبال شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 17 میں بھی 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ڈاکٹر محمد زمان، پیپلز پارٹی کے محمد وسیم اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حاجی کمان خان مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 18 میں 10 امیدوار میدان میں ہیں لیکن یہاں ن لیگ کے ملک کفایت الرحمٰن، استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محمد ایوب قریشی کے درمیان اہم مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 19 میں 9 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ظفر محمد شادم خیل، پیپلز پارٹی کے جلال علی شاہ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شیر اعظم خان اور آزاد امیدوار نواز خان ناجی مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 20 میں 17 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالجہان خان، پیپلز پارٹی کے نذیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ندیم رفیق کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 21 میں 20 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جس میں ن لیگ کے غلام محمد، پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا جہانزیب آمنے سامنے ہیں۔

    حلقہ جی بی 22 میں سب سے کم یعنی صرف 7 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے محمد ابراہیم اور پیپلز پارٹی کے عاشق حسین کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر براہِ راست مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 23 میں 10 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے روایتی مقابلوں کے برعکس پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار آمنہ بی بی کا مقابلہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عبدالرحیم اور دو آزاد امیدواروں حاجی انور اور حاجی عبدالحمید سے ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 24 میں 6 امیدوار میدان میں ہیں اور یہاں پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صداقت حسین اور آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔

    ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور شفاف، آزادانہ و پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر اپنا جمہوری حق استعمال کر سکیں۔

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    جاری کردہ احکامات کے مطابق پولنگ اسٹیشنز کے اندر انتخابی عملہ، امیدوار، پولنگ ایجنٹس اور ووٹرز موبائل فون نہیں لے جا سکیں گے۔ یہ اقدام ووٹ کی رازداری کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے منظور شدہ میڈیا نمائندگان اور مبصرین اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے چیف الیکشن کمشنر نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹر ننگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    گلگت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں میں ہاتھا پائی اور تلخ کلامیا

    گلگت کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھ پائی ہوئی ہےگلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں سکردو کے حلقہ GBA-9 میں پولنگ کا عمل جاری ہے، تاہم گلگت میں سر سید اسکول پولنگ اسٹیشن کے باہر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پا لیا۔

    دوسری جانب استور کے عیدگاہ فیمیل پولنگ اسٹیشن پر شدید بدنظمی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ووٹرز نے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزاما ت عائد کر دیے، مبینہ طور پر اپنی مرضی کے ٹھپے لگائے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں متعلقہ انتخابی حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل پرامن انداز میں جاری ہے-

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ عوام پرامن طریقے سے انتخابات کوانجام تک پہنچائیں۔

    مختلف پولنگ اسٹیشنز کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ شہباز خان نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے بلا تعطل جاری ہے اور مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے عوام انتخابی عمل میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں جبکہ لیڈیز پولنگ اسٹیشنز پر خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد بھی ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے پہنچ رہی ہےووٹرز کی سہولت اور سیکیورٹی کے پیش نظر بہترین انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل کو شفاف، آزادانہ اور پرامن ماحول میں یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن انداز میں انتخابی عمل کو کامیاب بنائیں اور جمہوری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں اور علاقے کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • کوئٹہ: لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    کوئٹہ: لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    کوئٹہ کے سول اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کے دوران ملزم مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا ہے۔

    کوئٹہ کے سول اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب گردی کا واقعہ پیش آیا ہے واقعے کی سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر اسپتال کے لفٹ آپریٹر کو ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،اس حملے میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر شدید زخمی ہو گئیں، جنہیں فوری طور پر نجی اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ ایک اور شخص بھی کر زخمی ہوا۔

    صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے واقعے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان کو ملزم کی جلد گرفتاری کا حکم دیا تھاجبکہ وزیر صحت نے اس واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت زخمی ڈاکٹر کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کرے گی خاتون ڈاکٹر پر حملہ ناقابل برداشت ہے اور ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، زخمی ڈاکٹر کو مزید علاج کے لیے ائیر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا جائے گا۔

    دوسری جانب واقعے کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس نے کارروائی شروع کی پولیس کے مطابق ملزم ہمایوں شاہ فرار ہونے کی کوشش میں سریاب روڈ کے بس اسٹینڈ پہنچا، جہاں پولیس ٹیم نے اسے روکنے کی کوشش کی ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی کی گئی، اسی فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا ہلاک ہونے والے ملزم کے قبضے سے ایک پستول اور چار گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں،جبکہ واقعے سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔

  • سونے اور چاندی کی قیمت میں  بڑی کمی

    سونے اور چاندی کی قیمت میں بڑی کمی

    سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی کمی ،ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ڈالر کی قدر میں تبدیلی کے اثرات مقامی صرافہ بازار پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جس کے باعث سونے کے نرخوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    دو دن میں سونے کی قیمت میں 13 ہزار 958 روپے کی کمی ہوئی ہے، گزشتہ روز سونے کے فی تولہ نرخ میں 1469 روپے کی کمی ہوئی آج فی تولہ سونے کی قیمت 12 ہزار 489 روپے کم ہو گئی جس کے بعد فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 55 ہزار 327 روپے ہو گئی ہے اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 11 ہزار 240 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد 10 گرام سونے کی نئی قیمت 3 لاکھ 89 ہزار 772 روپے ہو گئی ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخ 124 ڈالر89سینٹ کم ہونے سے فی اونس قیمت 4328 ڈالر 92 سینٹ ہو گئی ہے-

    اسی طرح ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 463 روپے کی کمی سے 7ہزار 267 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 421روپے کی کمی سے 6ہزار 202روپے کی سطح پر آگئی۔

  • ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے،عظمیٰ بخاری

    ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے سوا کسی جماعت نے ایک اینٹ تک نہیں لگائی، ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے-

    گلگت بلتستان میں انتخابات کے حوالے سے اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جی بی میں ہر طرف شیر،شیر اور شیر کی آوازیں آرہی ہیں مسلم لیگ (ن) کو عوام ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں،مخالفین مسلم لیگ (ن) پر کیچڑ اچھال کر ووٹ مانگتے ہیں گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کے سوا کسی جماعت نے ایک اینٹ تک نہیں لگائی-

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کا صفر ووٹ بینک ہے ان کے لوگ ایک ہفتے سے شور مچا رہے ہیں کہ تحریک انصاف کو کمپین نہیں کرنے دی جارہی جن کے امیدوار بھی پورے نہیں، وہ قبل از وقت دھندلی کا واویلا کس منہ سے کررہے؟ تحریک انصاف کا بطور جماعت ہر بیانیہ ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے مسلم لیگ(ن) کا مقابلہ کارکردگی سے کریں، جھوٹ اور پروپیگنڈے ناکام سیاسی چالیں ہیں ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے۔

    دوسری جانب گلگت بلتستان کے انتخابی حلقے جی بی اے 17 داریل کے علاقے ڈوڈشال میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار ڈاکٹر محمد زمان کے حامیوں کی گاڑی پر فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہےنامعلوم افراد کی جانب سے کی جانے والی اس فائرنگ کے واقعے کی تصدیق خود ن لیگ کے امیدوار ڈاکٹر محمد زمان نے کر دی ہے۔

    ڈاکٹر محمد زمان کے مطابق فائرنگ کے اس حملے کے نتیجے میں خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے انہوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھلی دہشت گردی ہے اور وہ علاقے میں پُرامن انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں فائرنگ کے اس واقعے کے ذمہ دار پا کستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار محمد نسیم ہیں۔

    انہوں نے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    واضح رہے کہ کل ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں امن و امان کی صورتحال اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ دیامر لیفٹیننٹ (ر) محمد اویس نے ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔

  • سوریا کمار یادیو آؤٹ، شریاس ائیر ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا نیا کپتان مقرر

    سوریا کمار یادیو آؤٹ، شریاس ائیر ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا نیا کپتان مقرر

    سوریا کمار یادیو سے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کی کپتانی واپسی لے لی گئی، بھارتی بورڈ نے شریاس ائیر ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا نیا کپتان مقرر کر دیا۔

    بھارت نے آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ ٹی20 سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں 15 سالہ ابھرتے ہوئے بیٹر ویبھوو سوریا ونشی کو پہلی بار شامل کر لیا گیا ہے جبکہ شریاس ائیر کو ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

    بھارتی کرکٹ بورڈ کے مطابق سوریا ونشی نے حالیہ انڈین پریمیئر لیگ سیزن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 16 میچز میں 776 رنز بنائے اور کرس گیل کا ایک سیزن میں سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ بھی توڑ دیا،وہ راجستھان رائلز کی نمائندگی کرتے ہوئے لیگ کی تاریخ کے پہلے کھلاڑی بنے جنہیں بیک وقت موسٹ ویلیوایبل پلیئر اور بہترین ابھرتا ہوا کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    اگر سوریاونشی کو آئرلینڈ یا انگلینڈ کے خلاف ڈیبیو کا موقع ملتا ہے تو وہ بھارت کی مردوں کی سینئر ٹیم کی نمائندگی کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن جائیں گے اور سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ توڑ دیں گے، جنہوں نے 16 سال کی عمر میں ڈیبیو کیا تھا،سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین اجیت اگارکر نے کہا کہ سوریاونشی نے نہ صرف سیزن کے آغاز سے ہی عمدہ کھیل پیش کیا بلکہ دباؤ والے مقابلوں میں بھی ٹیم کو تقریباً تنہا کامیابیوں سے ہمکنار کرایا۔

    دوسری جانب کپتان سوریا کمار یادو کو ناقص فارم کے باعث ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا ہے، جبکہ ان کی جگہ 31 سالہ مڈل آرڈر بلے باز شریاس آئیر کو باقاعدہ طور پر انڈین ٹیم کا نیا کپتان مقرر کیا گیا ہے یہ فیصلہ رواں ماہ جون اور جولائی میں ہونے والے دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے کیا گیا ہے۔

    شریاس ائیر کو کپتانی سونپنے کا فیصلہ ان کی قیادت میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو 2024 کا آئی پی ایل ٹائٹل جتوانے کے بعد کیا گیابھارت اس ماہ کے آخر میں آئرلینڈ کے خلاف دو ٹی20 میچز کھیلے گا، جس کے بعد جولائی میں انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز شیڈول ہے۔

    قیادت میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ نائب کپتانی کے عہدے پر بھی تبدیلی کی گئی ہے اور آل راؤنڈر اکشر پٹیل کی جگہ تلک ورما کو ٹیم کا نیا نائب کپتان نامزد کیا گیا ہے۔

    حال ہی میں ٹیم کو اپنی قیادت میں عالمی کپ جتوانے والے 35 سالہ سوریا کمار یادو کے لیے حالیہ عالمی کپ اور انڈین پریمیئر لیگ کا سیزن انتہائی مایوس کن رہا، جہاں وہ رنز بنانے کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے، سلیکٹرز کا ماننا ہے کہ اگلا عالمی کپ آنے تک ان کی عمر 38 برس ہوجائے گی، اس لیے مستقبل کے لیے ابھی سے نوجوان قیادت کو تیار کرنا ضروری ہے۔

    دوسری جانب نئے کپتان شریاس آئیر نے دسمبر 2023 کے بعد سے کوئی بین الاقوامی 20 اوورز کا میچ نہیں کھیلا تھا، تاہم ان کے پاس انڈین پریمیئر لیگ میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو چیمپیئن بنانے اور دیگر فرنچائزز کی کامیاب قیادت کا وسیع تجربہ موجود ہے، جس کی وجہ سے سلیکٹرز نے انہیں اس منصب کے لیے بہترین امیدوار قرار دیا ہے۔

    نئے اسکواڈ میں ہاردک پانڈیا اور جسپریت بمراہ جیسے سینیئر کھلاڑیوں کو آرام دیا گیا ہے، جبکہ رنکو سنگھ اور کلدیپ یادو کو اس بار ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیانتیش کمار ریڈی، روی بشنوئی اور پرنس یادو جیسے نوجوان کھلاڑیوں پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے –

  • محکمہ موسمیات کی بروقت پیشگوئی ، گلگت بلتستان میں سیکڑوں جانیں بچ گئیں

    محکمہ موسمیات کی بروقت پیشگوئی ، گلگت بلتستان میں سیکڑوں جانیں بچ گئیں

    گلگت بلتستان: محکمہ موسمیات کے بروقت پیشگی الرٹس اور ارلی وارننگ کے باعث سیکڑوں قیمتی جانیں بچا لی گئیں۔

    محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ نگر میں واقع ہِسپر ہوُپر گلیشیئر کے پھٹنے اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر قبل از وقت الرٹ جاری کیا گیا تھا الرٹ کے بعد مقامی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 5 جون کی رات 8 بج کر 52 منٹ پر ہِسپر گلیشیئر سے پانی کا اخراج شروع ہوا جو بعد ازاں خطرناک گلیشیائی سیلابی ریلے میں تبدیل ہوگیا،تاہم بروقت وارننگ اور مؤثر اقدامات کے باعث کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

  • پنکی کوئی رول ماڈل نہیں جس پر ڈرامہ بنایا جائے،حنا پرویز بٹ

    پنکی کوئی رول ماڈل نہیں جس پر ڈرامہ بنایا جائے،حنا پرویز بٹ

    لاہور : مسلم لیگ ن کی رہنما اور چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے مبینہ طور پر منشیات فروشی میں ملوث کردار ‘انمول عرف پنکی’ پر ڈرامہ بنانے کی خبروں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ پروڈکشن ہاؤسز کو آڑے ہاتھوں لے لیا، کہا پنکی کوئی رول ماڈل نہیں جس پرڈرامہ بنایا جائے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک بیان میں حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ اگر ‘پنکی’ پر واقعی کوئی ڈرامہ یا سیریل بنائی جا رہی ہے تو یہ ایک انتہائی شرمناک اور چھچھوری حرکت ہے،ایک جرائم پیشہ اور منشیات فروش خاتون معاشرے کے لیے کسی صورت رول ماڈل نہیں ہو سکتی جس کی زندگی کو سکرین پر پیش کیا جائے۔

    چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی نے اس اقدام کو ملک کی باوقار خواتین کی تذلیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل ان تمام عورتوں کی صریحاً بے عزتی ہے جنہوں نے معاشرے کی ترقی اور سدھار میں مثبت کردار ادا کیا ہے اور آج بھی کر رہی ہیں۔

    انہوں نے میڈیا انڈسٹری کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم کب تک صرف ویورشپ اور پیسے کے لالچ میں ایسے منفی اور جرائم پیشہ افراد کو ہیرو یا رول ماڈل بنا کر پیش کرتے رہیں گے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسی کسی بھی کوشش کو فوری طور پر روکا جانا چاہیےجبکہ معاشرے میں بے شمار مثبت اور قابلِ تقلید شخصیات موجود ہیں جن کی جدوجہد اور کامیابیاں اجاگر کیے جانے کی مستحق ہیں۔

  • سائنسدانوں نے 5 ہزار سال پرانی ممی کےخمیر کی مدد سے روٹی تیارکر لی

    سائنسدانوں نے 5 ہزار سال پرانی ممی کےخمیر کی مدد سے روٹی تیارکر لی

    سائنسدانوں نے ایک حیران کن تجربے میں 5 ہزار سال پرانی ممی سے حاصل کیے گئے خمیر کی مدد سے کھٹی روٹی (سورڈو بریڈ) تیار کر لی ہےمحققین اب اسی قدیم خمیر کو استعمال کرتے ہوئے بیئر بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

    یوراک ریسرچ کے انسٹی ٹیوٹ برائے ممی اسٹڈیز میں کام کرنے والے ماہرِ حیاتیات محمد سرحان اور ان کی ٹیم نے ممی سے حاصل شدہ خمیر کے نمونوں پر تحقیق کے بعد روٹی تیار کی محمد سرحان کے مطابق تجربات کے دوران بالآخر ایسا آٹا تیار کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی جو 24 گھنٹوں کے اندر عام خمیر کی طرح اچھی طرح پھول گیا، انہوں نے اس سے قبل کبھی روٹی نہیں بنائی تھی، اس لیے ابتدائی نتائج میں مزید بہتری کی گنجائش موجود تھی، تاہم یہ تجربات اپنی نوعیت کے پہلے تجربات تھے اور ان کے نتائج حوصلہ افزا ثابت ہوئے۔

    محققین اب جرمنی کی معروف بریونگ کمپنی کے ماہرین خوراک کے ساتھ مل کر یہ جانچنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ آیا یہی قدیم خمیر بیئر کی تیاری میں بھی استعما ل کیا جا سکتا ہے یا نہیں یہ مخصوص خمیر سرد ماحول میں بہتر نشوونما پاتا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ خمیر ممی کے جسم میں اس کی زندگی کے دورا ن نہیں بلکہ موت کے کچھ عرصے بعد داخل ہوا تھا۔

    یہ ممی، جسے ’اوٹزی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، یورپ کی قدیم انسانی زندگی کے بارے میں اہم معلومات کا خزانہ سمجھی جاتی ہے تقریباً 5 ہزار سال پرانی یہ لاش غیر معمولی طور پر محفوظ حالت میں دریافت ہوئی تھی، اس کے جسم پر 61 ٹیٹو کے نشانات موجود ہیں، جو اب تک دریافت ہونے والے قدیم ترین ٹیٹوز میں شمار ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اوٹزی کو پہاڑوں میں ایک تیر مار کر قتل کیا گیا تھا، جس کے باعث اس کی موت کو دنیا کے قدیم ترین حل طلب قتل کے واقعات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ نئی تحقیق قدیم مائیکرو آرگینزمز اور خوراک کی تاریخ کے مطالعے میں ایک دلچسپ پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔

  • دو اسرائیلی وزرا کےآئرلینڈ  میں داخلے پر پابندی

    دو اسرائیلی وزرا کےآئرلینڈ میں داخلے پر پابندی

    آئرلینڈ کے وزیر انصاف جم او کالگھن نے اسرائیلی وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر اور وزیر خزانہ بیزالیل سموٹرچ پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی تصدیق آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کی ہے۔

    آئرش نشریاتی ادارے آر ٹی ای کے مطابق وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ ان کے خیال میں یورپی یونین کو بھی ان وزرا کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنی چاہئیں فرانس، اسپین اور اٹلی پہلے ہی یورپی یونین سے بن گویر پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کر چکے ہیں بین الاقوامی برادری کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور آئرلینڈ اس سلسلے میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کوششیں جاری رکھے گا دونوں وزرا کا رویہ یورپی یونین کی سطح پر پابندیوں کا جواز فراہم کرتا ہے، تاہم یہ الگ بات ہے کہ آیا اس مقصد کے لیے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی مطلوبہ حمایت حاصل ہو سکے گی یا نہیں۔

    دوسری جانب آئرلینڈ کے وزیر انصاف کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں اسرائیلی وزرا پر سفری پابندیاں اس ہفتے کابینہ کے باضابطہ فیصلے کے بغیر آئرش حکومت کی منظوری کے بعد نافذ کی گئی ہیں وزیر انصاف نے امیگریشن حکام کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ اگر اتمار بن گویر یا بیزالیل سموٹرچ آئرلینڈ میں داخل ہونے کی کوشش کریں تو انہیں ملک میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق گزشتہ ماہ فرانس نے بھی بن گویر کے اپنے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی یہ اقدام ایک ایسی ویڈیو کے بعد کیا گیا تھا جس میں بن گویر غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے سے گرفتار کیے گئے پابند کارکنوں کا مذاق اڑاتے دکھائی دیے تھے اس واقعے پر امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی بن گویر کے طرزِ عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدامات اسرائیل کی اقدار کے مطابق نہیں ہیں۔

    گزشتہ برس برطانیہ، آسٹریلیا، ناروے، کینیڈا اور نیوزی لینڈ نے بھی بن گویر اور سموٹرچ پر فلسطینی برادریوں کے خلاف بار بار تشدد پر اکسانے کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد کی تھیں ان پابندیوں کے تحت دونوں وزرا کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی جبکہ ان کے اثاثے منجمد کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا یہ پہلا موقع تھا کہ کسی مغربی ملک کی حکومت نے اسرائیلی وزرا کے خلاف اس نوعیت کی پابندیاں عائد کی تھیں۔

    اُس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا تھا کہ وزیر خزانہ سموٹرچ اور وزیر قومی سلامتی بن گویر نے انتہاپسندانہ تشدد کو ہوا دی اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی کی،جمعے کو مونٹی نیگرو میں یورپی یونین اور مغربی بلقان سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئر ش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ دونوں اسرائیلی وزرا کے بیانات اور اقدامات فلسطینیوں کو فلسطین سے ختم کرنے کی خواہش کے مترادف ہیں۔