Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ  : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے

    امریکہ ایران کشیدگی جنگ بندی کی امید یا وقتی خاموشی؟

    عالمی طاقتیں متحرک، کیا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے بحران سے بچ جائے گا؟

    دو ہفتوں کی مہلت: کیا سفارتکاری جنگ پر غالب آ سکتی ہے؟

    مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید کیا جنگ ٹل سکتی ہے؟

    عالمی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ ایسے حساس وقت میں اگر کوئی ملک مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔

    اس تناظر میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے نہایت متوازن اور ذمہ دار سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کشیدگی عروج پر تھی، پاکستان نے پل کا کردار ادا کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کیا۔ یہ اقدام نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک مثبت اور تعمیری قدم ہے، جو پاکستان کی سفارتی بصیرت اور ذمہ دارانہ عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات اور امن کو ترجیح دی ہے، جو اس کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل اور مثبت پہلو رہا ہے۔

    حالیہ صورتحال میں یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ سفارتی سطح پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اور دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر واقعی جنگ بندی (سیز فائر) کے لیے دو ہفتوں کا وقت طے پایا ہے تو یہ ایک اہم موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

    تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ بندی کے ابتدائی لمحات ہمیشہ نازک ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اعتماد سازی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس عرصے کے دوران فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مذاکرات کو جاری رکھیں، تو ایک مستقل حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    اس تنازعے کی پیچیدگی اس بات میں ہے کہ یہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر پڑتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ اگر یہ کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو نہ صرف علاقائی استحکام خطرے میں پڑے گا بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی راستوں کی بندش کے باعث۔

    بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دے۔ بڑی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر قائم رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار ممالک کا کردار بھی نہایت اہم ہو جاتا ہے جو اعتماد سازی میں پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی دیرپا امن کے لیے صرف وقتی جنگ بندی کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے بنیادی مسائل کو حل کرنا ضروری ہوتا ہے، جن میں سیکیورٹی خدشات، علاقائی اثر و رسوخ، اور جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔ جب تک ان نکات پر کھلے دل سے بات چیت نہیں ہوگی، تب تک مستقل امن ایک خواب ہی رہے گا۔

    تاہم، موجودہ حالات میں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اگر جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے، تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی جو خطے کو ایک بڑے بحران سے بچا سکتی ہے دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ ایک دانشمندانہ قدم امن اور استحکام کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ اب یہ فیصلہ عالمی قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا کردار کس طرح درج کروانا چاہتی ہے۔

  • ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کے لیے امریکی جہازوں کی آمد کا دعویٰ سختی سے مسترد کردیا۔

    ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کا یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے،ایرانی کمانڈر نے امریکی جہاز کے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بحری جہاز کی نقل و حرکت اور گزرگاہ کا اختیار ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک محفوظ راستہ تیار کرنے کے مشن میں حصہ لیایہ دونوں جہاز بارودی سرنگیں ہٹانے کےمشن کو شروع کرنے کےبعد آبنائے ہرمز سےگزر کر خلیج میں داخل ہوگئے ہیں۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔

    اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔

  • امریکا ایران کی جانب سےمسائل کے حل کیلئے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے،اسحاق ڈار

    امریکا ایران کی جانب سےمسائل کے حل کیلئے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر جنگ بندی قبول کی اور اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت کی، جو خطے کے لیے مثبت پیشرفت ہے۔

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران اور امریکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر جنگ بندی قبول کی اور اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت کی، جو خطے کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے خطے میں فوری جنگ بندی کی اپیل کی گئی تھی، جس پر اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکا دونوں نے مثبت ردعمل دیا، دونوں ممالک کے وفود گزشتہ روز پاکستان پہنچے تاکہ اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کر سکیں پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی کے حصول میں مدد فراہم کی بلکہ اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے بھی بھرپور کوششیں کیں، جو پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ دنوں میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان مکالمے اور رابطوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکے دونوں ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے عزم اور مذاکرات میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسائل کے حل کے لیے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور پاکستان اس عمل میں سہولت کار کے طور پر اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔

  • بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود ایران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا-

    اسلام آباد میں ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک تفصیلی اور طویل مذاکرات ہوئے، تاہم اس کے باوجود کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔

    انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ صورتحال ایران کے لیے بری خبر ہے کیونکہ امریکا نے اپنے مؤقف اور شرائط کھل کر سامنے رکھیں، مگر ایران نے انہیں تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا،امریکا کو ایک واضح اور ٹھوس یقین دہانی درکار ہے کہ ایران نہ صرف اب بلکہ مستقبل میں بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ ایران ایک مضبوط اور قابلِ تصدیق عزم ظاہر کرے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور نہ ہی ایسے وسائل حاصل کرے گا جو اسے تیزی سے اس قابل بنا سکیں، تاہم اب تک ایسی کوئی حتمی یقین دہانی سامنے نہیں آئی اگرچہ معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ ایرانی وفد کے ساتھ کئی اہم اور ٹھوس امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس سے آئندہ مذاکرات کے لیے کچھ بنیاد ضرور قائم ہوئی ہے۔

    امریکی نائب صدر نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکی وفد مسلسل اپنے اعلیٰ حکام سے رابطے میں رہا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت پینٹاگون اور نیشنل سیکیورٹی اداروں سے متعدد بار مشاورت کی گئی، تاکہ ہر مرحلے پر حکمت عملی کو واضح رکھا جا سکے امریکی وفد اب بغیر کسی معاہدے کے واپس امریکا جا رہا ہے، تاہم مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے اور امید ہے کہ آگے چل کر پیشرفت ہو سکتی ہے۔

    جے ڈی وینس نے پاکستان کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ’حیرت انگیز کام‘ کیا اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔

    پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کیا، تاہم حتمی پیش رفت کے لیے ایران کی جانب سے واضح اور عملی یقین دہانی ناگزیر ہے،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوران پاکستان کی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا اور ان کی میزبانی و سفارتی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

    اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کوشش کی۔

    میڈیا سے گفتگو میں جے ڈی وینس نے خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مذاکر ا ت کے دوران انتہائی متحرک اور مثبت کردار ادا کیا،پاکستان کی قیادت نے ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر کام کرتے ہوئے امریکا اور ایران کو قریب لانے کی سنجیدہ کوشش کی۔

    نائب صدر کے مطابق مذاکرات کے دوران کئی ایسے مواقع آئے جہاں پاکستان کی قیادت نے فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اور بات چیت کو تعطل کا شکار ہونے سے بچایا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے نہ صرف اعلیٰ سطحی سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عملی طور پر بھی دونوں جانب اعتماد سازی کی کوششیں کیں۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ اگرچہ اس مرحلے پر کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، تاہم پاکستان کی کوششوں نے مذاکرات کو ایک مثبت سمت ضرور دی اور کئی اہم نکات پر پیشرفت ممکن بنائی امریکی وفد اب واشنگٹن واپس جائے گا جہاں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مذاکرات کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے فراہم کی گئی میزبانی اور سہولیات عالمی معیار کے مطابق تھیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے سنجیدہ اور فعال کردار ادا کر رہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں قیادت کی اور ان کی کاوشیں آئندہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہیں امی ہے کہ مستقبل میں جب بھی مذاکرات کا اگلا دور ہوگا، پاکستان اسی طرح ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

    امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں انہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے رخصت کیا۔

    یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے جن میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم امور، خصوصاً جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔ تاہم طویل مذاکرات کے باوجود فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔

    امریکی نائب صدر نے روانگی سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ مذاکرات میں پیشرفت کے کچھ پہلو سامنے آئے، لیکن بنیادی نکات پر اتفاق نہ ہو سکا انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے اس بات کی ٹھوس اور قابلِ تصدیق یقین دہانی درکار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

  • لاہور میں رواں سال پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف 16 مقدمات درج

    لاہور میں رواں سال پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف 16 مقدمات درج

    صوبائی دارالحکومت لاہور میں سال 2026ء کے دوران مختلف تھانوں میں پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف 16 مقدمات درج ہوئے۔

    پولیس ریکارڈ کے مطابق درج شدہ مقدمات میں کانسٹیبل سے لے کر سب انسپکٹر تک کے 26 اہلکار نامزد کئے گئے،درج شدہ مقدمات میں 4 سب انسپکٹر، 6 اے ایس آئی نامزد کئے گئے مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں 16 ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل بھی نامزد ہوئےمقدمات کا اندراج مالی کرپشن، ناقص تفتیش اور اختیارات سے تجاوز کرنے پر ہوا۔

    سائلین کو ہراساں کرنے اور مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے باعث بھی مقدمات درج ہوئے۔ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں پولیس کے خلاف 4 مقدمات درج ہوئے سٹی اور سول لائنز ڈویژن میں پولیس کے خلاف 3، 3 مقدمات کا اندراج کیا گیا،صدر، اقبال ٹاؤن اور کینٹ ڈویژن میں پولیس کے خلاف 2، 2 مقدمات درج کئے گئے-

  • دو امریکی جنگی جہازوں کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع

    دو امریکی جنگی جہازوں کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ نیوی کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

    امریکی سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا یہ آپریشن آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے محفوظ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے-

    سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر براڈ کوپر نےکہ آج ہم نے ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے اور جلد ہی اس راستے سے بحری صنعت کو بھی آگاہ کریں گے تاکہ یہاں سے تجارت کی آزادانہ آمد و رفت کو فروغ دیا جا سکے۔

    امریکی بحریہ کے جنگی جہاز یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن اور یو ایس ایس مائیکل مرفی آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج میں داخل ہو گئے ہیں جو ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے وسیع مشن کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔

    اس آپریشن کا مقصد دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ میں بحری آمد و رفت کو بحال کرنا ہے جو گزشتہ چھ ہفتوں سے عملی طور پر بند رہی جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں تاریخی خلل پیدا ہوا۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔

    اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔

  • اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات  اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں،امریکی میڈیا

    اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اہم مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے اشارے مل رہے ہیں، جہاں متعدد نشستیں خوشگوار اور نسبتاً مثبت ماحول میں منعقد ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان نہ صرف باضابطہ مذاکرات ہوئے بلکہ غیر رسمی سطح پر بھی روابط جاری رہے، حتیٰ کہ وفود نے ایک ساتھ عشائیہ بھی کیا، جس کے بعد اب باہمی نکات اور تجاویز کے تبادلے کا عمل جاری ہے۔

    سی این این کے مطابق پاکستانی ذرائع نے بتایا ہےکہ ایران امریکا مذاکرات آج یعنی اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں مذاکرات میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت وفود کی سطح پر مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق ممکنہ راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے ان کا مؤقف ہے کہ اگرچہ ابھی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا جا سکا، لیکن رابطوں کا تسلسل برقرار ہے اور مختلف آپشنز پر غور ہو رہا ہے۔

    پاکستان کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ مذاکراتی عمل کو مزید وقت دیا جائے پاکستانی حکام چاہتے ہیں کہ کم از کم ایک اور دن، ایک اور مرحلہ یا مزید توسیع دی جائے تاکہ فریقین کسی ٹھوس اور نتیجہ خیز معاہدے تک پہنچ سکیں تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

    پاکستانی سفارتی ذرائع اب بھی پرامید دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل دونوں فریقین، یعنی امریکہ اور ایران، کو مزید لچک دکھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار بالآخر دونوں ممالک کی قیادت پر ہوگا، جو یہ طے کرے گی کہ بات چیت کو کس انداز میں آگے بڑھانا ہے اور آئندہ کا طریقہ کار کیا ہوگامچونکہ دونوں فریق اب آمنے سامنے ملاقاتوں کا آغاز کر چکے ہیں، اس لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے، اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہتا ہے تو مستقبل میں مذاکرات کے تسلسل اور ممکنہ کامیابی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات آج اسلام آباد میں جاری ہیں، جنہیں عالمی سطح پر خاصی اہمیت دی جا رہی ہے،اس حوالے سے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہنچنے والا اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد ایران کے مفادات کا محافظ ہے،ایرانی وفد بہادری کے ساتھ مذاکرات کرے گا،عوام کیلیے ہماری خدمات ایک لمحہ بھی نہیں رکیں گی۔

    دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز جلد کھلنے جا رہی ہے،امریکی تیل لینے کیلئے خالی ٹینکرز کی بڑی تعداد آ رہی ہے،امریکی میڈیا پر صرف منفی خبریں دکھائی جا رہی ہیں۔

  • آشا بھوسلے دل کا دورہ پڑنے کے باعث  تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل

    آشا بھوسلے دل کا دورہ پڑنے کے باعث تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل

    بھارت کی لیجنڈری پلے بیک سنگر آشا بھوسلے کو اچانک طبیعت بگڑنے اور مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے کے باعث ممبئی کے بریف کینڈی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق 92 سالہ گلوکارہ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور وہ اس وقت اسپتال کے ایمرجنسی میڈیکل سروسز یونٹ میں زیرِ علاج ہیں ہفتے کے روز آشا بھوسلے کو اچانک سینے میں تکلیف محسوس ہوئی جس کے بعد انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال لے جایا گیا، ڈاکٹر پریت سامدانی نے ان کے اسپتال میں داخل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس وقت ایمرجنسی یونٹ میں ڈاکٹروں کی زیرِ نگرانی ہیں، تاہم انہوں نے ان کی صحت کے حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا-

    آشا بھوسلے کے اہل خانہ کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی حالت نازک ہے 8 ستمبر 1933 کو پیدا ہونے والی آشا بھوسلے بھارتی سینما کی سب سے زیادہ بااثر اور ورسٹائل گلوکارہ سمجھی جاتی ہیں ،وہ لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن ہیں۔

  • شاہد آفریدی نے اسلام آباد مذاکرات کو خوش آئند قدم قرار دیا

    شاہد آفریدی نے اسلام آباد مذاکرات کو خوش آئند قدم قرار دیا

    کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کو سراہتے ہوئے اسے خطے میں امن کے لیے خوش آئند قدم قرار دیا ہے۔

    اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ جب بات چیت کا عمل شروع ہوتا ہے تو نئے باب رقم ہوتے ہیں، اور پاکستان میں ایرانی اور امریکی وفود کی ملاقات ایک نہایت اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہےوہ پُرامید ہیں کہ ان مذاکرات سے نہ صرف کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔

    اس سے قبل بھی شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا تھا کہ اسلام امن کا درس دیتا ہے اور پاکستان ہمیشہ امن کے قیام میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔

  • اسلام آباد مذاکرات:امریکا اور ایران کے درمیان  سب سے اہم اور اعلیٰ سطحی براہِ راست سفارتی پیشرفت ہے، وائٹ ہاؤس

    اسلام آباد مذاکرات:امریکا اور ایران کے درمیان سب سے اہم اور اعلیٰ سطحی براہِ راست سفارتی پیشرفت ہے، وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد میں اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ’’فیس ٹو فیس‘‘ بات چیت جاری ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے سوشل میڈیا پوسٹ پر کہا گیا ہے کہ یہ ملاقات امریکا اور ایران کے درمیان برسوں بعد ہونے والی سب سے اہم اور اعلیٰ سطحی براہِ راست سفارتی پیشرفت ہے، اس وقت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر ’’فیس ٹو فیس‘‘ مذاکرات ہو رہے ہیں ،متعلقہ شعبوں کے تمام امریکی ماہرین اسلام آباد میں موجود ہیں جبکہ اضافی ماہرین واشنگٹن سے بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں-

    واضح رہے کہ پاکستان میں ایران امریکا کے درمیان مذاکرات جاری ہیں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جب کہ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر بھی موجود ہیں، سینئر مشیران میں ڈاکٹر اینڈریو بیکر اور مائیکل وینس بھی وفد کا حصہ ہیں جو مختلف شعبوں میں تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔