Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں،روس

    بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں،روس

    روسی وزارت خارجہ نے کہا ہےکہ عالمی برادری کی نظریں اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات پر مرکوز ہیں۔

    روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خلیج فارس کے خطے میں پیچیدہ بحران کے حل کا ایک اہم موقع پیدا ہو رہا ہے، بیشتر ممالک ان مذاکرات کی کامیابی کو نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے لیے فائدہ مند سمجھتے ہیں اور اس سے امن کی راہ ہموار ہونے کی امید رکھتے ہیں۔

    تاہم روس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں بیان میں ان عناصر پر تنقید کی گئی جو ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد اب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مسائل کا ذمہ بھی ایران پر ڈال رہے ہیں۔

    روسی وزارت خارجہ کے مطابق واقعات کی اصل ترتیب کو مسخ نہیں کیا جانا چاہیے اور یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ 28 فروری تک آبنائے ہرمز ایک اہم عالمی گزرگاہ کے طور پر بلا تعطل فعال رہی اس وقت سب سے اہم ہدف خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی کا خاتمہ ہے، جس کے اثرات خلیجی ممالک ، لبنان اور اسرائیل-لبنان سرحدی علاقوں تک پھیل چکے ہیں، جہاں فوجی سرگرمیاں فوری طور پر بند ہونا ضروری ہیں۔

    روس نے زور دیا کہ تمام تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے اور اس سلسلے میں وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے روسی وزارت خارجہ نے اسلام آباد مذاکرات کے شرکا پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو اس اہم سفارتی موقع کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔

    روس نے خلیج فارس کے لیے ایک جامع سیکیورٹی ڈھانچے کی اپنی دیرینہ تجویز کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام ساحلی ممالک، بشمول عرب ریاستوں اور ایران کے درمیان مکالمہ اور بیرونی شراکت داروں کی تعمیری شمولیت ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

  • فرانسیسی صدر کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، اسلام آباد مذاکرات سے بھر پور فائدہ اٹھانے پر زور

    فرانسیسی صدر کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، اسلام آباد مذاکرات سے بھر پور فائدہ اٹھانے پر زور

    فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کر کےاسلام آباد میں جاری مذاکرات کے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے پر زور دیا-۔

    فرانسیسی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ان کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہےانہوں نے ایرانی ہم منصب پر زور دیا کہ اسلام آباد مذاکرات کی صورت میں ملنے والے اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے تاکہ خطے میں کشیدگی میں مستقل کمی کی راہ ہموار کی جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خطے کی سیکیورٹی کے لیے ایک ایسا ٹھوس اور جامع معاہدہ ضروری ہے جس میں تمام متعلقہ ممالک شامل ہوں میکرون نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور سیکیورٹی بحال کرے اور کہا کہ فرانس اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    فرانسیسی صدر نے لبنان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے جنگ بندی کے مکمل احترام کی اہمیت پر بھی زور دیاانہوں نے لبنانی حکومت کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فرانس لبنانی حکام کے اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے صرف لبنانی حکام ہی ریاست کی خود مختاری کا استعمال کرنے اور لبنان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے قانونی اور آئینی حق دار ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود اعلیٰ سطح وفد ایران کے مفادات کا محافظ ہے اور وہ اسی جذبے کے تحت مذاکرات میں شریک ہے ’ایکس‘ پر پیغام میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے نتائج کچھ بھی ہوں، ایران کی ریاست عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

  • سعودی عرب اور قطر کی پاکستان کیلئے 5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کی یقین دہانی

    سعودی عرب اور قطر کی پاکستان کیلئے 5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کی یقین دہانی

    سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کا مالی تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    ترک خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب اور قطر کی جانب سے فراہم کی اس مالی تعاون سے اسلام آباد کو اپنے کمزور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور بیرونی ادائیگیوں میں سہولت ملے گی یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض بھی واپس کرنا ہے-

    سعودی عرب کے وزیر خزانہ محدم بن عبداللہ نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی جس میں اقتصادی تعاون اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی،اس اہم ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈرا بھی موجود تھے اگرچہ اس ملاقات کے بعد کوئی باضابطہ معاہدہ سامنے نہیں آیا لیکن دونوں ممالک کے درمیان مالی معاونت سے متعلق بات چیت شروع ہو چکی ہے۔

    ملاقات میں پاکستان نے سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست کی جس میں موجودہ نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت (Oil Financing Facility) کی مدت میں توسیع شامل ہے جو رواں ماہ کے آخر میں ختم ہونے والی ہے،ملاقات کا محور اقتصادی تعاون اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں علاقائی صورتحال رہی۔

    سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے جس سے پاکستان کو کمزور زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور بیرونی ادائیگیاں کرنے میں مدد ملے گی ایک سینیئر پاکستانی اہلکار کے مطابق پاکستان اپریل کے اختتام تک متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرے گا کیونکہ ابوظبی نے فوری ادائیگی کی درخواست کی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت تقریباً 16.4 ارب ڈالر ہیں تاہم بڑھتے ہوئے درآمدی اخراجات اور بیرونی ادائیگیوں کے باعث دباؤ برقرار ہے پاکستان مختلف بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مالی تعاون اور آئندہ اہم مالی اجلاسوں کے لیے بھی رابطے میں ہے۔

  • آج امریکی  بحریہ کے کئی جنگی جہاز  آبنائے  ہرمز  سے گزرے  ہیں،امریکی ویب سائٹ

    آج امریکی بحریہ کے کئی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں،امریکی ویب سائٹ

    امریکی نیوز ویب سائٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہےکہ آج امریکی بحریہ کے کئی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

    ویب سائٹ کے مطابق یہ واقعہ ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار پیش آیا ہے اور یہ اقدام ایران کے ساتھ کسی قسم کی ہم آہنگی کے بغیرکیا گیا اس کارروائی کا مقصد تجارتی بحری جہازوں کے لیے اعتماد بڑھانا تھا تاکہ وہ اس راستے سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں، یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں دونوں فریقین کے درمیان امن مذاکرات ہو رہے ہیں۔

    ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ یہ آپریشن بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا، اہلکار کے مطابق امریکی بحری جہاز مشرق سے مغرب کی سمت آبنائے ہرمز سے خلیج کی طرف گئے اور پھر واپس اسی راستے سے گزرتے ہوئے بحیرہ عرب کی طرف روانہ ہوئے۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری جہاز یواے ای کی فجیرہ بندرگاہ سے آبنائے ہرمز روانہ ہوا تھا لیکن ایرانی فورسز کی دھمکی پر امریکی جنگی بحری جہاز واپس لوٹ گیا ایرانی فوج نے اسلام آباد میں وفدکو امریکی جنگی جہاز کی پیش قدمی سے آگاہ کر دیا تھا اور ایران نےثالث کو جنگی جہازکو آگے بڑ ھنے کی صورت میں نشانہ بنانے کے فیصلے سے بھی آگاہ کردیا تھا۔

    تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی کوئی باضابطہ وارننگ موصول نہیں ہوئی جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اب ہم آبنائے ہرمز کو صاف کرنے کا عمل شروع کر رہے ہیں، ہرمز سے بارودی سرنگوں ہٹانے سے چین، جاپان، جنوبی کوریا، فرانس اور جرمنی بھی مستفید ہوں گے۔

  • پاکستانی افواج کے دستے کی تعیناتی مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے،سعودی وزارت دفاع

    پاکستانی افواج کے دستے کی تعیناتی مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے،سعودی وزارت دفاع

    سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں برادر ملکوں کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کا خصوصی دستہ مشرقی صوبے ظہران میں واقع شاہ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گیا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان کے مطابق، مشرقی صوبے ظہران پہنچنے والے پاکستان ایئرفورس کے دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس تعیناتی کا بنیادی مقصد علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سلامتی اور استحکام کی حمایت اور دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    دونوں مسلح افواج کے درمیان فوجی ہم آہنگی اور تعاون تاریخ سے جڑا ہوا ہے جسے حال ہی میں SMDA کی شکلدی گئی۔ پاکستانی فوجی دستے کئی دہائیوں سے مملکت میں تعینات ہیں اور مملکت کے دفاع اور سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم فولادی اور ناقابل مذاکرات ہے اس فوجی تعیناتی اور اسلام آباد میں ہونے والی سفارتی بات چیت کے درمیان کوئی تعلق پیدا کرنا غیر دانشمندانہ، غیر ضروری اور میرٹ کے بغیر ہے تاہم جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی طاقت اور فوجی موقف کے ذریعے قریبی پڑوس اور مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے معاملات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے مذاکراتی وفود اسلام آباد میں موجود ہیں ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے مجوزہ نکات میں مشرقِ وسطیٰ خصوصاً خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوج کا انخلا بھی شامل ہے، ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں موجود فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا تھا اور ان حملوں میں امریکی فوج کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور عسکری تعاون کی ایک مضبوط اور طویل تاریخ ہے۔ دونوں برادر ملکوں نے ستمبر 2025 میں باقاعدہ ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جس کے تحت نے اس عزم کا اعادہ کیا گیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عسکری اور دفاعی محاذ کے علاوہ گہرے اقتصادی روابط بھی قائم ہیں پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو فوجی تعاون، تربیتی اور مشاورتی خدمات فراہم کرتا آ رہا ہے جب کہ دوسری جانب سعودی عرب نے مشکل معاشی حالات میں بارہا پاکستان کو مدد فراہم کی ہے۔

  • میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں،امریکی صدر

    میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں،امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس وقت مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے،آبنائے ہرمز جلد ہی کھل جائے گا، اور خالی بحری جہاز "لوڈ اپ” کے لیے امریکہ کی طرف بھاگ رہے ہیں، لیکن ‘فیک نیوز’ میڈیا حقائق کے برعکس تصویر کشی کررہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں مبتلا ہو کر ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں، ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار سسٹم اور دفاعی نظام مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے،ڈرونز اور میزائل بنانے والی فیکٹریاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور ایرانی قیادت اب منظر نامے سے غائب ہو چکی ہے۔

    امریکی صدر نے الحمدللہ کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہاکہ اب ایران کے پاس دنیا کو ڈرانے کے لیے کچھ نہیں بچا اس وقت سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز میں جہاز کے سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا جانا ہے جس سے بڑی تباہی ہوسکتی ہے ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی تمام 28 کشتیاں سمندر برد ہو چکی ہیں، امریکا اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہتا رہا ہے اور یہ دنیا پر ہمارا بڑا احسان ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا اب دنیا بھر کے ممالک بشمول چین، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی ممالک کے مفاد میں آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا کام شروع کر رہا ہے، کیونکہ ان ممالک میں یہ کام کرنے کی ہمت نہیں تھی۔

    امریکی صدر نے ایک دلچسپ دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر سے تیل کے خالی بحری جہاز اب امریکا کا رخ کر رہے ہیں تاکہ وہاں سے تیل بھر سکیںانہوں نے اسے امریکی معیشت اور توانائی کی طاقت کی فتح قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ دنیا اب توانائی کے لیے امریکا کی طرف دیکھ رہی ہے۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بے ترتیب انداز میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔

    امریکی حکام کے بقول ایران نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئیں ان بارودی سرنگوں کے درست مقامات کا ریکارڈ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھا جب کہ پانی کی لہروں کے باعث کچھ مائنز اپنی جگہ سے سرک یا بہہ گئیں یہی وجہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے اور ایرانی فورسز اسے ہٹانے کی فوری صلاحیت بھی نہیں رکھتیں۔

    امریکی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ زمینی بارودی سرنگوں کے برعکس بحری سرنگوں کی تنصیب اور پھر ان کو وہاں سے ہٹانا زیادہ مشکل عمل ہے۔ جس میں مہارت اور صلاحیت درکار ہیں۔

  • اقوام متحدہ کا پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا خیرمقدم

    اقوام متحدہ کا پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا خیرمقدم

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مابین شروع ہونے والے مذاکرات کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔

    یو این ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خلوصِ نیت کے ساتھ ان مذاکرات کو آگے بڑھائیں سیکریٹری جنرل نے ان مذاکرات کو خطے میں امن کی جانب ایک ‘اہم پیش رفت’ قرار دیا ہے انہوں نے فریقین کو مشورہ دیا ہے کہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور تعمیری بات چیت کے ذریعے ایک ایسے جامع معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے جو پائیدار ثابت ہو۔

    واضح رہے کہ یہ تاریخی مذاکرات پاکستان کی میزبانی اور ثالثی میں اسلام آباد میں منعقد ہو رہے ہیں، جس کا بنیادی مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی کو ختم کرنا اور سفارتی حل تلاش کرنا ہے،مریکا اور ایران کے درمیان پاکستان میں مذاکرات جاری ہیں دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہے، کیوں کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے براہِ راست اثرات دنیا بھر کی مارکیٹوں خصوصاً تیل کی عالمی منڈی پر مرتب ہوئے ہیں۔

    امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں سب سے اہم نکتہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر جہازوں کی آمد و رفت پر عائد پابندی ختم کروانا ہے، جو صرف امریکا کا ہی نہیں بلکہ یورپ سمیت مختلف ممالک کا سب سے اہم مطالبہ ہے-

  • اسحاق ڈار سے ایرانی مرکزی بینک کے گورنر کی اہم ملاقات

    اسحاق ڈار سے ایرانی مرکزی بینک کے گورنر کی اہم ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی کی اسلام آباد میں امن مذاکرات کے دوران ملاقات ہوئی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مستقل مکالمے کا تسلسل وقت کی اہم ضرورت ہے،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ڈاکٹر عبدالناصر ہمتی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام ہی وہ بنیاد ہے جس پر معاشی تعاون اور مشترکہ ترقی کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔

    دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ علاقائی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے پرامن ماحول ناگزیر ہے ملاقات میں اسلام آباد میں جاری سفارتی کوششوں اور ‘اسلام آباد ٹاکس’ کی اہمیت کو سراہا گیا، جو خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہیں-

  • اسلام آباد مذاکرات:ایرانی قونصلیٹ اور صحافیوں کی درمیان دلچسپ نوک جھونک

    اسلام آباد مذاکرات:ایرانی قونصلیٹ اور صحافیوں کی درمیان دلچسپ نوک جھونک

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق نہایت اہم اور حساس مذاکرات جاری ہیں، اسی دوران ممبئی میں واقع ایرانی قونصلیٹ جنرل کی جانب سے دلچسپ بیان سوشل میڈیا پر سامنے آیا –

    ممبئی میں واقع ایرانی قونصلیٹ جنرل نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو پوسٹ میں ایران کے صحافیوں پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ایرانی صحافی اسلام آباد میں ایران-امریکا جنگ بندی مذاکرات کے لیے موجود ہیں اور ہمیں ہوٹل کی ویڈیوز ایسے بھیج رہے ہیں جیسے یہ کوئی ٹریول ولاگ ہو،آیا یہ رپورٹنگ ہے یا چھٹیوں کی ویڈیوز؟

    کچھ ہی دیر بعد ایرانی قونصلیٹ جنرل کی جانب سے ایکس پر ایک اور ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں ایرانی صحافی نے رپورٹنگ سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی رپورٹنگ کرتے ہیں، صرف ریلز نہیں بناتے-

    ایرانی قونصلیٹ جنرل ممبئی کے ایکس ہینڈل پر شئیر کی گئی ویڈیو میں اسلام آباد میں قائم جناح کنونشن سینٹر دکھایا گیا تھا جہاں دنیا بھر سے صحافی، تکنیکی عملہ اور دیگر حکام اسلام آباد ٹاک کی کوریج کے لیے موجود ہیں –

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے تاریخی مذاکرات جاری ہیں، ان امن مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ آج صبح اسلام آباد پہنچے جبکہ ایرانی وفد رات کو ہی اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔

  • اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز

    پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران ایک دہائی بعد آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں۔

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں جاری ہیں،جہاں دونوں ممالک آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد ابتدائی طور پر مذاکرات کی نوعیت کے بارے میں ابہام پایا جارہا تھا کہ یہ بات چیت ثالثوں کے ذریعے ہوگی یا فریقین آمنے سامنے بیٹھیں گے۔

    پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن ’پی ٹی وی‘ کے علاوہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (آئی آر این اے) نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی تصدیق کی ہے اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جب کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔

    ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق مذاکرات کا عمل اب ’ایکسپرٹ فیز‘ میں داخل ہو چکا ہے، اور ایرانی وفد کی تکنیکی کمیٹیوں کے متعدد ارکان بھی مذاکرات کے مقام پر موجود ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے یہ مذاکرات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہے، جس کے بعد دونوں وفود نے وقفہ لیا ہے۔

    اب تک دو بار رسمی بات چیت ہو چکی ہے پہلی بار کے دوران، امریکی اور ایرانی وفود نے الگ الگ ملاقاتیں کیں تاہم، دوسرے مرحلے میں، امریکی اور ایرانی وفود نے ایف ایم کی موجودگی میں براہ راست بات چیت کی،فی الحال، ایک ورکنگ ڈنر جاری ہے عشائیہ کے بعد، تیسرا تیسرا ٹیک مباحثہ شروع ہونے والا ہے، جس میں دوسرے درجے کے وفود بہتر طریقوں پر غور و خوض کریں گے،اب تک، بات چیت کا مجموعی لہجہ اور نتیجہ مثبت رہا ہے،تاہم، آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ایک تعطل برقرار ہے، کیونکہ ایرانی فریق اپنے موقف پر ثابت قدم ہے، اس نے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے مشترکہ کنٹرول کے لیے کسی بھی طرح کا سمجھوتہ کرنے یا اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں جاری مذاکرات کی کوریج کے لیے کئی ملکوں کے صحافی اور مندوبین جناح کنونشن سینٹر میں موجود ہیں اس اہم ترین معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے وفاقی وزارتِ اطلاعات صحافیوں کو براہِ راست رسائی دینے کے بجائے مذاکرات کی پیش رفت سے وقتاً فوقتاً آگاہ کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان میں مذاکرات جاری ہیں دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہے، کیوں کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے براہِ راست اثرات دنیا بھر کی مارکیٹوں خصوصاً تیل کی عالمی منڈی پر مرتب ہوئے ہیں۔

    امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں سب سے اہم نکتہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر جہازوں کی آمد و رفت پر عائد پابندی ختم کروانا ہے، جو صرف امریکا کا ہی نہیں بلکہ یورپ سمیت مختلف ممالک کا سب سے اہم مطالبہ ہے-

    اسلام آباد مذاکرات سے قبل عمان کی ثالثی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے۔ پہلا دور اپریل 2025 میں مسقط میں ہوا، جس میں امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف جب کہ ایران کی جانب سے عباس عراقچی شریک ہوئے فروری 2026 کے وسط میں بھی عمان کی ثالثی میں جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے جہاں فریقین نے جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی اصولوں پر کسی حد تک اتفاق کیا۔ تاہم 28 فروری کو جنیوا مذاکرا ت کی ناکامی کے بعد امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کردیا پاکستان کی سفارتی کوششوں سے پہلے فریقین جنگ بندی پر آمادہ ہوئے اور اب 11 سال بعد دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا انعقاد ممکن ہوا ہے اور فریقین ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔