Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار

    متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار

    متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیارہے-

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز دبئی میں پاکستان بز نس کونسل کی تقریب میں اماراتی حکومت کے پاکستان میں تین بڑے سرمایہ کاری منصوبوں سے آگاہ کیا گیا۔ جن کی مالیت کا تخمینہ ایک ارب ڈالرز سے زائد ہے۔

    اقوام متحدہ میں عرب ممالک کا قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات پر …

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان شپنگ اینڈ لوجسٹک کوریڈور پر کل دستخط ہوں گے پاکستان ایکسپورٹ پراسسنگ زون کے چیئرمین ڈاکٹر سیف الدین جونیجو نے وفد کے ہمراہ تقریب میں شرکت کی۔

    متحدہ عرب امارات کو پاکستان کے پانچ سرکاری اداروں کے شیئرز خریدنے کی بھی پیشکش کی گئی۔

    لاہور میں ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات،عمران خان پر مقدمہ درج

    پاکستان ایکسپورٹ پراسسنگ زون کے چیئرمین ڈاکٹر سیف الدین جونیجو کا کہنا تھا کہ دبئی فری زونز کی طرز پر پاکستان ایکسپورٹ پراسسنگ زونز قائم کیے جائیں گے اس سے برآمدات کا ہدف تین سال میں پانچ ارب ڈالر ہے، ان کا کہنا تھا کہ فی الحال برآمدات ایک ارب ڈالر ہیں۔

    نائب چیئرمین ڈی پی ورلڈ فخر عالم نے تقریب کے دوران بتایا کہ متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہے۔

    ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے

  • بھارتی فوجی افسران کی سرکاری فنڈزپرعیاشیاں اور شاہ خرچیاں، نوجوان نالاں،عام فوجیوں سے امتیازی سلوک کے انکشافات

    بھارتی فوجی افسران کی سرکاری فنڈزپرعیاشیاں اور شاہ خرچیاں، نوجوان نالاں،عام فوجیوں سے امتیازی سلوک کے انکشافات

    بھارتی فوجی افسران کی عیاشیوں سے متعلق ہو شر با انکشافات سامنے آ گئے-

    باغی ٹی وی:بھارتی جوان اپنے افسران کی سرکاری فنڈز سے عیاشیوں پر سخت نالاں ہیں اسی وجہ سے بھارتی فوج میں افسران اور جوانوں کے درمیان خلیج بڑھ گئی-

    بھارتی فوج نے اپنے ہی گاؤں پر گولہ گرادیا ،3 دیہاتی ہلاک اور متعدد زخمی

    رپورٹ کے مطابق ایک بھارتی جنرل کی تنخواہ 13 بھارتی فوجی جوانوں کی تنخواہ کے برابر ہےنیا کمیشن حاصل کرنے والے لیفٹیننٹ کی تنخواہ32سال کی سروس والے صوبیدار میجر سے3گُنا زیادہ ہےبھارتی فوجی افسران کی تنخواہیں سول بیوروکریسی سے29فیصد زائد ہیں۔

    کرنل سے اوپر کے رینک کے افسران کوسی ایس ڈی سے مُفت شراب کی مراعات حاصل ہیںجوانوں کے لیے صر ف 4بوتلیں جبکہ افسرانِ بالا کیلئے کوئی حد متعین نہیں، رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجی افسران مُفت شراب لے کر مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں، کرنل رینک سے اوپر کے افسران کو سالانہ ساڑھے 3 لاکھ روپے کی مُفت شراب کی اجازت ہے۔

    فوجی افسران کی بیگمات کوسی ایس ڈی سے میک اپ کا سامان خریدنے پر 45فیصد ڈسکاؤنٹ میسر ہے، فوجی افسران کو سی ایس ڈی سے گروسری خریدنے پر 50فیصدجی ایس ٹی معاف ہے۔

    فوجی افسران نے انکم ٹیکس کم ادا کرنے کیلئے قانون سازی کر لی ہے جبکہ جوانوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔افسران مُفت سفر کی سہولت سے مستفید ہوتے ہیں جبکہ جوان اپنے خرچ پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

    خواتین پرمظالم اور معاشرتی ناانصافی ،مودی کا بھارت دنیا میں پہلے نمبرپر آگیا

    بھارتی قانون کے مطابق ضلعی زمین کا 20واں حصہ ریٹائرڈ فوجیوں کے لیے مختص ہے، ضلعی زمین کا 20واں حصہ زیادہ تر فوجی افسران لے اُڑتے ہیں۔

    کالجز اور یونیورسٹیزمیں ایک سے5فیصد کوٹہ ریٹائرڈ فوجیوں کیلئے مختص لیکن وہ بھی افسران ہڑپ کر جاتے ہیں، اس کے علاوہ بھارتی فوجی افسران کو سروس کے دوران ملنے والے تحائف بھی ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔

    بھارتی فوجی افسران کی تنخواہیں سول بیوروکریسی سے29فیصد زائد ہیں، رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجی افسران مُفت کا راشن بھی ہڑپ کر رہے ہیں، فوجی افسران مفت راشن بھی لیتے ہیں اور راشن الاؤنس کی مد میں پیسے بھی حاصل کرتے ہیں۔

    سینئر فوجی افسران کی تقریبات میں جونیئر افسران، اُن کی بیگمات اور جوانوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد ہے،ماضی میں پی ایس ایف جوان تیج بہادر کو غیر معیاری کھانے پر اعتراض کرنے پر سروس سے ہی برخاست کر دیا گیا تھا۔

    ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے

    28جنوری2019کو بارڈر سیکورٹی فورس(بی ایس ایف) سے تعلق رکھنے والے تیج بہادر کا22سالہ بیٹا روہت پُراسرار طور پر مردہ پایا گیا، 2018میں سپاہی سندو جوگی داس نے الزام عائد کیا تھا کہ افسران جوانوں کا ویلفیئر فنڈ عیاشیوں پر خرچ کرتے ہیں۔

    2017میں 33سالہ رائے میتھیو نے بھارتی فوجی افسران کی طرف سے بٹ مینوں کے استحصال پر احتجاج کیا تھا، رائے میتھیو کی لاش دیو لالی کینٹ کے کمرے میں پنکھے سے لٹکتی پائی گئی۔

    2016میں سپاہی چندو بابو لال بھارتی افسران کے ناروا سلوک کی وجہ سے بارڈر کراس کر کے پاکستان آگیا تھا، سپاہی چندو بابو لال کی وطن واپسی پر تشدد، ناروا سلوک اور مسلسل ہراسگی کے باعث استعفیٰ دینا پڑا۔

    کیا سیاسی مقاصد کے حصول میں استعمال کی خاطرمُودی سرکار بھارتی فوج کے افسران کی عیاشیوں پر پردہ ڈال رہی ہے؟کیا دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی سینا عیاشیوں، اقربا پروری اور سیاست کی نظر ہو رہی ہے؟-

    6 ملکی خارجہ اجلاس:مغربی ممالک پرافغانستان کے منجمد فنڈزبحال کرنے کا مطالبہ

  • تحریک انصاف کے رہنما عامر کیانی اورعمران اسماعیل کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج

    تحریک انصاف کے رہنما عامر کیانی اورعمران اسماعیل کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج

    راولپنڈی: تحریک انصاف کے رہنما عامر کیانی اور عمران اسماعیل کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: تحریک انصاف کے دونوں رہنماؤں کے خلاف مقدمہ اینٹی کرپشن راولپنڈی میں درج کیا گیا ہے۔

    سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب زبیر احمد خان گرفتار

    مقدمے کے متن کے مطابق غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی تشہیر کرکے شہریوں سے فراڈ کیا گیا، مقدمے میں ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک سمیت 10 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔

    ینٹی کرپشن کے مطابق نامزد ملزمان میں عامر کیانی کا بیٹا فہد کیانی بھی شامل ہے جبکہ محکمہ مال کے دو پٹواریوں کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

    ہیکرز نے تاوان ادا نہ کرنے پرمریضہ کی برہنہ تصاویر شئیر کر دیں

    ملزمان نے موضع ہتھیال میں غیرمنظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر شہریوں سے دھوکا کیا، ہاؤسنگ سوسائٹی کے پاس آر ڈی اے کا این او سی نہیں ہے۔

  • الیکشن کمیشن کے ساتھ غیر مشروط تعاون کریں گے،راناثنا اللہ

    الیکشن کمیشن کے ساتھ غیر مشروط تعاون کریں گے،راناثنا اللہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے ساتھ غیر مشروط تعاون کریں گے-

    باغی ٹی وی: رانا ثنااللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم توہین عدالت کا رسک نہیں لے رہے، عمران خان نے عدالتوں میں پیش ہونے سے انکار کیا تو لازمی ہے اسے گرفتار کرکے پیش کیا جائے گا، یہ عدالت میں پیش ہو، بری ہوتا ہے تو ہوجائے، سزا ملے تو سامنا کرے۔

    عمران خان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں …

    انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ساتھ غیر مشروط تعاون کریں گےاپنے وسائل الیکشن کمیشن کےسامنے رکھیں گے 30 اپریل کو الیکشن ہوتا ہے تو حصہ لیں گے، آئین میں صرف 90 دن میں الیکشن کا درج نہیں، آئین میں درج ہے کہ تمام الیکشن ایک ساتھ ہونا چاہیے اور تمام صوبوں میں نگران حکومت ہونا چاہیے۔

    سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب زبیر احمد خان گرفتار

    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ الیکشن میں عدلیہ نے اپنے لوگ دینے سے انکار کردیا ہے اور انتخابی عملے میں محکمہ تعلیم کا عملہ 85 فیصد ہوتا ہے، وہ مردم شماری میں مصروف ہے جب کہ آرمی نے بتایا کہ دہشت گردی صورتحال کے پیش نظر آرمی کے پاس فورسز کی کمی ہے۔

    ہیکرز نے تاوان ادا نہ کرنے پرمریضہ کی برہنہ تصاویر شئیر کر دیں

  • خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کی  عدالت حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کی عدالت حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    خاتون جج کو دھمکی دینے سے متعلق کیس میں عمران خان کی آج عدالت حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی گئی-

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے خاتون جج کو دھمکانے کے کیس عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں خاتون جج کو دھمکی دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی چیئرمین پی ٹی آ ئی عمران خان نے آج عدالت حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی-درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان کی صحت اجازت نہیں دیتی کہ اسلام آباد سفر کر سکیں، چیئرمین پی ٹی آ ئی عمران خان کی جان کو خطرہ سنجیدہ نوعیت کا ہے درخواست میں استدعا کی گئی کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر آج حاضری سے استثنیٰ دیا جائے-عمران خان کے وکیل نے کہا کہ عمران خان کو سیکیورٹی تھریٹس اور لاہور میں دفعہ 144 نافذ ہے، پنجاب حکومت نے پرامن ریلی پر شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں برسائیں،عمران خان کی رہائش گاہ سے نقل حرکت کرنا مشکل ہے-

    عمران خان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں …

    عدالت نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت13 مارچ ملتوی کردی

  • اسلام آباد اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    اسلام آباد اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    باغی ٹی وی: زلزلے کے باعث لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.3 ریکارڈ کی گئی اور زلزلے کا مرکز تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔ زلزلے کے جھٹکے چین کے مختلف علاقوں میں بھی تقسیم کیے گئے۔

  • سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب زبیر احمد خان گرفتار

    سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب زبیر احمد خان گرفتار

    لاہور: سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب زبیر احمد خان کو رات گئے گرفتار کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی: سابق چیئرمین چیف منسٹر کمپلینٹ سیل پنجاب اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کے مشیر زبیر احمد خان کو رات گئے ان کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا۔


    سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑیاں زبیر احمد خان کے گھر کے باہر آ کر رکیں اور انہیں گھر سے گرفتار کر کے اپنے ہمراہ لے گئیں۔

    زبیر احمد خان کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں ئیں اور نہ ہی پولیس کی جانب سے کوئی بیان جاری کیا گیا ہے۔

  • ہیکرز نے تاوان  ادا نہ کرنے پرمریضہ کی برہنہ تصاویر شئیر کر دیں

    ہیکرز نے تاوان ادا نہ کرنے پرمریضہ کی برہنہ تصاویر شئیر کر دیں

    روسی ہیکرز نے تاوان ادا نہ کرنے پر امریکی مریضہ کی برہنہ تصاویر شیئر کردی۔

    باغی ٹی وی: عالمی میڈیا کے مطابق روسی ہیکرز نے 4 مارچ کو امریکی ریاست پینسلوینیا کے اسپتال لی ویلی ہیلتھ نیٹ ورک کے ڈیٹا پر سائبر حملہ کیا جس کے بعد 6 مارچ کو اسپتال انتظامیہ نے سائبر حملے کے حوالے سے سکیورٹی اداروں کو آگاہی دی تاہم ہیکرز اسپتال کا ڈیٹا چرانے میں کامیاب رہے۔

    اقوام متحدہ میں عرب ممالک کا قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات پر …

    ہیکرز نے اسپتال انتظامیہ کو ای میل کی گئی جس میں انہوں نے لکھا کہ لمبے عرصے سے ہم آپ کے نیٹ ورک میں موجود تھے اور آپ کا تمام ڈیٹا ہمارے پاس آگیا ہے، جس میں مریضوں کی تفصیلات، ان کے پاسپورٹس کی مندرجات، سوال نامے، نجی معلومات اور برہنہ تصاویر شامل ہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق ڈارک ویب پر ڈیٹا جاری نہ کرنے کے بدلے میں ہیکرز کی جانب سے 15 لاکھ امریکی ڈالرز تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    بھارتی فوج نے اپنے ہی گاؤں پر گولہ گرادیا ،3 دیہاتی ہلاک اور متعدد زخمی

    اسپتال کی جانب سے تاوان کی رقم دینے سے انکار کے بعد ہیکرز نے کینسر کی مریضہ کی تفصیلات پر مبنی سات دستاویزات اور ریڈی ایشن اونکولوجی ٹریٹمنٹ لیتے ہوئے تین برہنہ تصاویر کے اسکرین شاٹس سمیت دیگر ڈیٹا ڈارک ویب پر اپلوڈ کر دیا۔

    ہیکرز نے کہا کہ ہمارے بلاگ کو دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے، کیس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جائے گی، اور آپ کے کاروبار کو کافی نقصان پہنچے گی-

    امریکی محکمہ صحت اور انسانی خدمات نے جنوری میں کہا تھا کہ بلیک کیٹ نے 1.5 ملین ڈالر تک تاوان کا مطالبہ کیا ہےایلنٹاؤن، پنسلوانیا میں مقیم کمپنی نے کہا کہ مریض کا ڈیٹا شائع کرنا ‘قابل نفرت’ تھا۔

    کمپنی نے کہا، ‘یہ غیر ذمہ دارانہ مجرمانہ فعل کینسر کا علاج کروانے والے مریضوں کا فائدہ اٹھاتا ہے، اور LVHN اس نفرت انگیز رویے کی مذمت کرتا ہے-

    ہیلتھ کیئر کمپنی کے سی ای او برائن نیسٹر نے کہا کہ وہ ابھی تک اس واقعے میں ملوث معلومات کی شناخت کر رہے ہیں ہم ان لوگوں کو نوٹس فراہم کریں گے جن کی معلومات اس میں شامل تھیں۔

  • سیمین دانشور ایران کی نامور ادیبہ ،مصنفہ،ناول نگار اور مترجم

    سیمین دانشور ایران کی نامور ادیبہ ،مصنفہ،ناول نگار اور مترجم

    سیمین دانشور کی ولادت بروز جمعرات 19 شعبان 1339ھ مطابق 28 اپریل 1921ء مطابق 8 اُردی بہشت 1300 شمسی ہجری کو شہر شیراز میں ہوئی۔

    والدین، ابتدائی حالات و تحصیل علم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سیمین کے والد محمد علی دانشور ماہر طبیعیات تھے۔ سیمین کی والدہ مصورہ تھیں۔ ابتدا میں اُنہیں ایک ایسے اسکول میں داخل کروایا گیا جہاں فارسی اور انگریزی کی ترویج جاری تھی۔ 1938ء کے موسم خزاں میں سیمین نے تہران یونیورسٹی میں فارسی ادب کے شعبہ میں داخلہ لیا۔ 1941ء میں جب وہ یونیورسٹی کے تیسرے سال میں تھیں تو اُن کے والد محمد علی دانشور کا اِنتقال ہو گیا۔ والد کے اِنتقال کے بعد اُنہوں نے بطور کفیل خاندان ریڈیو تہران کے لیے کچھ مکالمے ” گمنام شیرازی“ کے نام سے لکھنا شروع کیے۔ علاوہ ازیں وہ کھانوں کی ترکیبوں کے متعلق بھی لکھتی رہیں۔

    سیمین دانشور بطور ادیبہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1948ء میں جب وہ 27 سال کی تھیں، تو سیمین کا پہلا کہانیوں کا مجموعہ ” آتش خاموش“ شائع ہوا۔ یہ اِیران میں شائع ہونے والا پہلا مجموعہ تھا جو کسی خاتون نے شائع کیا۔ یہ سیمین کی وجہ شہرت بن گیا۔ لیکن بعد کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ آئندہ چند سالوں میں وہ طباعت و اشاعت کے کام سے بیزار ہوتی گئیں۔ دوبارہ وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے واسطے تہران یونیورسٹی میں داخلی لینے چلی گئیں۔ 1949ء میں سیمین کا ایک مقالہ پی ایچ ڈی کے لیے بنام Beauty as Treated in Persian Literature سے پروفیسر بدیع الزماں فروزانفر (پیدائش 12 جولائی 1904ء- وفات 6 مئی 1970ء ) نے مصدقہ مہر کے ساتھ پاس کیا۔

    مزید اعلیٰ تعلیم کا حصول
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1950ء میں سیمین دانشور کی شہرت یافتہ ادیب جلال آل احمد (پیدائش 2 دسمبر 1923ء- وفات 9 ستمبر 1969ء) سے شادی ہوئی۔ 1952ء میں سیمین اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے امریکا روانہ ہوئیں جہاں اُنہوں نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے ادب کی مزید تعلیم حاصل کی۔ قیام امریکا کے دوران سیمین نے دو ناول شائع کیے۔ 1954ء میں اِیران واپس آئیں اور تہران یونیورسٹی نے اُنہیں اعزازء رکن منتخب کیا اور اعزازی ڈگری سے نوازا۔

    سیمین بطور مترجمہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1960ء کی دہائی میں سیمین نے چند انگریزی کتب کا فارسی میں ترجمہ کیا جس سے اُن کی شہرت عامہ میں مزید اِضافہ ہوا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے شوہر جلال آل احمد سے زیادہ کمانے لگی تھیں۔ 1961ء میں ایک انگریزی ناول A city like paradise کا فارسی ترجمہ ”شہری چوں بہشت“ کے نام سے طبع ہوا۔ یہ ترجمہ پہلی کتاب کے 12 سال بعد منظر عام پر آیا تھا۔ 1963ء میں سیمین نے ہارورڈ یونیورسٹی کے تحت منعقدہ ایک اِجلاس International Summer Session میں شرکت کی جس میں پوری دنیا سے 40 افراد نے شرکت کی تھی۔

    سیمین دانشوربحیثیت ادیبہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سیمین دانشور بحییثیتِ قومیت ایرانی تھیں، اُنہیں فارسی ادب میں پہلی خاتون فارسی ناول نگار ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ وہ جاسوسی ناول نگار، مترجم بھی تھیں۔ 1948ء میں سیمین کی مختصر کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہوا اور اِس مجموعہ سے اُنہیں فارسی ادب میں پہلی خاتون ادیبہ ہونے کا اعزار حاصل ہوا۔

    1969ء میں سیمین کا پہلا ناول ” سووشون“ شائع ہوا جس کا اِسی سال انگریزی ترجمہ بنام A Persian Requiem ہوا۔ مزید کہ 16 زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ یہ دوسری جنگ عظیم میں شیراز میں ایک متاثر ہونے والے خاندان کی کہانی تھی۔ سال اشاعت میں ہی اِس کی پانچ لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئیں اور سیمین فارسی ادب کی سر اول کی ادیبہ بن گئیں تھیں۔ سیمین بہت اچھی مترجمہ بھی تھیں۔ انگریزی میں اُنہوں نے اپنے شوہر کی سوانح the Dawn of jalal کے نام سے لکھی تھی۔ 1968ء میں سیمین Iranian Writers Union کی چیئرمین بن گئیں۔[3] 1969ء میں سیمین کا شہرہ آفاق فارسی ناول ”سووشون“ شائع ہو کر منظر عام پر آیا تو سیمین کی شہرت میں پہلے سے زیادہ اِضافہ ہوا۔ وہ سرکاری طور پر ایک مستند ادیبہ کی حیثیت سے پہچانی جانے لگیں۔

    سیمین کی بیوگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    09 ستمبر1969ء کو سیمین کے شوہر جلال آل احمد کا ناگہانی اِنتقال ہوا جب وہ بحیرہ خزر کے قریب اپنے گرمائی گھر میں مقیم تھے۔ شوہر کی وفات سے وہ اکیلی رہنے لگیں اور تقریبًا 43 سال حالتِ بیوگی میں گزارے۔1981ء سے اُنہوں نے تہران یونیورسٹی میں بطور معلم یعنی لیکچرر ملازمت اِختیار کرلی اور ریٹائر ہونے تک شعبہ تدریس سے وابستہ رہیں۔ ریٹائر ہونے کے بعد اُنہوں نے زندگی لکھنے کے لیے وقف کر رکھی تھِی۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    2005ء میں سیمین کافی علالت میں مبتلا ہوئیں تھیں مگر ایک ماہ تک زیر علاج رہتے ہوئے شفا یابی ہوئی اور وہ اگست 2005ء میں گھر آگئیں۔ بروز جمعرات 14 ربیع الثانی 1433ھ مطابق 08 مارچ 2012ء کو 90 سال کی عمر میں مرض انفلوئنزا کے باعث فارسی کی پہلی ناول نگار خاتون نے اپنے گھر میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ بروز ہفتہ 17 ربیع الثانی 1433ھ مطابق 11 مارچ 2012ء کو سیمین کی میت قبرستان بہشتِ زہرا لائی گئی جہاں اُن کی تدفین کی گئی حالانکہ اِس سے قبل حکومتِ اِیران سے اعلان کیا تھا کہ سیمین دانشور کو اُن کے شوہر جلال آل احمد کے قریب فیروزآبادی مسجد بمقام رَے میں دفن کیا جائے گا مگر یہ فیصلہ بعد ازاں واپس لے لیا گیا۔

    ناول
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1969ء میں سیمین کا شہرہ آفاق
    ۔۔۔ فارسی ناول ” سووشون ” شائع ہوا۔
    ۔۔۔ 1981ء میں اپنے شوہر کی سوانح حیات بنام
    ۔۔۔ ”غروب الجلال“ کے نام سے لکھی۔
    1992ء میں جزیرہ سرگردانی شائع ہوا۔
    ۔۔۔ 2001ء میں سریبان سرگردانی شائع ہوا۔
    ۔۔۔ اِن دو کتابوں کا تیسرا حصہ کوہِ سرگردانی
    ۔۔۔ نامعلوم وجوہات کی بنا پر شائع نہ ہو سکا۔
    ۔۔۔ 2007ء میں ”اِنتخابات“ شائع ہوئی جو سیمین
    ۔۔۔ کی کئی کہانیوں کے اِقتباسات تھے۔

    مختصر کہانیاں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ آتش خاموش: 1948ء
    ۔۔۔ شہری چوں بہشت : 1961ء
    ۔۔۔ بی کہ سلام کنم : 1980ء

    انگریزی کتب کے فارسی تراجم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1949ء/ 1328 شمسی ہجری میں
    ۔۔۔ جارج برنارڈشا کے
    ۔۔۔ Arms and the Man
    ۔۔۔ کا فارسی ترجمہ بنام ” سرباز شکلاتی“
    ۔۔۔ 1953ء میں آرتھر سکنشزلر کے
    ۔۔۔ Beatrice کا ترجمہ۔
    ۔۔۔ 1954ء میں نیتھنیال ہاوتھورن کے
    ۔۔۔ The Scarlet Letter
    ۔۔۔ کا فارسی ترجمہ بنام ” داغ ننگ“۔
    ۔۔۔ 1954ء میں ولیم سارویان کے
    ۔۔۔ The Human Comedy کا ترجمہ
    ۔۔۔ 1972ء/ 1351 شمسی ہجری میں
    ۔۔۔ ایلان پیٹن کے
    ۔۔۔ Cry, the Beloved Country
    ۔۔۔ کا فارسی ترجمہ بنام ”بنال وطن“۔
    ۔۔۔ 2003ء/ 1381 شمسی ہجری میں
    ۔۔۔ اینٹون چیکوف کے
    ۔۔۔ The Cherry Orchard
    ۔۔۔ کا فارسی ترجمہ بنام ”باغ آلبالو“۔
    ۔۔۔ ماہ عسل آفتابی (مجموعہ داستان)
    ۔۔۔ Alberto Moravia and
    ۔۔۔ Ryūnosuke Akutagawa

  • آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں

    آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں

    ساحر لدھیانوی ایک جاگیردار گھرانے میں 8 مارچ 1921 کو پیدا ہوئے اور ان کا نام عبدالحئی رکھا گیا۔ان کے والد کا نام چودھری فضل محمد تھا اور وہ انکی گیارھویں، لیکن خفیہ ،بیوی سردار بیگم سے ان کی پہلی اولاد تھے۔ساحر کی پیدائش کے بعد ان کی ماں نے اصرار کیا کہ ان کے رشتہ کو باقاعدہ شکل دی جاے تاکہ آگے چل کر وراثت کا کوئی جھگڑا نہ پیدا ہو۔

    چودھری صاحب اس کے لئے راضی نہیں ہوئے تو سردار بیگم ساحر کو لے کر شوہر سے الگ ہو گئیں ۔اس کے بعد ساحر کی تحویل کے لئے فریقین میں مدّت تک مقدمہ بازی ہوئ۔ساحر کی پرورش ان کے ننہال میں ہوئی۔جب اسکول جانے کی عمر ہوئی تو ان کا داخلہ مالوہ خالصہ اسکول میں کرا دیا گیا جہاں سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اس زمانہ میں لدھیانہ اردو کا متحرک اور سرگرم مرکز تھا ۔یہیں سے انہیں شاعری کا شوق پیدا ہوا اور میٹرک میں پہنچتے پہنچتے وہ شعر کہنے لگے۔

    1939 میں اسی اسکول سے انٹرنس پاس کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا۔اسی زمانہ میں ان کا سیاسی شعور بیدار ہونے لگا اور وہ کمیونسٹ تحریک کی طرف راغب ہو گئے۔ملک اور قوم کے حالات نے ان کے اندر سرکشی اور بغاوت پیدا کی۔بی اے کے آخری سال میں وہ اپنی اک ہم جماعت ایشر کور پر عاشق ہوے اور کالج سے نکالے گئے۔وہ کالج سے بی اے نہیں کر سکے لیکن اس کی فضا نے ان کو اک خوبصورت رومانی شاعر بنا دیا۔ان کا پہلا مجموعہ "تلخیاں” ۱۹۴۴ میں شائع ہوا اور ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔

    کالج چھوڑنے کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور دیال سنگھ کالج میں داخلہ لے لیا لیکن اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ وہاں سے بھی نکالے گئے پھر ان کا دل تعلیم کی طرف سے اچاٹ ہو گیا۔وہ اس زمانہ کے معیاری ادبی رسالہ "ادب لطیف "کے ایڈیٹر بن گئے۔بعد میں انھوں نے سویرا اور اپنے ادبی رسالہ شاہکار کی بھی ادارت کی ساحر نے بچپن اور جوانی میں بہت پر خطر اور کٹھن دن گزارے جس کی وجہ سے انکی شخصیت میں شدید تلخی گھل گئی تھی۔

    دنیا سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کی ایک زیریں لہر ان کی شخصیت میں رچ بس گئی تھی جس کے مظاہر وقتا فوقتا” سامنے آتے رہتے تھے ساحر نے جتنے تجربات شاعری میں کئے وہ دوسروں نے کم ہی کئے ہوں گے۔انھوں نے سیاسی شاعری کی ہے،رومانی شاعری کی ہے،نفسیاتی شاعری کی ہے اور انقلابی شاعری کی ہے جس میں کسانوں اور مزدوروں کی بغاوت کا اعلان ہے۔انھوں نے ایسی بھی شاعری کی ہے جو تخلیقی طور پپر ساحری کے زمرہ میں آتی ہے-

    انکی ادبی خدما ت کے اعتراف میں انہیں ۱۹۷۱ میں پدم شری کے خطاب سے نوازا گیا۔۱۹۷۲ میں مہارازشر حکومت نے انہیں "جسٹس آف پیس” ایوارڈ دیا ۱۹۷۳ میں "آو کہ کوئی خواب بُنیں” کی کامیابی پر انھیں "سویت لینڈ نہرو ایوارڈ” اور مہاراشٹر اسٹیٹ لٹریری ایوارڈ ملا۔۱۹۷۴ میں مہاراشٹر حکومت نے انھیں ‘اسپشل ایکزیکیوٹیو مجسٹریٹ نامزد کیا۔ان کی نظموں کے ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں۔۸مارچ ۲۰۱۳ء کو ان کے یوم پیدائش کے موقع پر محکمہ ڈاک نے اک یادگاری ٹکٹ جاری کیا ۲۵ اکتوبر،۱۹۸۰ میں دل کا دورہ پڑنے سے ممبئی میں وفات پاگئے.

    ساحر لدھیانوی کے یوم پیدائش پر انکے کچھ منتخب اشعار بطور خراج عقیدت.

    *میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہے
    پل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہے*
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
    جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
    اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اپنی تباہیوں کا مجھے کوئی غم نہیں
    تم نے کسی کے ساتھ محبت نبھا تو دی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا
    ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں
    ہم محبت سے محبت کا صلہ دیتے ہیں