Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • قرآن پاک میں املا کی اغلاط اورشہید کرنے پر سزا و جرمانے میں اضافہ

    قرآن پاک میں املا کی اغلاط اورشہید کرنے پر سزا و جرمانے میں اضافہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    کمیٹی نے ”قرآن پاک کی اشاعت (چھپائی اور ریکارڈنگ کی غلطیوں کا خاتمہ) ترمیمی بل 2022“ پر تفصیلی غور کیا۔ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ قرآن پاک کے شہید مقد س اوراق کو کنوؤں میں ڈالا جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر کنویں بھر جاتے ہیں اور قرآن پاک کے اوراق باہر نکل آتے ہیں۔ بریفنگ میں کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ قرآن کے ضعیف اور شہید مقد س اوراق کو کچھ لوگوں نے جلایا جس پر انہیں قتل بھی کیا گیا۔ وزارت نے اسلام آباد میں قرآن پاک کے شہید مقدس اوراق کو محفوظ کر کے ری سائیکلنگ پلانٹ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ وزارت کا موقف تھا کہ توہین قرآن کے الزامات اور واقعات سے بچنے کے لیے شہید مقدس اوراق کو مناسب اور احترام کے ساتھ محفوظ کرنا ضروری ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نئے ری سائیکل شدہ کاغذ کو صرف مقدس کتب کی طباعت میں استعمال کے لیے مختص کیا جائے گا۔ قرآن ری سائیکل مرکز تیس جون تک بن جانا تھا مگر اخراجات پر پچاس فیصد کٹ لگ گیا ہے۔اب قرآن ری سائیکلنگ مرکزاگلے مالی سال تک مکمل ہو گا ۔قرآن پاک کے شہید اوراق کو محفوظ کرنے پر بھی کٹ لگا دیا گیا ہے جس پراراکین کمیٹی نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہمارے پاس قرآن پاک کو محفوظ کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے قرآن پاک کے شہید اوراق کو ری سائیکل کرنے کا کام مکمل کرنے کے لئے فنڈ میں کمی کے فیصلے کوواپس لینے کے لئے وزیر اعظم کوخط لکھنے کا فیصلہ کرلیا۔

    قائمہ کمیٹی نے قرآن پاک میں املا کی اغلاط اور جان بوجھ کر شہید کرنے پر سزا ایک لاکھ روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید تجویز کردی گئی۔ پہلے قرآن پاک میں املا کی غلطیوں اور جان بوجھ کر شہید کرنے پر سزا پانچ ہزار جرمانہ اور تین ماہ قید تھی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایاکہ انٹرنیٹ پر بھی قرآن پاک کے نسخہ جات میں اغلاط پر قانون لاگو ہوگا۔ قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر بل کی منظوری دے دی۔کمیٹی نے بل میں کوئی اہم ترمیم تجویز نہیں کی جو اسمبلی کی منظور کردہ صورت میں ہے تاہم اس کے انگلش سے اردو ترجمہ کیلئے مناسب الفاظ استعمال کرنے کیلئے کچھ تجاویز دیں جس پر تفصیلی کیا جائے گا۔کمیٹی نے 22 نومبر 2022 کو ایکسپریس ٹریبیون میں قرآن پاک کے ترجمے میں مبینہ تحریف اور قرآن بورڈ کی اجازت کے بغیر چھاپنے کے خلاف شائع ہونے والی خبر پر مزید بحث کی۔کمیٹی اجلاس میں قرآن پاک اخباری کمزور کاغذ پر شائع کئے جانے کا انکشاف ہوا۔اخباری کاغذ پر اشاعت کے سبب قرآن مجید کا نسخہ تین سے چار ماہ میں شہید ہوجاتا ہے۔ وزارت مذہبی امور پنجاب کے حکام نے بتایا کہ قرآن مجید کو قانون کے مطابق کم از کم 52 گرام کاغذ پر چھاپنا ضروری ہے۔اس حوالے سے وفاقی حکومت کا 50 برس قدیم قانون موجود ہے۔ ملک میں بہت سے پبلشرز اخباری کاغذ پر قرآن مجید کی اشاعت کرکے ہیں۔ کمیٹی کو بتایاگیاکہ پبلشرز کاروباری طور پر بہت مضبوط ہیں۔جب تک چھاپے خانے سیل نہیں کئے جائیں گے تب تک کنٹرول ممکن نہیں۔

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    قائمہ کمیٹی کو ترجمان وزارت مذہبی امور خیبر پختونخوا نے بریفنگ میں بتایا کہ خیبر پختونخواہ میں 14پبلشرز رجسٹرڈ ہیں جو قرآن مجید چھاپ سکتے ہیں۔ صوبے میں قانون موجود ہے جس کے تحت کم از کم 52 گرام پر قرآن مجید چھاپنا ضروری ہے۔قانون کی خلاف ورزی پر تین برس قید اور 20ہزار روپے جرمانے کی سزا مقرر ہے۔ سینیٹر صابر شاہ نے کہا کہ اب تک صوبہ خیبر پختونخواہ میں کتنے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس پر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا صوبے میں مانیٹرنگ کا نظام موجود ہے۔حکام وزارت مذہبی امور صوبہ بلوچستان نے کمیٹی کوبتایا کہ بلوچستان میں ایک بھی پبلشرز رجسٹرڈ نہیں ہے اور صوبہ بلوچستان میں قرآن مجید کے چھپائی نہیں ہوتی ہے۔

  • اسلام آباد سمیت ملک بھر میں جان بچانے والی 131 ادویات کی شدید قلت

    اسلام آباد سمیت ملک بھر میں جان بچانے والی 131 ادویات کی شدید قلت

    اسلام آباد سمیت ملک بھر میں جان بچانے والی 131 ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔

    وزارت صحت کے حکام نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا ہےکہ مارکیٹ میں عدم دستیاب ادویات زیادہ تر ملٹی نیشنل دواساز کمپنیوں کی ہیں، اکثر ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں کے تنازع پر پیداوار بند کردی ہے۔

    وزارت صحت کے حکام نے ڈریپ سے درخواست کی ہے کہ ادویات کی بلا تعطل سپلائی کے اقدامات کیے جائیں۔ دوسری جانب ڈریپ حکام کا کہنا ہےکہ ادویات کی عدم دستیابی کے معاملے کا بغور جائزہ لیا جارہا ہے، ناپید ہونے والی اکثر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کے لیے ڈریپ نے سفارش کر رکھی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بلوچستان صوبے میں بچوں کے بخار اور بچوں کی الرجی کی بیشتر ادویات بھی میڈیکل اسٹورز پر دستیاب نہیں تھیں. جن میڈیکل اسٹورز پر یہ ادویات دستیاب تھیں وہ دوکاندار زیادہ قیمت پر ان ادویات کو فروخت کرتے رہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    معلوم نہیں عمران خان کی ٹانگ خراب ہے یا دماغ،اسحاق ڈار پھٹ پڑے
    میاں نے پستول تو بیوی نے اٹھائی کلاشنکوف،براہ راست فائرنگ،دونوں کی موت
    صحافیوں کے حقوق،مجوزہ قانون سازی کا ڈرافٹ تیار کرنے کیلئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل
    آج کی نسل سیکھی سکھائی ہے سینئرز کو ان سے سیکھنا چاہیے ڈاکٹر یونس بٹ
    اس حوالے سے دوکانداروں کا کہنا تھا کہ بخار، سر درد، دماغی آرام، شوگر ،کینسر، بچوں کے بخار اور بچوں کی الرجی کی ادویات کمپنیوں کی جانب سے ہی مہیا نہیں کی جا رہی ہیں جب کہ بیشتر ادویات ذخیرہ کرلی گئیں ہیں تاکہ جب قیمتوں میں اضافہ ہو تو مال مارکیٹ میں لایا جائے۔ بلوچستان کے محکمہ صحت کی جانب سے ان ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیےگئے تھے.

  • ملک کی بہتری کیلیے آرمی چیف سے بات کرنے کو تیار ہوں،عمران خان

    ملک کی بہتری کیلیے آرمی چیف سے بات کرنے کو تیار ہوں،عمران خان

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے صحافیوں نے ملاقات کی، اس ملاقات میں عمران خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی لڑائی نہیں، کوئی یہ سمجھتا ہے گھٹنے ٹیک دوں تو یہ نہیں ہو سکتا، اب کوئی بات کرنے کو تیار نہیں تو میں کیا کروں، ملک کی بہتری کے لیے آرمی چیف سے بات کرنے کو تیار ہوں، میں چیلنج کرتا ہوں مجھ اور اہلیہ پر ایک کرپشن کا کیس ثابت کر دیں،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف ہی میرے خلاف کوئی کرپشن کا کیس نکال لیں، ایسے لگتا ہے آرمی چیف مجھے اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں، ہماری اسٹیبلشمنٹ کو سمجھ نہیں ہے کہ سیاست کیا ہوتی ہے، پورا زور لگایا گیا کہ پرویز الہی میرا ساتھ چھوڑ دیں، اب ہم نے پرویز الہی کے ساتھ وفاداری دکھانی ہے،میں کسی کے ساتھ بے وفائی نہیں کر سکتا، جان کے خطرے سے متعلق میری ریکارڈ شدہ ویڈیو موجود ہے، یہ ویڈیو بیرون ملک موجود ہے، اگر ایک ہی بار میں عام انتخابات ہو جائیں تو پیسے کی بچت ہو گی، ع جنرل ریٹائرڈ باجوہ نے میری کمر میں چاقو مارا، ہم پی ڈی ایم کے امپائرز کے باوجود الیکشن جیتیں گے، اوورسیز پاکستانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، مخصوص نشستوں پر خواتین بھی چاہتی ہیں وہ وزیراعلی پنجاب بنیں، پنجاب کے وزیراعلی کا فیصلہ ابھی کر لیا تو قتل عام ہو جائے گا،

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان اب بھی میرے ساتھ رابطے میں ہیں،جنرل ریٹائرڈ باجوہ نے روس کی مخالف میں تقریر کی، اس تقریر پر جنرل ریٹائرڈ باجوہ کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے، فوج کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے، اسلام آباد ہوائی جہاز سے نہ جانے کا فیصلہ رات 12 بجے کیا، خبر آئی کہ مجھے ہوائی اڈے سے گرفتار کر کے بلوچستان لے جانا چاہتے تھے، جنہوں نے میری حفاظت کرنی ہے مجھے ان سے ہی خطرہ ہے، جیل میں ڈالنے سے اور ووٹ پڑتے ہیں،

  • نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ،ڈرامہ رائٹر اورریڈیو کمپیئرافروزرضوی

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ،ڈرامہ رائٹر اورریڈیو کمپیئرافروزرضوی

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ،ڈرامہ رائٹر اورریڈیو کمپیئرافروز رضوی

    وہ چاک جن کو رفو کر رہی ہوں سالوں سے
    میں ایک سیتی ہوں تو دوسرا ادھڑتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    3 مارچ 1969

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ ، ڈرامہ رائٹر اور ریڈیو کمپیئر افروز رضوی صاحبہ کا یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف . آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نامور پاکستانی ادیبہ، شاعرہ، عالمہ، کمپیئر ، انائونسر اور ڈرامہ نویس سیدہ افروز صاحبہ 3 مارچ 1969 کو ہندوستان کے شہر امروہہ کے ایک معروف علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام سید انور حسن رضوی اور والدہ صاحبہ کا نام سیدہ ذکیہ رضوی ہیں ۔ افروز رضوی صاحبہ کے چار بہن بھائی ہیں جن میں 3 بہن اورایک بھائی شامل ہیں ۔ وہ بہت چھوٹی عمر کی تھیں کہ ان کے والدین ہندوستان سے ہجرت کر کے حیدر آباد پاکستان منتقل ہو گئےاس لیے ان کی تعلیمی اسناد میں ان کی جائے پیدائش حیدرآباد کندہ ہے۔ افروز صاحبہ کے والد سید انور حسن رضوی صاحب کی 1992 میں حیدر آباد میں وفات ہوئی ہے۔ ۔ افروز صاحبہ کو بچپن سے ہی لکھنے اور شاعری کا شوق تھا انہوں نے ساتویں جماعت میں "_جگنو” کے عنوان سے نظم لکھی تھی جس کو ان کی کلاس ٹیچر نے بہت سراہا تھا اور ریڈیو اسٹیشن لے جا کر ان کو بچوں کے ایک پروگرام میں شامل کروایا تھا۔ افروز صاحبہ نے کیمسٹری میں ڈگری حاصل کی جبکہ انہوں نے ادارہ ” قرآن انسٹیٹیوٹ” سے قرآن کریم کی تلاوت، تفسیر، ترجمہ اور تجوید کی تعلیم مکمل کر کے اسناد حاصل کیں ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ان کی شادی ایک معزز خاندان کے فرد عبدالباسط صاحب سے ہوئی جو کہ اس وقت بینک میں اعلی آفیسر ہیں اور وہ شعر و ادب کے حوالےسے اپنی اہلیہ محترمہ کی مکمل سپورٹ اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ماشاءاللہ یہ3 بچوں دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے. خوش قسمت والدین ہیں ان کے تینوں بچے اعلی تعلیم یافتہ ماشاءاللہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان کی بیٹی کینیڈا میں مقیم ہیں ۔ افروز صاحبہ ریڈیو پاکستان سے باضابطہ طور پر وابستہ ہو گئیں ۔ وہ ریڈیو پاکستان کی ایک مستند آواز، کمپیئر، انائونسر اور ڈرامہ نویس ہیں جن کے اب تک بے شمار ڈرامے اور پروگرام نشر ہو چکے ہیں اوراب بھی نشر ہو رہے ہیں ۔ افروز رضوی صاحبہ کا مطالعہ بہت وسیع ہے انہوں نے تمام استاد شعراء کو پڑھ رکھا ہے جبکہ شاعری میں 6 کتابوں کے مصنف اور ریڈیو پاکستان حیدر آباد کے سابق سینیئر پروڈیوسر محمود صدیقی صاحب ان کے استاد رہے ہیں ۔ افروزصاحبہ کے اب تک 2 شعری مجموعے "سخن افروز ” اور ” زمن افروز ” شائع ہو چکے ہیں جبکہ ان کی حمدیہ اور نعتیہ شاعری پر مشتمل ایک کتاب” ایمان افروز” زیر طباعت ہے۔ افروزصاحبہ کئی ادبی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں جبکہ وہ متعدد علمی اور ادبی اداروں سے بھی وابستہ ہیں ۔ جن میں وہ ” شاعرات پاکستان ” کی بانی چیئر پرسن ، ڈائریکٹر پروگرام شریف اکیڈمی جرمنی اور سہ ماہی ادبی جریدہ لوح ادب کی مشیر کے عہدے پر فائز ہیں ۔ افروز صاحبہ آجکل کراچی میں مقیم ہیں مگر ان کا امریکہ کینیڈا اور دبئی وغیرہ آنا جنا رہتا ہے ۔

    سیدہ افروز رضوی صاحبہ کی خوب صورت شاعری سے 2 منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ساحل سے اٹھا ہے نہ سمندر سے اٹھا ہے
    جو شور مری ذات کے اندر سے اٹھا ہے

    دریائے محبت کے کنارے کبھی کوئی
    ڈوبا ہے جو اک بار مقدر سے اٹھا ہے

    وہ آئے تو اس خواب کو تعبیر ملے گی
    جو خواب جزیرہ مرے ساگر سے اٹھا ہے

    میں اپنے رگ و پے میں اسے ڈھونڈ رہی ہوں
    جو شخص ابھی میرے برابر سے اٹھا ہے

    رقصاں ہے مری آنکھ میں احساس کی مانند
    منظر جو تری آنکھ کے منظر سے اٹھا ہے

    پھولوں کو ترے رنگ نے بخشی ہے کہانی
    خوشبو کا فسانہ ترے پیکر سے اٹھا ہے

    اس شہر محبت میں وہ رکتا ہی نہیں ہے
    جو شور ترے پیار کے محور سے اٹھا ہے

    یہ اس کا رویہ یہ انا یہ لب و لہجہ
    ان سب کے سبب امن و سکوں گھر سے اٹھا ہے

    مہر و مہ و انجم میں اسے ڈھونڈنے والو
    یہ سارا جہاں خاک کے پیکر سے اٹھا ہے

    رہتا ہے مری آنکھ میں کاجل کی طرح سے
    جو دور تمناؤں کے تیور سے اٹھا ہے

    میں در سے ترے اٹھ کے اسی سوچ میں گم ہوں
    کیا کوئی خوشی سے بھی ترے در سے اٹھا ہے

    جو اس کی نظر سے کبھی افروزؔ اٹھا تھا
    اس بار وہ محشر مرے اندر سے اٹھا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ مہکتا ہے جو خوشبو کے حوالوں کی طرح
    اس کو رکھا ہے کتابوں میں گلابوں کی طرح

    وہ جو خوابوں کے جزیرے میں نظر آتا ہے
    میرے ادراک میں رہتا ہے کناروں کی طرح

    بن کے احساس جو دھڑکن سے لپٹ جاتا ہے
    ساتھ رہتا ہے محبت میں خیالوں کی طرح

    دیکھنا خواب کی صورت میں نظر آئے گا
    وہ جو پلکوں پہ چمکتا ہے ستاروں کی طرح

    میں نے خوشبو کے لبادے میں جسے چوما تھا
    میری ہر سانس میں شامل ہے وہ پھولوں کی طرح

    وہ مرے شعر کا اک مصرعۂ تر ہو جیسے
    گنگناتی ہوں اسے آج میں گیتوں کی طرح

    اتنی اچھی تھی ملاقات کہ پہلے دن ہی
    دل میں افروزؔ بسایا اسے سوچوں کی طرح

  • اردو کے عظیم شاعر،فراق گورکھپوری

    اردو کے عظیم شاعر،فراق گورکھپوری

    مدتیں قید میں گزریں مگر اب تک صیاد
    ہم اسیران قفس تازہ گرفتار سے ہیں

    فراق گورکھپوری

    اردو کے ایک عظیم شاعر اور نقاد فراق گورکھپوری کا اصل نام رگھو پتی سہائے ہے ۔وہ 28 اگست 1896ء میں گورکھپور میں پیدا ہوئے۔ان کے والد گورکھ پرشاد زمیندار تھے اور گورکھپور میں وکالت کرتے تھے۔ان کا آبائی وطن گورکھپور کی تحصیل بانس گاؤں تھا اور ان کا گھرانہ پانچ گاؤں کے کائستھ کے نام سے مشہور تھا۔۔فراق کے والد بھی شاعر تھے اور عبرت تخلص کرتے تھے۔فراق نے اردو اور فارسی کی تعلیم گھر پر حاصل کی اس کے بعد میٹرک کا امتحان گورنمنٹ جوبلی کالج گورکھپور سےسکنڈ ڈویژن میں پاس کیا ۔اسی کے بعد 18 سال کی عمر میں ان کی شادی کشوری دیوی سے کر دی گئی جو فراق کی زندگی میں ایک ناسور ثابت ہوئی۔فراق کو نوجوانی میں ہی شاعری کا شوق پیدا ہو گیا تھا اور 1916 میں جب ان کی عمر 20 سال کی تھی اور وہ بی اے کے طالب علم تھے، پہلی غزل کہی۔پریم چند اس زمانہ میں گورکھپور میں تھے اور فراق کے ساتھ ان کے گھریلو تعلقات تھے۔پریم چند نے ہی فراق کی ابتدائی غزلیں چھپوانے کی کوشش کی اور زمانہ کے ایڈیٹردیا نرائن نگم کو بھیجیں۔فراق نے بی اے سنٹرل کالج الہ آباد سے پاس کیا اور چوتھی پوزیشن حاصل کی۔اسی سال فراق کے والد کا انتقال ہو گیا۔یہ فراق کے لئے اک بڑا سانحہ تھا۔چھوٹے بھائی بہنوں کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری فراق کے سر آن پڑی۔بے جوڑ دھوکہ کی شادی اور والد کی موت کے بعد گھرییلو ذمہ داریوں کے بوجھ نے فراق کو توڑ کر رکھ دیا وہ بے خوابی کے شکار ہو گئے اورمزید تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ اسی زمانہ میں وہ ملک کی سیاست میں شریک ہوئے۔سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے 1920 میں ان کو گرفتار کیا گیا اور انہوں نے 18 ماہ جیل میں گزارے۔ 1922 میں وہ کانگرس کے انڈر سیکریٹری مقرر کئے گئے۔ وہ ملک کی سیاست میں ایسے وقت پر شامل ہوئے تھے جب سیاست کا مطلب گھر کو آگ لگانا ہوتا تھا نہرو خاندان سے ان کےگہرے مراسم تھے اور اندرا گاندھی کو وہ بیٹی کہہ کر خطاب کرتے تھے۔مگر آزادی کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی خدمات کو بھنانے کی کوشش نہیں کی۔وہ ملک کی محبت میں سیاست میں گئے تھے۔،سیاست ان کا میدان نہیں تھی۔1930 میں انھوں نے پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے آگرہ یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔ اور کوئی درخواست یا انٹرویو دئے بغیر الہ آباد یونیورسٹی میں لیکچرر مقرر ہو گئے۔اس زمانہ میں الہ آباد یونیورسٹی کا انگریزی کا شعبہ سارے ملک میں شہرت رکھتا تھا۔ امر ناتھ جھا اور ایس ایس دیب جیسے مشاہیر اس شعبہ کی زینت تھے۔لیکن فراق نے اپنی شرائط پر زندگی بسر کی۔وہ ایک آزاد طبیعت کے مالک تھے۔مہینوں کلاس میں نہیں جاتے تھے نہ حاضریی لیتے تھے۔اگر کبھی کلاس میں گئے بھی تو نصاب سے الگ ہندی یا اردو شاعری یا کسی دوسرے موضوع پر گفتگو شروع کر دیتے تھے، اسی لئے ان کو ایم اے کی کلاسیں نہیں دی جاتی تھیں۔ورڈسورتھ کے عاشق تھے اور اس پر گھنٹوں بول سکتے تھے۔ فراق نے 1952 میں شبّن لال سکسینہ کے اصرار پر پارلیمنٹ کا چناؤ بھی لڑا اور ضمانت ضبط کرائی۔نجی زندگی میں فراق بے راہ روی کا مجسمہ تھے۔ان کے مزاج میں حد درجہ خود پسندی بھی تھی۔ان کے کچھ شوق ایسے تھے جن کو معاشرہ میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا لیکن نہ تو وہ ان کو چھپاتے تھے اور نہ شرمندہ ہوتے تھے۔ان کے عزیز و اقارب بھی، خصوصاً چھوٹے بھائی یدو پتی سہائے،جن کو وہ بہت چاہتے تھے اور بیٹے کی طرح پالا تھا،رفتہ رفتہ ان سے کنارہ کش ہو گئے تھے جس کا فراق کو بہت صدمہ تھا۔ان کے اکلوتے بیٹے نے سترہ اٹھارہ سال کی عمر ممیں خودکشی کر لی تھی۔بیوی کشوری دیوی 1958 میں اپنے بھائی کے پاس چلی گئی تھیں اور ان کے جیتے جی واپس نہیں آئیں۔اس تنہائی میں شراب و شاعری ہی فراق کی مونس و غمگسار تھی۔1958 میں وہ یونیورسٹی سے ریٹائر ہوئے۔ گھر کے باہر فراق معزز،محترم اور عظیم تھے لیکن گھر کے اندر وہ ایک بے بس وجود تھے جس کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔وہ محرومی کا ایک چلتا پھرتا مجسمہ تھے جو اپنے اوپر آسودگی کا لباس اوڑھے تھا۔

    باہر کی دنیا نے ان کی شاعری کے علاوہ ان کی حاضر جوابی،بزلہ سنجی،ذہانت،علم و دانش اور سخن فہمی کو ہی دیکھا۔فراق اپنے اندر کے آدمی کو اپنے ساتھ ہی لے گئے۔ب۔بطور شاعر زمانہ نے ان کی قدر دانی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔1961 میں ان کو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔1968 میں انہیں سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ دیا گیا۔حکومت ہند نے ان کو پدم بھوشن خطاب سے سرفراز کیا۔1970 میں وہ ساہتیہ اکیڈمی کے فیلو بنائے گئے اور "گل نغمہ” کے لئے ان کو ادب کے سب سے بڑے اعزاز گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا جو ہندوستان میں ادب کا نوبیل انعام تصور کیا جاتا ہے۔1981 میں ان کو غالب ایوارڈ بھی دیا گیا ۔جوش ملیح آبادی نے فراق کے بارے میں کہا تھا "میں فراق کو قرنوں سے جانتا ہوں اور ان کے اخلاق کا لوہا مانتا ہوں۔مسائل علم و ادب پر جب ان کی زبان کھلتی ہے تو لفظوں کے لاکھوں موتی رولتے ہیں اور اس افراط سے کہ سامعین کو اپنی کم سوادی کا احساس ہونے لگتا ہے۔۔۔جو شخص یہ تسلیم نہیں کرتا کہ فراق کی عظیم شخصیت ہندوسامنت کے ماتھے کا ٹیکا،اردو زبان کی آبرو اور شاعری کی مانگ کا سیندور ہے وہ خدا کی قسم کور مادر زاد ہے” 3 مارچ 1982 کو،حرکت قلب بند ہو جانے سے فراق اردو ادب کو داغ فراق دے گئے اور سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی آخری رسوم ادا کی گئیں۔فراق اس تہذیب کا مکمل نمونہ تھے جسے گنگا جمنی تہذیب کہا جاتا ہے وہ شاید اس قبیلہ کے آخری فرد تھے جسے ہم مکمل ہندوستانی کہہ سکتے ہیں۔

    شاعری کے لحاظ سے فراق بیسویں صدی کی منفرد آواز تھے۔جنسیت کو احساس و ادراک اور فکر و فلسفہ کا حصہ بنا کر محبوب کے جسمانی روابط کو غزل کا حصہ بنانے کا سہرا فراق کو جاتا ہے۔جسم کس طرح کائنات بنتا ہے،عشق کس طرح عشق انسانی میں تبدیل ہوتا ہے اور پھر وہ کس طرح حیات و کائنات سے رشتہ استوار کرتا ہے یہ سب فراق کی فکر اور شاعری سے معلوم ہوتا ہے۔فراق شاعر کے ساتھ ساتھ ایک مفکّر بھی تھے۔راست اور معروضی انداز فکر ان کے مزاج کا حصہ تھا۔فراق کا عشق رومانی اور فلسفیانہ کم،سماجی اور دنیاوی زیادہ ہے۔فراق تلاش عشق میں زندگی کی سمت و رفتار اور بقاء و ارتقاء کی تصویر کھینچتے ہیں۔ فراق کے وصل کا تصور دو جسموں کا نہیں دو ذہنوں کا ملاپ ہے۔وہ کہا کرتے تھ تھے کہ اردو ادب نے ابھی تک عورت کے تصور کو جنم نہیں دیا۔اردو زبان میں شکنتلا،ساوتری اور سیتا نہیں۔جب تک اردو ادب دیویت کو نہیں اپنائے گا اس میں ہندوستان کا عنصر داخل نہیں ہو گا اور اردو ثقافتی حیثیت سے ہندوستان کی ترجمان نہیں ہو سکے گی۔کیونکہ ہندوستان کوئی بینک نہیں جس میں رومانی اور ثقافتی حیثیت سے الگ الگ کھاتے کھولے جا سکیں۔فراق نے اردو زبان کو نئے گمشدہ الفاظ سے روشناس کرایا ان کے الفاظ زیادہ تر روز مرّہ کی بول چال کے،نرم،سبک اور میٹھے ہیں۔فراق کی شاعری کی ایک بڑی خوبی اور خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے عالمی تجربات کے ساتھ ساتھ تہذیبی قدروں کی عظمت اور اہمیت کو سمجھا اور انہیں شعری پیکر عطا کیا۔۔۔فراق کے شعر دل پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ دعوت فکر بھی دیتے ہیں اور ان کی یہی صفت فراق کو دوسرے تمام شعراء سے ممتاز کرتی ہے۔
    3 مارچ 1982ء اردو کے عظیم شاعر فراق گورکھپوری کی وفات ہوئی ۔

    فراق گورکھپوری کے اشعار

    دل غمگیں کی کچھ محویتیں ایسی بھی ہوتی ہیں
    کہ تیری یاد کا آنا بھی ایسے میں کھٹکتا ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    اٹھی ہے چشم ساقیٔ مے خانہ بزم پر
    یہ وقت وہ نہیں کہ حلال و حرام دیکھ

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    مدتیں قید میں گزریں مگر اب تک صیاد
    ہم اسیران قفس تازہ گرفتار سے ہیں

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    قفس سے چھٹ کے وطن کا سراغ بھی نہ ملا
    وہ رنگ لالہ و گل تھا کہ باغ بھی نہ ملا

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس پرسش کرم پہ تو آنسو نکل پڑے
    کیا تو وہی خلوص سراپا ہے آج بھی

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمہیں سچ سچ بتاؤ کون تھا شیریں کے پیکر میں
    کہ مشت خاک کی حسرت میں کوئی کوہکن کیوں ہو

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    دل وارفتۂ دیدار کی اللہ رے محویت
    تصور میں ترے وہ تیری صورت بھول جاتا ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    ترغیب گناہ لحظہ لحظہ
    اب رات جوان ہو گئی ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی
    چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    تصور میں تجھے ذوق ہم آغوشی نے بھینچا تھا
    بہاریں کٹ گئی ہیں آج تک پہلو مہکتا ہے

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    کبھی ہو سکا تو بتاؤں گا تجھے راز عالم خیر و شر
    کہ میں رہ چکا ہوں شروع سے گہے ایزد و گہے اہرمن
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ فسوں پھونکا کہ وحشی بھی مہذب ہو گئے
    کر گیا کیا سحر مانا عشق بازی گر نہ تھا

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمام شبنم و گل ہے وہ سر سے تا بہ قدم
    رکے رکے سے کچھ آنسو رکی رکی سی ہنسی

    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی دنیا کے کچھ نقش و نگار اشعار ہیں میرے
    جو پیدا ہو رہی ہے حق و باطل کے تصادم سے
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    فرش مے خانہ پہ جلتے چلے جاتے ہیں چراغ
    دیدنی ہے تری آہستہ روی اے ساقی
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔
    جنت صوفیا نثار دہر کی مشت خاک پر
    عاشق ارض پاک کو دعوت لا مکاں نہ دے
    ۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔

    فراق گورکھپوری کی غزلیں

    بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
    تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

    مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں
    نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں

    جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی
    اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں

    نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا
    تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں

    طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
    ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں

    خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا
    اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں

    حیات عشق کا اک اک نفس جام شہادت ہے
    وہ جان ناز برداراں کوئی آسان لیتے ہیں

    ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی
    مری باتیں بعنوان دگر وہ مان لیتے ہیں

    تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیت
    کہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں

    اب اس کو کفر مانیں یا بلندیٔ نظر جانیں
    خدائے دو جہاں کو دے کے ہم انسان لیتے ہیں

    جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا
    عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں

    تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبار الفت میں
    ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر احسان لیتے ہیں

    ہماری ہر نظر تجھ سے نئی سوگندھ کھاتی ہے
    تو تیری ہر نظر سے ہم نیا پیمان لیتے ہیں

    رفیق زندگی تھی اب انیس وقت آخر ہے
    ترا اے موت ہم یہ دوسرا احسان لیتے ہیں

    زمانہ واردات قلب سننے کو ترستا ہے
    اسی سے تو سر آنکھوں پر مرا دیوان لیتے ہیں

    فراقؔ اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر
    کبھی ہم جان لیتے ہیں کبھی پہچان لیتے ہیں
    ———*****————–
    تم ہو جہاں کے شاید میں بھی وہاں رہا ہوں
    کچھ تم بھی بھولتے ہو کچھ میں بھی بھولتا ہوں

    مٹتا بھی جا رہا ہوں پورا بھی ہو رہا ہوں
    میں کس کی آرزو ہوں میں کس کا مدعا ہوں

    منزل کی یوں تو مجھ کو کوئی خبر نہیں ہے
    دل میں کسی طرف کو کچھ سوچتا چلا ہوں

    لیتی ہیں الٹی سانسیں جب شام غم فضائیں
    اس دم فنا بقا کی میں نبض دیکھتا ہوں

    ہوں وہ شعاع فردا جو آنکھ مل رہی ہے
    وہ سرمگیں افق پر میں تھرتھرا رہا ہوں

    جس سے شجر حجر میں اک روح دوڑ جائے
    وہ ساز سرمدی میں غزلوں میں چھیڑتا ہوں
    ——*****————-
    تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں
    سمجھ لو سانس لینا خودکشی کرنا سمجھتے ہیں

    کسی بدمست کو راز آشنا سب کا سمجھتے ہیں
    نگاہ یار تجھ کو کیا بتائیں کیا سمجھتے ہیں

    بس اتنے پر ہمیں سب لوگ دیوانہ سمجھتے ہیں
    کہ اس دنیا کو ہم اک دوسری دنیا سمجھتے ہیں

    کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے
    ترے دم بھر کے مل جانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں

    امیدوں میں بھی ان کی ایک شان بے نیازی ہے
    ہر آسانی کو جو دشوار ہو جانا سمجھتے ہیں

    یہی ضد ہے تو خیر آنکھیں اٹھاتے ہیں ہم اس جانب
    مگر اے دل ہم اس میں جان کا کھٹکا سمجھتے ہیں

    کہیں ہوں تیرے دیوانے ٹھہر جائیں تو زنداں ہے
    جدھر کو منہ اٹھا کر چل پڑے صحرا سمجھتے ہیں

    جہاں کی فطرت بیگانہ میں جو کیف غم بھر دیں
    وہی جینا سمجھتے ہیں وہی مرنا سمجھتے ہیں

    ہمارا ذکر کیا ہم کو تو ہوش آیا محبت میں
    مگر ہم قیس کا دیوانہ ہو جانا سمجھتے ہیں

    نہ شوخی شوخ ہے اتنی نہ پرکار اتنی پرکاری
    نہ جانے لوگ تیری سادگی کو کیا سمجھتے ہیں

    بھلا دیں ایک مدت کی جفائیں اس نے یہ کہہ کر
    تجھے اپنا سمجھتے تھے تجھے اپنا سمجھتے ہیں

    یہ کہہ کر آبلہ پا روندتے جاتے ہیں کانٹوں کو
    جسے تلووں میں کر لیں جذب اسے صحرا سمجھتے ہیں

    یہ ہستی نیستی سب موج خیزی ہے محبت کی
    نہ ہم قطرہ سمجھتے ہیں نہ ہم دریا سمجھتے ہیں

    فراقؔ اس گردش ایام سے کب کام نکلا ہے
    سحر ہونے کو بھی ہم رات کٹ جانا سمجھتے ہیں
    ———****—————–
    جنون کارگر ہے اور میں ہوں
    حیات بے خبر ہے اور میں ہوں

    مٹا کر دل نگاہ اولیں سے
    تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں

    کہاں میں آ گیا اے زور پرواز
    وبال بال و پر ہے اور میں ہوں

    نگاہ اولیں سے ہو کے برباد
    تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں

    مبارک باد ایام اسیری
    غم دیوار و در ہے اور میں ہوں

    تری جمعیتیں ہیں اور تو ہے
    حیات منتشر ہے اور میں ہوں

    کوئی ہو سست پیماں بھی تو یوں ہو
    یہ شام بے سحر ہے اور میں ہوں

    نگاہ بے محابا تیرے صدقے
    کئی ٹکڑے جگر ہے اور میں ہوں

    ٹھکانا ہے کچھ اس عذر ستم کا
    تری نیچی نظر ہے اور میں ہوں

    فراقؔ اک ایک حسرت مٹ رہی ہے
    یہ ماتم رات بھر ہے اور میں ہوں

    چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
    نگاہ نرگس رعنا ترا جواب نہیں

    زمین جاگ رہی ہے کہ انقلاب ہے کل
    وہ رات ہے کوئی ذرہ بھی محو خواب نہیں

    حیات درد ہوئی جا رہی ہے کیا ہوگا
    اب اس نظر کی دعائیں بھی مستجاب نہیں

    زمین اس کی فلک اس کا کائنات اس کی
    کچھ ایسا عشق ترا خانماں خراب نہیں

    ابھی کچھ اور ہو انسان کا لہو پانی
    ابھی حیات کے چہرے پر آب و تاب نہیں

    جہاں کے باب میں تر دامنوں کا قول یہ ہے
    یہ موج مارتا دریا کوئی سراب نہیں

    دکھا تو دیتی ہے بہتر حیات کے سپنے
    خراب ہو کے بھی یہ زندگی خراب نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حوالہ جات
    تاریخ اردو ادب
    تاریخ پاکستان
    ریختہ
    نوائے اردو

  • تحریک انصاف کے رہنماؤں کی نظر بندی کا نوٹفکیشن معطل

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کی نظر بندی کا نوٹفکیشن معطل

    ‏لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی نظر بندی کا نوٹفکیشن معطل کردیا

    عدالت نے تمام رہنماؤں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ،جسٹس طارق سلیم نے شیخ تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت کی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 3 ایم پی او کے تحت نظر بند اور گرفتار ہونے والے رہنماؤں کو الگ الگ کٹیگری میں رکھیں، عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ اگر ایک آدمی یہ کہتا ہے کہ میں رضاکارانہ طور ہر گرفتاری دیتا ہوں، جب وہ اپنی مرضی سے کہتے ہین کہ وہ اپنی رضاکارانہ طور ہر گرفتاری واپس لیتے ہین تو اس صورتحال میں کیا ہوگا، سرکاری وکیل نے عدالت نے 15 منٹ کا وقت مانگ لیا کہا کہ 15 منٹ دے دیں مین چیک کرلیتا ہوں کون ایم پی او کے تحت اور کس کیخلاف مقدمات درج ہین،

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ جیل بھرو تحریک گرفتاری دینے والے رہنماوں کو نظربند کردیا گیا۔نظربندیوں کےاحکامات غیر قانونی طور پر جاری کئے گئے۔لاہور ہائیکورٹ تحریک انصاف کے نظر بند ہونے والے رہنماوں اور کارکنوں کو رہا کرنے کا حکم دے ۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے جیل بھرو تحریک کے دوران گرفتاریاں دی تھیں جس کے بعد پنجاب حکومت نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو نظر بند کر دیاتھا ,سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عمران خان نے جیل بھرو تحریک معطل کرنے کا اعلان کیا تھا تحریکِ انصاف کی جیل بھرو تحریک 22 فروری کو لاہور سے شروع ہوئی تھی

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کو جیل میں سہولیات دینے کا اعلان 

     تحریک انصاف کے رہنماء اور کارکن گرفتاری دیئے بغیر واپس روانہ 

    توشہ خانہ گرفتاری سے بچنے کے لیے جیل بھرو تحریک کا شوشہ چھوڑا گیا 

     گرفتار پی ٹی آئی رہنماوں کو دوسرے شہر منتقل کرنے کا فیصلہ

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    جیل بھرو تحریک،تحریک انصاف کا رہنما گرفتاری دینے کی بجائے بھاگ نکلا،ویڈیو

    تحریک انصا ف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو ڈسٹرکٹ جیل اٹک منتقل کیا گیا ہے جبکہ اسد عمر کو راجن پور ، محمد خان مدنی کو بہاولپور، ڈاکٹر مراد راس کو ڈی جی خان جیل منتقل کیا گیاہے ۔سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو بھکر جیل میں منتقل کیا گیا ہے لیہ جیل میں 24 کارکنان ، بھر میں 24 اور راجن پور جیل میں 25 کارکنان کو منتقل کیا گیا ہے

  • معلوم نہیں عمران خان کی ٹانگ خراب ہے یا دماغ،اسحاق ڈار پھٹ پڑے

    معلوم نہیں عمران خان کی ٹانگ خراب ہے یا دماغ،اسحاق ڈار پھٹ پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عمران خان نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا،

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آج عمران خان کو آئینہ دکھاؤں گا،عمران خان اپنا ماضی کا ریکارڈ دیکھیں،عمران خان کے وزیر خزانہ ڈیفالٹ ڈیفالٹ کی رٹ لگاتے ہیں،اللہ کے فضل سے نہ دیوالیہ ہوئے نہ ہوں گے اتحادی حکومت نے سیاست پر ریاست کو ترجیح دی،ملک ڈیفالٹ ہونے کی سوچ رکھنے والے اپنے مفاد رکھتے ہیں،عمران خان کو اپنے اقتدار کے سوا کچھ نظر نہیں آتا،عمران خان کی خواہش ہے کہ ملک ڈیفالٹ کرے،ملکر بیٹھ کرسوچیں کہ پاکستان کو کیسے استحکام دینا ہے،عمران خان کی حکومت نے ملکی معیشت کابیڑاغرق کیا،بہت سے لوگوں نے کہا کہ آپ نے بیوقوفی کی،عمران خان خود گرجاتا،

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ڈیفالٹ کی باتیں کرنے سے اسٹاک مارکیٹ پر اثر پڑتا ہے مس مینجمنٹ اور بیڈ گورننس پاکستان کے یہاں پہنچنے کی وجہ بنی،پی ٹی آئی حکومت نے مالی خسارہ 7.9 پر چھوڑا تھا، پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے ہمیں گندم باہرسے منگوانا پڑی،معلوم نہیں عمران خان کی ٹانگ خراب ہے یا دماغ،فی کس آمدنی میں ہم نے ماضی میں 27 فیصد اضافہ کیا حکومت ملتے ہی سیلاب آیا اور اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا،سیلاب کی وجہ سے 30 ارب ڈالر سےزائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ،حکومت کسی کی میراث نہیں ہے حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں کوئی فرق نہیں پڑتا سیاست کی جگہ ریاست بچائی ہے اس پر فخر ہے پاکستان کو نقصان پہنچانا عمران خان کی سیاست کا حصہ ہے عمران خان حقائق سے ہٹ کرباتیں کرتے ہیں،عمران خان نے ریاست کا نہیں سیاست کا سوچا،سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے 16ارب ڈالر کے وعدے ملے ہیں،پی ٹی آئی حکومت نے مالی خسارہ 7.9پر چھوڑا تھا ،جولائی 2022سے فروری2023میں مہنگائی کی شرح26فیصد ہے،کم آمدن والے افراد کی فلاح و بہبود کیلئے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں عمران خان اپنے سارے افلاطون لے آئے اور مناظرہ کرلیں،پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات کے پیچھے عمران نیازی کی نااہلی ہے۔

  • میاں نے پستول تو بیوی نے اٹھائی کلاشنکوف،براہ راست فائرنگ،دونوں کی موت

    میاں نے پستول تو بیوی نے اٹھائی کلاشنکوف،براہ راست فائرنگ،دونوں کی موت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخواہ کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے

    پشاور میں معمولی تنازع پر میاں بیوی نے ایک دوسرے پر گولیاں چلا دیں جس سے دونوں کی موت واقع ہو گئی،گھر میں لڑائی ہوئی تو شوہر نے پستول اٹھایا ، بیوی نے کلاشنکوف اٹھا لی، دونوں نے ایک دوسرے پر براہ راست فائرنگ کر دی، دونوں ہی چل بسے، پولیس حکام کے مطابق دونوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دی گئی ہے، دونوں میاں بیوی میں کسی بات پر لڑائی ہوئی اور وہ بڑھتی گئی، دونوں نے الگ الگ اسلحہ اٹھایا اور ایک دوسرے پر تان لیا، اس دوران دونوں طرف سے گولیاں چلیں اور میاں بیوی دونوں ہی چل بسے، ایس پی ملک حبیب کے مطابق قتل کی وجہ گھریلو جھگڑا بنا، پولیس نے لاشیں قبضہ میں لے کر قانونی کارروائی شروع کر دی ہے

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    سرسید پولیس نے خفیہ اطلاع پر کاروائی ماموں بھانجا اسٹریٹ کریمنلز گرفتار کر لئے

  • صحافیوں کے حقوق،مجوزہ قانون سازی کا ڈرافٹ تیار کرنے کیلئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل

    صحافیوں کے حقوق،مجوزہ قانون سازی کا ڈرافٹ تیار کرنے کیلئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل

    صحافیوں کے حقوق کے تحفظ اور الیکٹرانک میڈیا کیلئے قانون سازی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواستوں پر سماعت کی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے مجوزہ قانون سازی کا ڈرافٹ تیار کرنے کیلئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب پانچ رکنی کمیٹی میں شامل ہیں،سیکرٹری اطلاعات و قانون، سینئر اینکر پرسن حامد میر بھی کمیٹی میں شامل ہیں، عدالت نے کمیٹی کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کر کے 17 مارچ تک ڈرافٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ نہیں کرنا تو میں وزیراطلاعات اور وزیرقانون کو طلب کر لیتا ہوں،

    اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن وکیل عمر اعجاز گیلانی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،عدالتی معاونین سینئر صحافی حامد میر اور پی بی اے کے وکیل فیصل صدیقی بھی پیش ہوئے ،وکیل پی ایف یو جے نے کہا کہ جن کے خلاف ہماری پٹیشن ہے حکومت انہی کے ساتھ مشاورت کر رہی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیمرا قانون میں ترمیم کا ڈرافٹ تیار ہے کاپی بھی فراہم کی گئی ہیں،،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے ساتھ بیوروکریسی کی طرح نہ کھیلیں،

    حامد میر نے عدالت میں کہا کہ ایک ڈرافٹ تیار کر کے پچھلی اور موجودہ حکومت کو بھی دے چکے ہیں، شمس السلام ناز صاحب نے یہ ترامیم لکھی تھیں وہ اب دنیا میں بھی نہیں ہیں، ہم نے تجویز دی کہ آئی ٹی این ای کے چیئرمین کو مدت کی آئینی گارنٹی ملنی چاہیے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معذرت کے ساتھ ہماری ترجیحات ہی کچھ اور ہیں، یہ چیزیں پارلیمنٹ کے دیکھنے کی ہیں، یہاں رٹ آنی ہی نہیں چاہیے،حامد میر نے کہا کہ اللہ کرے ہماری ڈائریکشن سیدھی ہو جائے، اب تو آپکی عدالت میں بھی صحافیوں پر تشدد ہو رہا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ایسا واقعہ رونما ہوا ہے، ہم اُسے دیکھ رہے ہیں،ڈی آئی جی کو صحافیوں پر تشدد کے واقعے کی انکوائری کا کہا ہے، ہائیکورٹ میں تشدد پر موثر اقدام ہو گا،

    وکیل پی بی اے فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت حکومت کو کسی مخصوص قانون سازی کے لیے حکم نہیں دے سکتی، یہ عدالت حکومت کو قانون سازی کیلئے صرف رائے دے سکتی ہیں، عدالت نے کہا کہ یہ عدالت شہریوں کی بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے موجود ہے،آئی ٹی این ای کے پاس بھی اُس طرح کوئی جوڈیشل اختیار نہیں،آئی ٹی این ای کے قانون میں بھی بہتری کی ضرورت ہے، کیا الیکٹرانک میڈیا میں صحافیوں کی تنخواہوں کا بھی کوئی مسئلہ ہے؟ حامد میر نے کہا کہ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے اور پہاڑ کی طرح کھڑا ہے کسی کو نظر نہیں آ رہا، ایک چینل تو ایک سال سے تنخواہ نہیں دے رہا تھا، میں نے اپنے چینل میں بھی یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی تو کچھ عرصہ چھوڑنا بھی پڑا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چھ ماہ اگر کسی کو تنخواہ نہیں ملے گی تو پھر وہ کیا کریگا؟ آج کل کے حالات میں تو کوئی شخص چھ ماہ بغیر تنخواہ رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا،یہ تو ماڈرن سلیوری ہے، جیسے بھٹوں پر بغیر اجرت کام کرایا جاتا تھا، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ ایک شخص کو ملازمت کیلئے رکھیں اور اسے تنخواہ ہی نہ دیں، وکیل پی بی اے نے کہا کہ عدالت حکومت کو فریقین سے مشاورت کیلئے ایک مخصوص وقت دے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ سیکرٹری اطلاعات کو ڈرافٹ تیار کرنے دیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ سیکرٹری اطلاعات یہ کرنے کو تیار ہیں، حامد میر نے کہا کہ سیکرٹری اطلاعات کے بارے میں جو عدالت کی آبزرویشن ہے وہی وزیراطلاعات کی بھی ہے،یہ رائے ہونے کے باوجود بھی وہ ان کے ساتھ کام کر رہی ہیں، پچھلی حکومت میں بھی تھیں،عدالت نے کہا کہ اگر الیکشن ہو گئے اور یہ حکومت چلی گئی تو یہ معاملہ پھر لٹک جائے گا، حامد میر نے کہا کہ میں خوش ہوا ہوں کہ آپکو یقین ہے کہ الیکشن ہو جائیں گے، چیف جسٹس عامر فاروق نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ امید پر دنیا قائم ہے، حامد میر نے کہا کہ ہم تو آئین کی بالادستی کیلئے لڑیں گے اور جس سے لڑنا ہے اسکی نیت کا ہمیں پتہ ہے، عدالت نے کیس کی سماعت 17 مارچ تک ملتوی کر دی

  • فواد چودھری کے کارنامے حامد خان کی زبانی

    فواد چودھری کے کارنامے حامد خان کی زبانی

    تحریک انصاف کے رہنما حامد خان کے فواد چودھری کے بارے میں ریمارکس سامنے آئے ہیں

    حامد خان انکشاف کرتے ہیں کہ میں نے پاکستان کی عدالتی تاریخ پر کتاب لکھی ہے،جو 2015 میں چھپی ہے،اور اس میں لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ کے حوالہ سے افتخار حسین چودھری صاحب،جو 2002 سے 2007 تک چیف جسٹس رہے ہیں،انکے دور کے بارے میں تاریخی حوالے سے لکھا ہے کہ اس دور میں بڑی بد عنوانیاں ہوئی ہیں، صحافی نے حامد خان سے سوال کیا کہ کل رانا ثناء اللہ نے انکو فواد چودھری کے ساتھ جوڑا ہے، کیا وہ صحیح کہہ رہے ہیں جس پر حامد خان کا کہنا تھا کہ بات یہی ہے یہی شخص تھا لیکن میں نام لینا مناسب نہیں سمجھتا

    واضح رہے کہ فواد چودھری اور اسکے بھائی کی آڈیو آج لیک ہوئی ہے، آڈیو لیک ہونے پرن لیگی رہنما عطا تارڑ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو نہیں معلوم راشد بھائی، ہم صرف اور صرف اللہ تعالٰی سے ڈرتے ہیں۔ سزا سے کس کو ڈراتے ہیں یہ، نہیں ڈرتے ہم ان کی دھمکیوں سے۔ ایک جج کو کلین چٹ دینے کے لئے، ہر چیز داو پر لگا رہے ہیں۔ میری آج کی پریس کانفرنس کو سنسر کیا گیا

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش