Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • خیبر پختو نخوا انتخابات: عدالت نے گورنر کو جواب جمع کرانے کیلئے آخری مہلت دے دی

    خیبر پختو نخوا انتخابات: عدالت نے گورنر کو جواب جمع کرانے کیلئے آخری مہلت دے دی

    پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی انتخابات کے سلسلے میں گورنر پختونخوا کو جواب جمع کرانے کے لیے آخری مہلت دے دی۔

    باغی ٹی وی: 90 روز میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے انتخابات کے لیے دائردرخواستوں پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کےجسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس ارشد علی نے کی پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز،شوکت یوسفزئی،شاہ فرمان اور عاطف خان عدالت میں پیش ہوئے۔

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت

    جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیئے کہ 2 دن کا وقت دیتے ہیں جس نے جواب جمع کرنا ہے کرلیں، جو نہیں کرنا چاہتے نہ کریں ہم کیس کو سنیں گے۔

    تحریک انصاف کے وکیل معظم بٹ نے کہا کہ عدالت نے الیکشن کمیشن اور گورنر سے جواب طلب کیا تھا،جس پر عدالت نے کہا کہ ہمارے پاس الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت کاجواب آیا ہے۔

    ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گورنر سے فوری رابطہ کیا،اس وقت مانسہرہ میں تھا گورنر گزشتہ رات پہنچے 2 دن میں جواب جمع کرا دیں گے۔

    جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ہم آئندہ سماعت پر اس کیس کو سنیں گے، ہم درخواستوں پر جلد فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے وکیل شمائل بٹ نے دلائل میں کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل گورنر کی نمائندگی نہیں کرسکتا-

    آمدن سے زائد اثاثہ جات :عثمان بزدار کی عبوری ضمانت منظور

    جس پر عدالت نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے صرف جواب سے متعلق آگاہ کیا ہےایڈووکیٹ جنرل گورنر کی نمائندگی کرسکتا ہے یا نہیں،اس کو ہم دیکھ لیں گے۔

    عدالت نے کہا کہ جواب کے لیے مزید 2 دن دیتے ہیں گورنر دو دن میں جواب جمع کرائیں پیر کے روز اس کیس کو سنیں گے بعد ازاں عدالت نے سماعت 20 فروری تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختو نخوا میں الیکشن سے متعلق درخواست پر صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیادرخواست گزار کے وکیل نے بتایا تھا کہ آئین کے مطابق انتخابات کیلئے تاریخ دینا گورنر کی ذمہ داری ہے اور اسمبلی تحلیل کے بعد 90 دن میں انتخابات کرانا لازمی ہے۔

    جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ریمارکس دئیے تھے کہ قانون کے مطابق 90 روز میں الیکشن کرانا لازمی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر گورنر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو تو پھر کیا ہو گا؟-

    معروف صحافی رانا مبشر نے نجی خبررساں ادارے کو خیرباد کہہ دیا

  • خیبرپختونخوا: ضمنی انتخابات سے قبل پولیس میں اعلیٰ سطح کے تبادلے

    خیبرپختونخوا: ضمنی انتخابات سے قبل پولیس میں اعلیٰ سطح کے تبادلے

    پشاور: خیبر پختونخوا میں ضمنی انتخابات سے قبل پولیس میں اعلیٰ سطح کے تبادلے شروع ،22 ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز تبدیل کردیے گئے-

    باغی ٹی وی : پولیس ذرائع کے مطابق ظہور بابر آفریدی کو ڈی پی او مانسہرہ تعینات کیا گیا ہے جبکہ ڈی پی او شانگلہ محمد عمران کا تبادلہ کرم میں کر دیا گیا ڈی پی او لوئر چترال ناصر محمود کو ڈی پی او نوشہرہ تعینات کیا گیا ہے –

    معروف صحافی رانا مبشر نے نجی خبررساں ادارے کو خیرباد کہہ دیا

    اسی طرح ڈی پی او نوشہرہ محمد عمر خان گنڈا پور کو ڈی پی او ہری پور تعینات کرنے کے احکامات جاری ہوئے ہیں علاوہ ازیں ڈی پی او چارسدہ بھی تبدیل کردیے گئے ہیں –

    علاوہ ازیں صاحبزادہ سجاد کو ڈی پی او شانگلہ تعینات کیا گیا ہے اور گریڈ 18 کے محمد ایاز کو ڈی پی او مہمند تعینات کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کی خالی ہونے والی 8 نشستوں پر ضمنی الیکشن 16 مارچ کو ہونے جارہے ہیں جس کے لیے کاغذات نامزدگی کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد امیدواروں کی ابتدائی فہرست جاری کردی گئی ہے۔

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت

    فہرست کے مطابق این اے 4 سوات سے 9 امیدوار ، اے این 38 ڈی آئی خان سے 13، این اے 17 ہری پور سے 8، این اے 18 صوابی سے 11، این اے 31 کوہاٹ سے 9، این اے 25 نوشہرہ سے 9، این اے 43 خیبر سے 10 امیدوار سامنے آئے ہیں۔

    صوبے میں قومی اسمبلی کی خالی نشتوں پر ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف سے مستعفی ارکان اسمبلی دوبارہ میدان میں آئے ہیں، جن میں مرادسعید، اسد قیصر، پرویزخٹک، شہریار آفریدی، پیر نورالحق قادری، عمر ایوب اور عمران خٹک شامل ہیں جو ایک بار پھر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

    ابتدائی فہرست کے مطابق پرویزخٹک کے بیٹے اسماعیل خٹک نے بھی کاغذات جمع کرائے ہیں۔ قبائلی ضلع خیبر سے باپ بیٹا شاہ جی گل آفریدی اور بلاول آفریدی بھی امیدوار ہیں جب کہ کوہاٹ سے چچا بھتیجا بابر عباس آفریدی اور بابر عظیم آفریدی بھی امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

    ایف نائن پارک میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کے 2 ملزمان ہلاک، پولیس ذرائع

  • سپرٹیکس کیس:وفاقی حکومت اورایف بی آر کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا

    سپرٹیکس کیس:وفاقی حکومت اورایف بی آر کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا

    سپر ٹیکس کیسز میں وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا۔

    باغی ٹی وی: سپر ٹیکس سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلےکے خلاف وفاقی حکومت اور ایف بی آر کی اپیلوں پر سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت اور ایف بی آر کی اپیلوں پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے تمام فریقین کو 4 فیصد سپرٹیکس ادا کرنےکا حکم دے دیا۔

    مختلف انڈسٹریز نے گزشتہ سال بجٹ میں عائد سپر ٹیکس کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سندھ ہائیکورٹ نے گزشتہ سال سے دس فیصد سپر ٹیکس کی وصولی کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

    وفاقی حکومت اور ایف بی آر نے سپر ٹیکس کی وصولی کے لئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو منظور کرلی گئی اور چار فیصد سپر ٹیکس ادا کرنے کا حکم دے دیا گی-

    سپر ٹیکس کیا ہے؟

    یہ ایک خاص ٹیکس ہوتا ہے اور عمومی ٹیکس کے اوپر لگایا جاتا ہے،یہ ٹیکس حالات کو دیکھ کر لگایا جاتا ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں کوئی بھی حکومت ہنگامی اقدامات کے تحت اسے عائد کر سکتی ہے،پاکستان میں اس سے پہلے 2010 میں بھی سپر ٹیکس عائد کیا گیا تھا جب سیلاب آیا تھا تاہم حالیہ سپر ٹیکس کا زیادہ فائدہ نہیں ہو گا۔‘

    معاشی ماہرین کے مطابق سپر ٹیکس ایک ایسا ٹیکس ہوتا ہے جو حکومتیں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدن پر ایک اضافی طور پر لگاتی ہیں۔ شہریوں یا ایک خاص طبقے پر لگائے جانے والے اضافی ٹیکسوں کے بعد ان کی ٹیکس کی مد میں آنے والی آمدن کے اوپر کچھ فیصد کا مزید ٹیکس سپر ٹیکس کے زمرے میں آتا ہے۔

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے جون 2022 میں قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا تھا کہ تمام سیکٹرز پر 4 فیصد اور 13 مخصوص سیکٹرز پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگایا گیا ہے جس کے بعد ان سیکٹرز پر ٹیکس 29 فیصد سے 39 فیصد ہو جائےگایہ ٹیکس صرف ون ٹائم یعنی ایک مالی سال کے لیے لگایا گیا ہے اور اس کے ذریعے سابقہ چار ریکارڈ بجٹ خساروں کو کم کیا جائے گا

    اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے معاشی ٹیم کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عام آدمی کو ٹیکس سےبچانے کے لیے صنعتوں پرٹیکس لگایا ہے، سیمنٹ، اسٹیل، شوگرانڈسٹری، آئل اینڈگیس، ایل این جی ٹرمینل، فرٹیلائزر، بینکنگ، ٹیکسٹائل، آٹوموبائل، کیمیکل، بیوریجز اور سگریٹ انڈسٹری پر بھی 10 فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ سالانہ 15کروڑ روپے سے زائد آمدن کمانے والے پر ایک فیصد، 20 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر2 فیصد، 25 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر3 فیصد اور 30 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر4 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا جو غربت میں کمی کا ٹیکس ہے۔

  • معروف صحافی رانا مبشر نے نجی خبررساں ادارے کو خیرباد کہہ دیا

    معروف صحافی رانا مبشر نے نجی خبررساں ادارے کو خیرباد کہہ دیا

    معروف صحافی اور اینکر رانا مبشر نے حال ہی میں شروع ہونے والے سنو ٹی وی کو خیرباد کہہ دیا ہے-

    باغی ٹی وی : معروف صحافی اور اینکر پرسن نے نجی خبررساں ادارے سنو ٹی وی کو خیرباد کہہ دیا جس کے بعد وہ سنو ٹی وی کو چھوڑنے والے پہلے اسٹاف ممبر بن گئے ہیں۔

    شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    انہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں آج نیوز سے ساؤتھ ہیڈ کے طور پر نئے چینل میں شمولیت اختیار کی سنو میں انہوں نے جوائنٹ سیشن اور بارکاس کے پروگراموں کی میزبانی کی۔

    اینکر پرسن رانا مبشر کے چینل چھوڑنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔

     

    سی سی پی او لاہور تبادلہ کیس: چیف الیکشن کمشنر کو عدالت نے طلب کر لیا

  • آمدن سے زائد اثاثہ جات :عثمان بزدار کی عبوری ضمانت منظور

    آمدن سے زائد اثاثہ جات :عثمان بزدار کی عبوری ضمانت منظور

    لاہور: احتساب عدالت لاہور نے آمدن سے زائد اثاثہ جات انکوائری میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی: احتساب عدالت لاہور میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی احتساب عدالت کی ایڈمن جج عظمیٰ اختر چغتائی نے درخواست پر سماعت کی۔

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے گرفتاری کے خوف سے عبوری ضمانت آج صبح دائر کی تھی جس میں عثمان بزدار نے موقف اپنایا کہ پہلے نیب نے کہا تھا کہ عثمان بزدار کی گرفتاری مطلوب نہیں ہے اور اب نوٹس بھیج دیا ہے۔

    عثمان بزدار نے استدعا کی کہ نیب نے مجھے کال اَپ نوٹس بھیج دیا ہے جس پر گرفتاری کا ڈر ہے لہٰذا عبوری ضمانت منظور کی جائے۔

    سی سی پی او لاہور تبادلہ کیس: چیف الیکشن کمشنر کو عدالت نے طلب کر لیا

    عدالت نے نیب کو 27 فروری تک گرفتاری سے روکتے ہوئے عثمان بزادر کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا ہے جبکہ آئندہ سماعت پر نیب حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    واضح رہے کہ نیب لاہور نے کرپشن سمیت دیگر الزامات میں عثمان بزدار کو آج پیش ہونے کا حکم دے رکھا تھا۔

    سی سی پی او لاہور تبادلہ کیس: چیف الیکشن کمشنر کو عدالت نے طلب کر لیا

  • وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تمام  سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ ایک کھرب 70 ارب روپے کے منی بجٹ کے تحت نئے ٹیکسز نافذ کرنا شروع کر دیے ہیں۔

    باغی ٹی وی:وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کردیا،وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت دی –

    ایف بی آر نے جی ایس ٹی کی شرح 17 سے بڑھا کر 18 فیصد کر دی ہے، اسی طرح جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد کر دی گئی ہے جب کہ منی بجٹ کے لیے حکومت نے سیکڑوں پُر تعیش اشیاء پر 25 فیصد جی ایس ٹی لگانے کی بھی منظوری دے دی ہے۔

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے پیش کئے گئے منی بجٹ کے مطابق موبائل فونز پر بھی ٹیکس میں اضافے کی تجویز شامل ہےسیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 2روپے فی کلوگرام کردی گئی سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح بڑھائی جارہی ہے-

    اسحاق ڈار نے بتایا کہ شادی کی تقریبات کےبلوں پر10 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لگادیا گیا ہےایئرٹکٹ پر 20 فیصد ٹیکس لگایاگیا ہے ،لگژری آئٹم پر ٹیکس 17 فیصد سے25 فیصد کردیا گیا ہے،بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کیلئے 40ارب روپے مزید مختص کیے جارہے ہیں،بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کابجٹ 360ارب سے بڑھا کر400ارب روپ کیاجارہا ہے،کسان پیکج میں جون 2023تک کیلئے1819ارب روپے رکھے گئے ہیںفضائی ٹیکس پر بھی ایڈوانس ٹیکس عائدکیاجارہا ہے-

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں ناقص پالیسیوں کی وجہ سے 26ارب ڈالرکاقرضہ بڑھا،پی ٹی آئی کے 4سالوں میں ملکی قرضوں میں ہوشربااضافہ ہوا، ن لیگ دور میں جی ڈی پی میں 112ارب ڈالرکااضافہ ہوا،معاشی تنزلی کی وجوہات جاننےکیلئےقومی کمیشن تشکیل دیاجائے، 2018 میں مسلم لیگ ن کے دور میں معیشت ترقی کررہی تھی،آئی ایم ایف معاہدہ کسی حکومت کا نہیں بلکہ ریاست کامعاہدہ ہوتا ہے،منی بجٹ پر ایوان کو اعتماد میں لینا چاہتا ہوں،پی ٹی آئی حکومت کی وجہ سے معیشت کمزور ہوئی،2018میں ن لیگ دور میں پاکستان دنیا کی 24ویں معیشت بن چکا تھا-

  • ایف نائن پارک میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کے 2 ملزمان ہلاک، پولیس ذرائع

    ایف نائن پارک میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کے 2 ملزمان ہلاک، پولیس ذرائع

    اسلام آباد پولیس کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایف نائن پارک میں خاتون سے مبینہ زیادتی کے دونوں ملزمان ہلاک ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر ڈی بارہ میں مبینہ پولیس مقابلے میں موٹرسائیکل سوار ملزمان نے ناکے پر فائرنگ کی لیکن جوابی کارروائی میں 2 ملزمان مارے گئے جس کے بعد نعشیں اسپتال منتقل کردی گئیں-

    سی سی پی او لاہور تبادلہ کیس: چیف الیکشن کمشنر کو عدالت نے طلب کر لیا

    پولیس ذرائع کا کہنا ہےکہ ہلاک ملزمان مبینہ طور پر ایف نائن پارک واقعہ میں ملوث تھے، پولیس گزشتہ روز ملزمان کی شناخت کرچکی تھی، ملزمان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے فرار ہونے کی کوشش کی، ملزمان نے فرار ہوتے ہوئے ناکہ دیکھا تو فائرنگ کردی جس کے بعد پولیس کی جوابی فائرنگ میں ملزمان مارے گئے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق دونوں ملزمان کوگزشتہ روزمارگلہ پولیس نے تھانہ گولڑہ کے علاقے سے گرفتار کیا تھا، ایک ہلاک ملزم کی شناخت نواب علی اور دوسرے کی اقبال کے نام سے ہوئی، دونوں ملزمان ریکارڈ یافتہ تھے، ان کے خلاف تھانوں میں 60 سے زائد مقدمات درج تھے۔

    شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

  • آئین ہر صورت 90 دن میں انتخابات کروانے کا پابند کرتا ہے،انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،عدالت

    آئین ہر صورت 90 دن میں انتخابات کروانے کا پابند کرتا ہے،انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،عدالت

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ آئین ہر صورت 90 دن میں انتخابات کروانے کا پابند کرتا ہے،شفاف انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز الاحسن نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کا حکم تھا پھر بھی سی سی پی او تبدیل کیوں کیا گیا، غلام محمود ڈوگر کو ٹرانسفر کرنے کی اتنی جلدی کیا تھی؟ جس پروکیل پنجاب حکومت نےکہا کہ الیکشن کمیشن کی اجازت سےغلام محمود ڈوگر کو دوسری مرتبہ تبدیل کیا گیا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئےکہ افسران کی تبدیلی میں الیکشن کمیشن کا کیا کردار ہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کردار انتخابات کے اعلان ہونے کے بعد ہوتا ہے۔

    ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ پنجاب میں کیئر ٹیکر سیٹ اَپ آنے کی وجہ سے الیکشن کمیشن سے اجازت لی گئی، آئین کے مطابق کیئر ٹیکر سیٹ اَپ آنے کے بعد 90 دنوں میں انتخابات ہونا ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ تو پھر بتائیں الیکشن ہیں کہاں؟ جسٹس مظاہر علی نےریمارکس دیئےکہ آدھے پنجاب کو ٹرانسفر کر دیا ہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ کیا پنجاب میں ایسا کوئی ضلع ہے جہاں ٹرانسفر نہ ہوئی ہو۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کے حکم کا علم نہیں تھا؟ الیکشن کمیشن اپنے کام کے علاوہ باقی سارے کام کر رہا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کو طلب کیے جانے کے بعد غلام محمود ڈوگر تبادلہ کیس کی وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو ججز نے استفسار کیا کہ کیا چیف الیکشن کمشنر پہنچ گئے ہیں؟ جس پر عدالتی عملے نے بتایا کہ ابھی تک سرکاری وکلاء واپس آئے اور نہ چیف الیکشن کمشنر۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ معمول کے مقدمات ختم ہوچکے اس لیے چیف الیکشن کمشنر پہنچیں تو آگاہ کیا جائے، جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے پہنچنے تک سماعت ملتوی کی گئی۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سپریم کورٹ پہنچ گئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد سماعت دوبار شروع ہوئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آئین ہر صورت 90 دن میں انتخابات کروانے کا پابند کرتا ہے اور انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، مقررہ وقت میں انتخابات نہ ہوئے تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی 90 دن میں انتخابات کے حوالے سے آئین میں کوئی ابہام نہیں نگراں حکومت تقرر و تبادلے نہیں کر سکتی اور نگراں حکومت کو تبادلہ مقصود ہو تو ٹھوس وجوہات کے ساتھ درخواست دے گی، الیکشن کمیشن وجوہات کا جائزہ لے کر مناسب حکم جاری کرنے کا پابند ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ عدالت حکم دے تو تبادلے روک دیں گے، الیکشن کی تاریخ خود دیں تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔ مجھے موقع ملا ہے تو کچھ باتیں عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

    سلندر سلطان راجہ نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے یکساں پالیسی کے تحت پورے صوبے میں تقرری وتبادلوں کی اجازت نہیں دی، کچھ کمشنر، ڈی سی، آر پی او وغیرہ کا ٹرانسفر ضروری تھا،مجھے اپنے اختیارات اور آئینی تقاضے پر عمل کرنے سے روکا جا رہا ہے آرمی سے سیکیورٹی مانگی تو انکار کر دیا گیا، عدلیہ سے آر اوز مانگے تو انہوں نے انکار کر دیا اور انتخابات کے لیے پیسہ مانگا اس سے بھی انکار کر دیا گیا۔ میرے اختیارات کو کم کیا جا رہا ہے، ایسے حالات میں کس طرح فری فیئر الیکشن کروائے جائیں۔ اگر عدالت ٹرانسفرز کو فری الیکشن میں رکاوٹ سمجھتی ہے تو نہیں کریں گے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ نے اس مسئلے پر حکومت سے رابطہ کیا ہے؟چیف الیکشن کمشنرنے جواب دیا کہ حکومت کو اپنے تمام ترمسائل سے آگاہ کیا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو صوبےکی بات پر من وعن عمل نہیں کرنا ہوتا، الیکشن کمیشن نے تقرری و تبادلے میں دیکھنا ہوتاہےکہ ٹھوس وجوہات ہیں یا نہیں چیف الیکشن کمشنر کاکہناتھا کہ تفصیلی اجلاس میں صوبوں کوتقرری وتبادلےکی گائیڈ لائنزجاری کی ہیں۔

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ اگر چند کمشنرز، ڈی سی، آر پی او، ڈی پی اوز کے تبادلے نہ ہوئے تو انتخابات شفاف نہیں ہوں گے، عدالت حکم دے دےگی تو تبادلے نہیں کرنے دیں گے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئےکہ آپ تفصیلی رپورٹ دیں جائزہ لیں گےکہ کیا مشکلات ہیں لیکن 37 اضلاع ہیں سب میں ٹرانسفرز کردو یہ نہیں ہوگا، الیکشن کا اعلان کیا نہیں اور ٹرانسفرز کر دیں، 90 روز میں الیکشن آئین کی منشا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ عدالت ایسا کوئی حکم نہیں دے رہی، آئین کا ایک ایک لفظ ہمیں پابند کرتا ہے،الیکشن کمیشن نے انتخابات کا معاملہ ہوا میں اڑا دیا مگر تقرری و تبادلےکی گائیڈ لائنز بنانا یاد ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کا اعلان نہیں کرسکتا، اس پر جسٹس مظاہرنقوی نے سوال کیا کہ کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن انتخابات کا اعلان نہیں کرسکتا؟

    چیف الیکشن کمشنر نےکہا کہ گورنر یا صدر انتخابات کا اعلان کرسکتے ہیں، آئین کے آرٹیکل105 کے تحت الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ نہیں دے سکتا۔

    سپریم کورٹ نےالیکشن کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر الیکشن کمیشن سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

    اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ مناسب ہوگا عدالت لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کرے کیونکہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ اپیل آنے پر انتخابات کا کیس سنے گی یا اسی کیس میں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تبادلہ کیا گیا اور غلام محمود ڈوگر کا الیکشن کمیشن کے کہنے پر ہی تبادلہ ہوا، ایسے پیش نہیں ہوتے تو ہم نوٹس دے کر بھی طلب کر سکتے ہیں۔

    وکیل عابد زبیری نے عدالت کو بتایا کہ غلام محمود ڈوگر کو الیکشن کمیشن کے زبانی حکم پر تبدیل کیا گیا، جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا زبانی احکامات پر تبادلے کی بات درست ہے؟

    چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ چیف سیکریٹری نے 23 جنوری کو فون کرکے تبادلے کے متعلق کہا تھا اور تحریری درخواست آنے پر 6 فروری کو باضابطہ اجازت نامہ دیا۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو سپریم کورٹ کے احکامات کا علم نہیں تھا؟ چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا کہ جو ریکارڈ ملا اس میں سپریم کورٹ احکامات کا ذکر نہیں تھا، تبادلوں کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کو گائیڈ لائنز جاری کی ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریماریس دیئے کہ آپ صرف آئین اور قانون کے پابند ہیں اپنی پالیسیوں کے نہیں۔

    دوران سماعت بار بار سر ہلانے پر سیکریٹری الیکشن کمیشن کی سرزنش کر دی جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں اور کیوں روسٹم پر کھڑے ہو کر سر ہلا رہے ہیں؟ عمر حمید خان نے بتایا کہ میں سیکریٹری الیکشن کمیشن ہوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ جو بھی ہیں نشست پر بیٹھیں۔

    اٹارنی جنرل نے استدعا کی اگرضروری نہیں تو الیکشن کمشنرکل پیش نہ ہوں چیف الیکشن کمشنر کا بھی کہنا تھا کہ عدالت اجازت دے تو میری جگہ سیکرٹری یا سینیئر افسر کل پیش ہوجائےگاجسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ ادارے کے سربراہ ہیں آپ خود پیش ہوں، سکون سے سنیں گے۔

    سپریم کورٹ نے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے تبادلے سمیت پنجاب میں تمام افسران کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کو بھی کل پھر طلب کرلیا۔

  • عدالت نے شیخ رشید کی ضمانت منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا

    عدالت نے شیخ رشید کی ضمانت منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی جس میں سابق وزیر کے وکیل سلمان اکرم راجا، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون اور ایس ایچ او آبپارہ عدالت میں پیش ہوئے۔

    سابق وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کی درخواست ضمانت پرسماعت کا آغاز ہوا تووکیل سلمان اکرم راجا روسٹرم پر آ گئےاس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر خان جدون، ایس ایچ او آبپارہ بھی عدالت میں پیش ہوگئے۔

    شیخ رشید کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئےکہا کہ ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواست ہے، ایڈیشنل سیشن جج نے ایک الزام کی بنا پرضمانت خارج کی، اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ الزام کیا لگایا گیا ہے؟ سلمان اکرم نےکہا کہ نیوز چینل پر بیان دکھایاگیا جس کی بنا پر مقدمہ درج کیا گیا، شیخ رشید اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں قید ہیں۔

    عدالت نے پوچھا کہ شیخ رشیدنے الزام کیا لگایا ہے؟ کسی نیوز چینل پر بیان ہے؟ اس پر شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ جی انہوں نے ایک بیان دیا جو نیوز چینلز پر نشر ہوا لیکن شواہد میں ایسا کچھ نہیں کہ بیان سے پی ٹی آئی اورپیپلزپارٹی کے درمیان تصادم ہوا۔

    دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید سینئر سیاستدان ہیں، ان کی گفتگو پارلیمانی ہونی چاہیے اس پر عدالت نے کہا کہ سب ایک ہی قسم کی گفتگو کرتے ہیں، سب پارلیمانی ہے، جج کے ریمارکس پرعدالت میں قہقہے لگ گئے۔

    وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے استفسار کیا کہ دورانِ تفتیش آپ کو کیا معلومات ملی ہیں، جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ شیخ رشید اپنے بیان سے انکاری نہیں ہیں، اب بھی وہ بیان دہرا رہے ہیں۔ 8 مرتبہ رکن قومی اسمبلی بنے لیکن ایسے بیانات کی ان سے توقع نہیں کی جا سکتی۔ آپ ایسے بیانات دے دیتے ہیں تو اس کی کچھ حدود و قیود ہیں۔

    ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں میں سینئر ہُوں اور کہہ رہے ہیں آصف زرداری نے دہشت گردوں کی خدمات حاصل کر لیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ سب لوگ پارلیمانی زبان ہی استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔جو حکومت میں ہوتا ہے وہ اور زبان ہوتی ہے، اپوزیشن میں زبان بدل جاتی ہے۔

    جہانگیر جدون نے کہا کہ شیخ رشید نےوزیرداخلہ اور بلاول بھٹو کو گالیاں دیں،اس پرسلمان اکرم نےکہا کہ یہ کیس ہی نہیں ہےجو ایڈووکیٹ جنرل بیان کررہے ہیں۔

    اس موقع پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بیان دیا کہ شیخ رشید کے بیان کی تفصیلات پیمرا سے حاصل کی گئیں، انہوں نے بیان دیا کہ انہوں نے عمران خان سے یہ انفارمیشن لی، آصف زرداری کی عمران خان کے خلاف مبینہ سازش کے شواہد شیخ رشید سے نہیں ملے۔

    شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ اس میں کوئی ایسا امکان نہیں کہ یہ بیان دہرایا جائے، جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اگر تو یہ جرم نہیں دہراتے اور انڈرٹیکنگ دیتے ہیں تو عدالت دیکھ لے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ہمیں پرائمری اسکول کے نصاب ہی سے تربیت شروع کرنی پڑے گی۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا بعد ازاں عدالت نے کچھ دیر بعد فیصلہ سناتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی ضمانت منظور کرلی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض شیخ رشید کی رہائی کا حکم جاری کیا۔

  • رجیم چینج سے متعلق امریکا پر الزامات میں کوئی حقیقت نہیں،امریکا

    رجیم چینج سے متعلق امریکا پر الزامات میں کوئی حقیقت نہیں،امریکا

    واشنگٹن: ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ رجیم چینج سے متعلق امریکا پر الزامات میں کوئی حقیقت نہیں۔

    باغی ٹی وی:امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستان سے دو طرفہ تعلقات امریکا کے لیے اہم ہیں پروپیگنڈا اور غلط معلومات کو دو طرفہ تعلقات میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں، جمہوری اور خوشحال پاکستان امریکا مفادات کیلئے اہم ہے۔

    پرتگالی کیتھولک چرچ میں 4,815 نابالغ بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنے

    ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ الزامات کے کھیل پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ بے بنیاد الزامات پرہمارا موقف واضح ہے ہم نے مسلسل کہا ہے کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔

    نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ پاکستان سے تعاون کی قدر کرتے ہیں۔خوشحال اور جمہوری پاکستان امریکا کے مفاد میں ہے۔ پروپیگنڈا، جعلی اور بے بنیاد معلومات کو باہمی تعلقات میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔

    محکمہ خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے سیاسی حلقوں میں کسی ایک سیاسی امیدوار یا جماعت کو ترجیح نہیں دیتے۔ امریکا پُرامن جمہوری اور آئینی اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔

    ترک صدر نے اسپتال میں زلزلے سے متاثرہ بچی کے کان میں اذان دی اور نام رکھا ،ویڈیو