Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • سابق صدر آصف زرداری کیخلاف ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس کی کارروائی ختم

    سابق صدر آصف زرداری کیخلاف ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس کی کارروائی ختم

    سابق صدر آصف زرداری کیخلاف ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس کی کارروائی ختم

    سابق صدر آصف علی زرداری کیخلاف ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس کی کارروائی ختم کردی گئی ہے جبکہ احتساب عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے پر ریفرنس نیب کو واپس بھیج دیا گیا ہے اور جج ناصر جاوید رانا نے درخواستوں پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ جاری کیا جس میں کاروائی کو ختم کیا گیا.

    خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دیگر کے خلاف ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس کی سماعت کی۔ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کیس کی سماعت کی۔ آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے معاون وکیل عدالت میں پیش ہوئے ۔ انہوں نے عدالت نے بریت کی درخواستوں پر سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی جبکہ اس سے قبل عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 19 جنوری یعنی آج تک ملتوی کر دی تھی.

    جبکہ آج کی سماعت میں وکیل کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ آصف زردای پر ریفرنس میں تیس ملین روپے کا الزم ہے، نیب اب تک یہ الزام بھی ثابت نہیں کر سکا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے نیب قانون کے تحت ریفرنس بھی عدالت کے داٸرہ اختیار میں نہیں آتا۔ فاروق نائیک نے استدعا کی کہ احتساب عدالت قانون کے مطابق ریفرنس واپس بھیجے۔ جج ناصر جاوید رانا نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ آصف زرداری کیخلاف پارک لین ریفرنس پر سماعت بھی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی۔ عدالت نے آصف زراری کی آج حاضری سے استشنی کی درخواست منظور کرلی۔ ریفرنس میں عدالت کے دائرہ اختیار پر دلائل طلب کرتے ہوئے مزید کارروائی کیلئے پچیس جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔

    یاد رہے کہ آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں مؤقف اپنایا تھا کہ ان کے موکل پارک لین کے ڈائریکٹر تھے تاہم انہوں نے کمپنی سے 2008 میں صدر مملکت بننے سے قبل استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے ان کے موکل کے خلاف ریفرنس دائر کرتے ہوئے تمام مالیاتی قوانین کو نظر انداز کیا ہے۔

    انہوں نے تھا کہ نیب آصف علی زرداری کے خلاف اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی لازمی منظوری / ریفرنس کے بغیر اس کیس میں کارروائی نہیں کرسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہونے کا معاملہ تھا اور اسٹیٹ بینک واحد فورم تھا جو ان کے موکل کے خلاف کارروائی کا آغاز کرسکتا تھا لیکن معاملہ نیب نے اٹھالیا اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی میں اکیلے ہی اس معاملے کو آگے لے کر گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کو بہتر معاشی پوزیشن پر دیکھنا چاہتے. امریکہ
    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا اقتدار چھوڑنے کا اعلان
    بلوچستان میں زلزلہ کے جھٹکے
    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
    مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
    حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر
    الیکشن کمیشن نے (ق) لیگ کو معاملہ جلد دیکھنے کی یقین دہانی کرادی
    عوام نے نام نہاد مقبول لیڈرز کا پول کھول دیا ہے. بلاول بھٹو زرداری

    جبکہ اس سے قبل فاروق ایچ نائیک نے مالی قوانین کے حوالے سے نشاندہی کی تھی کہ 30 اکتوبر 2009 کو جبپارتھینون پرائیویٹ لمیٹڈ نے قرضہ حاصل کیا تو آصف زرداری کمپنی کے ڈائریکٹر نہیں تھے بلکہ وہ پارک لین کے صرف ایک شیئر ہولڈر تھے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے آصف علی زرداری کا استعفیٰ قبول کرلیا تھا تاہم وہ اس بارے میں اس وقت سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو آگاہ نہیں کرسکے تھے۔

    جب جج نے استفسار کیا تھا کہ پارتھینان، جب قرض وصول کررہے تھے تو پارک لین نے اس کی جائیدادوں کو مورٹ گیج کیا؟ تو فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ وہ ایک طرح کی شراکت میں ہیں اور سابق نے مؤخر الذکر کو تعمیراتی منصوبے کی پیش کش کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ نیشنل بینک آف پاکستان کی کریڈٹ کمیٹی نے پارتھینان کے لیے قرض کی منظوری دی تھی لیکن نیب نے ریفرنس میں این بی پی کے کسی ایک عہدیدار کو بھی شامل نہیں کیا۔

  • عراقی فٹبال اسٹیڈیم میں بھگدڑ مچنے سے دو افراد ہلاک جبکہ 80 زخمی

    عراقی فٹبال اسٹیڈیم میں بھگدڑ مچنے سے دو افراد ہلاک جبکہ 80 زخمی

    عراقی فٹبال اسٹیڈیم میں بھگدڑ مچنے سے دو افراد ہلاک جبکہ 80 زخمی.

    غیر ملکی خبرایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ عراقی فٹبال اسٹیڈیم میں بھگدڑ مچنے سے دو افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 80 افراد زخمی ہونے کی اطلاع ہے. جبکہ بھگدڑ عراق اور عمان کے درمیان عربین گلف کپ کے فائنل سے قبل مچی تھی جس میں 8 ملکی عربین گلف کپ کے فائنل میں میزبان عراق کا مقابلہ عمان سے ہونا تھا.


    تاہم اس دوران بھگدڑ سے لوگ خوف زدہ ہو کر ادھر اُدھر بھاگے تو اس دوران کئی لوگ زخمی ہوئے الجزیرہ کے مطابق اس بین الاقوامی نایاب کھیل کو دیکھنے کیلئے کئی شائقین اس امید میں صبح سے ہی بغیر ٹکٹ کے اسٹیڈیم کے باہر جمع تھے۔ جبکہ اسٹیڈیم کے قریب سے رپورٹنگ کرنے والے صحافی اسماعیل عدنان نے صورتحال کو "انتہائی افراتفری” قرار دیا۔


    جبکہ فٹبال کے مداح مومین عدنان نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ اسٹیڈیم کے باہر ہونے والے واقعے کے دوران زخمی ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "مجھے اس طرح کی افراتفری کی توقع نہیں تھی۔ بھگدڑ کی وجہ سے، میں گر گیا اور میرا ہاتھ زخمی ہوگیا۔ "میں سٹیڈیم میں داخل نہیں ہو سکا تھا، لیکن بھگدڑ کی وجہ سے میں صحافیوں کے گیٹ سے داخل ہوا۔ جبکہ میں ان مشکل حالات میں فائنل ہونے کی امید نہیں رکھتا۔‘‘

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کو بہتر معاشی پوزیشن پر دیکھنا چاہتے. امریکہ
    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا اقتدار چھوڑنے کا اعلان
    بلوچستان میں زلزلہ کے جھٹکے
    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
    مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
    حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر
    الیکشن کمیشن نے (ق) لیگ کو معاملہ جلد دیکھنے کی یقین دہانی کرادی
    عوام نے نام نہاد مقبول لیڈرز کا پول کھول دیا ہے. بلاول بھٹو زرداری

  • وزیراعظم شہباز شریف سے روس کے 9 رکنی وفد کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے روس کے 9 رکنی وفد کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے روس کے 9 رکنی وفد کی ملاقات ہوئی ہے
    ملاقات میں باہمی دلچسپی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا,روسی وفد نے وزیراعظم سے توانائی و دیگر امور پر بات چیت کی، وزیراعظم نے روسی وفد کو پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی بارے آگاہ کیا، روسی وفد نے سیلاب سے اموت اور مالی نقصان پر اظہار افسوس کیا،

    دوسری جانب پاکستان روس کے بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت، اقتصادی، سائنسی اور تکنیکی تعاون کے لئے دوسرے دن بھی مذاکرات ہوئے،

    ہاکستان اور روس نے وفود کی سطح پر توانائی،تیل وگیس،زراعت ،مالیات،،تجارت،سرمایہ کاری، کسٹم، صنعت، تعلیم سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے امور پر غور کیا،مواصلات روڑز ،پوسٹل سروس اور ریلوے کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لئے وفود کی سطح پر مذاکرات کئے گئے، ،روسی وفد کا کہنا تا کہ توانائی کا شعبہ مذاکرات میں ترجیحی شعبہ ہے،کیونکہ روسی وفد کی قیادت بھی روس کے وزیر توانائی کررہے ہیں توانائی کے شعبے میں دونوں ملک مل کر آگے بڑھیں گے توانائی،تیل وگیس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لئے ورکنگ گروپس قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے ،روسی وفد کا کہنا تھا کہ پاکستان روس کے سائنس وٹیکنالوجی اور تحقیق کے شعبے میں شعبے سے دائرہ اٹھائے،روسی وفد 78-80 ارکان پر مشتمل ہے۔

    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
    مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت

  • کراچی کی پہلی الیکٹرک سے چلنے والی بس

    کراچی کی پہلی الیکٹرک سے چلنے والی بس

    کراچی کی پہلی الیکٹرک سے چلنے والی بس

    کراچی میں پیپلز بس سروس پروگرام کے نام سے پاکستان کے شہر کراچی سے پہلی الیکٹرک بس سروس کا آغاز کیا گیا جبکہ گزشتہ دنوں حکومتِ سندھ نے کراچی ایئرپورٹ سے سی ویو تک الیکٹرک بس سروس کے پہلے روٹ کا افتتاح کیا تھا ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور وزیر محنت سعید غنی کے ہمراہ گزشتہ 13 جنوری کو بس سروس کا افتتاح کیا تھا علاوہ ازیں انہوں نے سروس میں سہولیات کا جائزہ لیا اور بس میں سفر بھی کیا تھا.

    جبکہ میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا تھا کہ یہ پاکستان کی پہلی الیکٹرک بس سروس ہے جو آج کراچی میں شروع کی جا رہی ہے، یہ ماحول دوست بسیں ہیں جو بجلی سے چلیں گی. ان کا مزید کہنا تھا کہ سی ویو، کلفٹن سے ایئرپورٹ جانے والے مسافروں کے لیے کوئی بس سروس نہیں تھی اور انہیں پرائیویٹ گاڑیاں یا کیب استعمال کرنا پڑتی تھیں جن کا کرایہ تقریباً 1500 روپے ہوتا تھا لیکن الیکڑک بس سروس سے مسافر اب صرف 50 روپے میں ایئرپورٹ تک جاسکتے ہیں.

    شرجیل میمن نے مزید کہا کہ ایک ہی چارج سے 240 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھنے والی یورپی معیار کی یہ بسیں کسی قسم کی آلودگی کا باعث نہیں بنیں گی۔ جبکہ بس سروس ٹینک چوک جناح ایونیو سے ایئرپورٹ، شارع فیصل، ایف ٹی سی، کورنگی روڈ، خیابان اتحاد سے سی ویو کے کلاک ٹاور تک جائے گی۔


    واضح رہے کہ دنیا بھر میں گزشتہ کئی سالوں سے بجلی سے چلنے والی گاڑیاں اور بسیں سڑکوں پر رواں دواں ہیں اور اب ایسی ہی بسیں کراچی کی سڑکوں پر بھی آپ کو دوڑتی نظر آئیں گی۔ اور ایسا پاکستان میں پہلی بار ہوا کہ سندھ حکومت نے بجلی سے چلنے والی یہ بسیں باہر سے منگوائیں ہیں جن میں 50 میں سے 10 بسیں کراچی پہنچ گئی اور انہیں چلایا بھی گیا تھا۔ علاوہ ازیں یہ بسیں مکمل طور پر ائیر کنڈیشنڈ ہیں اور ان میں 33 افراد کے بیٹھنے جبکہ 40 مزید افراد کی جو کھڑے ہوسکتے کی گنجائش موجود ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کو بہتر معاشی پوزیشن پر دیکھنا چاہتے. امریکہ
    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا اقتدار چھوڑنے کا اعلان
    بلوچستان میں زلزلہ کے جھٹکے
    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
    مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
    حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر
    الیکشن کمیشن نے (ق) لیگ کو معاملہ جلد دیکھنے کی یقین دہانی کرادی
    عوام نے نام نہاد مقبول لیڈرز کا پول کھول دیا ہے. بلاول بھٹو زرداری

  • عبوری وزیراعلی کی تعیناتی کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل

    عبوری وزیراعلی کی تعیناتی کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے عبوری وزیراعلی کی تعیناتی کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی

    پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری کر دیا گیا، پارلیمانی پارٹی میں اپوزیشن اور حکومت کے تین تین افراد کو شامل کیا گیا ہے پارلیمانی کمیٹی میں تحریک انصاف اور ق لیگ کی جانب سے راجہ بشارت، میاں اسلم اقبال، ہاشم جواں بخت شامل ہیں، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ملک احمد خان، ملک ندیم کامران اور سید حسن مرتضی شامل ہیں کمیٹی تین دن میں وزیراعلی پرویز الہی اور اپوزیشن لیڈر کی جانب سے دئے گئے ناموں میں سے کسی ایک پر اتفاق کرے گی ،پارلیمانی کمیٹی میں اتفاق نہ ہونے پر عبوری وزیراعلی کی تعیناتی کا معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا

    ن لیگی رہنما ملک احمد خان کا پی ٹی آئی کے راجہ بشارت سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے،راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ ملک احمد خان نے رات تک ملاقات کا عندیہ دیا ،پی ٹی آئی کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ کے لیے د یئے گئے نام بہترین ہیں،

    پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں، نگران وزیراعلیٰ کی تقرری ہونی ہے اور پھر الیکشن کا اعلان ہو گا، تمام سیاسی جماعتیں الیکشن لڑنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھی ہیں اور پارلیمانی اجلاس ہو رہے ہیں وہیں ساتھ ٹکٹ دینے کے لئے کمیٹیاں بھی بن رہی ہیں، ن لیگ نے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا تو پی ٹی آئی بھی متحرک ہو چکی ہے،

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ کون؟ قرعہ کس کے نام کا

  • میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے

    میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے

    میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے
    وہ دن آخری ہو میری زندگی کا

    مہناز

    معروف گلوکارہ مہناز بیگم کا اصل نام سیدہ مطاہرہ کنیز رضا اور والد کا نام سید اختر علی تھا۔ وہ مشہور مغنیہ کجن بیگم کے ہاں 1953ء میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے استاد امراؤ بندو خان کے بھتیجے نذیر نے انہیں مہناز کا نام دیا۔ مہناز نے موسیقی کی تربیت مہدی حسن خان کے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر سے حاصل کی۔ امیر امام نے انہیں پاکستان ٹیلیوژن کے پروگرام” نغمہ زار ” کے ذریعے عوام سے متعارف کروایا جس کے بعد مشہور موسیقار اے حمید نے مہناز کو فلمی دنیا میں آنے کی دعوت دی۔ ہدایتکار نذرالاسلام کی فلم ‘حقیقت’ مہناز کی بطور پلے بیک سنگر ریلیز ہونے والی پہلی فلم تھی جس کے بعد جلد ہی مہناز فلمی دنیا کی مقبول ترین آواز بن گئیں اور فلمی صنعت کے ہر موسیقار نے مہناز کی آواز کو اپنی فلم میں شامل کرنا اپنا اعزاز جانا۔ مہناز نے ساڑھے تین سو سے زیادہ فلموں کے لیے پانچ سو سے زیادہ نغمات ریکارڈ کروائے۔ اس کے علاوہ مہناز نے لاتعداد گیت اور غزلیں بھی گائیں جو آج بھی بیحد مقبول ہیں۔

    حکومت پاکستان نے موسیقی کے شعبے میں مہناز کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ انہیں ان کی گائیکی پر اور بھی متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں دس نگار ایوارڈ، دو نیشنل ایوارڈ، سات گریجویٹ ایوارڈ اور ایک پی ٹی وی ایوارڈ شامل ہیں۔ مہناز نے 1977ء سے 1983ء تک مسلسل سات سال تک نگار ایوارڈ حاصل کیا جو ایک منفرد اعزاز ہے۔

    مہناز طویل عرصے سے ہائی بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا تھیں۔ 19 جنوری 2013ء کو وہ اپنے علاج کیلئے پاکستان سے امریکا جا رہی تھیں کہ اچانک راستے میں انکی طبیعت خراب ہو گئی۔ جہاز کو ہنگامی طور پر بحرین کے شہر مانامہ میں اتارا گیا اور انہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جاں بر نہ ہوسکیں اوراپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ وہ کراچی کی وادی حسین قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔ مہناز کی آواز میں چند مشہور نغموں کے بول

    میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے
    او میرے سانوریا او بانسری بجائے جا
    تیرے میرے پیار کا ایسا ناتا ہے
    مجھے دل سے نہ بھلانا
    تیرےسنگ دوستی ہم نہ توڑیں کبھی

    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • خائن کیلئے قرآن کریم میں سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں،چیف جسٹس

    خائن کیلئے قرآن کریم میں سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ اسے قانون سازی کا اختیار ہے، کالعدم کرنے پر عدالت کو بتانا ہوگا نیب ترامیم جیسی قانون سازی کیوں نہیں ہوسکتی،صرف وہی قانون کالعدم ہو سکتا ہے جو بنانے پر آئینی ممانعت ہو،عدلیہ کے اختیارات کم کرنے کیلئے کی گئی قانون سازی کالعدم ہوسکتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پھانسی کی سزا ختم کرنا آئینی عمل ہوگا؟ اگر پارلیمنٹ نیب کو ہی ختم کردے تو کیا اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پارلیمان کو قانون سازی کیساتھ قانون واپس لینے کا بھی اختیار ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالت یہ کہ کر نیب کو بحال کر سکتی ہے کہ احتساب ختم ہوگیا؟ کیا تعزیرات پاکستان ختم ہونے سے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونگے؟ نیب پبلک پراپرٹی کے مقدمات بناتا کے جو عوام کی ملکیت ہوتی ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ برطانیہ میں سزائے موت کسی جرم میں نہیں دی جاتی،سزائے موت کے خاتمے کے قانون کا اطلاق زیر التواء مقدمات پر بھی ہوا تھا، برطانیہ ان ممالک کیساتھ ملزمان حوالگی کا معاہدہ نہیں کرتا جہاں سزائے موت دی جاتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شرعی قانون میں سزائے موت موجود ہے، کیا شرعی اصولوں کیخلاف قانون سازی کی جا سکتی ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اسلام میں دیت اور قصاص کا تصور بھی موجود ہے، ورثاء دیت کے عوض جرم معاف کر سکتے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے مطابق احتساب اسلام اور آئین کا بنیادی جزو ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت قوانین کا جائزہ آئین اور بنیادی حقوق کے تناظر میں ہی لے سکتی ہے، کیا عدالت کچھ اور نہ ملنے پر شرعی تناظر میں قوانین کا جائزہ لے سکتی ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ شریعت کے تحت قوانین کا جائزہ صرف شرعی عدالت لے سکتی ہے،نیب ترامیم کا جائزہ اسلامی اصولوں کے تناظر میں نہیں لیا جا سکتا،اجماع اور اجتہاد کے اصول ریاستی ادارہ پارلیمان استعمال کر رہا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قرآن میں امانت اور خیانت کے اصول واضح ہیں، خائن کیلئے قرآن کریم میں سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں، عدالت میں بحث جرم کی حیت تبدیل کرنے کی ہے، سزا کچھ بھی ہو جرم تو جرم ہی رہتا ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ احتساب کے تمام قوانین کا اطلاق ہمیشہ ماضی سے ہوا ہے، نیب ترامیم کا ماضی سے اطلاق ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، مزید سماعت 7 فروری تک ملتوی کر دی گئی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • آئی ٹی انڈسٹری میں پاکستان کا سارا قرضہ اتارنے کی صلاحیت ہے،وزیر آئی ٹی

    آئی ٹی انڈسٹری میں پاکستان کا سارا قرضہ اتارنے کی صلاحیت ہے،وزیر آئی ٹی

    وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق نے کیریئر کونسل پورٹل کا افتتاح کردیا۔

    اس موقع پر امین الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان سافٹ ویئرایکسپورٹ بورڈ کا تیارکردہ پورٹل آئی ٹی ہنرمندوں کو کیریئرکونسلنگ فراہم کرے گا،آئی ٹی فیلڈ منتخب کرنے والے نوجوانوں کو اکثر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کیلئے کون سا شعبہ فائدہ مند ہے،پورٹل سے نوجوانوں کو اپنے کیریئر سے متعلق فیصلے کرنے اور روزگار کی تلاش میں آسانیاں ملیں گی، پاکستان کی دو تہائی آبادی 30 سال تک کے نوجوانوں پر مشتمل ہے، یہ نوجوان آبادی پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں جوٹیکنالوجی کی دنیا کا انمول اثاثہ بن سکتے ہیں، شہری علاقوں میں کیریئر کونسلنگ کی تعداد کم اور دیہی علاقوں میں نہ ہونے کے برابر ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نوجوانوں کو مستقبل میں بہترین روزگار کیلئے جامع رہنمائی فراہم کی جائے،

    وزارت آئی ٹی کے ادارے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کی یہ کاوش اسی سلسلے کی کڑی ہے،خواہش ہے کہ آئی سی ٹی کی کھربوں ڈالر کی عالمی صنعت سے پاکستان کو باوقار حصہ ملے، یہ خواب اسی وقت پورا ہوگا جب ہم اپنے نوجوانوں کو درست سمت میں رہنمائی فراہم کرسکیں ، اس پورٹل کے ذریعے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر آئی ٹی انڈسٹری کو موزوں امیدوار بھی مل سکیں گے پاکستان میں کچھ سال قبل تک آئی ٹی سےمتعلق اتنی آگاہی موجود نہیں تھی جیسی اب ہے،ملک میں نئے فارغ التحصیل افراد کیلئےانٹری لیول میں سب سے اچھی تنخواہیں شعبہ آئی ٹی میں ہیں، پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ ڈھائی ارب ڈالرز ہے، ہمیں کم از کم 15 ارب ڈالرز کے ٹارگٹ تک جانا ہے، ٹارگٹ کے حصول کیلئے ملک بھر میں براڈ بیند سروسز کی فراہمی اورفری لانسنگ تربیت کیلئے کام کررہے،آئی ٹی انڈسٹری میں پاکستان کا سارا قرضہ اتارنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کی صلاحیت ہے، ضروری ہے کہ آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹرزکے مسائل حل کرنے میں تمام متعلقہ وزارتیں اپنا کردار ادا کریں،اگر آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر کے مسائل حل کردیئے جائیں تو یہ ملک کے اقتصادی مسائل حل کرسکتے ہیں، وزارت آئی ٹی میں منعقدہ تقریب میں ایڈیشنل سیکریٹری عائشہ حمیرا، سید جنید امام، محمد عمر ملک سمیت دیگر افسران نے شرکت کی

    پانچ بچوں کی ماں سے "خفیہ”ملنے آنیوالے تاجر کا قاتل گرفتار،کس نے کیا قتل؟ اہم انکشاف

    عید کے حوالے سے کی جانے والی شراب کی بڑی سپلائی ناکام بنا دی گئی

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    قبل ازیں وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق سے سوئیڈش سفیر کی قیادت میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات ہوئی ہے، اس موقع پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ "سوئیڈن سمیت تمام یورپی ممالک سے دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں،” وفد میں سوئیڈن کی ٹیکنالوجی کمپنیزنمائندگان شریک تھے، باہمی دلچسپی کے امور پرتبادلہ خیالات ہوا. وفاقی وزیر نے پاکستان میں آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر میں ہونےوالےاقدامات سےوفد کوآگاہ کیا.امین الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے ٹیلنٹ، اکثریتی نوجوان آبادی اوربیرونی سرمایہ کاری کا مرکز ہے. دنیا بھرمیں پاکستان کو برانڈ کےطور پر متعارف کروانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں. آئی ٹی و ٹیلی کام شعبوں میں سوئیڈن کمپنیزکے ساتھ ہرممکن تعاون کیلئے تیارہیں،سوئیڈش کمپنیز نے صحت، تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجیزکے استعمال پرتجاویزکا تبادلہ کیا، سوئیڈش وفد کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کےاستعمال سے ماحولیاتی تبدیلیوں او غذائی قلت پرقابوپایا جاسکتا ہے،سوئیڈش سفیر ہنرک پیرسن نے آئی ٹی وٹیلی کام کمپنیزکو سوئیڈن میں روڈ شو کی دعوت دی.اور کہا کہ خواہش ہےدونوں ممالک کے مابین دیگر شعبوں کے ساتھ ٹیکنالوجی تعاون کا فروغ ہو،

    علاوہ ازیں پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق زشتہ 3 سال میں موبائل بینکنگ اکاؤنٹس میں 148 فیصد اضافہ ہوا،بینکنگ اکاؤنٹس کی تعداد 35 اشاریہ 7 ملین سے بڑھ کر 88 اشاریہ 5 ملین تک بڑھ گئی۔ پاکستانیوں نے سال 2021-22 میں 10 اعشاریہ 6 ٹریلین کی آن لائن ٹرانزیکشنز کیں۔سال 2021-22 میں آن لائن بینکنگ میں 32 فیصد اضافہ ہواپاکستان میں ای کامرس ریٹیلرز کی تعداد میں 76 فیصد اضافہ ہوا،ای کامرس ریٹیلرز کی تعداد 4 ہزار 445 ہوگئی۔ ملک بھر میں ای ویلٹ ایجٹس کی تعداد 6 لاکھ 37 ہزار سے زائد ہوگئی۔ تین سالوں میں ایپ بیس موبائل بینکنگ لین دین میں 9 کروڑ اضافہ ہوا۔ پاکستان میں 93 فیصد گھرانوں کے پاس ذاتی موبائل ہے۔پاکستان میں ایک اکائونٹ سے 24 گھنٹے میں 10 لاکھ روپے تک آن لائن ٹرانسفر کئے جاسکتے ہیں

  • خلائی ایجادات؛ بھارت بمقابلہ پاکستان

    خلائی ایجادات؛ بھارت بمقابلہ پاکستان

    خلائی ایجادات؛ بھارت بمقابلہ پاکستان

    بھارت نے 2008 میں چاند کی طرف اپنا پہلا مشن روانہ کیا لیکن یہ پہلا مشن چندریان ون چاند کی سطح پر اترنے میں ناکام ہوگیا تھا لیکن اس دوران خلائی مشن نے اپنے ریڈارز کے ذریعے سے چاند کی سطح پر سب سے پہلے پانی کی موجودگی کو دریافت کر لیا تھا۔ بھارت نے چاند کی طرف روانہ کیے جانے والے اپنے دوسرے مشن کے ذریعے سے چاند کے جنوبی قطب پر اترنے کی منصوبہ بندی پہلے سے کر رکھی تھی۔

    ایک انگریزی جریدے کے مطابق چاند کے اس انتہائی دور اور تاریک حصے پر اترنے کی منصوبہ بندی اس سے پہلے کوئی اور ملک نہیں کر سکا تھا اس مشن کے لئے بھارت نے اپنے پاس موجود ملکی ساختہ سب سے بھاری اور طاقتور راکٹ جی ایس ایل وی مارک تھری استعمال کیا تھا جبکہ اس کا وزن 640 ٹن تھا اور اس کی لمبائی 44 میٹر تھی جو کہ کسی 14 منزلہ عمارت کے برابر ہے۔ اس سیٹلائٹ سے منسلک خلائی گاڑی کا وزن 3792 کلو تھا اور اس کے تین واضح مختلف حصے تھے، جن میں مدار پر گھومنے والا حصہ ‘آربیٹر’، چاند کی سطح پر اترنے والا حصہ ‘لینڈر’ اور سطح پر گھومنے والا حصہ ‘روور’ شامل تھے۔

    علاوہ ازیں مدار میں گردش کرنے والا حصہ ایک سال تک خلا میں زیرگردش رہ کر وہاں کی تصاویر لیتا۔ سطح چاند پر اترنے والے حصے کا نام اسرو کے بانی کے نام پر ‘وکرم’ رکھا گیا تھا۔ اس کا وزن نصف تھا اور اس کے اندر 27 کلو کی چاند پر چلنے والی گاڑی’ پراگیان تھی جس پر ایسے آلات نصب کیئے گئے تھے کہ جو چاند کی سرزمین کی جانچ پڑتال کر سکیں اور وہاں پر موجود پانی کے بارے ٹھوس معلومات جمع کر سکیں۔ جبکہ اس کی زندگی 14 دن کی تھی۔ اور یہ لینڈر سے نصف کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کرنے کی اہلیت رکھتا تھا.

    جریدے میں لکھا گیا ہے کہ جہاں سے وہ زمین پر تصاویر اور اعدادوشمار تجزیے کے لیے روانہ کرتا۔ بدقسمتی سے بھارتی خلائی گاڑی وکرم چاند کی سطح سے محض 1۔2 کلومیٹر پہلے بے قابو ہو گئی اور 172 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کی سطح سے جا ٹکرائی۔ اور یوں بنی نوع انسان کی چاند کے قطب جنوبی پر اترنے کی پہلی کوشش بظاہر ناکام ہو گئی تھی.

    باغی ٹی وی کی ریسرچ کے مطابق پوری دنیا کی نظریں اس مشن پر تھیں کیونکہ اس طرح کی کسی بھی سائنسی کوشش کو عام طور پر پوری دنیا کی مشترکہ سائنسی کاوش گردانا جاتا ہے. بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (INCOSPAR) کا قیام 1962 میں عمل میں آیا تھا، جس کو 1969 میں انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) کا مختصر نام دے دیا گیا۔ اس کے بانی اور پہلے سربراہ خلائی سائنسدان وکرم سارا بھائی تھے جبکہ اس کا ہیڈکوارٹر بھارتی شہر بنگلور میں واقع ہے ۔اس وقت اس خلائی تحقیقاتی ادارے کا سالانہ بجٹ ڈیڑھ ارب ڈالرز ہے ،اور اس میں 16800 سے زیادہ سائنسدان کام کر رہے ہیں۔

    ایک بھارتی ادارے کے مطابق اسرو نے 19 اپریل 1975 کو اپنا پہلا مصنوعی سیارہ ‘آریہ بھاٹیا’سوویت یونین کی مدد سے خلا میں پہنچایا۔1980 میں بھارتی ساختہ پہلےخلائی راکٹ(SLV3)کے ذریعے سے’روہنی’نامی مصنوعی سیارے کو کامیابی سے خلائی مدار میں چھوڑا گیا۔اس کے بعد بھارت نے مقامی طور پر دو خلائی راکٹ ڈیویلپ کیے،جن میں سے ایک(PSLV) پولر مدار کے لئے اور دوسرا (GSLV)جیو سٹیشنری مدار تک مصنوعی سیارے پہنچانے کے لئے بنایا گیا تھا۔ ان کے ذریعے سے ‘گگن’ اور (IRNSS) جیسے متعدد مواصلاتی سیارے اور نیوی گیشن سسٹم کامیابی سے خلا میں پہنچائے گئے۔2014 میں اسرو نے ہندوستانی ساختہ (GSLV.D5) راکٹ کی مدد سےاپنے مواصلاتی سیارے GSAT 14 کو کامیابی سے خلا میں چھوڑا۔

    22 اکتوبر2008 کو بھارت کا پہلا خلائی مشن چندریان ون چاند کے مدار میں بھیجا گیا۔اور 5 نومبر 2015 کو مریخ کی طرف پہلا بھارتی خلائی مشن روانہ ہوا،جو کہ24 ستمبر 2014 کو مریخ کے مدار میں پہلی ہی کوشش میں کامیابی سے داخل ہونے والا دنیا کا پہلا خلائی مشن بن گیا۔18 جون 2016 کو انڈیا نے ایک ہی راکٹ کے ذریعے سے 20 مصنوعی سیارے اکٹھے خلا میں بھیج دیے،اور 15 فروری کو اپنے ہی تیار کردہ طاقتور خلائی جہاز(PSLV_C37) کے ذریعے ایک ہی فلائٹ میں 104 مصنوعی سیارے خلا میں کامیابی سے بھیج کر اب تک کا نہ ٹوٹنے والا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔

    اسرو نے اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا،بلکہ5 جون 2017 کو اپنے جدید ترین خلائی راکٹ (GSLV_MK3) کے ذریعے سے 4 ٹن وزنی مواصلاتی سیارے GSAT19 کو خلائی مدار میں بھیج کر امریکہ اور روس کے ساتھ خلا میں سب سے وزنی سیارے بھیجنے والے ممالک میں اپنی جگہ بنا لی۔ اسرو کا حالیہ مشن چندریان ٹو تھا،جس میں اسے جزوی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

    یاد رہے کہ بھارت کی مستقبل کی منصوبہ بندی میں مکمل ہندوستانی خلائی اسٹیشن کی تعمیر، مصنوعی سیارے چھوڑنے والا،انتہائی چھوٹا کم خرچ خلائی جہاز ،انسان بردار خلائی مشن،بار بار استعمال ہو سکنے والا خلائی راکٹ اور شمسی توانائی سے چلنے والا خلائی جہاز شامل ہیں۔ جبکہ ان کامیابیوں کے دوران کئی بار بھارتی سائنسدانوں کو ناکامیوں کا منہ بھی سامنا کرنا پڑا تھا.

    پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے سپارکو (SUPARCO) کا قیام بھارت سے ایک سال پہلے 1961 میں عمل وجود میں آیا تھا ایک انگریزی جریدے کے مطابق انڈیا کے اسرو کے ڈیڑھ ارب ڈالر کے سالانہ بجٹ کے مقابلے میں سپارکو کا بجٹ محض چار کروڑ اور تیس ڈالرز رکھا گیا ہے سپارکو کا پورا نام ‘اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن ‘ ہے جو کہ افواج پاکستان کے اسٹریٹیجک پلاننگ ڈویژن کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا جبکہ شروع میں اس کا ہیڈ کوارٹر کراچی میں تھا جسے پاکستان ائیر فورس کے ماتحت کر دیا گیا اور اب اس کا مرکز آرمی ڈسٹرکٹ چکلالہ میں ہے۔

    واضح رہے کہ قیام کے ابتدائی برسوں میں اس کی ترقی کی رفتار شاندار تھی۔1962 میں اس نے مقامی ساختہ پہلے سالڈ فیول کے حامل بغیر انسان بردار راکٹ ‘رہبر’ کی کامیاب اڑان بھری ،اور اسطرح پاکستان ایشیا کا تیسرا اور دنیا کا دسواں ایسا ملک بن گیا جس نے خلائی راکٹ کا کامیاب تجربہ حاصل کیا تھا جبکہ اس وقت کے خلائی پروگرام میں پاکستانیوں کو امریکہ کی بھی تکنیکی معاونت میسر تھی۔1967 تک پاکستان خلائی ٹیکنالوجی میں کامیاب پرواز کرنے کی اہلیت رکھنے والا جنوبی ایشیا کا واحد ملک تھا۔ اور یہ خلائی تجربات 1970 تک جاری رہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کو بہتر معاشی پوزیشن پر دیکھنا چاہتے. امریکہ
    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا اقتدار چھوڑنے کا اعلان
    بلوچستان میں زلزلہ کے جھٹکے
    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
    مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
    حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر
    الیکشن کمیشن نے (ق) لیگ کو معاملہ جلد دیکھنے کی یقین دہانی کرادی
    عوام نے نام نہاد مقبول لیڈرز کا پول کھول دیا ہے. بلاول بھٹو زرداری
    جبکہ سونمیانی کے خلائی اسٹیشن سے 200 کے قریب ایسے راکٹ چھوڑے گئے۔ تاہم بعدازاں بدقسمتی سے کئی طرح کی مالی،انتظامی اور سیاسی مشکلات کے علاوہ سائنسی بجٹ کا زیادہ حصہ جوہری صلاحیت کے حصول کی طرف لگانے کی وجہ سے خلائی تحقیق کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا تاہم 1991 میں پاکستان نے چینی تعاون سے اپنا پہلا مصنوعی سیارہ چینی راکٹ کے ذریعے سے خلا میں بھیجا تھا۔ لیکن بعد میں آنے والی حکومتوں نے خلائی تحقیق کو فضول گردان کر کئی ترقیاتی منصوبے منسوخ کردیے۔ اور سپارکو کے سائنسدانوں کو میزائل سازی کے منصوبوں میں مصروف کر دیا گیا جبکہ آج سپارکو کے نام سے شاید اسکولوں کے بچے بھی واقف نہ ہوں۔ علاوہ ازیں کئی سال بعد چین کی مدد سے دو مصنوعی سیارے فضا میں بھیجے گئے تھے۔ جبکہ سپارکو کی تحقیق کا محور اب نظام شمسی کا مشاہدہ،خلائی موسم،آسٹرو فزکس،خلائی مشاہدات،ماحولیاتی تحقیق،سپیس اینڈ ٹیلی میڈیسن،ریموٹ سینسنگ،زمین کا مشاہدہ اور رویت ہلال تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اور یوں اب تک پاکستان اس خلائی ایجادات میں عدم دلچسپی کے سبب مزید کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکا ہے جو انتہائی افسوس ناک بات ہے.

  • خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،19 جنوری یوم پیدائش مولانا ظفر علی خان

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،19 جنوری یوم پیدائش مولانا ظفر علی خان

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،19 جنوری یوم پیدائش مولانا ظفر علی خان
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

    مولانا ظفر علی خان

    19؍جنوری 1873 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مولانا ظفر علی خان 19؍جنوری 1873ء میں کوٹ میرٹھ شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مشن ہائی اسکول وزیر آباد سے مکمل کی اور گریجویشن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کی۔ کچھ عرصہ وہ نواب محسن الملک کے معتمد (Secretary) کے طور پر بمبئی میں کام کرتے رہے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مترجم کی حیثیت سے حیدرآباد دکن میں کام کیا اور محکمہ داخلہ (Home Departmentt) کے معتمد کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اخبار "دکن ریویو” جاري كيا اور بہت سی کتابیں تصنیف کرکے اپنی حیثیت بطور ادیب و صحافی خاصی مستحکم کی۔

    1908ء میں لاہور گئے، روزنامہ زمیندار کی ادارت سنبھالی جسے ان کے والد مولوی سراج الدین احمد نے 1903ء میں شروع کیا تھا۔ مولانا کو "اردو صحافت کا امام” کہا جاتا ہے اور زمیندار ایک موقع پر پنجاب کا سب سے اہم اخبار بن گیا تھا۔ زمیندار ایک اردو اخبار تھا جو بطور خاص مسلمانوں کے لیے نکالا گیا تھا۔ اس اخبار نے مسلمانوں کی بیداری اور ان کے سیاسی شعور کی تربیت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا باوجود اس حقیقت کے کہ اس کی اشاعت محدود تھی اور مسلمانوں کے پاس نہ صنعت تھی نہ تجارت جس کی وجہ سے اشتہارات کی تعداد اتنی کم تھی کہ اخبار کو چلانا جان جوکھوں کا کام تھا۔ بعض اوقات ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی کہ عملے کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے۔ظفر علی خان نے 8؍جولائی 1935ء کو شہید گنج مسجد لاہور کو گردوارہ بنانے کے خلاف نیلی پوش تحریک چلائی۔ اس تحریک میں ان کی جماعت نے نیلا لباس پہن رکھا تھا اس لیے اسے نیلی پوش کا نام ملا تھا۔

    مولانا ظفر علی خان غیر معمولی قابلیت کے حامل خطیب اور استثنائی معیار کے انشا پرداز تھے۔ صحافت کی شاندار قابلیت کے ساتھ ساتھ مولانا ظفر علی خان شاعری کے بے مثال تحفہ سے بھی مالا مال تھے۔ ان کی نظمیں مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے بہترین کاوشیں کہلاتی ہیں۔ وہ اسلام کے سچے شیدائی، محب رسولﷺ اور اپنی نعت گوئی کے لیے مشہور و معروف ہیں۔ ان کی شاعرانہ کاوشیں بہارستان، نگارستان اور چمنستان کی شکل میں چھپ چکی ہیں۔ ان کی مشہور کتابیں درج ذیل ہیں:

    معرکہ مذہب و سائنس، غلبہ روم، سیر ظلمت، جنگ روس و جاپان۔
    مولانا ظفر علی خان نے 27؍نومبر 1956ء کو وزیرآباد کے قریب اپنے آبائی شہر کرم آباد میں وفات پائی۔ ان کی نمازِ جنازہ محمد عبد الغفور ہزاروی نے ادا کی۔

    ویکیپیڈیا سے ماخوذ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مولانا ظفر علی خان کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا
    ——-
    نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
    ——-
    سلیقہ مے کشی کا ہو تو کر لیتی ہے محفل میں
    نگاہِ مستِ ساقی مفلسی کا اعتبار اب بھی
    ——-
    قلم سے کام تیغ کا اگر کبھی لیا نہ ہو
    تو مجھ سے سیکھ لے فن اور اس میں بے مثال بن
    ——-
    کرانا ہے قلم ہاتھوں کو، رودادِ جنوں لکھ کر
    تو اس دور ستم پرور میں میرا ہم قلم ہو جا
    ——-
    نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
    فقیہہِ مصلحت بیں سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا
    ——-
    آپ کہتے ہیں پرایوں نے کیا ہم کو تباہ
    بندہ پرور کہیں اپنوں ہی کا یہ کام نہ ہو
    ——-
    نہ یزید کا وہ ستم رہا نہ زیاد کی وہ جفا رہی
    جو رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا
    ——-
    پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دورِ جام اس کا
    کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطفِ عام اس کا
    ——-
    سراپا معصیت میں ہوں، سراپا مغفرت وہ ہے
    خطا کوشی روش میری، خطا پوشی ہے کام اس کا
    ——-
    دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو
    ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو
    ——-
    اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب
    صبحِ ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب
    ——-
    وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
    اک روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں
    ——-
    جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
    وہ راز اک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں

    ہوتا ہے جن میں نامِ رسولِ خدا بلند
    ان محفلوں کا مجھ کو نمائندہ کر دیا

    سردار دوجہاں کا بنا کر مجھے غلام
    میرا بھی نام تابہ ابد زندہ کر دیا

    زکوٰة اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا اور نماز اچھی
    مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا

    نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
    خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں ہو سکتا