Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے انٹرنیشنل ٹینس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

    ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے انٹرنیشنل ٹینس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

    ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے انٹرنیشنل ٹینس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

    ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے انٹرنیشنل ٹینس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ بھارتی ٹینس اسٹار اور پاکستانی کرکٹ اسٹار شعیب ملک کی اہلیہ ثانیہ مرزا نے انٹر نیشنل ٹینس سے ریٹائر منٹ کا اعلان کر دیا۔ ویمن ٹینس ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ثانیہ مرزا نے کہا کہ آئندہ ماہ دبئی میں ٹینس چیمپئن شپ کے بعد ٹینس ریکٹ لٹکا دوں گی۔

    انہوں نے کہا کہ میں ڈبلیو ٹی اے فائنلز کے بعد اختتام کرنا چاہتی تھی، ہم ڈبلیو ٹی اے کے فائنلز میں پہنچ رہے تھے لیکن انجری کا شکار ہو گئی۔ مجھے یو ایس اوپن سمیت تمام ایونٹس سے دستبردار ہونا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نہیں چاہتی تھی انجری میرا کیرئیر ختم کرے اس لیے میں نے ٹریننگ جاری رکھی۔ اب پلان یہ ہے کہ میں ڈبلیو ٹی اے 1000 کھیلنے کی کوشش کروں اور دبئی میں ریٹائر ہو جاؤں۔


    واضح رہے کہ ثانیہ مرزا آسٹریلین اوپن کے ڈبلز میں قازقستان کی اینا ڈیلینا کے ساتھ حصہ لیں گی۔ جبکہ اس سے قبل خبریں آئی تھیں کہ ثانیہ مرزا سے علیحدگی کی خبروں کو شعیب ملک نے بنا بولے ہی بے بنیاد قرار دے دیا تھا انہوں نے ثانیہ کو اپنی زندگی کی سپر وویمن کہہ دیا۔ پاکستان کے سابق کپتان شعیب ملک نے اپنے انسٹاگرام کی پروفائل میں کچھ تبدیلیاں کیں، جنہوں نے سب کی توجہ حاصل کر لی، شعیب ملک نے پروفائل میں اپنے نام کے ساتھ لکھا کہ وہ ایک سپر وویمن کے شوہر ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے اپنی اہلیہ اور بھارتی ٹیسن اسٹار کا پروفائل لنک بھی شئیر کیا۔

    یاد رہے کہ شعیب ملک نے انسٹاگرام پر ‘دی مرزا ملک شو’ کا پرومو بھی شیئر کیا تھا، جس میں ثانیہ مرزا بھی ان کے ساتھ نظر آرہی ہیں۔ جبکہ گزشتہ دنوں قبل شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کے درمیان طلاق کی افواہیں زیر گردش تھیں۔ دونوں شخصیات اس متعلق کوئی بات نہیں کر رہیں، شعیب ملک نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ ان دونوں کا ذاتی معاملہ ہے۔

  • امریکا نے ایران کو ڈرون فراہم کرنے والے سپلائرز پر پابندی عائد کردی

    امریکا نے ایران کو ڈرون فراہم کرنے والے سپلائرز پر پابندی عائد کردی

    واشنگٹن: امریکا نے ایران کو ڈرون فراہم کرنے والے سپلائرز پر پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی : امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کو ڈرون سپلائی کرنے والی کمپنی کے 6 اعلیٰ عہدیداروں اور بورڈ ارکان پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ کمپنی پرپہلے ہی 2013 میں پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

    امریکہ ،مغرب اوراپنے مخالفین سےنہ ڈرنے والے روسی صدرپوتن پرمذہبی رہنما کا وار چل گیا

    امریکی پابندی کا شکار افراد کے اثاثے منجمد کردئیے گئے ہیں اور وہ کسی بھی بینک یا عالمی ادارے سے مالی لین دین بھی نہیں کرسکیں گےامریکا نے ایران پر یوکرین جنگ میں روس کو ڈرون فراہم کرنے کا الزام عائد کر کے پابندی لگائی ہے۔ ایران نے روس کو ڈرون فراہم کرنے کی تردید کی ہے۔

    دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن کا کہنا ہے کہ ایران یوکرین میں روس کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر کے جنگ کو ہوا دے رہا ہے۔


    بلنکن نے سلسلہ وار ٹویٹس میں اس رائے کا اظہار کیا ’’کہ امریکا نے ایرانی ڈرون اور بیلسٹک میزائل پروگراموں میں ملوث سات افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماسکو ایران کے فراہم کردہ ڈرون اور اس کے میزائل پروگراموں کو یوکرین میں اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

    شہزادہ ہیری نے25طالبان کوہلاک کرنےکااعتراف کرکےاپنی ساکھ کوداغدارکردیا،سابق برٹش کمانڈربول اٹھے

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک بیان میں بلنکن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران کو اس فوجی آپریشن کی حمایت بند کر دینی چاہیے جو روس نے فروری کے آخر میں یوکرین میں شروع کیا تھا واشنگٹن ایران سے روس کو ڈرون کی منتقلی میں رکاوٹ ڈالنے اور ملوث فریقین پر پابندیاں لگانے کے لیے اپنے وسائل اور ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔

    امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے نئی پابندیاں جن ایرانی حکام پر لگائی گئی ہیں ان میں چھ حکام اور قدس ایوی ایشن کے بورڈ ممبران شامل ہیں۔ اس ایرانی ادارے کو ‘ لائٹ ایرو پلینز ڈیزائن اینڈ مینوفیکچرنگ انڈسٹریز ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق قدس ایوی ایشن انڈسٹریز 2013 سے ہی امریکی پابندیوں کی زد میں آ چکی ہےاس کمپنی کی ایرانی دفاعی صنعت میں کلیدی اہمیت ہے اور یہی کمپنی ڈرونز تیار کرتی ہے۔

    مسٹرہیری!جن کوآپ نےقتل کیا وہ شطرنج کےمہرے نہیں انسان تھے:افغان طالبان رہنماانس حقانی

    امریکی وزارت خزانہ کے سیکرٹری جینٹ ییلن نے اس موقع پر کہا ہے کہ ہم ہر طریقہ استعمال کریں گے جو روس کو اسلحہ کی فراہمی میں رکاوٹ بن سکتا ہو، کیونکہ روس یوکرین میں بلا اشتعال بہت ظلم کر رہا ہے۔ جمعہ کے روز لگائی گئی پابندیوں کے تحت کوئی بھی کمپنی جو ایرانی قدس انڈسٹریز سے ڈیل کرے گی اس کے اثاثہ جات منجمد ہو جائیں گے۔

    امریکا نے اس سے قبل بھی ان کمپنیوں اور لوگوں پر پابندیاں عائد کی تھیں جن پر اس نے ایرانی ڈرون تیار کرنے یا انہیں روس منتقل کرنے کا الزام لگایا تھا جنہیں روس یوکرین میں شہری انفراسٹرکچر پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہےایران نے روس کو ڈرون بھیجنے کا اعتراف کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس نے انہیں فروری میں روسی آپریشن شروع ہونے سے پہلے بھیجا تھا۔

    ماسکو نے اس بات کی تردید کی کہ اس کی افواج نے یوکرین میں ایرانی ڈرون استعمال کیے۔

    برطانوی شہزادے ہیری نےہیلی کاپٹرحملےمیں25 بےگناہ افغان قتل کردیئے

    گذشتہ نومبر میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ ایران روس کو محدود تعداد میں ڈرون بھیجنے کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے زیلنسکی نے مزید کہا کہ یوکرین کی فوج روزانہ ان میں سے کم از کم 10 طیاروں کو مار گراتی ہیں۔

  • راولپنڈی؛ تھانہ صادق آباد کی حدود میں بلیک میلنگ کا دھندہ عروج پر

    راولپنڈی؛ تھانہ صادق آباد کی حدود میں بلیک میلنگ کا دھندہ عروج پر

    راولپنڈی میں تھانہ صادق آباد کی حدود میں بلیک میلنگ کا گورکھ دھندہ عروج پر پہنچ گیا.

    ذرائع کے مطاق شبانہ نامی بلیک میلر لڑکی جس کے ساتھ ایک پورا گروہ شامل ہے کیونکہ ایک ہی تھا نہ میں مسلسل پانچ سے چھ زنا بالجبر کی ایف آئی آر کا اندراج سامنے آیا ہے شبانہ بی بی دختر اختیار عباسی مکان نمبر الف ب صادق آباد سروس روڈ راولپنڈی کی رہائشی ہے جبکہ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اس خاتون جس کے ساتھ ایک مخصوص گروہ کے ساتھ ہے ان کی ساتھی لیڈیز پولیس
    اہلکار بھی ہے جس کی ملی بھگت سے شہریوں کو مختلف طریقوں سے بلیک میل کرکے زیور اور بڑے پیمانے پر موٹی رقم وصول کی گئی.

    مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس گروہ نے تھانہ صادق آباد کے اندر اپنے پنجے اتنے مضبوط گاڑھ رکھے ہیں واضح رہے کہ چند دن قبل ایک بار پھر شبانہ نامی بلیک میلر خاتون نے تھانہ صادق آباد میں بلیک میل کرنے کے لیے ایک درخواست دی جس کے حوالے سے میڈیا کو انکشاف ہوا تو پولیس کی طرف سے مکمل لاعلمی کا اظہار کردیا گیا کہ ہمیں ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے.
    علاوہ ازیں شہریوں کا کہنا ہے کہ آر پی او راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی کو اس بلیک میلر گروہ کے بارے میں مکمل چھان بین کرکے سخت قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے تمام ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر کے سخت سے سخت سزا دلوا کر نشان عبرت بنائیں.

    خیال رہے کہ راولپنڈی کے اندر یہ گورکھ دھندا دن بدن عروج پکڑتا جا رہا ہے جو شہریوں کو مختلف طریقوں سے خاص کر کاروباری پیشہ افراد کو اپنی گرفت میں یہ لوگ متعلقہ تھانہ اور قانون کی ملی بھگت سے لیتے ہیں بعض اوقات یہ راضی نامہ کے نام پر لاکھوں روپے وصول کرکے ایک لمبے عرصے تک ان لوگوں کو بلیک میل بھی کرتے رہتے ہیں ایسے معافیا اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف ابھی تک کوئی سخت پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی.

    ذرائع کے مطابق اس گروہ نے تھانہ روات میں چار پولیس اہلکاروں پربھی جھوٹا زنا کا پرچہ جبکہ ایان علی جس شخص پر زنا فراڈ عورتیں اسمگلنگ جسم فروشی جیسی ایف آئی آر کا اندراج سے لاہور کے مختلف تھانوں میں آٹھ ایف آئی آر کا اندراج جبکہ ایسے گروہ کے خلاف پولیس افسران کاروائیاں کرنے کے بجائے ان کے ساتھ مکمل تعاون کرکے اس گروہ کو معاشرے کے اندر مزید مضبوط کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں حالانکہ قانون کے مطابق پولیس افسران کو مکمل حقائق کے ساتھ ایسے بلیک میلر گروہ کا ساتھ دینے کے بجائے ان کے خلاف قانونی گرفت کو مضبوط کرنا چاہئے تاکہ ایسے ججرائم کا خاتمہ ہو.

  • چڑیا اور فاختہ کا گوشت اسمگل کرنے والے ملزم کو 5 سال قید کی سزا

    چڑیا اور فاختہ کا گوشت اسمگل کرنے والے ملزم کو 5 سال قید کی سزا

    کراچی کی مقامی عدالت نے سندھ سے پنجاب چڑیا اور فاختہ کا ساڑھے تین من سے زائد گوشت اسمگل کرنے والے ملزم کو 5 سال قید کی سزا سنا دی۔

    باغی ٹی وی : کنزویٹر سندھ وائلڈ لائف کے عہدیدارکے مطابق وائلڈ لائف ایکٹ 2020 کے تحت مقامی عدالت نے ذبح شدہ فاختہ اورچڑیا کا ساڑھے تین من سے زائد گوشت سندھ سے پنجاب اسمگل کرنے والے ملزم کو دومختلف دفعات کے تحت سزائیں اورجرمانے سنائے دیئے ملزم پر عوامی ایکسپریس ٹرین کے ذریعے 155 کلوگرام ذبح شدہ پرندوں کے گوشت اسمگل کرنے کا الزام تھا، پرندوں میں چڑیا، فاختہ و دیگر پرندوں کا بھاری مقدار میں گوشت شامل تھا۔

    تحریک انصاف اور ق لیگ کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ ڈیڈ لاک کا شکار

    وائلڈ لائف کے عہدیدار نے بتایا کہ معزز عدالت نے ملزم عثمان عرف میر جان کو سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ سیکشن 9(1) کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر5 سال سزا اور جرمانہ عائد کردیا جبکہ سکیشن 21(1)کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر 3 سال سزا اور 5 لاکھ جرمانہ عائد کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ چند روز قبل پنوں عاقل کے علاقے میں کورائی کینال پر انڈس ڈولفن کو مارنے والے ملزمان کو ایکٹ کے تحت عدالت نے پانچ سال قید اورڈھائی لاکھ روپے جرمانےکی سزائیں سنائیں-

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں محکمہ جنگلی حیات کےقوانین میں کچھ تکنیکی پیچیدگیوں اور نرمیوں کا فائدہ کسی نہ کسی صورت جنگلی حیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد اورمافیازمل جاتا تھا تاہم سندھ وائلڈ ایکٹ 2020کے نفاذ کے بعد ثمرات ملنا شروع ہوگئےجس کے تحت ملزمان کو عدالتوں سے سزائیں بھی ہوئیں۔

    سیلاب زدہ پاکستان کی عالمی مدد کم ہو رہی لیکن سیلابی پانی کم نہیں ہوا:وزیراعظم کا مضمون

  • اردو کےعظیم شاعرخواجہ میر درد کا یوم وفات

    اردو کےعظیم شاعرخواجہ میر درد کا یوم وفات

    تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
    دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

    خواجہ میر درد

    یوم وفات : 7جنوری 1785
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے عظیم شعراء کی فہرست میں شامل سیدخواجہ میر درد، میر تقی میر کے ہمعصر 1721ء میں دلی میں پیدا ہوئے خواجہ میر دردؔ کو اردو میں صوفیانہ شاعری کا امام کہا جاتا ہے۔ دردؔ اور تصوف لازم و ملزوم بن کر رہ گئے ہیں۔ یقیناً دردؔ کے کلام میں تصوف کے مسائل اور صوفیانہ حسّیت کے حامل اشعار کی کثرت ہے لیکن انہیں محض اک صوفی شاعر کہنا ان کی شاعری کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ابتدائی تذکرہ نویسوں نے ان کی شاعری کو اس طرح محدود نہیں کیا تھا، صوفی شاعر ہونے کا ٹھپہ ان پر بعد میں لگایا گیا۔

    میر تقی میرؔ نے، جو اپنے سوا کم ہی کسی کو خاطر میں لاتے تھے، انہیں ریختہ کا "زور آور” شاعر کہتے ہوئے انہیں "خوش بہار گلستان، سخن” قرار دیا۔ محمد حسین آزاد نے کہا کہ دردؔ تلواروں کی آبداری اپنے نشتروں میں بھر دیتے ہیں، مرزا لطف علی صاحب، "گلشن سخن” کے مطابق دردؔ کا کلام "سراپا درد و اثر "ہے۔

    میر حسن نے انھیں، آسمان، سخن کا خورشید قرار دیا، پھر امداد اثر نے کہا کہ معاملات تصوف میں ان سے بڑھ کر اردو میں کوئی شاعر نہیں گزرا اور عبد السلام ندوی نے کہا کہ خواجہ میر دردؔ نے اس زبان (اردو) کو سب سے پہلے صوفیانہ خیالات سے آشنا کیا۔ ان حضرات نے بھی دردؔ کو تصوف کا ایک بڑا شاعر ہی مانا ہے ان کے کلام کی دوسری صفات سے انکار نہیں کیا ہے۔ شاعری کی پرکھ، یوں بھی "کیا کہا ہے” سے زیادہ ” کیسے کہا ہے” پر مبنی ہوتی ہے دردؔ کی شاعری کے لئے بھی یہی اصول اپنانا ہو گا۔

    دردؔ ایک صاحب اسلوب شاعر ہیں۔ ان کے بعض سادہ اشعار پر میرؔ کے اسلوب کا دھوکہ ضرور ہوتا ہے لیکن توجہ سے دیکھا جائے تو دونوں کا اسلوب یکسر جداگانہ ہے۔ درد کی شاعری میں غور و فکر کا عنصر نمایاں ہے جبکہ میرؔ فکر کو احساس کا تابع رکھتے ہیں البتہ عشق میں سپردگی اور گداز دونوں کے یہاں مشترک ہے اور دونوں آہستہ آہستہ سلگتے ہیں۔ دردؔ کے یہاں مجازی عشق بھی کم نہیں۔ جیتے جاگتے محبوب کی جھلکیاں جابجا ان کے کلام میں مل جاتی ہیں۔ ان کا مشہور شعر ہے۔

    کہا جب میں ترا بوسہ تو جیسے قند ہے پیارے
    لگا تب کہنے پر قند مکرر ہو نہیں سکتا

    دردؔ کی شاعری بنیادی طور پر عشقیہ شاعری ہے ان کا عشق مجازی بھی ہے، حقیقی بھی اور ایسا بھی جہاں عشق و مجاز کی سرحدیں باقی نہیں رہتیں۔ لیکن ان تینوں طرح کے اشعار میں احساس کی صداقت واضح طور پر نظر آتی ہے، اسی لئے ان کے کلام میں تاثیر ہے جو صناعی کے شوقین شعراء کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔

    دردؔ نے خود کہا ہے "فقیر نے کبھی شعر آورد سے موزوں نہیں کیا اور نہ کبھی اس میں مستغرق ہوا۔کبھی کسی کی مدح نہیں کی نہ ہجو لکھی اور فرمائش سے شعر نہیں کہا” درد ؔکے عشق میں بیچینی نہیں بلکہ ایک طرح کی طمانیت قلب، سکون اور پاکیزگی ہے جعفر علی خاں اثر کے بقول دردؔ کے پاکیزہ کلام کے لئے پاکیزہ نگاہ درکار ہے۔

    دردؔ کے کلام میں عشق و عقل، جبر و اختیار، خلوت اور انجمن، سفر در سفر، بے ثباتی و بے اعتباری، بقا اور فنا، مکان و لامکاں، وحدت و کثرت، جزو و کل توکل اور فقر کے مضامین کثرت سے ملتے ہیں۔ فی زمانہ، تصوف کا وہ برانڈ، جس کے دردؔ تاجر تھے، اب فیشن سے باہر ہو گیا ہے۔ اس کی جگہ سنجیدہ طبقہ میں سرمد اور رومی کا برانڈ اور عوام میں بلھے شاہ، سلطان باہو اور "دمادم مست قلندر” والا برانڈ زیادہ مقبول ہے۔

    غزل کی شاعری برملا کم اور اشاروں میں زیادہ بات کرتی ہے اس لئے اس میں معانی کی حسب منشاء جہات تلاش کر لینا کوئی مشکل کام نہیں یہ غزل کی ایسی طاقت ہے کہ وقت کے تند جھونکے بھی اس چراغ کو نہیں بجھا سکے ایسے میں اگر مجنوںؔ گوکھپوری نے دردؔ کے کلام میں "کہیں دبی ہوئی اورکہیں اعلانیہ، کبھی زیر لب اور کبھی کھلے ہونٹوں شدید طنز کے ساتھ زمانہ کی شکایت اور زندگی سے بیزاری کی علامتیں” تلاش کیں تو بہرحال ان کا ماخذ دردؔ کا کلام ہی تھامجنوں کہتے ہیں درردؔ اپنے زمانہ کے حالات سے ناآسودگی کا اظہار کرتے ہیں۔

    دردؔ کے کلام کو ان کے زمانہ کے معاشرتی اور فکری ماحول اور ان کی نجی شخصیت کے حوالہ سے پڑھنا چاہئے۔ جہاں تک پیرایۂ بیان کا تعلق ہے اپنی بات کو دبے لفظوں میں تشنۂ وضاحت چھوڑ جانا دردؔ کو تمام دوسرے شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔ اس طرح کے اشعار میں ان کہی بات، وضاحت کے مقابلہ میں زیادہ اثردار ہوتی ہے۔ حیرت و حسرت کا یہ دھندھلا سا اظہار ان کے اشعار کا خاص جوہر ہے۔ اس سلسلہ میں رشید حسن خاں نے پتے کی بات کہی ہے وہ کہتے ہیں "دردؔ کے جن اشعار میں خالص تصوف کی اصطلاحیں استعمال ہوئی ہیں یا جن میں مجازیات کو صاف صاف پیش کیا گیا ہے وہ نہ دردؔ کے نمائندہ اشعار ہیں نہ ہی اردو غزل کے۔

    یہ بات ہم کو مان لینی چاہئے کہ اردو میں فارسی کی صوفیانہ شاعری کی طرح بلند پایہ متصوفاننہ شاعری کا فقدان ہے۔ ہاں، اس کے بجائے اردو میں حسرت، تشنگی اور یاس کا جو طاقتور آہنگ کارفرما ہے، فارسی غزل اس سے بڑی حد تک خالی ہے-

    مجموعی طور پر دردؔ کی شاعری دل اور روح کو متاثر کرتی ہے۔ جذباتیت اور شاعرانہ "استادی” کا اظہار ان کا شعار نہیں، دردؔ موسیقی کے ماہر تھے، ان کے کلام میں بھی موسیقیت ہے۔ دردؔ تبھی شعر کہتے تھے جب شعر خود کو ان کی زبان سے کہلوا لے۔ اسی لئے ان کا دیوان بہت مختصر ہے۔

    خواجہ میر دردؔ 07؍جنوری 1785ء کو دہلی میں انتقال کر گئے۔

    ریختہ ڈاٹ کام سے ماخوذ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خواجہ میر درد کی شاعری سے انتخاب
    . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں
    زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
    ——–
    زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے!
    ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
    ——–
    اذیت مصیبت ملامت بلائیں
    ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
    ——–
    تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
    دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
    ——–
    نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز
    گلا تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو
    ——–
    جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
    تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
    ——–
    میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑے
    مری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا
    ——–
    کبھو رونا کبھو ہنسنا کبھو حیران ہو جانا
    محبت کیا بھلے چنگے کو دیوانہ بناتی ہے
    ——–
    ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
    میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
    ——–
    جان سے ہو گئے بدن خالی
    جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
    ——–
    ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے
    تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے
    ——–
    ان لبوں نے نہ کی مسیحائی
    ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
    ——–
    دشمنی نے سنا نہ ہووے گا
    جو ہمیں دوستی نے دکھلایا
    ——–
    حال مجھ غم زدہ کا جس جس نے
    جب سنا ہوگا رو دیا ہوگا
    ——–
    ہر چند تجھے صبر نہیں درد ولیکن
    اتنا بھی نہ ملیو کہ وہ بدنام بہت ہو
    ——–
    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں
    ——–
    تمنا تری ہے اگر ہے تمنا
    تری آرزو ہے اگر آرزو ہے
    ——–
    مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے
    کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے
    ——–
    کاش اس کے رو بہ رو نہ کریں مجھ کو حشر میں
    کتنے مرے سوال ہیں جن کا نہیں جواب
    ——–
    آگے ہی بن کہے تو کہے ہے نہیں نہیں
    تجھ سے ابھی تو ہم نے وے باتیں کہی نہیں
    ——–
    کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری
    جی میں یہ کس کا تصور آ گیا
    ——–
    دل بھی اے دردؔ قطرۂ خوں تھا
    آنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا
    ——–
    قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے
    اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
    ——–
    ساقی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر
    لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا
    ——–
    ایک ایمان ہے بساط اپنی
    نہ عبادت نہ کچھ ریاضت ہے
    ——–
    ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
    دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں

  • ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    ماہرین فلکیات نے ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے زمین کے مدار میں گردش کرتے سیٹلائٹس پر گہری تشویش کا اظہارکیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایسٹرونومیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق میں کہا گیا ہے خلا میں زمین کے مدار میں گردش کرتے ہزاروں سیٹلائٹس، فلکیات کا مشاہدہ کرنے والے ماہرین کے کام میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔

    65 ہزار سیٹلائٹس کو زمین کے مدار میں چھوڑنے کے منصوبے کے اثرات کو جانچنے کیلئے کی جانے والی اس تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اندھیرے آسمان کا مشاہدہ کرنے والی آبزرویٹریز میں سے ہر پانچ میں سےایک آبزرویٹری ان سیٹلائٹس کے گذرنے سے متاثر ہو گی۔

    وائر اور بجلی کے بغیر چلنے والے ٹی وی تیار

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اسپیس ایکس کے آپریٹنگ الٹیٹیوڈ، روشنی کے انعکاس کو کم کرنے والے مٹیریل کی کمی، اور سورج کے جانب ان سیٹلائٹس کا زاویہ یہ تمام چیزیں ماہرین کے مشاہدے اور ڈیٹا کے حصول میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

    تحقیق میں حصہ لینے والے واشنگٹن یونیورسٹی کے محقق میرَاڈَتھ رالز نے امریکی فیڈرل کمیشن برائے کمیونیکیشن (ایف سی سی) میں اسپیس ایکس کی جانب سے جمع کروائے گئے دستاویزات کے حوالے سے کہا کہ سیٹلائٹس کے ان اثرات اور مداخلت کو کم کرنے کیلئے کیے گئے اقدامات، رضاکارانہ اور ناکافی ہیں جبکہ اسٹارلنک سیکنڈ جنریشن کے معاملے میں تو ابھی یہ غیر آزمائش شدہ ہیں۔

    یونیورسٹی آف مشی گن کے ماہر فلکات پیٹرک سیزر کا کہنا ہے کہ ان سیٹلائٹس کی وجہ سے نظر آنے والےمسائل سےآگے بھی کافی مسائل ہیں جب کوئی بھی پرچھائی نہ ہوگی تب بھی یہ سیٹلائٹس گرمی خارج کریں گےاورہروقت نظرآتے رہیں گے ان سیٹلائٹس سے ریڈیو کمیونی کیشن میں بھی مداخلت پیدا ہوگی کیونکہ یہ اپنے صارفین کو ہائی فریکوئینسی بینڈ پر ڈیٹا ٹرانسفر کریں گے۔

    سال کے آغاز میں ہی ٹوئٹر میں ایک اور بڑی تبدیلی

    ورجینیا یونیورسٹی میں ریڈو کے ماہر فلکیات ہاروے لز کا کہنا ہے کہ حالانکہ اس وقت اسٹارلنک کمیونیکیشن جاری شدہ فریکوئینسی بینڈز کے دائرے تک محدود ہے تاہم برقی شعاعیں بہت بڑھتی جا رہی ہیں، اس کی ذمہ داری ان تمام کمپنیوں پر عائد ہوتی ہے جو آسمانوں کو سر کرنے کے مقابلے میں شامل ہیں۔

    ماضی میں کمرشل ریڈیو کے شور سے بچنے کیلئے ماہرین فلکات چلی کے ایٹکاما پہاڑوں یا میکسیکو کے صحرا کی طرف رخ کر لیتے تھے تاہم اب سیٹلائیٹ کمپنیوں کو جاری ہونے والے ہائی فریکوئینسی بینڈز کی بدولت کوئی پہاڑ اتنا اونچا نہیں رہا جہاں ان کی آلودگی سے بچنا ممکن ہو سکے۔

    گلوبل وارمنگ بڑھتی رہی توانٹارکٹیکا کےنصف سےزیادہ جاندارناپید ہوجائیں گے

    یاد رہے کہ اس وقت ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے اسٹارلنک سیٹلائٹس کی تعداد 3500 کے قریب ہے جو کہ خلا میں زمین کے مدار میں گردش کرنے والے سیٹلائٹس کا نصف بنتی ہے جبکہ حال ہی میں ایف سی سی کی جانب سے اسپیس ایکس کو مزید 7 ہزار 500 سیٹلائیٹ لانچ کرنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ کمپنی 2050 تک زمین کے مدار میں تیرتے ان اٹرنیٹ باکسز کی تعداد کو 30 ہزار تک پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    ان سیٹلائٹس کا مقصد دنیا بھر میں صارفین کو بلا تعطل براڈبینڈ انٹرنیٹ اور موبائل فونز پر گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) ڈیٹا فراہم کرنا ہے تاہم جی پی ایس کے برعکس یہ کام کرنے اور سروسز کی بلاتعطل فراہمی کیلئے ہزاروں سیٹلائٹس کی ضرورت ہے۔

    قدیم مصرکا طاقتور ترین فرعون رامسس دوم

  • سرفراز کو نظر انداز کر نیوالے آج خود نظر انداز ہو رہے ہیں:سسر سرفراز احمد

    سرفراز کو نظر انداز کر نیوالے آج خود نظر انداز ہو رہے ہیں:سسر سرفراز احمد

    کراچی :پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر سرفراز احمد کے سسر سید آفتاب علی شاہ کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد کی شاندار اننگز پر بے حد خوش ہوں، ہمیں پہلے بھی اپنے داماد کی پرفارمنس پر فخر تھا اور آج بھی اس نے ہمارا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔

     

    میچ کے بعد وکٹ کیپر بیٹر سرفراز احمد کے سسر سید آفتاب علی شاہ نے کہا کہ سرفراز نے بہت کٹھن وقت گزارا ہے، اس کو نظر انداز کرنے والے لوگ آج خود نظر انداز ہو رہے ہیں، یہ سارے معاملات اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں وہ جب جس کو عزت دینا چاہے، عزت دیتا ہے،سرفرازکی اس کامیابی میں اس کے والدین، کرکٹ فینز اور پوری قوم کی دعائیں شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں پاکستان کرکٹ بورڈ،عبوری سلیکشن کمیٹی اور شاہد آفریدی کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے سرفراز کو کھیلنے کا موقع دیا اور صحافیوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کیونکہ وہ سرفراز کے حق میں بولتے رہے اور مکمل طور پر سپورٹ کرتے رہے ۔

     

    سرفرازا حمد کے سسر کا کہنا ہے کہ میں جہاں بھی جاتاہوں لوگ مجھے سرفرازکے حوالے سے جانتے ہیں،مجھے بڑی عزت ملتی ہے، میرے لیے یہ قابل فخر لمحہ ہوتا ہے۔خیال رہے کہ سرفرازاحمد نے نیوزی لینڈ کیخلاف دوسرے ٹیسٹ میں 118رنز کی اننگز کھیل کر پاکستان کو شکست سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ بھی ڈرا ہوگیا، ٹیسٹ کے آخری دن نیوزی لینڈکے 319 رنز کے تعاقب میں پاکستان نے دوسری اننگز میں 9 وکٹ پر 304 رنزبنائے، پاکستان کو جیت کیلئے 15 رنز اور نیوزی لینڈ کو ایک وکٹ درکار تھی تاہم آج کی اننگز کے 3 اوورز قبل ہی امپائر نے کم روشنی کے باعث میچ ختم کردیا۔

  • تحریک انصاف اور ق لیگ کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ ڈیڈ لاک کا شکار

    تحریک انصاف اور ق لیگ کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ ڈیڈ لاک کا شکار

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف اورمسلم لیگ کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ ڈیڈ لاک کا شکارہوگیا۔ پی ٹی آئی نے ق لیگ کو قومی اسمبلی کی 25 سیٹیں دینے سے انکارکردیا۔

    نونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے 6 سے زائد دور چلے مگر نتیجہ صفر نکلا۔ تحریک انصاف نے ق لیگ کو لال جھنڈی دکھا دی۔ سیٹ ایڈجسٹمنٹ میں قومی اسمبلی کی 25 نشستیں دینے سے صاف انکار کر دیا۔ق لیگ نے پنجاب میں 40 سے زائد سیٹوں پر حمایت کا مطالبہ کیا تحریک انصاف نے وہ بھی مسترد کر دیا۔

    خیال رہے کہ پرویز الہٰی کے 25 مئی کے حوالے سے بیان نے بھی ق لیگ اور پی ٹی آئی کو آمنے سامنے کر دیا۔ وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی کو 25 مئی یاد دلائی تو سینٹر اعجاز چوہدری نے پرویز الہٰی کو گھر بیٹھنے کا طنز کر ڈالا۔ کہا 25 تاریخ کو اقتدار کے پجاریوں کی زبانیں باہر تھیں۔ آپ کو اپنی ذمے داری ادا کرنا نہیں آتیں تو گھر بیھٹیں۔

  • نسیم شاہ نےوکٹ پررُک کرہمیں کامیابی سےدورکردیا:کیوی کپتان ٹم ساؤتھی

    نسیم شاہ نےوکٹ پررُک کرہمیں کامیابی سےدورکردیا:کیوی کپتان ٹم ساؤتھی

    کراچی: نسیم شاہ نےوکٹ پررُک کرہمیں کامیابی سےدورکردیا:اطلاعات کے مطابق نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان ٹم ساوتھی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز بہت دلچسپ رہی اور ہم نے بہت لطف اٹھایا،کراچی کا دوسرا ٹیسٹ کوئی بھی ٹیم جیت سکتی تھی،آخر میں نسیم شاہ نے وکٹ پر رک کر ہمیں کامیابی سے دور کردیا۔

    کراچی میں کھلیے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نسیم شاہ نے آخر میں بہت اچھی بیٹنگ کی، نئی بال تاخیر سے لینے کا سبب یہ تھا کہ رنز تیزی سے بن سکتے تھے، سرفراز احمد نے بہت شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو مشکلات سے نکالا،اگر ہم جیت جاتے تو بہت خوشی ہوتی۔

    ان کاکہنا تھا کہ اب تمام تر توجہ ون ڈے سیریز پر مرکوز ہے، سرفراز احمد نے پوری سیریز میں ہمارے لیے مشکل کی، بر صغیر میں کھیلنا کسی چیلنج سے کم نہیں ،بحیثیت کپتان میں نے اس ٹور پر بہت کچھ سیکھا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے دورے کو بہت انجوائے کیا،جتنا ہمیں افسوس ہے، اتنا ہی پاکستان کو بھی نہ جیتنے کا ہوگا،اب تک پاکستان کی میزبانی سے بہت خوش اور مطمئن ہیں جبکہ بھرپور سیکورٹی انتظامات بھی قابل تحسین ہیں۔

  • شہزادہ ہیری نے25طالبان کوہلاک کرنےکااعتراف کرکےاپنی ساکھ کوداغدارکردیا،سابق برٹش کمانڈربول اٹھے

    شہزادہ ہیری نے25طالبان کوہلاک کرنےکااعتراف کرکےاپنی ساکھ کوداغدارکردیا،سابق برٹش کمانڈربول اٹھے

    لندن:پرنس ہیری کے 25 طالبان کو ہلاک کرنے کے بیان پر سابق برٹش کمانڈر کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔برطانوی شہزادے ہیری نے اپنی آنے والی سوانح عمری ‘اسپیئر’ میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں تعیناتی کے دوران 6 فضائی مشن کیے اور 25 افغان شہریوں کو ہلاک کیا۔شہزادہ ہیری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں بطور اپاچی ہیلی کاپٹر پائلٹ ڈیوٹی کے دوران 25 افراد کو ہلاک کیا۔

    انہوں نے لکھا کہ ’افغانستان میں تعیناتی کے دوران میرا نمبر 25 رہا، یہ نمبر میرے لیے باعث اطمینان تو نہیں لیکن باعث شرمندگی بھی نہیں، جنگی حالت میں مارے جانے والوں کو شطرنج کے مہرے سمجھ کر بساط سے ہٹایا۔‘خیال رہے کہ ڈیوک آف سسیکس شہزادہ ہیری کی سوانح عمری ’اسپیئر‘ 10 جنوری کوشائع ہو رہی ہے۔تاہم شہزادہ ہیری کے 25 طالبان کو ہلاک کرنے کے اعتراف پر رچرڈکیمپ جو افغانستان میں برٹش کمانڈر رہ چکے ہیں کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔

    مسٹرہیری!جن کوآپ نےقتل کیا وہ شطرنج کےمہرے نہیں انسان تھے:افغان طالبان رہنماانس…

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق رچرڈکیمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شہزادہ ہیری نے 25 طالبان کو ہلاک کرنے سے متعلق بیان دینے کا غلط فیصلہ کیا اور اپنی ساکھ کو داغدار کردیا۔انہوں نے کہا کہ ہیری نے اس بیان کے بعد اپنی سکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے ،ان کا یہ بیان لوگوں کو بدلہ لینے پر اکسا سکتا ہے۔

    گھارو میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 95 ویں سالگرہ کی تقریب منعقد کی گئی

    دوسری جانب برطانوی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ سکیورٹی وجوہات پر متعلقہ آپریشن میں ہلاکتوں پر تبصرہ نہیں کر سکتے جبکہ 25 طالبان کی ہلاکت پر وزیراعظم رشی سونک نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

    اس سے قبل برطانوی شہزادہ ہیری کے 25 افغانوں کو مارنے کے بیان پر طالبان کے سینیئر رہنما انس حقانی کا ردعمل بھی سامنے آیا تھا۔

    برطانوی ہائی کمشنر کی وزیراعظم شہباز شریف سے الوداعی ملاقات

    اپنے ردعمل میں انس حقانی نے کہا کہ ہیری نے جن لوگوں کو مارا وہ افغان تھے جن کی فیملیز بھی ہیں۔اپنی ٹوئٹ میں انس حقانی نے مزید کہا کہ ’مسٹر ہیری! جن لوگوں کو آپ نے قتل کیا وہ شطرنج کے مہرے نہیں تھے، وہ انسان تھے۔‘انس حقانی نے شہزادہ ہیری کو جنگی جرائم کا مرتکب بھی قرار دیا اور کہا کہ ’سچ وہی ہے جو آپ نے کہا کہ ہمارے بے گناہ لوگ آپ کے فوجیوں کیلئے شطرنج کے مہرے جیسے تھے، پھر بھی اس کھیل میں آپ کو ہی شکست ہوئی۔‘

    خیال رہے کہ شہزادہ ہیری نے برطانوی فوج میں 10 برس خدمات انجام دیں اور وہ کیپٹن کے عہدے تک پہنچے۔وہ اپنی اہلیہ میگھن مرکل کے ساتھ شاہی محل چھوڑ کر امریکا منتقل ہوچکے ہیں اور تب سے اب تک شاہی خاندان پر بے شمار الزامات لگاچکے ہیں۔نیٹ فلکس سیریز میں ہیری اور میگھن نے شاہی خاندان کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کیے تھے اور اب ہیری کی سوانح عمری میں بھی نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔