Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ڈیوٹی فری شاپس پرشراب کی فروخت کی اجازت نہیں ہوگی:سعودی عرب کافیصلہ

    ڈیوٹی فری شاپس پرشراب کی فروخت کی اجازت نہیں ہوگی:سعودی عرب کافیصلہ

    ریاض: سعودی عرب کے ایئرپورٹس پر ڈیوٹی فری شاپس پر شراب کی فروخت کی اجازت نہیں ہوگی۔سعودی میڈیا کے مطابق زکوۃ، ٹیکس اور کسٹم اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے بڑے ایئرپورٹس پر کھلنے والی ڈیوٹی فری شاپس پر شراب کی فروخت کی اجازت نہیں ہوگی۔

    ارشد شریف قتل ازخود نوٹس،سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی فری شاپس میں صرف ان مصنوعات کی فروخت کی اجازت ہوگی جن کی اجازت مملکت میں بھی ہے اور شراب ملک میں ممنوع ہے۔

    زکوۃ، ٹیکس اور کسٹم اتھارٹی کے مطابق ڈیوٹی فری شاپس کنگ عبد العزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ جدہ، کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ریاض، کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ دمام اور پرنس محمد بن عبدالعزیز ایئرپورٹ مدینہ میں موجود ہیں۔ان ڈیوٹی فری شاپس کو زیادہ تر مقامی سطح پر تیار کی گئیں چیزیں فروخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ملکی مصنوعات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جا سکے۔

    24 ابتدائی کھلاڑیوں میں سے کون حتمی ون ڈے اسکواڈ میں ہوگا؟ کل پتے لگ جان گے

  • کراچی ٹیسٹ:پاکستانی کرکٹرز کین ولیمسن سے مشورےلیتےرہے

    کراچی ٹیسٹ:پاکستانی کرکٹرز کین ولیمسن سے مشورےلیتےرہے

    کراچی :پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کراچی میں دوسرا ٹیسٹ ڈرا پر اختتام پذیر ہونے کے بعد پاکستانی کرکٹرز نیوزی لینڈ کے ٹاپ بیٹر کین ولیمسن سے مشورے لینے پہنچ گئے۔دور حاضر کے بہترین کرکٹرز میں شمار ہونے والے کین ولیمسن نے شان مسعود، عبداللہ شفیق، سلمان علی آغا اور سعود شکیل کے سوالات کا کافی دیر تک جواب دیا۔

    کسی سیاسی جماعت کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے:پیپلزپارٹی کا فیصلہ

    نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں میچ کے بعد کی تقریب ختم ہوئی تو پاکستانی کرکٹرز کین ولیمسن کے گرد جمع ہوئے اور ان سے بیٹنگ کی تکنیک پر تبادلہ خیال شروع کیا، نوجوان کرکٹرز سلمان علی آغا، عبداللہ شفیق اور سعود شکیل کین ولیمسن سے مختلف سوالات پوچھتے دکھائی دیے، شان مسعود بھی کین ولیمسن سے گفتگو میں مصروف رہے۔

    نیوزی لینڈ نے کی اننگز ڈکلیئر، پاکستان کے صفر پر دو کھلاڑی آؤٹ

    پاکستانی بیٹرز کو ولیمسن کے ساتھ گفتگو کرتا دیکھ قومی ٹیم کے بیٹنگ کوچ محمد یوسف بھی آگئے اور بیٹنگ تکنیک پر بات چیت شروع کی۔ایک موقع پر سعود شکیل نے کین ولیمسن سے فٹ ورک اور توجہ برقرار رکھنے پر بات کی تو اس پر کیوی کرکٹر مسکرا کر بولے کہ ’آپ کو تو آؤٹ کرنا بھی مشکل ہے‘۔

    کراچی ٹیسٹ؛ دوسری اننگز میں نیوزی لینڈ کے 4 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے

    ولیمسن نے پاکستانی کرکٹرز کو مشورہ دیا کہ وکٹ پر تحمل کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے اور ذہن میں یہ بات رکھنا اہم ہے کہ ہر میچ میں اسکور نہیں ہوتا، انہوں نے پاکستانی کرکٹرز کو اپنی صلاحیتوں کا کھل کر مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا،کیوی ٹیسٹ ٹیم کے سابق اور وائٹ بال ٹیم کے موجودہ کپتان ولیمسن نے پاکستانی کرکٹرز کو فٹ ورک اور بیٹ سوئنگ کے حوالے سے بھی مشورے دیے اور مختلف کنڈیشنز پر بیٹنگ کا اپنا تجربہ شیئر کیا۔

  • صف اول کےفلمی نغمہ نگار و شاعرمسروانور:6 جنوری یوم پیدائش

    صف اول کےفلمی نغمہ نگار و شاعرمسروانور:6 جنوری یوم پیدائش

    ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
    کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی

    مسرور انور
    6 جنوری یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی صف اول کے فلمی نغمہ نگار و شاعر مسرو انور 6 جنوری 1944 میں ہندوستان کے شہر شملہ میں پیدا ہوئے ۔ ان کا اصل نام انور علی تھا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ لاہور پاکستان ہجرت کر گئے۔ انہیں شاعری کا شوق بچپن سے تھا اور فلم و موسیقی سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ اسی شوق اور دلچسپی کے سبب فلم ہدایت کار پرویز ملک اور فلمی موسیقار سہیل رعنا سے ان کی دوستی ہو گئی۔ اس دوستی اور میل جول کے باعث انہیں فلموں کے لیے گیت لکھنے کی پیش کش کی گئی جو کہ انہوں نے قبول کر لی اور 1962 میں انہوں نے فلم ” بنجارن” کے لیے گیت لکھ کر اپنے کیریئر کا شاندار آغاز کر دیا دوسری فلم ” ارمان” تھی تیسری فلم ” ہیرا اور پتھر” تھی اس فلم کے گیتوں نے بھی دھوم مچادی تھی۔ جس کے بعد ان کے مشہور اور سپر ہٹ گیتوں اور گانوں کی طویل فہرست ہے۔ انہوں نے نگار ایوارڈ سمیت کئی دیگر اہم اعزازات بھی حاصل کیے۔ مسرو انور نے فلمی نغمہ گاری کے علاوہ غزل اور ملی نغمے بھی لکھے۔ گلوکار غلام علی کی آواز میں ان کی گائی ہوئی غزل
    ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
    کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی

    نے پاکستان اور ہندوستان میں مقبولیت اور پذیرائی کا ایک ریکارڈ قائم کیا۔ ان کا ملی نغمہ

    سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے

    نے بھی ملک بھر میں دھوم مچا دی ۔ وہ ایک بہترین شخصیت کے مالک تھے ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور معصومیت مستقل طور پر قائم رہتی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے Baby Face کے خطاب سے نوازا گیا۔ یکم اپریل 1996 میں لاہور میں ان کی وفات ہوئی۔

    منتخب کلام

    ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
    کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی
    دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے
    نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی

    نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں
    ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی

    کیا بتائیں پیار کی بازی وفا کی راہ میں
    کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی

    اپنی جاں نذر کروں ،اپنی وفا پیش کروں
    قوم کے مرد ِمجاہد تجھے کیا پیش کروں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دل میں پیدا کیا اک جذبۂ تازہ تُو نے
    میرے گیتوں کو نیا حوصلہ بخشا تُو نے
    کیوں نا تجھ کو انہی گیتوں کی نوا پیش کروں
    اپنی جاں نذر کروں، اپنی وفا پیش کروں
    قوم کے مرد ِمجاہد تجھے کیا پیش کروں

    اکیلے نہ جانا ھمیں چھوڑ کر تم
    تمھارے بنا ھم بھلا کیا جئیں گے

    بھولی ہوئی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں
    جس کو تم نہ سمجھ سکے میں ایسا اک سوال ہوں
    تم نے مجھے بھلا دیا نظروں سے یوں گرا دیا
    جیسے کبھی ملے نہ تھے ایک راہ پر چلے نہ تھے
    تھم جاؤ میرے آنسوؤں ان سے نہ کچھ گلہ کرو
    وہ حسن کی مثال ہیں میں عشق کا زوال ہوں
    جس کو وہ نہ سمجھ سکے میں ایسا ایک سوال ہوں
    کرنا ہی تھا اگر ستم دینا تھا عمر بھر کا غم
    عہد وفا کیا تھا کیوں چاہت سے دل دیا تھا کیوں
    تم نے نگاہ پھیر لی اب میں ہوں میری بےبسی
    بھولی ہوئی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں
    ——
    مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو
    مجھے تم کبھی بھی بھلا نہ سکو گے
    نہ جانے مجھے کیوں یقیں ہو چلا ہے
    میرے پیار کو تم مٹا نہ سکو گے
    مری یاد ہوگی جدھر جاؤ گے تم
    کبھی نغمہ بن کے کبھی بن کے آنسو
    تڑپتا مجھے ہر طرف پاؤ گے تم
    شمع جو جلائی ہے میری وفا نے
    بجھانا بھی چاہو بجھا نہ سکو گے
    کبھی نام باتوں میں آیا جو میرا
    تو بےچین ہو ہو کے دل تھام لو گے
    نگاہوں میں چھائے گا غم کا اندھیرا
    کسی نے جو پوچھا سبب آنسوؤں کا
    بتانا بھی چاہو بتا نہ سکو گے

    کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے
    چپ رہ کے بھی نظر میں ھیں پیار کے اشارے
    یہ شان بے نیازی یہ بے رخی کا عالم
    بے باک ھو گیا ھے ان کا مزاج بر ھم
    اک پل میں نےھم نے دیکھے کیا کیا حسین نظارے
    کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے
    فربان جائیں اے دل ھم ان کی اس ادا کے
    خود بھی سلگ رھے میں ھم کو جلا جلا کے
    ھیں کتنے خوبصورت اس آگ کے شرارے
    کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے

    یوں اسنے پیار سے میری بانہوں کو چھو لیا
    منزل نے جیسے شاخ کے راہوں کو چھو لیا
    اک پل میں دل پہ کیسے قیامت گزر گئی
    رگ رگ میں اسکے حسن کی خوشبو بکھر گئی
    زلفوں کو میرے شانے پہ لہرا گیا کوئی
    یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب اس دل تباہ کی حالت نا پوچھیے
    بے نام آرزو کی لذت نا پوچھیے
    اک اجنبی تھا روح کا ارمان بن گیا
    اک حادثہ تھا پیار کا عنوان بن گیا
    منزل کا راسته مجھے دکھلا گیا کوئی
    یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی

    اے دل تجھے اب ان سے یہ کیسی شکایت ہے
    وہ سامنے بیٹھے ہیں کافی یہ عنایت ہے

    الہٰی آنسو بھری زندگی کسی کو نہ دے
    خوشی کے ساتھ غم بے کسی کسی کو نہ دے

    خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرادو
    کہتی ہیں یہ بہاریں ہنسنا ہمیں سیکھا دو

    سُونی پڑی رہیں گی یہ پربتوں کی راہیں
    یونہی کُھلی رہیں گی ان وادیوں کی بانہیں
    جب تک جُھکی یہ نظریں ہنس کہ نہ تم اُٹھا دو
    خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرادو

    دل دھڑکے میں تم سے کیسے کہوں
    کہتی ہے میری نظر شکریہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ابھی ڈھونڈ ہی رہی تھی تمہیں یہ نظر ہماری
    کہ تم آ گئے اچانک بڑی عمر ہے تمہاری

    ابھی کچھ ہی دیر پہلے بڑا زکر تھا تمہارا
    کئی بار ڈھرکنوں نےتمہیں پیار سے پکارا

    مٹا انتظار دل کا ہوئ ختم بےقراری
    ہمیں پیار کی خوشی سے کیا آشنا تم ہی نے
    تمہیں پیار ہم وہ دیں گے جو دیا نہ ہو کسی نے
    کہ تمہاری زندگی ہے ہمیں جان سے بھی پیاری
    وہ نظر کے سامنے ہے جسے ہم نے دیں صداٗئیں
    جو قرار بن کے آیا اُسے کیوں نہ دیں دُعائیں
    کیئے آرزو نے سجدے دل نے نظر اُتاری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اک بار ملو ہم سے تو سو بار ملیں گے
    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

    کیسے یہ کہیں تم سے ہمیں پیار ہے کتنا
    آنکھوں کی طلب بڑھتی ہے دیکھیں تمہیں جتنا

    اس دنیا میں کم ایسے پرستار ملیں گے
    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

    دل کی جگہ سینے میں محبت ہے تمھاری
    اب میری ہر اک سانس امانت ہے تمھاری

    ہم بن کے تمہیں پیار کی مہکار ملیں گے
    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

  • گلشن اقبال میں کوچنگ سینٹرکےاندرفائرنگ سےطالبعلم جاں بحق

    گلشن اقبال میں کوچنگ سینٹرکےاندرفائرنگ سےطالبعلم جاں بحق

    کراچی:گلشن اقبال میں کوچنگ سینٹر کے اندر فائرنگ کے واقعے میں طالبعلم جاں بحق ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال کے علاقے بلاک 13 ڈی مدینہ مسجد کے قریب واقع کوچنگ سینٹر میں فائرنگ کے واقعہ میں 19 سالہ طالبعلم احسن ولد اختر شدید زخمی ہوگیا جسے تشویشناک حالت میں سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

    برطانوی شہزادے ہیری نےہیلی کاپٹرحملےمیں25 بےگناہ افغان قتل کردیئے

    اس حوالے سے ایس ایس پی ایسٹ عبدالرحیم شیراز کے مطابق نوجوان کو بڑے اسلحے سے فائرنگ کر کے قتل کیا گیا، جمعرات کو کوچنگ سینٹر میں کچھ طلبہ کے درمیان جھگڑا ہوا تھا جس پر انتظامیہ نے صلح کرا دی تھی تاہم جمعہ کو ایک نوجوان اپنے ہمراہ دیگر لڑکوں کو لایا اور کوچنگ سینٹر میں طالبعلم احسن پر کلاشنکوف سے فائرنگ کر دی اور اپنے ساتھیوں سمیت فرار ہوگیا۔

    گھرمیں گھس کر ڈاکٹر کوچھریوں کے وار سے کیا گیا قتل، بیوی سمیت تین افراد گرفتار

    پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ ملزم بوری میں کلاشنکوف چھپا کر لایا۔ گلشن اقبال پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعہ میں ایک بچہ بھی زخمی ہوا ہے، مقتول احسن نے میٹرک پاس کیا تھا اور وہ فرسٹ ایئر کا طالبعلم تھا جبکہ ملزم لقمان جس نے فائرنگ کی تھی وہ نویں جماعت کا طالبعلم ہے۔

    ٹھٹھہ : یوسی بجھورا کے وائس چیئرمین کے آزاد امیدوار گن پوائنٹ پر لوٹ لیاگیا

    پولیس نے بتایا کہ مقتول او ملزم دونوں ہی گلشن اقبال ضیا کالونی کچی آبادی کے رہائشی ہیں تاہم پولیس فرار ہونے والے ملزم لقمان کی تلاش میں چھاپے مار ہی ہے تاہم فوری طور پر جھگڑے کی وجہ کا بھی تعین نہیں ہو سکا۔ پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی۔

  • محکمہ جنگلی حیات سندھ کی لائبریری میں ہزاروں نایاب کتب مطالعہ کرنےوالوں کاانتظارکررہی ہیں

    محکمہ جنگلی حیات سندھ کی لائبریری میں ہزاروں نایاب کتب مطالعہ کرنےوالوں کاانتظارکررہی ہیں

    کراچی: سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کی لائبریری میں جنگلی حیات اورجنگلات پر چار مختلف زبانوں میں لکھی گئیں،8 ہزارسے زائد نادرونایاب کتب موجود ہیں۔ ان نایاب کتب میں اٹھارہویں صدی کے اوائل میں لکھی گئیں کئی کتابیں بھی موجود ہےجن میں ڈی جی رابرٹ کی مشہور زمانہ کتاب ’برڈز آف سندھ‘ بھی موجود ہے۔

    سندھ وائلڈ لائف بلڈنگ کی بالائی منزل پر1980سےقائم لائبریری میں موجود برما ٹیک اورشیشم سے بنی الماریوں میں موجود کتب پاکستان سمیت دیگرممالک میں پائے جانے والے آبی حیات،رینگنے والے اوراڑنے والے جنگلی حیات جبکہ جنگلات سے معلومات کا ایک پوراذخیرہ موجود ہے۔لائبریری میں موجود 8 ہزار کے لگ بھگ کتب میں انگریزی،عربی،اردوجبکہ سندھی زبان میں لکھی گئی ہیں،سندھ وائلڈ لائف کےآفیسرعادل علی خان کے مطابق ان کتب میں معروف مصنف ڈی جی رابرٹ کی کتاب برڈزآف سندھ کے علاوہ وائلڈ لائف ہبیٹیٹ ان مینجمنٹ فاریسٹ،انتھونی اسمتھ کی کتاب اینمل آن ویو،برڈ ریٹ رسک،دی بینگال ماسٹر،لیزرڈ پیراڈائز،پوائزن اسنیکس،ٹمبرآف ورلڈ،سفاری ورلڈ،بمبئی اسٹیمپ انڈین ایکٹ،بزنس کمپنی ایکٹ سمیت دیگرکتابیں موجود ہیں۔

     

    لائبریری میں 18ویں صدی کے اوائل میں لکھی چند کتب بھی موجود ہے جبکہ بیشترکتب 1903، 1939، 1931 اور 1937میں لکھی گئی ہیں۔عادل خان کے مطابق یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ جنگلی حیات اورجنگلات پرمبنی معلومات کا ایک پوراخزانہ ان الماریوں میں موجود ہے،ان کا کہنا ہے کہ کچھ الماریوں میں قانون کی نادرونایاب کتب بھی موجود ہیں،ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی یونیورسٹی میں زیرتعلیم حفصہ نامی خاتون جو انڈس ڈولفن اورسندھ کی دیگرآبی حیات پرریسرچ کررہی ہیں،انھیں بیشترکتابیں جوکہیں بھی دستیاب نہیں تھیں،ان کوسندھ وائلڈ لائف کی لائبریری سے باآسانی دستیاب ہوگئی۔

    مذکورہ خاتون نے سکھرمیں بذات خود دریائے سندھ کی اندھی ڈولفن کے مسکن جاکربھی معلومات حاصل کیں جبکہ ان کتب سے کراچی سمیت سندھ کی درسگاہوں میں زیرتعلیم زولوجی اوربوٹنی کے طلبہ سمیت دیگر شہری مستفید ہوتے ہیں

  • شیخ زید ہسپتال کوئٹہ میں بلیک میلنگ اورجنسی ہراسانی کا ایک اور بڑا اسکینڈل

    شیخ زید ہسپتال کوئٹہ میں بلیک میلنگ اورجنسی ہراسانی کا ایک اور بڑا اسکینڈل

    کوئٹہ:کوئٹہ کے شیخ زید ہسپتال میں خواتین اسٹاف نرسز کو ایک گروہ کی جانب سے مبینہ طور پر جنسی طور پر ہراساں اور بلیک میل کر کے جسمانی و مالی فوائد لینے کا اسکینڈل منظر عام پر آگیا،سیکرٹری صحت نے الزامات کا نوٹس لیکر تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم کردی ۔

    تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں واقع شیخ زید ہسپتال میں تعینات ایک اسٹاف نرس نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے اعلیٰ حکام ، پولیس و محکمہ صحت انتظامیہ کے نام ایک کھلاخط لکھا ہے جس میں انہوں نےایک ہیڈ نرس مسرت تنویرپر ہسپتال میں تعینات اسٹاف نرسز ، عملے کی خواتین کو ہراساں کرنے ، بلیک میل کر کے جسم فروشی پر مجبور کر نے کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں،

    خانیوال میں فائرنگ، سی ٹی ڈی کے 2 افسران جاں بحق

     

     

    خط میں پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے ایک عہدےدار سمیت ہسپتال کے اعلیٰ حکام پر بھی الزامات عائد کئے گئے ہیں ۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ سٹاف نرسز پر دباﺅ ڈال کر کے انہیں جنسی طور پر ہراساں کر نے کیا جاتا ہے اور جب کوئی خاتون انکار کرتی ہے تو اسے نا صرف بلیک بلکہ سنگین نوعیت کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔

    سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کرسکتا ،قومی اداروں کی رپورٹ

     

    خط میں پولیس، انتظامیہ، محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے نوٹس لیکر تحقیقات کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے ۔دوسری جانب سیکرٹری صحت بلوچستان نے خواتین اسٹاف نرسز کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزاما ت کو نوٹس لیکر تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ،کمیٹی ڈپٹی سیکرٹری رومانہ مراد کھوسہ کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے جس نے اپنے ایک مراسلے میں متاثرہ خواتین، طلبائ، ملازمین کو تاکید کی ہے کہ وہ کمیٹی میں اپنا موقف بیان کریں ، کمیٹی کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ میرٹ پر ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائےگی ۔

    بنوں میں سی ٹی ڈی کمپاونڈ میں دہشت گردوں کا حملہ،2 فوجی اورایک سی ٹی ڈی اہلکار…

  • پنجاب کا سب سے بڑا سرکاری آٹا سمگلر گینگ پکڑا گیا

    پنجاب کا سب سے بڑا سرکاری آٹا سمگلر گینگ پکڑا گیا

    لاہور:صوبائی دارالحکومت کو آٹا بحران کا شکار بنانے والا پنجاب کا سب سے بڑا سرکاری آٹا سمگلر گینگ پکڑا گیا، ملزموں نے قصور کے نواحی علاقہ میں خالی پڑی ٹیکسٹائل ملز میں خفیہ گودام بنا کر آٹا فیکٹری بنا رکھی تھی۔

    تفصیل کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ لاہور ڈویژن نعیم افضل کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر لاہور (ون) محمد امجد سمیت فوڈ سٹاف کی سپیشل ٹیم نے جمبر کے علاقہ میں خالی پڑی ٹیکسٹائل ملز پر چھاپہ مارا۔روزانہ لاہور سے سیکڑوں تھیلے سرکاری آٹا گودام میں لا کر ریفائن کرنے کے بعد پشاور سمگل کیے جاتے تھے، ملزمان 1295 روپے قیمت والا سرکاری آٹا 1450 روپے میں خرید کر 2400 روپے قیمت پر سمگل کرتے، محکمہ خوراک کی مدعیت میں قصور کے مقامی تھانے میں اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی گئی۔

    سینئرحکام سمیت خفیہ اداروں نے تحقیقات شروع کردی، مبینہ طور پر کچھ سرکاری اہلکار فی تھیلا 150 تا 200 روپے لے کر چند فلورملز کے سہلوت کار بنے ہوئے ہیں۔ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ لاہور ڈویژن نعیمہ افضل کا کہنا ہے کہ 3 کنال کے ایک گودام میں آٹے سے بھرے ہزاروں تھیلوں سمیت غیر معمولی تعداد میں خالی سرکاری تھیلے برآمد ہوئے، گودام کے اندر جدید ترین مشینیں نصب تھیں، سرکاری آٹے کو ریفائن کر کے سپیشل آٹے میں تبدیل کیا جاتا تھا۔

    ملزموں نے بوگس برانڈ کے ناموں والے نجی تھیلے پرنٹ کرا رکھے تھے، سپیشل آٹا پیک کر کے سمگل کیا جاتا تھا، ملزم روزانہ لاہور کی دکانوں اور ٹرکنگ و سیلز پوائنٹس سے سیکڑوں تھیلے آٹا خرید کر قصور والے گودام میں لاتے تھے، چھوٹی گاڑیوں اور لوڈر رکشوں کا استعمال کیا جاتا تھا، سمگلر کے خلاف سرکاری آٹا سمگلنگ کے مقدمات درج ہیں۔

  • مسٹرہیری!جن کوآپ نےقتل کیا وہ شطرنج کےمہرے نہیں انسان تھے:افغان طالبان رہنماانس حقانی

    مسٹرہیری!جن کوآپ نےقتل کیا وہ شطرنج کےمہرے نہیں انسان تھے:افغان طالبان رہنماانس حقانی

    دوحہ: طالبان رہنما انس حقانی نے افغانستان میں جنگ کے دوران ایک مشن میں 25 افراد کو قتل کرنے کے برطانوی شہزادے ہیری کے اعتراف پر انھیں آڑے ہاتھوں لے لیا اور اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی شہزادے ہیری کی کتاب اسپیر جلد منظر عام پر آنے والی ہے جس میں شہزادے نے کئی حیران کن انکشافات اور اعترافات کیے ہیں جس سے ایک نئی بحث چھیڑ گئی۔

     

    شہزادہ ہیری نے جو برطانوی فوج کا 10 سال تک حصہ رہے، خود نوشت کے سامنے آنے والے ایک اقتباس میں اعتراف کیا کہ افغان جنگ کے دوران بطور پائلٹ خدمات انجام دیں اور 6 فضائی کارروائیوں میں حصہ لیا۔برطانوی شہزادے نے لکھا کہ ان فضائی کارروائیوں میں 25 افراد ہلاک ہوئے جس کا نہ تو انھیں کوئی دکھ ہے اور نہ ہی وہ اس پر فخر کرتے ہیں کیوں کہ مرنے والے جنگ کی شرنج کے مہرے تھے۔

     

    اس پر ردعمل دیتے ہوئے افغان طالبان رہنما اور قطر میں مذاکراتی ٹیم کے رکن انس حقانی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ مسٹر ہیری! جن کو تم نے مارا وہ شطرنج کے مہرے نہیں جیتے جاگتے انسان تھے۔ ان کا بھی خاندان تھا جو اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے منتظر تھے۔انس حقانی نے شکوہ کیا کہ جنگ کے دوران افغان شہریوں کو قتل کرنے والوں میں سے بہت سے لوگ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرنے اور جنگی جرائم کے اعتراف میں شائستگی کا اظہار نہیں کرتے۔

     

    طالبان رہنما نے یہ بھی لکھا کہ سچ وہی ہے جو آپ نے کہا۔ ہمارے معصوم لوگ آپ کے سپاہیوں، فوجی اور سیاسی لیڈروں کے لیے شطرنج کے مہرے تھے۔ پھر بھی آپ کو سفید اور سیاہ “مربع” کے اس “کھیل” میں شکست ہوئی۔انس حقانی نے خیال ظاہر کیا کہ آپ کے اس اعتراف پر مجھے امید نہیں ہے کہ آئی سی سی آپ کو طلب کرے گی یا انسانی حقوق کے کارکن آپ کی مذمت کریں گے، کیونکہ وہ آپ لوگوں کے معاملے میں بہرے اور اندھے ہوجاتے ہیں لیکن امید ہے کہ تاریخ انسانیت میں آپ کے مظالم کو یاد رکھا جائے گا۔

  • ہیلتھ لیوی ، ٹیکس اوراس کی قانونی حیثیت :تحریر۔  آمنہ امان

    ہیلتھ لیوی ، ٹیکس اوراس کی قانونی حیثیت :تحریر۔ آمنہ امان

    حکومت کسی کاروبار ,پراڈکٹ ,کمپنی یا جاٸیداد پر مخصوص ٹیکس لگاۓ اور ٹیکس لگانے کا مقصد بھی واضح بیان کیا جاۓ تو اسے لیوی کہتے ہیں ۔ لیوی کی منظوری دونوں ایوانوں سے لی جاتی ہے اور اسے عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاتا کیونکہ اسے باقاعدہ مقصد کے تحت عوامی نماٸندوں سے منظوری کے بعد نافذ کیا جاتا ہے۔ لیوی ٹیکسز لگاتے وقت حکومت باقاعدہ طور پر مقصد بتاتی ہے کہ یہ کن وجوہات کی بنإ پر نافذ کیا جارہا ہے اور بعض صورتوں میں اس کی مدت کا تعین بھی کیا جاتا ہے اور مقررہ مدت کے بعد یہ غیرمٸوثر ہوجاتا ہے۔ لیوی ٹیکس میں وقتاً فوقتاً تبدیلی حکومت کی کلی صوابدید پر منحصر ہوتی ہے۔

    ہیلتھ لیوی اور اس کا مختلف ممالک میں نفاذ :
    میکسیکو، انڈیا ، آسٹریلیا ، برطانیہ سمیت دنیا کے کٸ ممالک میں شوگر یعنی چینی پر مشتمل مشروبات پر اضافی ہیلتھ لیوی نافذ کرنے سے جہاں ان ممالک میں ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوا ہے وہیں ذیابیطس ، ہارٹ اٹیک ،فالج اور کٸ دیگر امراض پر قابو پانے میں بھی کافی مدد ملی ہے۔ موٹاپا بھی اس وقت دنیا کے کٸ ممالک میں اہم مسٸلہ بنا ہوا ہے جو بذات خود کٸ قسم کے امراض کو دعوت دیتا ہے جس کا انجام دردناک موت ہوتا ہے۔ موٹاپے کی اہم وجہ بھی شوگری اور کاربونیٹڈ مشروبات اور جنک فوڈ ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے بیشتر ممالک میں تمباکو اور دیگر ڈرگز پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے ان کے پھیلاٶ پر قابو پایا گیا ہے۔ نشہ آور اشیإ کے استعمال میں روک تھام اور نٸ نسل کو اس کے مضمرات سے محفوظ رکھنے میں بھاری ہیلتھ لیوی کانفاذ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تمباکو نوشی کینسر ،ٹی بی، اور دمہ کا سبب تو بنتی ہی ہے مگر اس کے عادی افراد بہت سی معاشرتی خرابیوں کا باعث بھی بنتے ہیں کیونکہ اس کا استعمال افراد کو اعصابی طور پر کمزور بنا دیتا ہے وہ چڑچڑے اور غصہ ور ہوجاتے ہیں ان کی قوت فیصلہ بھی کم ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی ایک ایسی لت ہے جسے پورا کرنے کے لیےعادی افراد چوری چکاری جیسے جراٸم بھی کرسکتا ہے۔ گویا مضر صحت اشیإ جیسے نام نہاد انرجی ڈرنکس، کاربونیٹڈ مشروبات ، فلیورڈ جوسز ، سگریٹ ، پان اور چھالیہ وغیرہ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرنے سے ملک کو دوہرا فاٸدہ ہوتا ہے۔ اک طرف ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوتا دوسری طرف بیماریوں کی مد میں خرچ ہونے والی رقم کی بچت ہے۔ اور لوگوں کی عمومی صحت میں بہتری کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ دنیا کے کٸ ممالک مضر صحت اشیإ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے اپنے ملک کے خزانے کو فاٸدہ پہنچا رہے ہیں ۔ اور یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ ان ممالک میں مذکورہ بالا بیماریوں کی شرح میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوٸ ہے۔

    پاکستان میں ہیلتھ لیوی کا نفاذ:
    2019 میں اک سماجی تنظیم سپارک نے پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث ہونے والے نقصانات کے متعلق آگاہ کرتے ہوۓ بتایا کہ پاکستان میں تقریبا روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی کرتے پاۓ جاتے ہیں اور ہر سال 170000 لوگ تمباکو نوشی کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر موت کی وادی میں اتر جاتے ہیں۔ جن میں سرفہرست کینسر، ٹی بی اور دمہ ہیں۔
    اور اس کے علاوہ صرف تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے 615 بلین روپے کا سرکاری خزانے پر بوجھ پڑتا ہے جو ملکی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔پاکستان ذیابیطس کے مرض میں دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے سالانہ تقریباً 70000 لوگ اسی مرض کی پچیدگیوں کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔ یہ اعدادوشمار یقیناً نہایت تشویش کا باعث ہیں۔ اس کے علاوہ موٹاپے کا مرض بھی پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جس سے افراد کے کام کرنے کی صلاحیت ہر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے اور دل کی بیماریوں فالج اور برین ہیمبرج جیسے امراض میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ شوگری مشروبات کے باقاعدہ استعمال سے بڑوں میں 27 فیصد جبکہ بچوں میں 55فیصد وزن بڑھ جاتا ہے ۔ جو بعد میں کٸ امراض کا پیش خیمہ بنتا ہے۔

    ان تمام امراض اور ان کے باعث ہونے والی جانی ومالی نقصان سے بچنے کے لیے نقصان دہ مشروبات ، پان وچھالیہ اور سگریٹ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرنا لازمی امر ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس پہلو پر توجہ نہیں دی گٸ اور خاص طور پر تمباکو سگریٹ گٹکے اور انرجی ڈرنکس کے ملک میں بکثرت استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے مٸوثر قانون سازی نہیں کی گٸ۔ حالانکہ گٹکا نسوار اور پان کی لت پاکستان میں مردوں کے علاوہ خواتین میں بھی پاٸ جاتی ہے اور سالانہ لاکھوں شہری ان کی وجہ سے ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وجہ ان چیزوں کا انتہای سستے ریٹس پر بکثرت دستیاب ہونا ہے ۔ جس سے پاکستان میں کینسر ذیابیطس اور دل کے امراض میں بہت اضافہ ہوچکا ہے ۔ٹی بی اور ہیپاٹاٸٹس کے امراض بھی ملک و قوم کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان سب کی اہم وجہ حکومت کی طرف سے اس معاملے میں کوتاہی ہے ۔ تاہم اب حکومتی سطح پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ اور اس کے یقینی حصول کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی گٸ ہے۔ جو کہ نہایت خوش اٸند ہےاس سے امید پیدا ہوٸ ہے کہ مستقبل میں بھاری ہیلتھ لیوی کے نفاذ سے مضرصحت اشیإ کی خریدوفرخت میں واضح کمی لاٸ جاسکے گی۔

    اگر حکومت دنیا کے دیگر ممالک کے اعداد وشمار اور طریقہ کار کے علاوہ پاکستان کے اندرونی حالات کو مدنظر رکھ کر مضر صحت اشیإ پر زیادہ سے زیادہ ہیلتھ لیوی نافذ کرے تواس کے ناصرف خزانے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ عوامی صحت میں بھی نمایاں بہتری اۓ گی۔ ہیلتھ سیکٹر پر اٹھنے والےاخراجات میں بھی کمی لاٸ جاسکے گی۔ صرف سگریٹ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے حکومت سالانہ 40 ارب روپے جمع کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کاربونیٹڈ اور شوگری مشروبات پر بھی بھاری ہیلتھ لیوی کا اطلاق کافی ریونیو جمع کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور ان اشیإ کے بے تحاشا استعمال کو قابو کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتا ہے۔مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ من پسند کمپنیز اور لوگوں کو چھوٹ ناں دی جاۓ بلکہ بلاتخصیص تمام مضر صحت پراڈکٹس پر ہیلتھ لیوی نافذ کی جاۓ اور اس کی شرح بھی حتی الامکان بلند رکھی جاۓ۔ اس پروگرام کو کرپشن کی نذر ہونے سے بھی بچایا جائے تاکہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں فاٸدہ ہوسکے اور معاشرے پر اس کے مثبت اثرات نظر آٸیں۔

  • تمباکو پرزیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ تحریر:نصیب شاہ شینواری،لنڈیکوتل

    تمباکو پرزیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ تحریر:نصیب شاہ شینواری،لنڈیکوتل

    تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ تحریر: نصیب شاہ شینواری، لنڈیکوتل
    چھوٹے بچوں کو بازاروں اور گاوں میں سیگریٹ یا نسوارلانے کے لئے کسی دوکان کو نہیں بھیجنا چاہئے اس لئے کہ سیگریٹ لانے سے یہ بچے خود بھی سیگریٹ اور دوسرے خطرناک قسم کی منشیات استعمال کرنے کے عادی بن سکتے ہیں ، یہ بات عام مشاہدے کی بھی ہے کہ یہی بچے پھر بڑے ہوکر بھی بڑی شوق سے سیگریٹ اور نسوار کا استعمال کرتے ہیں ۔ یہ مفید اورکارآمد باتیں ضلع خیبر کے تحصیل لنڈیکوتل کے ایک سماجی کارکن اختر علی شینواری کی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ آج کل سیگریٹ اور دوسرے منشیات کا استعمال عام ہورہا ہے اور معاشرے میں ہرکسی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اور جتنا ہوسکے اپنے قریبی دوستوں،رشتہ داروں کو سیگریٹ پینے و دیگر منشیات سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور لوگوں کو سگریٹ نوشی کی لعنت سے بچایں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکثر غریب مزدورکار اورتنخوادار طبقہ کے ہزاروں افراد بھی سیگریٹ نوشی کی لعنت میں مبتلا ہے اور کمزور مالی حالت کی وجہ سے ان کے اپنے بچوں کی کفالت پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ پاکستان کے 1973 آئین کے تحت ہرشہری کو بنیاد صحت کی سہولیات دینا ان کا قانونی حق ہے اور یہ ذمہ داری حکومت اور ریاست کی ہے کہ پاکستان کے ہرشہری کو سرکاری ہسپتال میں مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    پاکستان کی حکومت نے سال 2019 میں ہیلتھ لیوی بل پاس کیا لیکن اس بل کو عملی طور پر نافذ نہیں کیا جاسکا۔ اس بل کے مطابق تمباکو پری لیوی ٹیکس لاگو ہوگی جس سے ملکی معیشت کو فائدہ ہوگا ور سیگریٹ نوشی کو کم کیا جائے گا،اگر حکومت پاکستان یہ ٹیکس واقعی تمباکو نوشی،سگریٹ پر لاگو کریں تو اسے سے ہمارے معیشت کو بہت زیادہ فائدہ ہوگاِ، سیگریٹ پر ٹیکس زیادہ کرنے سے لوگ سگریٹ کو کم خریدیں گے اور اس طرح یہ غریب لوگوں کی پہنچ سے دور ہوجائے گی اوراس سے ان لوگوں کو ایک قسم کا مالی فایدہ بھی ہوگا۔ اخترعلی شینواری کا کہنا ہے کہ تمباکو اور سگریٹ پرحکومت کو زیادہ ٹیکس لگانا چاہئے ِ، ان کا کہنا تھا کہ اس سے ملکی معیشت اور عام لوگوں کی مالی حالت بہتر ہوگی، کم از کم غریب لوگ سگریٹ نوشی سے چھٹکارہ پائیں اور یہی پیسے جو یہ لوگ سگریٹ خریدنے کے لئے خرچ کرتے ہیں،انہی پیسوں سے بچوں کے لئے کوئی کارآمد چیز خرید سکیں گے۔ ڈاکٹر شمس الاسلام کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی سے خطرناک عادت ہے اور یہ انسان کی صحت پر بہت ہی برا اثر کرتے ہیں، موصوف کا کہنا تھا کہ سگریٹ میں نکوٹین ہوتا ہے اور یہ انسانی دماغ کو بری طرح متاثر کرتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ کی مسلسل استعمال سے ان کا دماغ متاثر ہوتا ہے، پھر دماغ میں طرح طرح کے دیگر برے خیالات جنم لیتے ہیں اور انسان کسی دوسرے نشہ کا بھی استعمال شروع کرتا ہے۔انسان پر سگریٹ نوشی کا برا اثر یہ ہے کہ یہ برا عمل انسان کو خودکشی پر مجبور کرتا ہے اور یہی سگریٹ نوشی بہت سے افراد کی خودکشیوں کی سبب بھی بنی ۔ڈاکٹر شمس الاسلام کا کہنا تھا کہ حکومت کی تمباکو نوشی کنٹرول ادارے کے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1200 بارہ سو افراد سیگریٹ نوشی کا استعمال شرو ع کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت خطرناک ہے اعداد و شمار ہے کہ اتنی زیادہ تعداد میں لوگ سیگریٹ کے عادی بن رہے ہیں۔

    سیگریٹ کن خطرناک بیماروں کا سبب ہے؟
    جب ڈاکٹر سے پوچھا گیا کہ سیگریٹ نوشی سے کن کن بیماریاں انسان کو لاحق ہوسکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ کئی خطرناک قسم کی بیماریاں سیگریٹ نوشی کی وجہ سے انسان کو لاحق ہوسکتی ہے۔ منہ کینسر، حلق کینسر ِ، خوراک کی نالی کینسر، معدے کا کینسر ، پھیپھڑوں کا کینسر، بڑی انت کینسر، معدے کی کینسر، مثانہ کینسر، جنسی کمزوری ِ، عارضہ قلب جان لیوا بیماریاں ہیں جو سیگریٹ نوشی کی وجہ سے انسان کو لگ سکتی ہیں۔ ڈاکٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپی ممالک جیسے انگلستان میں عام جگہوں میں کوئی سیگریٹ نہیں پی سکتا اور سیگریٹ نوشی کے لئے مخصوص جگہیں ہیں جہاں انسان سیگریٹ نوشی کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا اور مطالبہ تھا کہ حکومت پاکستان کو بھی سیگریٹ اور تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگا نا چاہے تاکہ عام لوگ سیگریٹ کو خرید نہ سکیں اور اس طرح یہ دوسرے لوگوں کو بھی بیماریوں سے بچا سکیں۔ ان کا کہنا تھا سیگریٹ نوشی سے کیی خطرناک بیماریاں لوگوں کو لاحق ہوتی ہیں جس کی وجہ سے حکومت لوگوں کی صحت پر کروڑوں اربوں روپے خرچ کرتی ہے، اگر سیگریٹ پر ٹیکس لگائی جایں تو اس سے معیشت مضبوط ہوگی، لو گ اسے کم خریدیں گے اور لوگ کم بیمار ہوجائیں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ انسان اپنی پختہ عز م ہی کی وجہ سے سیگریٹ نوشی کو ترک کرسکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ورزش اور ایک انسان کی مضبوط قوت ارادی ہیں ایسے کام ہیں جن کی وجہ سے انسان سیگریٹ نوشی سے چھٹکارا پاسکتا ہے۔ لنڈیکوتل کے ایک صحافی فرہاد شینواری کا کہنا تھا کہ امریکہ میں عام جگہوں میں سیگریٹ نوشی پر پابندی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی فرد ایسی جگہ پر سیگریٹ نوشی کریں جہاں پر پابندی ہو تو حکومت انہیں 250 ڈالرز جرمانہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیگریٹ نوشی نے لئے امریکا میں مخصوصی جگہیں ہیں جہاں اپ سیگریٹ پی سکتے ہیں۔

    بحثیت مسلمان بھی ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم سیگریٹ نوشی کے خاتمہ کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور معاشرے میں اس لعنت کے خلاف اٹھ کھڑے ہو اس لئے کہ قرآن اور سنت رسول ﷺ نے ہر نشہ اور چیز کو حرام کردیا ہے، کچھ بدقسمت اور کم علم لوگ کہتے ہیں کہ سیگریٹ نشہ اور نہیں ہے تو ان کی معلومات کے لئے عرض ہے کہ مصر کے ایک مشہور عالم دین نے سال 2000 میں ایک فتوی جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ انسانی صحت پر برے اثرات کی وجہ سے دین اسلام میں سیگریٹ نوشی حرام ہے۔

    مختلف مکاتب فکر کے لوگوں اور سیگریٹ نوشی کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے سربراہان کا بھی بہت عرصہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ سیگریٹ نوشی کی حوصہ شکنی کے لئے ہیلتھ ٹیکس لانا اور لاگوں کرنا چاہئے تاکہ سیگریٹ مزید مہنگی ہوسکیں اور یہ عام لوگوں کی دسترس سے دور ہو۔حال ہی میں سیگریٹ نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ نے مری میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں میڈیا انفلوینسرز اور ماہرین صحت نے شرکت کی۔
    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے مذکورہ تنظیم کے چیف ایگزیکٹیو شارق محمود نے کہ پاکستان میں سیگریٹ نوشی میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آے روز بچے اور نوجوان سیگریٹ کے عادی بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ ہیلتھ لیوی کو لاگو کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیگریٹ پر ہیلتھ لیوی کی شکل میں ٹیکس کے نفاذ سے ملکی خزانے کو 60 ساٹھ ارب روپے کا فایدہ ہوگا۔

    ریونیو ڈویژن حکومت پاکستان کے سرکاری ویب سایٹ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق ایف بی آر(فیڈرل بورڈ آف ریوینیو) نے تمباکو کے استعمال پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کے بارے میں 21 جنوری کو پریس کے کچھ حصے میں شائع ہونے والی ایک خبر پر وضاحت جاری کی ہے۔ قانونی اور آئینی ماہرین کا موقف ہے کہ صحت ایک صوبائی موضوع ہے اور وفاق تمباکو کے استعمال پر ہیلتھ ٹیکس نہیں لگا سکتا۔ اس کے نتیجے میں تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پارلیمنٹ نے فنانس ایکٹ 2019 کے ذریعے سگریٹ پر تین درجے والے ٹیکس کے ڈھانچے کو ختم کر دیا اور FED کو بھی نمایاں طور پر بڑھا دیا۔

    بجٹ تقریر 2019-20 میں، اس وقت کے وزیر ریونیو نے واضح کیا کہ تمباکو کے شعبے سے حاصل ہونے والی فیڈرل ایکسائز اینڈ ڈیوٹی کا وفاقی حصہ ترجیحی طور پر وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کو دیا جائے گا جس کے نتیجے میں ہیلتھ لیوی کا مسئلہ حل ہو جایں گا۔ سابق صوبائی وزیر صحت عنایت اللہ نے روزنامہ ڈان میں شائع ایک تحریر میں لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ (1948) نے صحت کو بنیادی حق قرار دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا آئین بھی ”ہر انسان کے بنیادی حق کے طور پر صحت کے اعلیٰ ترین قابل حصول معیار” کا تصور کرتا ہے۔ وہ اپنی تحریر میں مزید لکھتا ہے کہ پاکستان پائیدار ترقی کے ہدف 3 کے تحت یونیورسل ہیلتھ کوریج (UHC) کے لیے بھی پرعزم ہے۔