Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ڈیرہ اسماعیل خان میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن

    ڈیرہ اسماعیل خان میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن

    ڈیرہ اسماعیل خان میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کے بیان کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں دریافت ہونے والے تیل اورگیس کے ذخائر سے یومیہ 39.12 ملین مکعب کیوبک فیٹ گیس اوریومیہ 1840 بیرل تیل حاصل ہوگا۔

    خیال رہے کہ چند روز قبل سندھ میں بھی تیل و گیس کے ذخائر دریافت ہوئے تھے۔ موجودہ کیلنڈر سال کے دوران تیل اور گیس کی یہ 15 ویں دریافت ہے۔ وزارتِ پیٹرولیم نے تیل وگیس کے ذخائر کی دریافت پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سے تیل اور گیس کی درآمدات پر  انحصار میں کمی واقع ہو گی۔

    ترجمان کے مطابق آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ایل) کی جانب سے تیل و گیس کے ذخائر دریافت کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جس میں او جی ڈی سی ایل کو ضلع سانگھڑ میں بڑی کامیابی ملی ہے۔ ترجمان آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی او جی ڈی سی ایل نے تیل و گیس ذخائر دریافت کرکے رواں ہفتے میں سانگھڑ میں دوسری بڑی دریافت کی ہے۔

    او جی ڈی سی ایل نے ذاتی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے 3 جون 2022 کو کوٹ نواب 1 کنویں کی کھدائی کا آغاز کیا تھا، جس کی 3000 میٹرز تک کھودائی کی گئی۔ او جی ڈی سی ایل حکام کا کہنا ہے کہ کنویں کا ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر 150 پاونڈ فی مربع انچ (پی ایس آئی) ہے، جس سے 125 بیرل خام تیل اور 0.483 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس یومیہ حاصل ہوگی۔

  • اینٹی کرپشن نے ن لیگی رکن قومی اسمبلی کو گرفتار کر لیا

    اینٹی کرپشن نے ن لیگی رکن قومی اسمبلی کو گرفتار کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اینٹی کرپشن نے ن لیگی رکن قومی اسمبلی کو گرفتار کر لیا

    ن لیگی ایم این اے چودھری اشرف گرفتارکرلیا گیا،چودھری اشرف ساہیوال حلقہ نمبر 161 سے ن لیگ کے ممبر نیشنل اسمبلی ہیں،اینٹی کرپشن حکام کے مطابق ملزم نے157 ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی پر جعلی سازی سے قبضہ کر رکھی ہوئی تھی،چودھری اشرف پر الزام ثابت ہونے پر محکمہ اینٹی کرپشن نے گرفتار کیا،ملزم نے ایک فرضی شخص کو جعلی الاٹی ظاہر کرکے سرکاری رقبہ پر قبضہ کیا ہوا تھا،

    وزیراعظم شہبازشریف نے ن لیگی ایم این اے محمد اشرف کی گرفتاری کی مذمت کی ہے ،اور کہا ہے کہ ساہیوال سے رُکن قومی اسمبلی محمد اشرف کی گرفتاری سیاسی انتقام ہے عمران خان کے کہنے پر اینٹی کرپشن پنجاب کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیاجارہا ہے پی ٹی آئی آج بھی بد ترین سیاسی انتقام کی اپنی منفی روش پر کاربند ہے، سیاسی انتقام کا ملک اور عوام کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ،اینٹی کرپشن پنجاب کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنا اافسوسناک اور قابل مذمت ہے ،سیاسی انتقام سے مخالفین کو دھمکانے کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے

    ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب ندیم سرور نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں سے کرپشن کے خاتمے کے لئے منظم مہم کا آغاز کیا گیا ہے اور کرپٹ مافیا کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی 3 ماہ کے دوران تیسری کھلی کچہری لگائی گئی ہے جس میں 30سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں جو مختلف سرکاری اداروں سے متعلق تھیں۔ ان شکایات کے ازالے کے لئے موقع پر احکامات جاری کیے گئے۔ٹریپ ریڈ سسٹم کو مزید بہتر بنانے کے لئے 100کیمرے اور 100 ہیرنگ ڈیوائسز بھی اسی ماہ افسران کو فراہم کی جائیں گی تاکہ وڈیو اور آڈیو شہادتیں بہتر انداز میں عدالتوں میں فراہم کی جا سکیں۔

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

     ایف بی آر نے اینکر عمران ریاض خان کو نوٹس بھجوایا ہے

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    دوسری جانب انٹی کرپشن پنجاب نے کارکردگی کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ،انٹی کرپشن کو جنوری سے اکتوبر تک 19 ہزار 940 شکایات موصول ہوئیں کرپشن سے متعلق سب سے زیادہ شکایات پولیس اور محکمہ ریونیو سے متعلق وصول ہوئیں ،انٹی کرپشن پنجاب نے 2 ارب 43 کروڑ روپے سے زائد بلواسطہ اور بلاواسطہ ریکوری قومی خزانے میں جمع کرائی 3ہ زار320 انکوائرئز کا آغاز کیا جس میں 962 ایف آئی آرز درج کی گئی 1ہزار 80 کرپٹ عناصر کو گرفتار کیا جبکہ 573 چالان عدالتوں میں پیش کئے۔ 250 عدالتی اور دیگر مفرور افراد کو بھی گرفتار کیا گیا انٹی کرپشن پنجاب نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران گریڈ 21 سے 17 تک کے 2 ہزار 681 سرکاری آفسران کو گرفتار کیاانٹی کرپشن میں اس وقت ایک سو ہائی پروفائل کیسسز زیر تفتیش ہیں جس میں فیس نہیں کیس کے مطابق تفتیش جاری ہے۔رانا ثناء اللہ اور سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف کیسسز میرٹ پر بنے ہیں سیاسی کیس نہیں ہیں۔کرپشن کی روک تھام کے لئے میڈیا سمیت عوام کو بھی اداروں کا ساتھ دینا ہو گا۔

  • پاکستانی ٹیم  130.4 اوورز میں 438 رنز پر آل آؤٹ

    پاکستانی ٹیم 130.4 اوورز میں 438 رنز پر آل آؤٹ

    پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ پہلا ٹیسٹ میچ کا دوسرا روز,پاکستانی ٹیم 130.4 اوورز میں 438 رنز پر آل آؤٹ

    کراچی ٹیسٹ کے دوسرے دن پاکستان 438 رنز پر آؤٹ ہوگئی جب کہ نیوزی لینڈ نے پہلی اننگز کا آغاز کردیا ہے۔ نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ کراچی کے نیشنل بینک کرکٹ ارینا میں جاری ہے۔ پاکستان نے پہلی اننگز میں 438 نز بنائے ہیں جس کے جواب میں نیوزی لینڈ کی بیٹنگ جاری ہے۔

    پاکستان کی شاندار بیٹنگ

    کھیل کے دوسرے دن پاکستان نے 5 وکٹوں پر 317 سے اپنی اننگز کا دوبارہ آغاز کیا تو بابر اعظم 161 اور آغا سلمان 3 رنز کھیل رہے تھے۔ دوسرے دن پاکستان کے مجموعی اسکور میں صرف ایک رن کا ہی اضافہ ہوا تھا کہ بابر اعظم آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے 161 رنز کی اننگز کھیلی۔

    318 رنز پر پاکستان کے 6 کھلاڑی آؤٹ ہوگئے تھے اور کریز پر آگا سلمان کا ساتھ دینے نعمان علی آئے۔ آغا سلمان نے نعمان علی کے ساتھ مل کر پاکستان کے اسکور کو مزید بڑھایا، دونوں بلے بازوں نے 54 رنز کی شراکت قائم کی، اسی دوران آغا سلمان نے ٹیسٹ کیرئیر کی چوتھی نصف سنچری اسکور کی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسلام آباد میں 25 مختلف مقامات پر عارضی حفاظتی چیک پوسٹس قائم
    بینظیر بھٹو نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کیلئے جدوجھد کی. وفاقی وزیر شازیہ مری
    آئی ایم ایف کے کچھ مطالبات عوام کے لیے ناقابل برداشت ہیں،وفاقی وزیر احسن اقبال
    372 رنز پر پاکستان کو ساتواں نقصان نعمان علی کی صورت میں اٹھانا پڑا۔ انہوں نے 7 رنز بنائے۔ پاکستان کی آٹھویں وکٹ 375 رنز پر گری، محمد وسیم جونیئر صرف2 رنز ہی بناسکے قومی ٹیم کی نویں وکٹ 414 رنز پر گری۔ میر حمزہ صرف ایک ہی رن بناسکے۔ اسی دوران آغا سلمان نے اپنے کیریئر کی پہلی سنچری بھی اسکور کی۔

    438 رنز پرپاکستان کی آخری وکٹ گر گئی، آغا سلمان 103 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ کھیل کا پہلا دن سرفراز اور بابر کے نام
    گزشتہ روز پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا لیکن پاکستان کے 3 کھلاڑی صرف 48 رنز پرہی پویلین لوٹ گئے تھے۔
    110 رنز پر پاکستان کی چوتھی وکٹ گری تو ایسا لگنے لگا کہ پاکستان کا حشر انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیسا ہی ہوگا۔
    اس وقت سرفراز اور بابر اعظم نے 196 رنز کی شراکت داری قائم کی۔

  • ہیلتھ لیوی، تحریر: عمر یوسف

    ہیلتھ لیوی، تحریر: عمر یوسف

    ہیلتھ لیوی، تحریر: عمر یوسف

    رائیٹر : عمر یوسف
    ایم فل سکالر ؛پنجاب یونیورسٹی لاہور،

    ہیلتھ لیوی کیا ہے ؟
    بنیادی طور پر ہیکتھ لیوی ایک ایسا ٹیکس ہے جو مجوزہ طور پر صحت کے لیے لگایا جاتا ہے ۔ تاکہ ناگہانی آفات اور بیماریوں کے وقت اس پیسہ کو عوام کی فلاح و بہبود پر لگایا جاسکے ۔
    چنانچہ ایسی اشیاء جو صحت کو نقصان پنچاتی ہیں ان پر ٹیکس لگا کر دو طرح کے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔
    ان نقصان دہ اشیاء کے مہنگا ہونے کے باعث ان کی خرید و فروخت میں واضح کمی لائی جاسکتی ہے اور اس ٹیکس کی بدولت صحت کے شعبہ کو مستحکم و مستقل بنایا جاسکتا ہے ۔

    ہیلتھ لیوی کیوں ضروری ہے ؟
    معاشرہ ہمیشہ اچھے اور برے افراد کا مجموعہ رہا ہے ۔ یہاں خیر اور شر کا امتزاج ہی زندگی کی عکاسی کرتا ہے ۔ چانچہ شریر لوگوں کو جب حرص و ہوس اور لالچ ستاتی ہے تو وہ دولت کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز راہ اپنانے پر تیار ہوجاتے ہیں ۔یہی معاملہ اشیاء خورد و نوش کے حوالے سے ہے ، اشیاء مضرہ اور صحت کو نقصان پہنچانے والی اشیاء کے حوالے سے ہے ۔ حرص و ہوس اور لالچ کے مارے جب اپنی اصلیت پر آتے ہیں تو وہ ایسی اشیاء فروخت کرتے ہیں جس میں واضح احتمال ہوتا ہے کہ یہ صحت کو برباد کردیں گے جیسے کہ شوگری ڈرنکس ، جنک فوڈز ، اور تمباکو نوشی پر مبنی پراڈکٹس وغیرہ ۔ حریص و لالچی کو اور مال و دولت کے پجاری کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس سے لوگوں کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے اور وہ دھرا دھر ان کو بیچ کر دولت و دھن اکٹھی کرتا ہے تاکہ اپنی لالچ کی تسکین کی جاسکے ۔چنانچہ ایسے میں وقت کے حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ ان مہلک اشیاء کی روک تھام اور انسداد کے لیے کوشش کرے اور ان کے سدباب کا انتظام کرے ۔اور یہ انسداد اور سد باب ہیلتھ لیوی کے ذریعے کیا جاسکتا ہے ۔

    تمباکو نوشی کی پاکستان میں صورتحال:
    رپورٹس کے مطابق پاکستان میں صرف نوجوانوں کی تعداد ایسی ہے جو کثرت سے سگریٹ نوشی کرتی ہے ۔ نوجوان تو نوجوان پختہ و بوڑھے عمر کے افراد کی بھی بہت بہتات ہے ۔ صرف ایک دن میں اتنے بڑے پیمانے پر سگریٹ نوشی تشویشانک ہے اور یہ کام حساس ہونے کے باعث سخت حالات سے دوچار ہونے کا عندیہ دیتا ہے ۔

    نشہ آور ادویات کی کثرت اور اسباب
    موجودہ حالات سخت تشویشناکی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہر نوجوان نشہ کی لت کا شکار ہے ۔ اور مختلف طرح کے نشے آزماتے ہیں ۔جن کے مراحل بتدریج بڑھتے جاتے ہیں ۔ اگر ہم ان مراحل کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ان کا سبب انتہائی معمولی نوعیت کا ہوتا ہے۔ نوجوان شوق شوق میں پہلے سادہ اور عام سگریٹ پینا شروع کرتے ہیں اور پھر یہ عام سگریٹ ان کو مزید بڑھے نشے کی طرف لے جاتے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ نشہ کی روک تھام کے لیے جہاں دیگر اقدامات کیے جاتے ہیں وہیں پر ہیلتھ لیوی کا اطلاق کرکے بھی اس ناسور سے نجات دلانے کی کوشش کی جائے ۔ اسی میں اس موذی عادت اور مہلک نشے سے چھٹکارے کی راہ ہے ۔

    پاکستان اور نشہ آور ادویات کا بڑھتا ہوا رجحان۔
    پاکستان میں جہاں تعلیمی اداروں کے طلباء اس مہلک عادت کا شکار ہیں وہیں پر پسماندہ علاقوں کے نوجوان بھی ان ادویات کا استعمال کرکے اپنی محرومیوں کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ چنانچہ برکی ہڈیارہ کے علاقے نڑور میں صرف ایک سال میں چالیس نوجوان اس مرض کی وجہ سے راہ عدم کے مسافر بنیں اور چالیس گھروں کے کفیل سینکڑوں لوگوں کو لاوارث چھوڑ گئے ۔
    دوسری طرف تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء نشہ کی لت میں مبتلاء ہوکر بجائے ڈگری حاصل کرنے کے کسی ری ہیب سنٹر میں داخل ہوتے ہیں اور پھر اس لت کا شکار ہونے کی کشمکش میں میں زندگی تباہ کردیتے ہیں ۔ جب اتنے سنگین نتائج نکل رہے ہوں تو حاکم وقت کا فرض ہے کہ وہ اس کے سدباب کا چارا کرے اور اس کے لیے بنیادی طور پر ہیلتھ لیوی کا نفاذ ثمر آور اقدام ثابت ہوگا ۔

    حفظان صحت کے قوانین
    ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو بنیادی حقوق دینے کے ساتھ ساتھ ایسے تمام اقدامات بھی اٹھائے جس سے شہریوں کی جان مال کا تحفظ ہو۔ چنانچہ صحت کو برقرار رکھنے اور بیماریوں سے نجات دینے کے لیے جہاں صحت کے مراکز بنانا ضروری ہے وہیں پر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ تمام چیزیں جو انسان کو نقصان پہنچانے کا موجب بنتی ہیں ان سے بھی چھٹکارا دلانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہیلتھ لیوی کو اپلائے کرکے اشیاء مضرہ کے فروغ سے پہلے ہی اس کا سد باب کردیا جائے ۔

    سن ٹیکس
    گذشتہ دنوں حکومت وقت نے سگریٹ نوشی پر سن ٹیکس کا آغاز کیا جو کہ اپنی جگہ پر احسن اقدام ہے اس کے ساتھ ہی ہیلتھ لیوی کا دائرہ ذرا وسیع ہے جس میں تمام اشیاء مضرہ کے اوپر ٹیکس لگا کر دو طرح کے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ جہاں پر اشیاء مضرہ کا دائرہ چھوٹا ہوگا وہیں پر ٹیکس کی کولیکشن سے دیگر فلاحی پراجیکٹ پر بھی کام ممکن ہوگا ۔

    تعلیمات اسلام
    قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ رب العزت نے اس بات کو واضح کردیا ہے ۔
    ترجمہ : اے ایمان والوں اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف مت ڈالو ۔
    یعنی ایسی وہ تمام چیزیں جس سے انسان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کی طرف جانا ممنوع ہے ۔ اور اس کا ارتکاب کرنا خلاف شرع اور خلاف اسلام ہے ۔چنانچہ مملکت اسلامیہ ہونے کے تعلق سے پاکستان کے حکام کا فریضہ ہے کہ وہ عوام کو شعور و آگہی دے اور ہلاکت خیز چیزوں سے روکنے کے لیے ہیلتھ لیوی جیسے اقدامات کرے تاکہ پاکستان ایک فلاحی ریاست بنے ۔

    پاکستان میں ہیلتھ لیوی کی ترغیب کے لیے ہونے والا کام
    کرومیٹک کے پلیٹ فارم سے اس بات کو اٹھایا گیا ہے کہ ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے پاکستان کو دو طرفہ فوائد حاصل ہوں اور ایک طرف اشیاء مہلکہ و مضرہ سے نجات ملے تو دوسری طرف فلاحی و مفید پراجیکٹ کا حصول اور ان کو چلانا ممکن ہوسکے ۔

    نتائج بحث :
    ہیلتھ لیوی ایک ایسا ٹیکس ہے جو اشیاء مضرہ پر لگایا جاتا ہے ۔
    دیگر ممالک میں بھی اس کا اجراء ہوچکا ہے ۔
    پاکستان میں سگریٹ نوشی اور شوگری اشیآء کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے ہیلتھ لیوی کا نفاذ ضروری ہے۔
    ہیلتھ لیوی سے اشیاء مضرہ کی روک تھام ممکن ہے ۔
    ہیلتھ لیوی سے حاصل ہونے والے پیسوں کو فلاحی کاموں پر لگایا جاسکتا ہے ۔

    سفارشات و تجاویز :
    ہیلتھ لیوی کا نفاذ وقت کی ضرورت ہے ۔
    ہیلتھ لیوی کا نفاذ کرنا مملکت پاکستان کے مفاد میں ہے ۔
    ہیلتھ لیوی ترجیحی بنیادوں پر ہو نافذالعمل  ہونا چاہیے ۔
    ہیلتھ لیوی وفاقی ، صوبائی و مقامی حکومتوں کے تعاون سے نافذ کیا جائے ۔
    ہیلتھ لیوی پر قانون سازی ترجیحی بنیادوں پر کی جائے ۔

    باغی ٹی وی اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تحریری مقابلے میں عمر یوسف نےدوسری پوزیشن حاصل کی ہے

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

  • بینظیر بھٹو کے مشن کو آگے بڑھانے کے وعدہ کی تجدید کر رہے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    بینظیر بھٹو کے مشن کو آگے بڑھانے کے وعدہ کی تجدید کر رہے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو دنیا کے سیاسی افق پر ایک چمکتا ستارہ تھیں جو ڈھل تو گیا لیکن مٹ نہیں سکا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کا قتل ملک کے مستقبل کو تاریک کرنے کی سازش تھی آصف زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ملک دشمنوں کو شکست دی ، بینظیر بھٹو نے اپنے آخری منشور میں تعلیمُ، توانائی اورماحولیات کا تحفظ سرفہرست رکھا تھا ،آج ہم بینظیر بھٹو کے مشن کو آگے بڑھانے کے وعدہ کی تجدید کر رہے ہیں

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بات نہ کریں تو ہی اچھا ہے،انہوں نے جو کیا دنیا نے دیکھ لیا،عمران خان کو کانٹا چبھتا تھا کہ ان کی سندھ میں کیوں نہیں چلتی، سیلاب میں بلاول اور پیپلز پارٹی نے عوام کی خدمت کی، پیپلزپارٹی کی خدمت کی وجہ ہی سے لوگ گڑھی خدا بخش بھٹو آ رہے ہیں، پی ڈی ایم انتخابات سے نہیں بھاگ رہی ،اسمبلیاں 5 سال کے لیے ہوتی ہیں،

    پیپلز پارٹی کی رہنما، وفاقی وزیر شازیہ مری کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو خطرہ جان کے باوجود پاکستان آئیں آج کا دن پیپلزپارٹی کیلئے بڑا سانحہ تھا سیاست کانٹوں کی سیج ہے، ہم نبھا رہے ہیں،عمران خان لالچ کی وجہ سے ملک کو ڈیفالٹ کی طرف لے جا رہے ہیں،پی ٹی آئی کو اگر استعفیٰ دینے ہیں تو کس نے روکا ہے،پیپلزپارٹی اور اے این پی تو پہلے پی ڈی ایم سے نکل چکی تھیں، خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کے سامنے لیٹ چکی ہے، ان کا سامنا نہیں کر پا رہی،

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو ایک مثالی کردار کی حامل سیاستدان رہی ہیں،بینظیر بھٹو عزم و جرأت اور جدو جہد کی ایک عظیم مثال ہیں، موجودہ دور کی خواتین بجا طور پر بینظیر بھٹو پر فخر کر سکتی ہیں ،ذوالفقار علی بھٹو تیسری دُنیا کے قائد تھے،ذوالفقار علی بھٹو تمام مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے والے تھے،

    سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ بطور اسپیکر کبھی بے نظیر بھٹو کو ملنے نہیں گیا ،میں نے اسپیکر کے منصب کے تقدس کو کبھی پامال نہیں کیا جب اسپیکر تھا کبھی بےنظیر کےساتھ تصویر نہیں بنوائی،نیوزی لیڈ کی وزیر اعظم نے بینظیر بھٹوکو خراج تحسین پیش کیا وویمن کاکس کو مزید فعال کیا جائے گا،

    پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ بےنظیر بھٹو کی نئی سوچ تھی، بے نظیر بھٹو کی وہی سوچ نیلسن منڈیلا کی تھی نواز شریف نے بی بی کیخلاف پنجاب میں تقاریر کیں تھیں ہم نے پھر بھی میثاق جمہوریت پر اتفاق کیا ،نواز شریف نے آصف زرداری کے خلاف کیس بنایا اس ملک کے لیے جمہوریت بہترین حل ہے،

    پیپلز پارٹی کی رہنما، وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ جمہوریت کیلئے بے نظیر بھٹو شہید کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،آج بے نظیر بھٹو کی شہادت کا دن منایاجارہا ہے،تحریک انصاف ملکی معاشی حالت خراب کر کے گئی، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ چھوٹے طبقے کیلئے کام کیا،سیلاب سے متاثرہ عوام کے لئیے پی ٹی آی نے کیا کیا؟

    عمران خان خود امپورٹڈ، بینظیر کو کس نے کہا تھا اس بچے کا خیال رکھنا؟ خورشید شاہ کا انکشاف

    میں اس میٹنگ میں شامل تھا جس میں بینظیر کو کہا گیا تھا کہ آپ نہ جائیں..شیخ رشید

    بینظیر کا قتل پوری قوم کو قتل کرنے کی سازش تھی،بلاول

    بینظیر نے اپنی کتاب میں لکھا نواز شریف نے اسامہ بن لادن سے پیسے لیے،فرخ حبیب

    بینظیر کے افتتاح کردہ سنٹر کو تبدیلی سرکار نے بیچنے کا اشتہار دے دیا

    آصفہ زرداری کس صورت میں الیکشن لڑیں گی؟ بڑا اعلان ہو گئا

  • اسٹریٹ کرائم میں ملوث،موٹر سائیکل چھیننے والے ملزمان شہر قائد سے گرفتار

    اسٹریٹ کرائم میں ملوث،موٹر سائیکل چھیننے والے ملزمان شہر قائد سے گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف پولیس کی کاروائیاں جاری ہیں

    شاہراہِ نور جہاں پولیس نے خفیہ اطلاع پر کاروائی کی اور اسٹریٹ کرائم اور موٹر سائیکل چھیننے والے ملزمان گرفتار کر لئے ،ملزمان میں انیس ولد اسلم اور عبداللہ خان ولد مدت خان شامل ہیں گرفتار ملزمان کے قبضے سے 1 عدد TT پسٹل 30 بور لوڈ میگزین 3 راونڈز، نقد رقم، چھینا ہوا موبائیل فون اور مسروقہ موٹر سائیکل برآمد کئے گئے، برآمدہ موٹرسائیکل تھانہ بہادر آباد کی حدود سے چوری کی گئی تھی جسکا مقدمہ نمبر 333/2022 دفعہ 381-A پہلے سے درج ہے جبکہ برآمدہ موبائل فون شناختی کارڈ وغیرہ تھانہ شاہراہِ نور جہاں کی حدود میں ڈکیتی کی واردات میں چھینا گیا تھا جسکا مقدمہ نمبر 769/2022 دفعہ 397/34 ت پ درج رجسٹر ہے.گرفتار ملزمان عادی جرائم پیشہ ہیں اور اس سے قبل بھی تھانہ سٹی، سرسید اور شاہراہِ نور جہاں میں ڈکیتی اور ناجائز اسلحہ کے مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جا چکے ہیں گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    دوسری جانب تھانہ جمشید کواٹر پولیس نے منشیات فروش ملزم کو گرفتار کرلیا۔ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق پولیس نے دوران گشت خفیہ اطلاع پر کارواٸی کرکے ملزم کو نشتر روڈ لسبیلا سے گرفتار کرلیا۔ ملزم منشیات فروخت اور سپلاء کرنے میں ملوث ہے۔ گرفتار ملزم کے قبضہ سے 1080 گرام منشیات چرس ,اور زرفروختگی برآمد ہوئی ہے، گرفتار ملزم کی شناخت عاصم ولد محمد صدیق کے نام سے ہوئی ہے ملزم کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 696/22 بجرم دفعہ *6/9 (c) اینٹی نارکوٹکس ایکٹ کے تحت درج کرلیا گیا ہے ملزم کو مزید کارروائی کے لیے تفتیشی افسران کے حوالے کر دیا گیا ہے ملزم کا سابقہ رکارڈ چیک جا رہا ہے.مزید تفتیش جاری ہے

  • شہباز شریف کا عمران خان کیخلاف 10 ارب ہرجانے کا دعوی،سماعت ملتوی

    شہباز شریف کا عمران خان کیخلاف 10 ارب ہرجانے کا دعوی،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ،شہباز شریف کا عمران خان کے خلاف ہتک عزت پر 10 ارب ہرجانے کا دعوی ٰکیس کی سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے دفاع کا حق ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ،تین رکنی فل بینچ نے عمران خان کی درخواست پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت کی، سپریم کورٹ لاہوررجسٹری نے عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کو کل دلائل دینے کی ہدایت کر دی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سے جواب مانگا ، نہ دینے پر ٹرائل کورٹ نے حق دفاع ختم کر دیا،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے دیکھنا تھا کہ سوالات کیس سے متعلقہ تھے یا نہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ آپکو بار بار موقع دیتی رہی لیکن آپ نے جواب داخل نہیں کیا اسطرح تو آپ دوران ٹرائل جواب لے کر آ جاتے، ہمارے سامنے تو یہ آ رہا ہے کہ ٹرائل کورٹ بار بار جواب مانگ رہی تھی جو نہیں دیا،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا جواب آنے کے باوجود ٹرائل عدالت نے اس پر غور کیوں نہیں کیا،ٹرائل عدالت نے اپنے فیصلے میں بھی عمران خان کےجواب کا ذکرنہیں کیا،وکیل علی ظفر نے کہا کہ ٹرائل عدالت نے عمران خان کا حق دفاع غیر قانونی طور پرختم کیا،ٹرائل عدالت کو حق دفاع ختم کرنے کا ازخود کوئی اختیار حاصل نہیں عمران خان کی طرف سے 9 مئی کو عدالت میں جواب جمع کرادیا تھا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہی جاننا چاہتے ہیں کہ ٹرائل عدالت نے جواب کو زیرغور کیوں نہیں سمجھا،علی ظفر نے کہا کہ عمران خان پرحملے کےبعد زخمی ہونے کی وجہ سے جواب کے لیے مہلت مانگی، مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ ٹرائل عدالت نے باربار وقت مانگنے پر قانون کےمطابق فیصلہ سنایا

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے حق دفاع ختم کیا جسے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا، ہائیکورٹ نے بھی دفاع کا حق ختم کرنے کے خلاف درخواست خارج کر دی،سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور حق دفاع بحال کرنے کا حکم دے ،شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف 10 ارب ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے عمران خان نے شہباز شریف پر پانامہ کے معاملے پر رشوت کی افر کا الزام لگایا تھا

     شہباز شریف کی جانب سے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر سماعت

     عمران خان نے شہباز شریف کے ہتک عزت کے دعوے کا جواب جمع کروا دیا 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • چیئرمین این ڈی ایم اے کی چین کے سفیر سے ملاقات

    چیئرمین این ڈی ایم اے کی چین کے سفیر سے ملاقات

    چیئرمین این ڈی ایم اے کی چین کے سفیر سے ملاقات

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کےچیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے پاکستان میں چین کے سفیرنونگ رونگ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ملاقات میں باہمی تعاون اور پاکستان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبہ میں پیشگی اور موثر اقدامات کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے سیلاب 2022 کے دوران امدادی کارروائیوں میں چینی حکومت کی جانب سے بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

    انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے مرحلے کے لیے چین کی جانب سے جاری امداد کو سراہتے ہوئے مستقبل میں تکنیکی اصولوں پر استوار نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) کی تشکیل کے حوالے سے منصوبے کی تفصیلات شیئر کیں جو تمام معاون ومتعلقہ اداروں،فلاحی اداروں اور بین الاقوامی ڈونرز کے ساتھ مربوط مفاہمت اور اور معاونت سے خدمات سر انجام دے گا۔ چینی سفیر نے موسمیاتی تبدیلی کے باعث رونما ہونے والی آفات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات اور پاکستان کے ساتھ موجودہ تعلقات کو مزید وسعت دینے پر زور دیا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسلام آباد میں 25 مختلف مقامات پر عارضی حفاظتی چیک پوسٹس قائم
    بینظیر بھٹو نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کیلئے جدوجھد کی. وفاقی وزیر شازیہ مری
    آئی ایم ایف کے کچھ مطالبات عوام کے لیے ناقابل برداشت ہیں،وفاقی وزیر احسن اقبال
    انہوں نے این ڈی ایم اے اور چین کی ایمرجنسی مینجمنٹ کی وزارت (ایم ای ایم) کے درمیان ٹیکنالوجی اور معلومات کے تبادلے، ابتدائی وارننگ سسٹم کے قیام اور موسم کی پیش گوئی کے جائزے کے ساتھ ساتھ پیشگی تیاری اور رسپانس کے شعبے کو از سر نو تشکیل دینے کے لیے ایک جامع دو طرفہ مفاہمت نامے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے این ڈی ایم اے اور ایم ای ایم کے مابین روابط قائم کرنے پر بھی زور دیا۔

  • . تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    عام طور پر، حکومتیں تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس لگانے پر غور کر سکتی ہیں تاکہ تمباکو کی کھپت کو کم کیا جا سکے اور حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔ تمباکو پر ٹیکس تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کا ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں، کیونکہ وہ تمباکو کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمت کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) تجویز کرتا ہے کہ حکومتیں تمباکو کی مصنوعات پر زیادہ اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور صحت عامہ کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر اپنائے۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اقوام متحدہ کی ایک خصوصی ایجنسی ہے جو بین الاقوامی صحت عامہ پر مرکوز ہے۔ یہ صحت کو فروغ دینے، بیماریوں سے بچاؤ، اور تمام لوگوں، خاص طور پر سب سے زیادہ کمزور اور پسماندہ لوگوں کے لیے ضروری صحت کی خدمات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔

    اپنے مشن کے حصے کے طور پر، ڈبلیو ایچ او حکومتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو صحت عامہ کے متعدد مسائل پر سفارشات پیش کرتا ہے۔ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور صحت عامہ کو بہتر بنانے کے لیے ڈبلیو ایچ او کی تجویز کردہ کلیدی حکمت عملیوں میں سے ایک تمباکو کی مصنوعات پر زیادہ اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کا نفاذ ہے۔ ڈبلیو ایچ او حکومتوں کو تمباکو کے استعمال اور اس سے منسلک صحت کے خطرات کو کم کرنے کے طریقے کے طور پر تمباکو کنٹرول کے اقدامات کا ایک جامع پیکج اپنانے کا مشورہ دیتا ہے، بشمول زیادہ ٹیکس۔

    تمباکو کا استعمال قابل روک موت اور بیماری کی ایک بڑی وجہ ہے، اور یہ کینسر، قلبی بیماری، اور سانس کی بیماریوں سمیت متعدد غیر متعدی بیماریوں کے لیے خطرے کا ایک اہم عنصر ہے۔ تمباکو کی مصنوعات پر زیادہ ٹیکس لاگو کرنے سے تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور افراد، کمیونٹیز اور صحت کے نظام پر ان بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    پاکستان میں ہیلتھ لیوی ٹیکس تمباکو کی مصنوعات پر ایک ٹیکس ہے جس کا مقصد تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ ٹیکس تمباکو کی مصنوعات کی تیاری یا درآمد کے مقام پر لاگو ہوتا ہے، اور اس کا شمار مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ہیلتھ لیوی ٹیکس کی شرح تمباکو کی مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے، جس میں ان مصنوعات پر زیادہ شرح لاگو ہوتی ہے جو زیادہ نقصان دہ سمجھی جاتی ہیں، جیسے سگریٹ۔

    ہیلتھ لیوی ٹیکس فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے زیر انتظام ہے، جو پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے والی اہم ایجنسی ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی شرحوں کے تعین اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔
    پاکستان میں ہیلتھ لیوی ٹیکس کا آغاز تمباکو کے استعمال اور صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہے۔ ہیلتھ لیوی ٹیکس کے علاوہ، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جو دیگر اقدامات نافذ کیے گئے ہیں ان میں تمباکو کی پیکیجنگ پر گرافک وارننگ لیبل، اشتہارات پر پابندی، اور نابالغوں کو تمباکو کی مصنوعات کی فروخت اور مارکیٹنگ پر پابندیاں شامل ہیں۔

    2. یہ ٹیکس کیوں ضروری ہے؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس ضروری ہے کیونکہ تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تمباکو کا استعمال دنیا بھر میں قابل روک موت اور بیماری کی سب سے بڑی وجہ ہے، اور یہ پھیپھڑوں کے کینسر، دل کی بیماری اور فالج سمیت متعدد سنگین صحت کے مسائل کا ذمہ دار ہے۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس کا مقصد تمباکو کی مصنوعات کو زیادہ مہنگا اور کم قابل رسائی بنا کر تمباکو کے استعمال کو کم کرنا ہے۔ تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے، ٹیکس لوگوں کو سگریٹ نوشی چھوڑنے یا تمباکو کی مصنوعات کا استعمال کم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
    تمباکو کی کھپت کو کم کرنے کے علاوہ، ہیلتھ لیوی ٹیکس کا مقصد صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا بھی ہے۔ ٹیکس سے پیدا ہونے والے فنڈز کا استعمال ایسے پروگراموں اور خدمات کی مدد کے لیے کیا جا سکتا ہے جو صحت کو فروغ دیتے ہیں اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کو روکتے ہیں، جیسے کہ تعلیمی مہم، تمباکو نوشی کے خاتمے کے پروگرام، اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں پر تحقیق۔
    مجموعی طور پر، ہیلتھ لیوی ٹیکس صحت عامہ کو بہتر بنانے اور تمباکو کے استعمال سے صحت کے منفی اثرات کو کم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

    3. ٹیکس کیسے خرچ کیا جائے گا؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس سے حاصل ہونے والے فنڈز عام طور پر صحت عامہ کے اقدامات اور پروگراموں کی حمایت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان اقدامات میں تمباکو کے استعمال کے خطرات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے تعلیمی مہمات، تمباکو نوشی چھوڑنے کے پروگرام، اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں پر تحقیق شامل ہو سکتی ہے۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس سے پیدا ہونے والے فنڈز کی مخصوص مختص اور استعمال حکومت اور دیگر متعلقہ حکام کی ترجیحات اور ضروریات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔ کچھ معاملات میں، فنڈز صحت عامہ کے وسیع تر اقدامات کی حمایت کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، جیسے کہ صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو بہتر بنانا یا صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینا۔
    یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ ہیلتھ لیوی ٹیکس پاکستان میں صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈنگ کے بہت سے ذرائع میں سے صرف ایک ہے۔ فنڈنگ کے دیگر ذرائع میں حکومتی بجٹ، بین الاقوامی تنظیموں سے گرانٹ، اور نجی افراد اور تنظیموں کے عطیات شامل ہو سکتے ہیں۔

    4. ٹیکس کیسے جمع کیا جائے گا؟

    پاکستان میں، تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس عام طور پر تمباکو کی مصنوعات کی تیاری یا درآمد کے مقام پر وصول کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکس کا اطلاق تمباکو کی مصنوعات پر اس وقت ہوتا ہے جب وہ ملک میں پیدا یا لائی جاتی ہیں، اور اس کا شمار مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے زیر انتظام ہے، جو پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے والی اہم ایجنسی ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی شرحوں کے تعین اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔
    تمباکو کی مصنوعات کے مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو ایف بی آر کے ساتھ رجسٹر کرنے اور تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت ہے جو وہ تیار کرتے ہیں یا درآمد کرتے ہیں۔ ایف بی آر ٹیکس قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانے اور کسی ممکنہ ٹیکس چوری کی نشاندہی کرنے کے لیے آڈٹ اور معائنہ کر سکتا ہے۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس کے علاوہ، پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر دیگر ٹیکس بھی لگ سکتے ہیں، جیسے کہ فیڈرل ایکسائز ٹیکس اور سیلز ٹیکس۔ یہ ٹیکس عام طور پر تمباکو کی مصنوعات کی فروخت کے مقام پر جمع کیے جاتے ہیں، نہ کہ تیاری یا درآمد کے مقام پر۔

    5. تمباکو کی مصنوعات کی کون سی مختلف اقسام ہیں جن پر ٹیکس عائد کیا جائے گا؟

    پاکستان میں، ہیلتھ لیوی ٹیکس کا اطلاق تمباکو کی مصنوعات کی ایک حد پر ہوتا ہے، بشمول سگریٹ، تمباکو نوشی کے لیے تمباکو، چبانے والے تمباکو، اور نسوار۔ ٹیکس کا حساب عام طور پر مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے، اور ٹیکس کی شرح تمباکو کی مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔
    سگریٹ پر عام طور پر تمباکو کی دیگر مصنوعات کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے، کیونکہ انہیں صحت کے لیے زیادہ نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ تمباکو کی دیگر مصنوعات، جیسے تمباکو نوشی کے لیے تمباکو، تمباکو چبانے، اور نسوار، پر کم شرح پر ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔
    یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ تمباکو کی مصنوعات کی مخصوص قسمیں جو ہیلتھ لیوی ٹیکس کے تابع ہیں اور ٹیکس کی شرحیں وقت کے ساتھ مختلف ہو سکتی ہیں، کیونکہ حکومت اور دیگر متعلقہ حکام بدلتے ہوئے حالات یا ترجیحات کی عکاسی کرنے کے لیے ٹیکس قوانین کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔

    6. ٹیکس کتنا ہوگا؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کی شرح تمباکو کی مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ ٹیکس کو عام طور پر پروڈکٹ کی قیمت کے فیصد کے طور پر شمار کیا جاتا ہے، اور ٹیکس کی شرح مصنوعات کی مخصوص خصوصیات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔
    مثال کے طور پر، سگریٹ پر عام طور پر تمباکو کی دیگر مصنوعات کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے، کیونکہ انہیں صحت کے لیے زیادہ نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ تمباکو کی دیگر مصنوعات، جیسے تمباکو نوشی کے لیے تمباکو، تمباکو چبانے، اور نسوار، پر کم شرح پر ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔
    یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کی مخصوص شرحیں وقت کے ساتھ مختلف ہو سکتی ہیں، کیونکہ حکومت اور دیگر متعلقہ حکام بدلتے ہوئے حالات یا ترجیحات کی عکاسی کرنے کے لیے ٹیکس قوانین کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔
    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس بہت سے ٹیکسوں میں سے صرف ایک ہے جو پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر لاگو ہو سکتے ہیں۔ دیگر ٹیکس، جیسے فیڈرل ایکسائز ٹیکس اور سیلز ٹیکس، تمباکو کی مصنوعات پر بھی لاگو ہو سکتے ہیں، اور ان ٹیکسوں کا حساب مختلف معیارات کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔

    7. ٹیکس کب نافذ ہو گا؟

    یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کب نافذ ہوگا، کیونکہ مجھے موجودہ یا مستقبل کی ٹیکس پالیسیوں کے بارے میں معلومات تک رسائی نہیں ہے۔ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس بہت سے ٹیکسوں میں سے صرف ایک ہے جو پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر لاگو ہو سکتا ہے، اور ٹیکس سے متعلق مخصوص شرحیں اور پالیسیاں وقت کے ساتھ مختلف ہو سکتی ہیں۔
    عام طور پر، ٹیکس کی پالیسیوں اور شرحوں کا تعین حکومت اور دیگر متعلقہ حکام کرتے ہیں، جیسے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)، جو کہ پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے کا اہم ادارہ ہے۔ ایف بی آر ہیلتھ لیوی ٹیکس کی شرحیں طے کرنے اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔
    یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کا مقصد تمباکو کے استعمال کو کم کرنا اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ ٹیکس بہت سے اقدامات میں سے صرف ایک ہے جو ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے نافذ کیے گئے ہیں، اور بدلتے ہوئے حالات یا ترجیحات کی عکاسی کرنے کے لیے وقت کے ساتھ ایڈجسٹ یا نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔

    8. ٹیکس کے ممکنہ فوائد کیا ہیں؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کا مقصد تمباکو کے استعمال کو کم کرنا اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ ٹیکس بہت سے اقدامات میں سے ایک ہے جو ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے نافذ کیے گئے ہیں، اور اس میں صحت عامہ اور معاشرے کو بہت سے فوائد فراہم کرنے کی صلاحیت ہے۔

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے کچھ ممکنہ فوائد میں شامل ہیں:
    تمباکو کی کھپت کو کم کرنا: تمباکو کی مصنوعات کو زیادہ مہنگا کرنے سے، ٹیکس لوگوں کو تمباکو کی مصنوعات کے استعمال سے حوصلہ شکنی کر سکتا ہے اور انہیں سگریٹ نوشی چھوڑنے یا ان کا استعمال کم کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ اس سے تمباکو کے استعمال کے صحت پر منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جیسے پھیپھڑوں کا کینسر، دل کی بیماری، اور فالج۔

    صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا: ہیلتھ لیوی ٹیکس سے پیدا ہونے والے فنڈز کا استعمال ایسے پروگراموں اور خدمات کی مدد کے لیے کیا جا سکتا ہے جو صحت کو فروغ دیتے ہیں اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کو روکتے ہیں، جیسے کہ تعلیمی مہم، تمباکو نوشی کے خاتمے کے پروگرام، اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں پر تحقیق۔

    صحت عامہ کو بہتر بنانا: تمباکو کے استعمال کو کم کرکے اور صحت عامہ کے اقدامات کی حمایت کرکے، ہیلتھ لیوی ٹیکس آبادی کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔

    صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرنا: تمباکو کے استعمال کو کم کرکے اور صحت عامہ کو بہتر بنا کر، ہیلتھ لیوی ٹیکس تمباکو سے متعلقہ بیماریوں سے منسلک صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
    سماجی انصاف کو فروغ دینا: ہیلتھ لیوی ٹیکس تمباکو کے استعمال کے صحت کے منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے، جو غیر متناسب طور پر کم آمدنی والی اور پسماندہ کمیونٹیز کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے سماجی انصاف کو فروغ دینے اور معاشرے میں صحت کی عدم مساوات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    9. کیا ٹیکس سے وابستہ کوئی خطرات ہیں؟

    کسی بھی پالیسی یا اقدام کی طرح، پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے ممکنہ خطرات یا غیر ارادی نتائج ہو سکتے ہیں۔ ٹیکس کے کچھ ممکنہ خطرات یا غیر ارادی نتائج میں شامل ہیں:

    کم آمدنی والے افراد پر غیر متناسب اثر: ہیلتھ لیوی ٹیکس غیر متناسب طور پر کم آمدنی والے افراد کو متاثر کر سکتا ہے، جو قیمتوں میں اضافے کے لیے زیادہ حساس ہو سکتے ہیں اور انہیں تمباکو کی مصنوعات کو برداشت کرنے میں مشکل وقت ہو سکتا ہے۔ یہ ان افراد کے لیے مزید معاشی نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔

    ٹیکس چوری کا امکان: ہیلتھ لیوی ٹیکس ٹیکس چوری کے لیے مراعات پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ تمباکو کی مصنوعات کے مینوفیکچررز یا درآمد کنندگان ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ ٹیکس کی تاثیر کو کم کر سکتا ہے اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے۔

    روزگار پر اثر: ہیلتھ لیوی ٹیکس کا اثر تمباکو کی صنعت میں روزگار پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ یہ تمباکو کی مصنوعات کی مانگ کو کم کر سکتا ہے۔ یہ صنعت میں کارکنوں کے لئے ملازمت کے نقصان یا دیگر منفی اقتصادی نتائج کی قیادت کر سکتا ہے.

    کسانوں پر منفی اثر: ہیلتھ لیوی ٹیکس کا تمباکو اگانے والے کسانوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ اس سے تمباکو کی مانگ کم ہو سکتی ہے اور تمباکو کی قیمت کم ہو سکتی ہے۔ اس سے ان کسانوں کو معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔

    تجارت پر منفی اثرات کا امکان: ہیلتھ لیوی ٹیکس تجارت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے، کیونکہ یہ عالمی منڈی میں گھریلو تمباکو کی مصنوعات کی مسابقت کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ برآمدات میں کمی اور ملک کے لیے منفی اقتصادی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر، یہ ضروری ہے کہ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے ممکنہ خطرات اور غیر ارادی نتائج پر احتیاط سے غور کیا جائے، اور ٹیکس کو اس طریقے سے ڈیزائن اور لاگو کیا جائے جس سے منفی اثرات کو کم کیا جاسکے اور صحت عامہ اور معاشرے کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں۔

    10. ٹیکس کی نگرانی اور نفاذ کیسے کیا جائے گا؟

    پاکستان میں، تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس عام طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے زیر انتظام اور نافذ کیا جاتا ہے، جو کہ ملک میں ٹیکس جمع کرنے والی اہم ایجنسی ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی شرحوں کے تعین اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس کی نگرانی اور نفاذ کے لیے، ایف بی آر بہت سے ٹولز اور تکنیکوں کا استعمال کر سکتا ہے، بشمول:

    رجسٹریشن اور لائسنسنگ: تمباکو کی مصنوعات کے مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو ایف بی آر کے ساتھ رجسٹر کرنے اور تمباکو کی مصنوعات تیار کرنے یا درآمد کرنے کے لیے لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایف بی آر کو تمباکو کی مصنوعات کی پیداوار اور درآمد کو ٹریک کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی اجازت دیتا ہے کہ ہیلتھ لیوی ٹیکس ادا کیا جا رہا ہے۔

    آڈٹ اور معائنہ: ایف بی آر تمباکو کی مصنوعات کے مینوفیکچررز اور امپورٹرز کے آڈٹ اور معائنہ کر سکتا ہے تاکہ ہیلتھ لیوی ٹیکس کی تعمیل کی تصدیق کی جا سکے اور کسی ممکنہ ٹیکس چوری کی نشاندہی کی جا سکے۔

    جرمانے اور جرمانے: اگر تمباکو کی مصنوعات کا کوئی مینوفیکچرر یا درآمد کنندہ ہیلتھ لیوی ٹیکس ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے یا بصورت دیگر ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ جرمانے اور جرمانے کے تابع ہو سکتے ہیں۔ یہ جرمانے اور جرمانے عدم تعمیل کو روکنے اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کی حوصلہ افزائی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    عوامی تعلیم اور رسائی: FBR تمباکو کی مصنوعات کے مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو ہیلتھ لیوی ٹیکس کے بارے میں آگاہ کرنے اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کی حوصلہ افزائی کے لیے عوامی تعلیم اور آؤٹ ریچ کا بھی استعمال کر سکتا ہے۔
    مجموعی طور پر، ایف بی آر پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کی نگرانی اور اسے نافذ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتا ہے کہ ٹیکس ادا کیا جائے اور ٹیکس قوانین پر عمل کیا جائے۔

    خلاصہ
    یہ کہ پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس تمباکو کی مصنوعات پر ایک ٹیکس ہے جس کا مقصد تمباکو کے استعمال کو کم کرنا اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ ٹیکس تمباکو کی مصنوعات کی تیاری یا درآمد کے مقام پر لاگو ہوتا ہے، اور اس کا شمار مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ٹیکس کی شرح تمباکو کی مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے، جس میں ان مصنوعات پر زیادہ شرح لاگو ہوتی ہے جو زیادہ نقصان دہ سمجھی جاتی ہیں، جیسے سگریٹ۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس کا انتظام فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کرتا ہے، جو ٹیکس کی شرحیں طے کرنے اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی نگرانی اور نفاذ کے لیے کئی ٹولز اور تکنیکوں کا استعمال کر سکتا ہے، جیسے کہ رجسٹریشن اور لائسنسنگ، آڈٹ اور انسپیکشن، جرمانے اور جرمانے، اور پبلک ایجوکیشن اور آؤٹ ریچ۔
    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس صحت عامہ اور معاشرے کو بہت سے فوائد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جیسے تمباکو کے استعمال کو کم کرنا، صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا، اور صحت عامہ کو بہتر بنانا۔ تاہم، ٹیکس کے ممکنہ خطرات یا غیر ارادی نتائج بھی ہو سکتے ہیں، جیسے کم آمدنی والے افراد پر غیر متناسب اثر، ٹیکس چوری کا امکان، روزگار پر اثر، کسانوں پر منفی اثر، اور تجارت پر ممکنہ منفی اثرات۔ یہ ضروری ہے کہ ان ممکنہ خطرات اور غیر ارادی نتائج پر احتیاط سے غور کیا جائے، اور ٹیکس کو اس طریقے سے ڈیزائن اور لاگو کیا جائے جس سے منفی اثرات کو کم سے کم کیا جائے اور صحت عامہ اور معاشرے کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں۔

    اکثر پوچھے گئے سوالات:

    یہاں پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات ہیں:

    1-تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کیا ہے؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس تمباکو کی مصنوعات پر ایک ٹیکس ہے جس کا مقصد تمباکو کے استعمال کو کم کرنا اور پاکستان میں صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ ٹیکس تمباکو کی مصنوعات کی تیاری یا درآمد کے مقام پر لاگو ہوتا ہے، اور اس کا شمار مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے۔

    2-پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کا انتظام کون کرتا ہے؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے زیر انتظام ہے، جو ملک میں ٹیکس جمع کرنے والی اہم ایجنسی ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی شرحوں کے تعین اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔

    3-پاکستان میں تمباکو کی کس قسم کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی ٹیکس عائد ہے؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کا اطلاق تمباکو کی مصنوعات کی ایک رینج پر ہوتا ہے، بشمول سگریٹ، تمباکو نوشی کے لیے تمباکو، چبانے والا تمباکو، اور نسوار۔ ٹیکس کا حساب عام طور پر مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے، اور ٹیکس کی شرح تمباکو کی مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔

    4-پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے ممکنہ فوائد کیا ہیں؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے کچھ ممکنہ فوائد میں تمباکو کے استعمال کو کم کرنا، صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا، صحت عامہ کو بہتر بنانا، صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرنا، اور سماجی انصاف کو فروغ دینا شامل ہیں

    باغی ٹی وی اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تحریری مقابلے میں راجہ ارشد نے اول پوزیشن حاصل کی ہے

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

  • اسپیکر اورڈپٹی اسپیکر کے انتخاب پر ہماری تیاری ہے،سرپرائز دیں گے،عطا تارڑ

    اسپیکر اورڈپٹی اسپیکر کے انتخاب پر ہماری تیاری ہے،سرپرائز دیں گے،عطا تارڑ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما، وزیراعظم کے مشیر،عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ خفیہ رائے شماری سے ہونی ہے،

    ن لیگی رہنما عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ نمبر گیم انتہائی دلچسپ ہے،اسپیکر اورڈپٹی اسپیکر کے انتخاب پر ہماری تیاری ہے، سرپرائز دیں گے،پنجاب اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ سے متعلق نمبرز کے حوالے سے مطمئن ہیں، ہم نے اور چوہدری پرویز الٰہی نے گیم کی ، اس میں نقصان صرف عمران خان کو ہوا،عدالت نے وزیراعلٰی پنجاب کو ہٹانے کے گورنر بلیغ الرحمان کے آرڈر کو منسوخ نہیں بلکہ معطل کیا ہے، عدالت کو حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ وزیراعلٰی کو کبھی نہ کبھی اعتماد کا ووٹ لینا ہوگا ہم چاہتے ہیں صوبائی اسمبلیاں تحلیل نہ ہوں ن لیگ پنجاب میں سب سے بڑی اکثریتی جماعت ہے

    لاہور ہائیکورٹ میں متنازع فلم جوائے لینڈ کی پاکستان میں نمائش کے خلاف درخواست دائر 

    جوائے لینڈ کا بین کیا جانا قابل افسوس ہے ملالہ یوسفزئی

    مرکزی فلم سنسر بورڈ کے فل بورڈ نے فلم جوائے لینڈ کے بعض حصے حذف کر نے کے بعد نمائش کی اجازت دے دی۔

    جوائے لینڈ پر پابندی کی درخواست سندھ ہائی کورٹ‌نے مسترد کر دی

    عثمان پیرزادہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ فلم جوائے لینڈ‌ کو بین کئے جانا بہت ہی افسوسناک ہے

    دوسری جانب وفاقی وزیر ، ن لیگی رہنما جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ عمران خان عدالت میں پیش ہوکرضمانت لے لیتے ہیں نواز شریف کے حق میں کوئی فیصلہ آجائے تو کہا جاتا ہے این آر او مل گیا،اگر قوم کا اعتماد بحال کرنا ہے تو 2017 کے کرداروں کو بے نقاب کیا جائے،اعتراف کرنا ہوگا کہ پاکستان کا بیڑہ غرق کردیا گیا،سیاسی ا ور معاشی عدم استحکام پیدا کرنے والے کو کٹہرے میں لانا ہوگا، الیکشن سے کوئی بھاگ نہیں رہا ہے،عمران خان کے کیسز کو سہولت کاری نہ دی جائے،