Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • برصغیر کے عظیم شاعر مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب کا یوم ولادت

    برصغیر کے عظیم شاعر مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب کا یوم ولادت

    ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

    مرزا غالب

    تاریخ ولادت:27 دسمبر 1797ء
    تاریخ وفات:15 فروری 1869ء

    نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (27دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک ہیں۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے، اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔

    مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ 27 دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہوگئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہٰی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انھوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
    شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔

    غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرتِ شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال فرمایا۔

    غالب اور عہدِ غالب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر مولا بخش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غالب کے متن سے معاملہ کرنے والے کئی نقادوں کو اس امر کی شکایت ہے کہ غالب کے اشعار یہ نہیں بتاتے کہ وہ کس عہد میں لکھے گئے ہیں۔یہ سوال کرنے سے پہلے ہمیں ذرا غالب نے جس صنف سے معاملہ کیاہے اس کی فطرت کو بھی دیکھ لینا چاہئے۔کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ غزل کے اشعار میں روح عصر اس طرح سے واضح طور پر نظر نہیں آسکتی جس طرح ہمیں کسی نظم ،افسانے،ناول،مکتوب وغیرہ میں یا خاکہ یا مرثیہ اور مثنوی میں نظر آتی ہے۔غزل کے دو مصرعوں میں پہلی کوشش تو یہ ہوتی ہے کہ ان اشعار میں اگر زمانے کو پیش کرنا ضروری بھی ہو جائے تو وہ زمانہ مثلاً ماضی یا مستقبل یا حال نقلی حال بناکر پیش کیاجاتاہے تاکہ پڑھنے والا ہر زمانے میں اسے اپنے زمانے کا مسئلہ سمجھے۔اس کے باوجود غزل کی شاعری کی داخلی ساخت میں اترنے کے بعد شاعر کا عہد اور اس عہد کے سوالات اور مسائل کا نظارہ کیاجاسکتاہے۔

    غالب کی شاعری میں ان امور سے متعلق انکشاف کے لیے حددرجہ ذہین قاری کی ضرورت ہے ادب کا رشتہ شاعر یا ادیب کے عہد سے جوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ ادب تخلیق کرنے والے ادیب اپنے عہد سے آنکھیں بچا کر ادب کی تخلیق نہیں کر سکتے، لیکن یہ بھی اتنا ہی بڑا سچ ہے کہ آج جو با معنی ہے وہ ادب کل بھی اتنا ہی با معنی ہوگا اس کی گارنٹی کون دے سکتاہے؟اسی لیے مکمل طور پر ادیب اگر اپنے عہد کی ترجمانی کرنے لگ جائیں تو یہ ضرور ہے کہ ادب اور صحافت میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔

    اس لیے بڑے شعرا اور ادیب یہ جانتے ہیں کہ ایک عہد کا محاورہ دوسرے عہد سے میل نہیں کھاتا۔اس لیے وہ اپنے فن پاروں کو دوسرے عہد میں بھی اتنے ہی بامعنی بنانے کے جتن سے واقف ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ غالب اپنے عہد میں جتنے بامعنی تھے یا نہ تھے آج اس سے کہیں زیادہ بامعنی ہیں یا نہیں ہیں؟ اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے۔ بات وہی ہے کہ اگر اپنے عہد کی تصویر کے ساتھ ساتھ ادیب اپنا ایک منفرد عہد بھی خلق کرتاہے تو وہ ہر زمانے میں اپنی معنویت بر قرار رکھنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔غالب اردو میں کچھ اسی طرح کے جتن کے ذریعے ہر عہد میں مقبول اور مشہور شاعر کے روپ میں زندہ ہیں۔غالب کو یہ احساس تھا کہ وہ صرف اپنے عہد کے شاعر نہیں ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ اپنے عہد کے شاعر کے طور پر خود کو پیش کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔اسی لیے تو انہوں نے برملا طور پر یہ کہا تھا:

    ہوں گرمیٔ نشاطِ تصور سے نغمہ سنج
    میں عندلیبِ گلشن نا آفریدہ ہوں
    میں چشم وا کشادہ و گلشن نظر فریب
    لیکن عبث کہ شبنم خورشید دیدہ ہوں

    اگر پہلے شعر پر غور کریں تو اعلان کیا ہے کہ یہ ایک ایسے انسان کی شاعری ہے جس کا زمانہ ابھی پیدا نہیں ہوا ہے یعنی یہ مستقبل کی شاعری ہے۔ دوسرے شعر میں ایک ایسے انسان کی تصویر پیش کی ہے جو اہل نظر ہے اور آگاہ ہے۔لیکن اس کا کیا کیجیے کہ یہ دنیا جادو کی پوٹلی ہے جسے سمجھنا بہت مشکل ہے۔تس پر ستم یہ کہ اس پر غور کرنے کی عمر ایسی ملی ہے جیسے سورج کسی شبنم کے قطرے کو دیکھنا چاہے۔ظاہر ہے کہ سورج نکلتے ہی شبنم کا وجود ختم ہوجاتا ہے۔ کیا اس سے یہ اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ شاعر جس عہد میں جی رہا ہے اُسے پوری طرح سے سمجھنا اس کے لیے کتنا مشکل ہے۔ ادب اور عہد کے رشتے پر غور کرنے والوں نے ان امور سے صرف نظر کیاہے۔

    بڑے ادیب جانتے ہیں کہ ایک ہی عہد میں کئی عہد ہوتے ہیں اور تاریخ کے اندر بھی کئی تاریخیں ہوتی ہیں جسے فوق التاریخ کا نام دیاگیاہے۔غالب کی نگاہ اس حقیقت پر ہے۔وہ ماضی،حال اور مستقبل پر یکساں طور پر نگاہ ڈالتے ہیں۔ان کے نزدیک ان میں سے کوئی اہم یا غیر اہم نہیں ہے۔ہاں! وہ ان تینوں زمانوں کے نقائص کا احساس رکھتے ہیں اور ان تینوں زمانوں سے نباہ کرنے کا منفرد زاویۂ نظر بھی رکھتے ہیں۔

    غالب اپنے ماضی کے ورثے کے قائل تھے لیکن جو اچھی قدریں تھیں انھیں وہ اپناتے نظر آتے ہیں اوربری قدروں کو رد بھی کرتے ہیں جیسے اپنے سے پہلے کے شعرا کو جس قدر وہ عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ جگ ظاہر ہے:

    ریختے کہ تمہیں استاد نہیں ہو غالب
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

    اتنا ہی نہیں وہ مشرقی تہذیب کے زوال کی طرف بھی نگاہ رکھتے ہیں اور زوال کے اس منظر کو دیکھ کرکڑھتے نظر آتے ہیں لیکن آخر کار وہ زمانے کی رو کو اور تبدیلی کی فطرت کو تسلیم بھی کر لیتے ہیں۔ایسے میں وہ کہتے ہیں:

    وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاں
    اٹھیے بس اب کہ لذّتِ خواب سحر گئی
    دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
    آگ اس گھر کو لگی ایسی، کہ جو تھا جل گیا

    ان اشعار کے معنی اخذ کرتے وقت قاری کا دھیان غالب کے عہد کے اجتماعی دکھ اور مغلیہ تہذیب کے زوال کی طرف بھی جاتاہے۔ بہرصورت غالب بھی اس جاگیردارانہ بلکہ آمرانہ نظام کا ایک حصہ تھے۔انہیں انگریزوں سے باضابطہ پنشن ملا کرتاتھا جو بعد کے ادوارمیں بند ہو جانے کے بعد غالب نے تقریباً دو دہائیوں تک پنشن کا مقدمہ لڑا اور باضابطہ ہار بھی گئے۔ایک ایسا شخص جس نے عیش و عشرت کی راتیں اور حسیں قہقہوں کے دن گزارے ہوں، وہ یہ کیونکر نہ کہے کہ ‘وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاں’ اور اپنے دل کو کیونکر اس طرح نہ سمجھا لے کہ چلیے زمانے کا یہی دستور ہے۔ ع

    ہد غالب میں طرز حکومت کے بدلنے اور ایک نئی قوم انگریز کی آمد نے ہر کس و ناکس کے ذہنوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاتھا۔پرانی تہذیبی قدریں Cultural Values شطرنج کے مہروں کی طرح باری باری پٹتی چلی جا رہی تھیں۔انگریزوں کے لائے ہوئے صنعتی انقلاب کی وجہ سے نیا اخلاقی نظام مرتب ہو رہاتھا۔ایسے میں مشرقی تہذیب کے دلدادہ اشخاص اور کیاکہہ سکتے تھے اس کے سوا کہ ‘آگ اس گھر کو لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا۔’ یعنی ایک طرف تو وہ میر سے منسوب اپنے ماضی کی قدروں کے دلدادہ معلوم ہوتے ہیں تودوسری طرف وہ سر سید کی کتاب ‘آئین اکبری’ کی تقریظ لکھتے ہوئے ماضی کے اس ورثے کے تحفظ کے رویے کو یہ کہہ کر رد کردیتے ہیں کہ مردہ پروری کوئی مبارک کام نہیں ہے۔ لیکن انہوں نے ‘آثار الصنادید’ کے ذریعے اپنے ماضی کے ورثہ کو محفوظ کرنے کے سرسید کے جذبے کو سراہا بھی تھا، کیونکہ اس کتاب کے ذریعے مستقبل کے منصوبے تیار کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔

    دہلی کالج کے قیام کے بعد مغربی سائنس کے اصولوں کے عام ہونے کے اثرات غالب پر کیوں کر مرتب ہوئے اس حقیقت کا اظہار کیا ہے۔ظاہر ہوا کہ فن کار اپنے عہد کی تعمیر ماضی کے ورثے کے عیب و نقائص پر نگاہ رکھتے ہوئے ان میں سے کچھ کو رد تو کچھ کو قبول کرتے ہوئے کرتاہے۔اس طرح وہ اپنے عہد کی مخلوق کے ساتھ ساتھ خالق بھی بن جاتاہے۔

    اگر غالب کی سوانح کا ترتیب وار ذکر کیاجائے تو اس کے ذریعے عہد غالب کی سیاسی،ثقافتی، مذہبی اور اقتصادی صورتحال ہمارے سامنے آجائے گی۔ ان کے خطوط میں ان کی زندگی اور اپنے عہد کے حالات زیادہ مذکور ہوئے ہیں لیکن یہاں ان کے حوالے نہیں دیے جارہے ہیں۔

    مرزا کا آنا جانا دہلی میں اس وقت شروع ہوا جب شاہ عالم ثانی کی آنکھیں غلام قادر روہیلہ نے پھوڑ دی تھیں۔ شاہ عالم سندھیاکے چنگل میں تھے ۔انگریز لارڈ ویلزلی نے بادشاہ کو اس چنگل سے چھڑانے کی پیش کش کی۔1803میں انگریزی فوج قلعے میں داخل ہوئی۔جنرل آکٹر لونی دہلی میں انگریز ریذیڈنٹ مقرر ہوا۔بادشاہ پنشن دار ہو گیا۔1806میں اکبر شاہ ثانی تخت نشیں ہوئے اور اکتیس سال حکومت کی،وہ بھی انگریزوں کے پنشن دار تھے۔ہاکنس ریزیڈنٹ مقرر ہوا مگر چوں کہ وہ گھمنڈی تھا اس لیے ایک معاملہ فہم ریذیڈنٹ ولیم فریزر مقرر کیاگیا۔یہ وہی ریذیڈنٹ ہے جو نو اب شمس الدین خاں کے خلاف غالب کے پنشن کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کی تھی۔

    اس کے مارے جانے کے بعد مٹکاف ریزیڈنٹ مقرر ہوا۔یہ اور ان جیسے دیگر انگریزوں کی آئیڈیولوجی یہ تھی کہ خدا نے ہندوستانیوں کی حالت سدھارنے کے لیے انہیں ہندوستان بھیجا ہے، یعنی ہم لوگ نجات دہندہ ہیں۔راجہ رام موہن رائے اور بعد میں سر سید نے بھی انگریزی راج کو اپنے لیے باعث ترقی سمجھا۔انگریزی تعلیم کی وکالت کے پیچھے میں یہی تصور پوشیدہ تھا۔اس وقت کے انگریز حاکم کو فارسی زبان و ادب سے خاص شوق ہوتا تھا اور اس لحاظ سے غالب کی ان دنوں ایسے افسروں کے نزدیک بڑی قدر تھی۔پھر غالب قدامت پرستی کے بجائے جدت پسندی میں یقین رکھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے بنیادی اصولوں کا خیر مقدم کیا۔

    غالب کے خسر مرزا الٰہی بخش کا انگریزوں میں اثر و رسوخ جگ ظاہر تھا جس کے توسط سے غالب کی راہ و رسم بھی اونچے طبقے سے پیدا ہوئی۔سبھی جانتے ہیں کہ غالب نے آگرہ میں گیارہ سال کی عمر سے ہی شعر کہنا شروع کر دیاتھا او بیدل کی پیروی میں حد درجہ مشکل گو ثابت ہوئے تھے، لیکن جب وہاں پہنچے تو مولوی فضل حق خیر آبادی کے مشورے کے مطابق طرز بیدل کو چھوڑ کر سلیس اور صاف شعر کہنے لگے۔ لیکن یہ صرف ایک قصہ ہے۔سچ تو یہ ہے کہ غالب نے نہ طرز بیدل کو چھوڑا نہ روش عام سے ہٹ کر شعر کہنے کا طریقہ چھوڑا۔ بلکہ وہ حسب ضرورت غزل میں زبان کو بطور رجسٹر استعمال کرنے لگے۔ یعنی جہاں فارسی آمیز،طویل اضافتوں والی اردو کی ضرورت تھی ،وہاں انہوں نے اخیر عمر تک وہی انداز برقرار رکھا اور جہاں تخیل پر جذبے نے قابو پالیا وہاں اردو کا وہ رجسٹر سامنے آگیا جسے میرؔ نے اپنے مصرعے سے واضح کیا تھا۔ غالب میر کے اسی فقرے ‘‘پر مجھے گفتگو عوام سے ہے’’ والی زبان میں شعر کہنے کی روش اختیار کرنی شروع کر دی۔

    اس عہد کی ایک اہم اور انقلابی تحریک وہابی تحریک تھی جس کا مقصد انگریزوں کو ہندوستان کی مقدس دھرتی سے نکال باہر کرنا تھا۔غالب کا اس تحریک سے براہ راست کوئی رشتہ تو نہ تھا لیکن اس تحریک سے وابستہ بہت سے اشخاص سے ان کی راہ و رسم تھی۔ اس تحریک کا اثر غالب کی شاعری میں بھی تلاش کیا جا سکتاہے۔1857کی تباہی اور اس کے بعد کی صورتحال کے اشارے بھی غالب کی شاعری میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔لیکن غالب تو بقول خورشید الاسلام :

    ‘‘گویا بچپن میں غالب،مغلوں،مرہٹوں اور انگریزوں کی مربیانہ توجہ سے بالواسطہ فیضیاب رہے۔غالباً ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی ہوگی کہ مغل بادشا ہ ہے اور نہیں بھی ہے۔مرہٹہ مغلوں کا نائب ہے اور حاکم بھی ہے۔انگریز مسلمان نہیں،ہندو نہیں،لیکن دہلی پر حکومت کرتاہے اور میرے خاندان کے بزرگ ہر طاقت کے ساتھ ہیں۔اور سچ پوچھو تو کسی کے ساتھ بھی نہیں۔ممکن ہے انہوں نے کسی فقیر کو استاد نظیر کا یہ بند گاتے سنا ہو،اور اس سے اپنے زمانہ کی سیاست کا بھید پا گئے ہوں:

    کپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطے
    لمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطے
    باندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطے
    سب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطے
    جتنے ہیں، روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں

    خورشید الاسلام نے غالب کے زمانے یا عہد کو کلی طور پر پیش کیاہے۔نظیر کی شاعری نے بھی کیونکر غالب کو ان کے اپنے عہد کے سمجھنے میں اہم رول ادا کیاتھا یا کیا ہوگا،اس بابت خورشید الاسلام کی توضیح قابل داد ہے۔
    پروفیسر محمد حسن نے اپنے مضمون ‘دو غالب’ میں ظاہر ہے ایک غالب تو اسی کو قرار دیا ہے جس کا نام اسد اللہ خاں تھا اور جس کے باپ کا نام عبد اللہ بیگ اور چچا نصر اللہ بیگ فوجی سردار تھے۔اس کے ساتھ ہی ایک دوسرے غالب بھی بین السطو ر میں جھانکتے ہیں۔محمد حسن لکھتے ہیں کہ:

    ”یہ دوسرا غالبؔ کہیں روح عصر تو نہیں؟بزرگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہر لمحہ سہ جہتی ہوتاہے ایک شخصی واردات کا درجہ رکھتاہے دوسرا سماجی یا اجتماعی شعور کی جہت تیسرا عصری زندگی کے سیل رواں کا حصہ ہوتاہے۔غالبؔ نے جب آنکھ کھولی تو انقلاب فرانس دنیا کو تہہ و بالا کر چکا تھا۔نپولین کی گھن گرج ٹیپو سلطان تک پہنچ چکی تھی جو اپنے شہنشاہ کی جگہCITIZENکہنے لگا تھا۔سائنس اور فکرنئی منزلیں پا رہے تھے، ورڈورزتھ اور شیلے کی آوازیں نغمے بکھیر چکی تھیں (محمد حسن،نصرت پبلشرز،لکھنؤ 1977،ص:15)

    یہ تو تصویر تھی اس وقت کی دلی اور وہاں کی ادبی کہکشاؤں کی ۔ اب زمانے کی ہوا کیونکر چلی اور کیا کیا بدل گیا، یہ بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ مرزا غالب اپنے عہد کے دوسرے افراد کی طرح اپنے طبقے سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔یعنی وہ طبقاتی افتراق میں یقین رکھتے ہیں لیکن انہیں ایسا کرتے ہوئے بھی یہ احساس ہے کہ یہ سب کچھ آگے چل کر بہت جلد ختم ہو جائے گا۔غالب کی زندگی ہی کیا ہندوستان کی تاریخ میں1857کی جنگ آزادی جسے انگریزوں نے غدر سے عبارت کیا،ایک ایسے طوفان سے عبارت کی جا سکتی ہے جس نے ہندوستان کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی میں تبدیلیوں کی ایک لہر پیدا کر دی۔محمد حسن نے اپنے دوسرے مضمون’’غالب اور جدید ذہن‘‘میں لکھا ہے کہ:

    ‘‘غدر1857کوغالب نے رستخیز بیجا کہا اور وہ اس رستخیز کے قلزم خون سے گزرے۔ اس دور کی پوری خونخواری، درندگی اور تباہی کو اپنی آنکھ سے دیکھا اور ہر لمحہ دل خون کیا۔ مگر ان واقعات کی تصویریں ان کی شاعری میں بہت بھونڈی ہیں البتہ ان کے مکاتیب نہایت خوبصورت اور پر تاثیر ہیں۔اس آشوب سے جو کچھ کرب انہیں ملا وہ غزل میں کسی اور عنوان میں ڈھل گیا۔ان کی شاعری ان کے دور ہی کی نہیں آنے والے ادوار کی زبان بن گئی۔’’ (محمد حسن، نصرت پبلشرز، لکھنؤ 1977، ص 84)

    پروفیسر محمد حسن نے دبی زبان سے ہی سہی، یہاں غالب کے متن کا اپنے عہد سے رشتے کے منقطع ہونے کا شکوہ کیاہے۔یہ بات پوری طرح صحیح نہیں ہے۔غالب کے یہاں عصر کی روح کی پیش کش بہت واضح طور پر ہے، بلکہ وہ متن کی زیریں ساخت میں موجود ہے،جسے کرید کر قاری بر آمد کر سکتاہے۔پروفیسر عتیق اللہ نے لکھا ہے:

    ”غالب کوئی مشن لے کر نہیں چلے تھے ان کی وسیع المشربی صوفیا کی تعلیمات کے توسط ہی سے نہیں بلکہ عام شعری رویے کے تحت ان کے ضمیر کی آواز تھی۔مردہ پروری کو نامبارک قرار دینے،درس نظامی کے روایتی ضوابط کو نشان زد کرنے،نئے ذریعہ ابلاغ و ترسیل نیز آرام و آسائش مہیا کرنے والی سہولتوں اور تکنیکی وسائل کی اجرا کاری میں انہیں یقینا ترغیبات کاایک جہان موجزن نظر آیاتھا۔

    لیکن اس نئے منظر نامے سے وہ کوئی ایسا تصور نہیں قائم کر سکےجو نئی نسل میں نیا طرز احساس پیدا کرنے کا سامان مہیا کرتا۔ ‘انکار ’ کے رویے پر کاربند ہونے کے باجود غالب کا باغیانہ شعور پوری طرح نہ تو پروان چڑھ سکا اور نہ ان کے قویٰ میں اتنی جولانی تھی کہ اپنے خیالات کو تحریک میں بدلنے کے لیے کوئی عملی راہ اختیار کرتے۔“

    (بیانات،عتیق اللہ،کتابی دنیا،2011،ص:43,46,47)
    اس عبارت کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ خواجہ منظور حسین نے غالب کے دیوان سے ایسے بہت سے اشعار پیش کیے ہیں جن میں غالب اپنے عہد کی آئیڈیولوجی کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں لیکن آفتاب احمد خاں نے ان کے اس خیال سے اتفاق نہیں کیاہے۔بات یہ نہیں ہے کہ کسی شاعر کے یہاں اپنے عہد کی خبر نظم ہو جائے۔غالب کو معلوم تھا کہ خبر اور شاعری میں فرق ہے۔غزل کے شعر سے اس طرح کی امید بھی بہت زیادہ صائب نہیں ہے۔جب عہد ہی بجائے خود ایک تہہ دار متن ہو تو اس کی پیش کش کے طریقے بھی حد درجہ رمزیہ ہو سکتے ہیں۔ہمارے نقاد اس حقیقت پر نگاہ نہیں رکھتے۔

    غالب نے اپنے دیوان میں ایسے بے شمار اشعار کہے ہیں جو ان کے عہد اور ان کی ذاتی زندگی کو آفاقی رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے شہزادہ سلیم کا قصیدہ اس امید پر لکھا کہ شاید شہزادہ سلیم ہی ہندوستان کا بادشاہ بنیں گے۔ظفر زندگی بھر غالب سے خفا رہے اور جب ظفر سے ان کی وابستگی بعد کے زمانوں میں ہوئی توانہوں نے ایک قصیدہ میں ذوق کی غزل سرائی پر کچھ تیکھے تبصرے کر دیے اور ظفر کو یہ سب کچھ اچھا نہیں لگا اور غالب نے مندرجہ ذیل شعر میں جس کی معذرت چاہی:

    استاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیال
    یہ تاب ، یہ مجال، یہ طاقت نہیں مجھے
    سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری
    کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے

    ان اشعار کے سیاق و سباق سے واقف قاری یہ اندازہ کر سکتاہے کہ شعرا اپنے عہد کے حکمرانوں کی وجہ سے کہاں کہاں اپنی انا سے سمجھوتہ کرتے تھے۔غالب نے اس معذرت میں بھی اپنی شان برقرار رکھی ہے۔شاہ سے معذرت کرتے ہوئے بھی انہوں نے دوسرے شعر میں یہ کہہ کر کہ وہ بہادر سپاہیوں کی اولاد میں سے ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ اس کی عزت صرف شاعری کی وجہ سے ہو،اپنے اندر کی ٹوٹتی ہوئی انا کو مجتمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ غالب کے مندرجہ ذیل اشعار ان کی ذاتی زندگی اور اس عہد کے انسانوں کی نفسیات کو پیش کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:

    غالب چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
    پیتا ہوں روزِ ابر و شبِ ماہ تاب میں
    غالب وظیفہ خوار ہو، دو شاہ کو دعا
    وہ دن گئے کہ کہتے تھے’’نوکر نہیں ہوں میں‘‘
    غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
    روئیے زار زار کیا؟ کیجئے ہائے ہائے کیوں؟
    لکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنی
    ہوس سیر و تماشا، سو وہ کم ہے ہم کو
    زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
    ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
    ہوا ہے شہہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا
    وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
    نصرت الملک بہادر مجھے بتلا کہ مجھے
    تجھ سے جو اتنی ارادت ہے وہ کس بات سے ہے
    اور میں وہ ہوں کہ گرجی میں کبھی غور کروں
    غیر کیا خود مجھے نفرت مری اوقات سے ہے

    مذکورہ بالا اشعار صرف آپ بیتی نہیں ہیں بلکہ کسی عہد میں ایک حساس انسان یا فرد اپنے زمانے کی اتھارٹی (Authority) سے کہاں کہاں سمجھوتے کرتاہے،اپنی انا کو برقرار رکھتاہے،اس کی کہانی ان اشعار میں در آئی ہے۔کسی بھی عہد میں فرد کی نا قدری کا خاص طور سے اس فرد کا جو حساس اور فن کار ہو،اس کا دل کیونکر خون کے آنسو روتاہے،اس درد کو غالب کے اس شعر میں محسوس کیاجاسکتاہے جس میں انہوں نے ’غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں‘جیسا خیال قلم بند کیاہے۔کیا کسی انسان کے نہیں ہونے سے اس دنیا کے کانوں پر کوئی جوں نہیں رینگتی؟اگر ایسا ہے تو کیوں؟کیا یہ مستحسن ہے،کیا جیتے جاگتے انسان کے اتنے ہی معنی ہیں کہ جب وہ نہ رہے تو اس کی کمی کا احساس تک نہ ہو؟ یہ اور ان جیسے بہت سے دکھوں کا ذکر غالب کی شاعری میں نجی واردات کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ مثلاً اس ذیل میں یہ شعر بھی روح عصر کو بڑی صفائی سے ہمارے سامنے رکھتے ہیں:

    ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے
    شاعر تو وہ اچھا ہے، پہ بدنام بہت ہے
    قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
    رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

    جو لوگ غالب کی سوانح سے واقف ہیں انہیں پہلا شعر سمجھتے دیر نہیں لگے گی۔اپنی ہی سوانح کے ذریعے غالب نے ایک آفاقی صداقت بھی بیان کر دی ہے۔شاعر ہونا الگ بات ہے اور اچھا انسان ہونا الگ بات۔غالب اپنے عہد کا ایک ایسا فرد ہے جو جاگیردارانہ سماج کی لاش پر بیٹھا رو رہاہے۔صنعتی انقلاب کی تیز دھمک نے ملکیوں کو کیونکر طرح طرح کے قرضوں کی طرف دھکیل دیاتھا، یہ سب کچھ اس عہد کی تاریخ کے حوالے ہو چکاتھا۔یہاں غالب نام کے کسی ایسے فرد کا بھی ذکر ہے جو شراب کے لیے بھی قرض لیتا تھا۔ انسان چاہے جس سطح پہ بھی جی رہاہو اچھے دنوں کے آنے کی امید اس کی سرشت میں شامل ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
    کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
    کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
    صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
    جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے
    سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
    آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
    مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
    بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
    موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
    آتشیں پا ہوں گداز وحشت زنداں نہ پوچھ
    موئے آتش دیدہ ہے ہر حلقہ یاں زنجیر کا
    شوخیٔ نیرنگ صید وحشت طاؤس ہے
    دام سبزہ میں ہے پرواز چمن تسخیر کا
    لذت ایجاد ناز افسون عرض ذوق قتل
    نعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا
    خشت پشت دست عجز و قالب آغوش وداع
    پر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا
    وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔ
    جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج
    قمری کا طوق حلقۂ بیرون در ہے آج
    آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ
    تار نفس کمند شکار اثر ہے آج
    اے عافیت کنارہ کر اے انتظام چل
    سیلاب گریہ درپئے دیوار و در ہے آج
    معزولیٔ تپش ہوئی افراط انتظار
    چشم کشادہ حلقۂ بیرون در ہے آج
    حیرت فروش صد نگرانی ہے اضطرار
    سر رشتہ چاک جیب کا تار نظر ہے آج
    ہوں داغ نیم رنگیٔ شام وصال یار
    نور چراغ بزم سے جوش سحر ہے آج
    کرتی ہے عاجزیٔ سفر سوختن تمام
    پیراہن خسک میں غبار شرر ہے آج
    تا صبح ہے بہ منزل مقصد رسیدنی
    دود چراغ خانہ غبار سفر ہے آج
    دور اوفتادۂ چمن فکر ہے اسدؔ
    مرغ خیال بلبل بے بال و پر ہے آج

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
    خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
    دل آشفتگاں خال کنج دہن کے
    سویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں
    ترے سرو قامت سے اک قد آدم
    قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
    تماشا کہ اے محو آئینہ داری
    تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
    سراغ تف نالہ لے داغ دل سے
    کہ شب رو کا نقش قدم دیکھتے ہیں
    بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
    تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
    کسو کو زخود رستہ کم دیکھتے ہیں
    کہ آہو کو پابند رم دیکھتے ہیں
    خط لخت دل یک قلم دیکھتے ہیں
    مژہ کو جواہر رقم دیکھتے ہیں

  • پاک سوزوکی نے بھی اپنا پلانٹ بند کردیا

    پاک سوزوکی نے بھی اپنا پلانٹ بند کردیا

    اسلام آباد: انڈس موٹرز(ٹیوٹا)کے بعد پاکستان میں موٹر گاڑیوں کی کمپنی پاک سوزوکی نے بھی اپنا پلانٹ بند کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پیداواری پلانٹ 2 جنوری بروز پیر سے 6 جنوری بروز جمعہ تک بند رہے گا تاہم یکم جنوری کو اتوار جبکہ 7 اور 8 جنوری کو ہفتہ وار تعطیلات کے باعث پلانٹ کو غیراعلانیہ طور پر 8 دن کے لئے بند کیا گیا ہے۔

    انڈس موٹر کمپنی کا اپنا پلانٹ دس روز کے لیے بند کرنے کا اعلان

    کمپنی کی جان سے جاری بیان میں کہا گیا کہ درآمدی پابندیوں کی وجہ سے پاک سوزوکی کے لیے یہ بہت نازک وقت ہے، مستقبل کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے یہ بھی علم نہیں یہ پابندیاں مزید کتنے عرصے تک جاری رہیں گی ڈیمریجز اور کیبور کی بلند ترین سطح ہماری صنعت کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ہمارے ڈیلرز اور وینڈرز بھی بالترتیب فروخت اور پیداوار نہ ہونے کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔

    کمپنی نے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ اس معاملے کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے اس صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ گفت و شنید کریں۔

    قصور:مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ کی جانب سے قائد اعظم محمد علی جناح اور قائد مسلم لیگ…

    واضح رہے کہ پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹڈ سے قبل ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ 30 دسمبر تک اپنا پروڈکشن پلانٹ مکمل طور پر بند کرچکی ہے کمپنی کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے کمپنی اور اس کے وینڈرز کو خام مال اور پرزہ جات کی کلیئرنس میں دشواری درپیش ہے،انوینٹری کی کمی، سپلائی چین کے تعطل سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں جس کے سبب وہ کاروں کی پروکشن کا عمل جاری نہیں رکھ سکتے۔

    سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو لکھے لیٹر میں مزید کہا گیا تھا کہ ’تمام حالات کی روشنی میں کمپنی نے 20 دسمبر سے 30 دسمبر 2022 تک اپنا پروڈکشن پلانٹ مکمل طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ماحول دوست ہائبرڈ بسوں کی خریداری کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت

  • سعودی عرب  کا بھی الرٹ، اسلام آباد میں مقیم اور آنے والے شہریوں کو احتیاط کی ہدایت

    سعودی عرب کا بھی الرٹ، اسلام آباد میں مقیم اور آنے والے شہریوں کو احتیاط کی ہدایت

    اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفارت خانے کی جانب سے اپنے شہریوں کو سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر احتیاط برتیں اور نقل و حرکت محدود رکھیں اور کسی ضروری کام کے بغیراپنی اقامت گاہوں سے باہرنہیں نکلیں۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب کے سفارت خانے کی جانب سے جاری الرٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب سے پاکستان آنے والے اور یہاں موجود شہری احتیاط کریں اور ضرورت کے بغیر باہر نہ نکلیں۔


    اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد کی سیکیورٹی اعلی سطح پر رکھی گئی ہے اورپاکستان میں مقیم سعودی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وقتِ ضرورت سفارت خانہ کے فون 0092512600900، یا سعودی امور کے فون 0033156794001، یا کراچی میں قونصلیٹ جنرل کے نمبر 00923018555284 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی سفارت خانے نے اپنے اسٹاف کو حملوں کے خدشے کے پیش نظر میریٹ ہوٹل جانے سے روک دیا تھا اور اسی طرح دیگر چند سفارت خانوں کی جانب سے بھی اپنے اسٹاف کو شہریوں کو اسلام آباد میں کچھ عرصے کے لیے خاص طور پر یکم جنوری تک اپنی نقل و حرکت محدود کرنے کی ہدایت کی تھی۔

    امریکی سفارت خانے نے اپنے عملے کو تقریبات، عبادت گاہوں اور زیادہ ہجوم والی جگہوں پر جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا سعودی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ

    اسی طرح عملے کو ذاتی طور پر سیکیورٹی پلانز، شناخت ساتھ رکھنا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی درخواستوں پر عمل کرنے اور ارد گرد سے آگاہ رہنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی تھی اور کہا تھا کہ شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل بڑھا دیا گیا پولیس نے شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ چیکنگ کے عمل میں تعاون کریں۔

    اسلام آباد میں غیرملکی سفارت خانوں کی جانب سے اپنے شہریوں کو احتیاط کرنے کے الرٹ جمعے کو وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد جاری کیے گئے ہیں جہاں ایک پولیس اہلکار اور ٹیکسی ڈرائیور شہید ہوئے تھے-

  • سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل کو15 برس بیت گئے

    سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل کو15 برس بیت گئے

    سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے قتل کو15 برس بیت گئےمگر اس قتل کا معمہ تاحال حل نہیں ہوسکا ملکی تاریخ کا یہ اہم کیس آج بھی لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں زیر التواء ہے۔

    باغی ٹی وی : سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو لیاقت باغ میں تاریخی جلسہ کے بعد واپس جاتے ہوئے لیاقت باغ کے مرکزی گیٹ پر27 کارکنوں سمیت 27 دسمبر2007 کو خود کش حملے میں شہید ہوئیں۔

    ذوالفقار علی بھٹو سے دختر مشرق کا سفر طے کرنے والی بےنظیر، پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم ایک عہد تھیں جو 27 دسمبر 2007 کو تمام ہوا 21جون 1953 کو کراچی میں پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے ہاں پیدا ہونے والی پنکی ملکی سیاست کا ایک درخشاں ستارہ بنی صرف نام ہی نہیں ان کے کام بھی بے نظیر تھے ۔ جوانی میں قدم رکھا تواعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ اور امریکہ کا انتخاب کیا۔

    اپنے والد ذوالفقارعلی بھٹو کی قید سے لے کر پھانسی تک آمریت کے دور میں بینظیر بھٹو نے ہر مصیبت اور مشکل کا ثابت قدمی اوردلیری سے مقابلہ کیا 1986 میں بینظیر بھٹو جلاوطنی کاٹ کر واپس وطن لوٹیں تو پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بن کر سیاست میں باقاعدہ قدم رکھا اور 1987 میں آصف علی زرداری کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔

    بینظیر بھٹو 1988 میں پاکستان اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں تاہم ان کی حکومت زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکی اور 20 ماہ بعد ہی ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا1993ء میں ایک بار پھر حکومت ملی لیکن 3 برس بعد 1996 میں انہیں اقتدار سے محروم کردیا گیا۔

    سندھ حکومت کا 27 دسمبر کو صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان

    1998ء میں بینظیر بھٹو خودساختہ جلاوطن ہو گئیں اور کبھی لندن تو کبھی دبئی میں سکونت اختیار کی 18 اکتوبر 2007 کو بینظیر بھٹو وطن واپس تشریف لائیں تو کراچی ایئرپورٹ پر لاکھوں کارکنوں نے ان کا تاریخی استقبال کیا ۔

    بینظیر بھٹو کو کراچی ایئرپورٹ سے قافلے کی صورت میں لے جایا گیا، اس دوران کارساز کے مقام پر ان کے قافلے پر خودکش حملہ کیا گیا، اس حملے میں درجنوں کارکن لقمہ اجل بنے تاہم بینظیر بھٹو محفوظ رہیں۔

    27 دسمبر 2007 کو بینظیر بھٹو راولپنڈی کے مشہور لیاقت باغ میں جلسے سے خطاب کے بعد واپسی کے دوران کارکنوں کے نعروں کا جواب دینے کے لیے جونہی گاڑی سے سر باہر نکالا تو قاتل نے گولی چلا دی اور یوں دختر مشرق ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سو گئیں۔

    بے نظیر بھٹو قتل کیس سے متعلق پولیس،ایف آئی اے،اسکاٹ لینڈ یارڈ،اقوام متحدہ سے4 انکوائریاں ہوئیں،7چالان پیش کئے گئے،12ججز تبدیل ہوئے291پیشیاں ہوئیں57گواہ پیش ہوئے،جن 5 گرفتار شدگان کو پولیس نے اصل ملزم قرار دیا انسداد دہشت گردی عدالت نے یہ پانچوں بے گناہ قرار دے کر بری کر دیئے۔

    عدالت نے 2پولیس افسران اس وقت کے سی پی او سعو د عزیز اور ایس پی خرم شہزاد کو صرف ناقص سیکورٹی پر دس دس سال قید کی سزا دی،اس وقت یہ دونوں پولیس افسران ضمانت پر رہا ہیں ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں 2023 جنوری کے آخر میں اس کیس کی سماعت متوقع ہے،دیکھنا یہ ہے ہائی کورٹ کیا فیصلہ کرے گی۔

    شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی 15ویں برسی گڑھی خدابخش بھٹو میں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی،جلسہ عام سے وزیر خارجہ اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری،شریک چیئرمین سابق صدرآصف علی زرداری سمیت دیگر مرکزی و صوبائی قائدین خطاب کریں گے سندھ حکومت کی جانب سے 27 دسمبرکو بے نظیر بھٹو کی برسی کے سلسلے میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے-

    وزیر محنت و افرادی قوت سندھ و صدر پاکستان پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی کراچی سے 150 سے زائد بسوں پرمشتمل قافلے کے ساتھ لاڑکانہ گڑھی خدا بخش روانہ ہوئے ہیں۔

    کرکٹ بورڈ میں سیاست نہیں ہونی چاہیے،نجم سیٹھی کوایڈجسٹ کرنےکیلئےکرکٹ بورڈ کا آئین بدلا گيا،رمیز راجہ

    سعید غنی کا کہنا ہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی 15 ویں برسی کے سلسلے میں 27 دسمبر کو دوپہر 2 بجے ایک جلسہ عام منعقد کیاجائے گا،پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے تحت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی مزار پرچادر چڑھائی جائے گی۔

    علاوہ ازیں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش بھٹومیں پیپلزپارٹی نے جلسے کا پنڈال تیارکرلیا ہے جبکہ گڑھی خدابخش بھٹو، نوڈیرو اور لاڑکانہ میں استقبالیہ کیمپس قائم کردیئے گئے ہیں جلسہ عام کے اطراف میں واک تھروگیٹس اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کردیئے ہیں، سیکیورٹی کے لئے 8 ہزار سے زائد اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

    شہید بے نظیربھٹو کی برسی کے موقع پرکراچی سمیت ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام تعزیتی اجتماعات اور مختلف تقریبات منعقد کی جائیں گی جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی جائے گی۔

  • باچا خان ائیرپورٹ پر دبئی سے آنیوالے مسافروں سے 96 تولہ سونا برآمد

    باچا خان ائیرپورٹ پر دبئی سے آنیوالے مسافروں سے 96 تولہ سونا برآمد

    پشاور: کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ پشاور نے باچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے دبئی سے آنے والی پرواز کے مسافروں سے ایک کلو سے زائد سونا برآمد کرلیا-

    باغی ٹی وی : کسٹم حکام نے دبئی سے آنے والی پرواز ای کے 636 کے مسافروں کے سامان کی چیکنگ کے دوران پشاور کے رہائشی مطیع اللہ ولد وارث خان اور نورین بی بی ولد پرویزاقبال سے 1168 گرام (96 تولہ) سونے کے زیورات بر آمد کر لئے-

    سندھ کے پچاس کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

    تفتیش کے دوران مسافرقانونی دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہے حکام کی طرف سے کسٹم ایکٹ 1969 کے تحت مزید کارروائی کرتے ہوئے سونا قبضے میں لے کر ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔

    قبل ازیں پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور کسٹم نے بحیرہ عرب میں آپریشن کرکے 2 ارب روپے کی منشیات کی کھیپ پکڑلی تھی-

    کموڈور عامر اقبال اور ایڈیشنل کلکٹر کسٹم علی رضا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور کسٹم نے بحیرہ عرب میں انسداد منشیات کے خلاف مختلف آپریشنز کرکے اربوں روپے مالیت کی منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی۔

    گوجرہ:جعلی ایس ایچ او کے خلاف قانون حرکت میں آگیا

    اسمگلروں کی جانب سے منشیات سمندر میں پھینک کر شواہد کو مٹانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے اسمگلروں سے برآمد ہونے والی منشیات کی مالیت 2 ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔

    علاوہ ازیں میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے کھلے سمندر میں پاکستان حدود کی خلاف ورزی کرنے والی لانچ کو تحویل میں لے کر لانچ پر سوار 6 بھارتی ماہی گیروں کو گرفتار کرلیا۔

    بھارتی ماہی گیروں کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون میں موجودگی کے باعث پیٹرولنگ ٹیموں نے گرفتار کیا۔ مزید قانونی کارروائی کے لیے بھارتی ماہی گیروں کو کراچی منتقل کیا گیا-

    ڈی جی خان سے عمرہ کیلئے اسلام آباد ائیرپورٹ جانے والی فیملی کو راولپنڈی میں ڈاکوؤں نے لوٹ لیا

  • امریکا میں موسم سرما کا بدترین طوفان،نظام زندگی شدید متاثر،اموات کی تعداد 50 ہوگئی

    امریکا میں موسم سرما کا بدترین طوفان،نظام زندگی شدید متاثر،اموات کی تعداد 50 ہوگئی

    امریکا میں موسم سرما کے بدترین طوفان سے مختلف حادثات میں اموات کی تعداد 50 تک جا پہنچی ہے۔

    باغی ٹی وی : برفانی طوفان ’بم‘ نے امریکا اور کینیڈا میں معمول کی زندگی مفلوج کردی۔ سڑکوں پربرف جمنے کے باعث ٹریفک معطل ہوگئی جبکہ امریکا میں سخت ترین طوفان کے باعث جمعے سے اب تک 15 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں-

    امریکا اورکینیڈا میں برفانی طوفان ’بم سائیکلون‘ سے زندگی مفلوج، 38 افراد ہلاک

    ریاست نیویارک کے مغربی علاقے 43 انچ برف میں دبے ہوئے ہیں،گاڑیاں کئی فٹ برف میں پھنسی ہوئی ہیں اور ہزاروں لوگوں کو تاحال بجلی کی فراہمی منقطع ہے-

    سب سے زیادہ متاثرہ شہر بفیلو کا انٹرنیشنل ائیرپورٹ بھی منگل تک بند کر دیا گیا ہے،کئی فٹ برف اور حد نگاہ کم ہونے پر شہریوں کے لیے سفری پابندی پیرکو بھی برقرار رکھی گئی۔

    بفیلو میں 25 ہلاکتیں ہو چکی ہیں، شہر میں جمعے سے اب تک 8 فٹ تک برف پڑی، سرد ہواؤں کے ساتھ برف باری کا سلسلہ منگل تک جاری رہنے کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔

    جاپان میں شدیدبرفباری:مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد14ہوگئی

    حکام کا کہنا ہے کہ بفیلو میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے، اس سے پہلے 1977 میں موسم سرما کے طوفان سے بفیلو میں 30 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

    کینیڈا کے صوبے اونٹاریو اورکیوبک برفانی طوفان سے شدید متاثرہیں۔ کیوبک سے لے کر امریکی ریاست ٹیکساس تک 17 لاکھ صارفین کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔ برفانی طوفان سے 25 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    علاوہ ازیں شہریوں کو سردموسم میں گھروں میں رہنے کی تاقید کی گئی ہے جبکہ بہت ساری کمپنیز نے تو آن لائن ورک فرام ہوم دے دیا ہے اپنے ملازمین کو کیونکہ ہر طرف برف ہی برف ہے اور لوگ کافی مشکلات کا شکار ہیں لہذا اس کو دیکھتے ہوئے لوگوں احتیاطی تدابیر کی ہدایت کی گئی ہے.

    امریکا: موسم سرما کا بدترین برفانی طوفان،ہلاکتوں کی تعداد 22 ہو گئی، 2800 پروازیں…

  • سشانت سنگھ کی موت کے حوالے پوسٹ مارٹم کرنے والےعینی شاہد کے تہلکہ خیز انکشافات

    سشانت سنگھ کی موت کے حوالے پوسٹ مارٹم کرنے والےعینی شاہد کے تہلکہ خیز انکشافات

    نئی دہلی: بھارتی اداکار سشانت سنگھ راجپوت کو قتل کیا گیا تھا اور انہوں نے خود کشی نہیں کی تھی، یہ دعویٰ آنجہانی اداکار کی نعش کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ایک عینی شاہد نے کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : مؤقر بھارتی نشریاتی ادارے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے ممبئی کے کوپر اسپتال کے مردہ خانے میں کام کرنے والے روپ کمار شاہ نے کہا کہ جب میں نے سشانت سنگھ راجپوت کی لاش دیکھی مجھے یہ خود کشی کا معاملہ نہیں لگا مجھے 28 سال سے زائد کا تجربہ ہے، سشانت کی باڈی میں زخموں کے نشانات تھے جن میں سے دو تین نشانات گردن پربھی تھے-

    روپ کمار نے کہا کہ قواعد و ضوابط کے تحت پوسٹ مارٹم کو ریکارڈ کیا جانا چاہیے تھا، میں نے سشانت سنگھ کی نعش دیکھ کر اپنے سینئرز کو بتایا بھی تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ خودکشی کا کیس نہیں بلکہ قتل کا معاملہ ہے،لیکن انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے پر بعد میں بات کریں گے۔

    روپ کمار کے مطابق میں نے اپنے سینئرز سے یہاں تک کہا کہ ہمیں قواعد و ضوابط کے تحت کام کرنا چاہیے لیکن انہوں نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا اور کہا کہ صرف نعش کی تصاویر لو اور جلد از جلد پولیس کے حوالے کردو۔

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میں 28 سال سے لاشیں دیکھ رہا ہوں، سشانت کے جسم پر ایسا کوئی نشان نہیں تھا جو عام طور پر پھندا لگا کر خودکشی کرنے والے کے جسم پر ہوتا ہے، اس کے جسم پر فریکچرز کے نشانات تھے، پوسٹ مارٹم میں کیا لکھنا ہے یہ تو ڈاکٹر کا کام ہے، سشانت کو انصاف ملنا چاہیے-

    روپ کمار نے کہا کہ سشانت سنگھ راجپوت کی تصویر دیکھ کر کوئی بھی آسانی سے یہ بتا سکتا ہے کہ انہیں قتل کیا گیا، اگر تحقیقاتی ایجنسی مجھے بلائے گی تو میں انہیں بھی یہ سب بتاؤں گا۔

    خیال رہے کہ سشانت سنگھ راجپوت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ دم گھٹنے کو قرار دیا گیا ہے اور پوسٹ مارٹم ممبئی کے اسی اسپتال میں کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ 14 جون 2020 کو 34 سالہ اداکار سشانت سنگھ راجپوت ممبئی میں اپنے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے جس کے بعد ان کے مداحوں کی جانب سے سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے پر سی بی آئی سے تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا بعد ازاں سشانت گھر والوں نے ان کی دوست ریا چکرورتی کو اداکارکی خودکشی کی وجہ قرار دیا تھا اور ان کے خلاف بہار میں مقدمہ بھی درج کرایا تھا جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بالی وڈ اداکار سُشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خودکشی کی تحقیقات بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو دینے کا حکم دیاتھا تاہم اب تک تحقیقات میں موت کی ٹھوس وجہ سامنے نہیں آسکی ہے۔

  • کراچی : ڈاکؤوں کی فائرنگ سے 3 افراد زخمی،پولیس مقابلوں میں 2 ڈاکو ہلاک 4 زخمی حالت میں گرفتار

    کراچی : ڈاکؤوں کی فائرنگ سے 3 افراد زخمی،پولیس مقابلوں میں 2 ڈاکو ہلاک 4 زخمی حالت میں گرفتار

    کراچی میں مختلف مقامات پر ڈاکؤوں کی فائرنگ سے 3 افراد زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : کراچی کے علاقے لیاقت آباد انڈر پاس کے قریب ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر فائرنگ کر کے ایک شخص کو زخمی کر دیا اور فرار ہوگئے زخمی ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا زخمی ہونے والے شخص کی شناخت 22 سالہ اسامہ ولد عرفان اکرم کے نام سے ہوئے ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔

    کراچی: ڈاکوؤں کے ہاتھوں ایک اور شہری قتل،رواں ماہ ڈکیتی مزاحمت پر قتل ہونے والوں…

    دوسری جانب ڈیفنس فیز ٹو لین نمبر تین باربی کیو ریسٹورانٹ کے قریب ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر فائرنگ کر کے ایک شخص کو زخمی کر دیا اور فرار ہوگئے زخمی ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت 27 سالہ احمد علی ولد تنویر علی کے نام سے کی گئی۔

    عالوہ ازیں کورنگی صنعتی ایریا کے علاقے مہران ٹاؤن محمد خان گوٹھ گلی نمبر 4 میں پیش آیا جہاں ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کر کے نوجوان کو زخمی کر دیا جسے فوری طبی امداد کے لیے جناح اسپتال لیجایا گیا جہاں اس کی شناخت 22 سالہ فیصان کے نام سے کی گئی ہے۔

    دوسری جانب شہر کے مختلف علاقوں میں رینجرز اور پولیس کی مختلف کارروائیوں کے دوران 2 ڈکیت ہلاک جبکہ 4 کو زخمی حالت میں گرفتارکرلیا گیا۔

    کوئٹہ میں دستی بم کا دھماکا، متعدد افراد زخمی

    سپرہائی وے فقیرہ گوٹھ کے قریب رینجرز اورپولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دوروز قبل نجی اسپتال کے سیکیورٹی گارڈ کوفائرنگ کرکے قتل کرنے والا ڈکیت موقع پرہلاک ہوگیا جبکہ اس کے ساتھی کو زخمی حالت میں گرفتارکرلیا گیا،ملزمان کی فائرنگ سے20 سالہ راہ گیر سلطان ولد جعمہ خان بھی زخمی ہوا جسے فوری عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا ۔

    ملزمان کے قبضے سے پسٹل ، 30راؤنڈ اورایک موٹر سائیکل برآمد ہوئی، زرائع کے مطابق ملزم بلال سہراب گوٹھ سے نادرن بائی پاس کے علاقوں میں ڈکیتی ،اسٹریٹ کرائم اوردیگرسنگین جرائم میں ملوث تھا۔

    مطابق ترجمان کے مطابق گرفتار زخمی ملزم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کےحوالے کردیا گیا ہے ،رینجرز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرزچیک پوسٹ،رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرزمددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایس کے ذریعے دیں، آپ کا نام صیغہ رازمیں رکھا جائے گا۔

    رینجرز اور پولیس نے منگھوپیر روڈ سے اسنیپ چیکنگ کے دوران فائرنگ کے تبادلے کے بعد قتل اور ڈکیتی کی واردات میں ملوث ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا،چیکنگ کے دوران مشتبہ موٹرسائیکل سوار دو مشتبہ افراد کو رکنے کا اشارہ دیا جس پر ملزمان نے فائرنگ کر دی۔

    کراچی:ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر معروف اداکارہ کا بھائی قتل

    ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی فائرنگ سے ایک ملزم فیصل خان عرف منیجر زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا جبکہ ملزم کا دوسرا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا-

    عوامی کالونی ، زمان ٹاؤن اور اورنگی ٹاؤن پولیس نے مبینہ مقابلوں کے بعد 3 ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کر لیا ، گرفتار ملزمان کے 3 ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    عوامی کالونی پولیس نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب جلیبی چوک کورنگی نمبر6 میں مبینہ مقابلے میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک ڈاکو کو ہلاک کر دیا ، ہلاک ہونے والے ملزم کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا، ہلاک ہونے والے ملزم کا ساتھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

    زمان ٹاؤن پولیس نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب نورانی بستی قبرستان کے قریب سے مبینہ مقابلے کے بعد ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ، زخمی ملزم کو طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا گیا، زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت سمیر ولد حق نواز کے نام سے کی گئی ، زخمی حالت میں گرفتار ملزم کے دو ساتھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہوگئے فرار ہونے والے ملزمان کی شناخت واجد اور ہارون کے نام سے ہوئی-

    شدید دھند،ٹریفک حادثات6جاں بحق ،درجنوں زخمی

    اورنگی ٹاؤن پولیس نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب قبرستان ایم پی آر کالونی سے مبینہ مقابلے کے بعد ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ، زخمی ملزم کو طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت 23 سالہ محمد فیصل ولد محمد بشیر کے نام سے کی گئی ، گرفتار ملزم کا ایک ساتھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا-

    علاوہ ازیں نارتھ کراچی کے علاقے محمد شاہ قبرستان کے قریب لوٹ مار کی واردات کے دوران ڈکوؤں نے مزاحمت پر ایک شخص کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا موقع پر موجود افراد نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر تعاقب کی اور ایک ڈاکو کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنا کر سرسید ٹاؤن پولیس کے حوالے کر دیا۔

    ڈاکؤوں کی فائرنگ سے زخمی شہری کو فوری طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال لیجایا گیا جہاں اس کی شناخت 45 سالہ شاکر کے نام سے ہوئی ہے۔

    پولیس کے مطابق پکڑے گئے ڈاکو کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی جسے پولیس نے بے ہوشی کی حالت میں طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال پہنچایا ہے پکڑے گئے ڈاکو کے قبضے سے اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے اس حوالے سے پولیس واقعہ کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

    ملازمت سے فارغ کیوں کیا؟ ملازم نے فیکٹری کےمالک سمیت 3 افراد کو قتل کر دیا

  • کرکٹ بورڈ میں سیاست نہیں ہونی چاہیے،نجم سیٹھی کوایڈجسٹ کرنےکیلئےکرکٹ بورڈ کا آئین بدلا گيا،رمیز راجہ

    کرکٹ بورڈ میں سیاست نہیں ہونی چاہیے،نجم سیٹھی کوایڈجسٹ کرنےکیلئےکرکٹ بورڈ کا آئین بدلا گيا،رمیز راجہ

    سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) رمیز راجہ کا کہنا ہےکہ نجم سیٹھی کو ایڈجسٹ کرنےکے لیےکرکٹ بورڈ کا آئین بدلا گيا-

    باغی ٹی وی : اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کھیل صرف اور صرف کرکٹرز کیلئے ہے، کرکٹ بورڈ میں سیاست نہیں ہونی چاہیے،نجم سیٹھی کو لانے کیلئے پورا آئین تبدیل کردیا گیا، اس طرح کی چیزوں سے دکھ ہوتا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ نجم سیٹھی چوہدراہٹ کے لیے بورڈ میں آئے ہیں، انہیں کرکٹ سےکچھ لینا دینا نہیں نجم سیٹھی نےکبھی بیٹ نہیں پکڑا، یہ صرف پاکستان میں ہی ہوتا ہےکہ سیاسی بھرتی کے لیے آئين بدل دو ، جو لوگ باہر سے آکر بورڈ میں حملہ کرتے ہیں وہ اچھا نہیں ہے، نجم سیٹھی کو لانےکے لیے بورڈ میں سب کچھ بدل کررکھ دیا گیا، رات کو سوا 2 بجےٹوئٹ کر رہےہیں کہ رمیز راجہ باہر ہوگئےمجھے مبارک باد دیں۔

    رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ جب ٹیم پاکستان آرہی تھی تو آپ نے چیف سلیکٹر کو بدل دیا، مڈل آف دی سیزن آپ کہہ رہے ہیں کہ مکی آرتھر کو لےکر آئیں، یہ طریقہ نہیں کہ کرکٹرز جنہوں نےکافی ٹیسٹ کھیلے ان کو باہر نکال دیں، مجھےخطرہ ہےبہت زیادہ تبدیلیاں کرنے سےٹیم کی یکجہتی ختم نہ ہوجائے-

    ان کا کہنا تھا کہ قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلی کرنا خطرے سے خالی نہیں ، پاکستان ٹیم ون ڈے اور ٹی 20 کرکٹ میں اچھا پرفارم کر رہی ہے۔انگلینڈ کیخلاف سیریز ہمارے لیے ایک سبق ہے جو آپ کامیابیاں حاصل کرتے ہیں وہ آسانی سے نہیں ملتی، ہمارا اسٹرائیک ریٹ بہترین چل رہا ہے۔

    بھارت کے حوالے سے سابق چیئرمین کا کہنا تھا کہ کرکٹ باؤنڈریز کو توڑتی ہے، بارڈر توڑتی ہے، بدمزگی وہاں سے شروع ہوئی جب ایشیا کپ ہمیں ملا، پاکستان میں کافی عرصے سے میچز نہیں ہو رہے تھے، جب میچ باقاعدگی سے ہوئے تواس لیے میں کھڑا رہا کہ ایشیا کپ پاکستان میں ہی ہوگا، بھارت نے کہا کہ یہ نیوٹرل وینیو پر ہوگا پاکستان نہیں جائیں گے بھارت کے یہاں نہ آنے کے معاملے پرہم نے اسٹینڈ لیا ،جہاں پاکستان کیساتھ زیادتی ہو گی وہاں ہم اسٹینڈ لیں گے ۔

    انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بھارت سے ہمیشہ مجھے بہت پیار ملا ہے لیکن بھارت کیخلاف پاکستان کی جیت ضروری ہے۔

  • ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،افغان وزیر تعلیم

    ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،افغان وزیر تعلیم

    کابل: طالبان کا کہنا ہے کہ ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے-

    باغی ٹی وی : طالبان کے ہائرایجوکیشن اعلیٰ تعلیم کے وزیر نے کہا ہےاگر وہ ہم پر ایٹم بم گراتے ہیں تو ہم خواتین کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم کو روکنے کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گےعالمی برادری کی جانب سے پابندیوں کے لیے تیار ہیں۔

    دوسری جانب خواتین کے کام کرنے پر عارضی پابندی پر ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی حکام کی تنقید کی مذمت کردی اور اسے افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا امریکی حکام کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے اہلکار جوزپ بوریل نے اتوار کو افغانستان میں خواتین کو مقامی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں میں کام کرنے سے روکنے کے طالبان کے فیصلے کی مذمت کی۔

    بوریل نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی یونین، انسانی امداد اور افغان عوام کی بنیادی ضروریات کے سب سے بڑے فراہم کنندگان میں سے ایک کے طور پر، بین الاقوامی انسانی قوانین اور اصولوں کا احترام کرنے کے اپنے عزم کے تحت طالبان سے فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے یورپی یونین اس فیصلے کے افغان عوام کو امداد جاری رکھنے پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے گی۔

    خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا…

    ہفتے کے روز طالبان نے افغانستان میں غیر سرکاری تنظیموں کو احکامات جاری کیے تھے کہ وہ خواتین کو ملازمت دینے سے روک دیں، تاہم طالبان نے غیر ملکی خواتین کارکن کے حوالے سے اپنے ہدایت کی وضاحت نہیں کی تھی۔

    افغان طالبان نے حجاب سمیت خواتین ملازمین کے لیے مناسب ڈریس کوڈ پر عمل نہ کرنے کے فیصلے کو جواز بنایا اور فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے والی تنظیموں کے لائسنس معطل کرنے کی دھمکی دی۔

    طالبان کے اس اقدام کی عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی گئی اور اس فیصلے سے امداد کی فراہمی پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ عالمی برادری نے کہا کہ طالبان کا یہ فیصلہ ملک میں خواتین کی آزادی اور حقوق کو محدود کے ضمن میں آتا ہے۔

    خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا…