Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    25 دسمبر یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیگم زیب النساء صاحبہ کو بہت سے اہم ترین اور منفرد اعزازات حاصل ہیں اور یہ سب کچھ انہیں خداداد صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوا۔ زیب النساء 25 دسمبر 1921 میں کولکتہ کے ایک علمی اور ادبی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب واجد علی ایک نامور لکھاری تھے جنہوں نے سب سے پہلے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری کا بنگالی زبان میں ترجمہ کیا۔ ان کے والد نے اپنی ہونہار صاحبزادی کو اعلی تعلیم دلائی۔ہندوستان کی تقسیم کے باعث ان کا خاندان کراچی پاکستان منتقل ہو گیا۔ زیب النسا کی شادی 1940 میں ایک کاروباری شخصیت خلیفہ محمد حمید اللہ سے ہوئی جس سے انہیں دو بیٹیاں نیلوفر اور یاسمین پیدا ہوئیں۔ زیب النسا نے 1948 میں انگریزی اخبار روزنامہ ڈان سے کالم نگاری کا آغاز کیا جبکہ 1958 میں انہوں نے کراچی سے انگریزی میں Mirror کے نام سے ماہنامہ جریدہ نکالا جو کہ بہت جلد پاکستان کا ایک مقبول ترہن جریدہ بن گیا ۔ وہ "مرر” کی ایڈیٹر اور پبلشر خود ہی تھیں جبکہ وہ ادارت اور کالم نگاری کے علاوہ شاعری بھی کرتی تھیں اس طرح وہ پاکستان میں انگریزی زبان کی پہلی خاتون صحافی، کالم نگار ، ایڈیٹر ، پبلشر اور انگریزی شاعرہ بن گئیں جو کہ بہت بڑے اعزازات ہیں ۔ اپنے کالمز اور اداریوں میں حکومت کی غلط پالیسیوں پر زبردست تنقید کی وجہ سے ان کے جریدے کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن انہوں نے معروف قانون دان اے کے بروہی کی توسط سے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا اور یہ مقدمہ انہوں نے جیت لیا اور پاکستان میں کسی بھی خاتون صحافی کا مقدمہ جیتنے کا پہلا اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا۔

    محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان ان کی بہترین دوستوں میں شامل تھیں ۔ زیب النسا صاحبہ کے خاوند پاکستان میں باٹا شوز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز تھے۔ 1970 میں ان کے شوہر حمید اللہ صاحب کا آئر لینڈ تبادلہ کر دیا گیا تو زیب النسا بھی ان کے ہمراہ ڈبلن آئر لینڈ منتقل ہو گئیں لیکن کراچی پاکستان میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ 1983 میں ان کے شوہر محترم کا کراچی میں انتقال ہوا۔ زیب النسا کو پاکستان کی پہلی خاتون مبصر ہونے اور الازہر یونیورسٹی قاہرہ سے خطاب کرنے کا بھی اعزاز حاصل رہا ہے ۔ 10 ستمبر 2000 میں ان کا کراچی میں انتقال ہوا ۔ کراچی کی مشہور گلی ” زیب النسا اسٹریٹ” ان کے نام سے منسوب ہے ۔ بیگم زیب النساء حمید اللہ کی انگریزی تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Indian Bouquet
    ۔ 1941
    ۔ (2)Lotus Leaves
    ۔ 1946
    ۔ (3)Sixty Days in
    ۔ America
    ۔ 1956
    ۔ (4)The Young Wife
    ۔ 1958
    ۔ (5)The Flute of
    ۔ Memory
    ۔ 1964
    ۔ (6)Poems
    ۔ 1972

  • 26 دسمبر ،اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ وفات

    26 دسمبر ،اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ وفات

    مر بھی جائوں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
    لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

    26 دسمبر اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ وفات

    یہ دُکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
    ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

    سیدہ پروین شاکر 24 نومبر 1954 ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے۔آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے انہوں بچپن میں پروین کو کئی شعراء کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبانی دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔

    سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں، اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990 میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق ہوئی ۔

    شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔ 1977ء میں آپ کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا۔ اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرامیں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ آپ کی زندگی میں ہی آپ کے کلام کی کلیات ’’ماہ تمام‘‘ بھی شائع ہوچکی تھی جبکہ آپ کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔

    26 دسمبر 1994ء کو اس خبر نے ملک بھر کے ادبی حلقوں ہی نہیں عوام الناس کو بھی افسردہ اور ملول کردیا کہ ملک کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر اسلام آباد میں ٹریفک کے ایک اندوہناک حادثے میں وفات پاگئی ہیں۔
    پروین شاکر کو اگر اردو کے صاحب اسلوب شاعروں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ دیا اور شاعری کو نسائی احساسات سے مالا مال کیا۔ ان کا یہی اسلوب ان کی پہچان بن گیا۔ آج بھی وہ اردو کی مقبول ترین شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔

    پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھے۔

    پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا، یوم وفات منیر نیازی

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا، یوم وفات منیر نیازی

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا، یوم وفات منیر نیازی

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا
    دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

    منیر نیازی

    پیدائش:09اپریل 1928ء
    ہوشیار پور، ہندوستان
    وفات:26دسمبر 2006ء

    نام محمد منیر خاں قبیلہ نیازی پٹھان اور تخلص منیر ہے۔ 09اپریل 1928ء کو خان پور ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔۱۹۴۷ء میں بی اے کیا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے۔مختلف اخبارات اور جرائد سے وابستہ رہے۔ فلمی نغمہ نگاری کی۔غزل ان کی بنیادی شناخت ہے۔پابند اور آزاد نظمیں بھی کافی تعداد میں لکھی ہیں۔ نثری نظمیں بھی لکھتے تھے۔پنجابی کے بھی بہت اچھے شاعر تھے۔وہ اردو اور پنجابی کے ۳۰؍ سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ اردو شاعری کے چند مجموعوں کے نام یہ ہیں : ’تیز ہوا اور تنہا پھول‘،’جنگل میں دھنک‘، ’دشمنوں کے درمیان شام‘، ’ماہ منیر‘، ’اس بے وفاکا شہر‘،’چھ رنگین دروازے‘۔ان کو یکجا کرکے ’’کلیات منیر‘، ’غزلیات منیر‘، اور ’نظم منیر‘، چھپ گئی ہے۔26؍دسمبر2006ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ انھیں اکادمی ادبیات پاکستان کا ’کمال فن‘ ایوارڈ دیا گیا۔ انھیں حسن کارکردگی ایوارڈ کے علاوہ دومرتبہ ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:221

    اشعار
    ۔۔۔۔۔

    کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
    سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

    آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
    ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

    اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
    شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

    خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے
    ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو

    یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں
    تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں

    خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
    سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے

    اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا
    چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیا

    غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
    تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں

    عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی
    جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

    آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی
    بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی

    محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
    گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگی

    مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ
    اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا

    وہ جس کو میں سمجھتا رہا کامیاب دن
    وہ دن تھا میری عمر کا سب سے خراب دن

    شہر کی گلیوں میں گہری تیرگی گریاں رہی
    رات بادل اس طرح آئے کہ میں تو ڈر گیا

    شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس
    رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں

    خواہشیں ہیں گھر سے باہر دور جانے کی بہت
    شوق لیکن دل میں واپس لوٹ کر آنے کا تھا

    کٹی ہے جس کے خیالوں میں عمر اپنی منیرؔ
    مزا تو جب ہے کہ اس شوخ کو پتا ہی نہ ہو

    جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ
    غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

    میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا
    یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں

    کل میں نے اس کو دیکھا تو دیکھا نہیں گیا
    مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی بہت غم سے چور تھا

    کوئی تو ہے منیرؔ جسے فکر ہے مری
    یہ جان کر عجیب سی حیرت ہوئی مجھے

    وقت کس تیزی سے گزرا روزمرہ میں منیرؔ
    آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے

    تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوں
    میں بس کی کھڑکیوں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوں

    اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
    میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

    تم میرے لیے اتنے پریشان سے کیوں ہو
    میں ڈوب بھی جاتا تو کہیں اور ابھرتا

    کسی اکیلی شام کی چپ میں
    گیت پرانے گا کے دیکھو

    منیرؔ اس خوب صورت زندگی کو
    ہمیشہ ایک سا ہونا نہیں ہے

    پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا دل کو
    حسن والوں کی سادگی نہ گئی

    اچھی مثال بنتیں ظاہر اگر وہ ہوتیں
    ان نیکیوں کو ہم تو دریا میں ڈال آئے

    ایک وارث ہمیشہ ہوتا ہے
    تخت خالی رہا نہیں کرتا

    جانتے تھے دونوں ہم اس کو نبھا سکتے نہیں
    اس نے وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیا

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
    دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

    رہنا تھا اس کے ساتھ بہت دیر تک مگر
    ان روز و شب میں مجھ کو یہ فرصت نہیں ملی

    میں اس کو دیکھ کے چپ تھا اسی کی شادی میں
    مزا تو سارا اسی رسم کے نباہ میں تھا

    مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں
    میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں

    میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
    عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا

    بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
    اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

    غیروں سے مل کے ہی سہی بے باک تو ہوا
    بارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہوا

    منیرؔ اچھا نہیں لگتا یہ تیرا
    کسی کے ہجر میں بیمار ہونا

    چاہتا ہوں میں منیرؔ اس عمر کے انجام پر
    ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو

    ہے منیرؔ تیری نگاہ میں
    کوئی بات گہرے ملال کی

    کچھ دن کے بعد اس سے جدا ہو گئے منیرؔ
    اس بے وفا سے اپنی طبیعت نہیں ملی

    زمیں کے گرد بھی پانی زمیں کی تہہ میں بھی
    یہ شہر جم کے کھڑا ہے جو تیرتا ہی نہ ہو

    مجھ سے بہت قریب ہے تو پھر بھی اے منیرؔ
    پردہ سا کوئی میرے ترے درمیاں تو ہے

    جرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا
    کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

    کیوں منیرؔ اپنی تباہی کا یہ کیسا شکوہ
    جتنا تقدیر میں لکھا ہے ادا ہوتا ہے

    دل عجب مشکل میں ہے اب اصل رستے کی طرف
    یاد پیچھے کھینچتی ہے آس آگے کی طرف

    گھٹا دیکھ کر خوش ہوئیں لڑکیاں
    چھتوں پر کھلے پھول برسات کے

    میں ہوں بھی اور نہیں بھی عجیب بات ہے یہ
    یہ کیسا جبر ہے میں جس کے اختیار میں ہوں

    اس کو بھی تو جا کر دیکھو اس کا حال بھی مجھ سا ہے
    چپ چپ رہ کر دکھ سہنے سے تو انساں مر جاتا ہے

    کچھ وقت چاہتے تھے کہ سوچیں ترے لیے
    تو نے وہ وقت ہم کو زمانے نہیں دیا

    تیز تھی اتنی کہ سارا شہر سونا کر گئی
    دیر تک بیٹھا رہا میں اس ہوا کے سامنے

    اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے
    پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا

    کتنے یار ہیں پھر بھی منیرؔ اس آبادی میں اکیلا ہے
    اپنے ہی غم کے نشے سے اپنا جی بہلاتا ہے

    ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
    اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا

    تھا منیرؔ آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط
    اس کا اندازہ سفر کی رائیگانی سے ہوا

    بیٹھ کر میں لکھ گیا ہوں درد دل کا ماجرا
    خون کی اک بوند کاغذ کو رنگیلا کر گئی

    اپنے گھروں سے دور بنوں میں پھرتے ہوئے آوارہ لوگو
    کبھی کبھی جب وقت ملے تو اپنے گھر بھی جاتے رہنا

    یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
    تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا
    پھر مجھے اس شہر میں نا معتبر اس نے کیا

    لیے پھرا جو مجھے در بہ در زمانے میں
    خیال تجھ کو دل بے قرار کس کا تھا

    جنگلوں میں کوئی پیچھے سے بلائے تو منیرؔ
    مڑ کے رستے میں کبھی اس کی طرف مت دیکھو

    نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
    یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں

    میں بہت کمزور تھا اس ملک میں ہجرت کے بعد
    پر مجھے اس ملک میں کمزور تر اس نے کیا

    میں خوش نہیں ہوں بہت دور اس سے ہونے پر
    جو میں نہیں تھا تو اس پر شباب کیوں آیا

    وہم یہ تجھ کو عجب ہے اے جمال کم نما
    جیسے سب کچھ ہو مگر تو دید کے قابل نہ ہو

    رویا تھا کون کون مجھے کچھ خبر نہیں
    میں اس گھڑی وطن سے کئی میل دور تھا

    اٹھا تو جا بھی چکا تھا عجیب مہماں تھا
    صدائیں دے کے مجھے نیند سے جگا بھی گیا

    ایسا سفر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں
    ایسا مکاں ہے جس میں کوئی ہم نفس نہیں

    دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
    دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

    غیر سے نفعت جو پا لی خرچ خود پر ہو گئی
    جتنے ہم تھے ہم نے خود کو اس سے آدھا کر لیا

    گلی کے باہر تمام منظر بدل گئے تھے
    جو سایۂ کوئے یار اترا تو میں نے دیکھا

    وہ کھڑا ہے ایک باب علم کی دہلیز پر
    میں یہ کہتا ہوں اسے اس خوف میں داخل نہ ہو

    ہم بھی منیرؔ اب دنیا داری کر کے وقت گزاریں گے
    ہوتے ہوتے جینے کے بھی لاکھ بہانے آ جاتے ہیں
    یہ نماز عصر کا وقت ہے
    یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی

    بڑی مشکل سے یہ جانا کہ ہجر یار میں رہنا
    بہت مشکل ہے پر آخر میں آسانی بہت ہے

    ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں
    زر کے زور سے زندہ ہیں سب خاک کے اس ویرانے میں
    آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول
    عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ
    ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا

    دن بھر جو سورج کے ڈر سے گلیوں میں چھپ رہتے ہیں
    شام آتے ہی آنکھوں میں وہ رنگ پرانے آ جاتے ہیں

    اب کسی میں اگلے وقتوں کی وفا باقی نہیں
    سب قبیلے ایک ہیں اب ساری ذاتیں ایک سی

    وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیا
    ریشمی ملبوس کی خوشبو سے جادو کر گیا

    مہک عجب سی ہو گئی پڑے پڑے صندوق میں
    رنگت پھیکی پڑ گئی ریشم کے رومال کی

    جن کے ہونے سے ہم بھی ہیں اے دل
    شہر میں ہیں وہ صورتیں باقی

    رات اک اجڑے مکاں پر جا کے جب آواز دی
    گونج اٹھے بام و در میری صدا کے سامنے

    خوشبو کی دیوار کے پیچھے کیسے کیسے رنگ جمے ہیں
    جب تک دن کا سورج آئے اس کا کھوج لگاتے رہنا

    شاید کوئی دیکھنے والا ہو جائے حیران
    کمرے کی دیواروں پر کوئی نقش بنا کر دیکھ

    اک تیز رعد جیسی صدا ہر مکان میں
    لوگوں کو ان کے گھر میں ڈرا دینا چاہئے

    منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
    کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

    تو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے
    عکس دیوار کے بدلتے ہی

    ایک دشت لا مکاں پھیلا ہے میرے ہر طرف
    دشت سے نکلوں تو جا کر کن ٹھکانوں میں رہوں

    یہ میرے گرد تماشا ہے آنکھ کھلنے تک
    میں خواب میں تو ہوں لیکن خیال بھی ہے مجھے

    چاند چڑھتا دیکھنا بے حد سمندر پر منیرؔ
    دیکھنا پھر بحر کو اس کی کشش سے جاگتا

    جب سفر سے لوٹ کر آئے تو کتنا دکھ ہوا
    اس پرانے بام پر وہ صورت زیبا نہ تھی

    دیکھے ہوئے سے لگتے ہیں رستے مکاں مکیں
    جس شہر میں بھٹک کے جدھر جائے آدمی

    ملتی نہیں پناہ ہمیں جس زمین پر
    اک حشر اس زمیں پہ اٹھا دینا چاہئے

    سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں
    ان امتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیں

    لائی ہے اب اڑا کے گئے موسموں کی باس
    برکھا کی رت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    زندہ لوگوں کی بود و باش میں ہیں
    مردہ لوگوں کی عادتیں باقی

    دشت باراں کی ہوا سے پھر ہرا سا ہو گیا
    میں فقط خوشبو سے اس کی تازہ دم سا ہو گیا

    مرے پاس ایسا طلسم ہے جو کئی زمانوں کا اسم ہے
    اسے جب بھی سوچا بلا لیا اسے جو بھی چاہا بنا دیا

    جی خوش ہوا ہے گرتے مکانوں کو دیکھ کر
    یہ شہر خوف خود سے جگر چاک تو ہوا

    امتحاں ہم نے دیئے اس دار فانی میں بہت
    رنج کھینچے ہم نے اپنی لا مکانی میں بہت

    یہ سفر معلوم کا معلوم تک ہے اے منیرؔ
    میں کہاں تک ان حدوں کے قید خانوں میں رہوں

    ہے منیرؔ حیرت مستقل
    میں کھڑا ہوں ایسے مقام پر

    کھڑا ہوں زیر فلک گنبد صدا میں منیرؔ
    کہ جیسے ہاتھ اٹھا ہو کوئی دعا کے لیے

    تنہا اجاڑ برجوں میں پھرتا ہے تو منیرؔ
    وہ زرفشانیاں ترے رخ کی کدھر گئیں

    چمک زر کی اسے آخر مکان خاک میں لائی
    بنایا سانپ نے جسموں میں گھر آہستہ آہستہ

    قبائے زرد پہن کر وہ بزم میں آیا
    گل حنا کو ہتھیلی میں تھام کر بیٹھا

    مکان زر لب گویا حد سپہر و زمیں
    دکھائی دیتا ہے سب کچھ یہاں خدا کے سوا

    کوئلیں کوکیں بہت دیوار گلشن کی طرف
    چاند دمکا حوض کے شفاف پانی میں بہت

    ہوں مکاں میں بند جیسے امتحاں میں آدمی
    سختیٔ دیوار و در ہے جھیلتا جاتا ہوں میں

    بہت ہی سست تھا منظر لہو کے رنگ لانے کا
    نشاں آخر ہوا یہ سرخ تر آہستہ آہستہ

    زوال عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں
    کھلا نہیں کوئی در باب التجا کے سوا

  • شوہر کے علاج کا جھانسہ دے کرغریب خاتون سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    شوہر کے علاج کا جھانسہ دے کرغریب خاتون سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں بچوں اور خواتین سے زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،شوہر کے علاج کا جھانسہ دے کر غریب خاتون سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار کر لیا گیا

    ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق واقعہ کی اطلاع پر سی پی او نے نوٹس لے کر قانونی کارروائی کی ہدایت کی تھی،متاثرہ خاتون کا کہنا تھاکہ ملزم نے بتایا کہ میں بزنس مین ہوں اور آپ کے شوہر کے علاج کے لیے مدد کروں گا، ملزم شیخ محمد سلیم نے ڈاکٹر سے ملوانے کا جھانسہ دے کر بلایا اور زیادتی کا نشانہ بنایا، پیرودھائی پولیس نے دو ماہ قبل خاتون کی درخواست پر زیادتی کا مقدمہ درج کیا

    ترجمان پولیس کے مطابق ملزم واقعہ کے بعد روپوش ہو گیا تھا جسے جدید طریقے ٹریس کر کے گرفتار کیا گیا،ملزم اس سے پہلے بھی مختلف مقدمات میں ریکارڈ یافتہ ہے، مزید تفتیش کی جا رہی ہے، سی پی او شہزاد ندیم بخاری کا کہنا ہے کہ کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر زیادتی جیسا گھناؤنا فعل ناقابل برداشت ہے،خواتین سے زیادتی، ہراسمنٹ یا تشدد کے واقعات پر زیرو ٹالیرنس ہے،

    لودھراں میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ،پولیس کا کاروائی سے گریز

    دوران ڈکیتی ماں باپ کے سامنے حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ درندوں کی زیادتی

    سکول سے گھر آنیوالی خاتون کے سامنے نوجوان نے کپڑے اتار دیئے، ویڈیو وائرل،مقدمہ درج

    تقریب کے بہانے بلا کر خاتون کے ساتھ ہوٹل میں اجتماعی زیادتی

    دوسری جانب خواتین سے زیادتی کے واقعات کے خلاف صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی حمایت میں قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن حناپرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی. حنا پرویز بٹ کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان پنجاب حکومت کی جانب سے خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لئے ایمرجنسی نافذ کرنے کے اقدام کو سراہتا ہے ہر سال سینکڑوں خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات قابل تشویش ہیں خواتین کا تحفظ بنایا حکومت کو پہلی ترجیح ہونی چاہئے،عورت محفوظ ہو گی تو معاشرہ محفوظ ہو گا، یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لئے آگاہی مہم چلائی جائے،تعلیمی اداروں، فیکٹریوں،نجی و سرکاری دفاتر میں مہم چلائی جائے

  • پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے پرعمل نہ کرنے پر کابینہ ڈویژن کو نوٹس جاری

    پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے پرعمل نہ کرنے پر کابینہ ڈویژن کو نوٹس جاری

    پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے پرعمل نہ کرنے پر کابینہ ڈویژن کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملک کے تمام صدور اور وزرائے اعظم کو ملنے والے تحائف کی تفصیل دینے کی درخواست پر کابینہ ڈویژن کو نوٹس جاری کردیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کےجسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اب تک کے صدور اور وزرائے اعظم کو ملنے والے غیر ملکی تحائف کی تفصیل دینےکی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ 1947 سے اب تک حکومتی شخصیات کو ملنے والے تحائف کی تفصیل مانگی ہے ،کابینہ ڈویژن نے کلاسیفائیڈ کہہ کر معلومات دینے سے انکار کردیا، 5 ماہ گزرنے کے باوجود پاکستان انفارمیشن کمیشن کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سفاک شخص نے رشتے سے انکار پر لڑکی کی ماں کو زیادتی کے بعد قتل کردیا
    مکی آرتھر کو ایک بار پھر پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنانے کا فیصلہ
    سونم کپور نے میڈیا کو اپنے بیٹے کی تصاویر لینے سے منع کر دیا
    یوکرین سے روس کی ک جنگ :مغربی ممالک نے مذاکرات کی روسی پیشکش ٹھکرا دی
    خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا اعلان
    ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں تو 1990 سے پہلے کا توشہ خانے کا ریکارڈ ہی نہیں ہوگا۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ آپ صدر اور وزیر اعظم کی حد تک محدود کیوں ہیں؟ باقی عوامی عہدیداروں کو اس میں شامل کیوں نہیں کیا؟ اس سے آپ کے عزائم کا پتہ چل رہا ہے، جو بھی پٹیشن آتی ہے وہ وزیراعظم سے متعلق ہوتی ہے۔ عدالت نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے پر عمل درآمد نا کرنے پر کابینہ ڈویژن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ماہ سے رپورٹ طلب کرلی۔

  • سیلاب متاثرین بے سروسامانی خیموں میں امداد کے منتظر ہیں. اعتزاز احسن

    سیلاب متاثرین بے سروسامانی خیموں میں امداد کے منتظر ہیں. اعتزاز احسن

    سیلاب متاثرین بے سروسامانی خیموں میں امداد کے منتظر ہیں. اعتزاز احسن

    اعتزاز احسن کا سیلاب فنڈ سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سمیت تمام سیاسی لیڈرز کو عوام تک فنڈز پہنچا دینے چاہیے۔سیلاب متاثرین بے سروسامانی خیموں میں امداد کے منتظر ہیں۔جس جس پارٹی کے پاس فنڈز متاثرین کو سامان کی صورت میں ملنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ سردی میں سندھ اور بلوچستان کے سیلاب متاثرین مشکل میں ہیں۔بتایا جارہا ہے جو خیمے آئے ہیں ان کو جلسوں میں ذستعمال کیاجارہاہے۔شہباز شریف اور عمران خان سیلاب متاثرین کے پاس جائیں۔

    پی ڈی ایم اسمبلیوں کی تحلیل میں تاخیر چاہتی تھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔ گورنر پنجاب کا حکم نامہ غیر آئینی ہے۔ رہنما پیپلزپارٹی اعتزازاحسن نےہم نیوز کےپروگرام صبح سے آگے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اگر لانگ مارچ کے اختتام پر اسمبلیاں توڑتے تو اس وقت الیکشن مہم چل رہی ہوتی۔ انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے لیے بہت وقت دیا۔عمران خان نے وقت دیا تو اگلوں نے اس کو روکنے کے لیے حکمت عملی اپنائی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سفاک شخص نے رشتے سے انکار پر لڑکی کی ماں کو زیادتی کے بعد قتل کردیا
    مکی آرتھر کو ایک بار پھر پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنانے کا فیصلہ
    سونم کپور نے میڈیا کو اپنے بیٹے کی تصاویر لینے سے منع کر دیا
    یوکرین سے روس کی ک جنگ :مغربی ممالک نے مذاکرات کی روسی پیشکش ٹھکرا دی
    خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا اعلان
    ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے اپنا مقصد حاصل کرلیا ،وہ چاہتی تھی کہ یہ معاملہ تاخیر کا شکار ہو۔گورنرپنجاب کا حکم نامہ غیر آئینی ہے،اس طرح تو کوئی بھی حکومت نہیں بچے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکمرانوں کا احتساب ہونا چاہیے ،یہ لوگ کیا کررہے ہیں۔ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر آگئی ہے۔بحث چل رہی ہے کہ خیبر پختونخوااسمبلی توڑیں۔ملکی صورتحال سے متعلق فکر مندہوں۔

  • 128 کلو گرام آئس کرسٹل اور 2500 کلوگرام حشیش برآمد

    128 کلو گرام آئس کرسٹل اور 2500 کلوگرام حشیش برآمد

    128 کلو گرام آئس کرسٹل اور 2500 کلوگرام حشیش برآمد، سمندر کے راستے اربوں روپے مالیت کی منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور کسٹمز حکام نے کھلے سمندر میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اربوں روپے مالیت کی اسمگلنگ کو ناکام بنادیا۔ ڈپٹی ڈی جی پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (ایم ایس اے) کموڈور عامر اقبال اورایڈیشنل کلکٹر کسٹمز علی رضا نے کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ ترجمان پی ایم ایس اے نے بتایا کہ میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور کسٹمز حکام نے کھلے سمندر میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اربوں روپے مالیت کی اسمگلنگ کو ناکام بنادیا۔

    اسمگلرز نےثبوت مٹانے کے لئے منشیات سمندر میں پھینک دی تھی، پی ایم ایس اے نے انتھک محنت کے بعد منشیات کو پانی سے نکالا، سمندر میں پھینکی گئی منشیات میں سے 128 کلو گرام آئس کرسٹل اور 2500 کلو گرام حشیش برآمد کی گئی ہے۔ ترجمان پی ایم ایس اے نے مزید بتایا کہ 3 کشتیوں میں موجود 19 اسمگلرز کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اسمگلروں اور منشیات کو مزید تشویش اور قانونی کاروائی کے لیے کلیکٹوریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سفاک شخص نے رشتے سے انکار پر لڑکی کی ماں کو زیادتی کے بعد قتل کردیا
    مکی آرتھر کو ایک بار پھر پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنانے کا فیصلہ
    سونم کپور نے میڈیا کو اپنے بیٹے کی تصاویر لینے سے منع کر دیا
    یوکرین سے روس کی ک جنگ :مغربی ممالک نے مذاکرات کی روسی پیشکش ٹھکرا دی
    خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا اعلان
    گزشتہ ایک ماہ میں دونوں اداروں کا مشترکہ ساتواں انسداد منشیات آپریشن ہے، جس میں تقریباً 13 ارب مالیت کی منشیات ، 39 اسمگلروں اور 6 کشتیوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ ایک کشتی کو اسمگلروں نے آگ لگا کر سمندر برد کر دیا۔

  • عمرہ ادائیگی کیلئے جانے والے خاندان کو راستے میں لوٹ لیا گیا

    عمرہ ادائیگی کیلئے جانے والے خاندان کو راستے میں لوٹ لیا گیا

    عمرہ ادائیگی کیلئے جانے والے خاندان کو راستے میں لوٹ لیا گیا

    عمرہ کی ادائیگی کے لیے اسلام آباد ائیرپورٹ روانہ ہونے والی فیملی کو تھانہ ائیرپورٹ راولپنڈی سکیم تھری کی حدود سے ہنڈا کار سوار تین ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر لوٹ لیا۔ ڈی جی خان کا محمد اعجاز اپنی ہمشیرہ،اسکے دو بچوں ہمراہ ڈی جی خان سے فیض آباد راولپنڈی پہنچا،جنکی ہمشیرہ، بھانجھی،بھانجے کو عمرہ کی ادائیگی کے لیے اسلام آباد ائیرپورٹ جانا تھا،مگر روانگی میں کافی ٹائم ہونے باعث فیض آباد سے ذریعہ پرائیویٹ ٹیکسی ڈھوک چوہدریاں سکیم تھری اپنی پھوپھی کے گھر آرہے تھے

    محمد اعجاز کے مطابق گزشتہ روز صبح تقریباً 05:20 بجے جب سکیم تھری،گلی نمبر 12 کے قریب پہنچے تو پیچھے سے آنے والی ہنڈا کار برنگ سلور نے ہماری گاڑی کو روک لیا. محمد اعجاز کے مطابق ہنڈا کار سے دو مسلح اشخاص اترے،جہنوں نے گن پوائنٹ پر میرا پرس جس میں نقدی 20 ہزار روپے،شناختی کارڈ، ہمشیرہ سے شناختی کارڈ،پاسپورٹ، بچوں کے پاسپورٹس،فارم بی،تین ویزہ فارم ،تین فلائٹ ٹکٹس سمیت پانچ ہزار روپے نقدی چھین لی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سفاک شخص نے رشتے سے انکار پر لڑکی کی ماں کو زیادتی کے بعد قتل کردیا
    مکی آرتھر کو ایک بار پھر پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنانے کا فیصلہ
    سونم کپور نے میڈیا کو اپنے بیٹے کی تصاویر لینے سے منع کر دیا
    یوکرین سے روس کی ک جنگ :مغربی ممالک نے مذاکرات کی روسی پیشکش ٹھکرا دی
    خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا اعلان
    محمد اعجاز کے مطابق مسلح ڈاکوؤں نے ٹیکسی ڈرائیور زبیر خان سے شناختی کارڈ،اے ٹی ایم کارڈ،گاڑی کی بک، ڈرائیونگ لائسنس سمیت نقدی چھین لی اور ہنڈا سوک کار پر عمار چوک کی جانب فرار ہوگئے. محمد اعجاز کے مطابق گاڑی سے اترنے والے ایک شخص کی عمر22/23 سال،دوسرے کی 26/27 سال،داڑھی براؤن،جبکہ تیسرا شخص جو ہنڈا کار چلا رہا تھا اسکی عمر 30 سال،جسم موٹا تھا۔جنہیں سامنے آنے پر شناخت کرسکتے ہیں. ذرائع کے مطابق تھانہ ائیرپورٹ راولپنڈی پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا

  • مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں خدمات کی برآمدات میں اضافہ، 2.9 ارب ڈالر موصول

    مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں خدمات کی برآمدات میں اضافہ، 2.9 ارب ڈالر موصول

    مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں خدمات کی برآمدات میں اضافہ، 2.9 ارب ڈالر موصول

    ملک سے خدمات کی برآمدات میں جاری مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں سالانہ بنیادوں پر اضافہ جبکہ درآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پاکستان بیوروبرائے شماریات نے اعدادوشمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں خدمات کی برآمدات سے ملک کو2.90 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے 6 فیصد زیادہ ہے۔

    گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 2.743 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ نومبرمیں خدمات کے شعبے کی برآمدات کاحجم 650 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ نومبر 570 ملین ڈالرکے مقابلے 14 فیصد زیادہ ہے۔ اس دوران خدمات کے شعبے کی درآمدات میں 16 فیصد کمی آئی۔ جولائی تا نومبر خدمات کی درآمدات پر 3.765 ارب ڈالر کا زرمبادلہ صرف ہوا جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 4.456 ارب ڈالر تھا۔ نومبر میں 715 ملین ڈالر کا زرمبادلہ صرف ہوا جو گزشتہ نومبر کے مقابلے 27 فیصد کم ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سفاک شخص نے رشتے سے انکار پر لڑکی کی ماں کو زیادتی کے بعد قتل کردیا
    مکی آرتھر کو ایک بار پھر پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنانے کا فیصلہ
    سونم کپور نے میڈیا کو اپنے بیٹے کی تصاویر لینے سے منع کر دیا
    یوکرین سے روس کی ک جنگ :مغربی ممالک نے مذاکرات کی روسی پیشکش ٹھکرا دی
    خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا اعلان
    دوسری جانب موبائل فونز کی درآمدات میں 5 ماہ جولائی تا نومبر سالانہ بنیادوں پر 66 فیصد کمی سے حجم 291 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 857 ملین ڈالر ریکارڈ تھا۔

  • یو اے ای حکومت نے کسی پاکستانی پر ویزہ کی پابندی نہیں لگائی. قونصل جنرل

    یو اے ای حکومت نے کسی پاکستانی پر ویزہ کی پابندی نہیں لگائی. قونصل جنرل

    یو اے ای حکومت نے کسی پاکستانی پر ویزہ کی پابندی نہیں لگائی. قونصل جنرل

    کراچی میں متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل بخیت عتیق الرمیثی نے پاکستانی شہریوں کے لیے یو اے ای ویزہ کی پابندی کی اطلاعات کو ’فیک نیوز‘ قرار دیتے ہوئے سختی سے مستردکردیا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے یو اے ای کے قونصل جنرل نے کہا کہ یو اے ای حکومت کی جانب سے ویزے کی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے، پاکستان کے شہری بلاتفریق متحدہ عرب امارات کے وزٹ یا دیگر کسی بھی ویزہ کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں اور انہیں ویزے دیے جارہے ہیں۔ 

    انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ کراچی قونصلیٹ سے بھی ان شہروں کی پیدائش رکھنے والے یا رہائشی پاکستانی بھائیوں کے وہ خود ویزے لگا کر دے رہے ہیں۔ قونصل جنرل بخیت عتیق الرمیثی نے افسوس ظاہر کیا کہ نہ جانے ایسا کیوں کیا جا رہا ہے، ہر کچھ عرصے بعد مختلف قسم کی افواہیں پھیلا دی جاتی ہیں، نہ جانے کون لوگ اس طرح کی افواہیں کیوں پھیلا رہے ہیں۔ 

    دوسری جانب پاکستان کے مخصوص شہروں پر یواے ای کی جانب سے ویزا پابندی کی خبروں پر دفترخارجہ کا موقف بھی سامنے آیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ میڈیا پر یو اے ای ویزہ پابندی بارے رپورٹس دیکھی ہیں، یواے ای کی جانب سے پاکستانی شہریوں کو ویزا جاری کرنے پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سفاک شخص نے رشتے سے انکار پر لڑکی کی ماں کو زیادتی کے بعد قتل کردیا
    مکی آرتھر کو ایک بار پھر پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنانے کا فیصلہ
    سونم کپور نے میڈیا کو اپنے بیٹے کی تصاویر لینے سے منع کر دیا
    یوکرین سے روس کی ک جنگ :مغربی ممالک نے مذاکرات کی روسی پیشکش ٹھکرا دی
    خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا اعلان
    واضح رہے کہ سماجی رابطوں کی کچھ ویب سائٹس پر اس طرح کے پوسٹرز گردش کر رہے ہیں جن میں پاکستان کے مختلف شہروں میں پیدا ہونے والے پاکستانی شہریوں کے لیے متحدہ عرب امارات کے سیاحتی ویزے کی پابندی ظاہر کی جا رہی ہے۔  ان پوسٹر میں ایبٹ آباد، ڈیرہ غازی خان، کوئٹہ، خوشاب، مظفرگڑھ، سرگودھا، اٹک، ڈیرہ اسماعیل خان، قصور، کرم ایجنسی، نوابشاہ، شیخوپورہ، باجوڑ ایجنسی، ہنگو، کوہاٹ، لاڑکانہ، پاراچنار، اسکردو،چکوال، ہنزہ، کوٹلی آزاد کشمیر، مہمند ایجنسی، ساہیوال اور سکھر نمایاں طور پر شامل کیے گئے ہیں۔ ان شہروں میں پیدا ہونے والے پاکستانیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کے وزٹ ویزہ کے لیے اپلائی نہ کریں ورنہ انہیں مسترد کر دیا جائے گا۔