Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • یوم قائد پر صدر پاکستان اور وزیراعظم کا قائداعظم کو خراج عقیدت

    یوم قائد پر صدر پاکستان اور وزیراعظم کا قائداعظم کو خراج عقیدت

    وزیراعظم شہباز شریف نے قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش پر جاری پیغام میں کہا کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت دو قومی نظریےکی صداقت کو ثابت کرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : یوم قائد پر اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قوم کو آج قائداعظم کے وضع کردہ اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے، ہمیں اندرونی خلفشار ختم کر کے ملک کی ترقی کے لیے شبانہ روز محنت کرنی ہے قائداعظم کی زندگی اصول پسندی، آئینی جدوجہد اور سیاسی بصیرت کی عکاس ہے، قائداعظم کی زندگی ایمان، اتحاد اور تنظیم کے زریں اصولوں کا عملی نمونہ تھی۔

    اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے،ازقلم: غنی محمدد قصوری


    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قائد اعظم کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا ہی انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے، قائد کے سنہرے اصولوں پر عمل کر کے ہی پاکستان کو فلاحی ریاست بنایا جا سکتا ہے۔


    انہوں نے کہا کہ ہم بحیثیت قوم قائد کے نظریات پر عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اتحاد کے فقدان سے بڑھ کر کوئی چیز قوم کو کمزور نہیں کر سکتی۔ قائد کے نظریے کی پاسداری ہی ہمیں تمام مشکلات کو شکست دے سکتی ہے۔ اس دن میرا عزم ہے کہ ہم اپنے لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کرتے رہیں۔

    دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور ان کا کشمیر سے متعلق اہم بیان بھی شیئر کیا۔

    صدر عارف علوی نے قائد اعظم محمد علی جناح کے 146 ویں یوم پیدائش پر کہا کہ آج قائد کے جمہوری اقدار کے وژن کو برقرار رکھنےکا عہد کریں، خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے قائد کے فرمان پر عمل درآمد کریں گے، اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط پر عمل کرتے ہوئے خوشحالی اور ترقی کی طرف سفر کریں آج ہم عہد کرتے ہیں کہ صحیح وقت پر درست فیصلہ کریں گے اور قائداعظم کے فرمودات پر عمل پیرا ہو کر ملک کو مستحکم کریں گے۔

    صدر پاکستان نے کہا کہ قائداعظم نےکہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کوئی قوم اپنی شہ رگ کو دشمن کے قبضے میں رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتی، کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھنےکا عہد کرتے ہیں۔

    بابائے قوم کا 146واں یوم پیدائش، مزار پر تعینات گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

  • حارث کے نکاح کے بعد شاداب خان کے دل میں بھی شادی کے لڈو پھوٹنے لگے

    حارث کے نکاح کے بعد شاداب خان کے دل میں بھی شادی کے لڈو پھوٹنے لگے

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حارث روؤف کے نکاح کے بعد شاداب خان بھی شادی کے شادیانے بجانے کیلئے بے چین ہوگئے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز فاسٹ بولر حارث رؤف روز اپنی کلاس فیلو مزنا مسعود ملک کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھےحارث رؤف کا نکاح اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہوا تھا جس میں ان کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں نے شرکت کی تھی-

    حارث رؤف کا نکاح ہو گیا،سی ای او لاہور قلندرز،عاقب جاوید،شاہین اور شاہد آفریدی کی…

    حارث رؤف کے نکاح کی تقریب میں قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی، فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی، لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید، سابق ٹیسٹ کرکٹر ریاض آفریدی اور سی ای او لاہور قلندرز ثمین رانا بھی شریک ہوئے۔

    فاسٹ بولر کو ساتھی کھلاڑیوں کی جانب سے نکاح کی مبارکباد دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے قومی ٹیم کے آل راؤنڈر شاداب خان کی جانب سے بھی دلچسپ انداز میں مبارکباد دی گئی ہے۔

    فرانسیسی وزیر نے فٹبال ورلڈ کپ جیتنے والی ارجنٹائن کی ٹیم کو غیر مہذب قرار دے دیا

    ٹوئٹر پر حارث کے نکاح کی ایک ہنستی مسکراتی تصویر شیئر کرتے ہوئے شاداب نے لکھا کہ اتنا گلو اور اتنی خوشی، لگتا ہے میرا ٹائم بھی اب آنے والا ہے-

  • اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے،ازقلم: غنی محمدد قصوری

    اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے،ازقلم: غنی محمدد قصوری

    اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے

    ازقلم غنی محمدد قصوری

    آج 25 دسمبر کا دن ہے اور پوری دنیا میں سرکاری چھٹی ہےیہ دن عیسائیوں کے ہاں خاص دن ہے کیونکہ آج ان کی عید ہے جسے وہ Happy Christmas Day بھی کہتے ہیں-

    اسلام جہاں مسلمانوں کو پوری آزادی سے زندگیاں گزارنے کا اختیار دیتا ہے وہیں غیر مسلموں کو بھی اختیار ہے کہ پوری آزادی سے رہیں بشرطیکہ دین اسلام پر کھلا وار نا کریں جس کی مثال قرآن نے ایسے بیان کی ہے

    تمہارا دین تمھارے ساتھ اور میرا ( دین ) میرے ساتھ
    (سورۃ الکافرون آیت 6)

    دین اسلام میں جبر بھی نہیں ہے کیونکہ یہ دین کامل ہے اسلام میں جبر کی ممانعت قرآن میں ایسے کی گئی ہے –

    لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ
    قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ
    فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰى لَاانْفِصَامَ لَہَا
    وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ﴿256﴾

    "دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، ہدایت کا راستہ گمراہی سے ممتاز ہو کر واضح ہوچکا اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے گا ، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں، اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے-”

    اس آیت سے ثابت ہوا دین اسلام کا نام لے کر کسی پر سختی بھی نہیں کی جا سکتی مگر حدیث رسول نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرنے سے بھی بڑی سختی سے منع فرمایا ہے

    حدیث رقم ہے کہ عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم. من تشبہ بقوم فہو منہم

    جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے-
    (سنن أبي داؤد)

    غور کیجئے کفار کے مشابہت اختیار کرنے ان کو مبارکباد دینے پر اللہ کے نبی کا فرمان ہے کہ ایسا کرنے والا مسلمان انہی میں سے ہے
    آخر یہ آج کا دن یعنی عیسائیوں کی عید ہے کیا ؟ اس بارے جانتے ہیں Happy Christmas Day کا معنی ہے میلاد عیسیٰ مبارک ہو-

    حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کے دن کو عیسائی ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ معاذاللہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اس دن عیسائی ایک دوسرے کو ایسے مبارکباد دیتے ہیں جیسے ہم مسلمان اپنی عیدین پر ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اس دن Merry Christmas کہہ کر مبارکباد دی جاتی ہے یعنی ولادت عیسی علیہ السلام مبارک ہو-

    عیسائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ہمارے مسلمان بھی اس دن ان کو خوب مبارکباد دیتے ہیں جس کا جواز اکثر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ بھی ہمیں مبارکباد ہماری عیدین پر دیتے ہیں-

    ہماری عیدین پر ان کی طرف سے عید مبارک کہا جاتا ہے جس میں کوئی ایسے ٹکراؤ کے الفاظ موجود ہی نہیں جبکہ جب ہم ان کی عید کی مبارک باد ان کو دیتے ہیں تو ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ معاذاللہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اور آج ان کا جنم دن ہے

    اس بابت قرآن نے سورہ مریم آیت 88 تا 92 میں بڑی سختی سے ایسے تردید کی ہے

    "یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے(ایسی بات کہنے والو) حقیقت یہ ہے کہ تم نے بڑے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے
    کچھ بعید نہیں کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین پھٹ جائے، اور پہاڑ ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں، کہ لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو-”

    معاذاللہ کتنے سخت الفاظ میں قرآن اس عقیدے کی ممانعت کر رہا ہے جبکہ ہم دنیاوی دکھلاوے کی خاطر آج ان عیسائیوں کو مبارکبار پیش کرکے اپنا عقیدہ خراب کر رہے ہیں

    خداراہ اقلیتوں کا احترام ضرور کیجئے مگر آج کے دن کی ان کو مبارکباد دے کر اپنا عقیدہ خراب نا کیجئے
    اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • نہ جانے وقت نے کیوں فاصلے یہ دے دیئے ورنہ

    نہ جانے وقت نے کیوں فاصلے یہ دے دیئے ورنہ

    نہ جانے وقت نے کیوں فاصلے یہ دے دیئے ورنہ
    تمھی تو میرے جیسے تھے تمہیں تو میرا ہونا تھا

    معروف شاعرہ لبنیٰ صفدر 25 دسمبر 1978ء پنڈی بھٹیاں میں ہوئیں ان کی تصنیفات میں کبھی الوداع نہ کہنا-2008، بارشوں کے موسم میں-2008، یہ ہجر ہے یا وصال ہے-2006، محبت آئنہ کرلو-2005، تمھیں تومیراہونا تھا-2004، خوشبو ہے وہ صندل کی شامل ہیں-

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    زمین چشم نم میں ہم کو تیرا خواب بونا تھا
    تری ہر یاد کا موتی تو پلکوں میں پرونا تھا

    ملن کے موسموں میں جانے کیوں میں بھول بیٹھی تھی
    تجھے بھی شہر کی اس بھیڑ میں اے دوست کھونا تھا

    فقط اپنے خیالوں سے نہ باندھو یوں مرے دلبر
    کبھی دیتے رہائی مجھ کو بھی کچھ دیر سونا تھا

    گرا ہے تو کئی ٹکڑوں میں وہ بکھرا پڑا ہوگا
    تمہارے نم سے ہاتھوں میں جو شیشے کا کھلونا تھا

    نہ جانے وقت نے کیوں فاصلے یہ دے دئے ورنہ
    تمہی تو میرے جیسے تھے تمہیں تو میرا ہونا تھا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحب
    عشق اپنا مزاج ہے صاحب

    دشت کی ریت ہے بہت پیاسی
    آبلوں کا خراج ہے صاحب

    پاس حرمت نہیں ہے لفظوں کی
    کیسا وحشی سماج ہے صاحب

    آپ کو بھول ہی نہیں پاتی
    میرا کوئی علاج ہے صاحب

    سانس بھی ٹھیک سے نہیں آتا
    نفرتوں کا رواج ہے صاحب

    کچھ بھی بدلا نہیں ہے دنیا میں
    جو بھی کل تھا وہ آج ہے صاحب

    میرا حصہ نہیں مقدر میں
    یہ مرا احتجاج ہے صاحب

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خزاں کی شام کو زخم بہار کس نے کیا
    ہر ایک ریشۂ گل رنگ بار کس نے کیا

    خوشی وصال کی ساری سمیٹ لی تو نے
    فراق لمحوں کو بولو شمار کس نے کیا

    ہر ایک شخص یہاں بد گمان تجھ سے تھا
    نگاہ یار ترا اعتبار کس نے کیا

    یہ میرے گھر کی اداسی گواہی دے گی تجھے
    کہ تیرے ہجر کے دریا کو پار کس نے کیا

    متاع جاں کو کیا خاک کس نے تیرے لئے
    یہ خاک جاں ہی بتائے گی پیار کس نے کیا

    وفا میں جان لٹانے کے بعد بھی لبنیٰؔ
    مرے خلوص محبت پہ وار کس نے کیا

  • تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں

    تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں

    تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں
    کیا درد ہے شعروں میں سمویا نہیں جاتا

    صوفیہ بیدار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اصل نام:. صوفیہ صنم
    قلمی نام اور تخلص: صوفیہ بیدار
    تاریخ پیدائش:25دسمبر 1964ء
    جائے پیدائش:سیالکوٹ
    نام والد:عبد اللہ ادیب
    زبان:اردو
    اصناف:شاعری
    تصنیفات:
    خاموشیاں
    تاراج

    صوفیہ بیدار صاحبہ اردو اور پنجابی کی نامور پاکستانی ادیبہ، شاعرہ، کالم نگار،صحافی اور بیوروکریٹ ہیں۔ ان کی تحریروں میں ملکی و معاشی اور معاشرتی مسائل کو بہترین پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے۔ وہ ملکی اور بیرون ملک ادبی تقاریب اور مشاعروں میں خصوصی طور پر بلائے جاتے ہیں۔ قارئین اخبارات میں چھپنے والے ان کے کالمز ہزاروں کی تعداد میں بڑے شوق اور دلچسپی کے ساتھ پڑھتے اور متاثر ہوتے ہیں ، میں بھی قارئین کی اس فہرست میں شامل ہوں۔ صوفیہ بیدار کی اردو اور پنجابی شاعری بہت عمدہ اور خوب صورت ہوتی ہے ۔ وہ ایک افسر اعلی کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض پوری دیانتداری کے ساتھ سرانجام دیتی ہیں وہ ڈائریکٹر آرٹس کونسل کے عہدے پر بھی فائز رہ چکی ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اک درد کہن آنکھ سے دھویا نہیں جاتا
    جب رنج زیادہ ہو تو رویا نہیں جاتا

    مٹ جانے کی خواہش کو مٹایا نہیں کرتے
    کھو دینے کے ارمان کو کھویا نہیں جاتا

    جلتے ہوئے کھلیان میں اگتی نہیں فصلیں
    خوابوں کو کبھی آگ میں بویا نہیں جاتا

    جب حد سے گزرتے ہیں تو غم غم نہیں رہتے
    اور ایسی زبوں حالی میں رویا نہیں جاتا

    تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں
    کیا درد ہے شعروں میں سمویا نہیں جاتا

    سلگی ہیں مری آنکھ میں اک عمر کی نیندیں
    آنگن میں لگے آگ تو سویا نہیں جاتا

    یوں چھو کے در دل کو پلٹ آتا ہے واپس
    اک وہم محبت کا کہ گویا نہیں جاتا

    اب صوفیہؔ اس طرح سے دل پہ نہیں بنتی
    اب اشکوں سے آنچل کو بھگویا نہیں جاتا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بتوں کی آنکھ میں کیا خواب جھلملاتا ہے
    رکا ہوا ہو جو منظر تو کون آتا ہے

    اسی کے لمس سے زندہ نقوش ہیں میرے
    وہ اپنے ہاتھ سے مورت میری بناتا ہے

    وہ ظرف دیکھ کے دیتا ہے درد چاہت کے
    پھر اس کے بعد محبت کو آزماتا ہے

    ردائے چرخ میں ٹانکے ہیں ہجر نے تارے
    یہ سوت صدیوں کی خاموشیوں نے کاتا ہے

    وفا کا لکھتا ہے انجام عشق سے پہلے
    پھر اس کے بعد نگر پیار کا بساتا ہے

    تمھارے ہوتے ہوئے خاک ہو گئی کیسے
    تمھارے ساتھ مرا کس طرح کا ناتا ہے

    رکا ہوا ہے جو منظر وہ اس کا حصہ ہے
    بھلا لکیر سے باہر بھی کوئی آتا ہے

  • پولٹری ایسوسی ایشن نےمرغیوں کی فیڈ‌ کےبحران کاخدشہ ظاہر کر دیا

    پولٹری ایسوسی ایشن نےمرغیوں کی فیڈ‌ کےبحران کاخدشہ ظاہر کر دیا

    چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن ساؤتھ ریجن نے مرغیوں کی فیڈ‌ کے بحران کا خدشہ ظاہر کر دیا-

    باغی ٹی وی:چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن ساؤتھ ریجن غلام محمد پٹھان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بندرگاہ پر سویا بین کے جہازوں کو کلیئرنس نہیں مل رہی جس کے باعث پولٹری کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    بلوچستان میں سیلاب سے تین لاکھ سے زائد گھروں کونقصان،لاکھوں ایکڑ پرکاشت فصلیں تباہ…

    چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن ساؤتھ ریجن غلام محمد پٹھان کا کہنا تھا کہ درآمدی سویابین کےجہاز 12 اکتوبرسے بندرگاہ پرکھڑے ہیں جن میں 100 ارب روپے مالیت کا سویا بین ہے تاہم حکومت کی جانب سے بندرگاہ پرسویابین کے جہازوں کو کلیئرنس نہیں مل رہی۔

    انہوں نے کہا کہ پولٹری انڈسٹری کے پاس صرف 7 دن کا فیڈ اسٹاک ہے، جہازوں کی کلیئرنس میں تاخیرسے پولٹری انڈسٹری میں بحران ہوگا جبکہ ایک کلو مرغی کا گوشت ایک ہفتے میں 150 روپے بڑھ چکا ہے۔

    قبل ازیں رواں مہینے کے شروع میں ایک پریس کانفرنس میں پولٹری مالکان کا کہنا تھا کہ سویابین اور کنولا پولٹری فیڈ میںاستعمال ہونے والے اہم اجزا ہیں،اس وقت پورٹ پر 6 لاکھ ٹن سے زائد سویابین موجود ہے، جو کلیئر نہیں کیا جارہا جبکہ پولٹری مالکان نے سویابین کی درآمد کے سلسلے میں درآمدکنندگان کو 44کروڑ ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں بھی کردی ہیں۔

    عوامی رابطہ مہم کیلئے تحریک انصاف پنجاب کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالے گی

    ان کا کہنا تھا کہ وزارت غذائی تحفظ اور دیگر وزارتوں کے سویا بین کے درآمدکنندگان سے جو بھی معاملات ہیں، انہیں فوری طور پر طے کیا جائے اور بندرگاہ پر موجود سویابین کی کلیئرنس کے احکامات جار ی کئے جائیں تاکہ ملک بھر میں پولٹری صنعت کو فوری طور پر فیڈ کی فراہمی بحال کی جاسکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک بھر میں پولٹری مالکان یومیہ 38 لاکھ مرغیاں اور ساڑھے تین کروڑ انڈے فراہم کررہے ہیں، اگر پولٹری کی صنعت کیلئے فوری طور پر فیڈ کی فراہمی کا معاملہ طے نہ کیا گیا تو ایک ماہ کے اندر ملک بھر میں مرغی اور انڈوں کی سپلائی بند ہونے کا خدشہ ہے۔

    انہوں نے بتایا تھا کہ پولٹری کی لگ بھگ50فیصد سے زائد صنعت اس وقت بند ہوچکی ہے اور اگر یہ صنعت مکمل طور پر بند ہوگئی تو مجموعی طور پر نہ صرف25لاکھ کے قریب افراد بے روزگار ہوجائیں گے بلکہ ملک میںغذائی عدم تحفظ کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔

    معاشی و توانائی بحران کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ گیا

  • بابائے قوم کا 146واں یوم پیدائش، مزار پر تعینات گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

    بابائے قوم کا 146واں یوم پیدائش، مزار پر تعینات گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

    بانی پاکستان قائدِ اعظم محمدعلی جناح کا 146واں یوم پیدائش آج انتہائی عقیدت، احترام اور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں بابائے قوم کے مزار پر تعینات گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی تقریب میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کیڈٹس نے مزارِ قائد کی سکیورٹی کی ذمے داریاں سنبھالیں-

    تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل عمر نسیم تھے جنھوں نے گارڈز کا معائنہ کیا، اعزازی گارڈز نے مہمان خصوصی میجر جنرل عمر نسیم کو جنرل سلام پیش کیا اورمہمانوں کی کتاب پرتاثرات بھی درج کیے تقریب میں پاک فضائیہ کےکیڈٹس گارڈز کے فرائض پاکستان آرمی کے کیڈٹس کےحوالے کیے گئے۔

    گورنرسندھ، وزیراعلیٰ اور کمشنر کراچی مزار قائد پر حاضری دیں گے جبکہ تینوں افواج کے نمائندے، ڈی جی رینجرز بھی مزار قائدپر حاضری دیں گے۔

    خیال رہے کہ قائد کے مزیر پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب سال میں 3 بار، 14 اگست، 6 ستمبر اور 25 دسمبر کو منعقد ہوتی ہےتقریب میں نیوی، ائیر فورس اور پی ایم اے کاکول کے کیڈٹس بالترتیب ذمے داریاں سنبھالتے ہیں۔

  • بانیٔ پاکستان قائداعظمؒ کا یوم پیدائش آج منایا جائے گا

    بانیٔ پاکستان قائداعظمؒ کا یوم پیدائش آج منایا جائے گا

    کراچی: بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش آج ملک بھر میں عقیدت واحترام سے منایا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اس حوالے سے کراچی سمیت ملک بھر میں خصوصی تقریبات منعقد ہوں گی، بانیٔ پاکستان کے یوم پیدائش پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب مزار قائد پر منعقد ہوگی۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کا چاق و چوبند دستہ مزار قائد پر گارڈز کے فرائض سنبھالے گا۔ اس وقت پاک فضائیہ کے جوان مزار قائد پر گارڈز کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    بابائے قوم کے یوم پیدائش کے موقع پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری، وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی کابینہ کے ارکان سمیت دیگر اہم شخصیات مزار قائد پر حاضری دیں گی، پھولوں کی چار چڑھائی جائیں گی اور فاتحہ خوانی کریں گی۔

    یہ شخصیات قائد اعظم کی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کریں گی۔ بانی پاکستان کے یوم پیدائش کی مناسبت سے ملک بھر میں سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات ہوں گی۔ ان تقریبات میں قائد اعظم محمد جناح کو ان کی برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزاد اور خود مختار پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کی گئی جدوجہد پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

    25 دسمبر کو قائداعظم کے یوم پیدائش کی مناسبت سے شہریوں کے لیے مزار قائد پر داخلہ مفت ہوگا۔

  • ملک میں کورونا کی نئی قسم سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں، قومی ادارہ صحت

    ملک میں کورونا کی نئی قسم سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں، قومی ادارہ صحت

    قومی ادارہ صحت (نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ) اسلام آباد نے کورونا کی نئی قسم سے متعلق زیرگردش خبروں کی تردید کردی۔این آئی ایچ کے مطابق کورونا کے نئی قسم سے متعلق غیرمصدقہ خبریں گردش میں ہیں، این سی او سی نے تصدیق کی ہے فی الحال ایسا کوئی خطرہ نہیں۔

    این آئی ایچ کا کہنا ہے کہ کورونا سے متعلق صورتحال پر کڑی نظررکھی ہوئی ہے۔علاوہ ازیں خبر سامنے آئی تھی کہ چین میں پھیلنے والے کورونا کے نئے ویرینٹ کا پاکستان میں بھی آنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے حکام کا کہنا تھا کہ چین میں لاک ڈاؤن کھلنے اور فری ٹریولنگ سے پاکستان میں کورونا کا نیا ویرینٹ آنے کا خطرہ ہے لیکن پاکستان کورونا کے کسی بھی نئے ویرینٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے مکمل تیار ہے۔

    دوسری طرف ہندوستان کی مرکزی وزارت صحت کے مطابق ملک کی دس ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام تین علاقوں میں کورونا کے نئے مریضوں کا اندراج کیا گیا ہے ۔ اس رپورٹ کے مطابق جن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کورونا کے نئے مریضوں کا اندراج کیا گیا ہے ان میں دارالحکومت دہلی، راجستھان، پنجاب ، تلنگانہ اور اس ملک کے زیر انتظام جموں و کشمیر شامل ہیں ۔

    ہندوستانی وزارت صحت کے مطابق دہلی میں کورونا کے زیر علاج مریضوں کی تعداد تینتس ہوگئی ہے۔

  • 24 دسمبر مہاجر ثقافت کا دن

    24 دسمبر مہاجر ثقافت کا دن

    برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد کراچی حیدرآباد میں ہندوستان سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ مختلف علاقوں کی ثقافت بھی ساتھ لائے تھے ۔ان کا لباس ۔رہن سہن ۔رسم و رواج۔کھانے ۔زبان مقامی لوگوں سے مختلف تھی جس کا اظہار آج بھی ہوتا ہے

    بریانی بھی ان میں سے ایک ہے کہ یوں تو پورے پاکستان میں بنائی اور کھائی جاتی ہے لیکن کراچی حیدرآباد کے علاؤہ بریانی کے نام پر لوگ دھوکا ہی کھاتے ہیں۔

    بریانی پاکستان کی قومی ڈش نہیں لیکن یہ یقینی طور پر کراچی والوں کے لئے پسندیدہ ترین ہے، جو ہمیشہ مزیدار بریانی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ بریانی کی ایک مکمل پلیٹ میں خوشبو دار چاول، گوشت کے پیسز شامل ہوتے ہیں۔ جو بہت ہی مزید اراور لذیذ ہوتے ہیں۔

    بریانی پورے ملک میں یہ شادیوں اور مختلف پروگراموں کے لئے پیش کی جاتی ہے لیکن کھانے پینے کے حوالے سے مشہور تمام شہروں میں کراچی حیدرآباد میں سب بہترین بریانی بنائی جاتی ہے۔ایسا اس وجہ سے ہے کہ کراچی کے لوگ اس حیرت انگیز پکوان کو کھانا پکانا اچھی طرح جانتے ہیں۔بریانی بہترین غذائیت سے بھرپور کھانا ہے۔ یہ پیٹ میں نہیں جاتی بلکہ سیدھے سیدھے دل میں اتر جاتی ہے

    آپ نے خوشبودار، مزے دار اور ذائقہ دار بریانی، کراچی کی مشہور بریانی یا کراچی کی خاص بریانی جیسے بورڈز تو اکثر دکانوں پر دیکھے ہوں گے لیکن کراچی کی اصل بریانی ہر جگہ دستیاب نہیں کیوں کہ صرف نام رکھنے سے اصل بریانی نہیں بن جاتی۔

    پاکستان کے معاشی حب کراچی میں کئی طرح کی بریانی دستیاب ہے جن میں تہ دار بریانی، بیف بریانی، کراچی بریانی، وائٹ بریانی، زعفرانی بریانی، مصالحے دار بریانی، تکہ بریانی، سندھی بریانی اور مکس بریانی قابل ذکر ہیں۔

    کراچی میں بریانی کے مشہور علاقے:

    کراچی کا علاقہ صدر بریانی کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہے پورے شہر میں اس جیسی بریانی کہیں نہیں ملتی۔

    صدر کی مشہور بیف بریانی:صدرکی سب سے مشہور بریانی ، بیف بریانی ہے جس کا اپنا ایک منفرد ذائقہ ہے۔ اب مختلف جگہوں پر چکن یا مٹن بریانی بننے لگی ہے لیکن بیف بریانی ہی اصل بریانی ہوتی ہے۔ مصالحے دار گرم چاولوں کے ساتھ نرم اور چکنے گائے کے گوشت کی مزیدار بوٹیاں، جسے دیکھتے ہی منہ میں پانی آجاتا ہے۔

    صدر کی تہ دار بریانی:صدر کی چکن، مٹن اور بیف کی تہ دار بریانی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں پہلے چاولوں کی ایک تہ لگائی جاتی ہے پھر اس پر ذائقے اور لذت سے بھر پور تیار کردہ مصالحے کی ایک اور تہ لگا دی جاتی ہے۔ اسی طرح باری باری چاولوں اور مصالحے کی تہیں لگا کراسے دم دے دیا جاتا ہے۔

    صدر کی مکس بریانی: یہ بھی تہ دار بریانی کی طرح ہوتی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس میں زردہ رنگ ملایا جاتا ہے اور چاولوں کے ساتھ مصالحے کی تہیں لگانے کے بعد انہیں مکس کر دیا جاتا ہے۔

    صدر کی وائٹ اور زعفرانی بریانی: صدر میں ایک اور منفرد اور مزیدار بریانی بھی دستیاب ہے جس میں رنگ کے بجائے زعفران کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کہلاتی ہے وائٹ زعفرانی بریانی جس کا مزہ بھی سب سے الگ ہوتا ہے۔

    برنس روڈ کی کراچی بریانی: برنس روڈ، کراچی کی مشہور اور قدیم فوڈ اسٹریٹ پر ویسے تو بریانی کی بہت سی دکانیں ہیں لیکن سب سے مشہور یہاں کی کراچی بریانی ہے۔

    چٹ پٹی بریانی: یہ وہ بریانی ہے جو کراچی کی ہر دوسری گلی میں دستیاب ہے خاص طور پر گلشن اقبال میں اکثر دکانوں پر ملتی ہے لیکن اس کا ذائقہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ خاص طورپر گلشن کےعلاقے موتی محل کی ایک دکان پردستیاب چٹ پٹی بریانی کا اپنا ہی مزہ ہے۔