Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ریاست کسی بھی دہشتگرد گروہ یا تنظیم کے سامنے نہیں جھکے گی.وزیراعظم

    ریاست کسی بھی دہشتگرد گروہ یا تنظیم کے سامنے نہیں جھکے گی.وزیراعظم

    دہشت گردی کا مسئلہ قومی سلامتی کا حساس معاملہ ہے، اجتماعی سوچ اورلا ئحہ عمل کی ضرورت ہے ۔وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے بنوں اور دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ذریعے پاکستان میں افراتفری پھیلانے کی مذموم کوشش سختی سے کچل دیں گے، دہشت گردی کا مسئلہ قومی سلامتی کا حساس معاملہ ہے، اجتماعی سوچ اورلا ئحہ عمل کی ضرورت ہے ۔

    بدھ کووزیراعظم آفس کے میڈیاو نگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ریاست کسی بھی دہشتگرد گروہ یا تنظیم کے سامنے نہیں جھکے گی، دہشتگردوں کے ساتھ آئین اورقانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ وفاقی حکومت دہشت گردوں کی بیرونی سہولت کاری اور پناہ گاہوں کا سدباب بھی کرے گی ۔ پوری قوم اپنی دلیر افواج کے شانہ بہ شانہ دہشت گردی کا خاتمہ کرکے رہے گی ۔ وزیر اعظم نےدہشت گردی کے خلاف برسرپیکار فورسز کے جذبے اور عزم کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا اور علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ شہدا کی قربانیاں ضائع نہیں ہونے دیں گے، ردا لفساداور ضرب عضب دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ا ہم اقدامات تھے ۔

    مسلح افواج، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسروں اور جوانوں کی عظیم قربانیاں ناقابل فراموش ہیں ۔ امن و امان کی بنیادی ذمہ داری صوبوں کی ہے لیکن وفاق ان سنگین مسائل پر آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم نے کہاکہ دہشت گردی کے مقابلے کے لئےصوبوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کرائیں گے ۔ صوبائی حکومت کی صلاحیت اور استعداد کار میں اضافہ دہشت گردی کے خاتمے میں اہم ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے
    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ
    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن
    وزیراعظم نے کہا کہ وفاق صوبوں میں انسداد دہشت گردی فورس اور ڈیپارٹمنٹ کی پیشہ ورانہ صلاحیت بہتر بنانے میں معاونت کرے گا ۔ خیبرپختونخوا کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی ازسرنو تشکیل پر کام کریں گے ۔ اپنی فورسز کی تمام ضروریات پوری کریں گے، جدید اسلحہ کی فراہمی اور پیشہ ورانہ تربیت پر توجہ دی جائے گی ۔

  • رونالڈو ورلڈ کپ کی بدترین الیون میں شامل

    رونالڈو ورلڈ کپ کی بدترین الیون میں شامل

    پرتگال کے فٹبال اسٹار کرسٹیانو رونالڈو کو ورلڈ کپ کی بدترین الیون میں شامل کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک ڈیٹا فراہم کرنے والی فرم کی جانب سے میگا ایونٹ کے دوران حاصل شدہ اعدادوشمار کی بنیاد پر بدترین الیون کا انتخاب کیا گیا-

    کراچی ٹیسٹ میں ٹاس ہارکر بولنگ کرنا ایک چیلنج تھا،بین اسٹوکس

    اس بدترین الیون میں کرسٹیانو رونالڈو بھی شامل ہیں جو ورلڈ کپ کے دوران اپنی ٹیم کی جانب سے جدوجہد کرتے دکھائی دیئے، آخری 2 میچز کی اسٹارٹنگ الیون میں انھیں شامل ہی نہیں کیا گیا تھا۔

    رونالڈو نے اپنے ملک کے لیے صرف ایک گول کیا اور سوئٹزرلینڈ کے ساتھ آخری 16 کے مقابلے اور مراکش سے کوارٹر فائنل میں شکست کے لیے فرنینڈو سانتوس نے انھیں بینچ پر ڈراپ کر دیا۔

    70 سال میں پہلی بار پاکستان کو ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش

    37 سالہ فری ایجنٹ نے مبینہ طور پر سانتوس کے ساتھ ایک گرما گرم ملاقات کے دوران پرتگالی کیمپ چھوڑنے کی دھمکی دی تھی جب اسے پتہ چلا کہ اسے سوئٹزرلینڈ کے کھیل سے نکال دیا گیا ہے، حالانکہ ملک کے ایف اے اور کھلاڑی نے اس کی فوری تردید کر دی تھی۔

    اور رونالڈو کے مصائب کو شماریات فراہم کرنے والے Sofascore کی جانب سے ورلڈ کپ کی ان کی بدترین ٹیم کے حصے کے طور پر منتخب کیے جانے سے مزید بڑھ گیا ہے۔

    بدترین الیون میں 2 آسٹریلوی اور ایک امریکی فٹبالر بھی موجود ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ کی فاتح ارجنٹائنی ٹیم کے لاؤتارو مارٹینز بھی اس بدترین الیون کا حصہ ہیں۔

    لیونل میسی نے ورلڈکپ ختم ہونے کے بعد بھی ایک اور عالمی ریکارڈ قائم کردیا

  • سیلاب؛ضروریات کے مقابلے میں 8.2 ارب ڈالر کے فرق کی نشاندہی

    سیلاب؛ضروریات کے مقابلے میں 8.2 ارب ڈالر کے فرق کی نشاندہی

     پاکستان نے سیلاب سے بحالی اور تعمیر نو کی کل 16.3 ارب ڈالر کی ضروریات کے مقابلے میں 8.2 ارب ڈالر کے فرق کی نشاندہی کی ہے۔

    پاکستان نے اندازہ لگایا ہے کہ وفاقی اور صوبائی بجٹ کے ذریعے بحالی اور تعمیر نو کے لیے فنڈز دینے کی اسکی صلاحیت 30 فیصد یا 4.9 ارب ڈالر تک محدود تھی۔ اس نے کمیونٹی سپورٹ تنظیموں سے مزید 5% یا $814 ملین اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈلز کے ذریعے 15% یا $2.5 ارب حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا ہے۔

    تاہم بقیہ 8.2 ارب ڈالر یا 50% بیرونی ممالک اور کثیر جہتی قرض دہندگان سے وصولی کی مالیاتی حکمت عملی کے مطابق آنا ہے۔ 16.3 ارب ڈالر کی مجموعی بحالی کی ترجیحی لاگت میں سے، ایک سال تک کی فوری ضروریات کا تخمینہ 6.8 ارب ڈالر لگایا گیا۔ فوری ضروریات کل تخمینہ شدہ ضروریات کے 41% کے برابر ہیں۔

    آئی ایم ایف ریکوری لاگت کے فریم ورک کا انتظار کر رہا ہے جس کا مقصد تخمینہ لاگت کے اثرات کا اندازہ لگانا ہے، خاص طور پر قلیل مدتی، 6.5 ارب ڈالر کے پروگرام کی بقیہ مدت پر جو اگلے سال جون میں ختم ہو رہا ہے۔ تین سالوں پر محیط درمیانی مدت کے لیے مزید $6.2 ارب کی ضرورت ہوگی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے
    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ
    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن
    ادھروزارت منصوبہ بندی نے زور دیا ہے مالیاتی مشکلات کے پیش نظر، عالمی اقتصادی صورتحال کے ساتھ، 4RF کیلئے مالیاتی لفافہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں، دو طرفہ اور کثیر جہتی شراکت داروں اور عالمی برادری کے درمیان مشترکہ ذمہ داری ہونا چاہیے۔ عوامی وسائل کا موثر استعمال اور مالیاتی جگہ بڑھانے کیلئے پالیسی اقدامات کے ساتھ مل جائے گا۔ نجی شعبے کی مالی اعانت کو متحرک کرنا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک کی بہتری اہم ہوگی۔

  • مسیحی برادری وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے کوشاں ہے۔ ڈاکٹر جوزف

    مسیحی برادری وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے کوشاں ہے۔ ڈاکٹر جوزف

    کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کی جانب سے دس لاکھ پودے لگائے جائینگے، ڈاکٹر جوزف

    آرچ بشپ راولپنڈی اسلام آباد ڈاکٹر جوزف ارشد نے پاکستان کو سرسبز و شاداب بنانے کیلئے کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کی جانب سے دس لاکھ پودے لگانے کی مہم شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسیحی برادری وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے کوشاں ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرسمس کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر تاجر برادری نے مسیحی برادری سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کرسمس کی خوشیوں میں شریک ہونے کا عزم ظاہر کیا۔ مرکزی انجمن تاجران کینٹ کے صدر شیخ حفیظ کی جانب سے خصوصی کرسمس کیک کاٹا گیا۔ شیخ حفیظ نے اپنے خطاب میں مسیحی بھائیوں کو کرسمس کی مبارکباد دی اور کہا کہ تاجر برادری مسیحی بھائیوں کی خوشیوں میں مکمل طور پر شریک ہونے کا یقین دلاتی ہے۔

    ڈسٹرکٹ خطیب راولپنڈی و امن کمیٹی کے فوکل پرسن مولانا حافظ محمد اقبال رضوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آزادی کی جدوجہد میں مسیحی برادری کاکلیدی کردار ہے ، مذہبی رواداری و یکجہتی کے فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹیوں کا قیام مستحسن فیصلہ ہے جس کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے ۔ حافظ محمد اقبال رضوی نے مسیحی عبادتگاہوں کی سکیورٹی کے بہترین انتظامات پر انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مسیحی برادری کے لیے قبرستان کی جگہ مختص کرنے کے فوری اقدامات کیے جائیں ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے
    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ
    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن
    کرسمس بین المذاہب ہم آہنگی تقریب میں امن کمیٹی کے رکن بابو ساجد امین کھوکھر،سینئر صحافی عامر وسیم، فریاد فرانسس، سیاسی و سماجی رہنما حارث غوری، پیرش پریسٹ فادر سرفارز سائمن، فادر آصف جان، کامران ستار و دیگر مسیحی برادری سمیت مسلم، سکھ، ہندو، اہل تشیع حضرات کے ساتھ دیگر مذہبی رہنما بھی موجود تھے۔

  • موجودہ سیاسی حالات میں 186 ووٹ پورے کرنا تحریک انصاف کے لیے مشکل

    موجودہ سیاسی حالات میں 186 ووٹ پورے کرنا تحریک انصاف کے لیے مشکل

    موجودہ سیاسی حالات میں 186 ووٹ پورے کرنا تحریک انصاف کے لیے مشکل ہے .

    اپوزیشن کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی ہے، اور تحریک انصاف نے بھی تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جب کہ پنجاب حکومت اپنی حکمت عملی بھی تیار کرلی ہے۔ گزشتہ روز پی ٹی آئی چیئرمین کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔ اور ذرائع کے مطابق قانونی ماہرین کی رائے کی روشنی میں ہی عدم اعتماد کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گورنر کی طرف سے اعتماد کے ووٹ کے خط کو بے اثر کرنے کی حکمت اختیار کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر کے خط کے روشنی میں وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کی صورت میں خود ایوان میں 186 ارکان شو کرنا ضروری ہیں، لیکن موجودہ سیاسی حالات میں 186 ووٹ پورے کرنا تحریک انصاف کے لیے مشکل ہے، کیونکہ تحریک انصاف کو اراکین اسمبلی کے اپوزیشن کے ساتھ روابط کی رپورٹ مل چکی ہے، اور اعتماد کے ووٹ کی صورت میں پی ٹی آئی کے کچھ اراکین ادھر ادھر ہوسکتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے
    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ
    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن
    دوسری طرف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی صورت میں 186 ووٹ پورے کرنا ان کی ذمے داری ہوگی اور اپوزیشن کو بھی ق لیگ کی کھلی حمایت کے بغیر مطلوبہ عددی پوزیشن پوری کرنا ناممکن ہے۔ اس تمام صورتحال میں حکمت عملی یہ بنائی گئی ہے کہ وزیراعلی تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے فوری بعد اسمبلی کی تحلیل کی ایڈوائس گورنر کو بھیج دیں گے۔ اور اس سے گورنر کی ایڈوائس پر اعتماد کے ووٹ کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔

  • قرون وسطی کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ عائشہ بنت یوسف

    قرون وسطی کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ عائشہ بنت یوسف

    عائشہ بنت یوسف باعونیہ مرشدہ( پیدائش سنہ 1460 ء وفات21 دسمبر 1516ءدمشق) اور صوفی شاعرہ تھیں، یہ قرون وسطیٰ کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ تھیں۔ وہ بیسویں صدی کی دیگر خواتین کی بہ نسبت بجا طور پر سب سے زیادہ عربی کلام لکھنے والی خاتون ہیں۔ ان کی تحریروں میں ادبی صلاحیت، ان کے خاندان کا صوفیانہ رجحان صاف جھلکتا ہے۔ دمشق میں پیدا ہوئیں اور وہیں وفات پائیں حالانکہ کا ان آبائی اصلی وطن اردن کا ”باعون“ شہر ہے، اسی کی طرف نسبت کی وجہ سے باعونیہ کہا جاتا ہے۔

    حالاتِ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عائشہ باعونیہ کے والد یوسف (مولود 805/1402 قدس، متوفی 880/1475 دمشق) صفد، طرابلس، حلب اور دمشق کے قاضی القضاۃ تھے اور اپنے مشہور خاندان ”باعونی“ کے اہم رکن تھے۔ پندرہویں صدی عیسوی کے مشہور علما، فقہا اور شعرا میں شمار ہوتا تھا۔ عائشہ باعونیہ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد محترم اور خاندان کے دوسرے ذی علم حضرات سے حاصل کیا۔ ان سے قرآن، حدیث، فقہ اور شاعری پڑھی، آٹھ سال کی عمر سے پہلے ہی قرآن کو حفظ کر لیا تھا۔

    عائشہ نے صوفی جمال الدین اسماعیل ہواری اور ان کے خلیفہ محی الدین یحیی اورماوی سے ملاقات کی اور ان سے روحانی فیض حاصل کیا، دونوں مرشد پندرہویں اور سولہویں صدی کے مشہور اور عظیم مرشد تھے سنہ 1475 عیسوی میں عائشہ باعونیہ نے مکہ کا سفر کیا اور حج ادا کیا۔

    عائشہ باعونیہ کی شادی احمد بن محمد بن نقیب اشرف (متوفی 909/1503) سے ہوئی، جو دمشق کے مشہور علمی خاندان ”علید“ سے تھے۔ ان سے دو اولاد، ایک لڑکا عبد الوہاب اور ایک لڑکی برکت ہوئی۔

    قاہرہ میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سنہ 919 ہجری مطابق 1513 عیسوی میں عائشہ اور ان کے بیٹے دمشق سے قاہرہ ہجرت کر گئے، پھر 923ھ/1517ء میں دمشق واپس آ گئے۔ مصر جانے کا مقصد بیٹے کے عملی میدان کی حفاظت کرنا تھا، راستے میں ”بلبیس“ کے قریب ڈاکوؤں کے گروہ نے انھیں لوٹ لیا اور سارا سامان جس میں عائشہ کی کتابیں بھی شامل تھیں سب کو چھین لیا۔ قاہرہ میں ماں اور بیٹے محمود بن محمد بن اجا کی ضیافت میں تھے، جو مملوکی سلطان الاشرف قانصوہ غوری کے خاص معتمد اور وزیر خارجہ تھے۔ ابن اجا نے علمی اور فکری حلقوں میں شامل کرنے کے لیے عائشہ کی بہت مدد کی، عائشہ نے ان کے لیے ایک تعریفی قصیدہ بھی تحریر کیا تھا۔ قاہرہ میں عائشہ نے قانون کی تعلیم حاصل کی، انھیں قانون کی تعلیم دینے اور شرعی قوانین (فتاوی) جاری کرنے کا اجازت نامہ (لائسنس) میں ملا تھا اور ایک فقیہہ کی حیثیت مل گئی۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سنہ 922ھ مطابق 1516ء میں سلطان الاشرف قانصوہ غوری کی حلب میں جنگ مرج دابق میں شکست کے بعد عائشہ، اپنے بیٹے، ابن اجا، شمس سفیری اور دوسرے علما کے ساتھ قاہرہسے رخصت ہو گئیں۔ یہ ان کی زندگی کا غیر معمولی حادثہ تھا۔ عائشہ باعونیہ دمشق واپس چلی گئیں، جہاں سنہ 923ھ مطابق 1517ء میں وفات ہوئی۔

    علمی کارنامے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عائشہ باعونیہ بیسویں صدی کی سب سے زیادہ لکھنے والی خاتون ہیں، تھامس ایمیل ہومرین کے مطابق عائشہ کے بیشتر کام ابھی تک نا معلوم ہیں، پھر بھی جو کام منظر عام پر آئے ہیں ان میں سب کچھ یہ ہیں:

    ۔ (1)دیوان الباعونیہ
    ۔ (2)درر الغائص فی بحر المعجزات و الخصائص
    ۔ (3)الفتح الحقی من فیح التلقی
    ۔ (4)الفتح المبین فی مدح الامین
    ۔ (5)الفتح القریب فی معراج الحبیب
    ۔ (6)فیض الفضل و جمع الشمل
    ۔ (7)فیض الوفا فی اسماء المصطفی
    ۔ (8)الاشارات الخفیہ فی منازل العالیہ
    ۔ (9)مدد الودود فی مولد المحمود
    ۔ (10)الملامح الشریفہ فی الآثار اللطیفہ
    ۔ (11)المورد الاہنی فی المولد الاسنی
    ۔ (12)المنتخب فی اصول الرتب
    ۔ (13)القول الصحیح فی تخمیس بردۃ المدیح
    ۔ (14)صلاۃ السلام فی فضل الصلاۃ و السلام
    ۔ (15)تشریف الفکر فی نظم فوائد الذکر
    ۔ (16)الزبدۃ فی تخمیس البردہ

  • معروف شاعر نجم آفندی کا یوم وفات

    معروف شاعر نجم آفندی کا یوم وفات

    ہستی کوئی ایسی بھی ہے انساں کے سوا اور
    مذہب کا خدا اور ہے مطلب کا خدا اور

    نجم آفندی اردو کے نامور مرثیہ گو شاعر تھے۔ وہ اردو شاعری کے جدید اصناف شاعری میں نئے تجربوں کے لیے بھی شہرت رکھتے تھے۔

    نام اور خاندان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نجم آفندی کا اصل نام میرزا تجمل حسین تھا۔ وہ 1893ء میں آگرہ کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد بزم آفندی، دادا مرزا عباس علی ملیح، پردادا مرزا نجف علی بلیغ اور پردادا کے بھائی مرزا جعفر علی فصیح، سب شاعر تھے۔ مرزا جعفر علی فصیح کو حاجیوں کی خدمت کرنے پر سلطنت عثمانیہ کی جانب سے آفندی کا خطاب ملا اور یہی اس خاندان کے ناموں کا حصہ بن گیا تھا۔

    کلام کی قدر دانی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    خاندانی احوال کے زیر اثر نجم کم عمری سے شاعری کرنے لگے۔ انھوں نے اپنی مشہور نظم در یتیم لکھنؤ میں سنائی تھی۔ اس نظم پر بولی لگائی گئی تھی اور سب سے زیادہ بولی لگانے والے راجا راولپنڈی نے اسے 5600 روپیوں میں خریدا تھا (جو 1910ء میں ایک چونکانے والی قیمت تھی)۔ رقم کی وصولی کے بعد نجم نے اسے یتیم خانے کے حوالے کر دیا تھا۔

    ترقی پسند تحریک کے وجود میں آنے سے پہلے ہی نجم ”کسان“، ”مزدور کی آواز“، ”ہماری عید“ جیسے موضوعات کو اپنے شاعرانہ کلام کا حصہ بنا چکے تھے نجم اپنی زندگی کے بعد کے ایام میں خالصتًا مذہبی شاعری اور مرثیہ نگاری کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا۔

    مجموعہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    نجم نے کئی مرثیے، نوحے، قصائد اور رباعیات قلم بند کیں جنھیں بعد میں ”کلیاتِ کائناتِ نجم“ کے نام سے دو جلدوں میں شائع کیا گیا تھا۔

    ہجرت اور انتقال
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپریل 1971ء میں نجم آفندی ہندستان سے ہجرت کرکے پاکستان چلے گئے۔ وہ کراچی میں بس گئے اور 21 دسمبر 1975ء کو کراچی ہی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ سخی حسن کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہستی کوئی ایسی بھی ہے انساں کے سوا اور
    مذہب کا خدا اور ہے مطلب کا خدا اور
    پھر ٹھہر گیا قافلۂ درد سنا ہے
    شاید کوئی رستے میں مری طرح گرا اور
    اک جرعۂ آخر کی کمی رہ گئی آخر
    جتنی وہ پلاتے گئے آنکھوں نے کہا اور
    منبر سے بہت فصل ہے میدان عمل کا
    تقریر کے مرد اور ہیں مردان وغا اور
    اللہ گلہ کر کے میں پچتایا ہوں کیا کیا
    جب ختم ہوئی بات کہیں اس نے کہا اور
    کیا زیر لب دوست ہے اظہار جسارت
    حق ہو کہ وہ ناحق ہو ذرا لے تو بڑھا اور
    دولت کا تو پہلے ہی گنہ گار تھا منعم
    دولت کی محبت نے گنہ گار کیا اور
    یہ وہم سا ہوتا ہے مجھے دیکھ کے ان کو
    سیرت کا خدا اور ہے صورت کا خدا اور

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    محبت کی وہ آہٹ پا نہ جائے
    اداؤں میں تکلف آ نہ جائے
    تری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دی ہیں
    کریں کیا جب تجھے دیکھا نہ جائے
    کہیں خود بھی بدلتا ہے زمانہ
    زبردستی اگر بدلا نہ جائے
    محبت راہ چلتے ٹوکتی ہے
    کسی دن زد میں تو بھی آ نہ جائے
    وہاں تک دین کے ساتھی ہزاروں
    جہاں تک ہاتھ سے دنیا نہ جائے
    ترے جوش کرم سے ڈر رہا ہوں
    دل درد آشنا اترا نہ جائے
    کہاں تم درد دل لے کر چلے نجمؔ
    مزاج درد دل پوچھا نہ جائے

  • پاکستان کے قومی ترانہ اور شاہنامہ اسلام کے خالق حفیظ جالندھری کا یوم وفات

    پاکستان کے قومی ترانہ اور شاہنامہ اسلام کے خالق حفیظ جالندھری کا یوم وفات

    تشکیل و تکمیل کے فن میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
    نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں

    ابو الاثر حفیظ جالندھری پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور مقبول رومانی شاعر اور افسانہ نگار تھے جنہوں نے پاکستان کے قومی ترانہ کے خالق کی حیثیت سے شہرتِ دوام پائی۔ ملکہ پکھراج نے ان کی نظم ابھی تو میں جوان ہوں کو گا کر شہرت دی۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    حفیظ جالندھری ہندوستان کے شہر جالندھر میں 14 جنوری 1900ء کو پیدا ہوئے۔ آزادی کے وقت 1947ء میں لاہور آ گئے۔ آپ نے تعلیمی اسناد حاصل نہیں کی، مگر اس کمی کو انہوں نے خود پڑھ کر پوری کیا۔ انھیں نامور فارسی شاعر مولانا غلام قادر بلگرامی کی اصلاح حاصل رہی۔ آپ نے محنت اور ریاضت سے نامور شعرا کی فہرست میں جگہ بنالی۔ حفیظ جالندھری پاک فوج میں ڈائریکٹر جنرل مورال، صدر پاکستان کے چیف ایڈوائزر اور رائٹرز گلڈ کے ڈائریکٹر کے منصب پر بھی فائز رہے۔

    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    حفیظ جالندھری گیت کے ساتھ ساتھ نظم اور غزل دونوں کے قادرالکلام شاعر تھے۔ تاہم ان کا سب سے بڑا کارنامہ شاہنامہ اسلام ہے جو چار جلدوں میں شائع ہوا۔ اس کے ذریعہ انہوں نے اسلامی روایات اور قومی شکوہ کا احیا کیا جس پر انہیں فردوسی اسلام کا خطاب دیا گیا۔ حفیظ جالندھری کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان کا قومی ترانہ ہے اس ترانے کی تخلیق کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ حفیظ جالندھری نے یہ خوب صورت قومی ترانہ احمد جی چھاگلہ کی دھن پر تخلیق کیا تھا اور حکومت پاکستان نے اسے 4 اگست 1954ء کو پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر منظور کیا تھا۔

    حفیظ جالندھری کی شاعری کی خوبی اس کی غنائیت ہے۔ وہ خود بھی مترنم تھے اس لیے انہوں نے ایسی لفظیات کا انتخاب کیا جو غنائیت کے پیکر پر پورے اترتے ہیں۔ غنائیت کا سبب ان کی گیت نگاری بھی ہے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں فوجی گیت لکھے تھے اور گیت کو بھی انہوں نے نئے پیکر عطا کیے۔ شاید اسی لیے آج تک حفیظ جالندھری کی شناخت ابھی تو میں جوان ہوں کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ بلا شبہ یہ ایک پر اثر گیت ہے کیوں کہ اس میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ اپنی جگہ پر نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہیں اور سامع کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ حفیظ کی غزلوں کا سرمایہ کافی ہے اور حفیظ خود کو غزل گو کہلوانا پسند کرتے تھے۔ انہوں نے غزل میں بہت سے نئے تجربات کیے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سلیس زبان کا استعمال کیااور گرد و پیش کے واقعات کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ ایک طرح سے انہوں نے غزل کو فطری پوشاک عطا کی۔ ان کے یہاں روایت سے بغاوت ملتی ہے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    حفیظ جالندھری کے شعری مجموعوں میں نغمہ بار، تلخابہ شیریں، سوزو ساز، افسانوں کا مجموعہ ہفت پیکر،گیتوں کے مجموعے ہندوستان ہمارا،پھول مالی، بچوں کی نظمیں اپنے موضوع پر ایک کتاب چیونٹی نامہ، شاہنامہِ اسلام 4جلد، بزم نہیں رزم، چراغِ سحر، تصویرِکشمیر، بہار کے پھول

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کے قومی ترانہ اور شاہنامہ اسلام کے خالق حفیظ جالندھری 21 دسمبر 1982ء کو لاہور پاکستان میں 82 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ وہ مینار پاکستان کے سایہ تلے آسودہ خاک ہیں۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
    کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے

    دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا رب
    میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں

    حفیظؔ اپنی بولی محبت کی بولی
    نہ اردو نہ ہندی نہ ہندوستانی

    دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
    اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

    آنکھ کمبخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا
    ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر

    وفا جس سے کی بے وفا ہو گیا
    جسے بت بنایا خدا ہو گیا

    یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے
    بات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے

    وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں
    میں کیا کر رہا ہوں وہ کیا کر رہے ہیں

    دل کو خدا کی یاد تلے بھی دبا چکا
    کم بخت پھر بھی چین نہ پائے تو کیا کروں

    کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا
    کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا

    بے تعلق زندگی اچھی نہیں
    زندگی کیا موت بھی اچھی نہیں

    بھلائی نہیں جا سکیں گی یہ باتیں
    تمہیں یاد آئیں گے ہم یاد رکھنا

    دل لگاؤ تو لگاؤ دل سے دل
    دل لگی ہی دل لگی اچھی نہیں

    زندگی فردوس گم گشتہ کو پا سکتی نہیں
    موت ہی آتی ہے یہ منزل دکھانے کے لیے

    ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے
    تم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکے

    کوئی دوا نہ دے سکے مشورۂ دعا دیا
    چارہ گروں نے اور بھی درد دل کا بڑھا دیا

    ہم سے یہ بار لطف اٹھایا نہ جائے گا
    احساں یہ کیجئے کہ یہ احساں نہ کیجئے

    الٰہی ایک غم روزگار کیا کم تھا
    کہ عشق بھیج دیا جان مبتلا کے لیے

    ہاتھ رکھ رکھ کے وہ سینے پہ کسی کا کہنا
    دل سے درد اٹھتا ہے پہلے کہ جگر سے پہلے

    اب مجھے مانیں نہ مانیں اے حفیظؔ
    مانتے ہیں سب مرے استاد کو

    مری مجبوریاں کیا پوچھتے ہو
    کہ جینے کے لیے مجبور ہوں میں

    او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا
    اب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جا

    آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے
    آدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیے

    تشجیل و تکمیل فن میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
    نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں

    اے حفیظؔ آہ آہ پر آخر
    کیا کہیں دوست واہ وا کے سوا

  • دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب  اسٹیم سیلز سے علاج ممکن

    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن

    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کیلئے امید کی کرن، اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن ہوگا.

    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کیلئے امید کی کرن، برطانیہ کے اسپتال میں بچے کے دل کی خرابی کو درست کرنے کیلئے ابتدائی اسٹیم سیل "سکافولڈنگ” کا کامیابی کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ برسٹل ہارٹ انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر ماسیمو کیپیوٹو نے اسٹیم سیلز انجیکٹ کر کے فِن لی نامی دو سالہ بچے کے دل میں موجود نقص کا کامیابی سے علاج ممکن بنا لیا۔ پروفیسر کیپیوٹو کا کہنا ہے کہ فن لی پیدائشی طور پر دل کے نقص میں مبتلا تھا اور اپنی پیدائش کے صرف چار دن بعد اس کی اوپن ہارٹ سرجری کی گئی تھی تاہم بدقسمتی سے سرجری سے بھی بچے کا مسئلا حل نہ ہو پایا اور دل کی بائیں جانب خون کے کم بہاؤ کے باعث بچے کی دل کی کام کرنے کی صورتحال بگڑتی گئی۔

    اوپن ہارٹ سرجری کے بعد بچے کو زندہ رکھنے کیلئے مشینوں پر رکھا گیا تھا اور آئی سی یو میں کئی ہفتے زیر علاج رہنے کے باوجود فن لی کیلئے کوئی کنوینشل طریقہ علاج موجود نہیں تھا بس دوائیوں اور مشینوں کی مدد سے اس کے دل کی دھڑکن جاری رکھی جا رہی تھی۔   ڈاکٹر کیپیوٹو نے بتایا کہ بعد ازاں پلیسینٹا بینک سے لیے گئے اسٹیم سیلز کو استعمال کرنےکا ایک نیا طریقہ آزمایا گیا، کروڑوں اسٹیم سیل بچے کے دل کے مسلز میں اس امید پر انجیکٹ کئے گئے کہ وہ بچے کے دل کی متاثرہ شریانوں کو بڑھنے اور ریکور کرنے میں مدد کریں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ’’ایلوجینیک سیل‘‘ نامی یہ سیل ٹشوز میں بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور فن لی کے معاملے میں بھی اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا تھا، اور ان سیلز نے بچے کے دل کے متاثرہ مسلز کو ری جنریٹ کرکے دکھا دیا۔ پروفیسر کیپیوٹو اوران کی ٹیم کا کہنا تھا کہ آپریشن کے نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں، فن لی نامی اس بچے کی دوائیاں روک کر اسے وینٹیلیشن سے ہٹا دیاگیا ہے اور اب اسے انٹینسو تھراپی یونٹ سے بھی ڈسچارج کر دیا گیا ہے، فن لی اب ایک صحت مند بڑھتا ہوا بچا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کو متعدد آپریشنز سے بچایا جا سکے گا۔

  • سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ

    وزیر خارجہ نے انڈر سیکرٹری جنرل کی جانب سے 97 ملین ڈالر کی انسانی امداد کو سراہا۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یو ایس ایڈ ایڈمنسٹریٹر سمانتھا پاور کے ساتھ ایک نتیجہ خیز ملاقات ہوئی ہے.۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے مدد کرنے پر ان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا.
    وزیر خارجہ نے انڈر سیکرٹری جنرل کی جانب سے 97 ملین ڈالر کی انسانی امداد کو سراہا۔اور کہا کہ ملاقات میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے.


    واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی اپنے پاکستانی ہم منصب بلاول بھٹو زرداری کو ٹیلی فون کیا اور دہشت گرد حملوں میں جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ ٹوئٹر پیغام میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بتایا کہ اُن کی پاکستانی ہم منصب بلاول بھٹو زرداری سے گفتگو ہوئی ہے جس میں سیلاب زدگان کی حمایت کے حوالے سے یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سیلاب زدگان کی مسلسل مدد کی حمایت کرتے ہیں، آئندہ ماہ ایک نتیجہ خیز موسمیاتی کانفرنس کیلئے پرامید ہوں۔ امریکی وزیرخارجہ نے پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت بھی کی۔


    قبل ازیں وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے نجی ٹٰی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں، پاکستان کو سیلاب کے باعث مسائل کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات اہمیت کے حامل ہیں۔
    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے