Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • جماعت اسلامی بنگلادیش کے امیر دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتار

    جماعت اسلامی بنگلادیش کے امیر دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتار

    ڈھاکا: بنگلادیش میں جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان کو دہشت گردی کے الزامات پر گرفتار کرلیا گیا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق بنگلادیش کے دارالحکومت میں جماعت اسلامی کے امیر کو گرفتار کر کے اُن کے خلاف دہشت گردی کی دفع کے تحت جترا بری پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ْ

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے:تنویر سپرا کی…

    انسداد دہشت گردی فورس کے سربراہ اسد زمان نے بتایا کہ شیفق الرحمان کو منگل کی دوپہر ساڑھے تین بجے کے قریب منٹو روڈ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے امیر کے ساتھ اُن کے بیٹے رفعت صادق سیف اللہ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

    راولپنڈی:متعدد بچے ڈیٹا نہ ہونے سے پولیوکے قطرے پینے سے محروم

    پولیس کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر کو مسلح تنظیم جماعت انصار کے دہشت گرد کی نشادہی پر گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ ملزم نے دوران تفتیش دہشت گردی کے حوالے سے انکشافات کیے ہیں۔پولیس کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر کے بیٹے اور اُن کے ساتھیوں کو بھی 9 دسمبر کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

    صدرمملکت عارف علوی کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ،مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا

  • لاہور میں کروڑوں روپے کی جعلی کرنسی پکڑی گئی

    لاہور میں کروڑوں روپے کی جعلی کرنسی پکڑی گئی

    لاہور : لاہور میں کروڑوں روپے کی جعلی کرنسی پکڑی گئی ،اطلاعات کے مطابق پولیس نے جعلی نوٹ بناکر ملک بھر میں پھیلانے والا 4 رکنی گینگ گرفتار کرلیا، ملزموں کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی جعلی کرنسی برآمد کرلی گئی۔

    اسلام آباد:کرپشن کے بے تاج بادشاہ،کام تو جان چکے ،اب نام بھی جان لیں کہ یہ مافیا…

    لاہور کی غالب مارکیٹ پولیس نے جعلی کرنسی بنانے میں مہارت رکھنے والا گينگ پکڑ لیا، جو 5 ہزار اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں اس مہارت سے بناتا تھا کہ نوٹوں کی پہچان رکھنے والے بھی اسے پکڑ نہیں پاتے تھے۔

    پولیس کے مطابق پرنٹنگ کے شعبہ سے وابستہ ملزمان نے اتنی بڑی تعداد میں جعلی نوٹوں کی چھپائی کی کہ خود بھی نہ گن سکے۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے سرکاری اخراجات میں کمی کیلئے بڑے فیصلے

    ایس ایچ او غالب مارکیٹ کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان گزشتہ 2 سال سے جعلی نوٹوں کا دھندا کررہے تھے، گینگ جعلی نوٹ سپلائی کرنے کیلئے ملک کے پسماندہ علاقوں کا انتخاب کرتا تھا۔پولیس نے ملزموں کے پرنٹنگ پریس پر چھاپہ مارا تو کروڑوں روپے کی جعلی کرنسی اور بڑی تعداد میں کاغذ سمیت دیگر خام مال پکڑا گیا۔

  • دہشت گردی اوراسلامو فوبیا آج کے بڑے مسائل ہیں:بلاول بھٹو

    دہشت گردی اوراسلامو فوبیا آج کے بڑے مسائل ہیں:بلاول بھٹو

    اسلام آباد: وزیرخارجہ و چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور اسلامو فوبیا آج کے بڑے مسائل ہیں۔عالمی میڈیا کو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جمہوریت کے فروغ پر یقین رکھتا ہے، پاکستان علاقائی امن و استحکام میں کردار ادا کر رہا ہے اور افغانستان میں بھی استحکام چاہتا ہے۔

    چوہدری شجاعت حسین کا نوازشریف سے ملاقات کے لئے لندن جانے کا امکان

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے گزشتہ دنوں افغانستان کا دورہ کیا، پُرامن اور مستحکم افغانستان خطے کے مفاد میں ہے، انہوں نے کہا کہ افغان مسائل کے حل کے لیے اقوام عالم کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    روس اور مغرب تصادم کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں: روس اہلکارنے خبردارکردیا

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے، دہشت گردی اور اسلامو فوبیا آج کے دور کے بڑے مسائل ہیں۔اپنی مرحومہ والدہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ شہید بے نظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں، خواتین کو معاشی طور پر با اختیار بنانا بی بی شہید کا وژن تھا۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے سرکاری اخراجات میں کمی کیلئے بڑے فیصلے

    دریں اثنا ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے ان کا استقبال کیا، بلاول بھٹو زرداری اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں جی 77 اور چین کی وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

  • وفاقی کابینہ اجلاس، ریکوڈک معاملے پر2 اہم اتحادی جماعتیں ناراض

    وفاقی کابینہ اجلاس، ریکوڈک معاملے پر2 اہم اتحادی جماعتیں ناراض

    وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران ریکوڈک معاملے پر جے یو آئی اور بی این پی مینگل کے اراکین نے احتجاج کیا اور اجلاس سے واک آوٹ کرگئے۔ذرائع کے مطابق اتحادی جماعتوں نے ریکوڈک معاملے پر اعتماد میں نہ لینے کا شکوہ کیا۔ ناراض اراکین کا مؤقف ہے کہ ترامیم شامل ہونے کے بعد ہی کابینہ اجلاسوں میں شریک ہوں گے۔

    اسلام آباد:کرپشن کے بے تاج بادشاہ،کام تو جان چکے ،اب نام بھی جان لیں کہ یہ مافیا…

    بی این پی مینگل اور جے یو آئی کے وزراء کابینہ اجلاس میں شریک ہوئے اور احتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد اجلاس سے اٹھ کر چلےگئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وزراء نے ریکوڈک کے معاملے پر کابینہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔

    کوکاکولا لاہوراوپن پولو چیمپئن شپ:کون ہارا اورکون رہا فاتح؟تفصیلات آگئیں

    دوسری جانب اتحادی جماعتوں کے اراکین کے احتجاج اور واک آوٹ کے دوران حکومتی وزراء ناراض اراکین کو مناتے رہے۔ حکومت نے یقین دہاہی بھی کرائی کہ تحفظات درست ہیں، جلد ترامیم کی جائیں گی۔

    ایبٹ آباد ہاکی گراؤنڈ میں خامیوں کی نشاندہی:ذمہ دار کون:حقائق سامنے آگئے

  • وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے سرکاری اخراجات میں کمی کیلئے بڑے فیصلے

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے سرکاری اخراجات میں کمی کیلئے بڑے فیصلے

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے صوبے میں سرکاری اخراجات میں کمی کیلئے بڑے فیصلے کرتے ہوئے کفایت شعاری پالیسی پر عملدر آمد کیلئے سخت ہدایات جاری کردی ہیں۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سرکاری محکموں کیلئے نئی گاڑیاں خریدنے پر پابندی عائد کردی ہے اوروزیراعلیٰ آفس سمیت تمام سرکاری محکموں کے نان ڈویلپمنٹ اخراجات میں 50فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔چودھری پرویز الٰہی نے تمام محکموں کو ہدایت کی ہے کہ کفایت شعاری پالیسی پر من وعن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے پنجاب بھر میں سرکاری اراضی کامکمل ریکارڈ طلب کرلیاہے اورہدایت کی ہے کہ سرکاری اراضی کی تفصیلات 7روز کے اندر وزیراعلیٰ آفس بھجوائی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری اراضی کو شفاف طریقے سے نیلام کرنے کیلئے جامع پالیسی تیار کی جائیگی۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے صوبے کے وسائل میں اضافے کیلئے آؤٹ آف باکس اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکمے ریونیو بڑھانے کیلئے منفرد انداز سے نئے اقدامات متعارف کرائیں۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے صوبے کے وسائل میں اضافے کیلئے مقرر کردہ ٹارگٹ پورا کرنے کی ہدایت کی اورکہا کہ اہداف کا حصول مقررہ مدت میں یقینی بنانا متعلقہ اداروں او رمحکموں کی ذمہ داری ہے۔متعلقہ محکمے ریونیو کے ٹارگٹس کے حصول کیلئے دن رات ایک کردیں۔ صوبے کے وسائل میں اضافے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ریونیو میں اضافے سے صوبے کے عوام کو زیادہ سے زیادہ بنیادی سہولتیں دی جائیں۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت آج وزیراعلیٰ آفس میں اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔صوبائی وزیر خزانہ محسن لغاری،سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی،ایم این اے حسین الٰہی،چیف سیکرٹری عبداللہ سنبل،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ محمد خان بھٹی، سیکرٹری خزانہ اورمتعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں صوبے میں جاری ترقیاتی پروگرام اورمالیاتی امور کا تفصیلی جائزہ لیاگیا۔

  • اسلام آباد:کرپشن کے بے تاج بادشاہ،کام تو جان چکے ،اب نام بھی جان لیں کہ یہ مافیا ہے کون؟

    اسلام آباد:کرپشن کے بے تاج بادشاہ،کام تو جان چکے ،اب نام بھی جان لیں کہ یہ مافیا ہے کون؟

    اسلام آباد:کرپشن کے بے تاج بادشاہ،کام تو جان چکے ،اب نام بھی جان لیں کہ یہ مافیا ہے کون؟اسلام آباد سے کچھ ایسی خبریں آرہی ہیں کہ جن کو جان کے ہرپاکستانی حیران ہےکہ کس قدر لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے، یہ لوٹ مار کرنے والا ایک گینگ ہے جو آپس میں رشتہ دار بھی ہیں اور انکے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کے ہاتھ بھی بڑے لمبے ہیں،

    اس حوالے سے باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ اس سارے کھیل کا ماسٹر مائنڈ عفان عالم ہے جو کہ ریلوے کا آفیسر تھا جس کو سی ڈی اے میں ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے لگا دیا گیا ہے جبکہ صورت حال یہ ہے کہ اس کو لینڈ اور ریونیو کے معاملات کا بالکل پتہ نہیں ہے ،عفان عالم سابق چیئرمین سی ڈی اے عامر علی احمد کی آنکھوں کا تارہ ہے اور بہت ہی قریب جاناجاتا ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ عفان عالم ہی اس قسم کے معاملات کو منطقی انجام تک پہنچاتا ہے ، عفان عالم سابق چیئرمین سی ڈی اے کے دورمیں ڈائریکٹر لینڈ تھا اور اس نے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں جعل سازی کرکے جعلی فائلیں تیار کرکے کروڑوں روپے کی خرد برد کی ہے ، عامرعلی احمد نے ان جعل سازیوں پر پردہ ڈالنے کےلیے عفان عالم کو ڈی جی لینڈ سی ڈی اے کے عہدے پر بٹ

    اس کے بعد عامر علی احمد نے ایک ایماندار افسر نوید الٰہی کو محکمہ بدرکرکے عفان علی کےسپرد اس کا چارچ کردیا جس نے یہاں دیگر اپنے ہم نوا لوگوں سےملکر رشوت کا بازار گرم رکھا، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عرفان مروت جو کہ ایک کرپٹ افسر تھا اور کرپشن کی وجہ سے معطل بھی ہوا اب عفان عالم اس کو ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیٹ لینڈ کے عہدے پر بٹھانےکےلیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے

    عفان عالم کا بھائی تاشفین عالم کو ڈپٹی کمشنر نوشہرہ فیروز لگا کر وہاں لوٹ مار کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے ،تاشفین عالم پچھلے مہینے انیس نومبر کو دو ارب روپے کی کرپشن کرکے بیرون ملک فرار ہوچکا ہے اور سندھ حکومت نے اس کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں،

    اہم ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ خاندان بڑے منظم طریقے سے پاکستان لوٹ رہا ہے اور انکو بڑے بڑے لوگوں کی سرپرستی حاصل ہے، یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اس خاندان کی کرپشن کے اور بھی حیران کن اسکینڈلز ہیں جن کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے

    اس خاندان کی لوٹ مار سے تنگ پاکسانیوں اور افسران نے وزیراعظم پاکستان شہبازشریف ، چیئرمین سی ڈی اے اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ  سے درخواست کی ہے کہ اس کرپٹ خاندان کی کرپشن کا سختی سے نوٹس لیں اور اس کرپٹ افسر کو اس واپس اس کے محکمے میں بھیجا جائے تاکہ غریب عوام الناس اور دیگرمتاثرہ لوگ اس کی زیادتیوں سے بچ سکیں عوام الناس نے وزیراعظم ، وزیرداخلہ ، چیئرمین سی ڈی اے اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے عرض کی ہےکہ تاشفیق عالم کوکٹہرے میں لاکر ان سے لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لی جائے اور ان کے خلاف اس خاندان کےخلاف ایک چارج شیٹ پیش کی جائے تاکہ ائندہ کوئی افسر اس دیدہ دلیری سے ملک وقوم کو لوٹنے سے باز رہے

    یاد رہے کہ چنددن قبل ایف آئی اے نے سرکاری فنڈز کے ناجائزاستعمال پرافسران کے خلاف تحقیقات شروع کردیں ہیں، اس حوالے سے ایف آئی اے کی طرف سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افسران نے سرکاری فنڈز میں خوردبرد کی ہے اس لیے اب ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے ، ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ زون ٹو عبدالحمید بھٹو نے ایڈیشنل ڈائریکٹر حیدرآباد اور قائم مقام ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے شہید بے نظیر آباد کو فوری تحقیقات کی ہدایات جاری کردیں، جس کے بعد دونوں افسران کو جاری مراسلے میں انکوائری افسر کی فوری تعیناتی اور تحقیقات کے لیے کہا گیا ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ فراڈ میں ملوث افسران کے بیرون ملک فرار کو روکنے کے لیے ان کے کوائف بھی ایف آئی اے امیگریشن کو ارسال کردیے گئے تھے تاہم اس خاندان کے اہم رکن ڈپٹی کمشنر تاشفین عالم بیرون ملک فرار ہوگئے تاشفین عالم 19 نومبرکو دبئی روانہ ہوئے، تاشفین عالم دبئی سے غیر ملکی پرواز میں آزر بائیجان چلےگئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ڈی سی نوشہرو فیروز تاشفین عالم کو 1500 ایکڑ زمین کی خریداری کے لیے 3 ارب 61 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے تھے، جاری کردہ فنڈز کے استعمال میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور مبینہ خردبرد کا الزام ہے

  • سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی
    ملک میں سیاسی استحکام سیاستدانوں میں عدم خود اعتمادی اور سیاسی بلوغت کے فقدان کے سبب ہے۔ موروثی سیاست کی دوڑ اور مقتدر حلقوں کے مرہون منت شخصیات اور لینڈ مافیا کے جہازوں میں جھولے لینے والے سیاستدان کسی طرح بھی وطن عزیز کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ پنجاب میں بھرتیوں سے لیکر سیاسی امور حتیٰ کہ اسمبلیوں کی تحلیل پر پالیسی بیان ٹویٹ کرکے اپنے ڈی فیکٹو وزیراعلیٰ پنجاب ہونے کا تاثر دینے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ اور حیف ہے ان نام نہاد سیاستدانوں پر جو طفل سیاست کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ کر قومی معاملات میں ان سے مشاورت کے لئے گھنٹوں انتظار کی لائن میں لگے رہتے ہیں۔ کیا کسی بھی جمہوری ملک میں ایسا ممکن ہے کہ کسی وزیراعظم’ وزیراعلیٰ’ مشیر اعلیٰ کی اولادیں قومی اور سیاسی انتظامی اور پارلیمانی امور میں اپنے والدین کے عہدوں کے بل بوتے پر فیصلے صادر کررہے ہوں۔ ہرگز نہیں

    ہمارے ہاں سیاسی انحطاط کی اس سے بدتر مثال کہیں نہیں ملتی آج اس بدانتظامی کو مثال بنا کر کسی بھی اعلیٰ پولیس آفیسر یا بیوروکریٹ یا انتظامی افسران کا بیٹا بیٹی بھی انتظامی احکامات پر ٹویٹ در ٹویٹ کرنا شروع کردے تو کیا تعجب ہوگا؟ آج کے سیاستدانوں کو قائد اعظم’ خان لیاقت علی خان’ نواب زادہ نصراﷲ’ ایئرمارشل اصغر خان’ پروفیسر این ڈی خان’ معراج خالد’ معراج محمد خان’ ملک قاسم’ بے نظیر بھٹو’ ذوالفقار علی بھٹو’ رضا ربانی’ پرویز رشید’ مولانا عبدالستار خان نیازی’ مولانا مودودی’ مولانا مفتی محمود’ مولانا کوثر نیازی اور اسی طرح دیگر بہت سے نام ہیں جن کی سیاسی بصیرت اور ادراک کو مشعل راہ بنانا چاہئے اور اپنے سیاسی فیصلوں کے لئے گیٹ نمبر4 اور پانچ کی طرف یا آبپارہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے فوج نے سیاسی کردار سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور انہوں نے سیاسی دروازے بند کردیئے ہیں سیاستدانوں کو بیساکھیوں کو چھوڑ کر اپنے کردار سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا۔

  • میگھنا گلزار:معروف ہندوستانی لکھاری مصنفہ اورشاعرہ

    میگھنا گلزار:معروف ہندوستانی لکھاری مصنفہ اورشاعرہ

    میگھنا گلزار
    13 دسمبر 1973 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہندوستان کی معروف لکھاری، مصنفہ ، اسکرپٹ رائٹر اور فلم ڈائریکٹر و پروڈیوسر میگھنا گلزار 13 دسمبر 1973 میں مہاراشٹر میں پیدا ہوئیں ۔ وہ ہندوستان کے ممتاز شاعر گلزار اور فلمی اداکارہ راکھی کی بیٹی ہیں ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد سوشیالوجی میں ماسٹر کیا جبکہ نیویارک یونیورسٹی امریکہ سے پروڈیوسر کا کورس کیا۔ میگھنا نے اپنے فنی سفر کا آغاز اپنے والد کی رہنمائی میں 1999 سے کیا جبکہ 2002 سے انہوں نے The Times of India اور NDFC Publication Cinema میں لکھنے کی شروعات کی۔

    میگھنا نے 2000 میں ونود سندھو سے شادی کی جس سے ان کو ایک بیٹا سمے سندھو پیدا ہوا ہے۔ میگھنا گلزار کو مختلف اداروں کی جانب سے متعدد ایوارڈ اور اعزازات حاصل ہوئے ہیں جن میں 2018 میں فلم فیئر اعزاز برائے بہترین ہدایتکارہ بھی شامل ہے ۔

  • بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے:تنویر سپرا کی بولتی شاعری

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے:تنویر سپرا کی بولتی شاعری

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے
    جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے

    تنویر سپرا

    13 دسمبر. 1993 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تنویر سپرا کا اصل نام محمد حیات تھا۔ وہ 1929ء میں جہلم کے ایک مزدور گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ غربت اور تنگ دستی کے باعث تعلیم جاری نہ رکھہ سکے اور لڑکپن ہی میں مزدوری کے لیے کراچی چلے گئے ۔۔ وہاں بحری جہازوں میں رنگ و روغن کا کام کیا ، کچھہ عرصہ درزیوں کا کام کرتے رہے ۔ جہلم واپس آ کر دکانداری کی ، لاہور میں کچھہ عرصہ صحافت سے بھی وابستہ رہے ۔۔ محنت مزدوری کرتے ہوئے لڑکپن سے جوانی میں داخل ہوئے ۔ 1959 میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی جہلم میں کام کرتے رہے ۔۔ محنت مشقت کے ساتھہ غیر رسمی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا ۔ اور ذاتی مطالعے اور لگن کی بدولت ادیب عالم اور ادیب فاضل کے امتحانات پاس کیے ۔
    شاعری کا آغاز 1963،64 میں کیا ۔ اور 1969 میں فنون میں چھپنے کے بعد ادبی حلقوں میں متعارف ہوئے ۔ ان کا مجموعہ کلام ” لفظ کھردرے ” 1980 میں منظر عام پر آیا ۔ 1988 میں انھیں وزیراعظم بینظیر بھٹو کی طرف سے نیشنل بک کونسل آف پاکستان کا عوامی ادبی جمہوری انعام ملا ۔

    13دسمبر 1993ء کواسلام آباد میں وفات پائی اور جہلم میں مدفون ہیں۔

    تنویر سپرا کے کچھ شعر

    دیہات کے وجود کو قصبہ نکل گیا
    قصبے کا جسم شہر کی بنیاد کھا گئی

    اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
    دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے

    تنویرؔ پڑھو اسم کوئی رد بلا کا
    گھیرے میں لیے بیٹھے ہیں کچھہ سائے مرا جسم

    اٹھا لیتا ہے اپنی ایڑیاں جب ساتھہ چلتا ہے
    وہ بونا کس قدر میرے قد و قامت سے جلتا ہے

    میں اپنے بچپنے میں چھو نہ پایا جن کھلونوں کو
    انہی کے واسطے اب میرا بیٹا بھی مچلتا ہے

    دن بھر تو بچوں کی خاطر میں مزدوری کرتا ہوں
    رات کو اپنی غیر مکمل غزلیں پوری کرتا ہوں

    آج بھی سپرا اسکی خوشبو مل مالک لے جاتا ہے
    میں لوہے کی ناف سے پیدا جو کستوری کرتا ہوں

    شیشے دلوں کے گردِ تعصب سے اَٹ گئے
    روشن دماغ لوگ بھی فرقوں میں بٹ گئے

    اظہار کا دباؤ بڑا ہی شدید تھا
    الفاظ روکتے ہی مرے ہونٹ پھٹ گئے

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے
    جونہی مرا مکان گرا ، اَبر چَھٹ گئے

    دھرتی پہ اُگ رہی ہیں فلک بوس چمنیاں
    جن سے فضائیں عطر تھیں وہ پیڑ کٹ گئے

    سپرا پڑوس میں نئی تعمیر کیا ہوئی
    میرے بدن کے رابطے سورج سے کٹ گئے

  • ایبٹ آباد ہاکی گراؤنڈ میں خامیوں کی نشاندہی:ذمہ دار کون:حقائق سامنے آگئے

    ایبٹ آباد ہاکی گراؤنڈ میں خامیوں کی نشاندہی:ذمہ دار کون:حقائق سامنے آگئے

    ایبٹ آباد:ایبٹ آباد ہاکی سٹیڈیم میں ساڑھے گیارہ کروڑ روپے کی لاگت سے بچھائی جانے والی آسٹروٹرف اور دیگر کاموں میں ناقص میٹیریل کےاستعمال اور بے پناہ نقائص کی نشاندہی ہوئی پے اور ہاکی کے کھلاڑی اور منتظمین سراپا احتجاج نظر آرہے ہیں انہوں نے سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی سے متعلقہ ٹھیکیدار اور ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ایبٹ آباد میں ریجنل اور ڈسٹرکٹ سپورٹس حکام اور انکے دفاتر کی ناک کے نیچے سرانجام پانے والے ایبٹ آباد ہاکی سٹیڈیم کے تعمیراتی کام میں ٹرف کے حوالے سے پائی جانے والی خامیوں کی کثیر تعداد میں نشاندہی سامنے آئی پے

    فیصل آباد ڈویژن میں سپورٹس کے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو تیز کیا جائے،احسان بھٹہ

    بتایا جارہا ہے کہ حیران کن طور پر ٹرف بچھانے کے عمل کے دوران سلوٹیں نکالنے کے لیے لوہے کی کیلوں کا کثرت سے استعمال سامنے آیا ہے اور خصوصا گراونڈ پویلین کے پاس اس عمل کو زیادہ دہرایا گیا ہے ہاکی منتظمین اور کھلاڑیوں کے بقول یہ امر کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے جبکہ گراونڈ کی پانی کی نکاسی کا انتظام بھی غیر معیاری ہے اور سابقہ نالوں کے حجم کو مزید کم کرتے ہوئے اس میں غیر معیاری سریے اور میٹیریل کا استعمال کیا گیا ہے اور آسٹروٹرف بچھانے کے دوران متعدد مقامات پر ٹرف کو پیسسز ڈال کر جوڑا گیا ہے جبکہ گراونڈ کے اطراف میں لگائی گئی حفاظتی جالیوں کو سنگل ٹانکوں کی مدد سے جوڑا گیا ہے جس بنا پر ایک دفعہ پہلے بھی سٹیڈیم کے کام کے دوران یہ جالیاں تار تار ہو کر گزرگاہ کا کام دیتی رہی ہیں لیکن اس کام کے دوران دوبارہ مرمت میں بھی جالیوں کو کلپوں کے ذریعے مضبوط جوڑ دینے کی بجائے صرف ایک ایک ٹانکے تک محدود رکھا گیا جس بنا پر ان کا کام مکمل ہونے کے باوجود بھی جالیوں کے ٹانکے اکھڑے نظر آتے ہیں اور انکی کلپنگ کے ذریعے مضبوط مرمت نہ کی گئی تو چند دنوں میں یہ دوبارہ گزرگاہ کا منظر پیش کرتا دکھائی دے گا

    ملتان اسٹیڈیم میں بابراعظم کیخلاف نامناسب نعروں پر سوشل میڈیا صارفین برہم

    اس طرح گراونڈ میں لگائی جانے والی ٹائلیں بھی ناقص کام کی وجہ سے اکثر مقامات پر اپنی جگہ چھوڑ چکی ہیں جس سے کام کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اسکے علاوہ گراونڈ کو پانی کی سپلائی پہنچانے کے لیے بنائی گئی ٹینکی جسکی گہرائی تقریبا 14 فٹ لے قریب ہے لیکن اس میں سے پانی کے سپلائی کے پائپ کو صرف سات فٹ کے قریب رکھا گیا ہے جس سے کھیل کے دوران گراونڈ کو پانی کی مکمل سپلائی قطعا ممکن نہیں

    دوسرا ٹیسٹ؛355 رنز کے تعاقب میں پاکستان کے4 وکٹوں کے نقصان پر 190 رنز

    اس لیے اس کی گہرائی کم از کم 12 فٹ ہونے کی صورت میں ہی گراونڈ کو مکمل پانی مل سکتا پے علاوہ گراونڈ میں لگائی گئی فلڈ لائٹس جو صرف 14 اگست کو چند گھنٹوں کے لیے آن ہوئی تھیں پہلے دن ہی ان میں سے بیشتر لائٹس آف ہو چکی ہیں جنکی تاحال تبدیلی یا مرمت نہیں ہوئی اسکے ساتھ ساتھ ماضی قریب میں بھی سابقہ ٹرف برسات کی بارش کے باعث برساتی نالے کا شکار ہونے کی وجہ سے اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکی تھی اب بھی وہ خطرات پہلے سے زیادہ موجود ہیں اور سٹیڈیم کے مرکزی گیٹ کے باہر قریب موجود عدالت کی بلڈنگ سے روزمرہ کے نکاسی کے پانی سے ڈی سی آفس اور سٹیڈیم کے گیٹ کے پاس پانی کا ایک جوہڑ بنا دکھائی دیتا ہے جسکا آج تک کوئی قابل عمل حل نہیں نکالا جاسکا اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو شدید بارشوں کی صورت میں اس ٹرف کو بھی جس پر کروڑوں کی لاگت آئی ہے کو تباہی سے کوئی نہیں روک سکتا اس جانب ابھی تک کسی کی کوئی توجہ مرکوز نہیں ایبٹ آباد کی کھیلوں کی مختلف تنظیموں اور ہاکی کے عہدیداروں آرگنائزر اور کھلاڑیوں نے وزیراعلی اور سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی اور ڈی جی سپورٹس کے پی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایبٹ آباد ہاکی سٹیڈیم کے کاموں میں پائی جانے والی بے قاعدگیوں اور ناقص تعمیر اور کام کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تمام خامیوں کو دور کرنے اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کے احکامات صادر کیے جائیں۔۔۔