Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • تاجکستان  کے صدرامام علی رحمان دوروزہ دورے  پراسلام آباد پہنچ گئے

    تاجکستان کے صدرامام علی رحمان دوروزہ دورے پراسلام آباد پہنچ گئے

    تاجکستان کے صدرامام علی رحمان دوروزہ دورے پراسلام آباد پہنچ گئے

    وفاقی وزیرتجارت نوید قمر نے تاجک صدر کااستقبال کیا تاجک صدر کے دورے میں اہم ملاقاتیں اور دوطرفہ معاہدوں پر دستخظ ہونگے ، امام علی رحمان وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان آئے ہیں،، تاجک صدر کو وزیر اعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا، اور وزیراعظم معزز مہمان کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے۔

    وزیراعظم اور امام علی رحمان کے مابین دو طرفہ تعلقات اور معاہدوں پر پیش رفت،وفود کی سطح پر بات چیت ہوگی۔ جب کہ صدر امام علی رحمانوف صدر مملکت سے بھی ملاقات کریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر تاجکستان کے صدر امام علی رحمن 2 روزہ دورے پر آج پاکستان پہنچ رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    امریکی صدر نے ہم جنس پرستوں کی شادی کے بل پر دستخط کر دیئے
    زیارت اور وادی تیراہ میں موسم سرما کی پہلی برفباری کے باعث سردی میں اضافہ
    اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان
    وزارت خزانہ نے پاکستانی سفارت خانوں اور مشن ملازمین کیلیے فنڈز جاری کردیے
    آئی ایم ایف پروگرام کی واپسی تک ڈیفالٹ کا خطرہ منڈلاتا رہے گا، مفتاح اسماعیل
    ٹراسنجینڈر بچے مجرمان کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہورہے ہیں. وفاقی شرعی عدالت
    بیرون ملک پاکستانی مشنز کی ٹرانزیکشنز میں تاخیر
    اسلام آباد میں کرسمس کی اشیاء کے مختلف اسٹال سجادیئے گئے
    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور تاجکستان دیرینہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کے ذریعے جڑے ہوئے برادر ممالک ہیں، پاکستان اور تاجکستان کے تعلقات میں باہمی احترام اور غیر معمولی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

  • نورمقدم کیس،سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کرنے کا حکم

    نورمقدم کیس،سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کرنے کا حکم

    نور مقدم قتل کیس میں مجرمان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے سماعت کی ،مدعی شوکت مقدم اپنے وکیل شاہ خاور کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے ،مرکزی مجرم ظاہر جعفر اور شریک مجرم افتخار کے وکلا دلائل مکمل کر چکے ہیں سزا یافتہ مجرم مالی جان محمد کے وکیل کامران مرتضیٰ نے دلائل دئیے، وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ تسلیم شدہ ہے کہ وقوعہ کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ، سی سی ٹی وی فوٹیج دو دن کی ہے مگر اس کا کچھ حصہ نکالا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دستیاب اور کورٹ ریکارڈ پر موجود ہے، وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ فوٹیج دیکھنے کے بعد اس کے نوٹس نہیں بنائے گئے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر 34 منٹس کی وڈیو کے نوٹس بنانے شروع کریں تو بہت سی چیزیں رہ جائیں گی، جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل کو آپ کہیں گے کہ نوٹس میں یہ نہیں لکھا گیا کہ دیوار کا رنگ کیسا تھا؟ فوٹیج موجود ہے اور ہم نے دیکھنا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے کیا نتیجہ اخذ کیا،کیا سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کی کوئی ججمنٹ ہے سی سی ٹی وی فوٹیج کے نوٹس بنانا ضروری ہے ؟اگر ایسی کوئی ججمنٹ ہے تو اس متعلق بتا دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ڈی وی آر کو دیکھنے کا کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے؟ سی سی ٹی وی فوٹیج مال خانے میں ہو گی، اسے پیش کرنے کا آرڈر کر دیتے ہیں، جس روز سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی جائے گی تو اس روز پروسیڈنگ ان کیمرا ہو گی،

    عدالت نے تھانہ کوہسار کے محرر کو کل سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے رجسٹرار آفس کو کل کورٹ میں وڈیو چلانے کے انتظامات کرنے کی ہدایت کر دی

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

    قبل ازیں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزا بڑھانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اپیل دائر کردی گئی ہے مدعی مقدمہ شوکت مقدم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف اپنایا کہ مجرم جان محمد اور افتخار کی سزا بھی بڑھانے کی اپیل کی جبکہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے تین اپیلیں دائر کیں اپیل میں استدعا کی گئی کہ مجرم ظاہر جعفر کے خلاف ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں، ٹرائل کورٹ نے کم سزا دی، مجرموں کی سزا قانون کے مطابق بڑھائی جائے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیارہ ملزمان کے خلاف اپیل دائر کی گئی،گیارہ ملزمان میں سے نو ملزمان کو بری کیا گیا جبکہ دو ملزمان کوکچھ دفعات کے تحت سزا نہیں دی گئی جان محمد اور افتخار کی اپیل الگ ہے،جن دفعات میں انکو سزا نہیں دی گئی انکو مزید سزا دینے کی اپیل کی گئی ہے

  • جوہری فیوژن توانائی کے حصول میں انتہائی اہم پیشرفت

    جوہری فیوژن توانائی کے حصول میں انتہائی اہم پیشرفت

    کیلیفورنیا: امریکا کے حکومتی سائنسدانوں نے فیوژن توانائی کے حصول میں ایک انتہائی اہم کامیابی حاصل کی ہے۔

    باغی ٹی وی : جوہری توانائی کے حصول میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، نئی تحقیق کےمطابق جوہری فیوژن (ایسا عمل جس میں ٹھوس مادہ تبدیل ہو کر مائع بن جاتا ہے) تقریباً لامحدود توانائی کے حصول کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

    ایس ایم ایس کی سہولت کے 30 برس مکمل ہو گئے

    واضح رہے کہ ہمارا سورج نیوکلیائی فیوژن (عملِ گداخت) کے ذریعے توانائی پیدا کرتا ہے جس میں ہائیڈروجن ایٹم باہم مل کر ہیلیئم بناتے ہیں۔ اس عمل میں غیرمعمولی توانائی حاصل ہوتی ہے۔

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم لارنس لِیورمور نیشنل لیبارٹری کے سائنس دانوں نے حال ہی میں پہلی بار ایک فیوژن ری ایکشن میں اضافی توانائی کی پیداوار حاصل کی ہے جو خرچ کی جانے والی توانائی سے زیادہ ہے۔

    لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری میں واقع نیشنل اگنیشن فیسلٹی (این آئی ایف) نے لیزر استعمال کرتے ہوئے پہلے 2.1 ملین جول توانائی خرچ کی اور اس سے 2.5 ملین جول توانائی حاصل کی۔

    تحقیق میں شامل ماہرین نے جوہری فیوژن کے تجربے کو کاربن سے پاک توانائی کے حصول میں اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    کیلی فورنیا یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے تقریباً لامحدود،محفوظ اور صاف توانائی کےذریعے کو دریافت کرنے میں پیش رفت کی ہے اس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مضر گیسیں خارج نہیں ہوتیں جبکہ پیٹرول، کوئلے اور دیگر ذرائع کی توانائی سے مضر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوتا ہے جس سے ہمارے موسمیاتی توازن اور ماحول پر شدید منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

    لیبارٹری تجربے میں اگنیشن(ignition) نامی جوہری فیوژن کے رد عمل سے زیادہ توانائی حاصل ہوئی، جوہری فیوژن میں ہائیڈ روجن جیسے ہلکے عناصر کو ایک ساتھ توڑنے کے عمل سے توانائی کا بہت بڑا اخراج ہوتا ہے۔

    اگرچہ روایتی بجلی گھروں کی طرح فیوژن پاور اسٹیشن کی منزل ابھی بہت دور ہے لیکن دنیا میں رکازی (فاسل) ایندھن سے اجتناب اور صاف توانائی کے حصول میں اسے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ جوہری فیوژن پر تحقیق کا آغاز 1950 سے ہوا،محققین مثبت توانائی حاصل کرنے کا مظاہرہ کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

    آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

  • پاکستان کا امریکا میں اپنے سفارتخانے کی پرانی عمارت فروخت کرنے کا فیصلہ

    پاکستان کا امریکا میں اپنے سفارتخانے کی پرانی عمارت فروخت کرنے کا فیصلہ

    واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کی پرانی عمارت فروخت کرنے کا فیصلہ.

    پاکستان نے امریکا میں اپنے سفارتخانے کی پرانی عمارت کو فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سفارتخانے کی نئی یا پرانی عمارت کو فروخت کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ عمارت واشنگٹن ڈی سی کے مرکز میں بہترین لوکیشن پر واقع ہے۔ اس بلڈنگ میں سفارتخانے کا ڈیفنس سیکشن 1950 کی دہائی سے 2000 تک قائم رہا، پاکستانی سفارتخانے کے حکام نے عمارت کو فروخت کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم عمارت کی فروخت کےلیے طے شدہ طریقہ کار پر عمل کررہے ہیں، سفارتخانے نے عمارت کی فروخت کے لیے اخبار میں اشتہار دیا اور کئی بولیاں بھی موصول ہوئی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ عمارت ابھی مارکیٹ میں ہے، اس کی فروخت کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ سفارتخانے کا کہنا تھا کہ عمارت کو تزائین و آرائش سے قبل یا بعد میں فروخت کرنے کے حوالے سے ہم تشخیص کار سے رابطے کررہے ہیں کہ عمارت کے لیے کیا بہتر ہے۔ سفارتخانےکے حکام نے بتایا کہ ہم جلد بازی نہیں کررہے، ہم وہ معاہدہ طے نہیں کریں گے جس میں پاکستان کا فائدہ نہ ہو. پاکستانی سفارتخانے کی نئی عمارت سنہ 2000 کے اوائل میں تعمیر ہوئی تھی جبکہ پرانی عمارت بھارتی سفارتخانے کے قریب میساچوئسس ایوینیو میں واقع ہے۔

    نئی سفارتخانے کی عمارت کو فروخت کرنے کے حوالے سے کسی نے تجویز نہیں دی تاہم پرانی سفارتخانے کی عمارت اور آر اسٹریٹ عمارت کو فروخت کرنے کی خبریں کچھ دنوں سے زیر گردش ہیں۔ تاہم سفارتخانے نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پرانی یا نئی عمارت کو فروخت نہیں کیا جارہا۔ محتاط اندازوں کے مطابق سفارخانے نے پرانی عمارت اور سفیر کی رہائش گاہ کی تزئین و آرائش پر تقریباً 70 لاکھ ڈالر خرچ کیے تھے۔ اس کے بعد کئی لوگوں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا کہ ایک عمارت کی تزئین و آرائش کے لیے اتنی خطیر رقم کیوں خرچ کی گئی۔

    تاہم آر اسٹریٹ میں واقع پرانی عمارت کی کبھی تزئین و آرائش نہیں ہوئی اور عمارت کے دورہ کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمارت انتہائی خستہ حالت میں ہے، علاقے کے دیگر رہائشی افراد نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے عمارت کی خستہ حالی کے حوالے سے مقامی اتھارٹی کو شکایت درج کروائی ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ عمارت اب علاقے کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ عمارت کی تزئین و آرائش کی جائے یا اسے زمین بوس کردیا جائے ۔ آر اسٹریٹ میں واقع عمارت سفیر سید امجد علی نے سنہ 1953 اور 1956 کے دوران خریدی تھی اور پرانے سفارتخانے کی عمارت کو امریکا میں پاکستان کے پہلے سفیر ایم اے ایچ اصفہانی نے خریدی تھی، دونوں عمارتیں 20 سال سے خالی پڑی ہیں۔

    ایک اور سفارتخانے کے ذرائع سے جب اس حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پرانے سفارتخانے کی عمارت کو فروخت کرنے کا حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ حکومت اسے ثقافتی مرکز بنانا چاہتی ہے۔ سابق پاکستانی سفیر نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ دونوں سفیر جلیل عباس جیلانی اور شیری رحمٰن سفارت خانے کی پرانی عمارت کو فروخت کرنے کے قریب پہنچ چکے تھے لیکن میڈیا پر خبر آنے کے بعد حکومت اپنے فیصلے سے دستبردار ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ تمام خالی عمارتوں کو فروخت کردینا چاہیے کیونکہ ایک عرصے سے ان عمارتوں کو اپنے پاس رکھ کر ہم پہلے ہی کافی پیسے ضائع کرچکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    امریکی صدر نے ہم جنس پرستوں کی شادی کے بل پر دستخط کر دیئے
    زیارت اور وادی تیراہ میں موسم سرما کی پہلی برفباری کے باعث سردی میں اضافہ
    اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان
    وزارت خزانہ نے پاکستانی سفارت خانوں اور مشن ملازمین کیلیے فنڈز جاری کردیے
    آئی ایم ایف پروگرام کی واپسی تک ڈیفالٹ کا خطرہ منڈلاتا رہے گا، مفتاح اسماعیل
    ٹراسنجینڈر بچے مجرمان کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہورہے ہیں. وفاقی شرعی عدالت
    بیرون ملک پاکستانی مشنز کی ٹرانزیکشنز میں تاخیر
    اسلام آباد میں کرسمس کی اشیاء کے مختلف اسٹال سجادیئے گئے
    تاہم انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ سفارتی املاک میں شامل ہے اس لیے پاکستان کو ان عمارتوں کے لیے پراپرٹی ٹیکس ادا نہیں کرنا ہوگا، لیکن خریدار اگر عمارت خریدتا ہے تو اسے ٹیکس ادا کرنا لازمی ہوگا، اسی لیے ہمارے پاس بہت زیادہ آفر نہیں ہیں، اگر ہم نے عمارت کو فروخت کرنے میں مزید تاخیر کی تو مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ سفارتخانے کی جانب سے سفارت کار اور دیگر عملے کی ادائیگی نہ کرنے کے حوالے سے ایک اور سفارتی ذرائع نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا اور کہا کہ سفارت خانے کا ہر ملازم، چاہے وہ سفارت کار ہو یا نہ ہو، انہیں وقت پر ادائیگیاں کی جارہی ہیں۔

  • اعظم سواتی پر مقدمات کے خاتمے کے لیے سکھر بینچ میں بھی درخواست دائر

    اعظم سواتی پر مقدمات کے خاتمے کے لیے سکھر بینچ میں بھی درخواست دائر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی پر مقدمات کے خاتمے کے لیے سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ میں بھی درخواست دائر کی گئی ہے،

    اعظم سواتی کے بیٹے عثمان سواتی نے سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ میں درخواست دائر کی جس میں انہوں نے والد کی گرفتاری اور ان پر درج مقدمات کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ،اعظم سواتی کے بیٹے کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت آج ہوگی

    اعظم سواتی کے خلاف لاڑکانہ، قمبر شہداد کوٹ، شکار پور اور کشمور میں درج مقدمات ختم کر دیئے گئے، پولیس نے داخل مقدمات کی کینسل رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں جمع کروا دی اعظم سواتی کو قمبر سے اسلام آباد منتقل کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں،وکیل کا کہنا ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ اینڈ سول جج پولیس رپورٹ پر اپنے احکامات جاری کریں گے

    دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ اور ہائیکورٹ حیدرآباد بینچ نے اعظم سواتی کی مزید مقدمات میں گرفتاری روک دی ،اعظم سواتی کو ایف آئی اے نے متنازع ٹوئٹس کے معاملے پر گرفتار کیا تھا، انہیں پہلے کوئٹہ منتقل کیا گیا جس کے بعد سندھ پولیس نے انہیں گرفتار کرکے سکھر منتقل کیا

    قبل ازیں اعظم سواتی کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں درج مقدمات اسلام آباد ٹرانسفر کرنے کی درخواست دائر کی گئی ،درخواست تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے دائر کی ہے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت ، ڈی جی ایف آئی اے اور آئی جی سندھ و بلوچستان کو فریق بنایا گیا ہے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے اعظم سواتی کو جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا ایف آئی اے مقدمہ کے بعد ملک بھر میں اعظم سواتی کے خلاف متعدد مقدمے درج ہوئے اعظم سواتی کو دیگر علاقوں میں کیسز میں پیش ہونے پر سکیورٹی خطرات ہیں سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اعظم سواتی پر درج تمام مقدمات کو اسلام آباد میں یکجا ٹرانسفر کیا جائے ،سپریم کورٹ میں درخواست التوا کے دوران مقدمات پر آپریشن معطل کیا جائے .

  • معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    جون ایلیا 14 دسمبر، 1931ء کو امروہہ، اترپردیش کے ایک ‏نامورخاندان میں پیدا ہوئے وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب ‏سے چھوٹے تھے۔ ان کے والدعلامہ شفیق حسن ایلیا کوفن ‏اورادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر ‏بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل ‏بھی انہی خطوط پرکی انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 ‏سال کی عمر میں لکھا۔ جون اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں ‏قلم طرازہیں۔‏

    ‏میری عمرکا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم ‏اورماجرہ پرور سال تھا اس سال میری زندگی کے دو سب ‏سے اہم حادثے، پیش آئے پہلاحادثہ یہ تھا کہ میں اپنی ‏نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا، یعنی ایک قتالہ ‏لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا جبکہ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں ‏نے پہلا شعر کہا‏

    چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
    دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی

    ایلیا کے ایک قریبی رفیق، سید ممتاز سعید، بتاتے ہیں کہ ایلیا ‏امروہہ کے سید المدارس کے بھی طالب علم رہے یہ مدرسہ امروہہ میں اہل تشیع حضرات کا ایک معتبر مذہبی مرکز رہا ہے چونکہ جون ایلیا خود شیعہ تھے اسلئے وہ اپنی شاعری میں جابجا شیعی حوالوں کا خوب استعمال کرتے تھے۔

    حضرت علی کی ذات مبارک سےانہیں خصوصی عقیدت تھی اورانہیں اپنی سیادت پربھی نازتھاسعید کہتے ہیں،جون کوزبانوں ‏سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ انہیں بغیر کوشش کے سیکھ لیتا تھا۔ ‏عربی اور فارسی کے علاوہ، جو انہوں نے مدرسہ میں سیکھی تھیں، ‏انہوں نے انگریزی اور جزوی طور پر عبرانی میں بہت مہارت ‏حاصل کر لی تھی۔

    جون ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ‏ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی ‏حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور ‏پذیرائی نصیب ہوئی۔

    جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
    اب کئی ہجر گزر چکے اب کئی سال ہوگئے

    جون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انھیں اپنا تحریری کام شائع ‏کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ‏شاید اسوقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی اس قدر تاخیر سے اشاعت کی وجہ وہ اس شرمندگی کو قرار دیتے ہیں جو ان کو اپنے والد کی تصنافات کو نہ شائع کراسکنے کے سبب تھی۔

    میں جو ہوں جون ایلیا ہوں جناب
    اس کا بے حد لحاظ کیجیے گا

    ‏نیازمندانہ کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش ‏لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ‏ہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی ‏شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003ء میں ‏شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004ء میں شائع ہوا۔

    جون ایلیا مجموعی طور پر دینی معاشرے میں علی الاعلان نفی ‏پسند اورفوضوی تھےان کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی، کو ‏مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ عوامی ‏محفلوں میں بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنے لگے۔

    ایک سایہ میرا مسیحا تھا
    کون جانے، وہ کون تھا کیا تھا

    جون ایلیا تراجم، تدوین اور اس طرح کے دوسری مصروفیات میں بھی ‏مشغول رہے لیکن ان کے تراجم اورنثری تحریریں آسانی سے ‏دستیاب نہيں ہیں۔ انہوں اسماعیلی طریقہ کے شعبۂ تحقیق کے سربراہ کی حیثیت سے دسویں صدی کے شہرۂ آفاق رسائل اخوان الصفا کا اردو میں ترجمہ کیا لیکن افسوس کے وہ شائع نہ ہوسکے۔

    بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
    آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

    فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی ‏سائنس، مغربی ادب اور واقعۂ کربلا پر جون کا علم کسی ‏انسائکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی ‏شاعری میں بھی داخل کیا تا کہ خود کو اپنے ہم عصروں سے نمایاں ‏کر سکيں۔

    میں اپنے شہر کا سب سے گرامی نام لڑکا تھا
    میں بے ہنگام لڑکا تھا ‘ میں صد ہنگام لڑکا تھا
    مرے دم سے غضب ہنگامہ رہتا تھا محلوں میں
    میں حشر آغاز لڑکا تھا ‘ میں حشر انجام لڑکا تھا
    مرمٹا ہوں خیال پر اپنے
    وجد آتا ہے حال پر اپنے

    جون ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ رہے جہاں ان کی ‏ملاقات اردو کی ایک اور مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی جن سے ‏بعد میں انہوں نے شادی کرلی۔ زاہدہ حنااپنے انداز کی ترقی ‏پسند دانشور ہیں اور مختلف اخبارات میں ‏میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ جون کے ‏زاہدہ سے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط ‏میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد تنہائی کے باعث جون کی ‏حالت ابتر ہو گئی۔ وہ بژمردہ ہو گئے اور شراب نوشی شروع کردی۔

    کبھی جو ہم نے بڑے مان سے بسایا تھا
    وہ گھر اجڑنے ہی والا ہے اب بھی آجاؤ
    جون ہی تو ہے جون کے درپے
    میرکو میر ہی سے خطرہ ہے

    کمال ِ فن کی معراج پرپہنچے جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔

    کتنی دلکش ہو تم کتنا دل جو ہوں میں
    کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

    اب تم کبھی نہ آئوگے یعنی کبھی کبھی
    رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
    جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

    ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا
    اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہو گئے

  • معاشی ٹیم کا ہنگامی اجلاس طلب ؛وزیراعظم شہبازشریف

    معاشی ٹیم کا ہنگامی اجلاس طلب ؛وزیراعظم شہبازشریف

    وزیراعظم شہبازشریف نے معاشی ٹیم کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیاہے.

    ذرائع کاکہنا ہے کہ وزیراعظم کی زیرصدارت معاشی ٹیم کا اہم اجلاس کچھ دیر بعد ہوگا ،حکومتی معاشی ٹیم وزیراعظم شہبازشریف کو ملکی معاشی صورتحال پر بریفنگ دے گی ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر خزانہ، گورنر سٹیٹ بینک ، ایف بی آر کے حکام شریک ہوں گے،اجلاس میں وزیراعظم کو قرضوں کی واپسی سمیت دیگرامور سے آگاہ کیا جائے گا.
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    امریکی صدر نے ہم جنس پرستوں کی شادی کے بل پر دستخط کر دیئے
    زیارت اور وادی تیراہ میں موسم سرما کی پہلی برفباری کے باعث سردی میں اضافہ
    اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان
    وزارت خزانہ نے پاکستانی سفارت خانوں اور مشن ملازمین کیلیے فنڈز جاری کردیے
    آئی ایم ایف پروگرام کی واپسی تک ڈیفالٹ کا خطرہ منڈلاتا رہے گا، مفتاح اسماعیل
    ٹراسنجینڈر بچے مجرمان کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہورہے ہیں. وفاقی شرعی عدالت
    بیرون ملک پاکستانی مشنز کی ٹرانزیکشنز میں تاخیر
    اسلام آباد میں کرسمس کی اشیاء کے مختلف اسٹال سجادیئے گئے
    ذرائع کا مزید کہناہے کہ معاشی ٹیم وزیراعظم کو زرمبادلہ کے ذخائر سمیت ڈالرکی قدر پر بریفنگ دے گی ، وزیراعظم شہبازشریف معاشی ٹیم کو اہم ہدایات بھی دیں گے ۔

  • وفاقی وزیر سرکاری ٹی وی پر آکر بات کرتا ہے تو ایم ڈی کا کیا قصور ہے؟ عدالت

    وفاقی وزیر سرکاری ٹی وی پر آکر بات کرتا ہے تو ایم ڈی کا کیا قصور ہے؟ عدالت

    جاوید لطیف کی پریس کانفرنس سرکاری پی ٹی وی پر نشر کرنے پر درج مقدمہ کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    ہائیکورٹ نے جاوید لطیف کی پی ٹی وی پر پریس کانفرنس کے بعد درج دہشت گردی کے مقدمات پر عمل درآمد روک دیا ، "مدعیوں” کو بھی فریق بنانے کی ہدایت ” کر دی گئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیا ٹرینڈ شروع ہو گیا ہے پورے پاکستان میں پرچے درج ہو رہے ہیں اعظم سواتی پر مقدمے بننے پر جو شور مچاتے ہیں خود بھی وہی کر رہے ہیں

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ کون سے وفاقی وزیر کی پریس کانفرنس تھی؟ وکیل نے عدالت میں جواب دیا کہ جاوید لطیف کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی تھی ، عدالت کی ہدایت پر پٹشنرز کے وکیل نے ایف آئی آر کا متن پڑھا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر سرکاری ٹی وی پر آکر بات کرتا ہے تو ایم ڈی کا کیا قصور ہے؟ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بار میں آکر بات کرتا ہے تو کیا بار کے صدر پر مقدمہ درج ہو گا؟ اعظم سواتی پر مقدمے ہوتے ہیں تو یہ شور مچاتے ہیں خود کیا کر رہے ہیں؟ مقدمے میں درخواست گزاروں کو اس درخواست میں فریق بنائیں، یہ طے ہونا چاہیے کہ کیا ایک ٹی وی پروگرام یا وی لاگ پر پورے ملک میں پرچے ہونگے؟

    عدالت نے استفسار کیا کہ دہشت گردی کا مقدمہ بنایا گیا کیا یہ دنیا کے ٹاپ کے دہشتگرد ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں سے رپورٹس موصول ہو گئیں ہیں،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ مقدمات کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی پولیس پر وفاق کا کوئی کنٹرول نہیں، عدالت نے کہا کہ صوبائی پولیس پر وفاق کاکیسے کنٹرول نہیں؟ اسلام آباد کے شہریوں کے بھی کچھ حقوق ہیں،یہ نیا ٹرینڈ شروع ہو گیا ہے کہ پورے پاکستان میں پرچے درج ہو رہے ہیں ،اعظم سواتی پر مقدمے بننے پر جو شور مچاتے ہیں وہ خود بھی وہی کر رہے ہیں، یہاں کوئی قانون کوئی ضابطہ ہے؟اسلام آباد ہائیکورٹ نے دونوں مقدمات کے مدعی کو درخواست میں فریق بنانے کا حکم دے دیا،عدالت نے پاکستان بار کونسل، اسلام آباد بار کونسل، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹسز جاری کر دیئے،عدالت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدور کو معاونت کے لیے نوٹسز جاری کر دیے

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

  • تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا ،رانا ابرار خالد کا عمران خان کے نام کُھلا خط

    تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا ،رانا ابرار خالد کا عمران خان کے نام کُھلا خط

    تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا ،رانا ابرار خالد کا عمران خان کے نام کُھلا خط

    جناب عمران خان صاحب! جس گھڑی کو آپ ذاتی بتاتے پھر رہے ہیں وہ آپ کی ذاتی نہیں تھی کیونکہ ہیروں والی گھڑی سمیت 1.2 کروڑ ڈالر کی لگ بھگ مالیت کا ’’گراف‘‘ کا سیٹ سعودی ولیٔ عہد نے آپ کو نہیں بلکہ وزیراعظم کو گفٹ کیا تھا۔نہ صرف آپ نے امانت میں خیانت کی اوراخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سعودی ولیٔ عہد کا تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا بلکہ قانون کی درج ذیل خلاف ورزیاں کیں:

    1۔ قانون کے مطابق سعودی ولیٔ عہد کا تحفہ ملتے ہی وہاں تعینات پاکستانی سفیر کو ان تحائف کی بابت توشہ خانہ کے انچارج کو تحریری طور پر آگاہ کرنا چاہئے تھامگر آپ نے سفیر کو ٹرانسفر کی دھمکی دے کر رپورٹ بھجوانے سے منع کر دیا۔

    2۔قانون کا تقاضا تھا کہ سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے تحائف آپ کابینہ ڈویژن یا پی ایم آفس کے Designated افسر کے سپرد کرتے جو پاکستان پہنچ کر مذکورہ تحائف (قواعد کے مطابق) توشہ خانہ میں جمع کراتامگر آپ اسے اپنے ذاتی luggage کے ساتھ سیدھے بنی گالا اپنے گھر لے گئے اور توشہ خانہ کے اسٹاف کو ان تحائف کی شکل تک دیکھنے نہیں دی ۔

    3۔ رولز کے مطابق ہونا یہ چاہئے تھا کہ 2019 میں سعودی ولی عہد سے ملنے والے تحائف پہلے توشہ خانہ میں جمع ہوتے اور پھر آپ بطور Recipient مذکورہ تحائف کو Retain کرنے کی تحریری درخواست مع بیان حلفی انچارج توشہ خانہ کو بھجواتےمگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔

    4۔تحائف Retain کرنے کیلئےآپ کی درخواست موصول ہونے کے بعد انچارج توشہ خانہ 15روز میں (رولز کے مطابق خط بھجواکر) ایف بی آر سے اور مارکیٹ سے اپریزر بلاتا جو مذکورہ تحائف کا ایگزامینیشن اور پرائس ایویلیوایشن کرکے مارکیٹ نرخوں کے مطابق قیمت کاتعین کرتے مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا کیونکہ مذکورہ تحائف توشہ خانہ میں لائے ہی نہیں گئے اور آپ کی ہدایت پر بغیر اپریزل کے مذکورہ تحائف کی Retaining کی رسمی کارروائی پوری کی گئی۔

    5۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ رولز کے مطابق توشہ خانہ کی پرائس ایویلیوایشن کمیٹی بنائی جاتی جو ایف بی آر اپریزر اور پرائیویٹ اپریزر کی تعین کردہ قیمتوں کا جائزہ لے کر سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے تحائف کی حتمی قیمت کی منظوری دیتی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔

    6۔ آپ کی حکومت نے دسمبر 2018 میں توشہ خانہ رولز آف پروسیجر آفس میمورنڈم میں ترمیم کرکے تحائف کی Retaining Fee مارکیٹ پرائس کے 20 فیصد سے بڑھا کر 50فیصد کردی تھی مگر 2019میں سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے ’’گراف کمپنی‘‘ کے ٹیلر میڈ ڈائمنڈسیٹ کی Retaing کے معاملے میں انچارج توشہ خانہ نے جعلی اپریزل کے ذریعے انڈر پرائسنگ کرکے جو قیمت متعین کی وہ 10کروڑ روپے تھی اس کے برعکس آپ کی طرف سے Retaining Fee محض دو کروڑ روپے ادا کی گئی۔ اس طرح آپ نے 20 فیصد ادائیگی کرکے اپنے ہی بنائے گئے رولز کی خلاف ورزی کی۔

    7۔ آپ نے سعودی ولی عہد سے ملنے والے ’’گراف کمپنی‘‘کے (1.2 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ مالیت کے) ٹیلر میڈ ڈائمنڈسیٹ کی Retaning کیلئے جو 2 کروڑ روپے کی معمولی رقم ادا کی وہ آپ کےذاتی اکاؤنٹ یا آپ کے نام سے پے آرڈر کے ذریعے قومی خزانے میں جمع نہیں ہوئی بلکہ ان تحائف کو بیرون ملک بیچنے کا انتظام کرنے والے معاون خصوصی کی طرف سے مذکورہ رقم جمع کروائی گئی۔

    8۔ آپ نے دوست ملک سے ملنے والا ’’گراف کمپنی‘‘ کا ٹیلر میڈ ڈائمنڈ سیٹ (جس میں ایک گھڑی، ایک انگوٹھی ،دو کف لنکس اور ایک قلم شامل تھا) اور غیرملکی دوروں میں ملنے والے دیگر تحائف اندرون وبیرون ملک کی مارکیٹوں میں بیدردی سے فروخت کردئیے۔ حالانکہ یہ تحائف آپ نے نیلامی میں نہیں خریدے تھے بلکہ توشہ خانہ سے Retain کئے تھے اور Retaining کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے قانون میں غیرملکی دورے کے دوران ملنے والے تحائف کی Retaining کی اجازت Recipient کو اس لئے ملتی ہے کیونکہ وہ اپنی درخواست میں لکھتا ہے کہ ’’یہ تحفہ مجھے فلاں اہم شخصیت نے پیش کیا تھا جو میرے لئے یادگار ہے اور میں اسے بطور یادگار اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں،‘‘ اسی لئے ہر Recipient کو Retaining کیلئے ایک بیان حلفی بھی اپنی درخواست کے ساتھ لف کرنا پڑتا ہے۔

    9۔ آپ نے سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والا ’’گراف کمپنی‘‘کا ٹیلر میڈ ڈائمنڈ سیٹ دبئی فروخت کرنے کیلئے ایکسپورٹ NOC کے بغیر نجی جہاز پر بیرون ملک اسمگل کروایاجس کا شعبہ کسٹم کے ریکارڈ میں کوئی اندراج نہیں۔

    10۔عمران خان کی اس حرکت کی پاداش میں پاکستان کو 3ارب ڈالر کیش ڈیپازٹ کی واپسی اور موخر ادائیگی پر تین ارب ڈالر تیل فراہمی کے معاہدے کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کا ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوا۔

    کیا ان حقائق اور قانون کی خلاف ورزیوں کے بعد آپ کو یہ کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ میری گھڑی، میری مرضی؟

    خیراندیش…رانا ابرار خالد

    جھوٹ پھیلانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،عمران خان کی نااہلی پر بلاول کا ردعمل

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • فیفا ورلڈ کپ میں میسی نے بڑا اعزا اپنے نام کر لیا

    فیفا ورلڈ کپ میں میسی نے بڑا اعزا اپنے نام کر لیا

    میسی ورلڈ کپ مقابلوں میں ارجنٹائن کے لیے سب سے زیادہ 11 گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔

    باغی ٹی وی : ارجنٹائن کے اسٹار فٹ بالر میسی نے ایک اور اعزاز اپنے نام کر لیا سیمی فائنل میں کروشیا کے خلاف گول کرکے ارجنٹائن کی جانب سے ٹاپ اسکورر بن گئے۔

    میسی کے فیفا ورلڈ کپ میں گولز کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے اب تک کھیلے گئے تمام ورلڈ کپس میں آٹھ پلئیر گیارہ یا اس سے زائد گول کرچکے ہیں۔

    میسی کے پاس ورلڈکپ جیتنے کا یہ آخری موقع ہےمیسی کا یہ اپنے کیرئیر کا پانچواں ورلڈ کپ ہے، انہوں نے 2005 میں اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا اور اس کے بعد سے وہ ارجنٹائن کے لیے 164 مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں اور 90 گول کے ساتھ ملک کے سب سے زیادہ ریکارڈ سکورر ہیں۔

    مراکش کے اسٹار فٹبالر حکیم زیچ نے ساری تنخواہ غریبوں میں بانٹ دی

    2005 میں ہنگری کے خلاف میچ میں متبادل کھلاڑی کے طور پر میسی کے بین الاقوامی کیریئر کے آغاز کا دورانیہ صرف دو منٹ تک رہا لیکن انہوں نے فوری طور پر قومی ٹیم کے سیٹ اپ میں اپنے لیے جگہ بنائی اور 2006 میں اپنے پہلے ورلڈ کپ کے لیے جرمنی کا سفر کیا انہوں نے جنوبی افریقہ میں 2010 ایڈیشن، 2014 میں برازیل، جہاں ارجنٹائن فائنل تک پہنچا اور روس میں 2018 میں ٹورنامنٹس کھیلے۔

    واضح رہے ارجنٹائن کی فٹ بال ٹیم کے کپتان لیونل میسی نے خود اعلان کیا ہے کہ قطر میں 2022 کا فٹ بال ورلڈ کپ یقینی طور پر ان کے کیریئر کا آخری مقابلہ ہوگا، جبکہ اسٹار فٹ بالر رونالڈو کا بھی ورلڈ کپ جیتنے کا یہ آخری ہی موقع تھا، لیکن وہ کواٹر فائنل میں مراکش سے ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ قطر میں جاری فیفا ورلڈکپ کے پہلے سیمی فائنل میں ارجنٹائن نے کروشیا کو شکست دے کر چھٹی بار میگا ایونٹ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔