Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ایمل ولی کو دھمکی آمیز ٹیلی فون پر آصف زرداری کا اظہار تشویش

    ایمل ولی کو دھمکی آمیز ٹیلی فون پر آصف زرداری کا اظہار تشویش

    سابق صدر آصف زرداری کی جانب سے ایمل ولی کو دھمکی آمیز ٹیلی فون پر اظہار تشویش کیا گیا ہے

    پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین، سابق صدر آصف زرداری نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت ایمل ولی کی حفاظت کو یقینی بنائے ایمل والی کو ملنے والی دھمکی دہشت گردی ہے ،حکومت ایمل ولی کو دھمکی آمیز فون کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لائے پاکستان پیپلزپارٹی اور اے این پی کی لیڈرشپ اور کارکنوں نے ہمیشہ دہشت گردوں کی مزاحمت کی ہے

     تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کو گرفتار کر لیا گیا

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    اعظم سواتی مشکل میں پھنس گئے، حکومت کا ایک اور ایکشن

    قبل ازیں چیئرمین پیپلز پارٹی، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایمل ولی خان کو دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔اپنے بیان میں بلاول بھٹو نے کہا کہ اے این پی کے رہنما کو دھمکی آمیز ٹیلی فونک کالز دہشت گردی ہے اور دہشت گردوں کو کسی بھی جمہوری سیاسی رہنما، کارکن یا عام آدمی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت سمیت پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اپنے دوٹوک مؤقف کے حوالے سے ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت لائیں اور ایمل ولی خان کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔

  • پنجاب میں نجی گندم کی نئی قیمتوں میں 200 تا 300 روپے فی من اضافہ

    پنجاب میں نجی گندم کی نئی قیمتوں میں 200 تا 300 روپے فی من اضافہ

    پنجاب میں نجی گندم کی نئی قیمتوں میں 200 تا 300 روپے فی من اضافہ کر دیا گیا.

     پنجاب میں نجی گندم کی نئی قیمتوں نے ملکی تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے، قیمتوں میں 200 تا 300 روپے فی من کا بڑا اضافہ کر دیا گیا۔ نجی گندم کی فی من قیمت 3900 روپے تک جا پہنچی ہے، لاہور میں آج گندم کی قیمت 3810 روپے جبکہ راولپنڈی میں 3900 روپے ہے۔ پشاور کے لیے جانے والے آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 250 روپے کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے۔ لاہور سمیت دیگر شہروں سے پشاور کے لیے آٹے کے تھیلا کی قیمت 2250 روہے ہوگئی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی سرکاری گندم کی قیمت میں535 روپے فی من اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا. جس کے بعد سرکاری آٹا تھیلا کی قیمت میں 380 روپے کے لگ بھگ اضافہ ہوا تھا . علاوہ ازیں پنجاب حکومت فی من سرکاری گندم کی فروخت پر1265 روپے سبسڈی برداشت کر رہی تھی اور اب قیمت 2300 روپے ہونے کے بعد فی من سبسڈی کم ہو کر 730 روپے رہ جائے گی۔محکمہ خوراک پنجاب پر اس وقت455 ارب روپے کی سبسڈی کے گردشی قرضے کا پہاڑ جیسا بوجھ موجود ہے،یہ سبسڈی2008 سے2022 کے درمیان مختلف حکومتوں کے فیصلوں کی وجہ سے ایک بڑے مالی بوجھ کی صورت موجود ہے۔

    پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن کے گروپ لیڈر عاصم رضا نے کہا تھا کہ حکومت سندھ کی جانب سے گندم کی نئی فصل کی امدادی قیمت مقرر کرنا درست فیصلہ نہیں ہے کیونکہ اس اعلان نے ملک بھر کی گندم مارکیٹ میں بھونچال پیدا کردیا ہے اور قیمتیں بڑھ گئی ہیں
    مزید یہ بھی پڑھیں
    حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
    ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
    فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    انہوں نے کہا تھا کہ سیلاب کے بعد گندم کی آئندہ فصل کی پیداوار بمپر ہونے کی توقع ہے ایسے میں اتنی بڑی قیمت ناقابل عمل ہے اور اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ عاصم رضا نے کہا تھا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے ریلیز پرائس بڑھانے کا فیصلہ حکومت کی صوابدید ہے حکومت جس قیمت پر سرکاری گندم دے گی ہم اسی کے مطابق سرکاری آٹا بنا کر دے دیں گے تاہم حکومت کو سرکاری آٹا کی بڑھتی طلب کے پیش نظر یومیہ گندم کوٹہ بڑھانا چاہیے۔

  • راولپنڈی گورنمنٹ گورڈن کالج کے طلباء اور اساتذہ کا نجکاری کیخلاف احتجاج

    راولپنڈی گورنمنٹ گورڈن کالج کے طلباء اور اساتذہ کا نجکاری کیخلاف احتجاج

    راولپنڈی گورنمنٹ گورڈن کالج کے طلباء اور اساتذہ کا نجکاری کیخلاف احتجاج.

    گورنمنٹ گورڈن کالج کے طلباء اور اساتذہ نے نجکاری کے خلاف مری روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین نے ٹریفک بند کرکے ڈائریکٹر کالجز دفتر کے سامنے دھرنا دے دیا۔ گورنمنٹ گورڈن کالج کے طلباء کالج نجکاری کے خلاف گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں اور آج بھی طلباء نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرکے مری روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    مظاہرین نے مری روڈ کو کمیٹی چوک سے گزشتہ کئی گھنٹوں سے بند کر رکھا ہے، احتجاجی مظاہرے میں پروفیسر بھی شریک ہیں۔ سٹی ٹریفک پولیس نے اسلام آباد جانے والی گاڑیوں کو متبادل راستہ فراہم کیا ہے لیکن اندرون شہر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔ ڈائریکٹر راولپنڈی کالجز شیر احمد ستی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے گورڈن کالج کی نجکاری یا کسی مشن کے حوالے کرنے کا کوئی نوٹیفکیشن نہیں آیا، طلباء قیادت سے آج کوئی مذاکرات نہیں ہوئے لیکن دو روز پہلے ہوئے تھے، سیکریٹری ایجوکیشن پنجاب نے یہاں آنا تھا مگر نہیں آئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
    ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
    فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    انہوں نے کہا کہ دو روز قبل طلباء کو واضح کیا تھا کہ پیر کو کالج ہینڈ اوور نہیں ہو رہا لیکن آج یہ کسی کی ایماء پر احتجاج کر رہے ہیں، اگر کیبنٹ ڈویژن کے فیصلے کی بات کرتے ہیں تو ابھی تک تو ڈراف ہی تیار نہیں ہوا، ابھی ڈراف تیار ہوگا جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

  • عمران خان پر قاتلانہ حملے کے مرکزی ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور

    عمران خان پر قاتلانہ حملے کے مرکزی ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر قاتلانہ حملے کے مرکزی ملزم نوید کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکر لیا گیا

    ملزم نوید کو سخت سیکورٹی میں عدالت پیش کیا گیا، اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی،عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد ملزم نوید کا 10روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا،عدالت نے ملزم نوید کو 22دسمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم بھی دیا،ملزم کا عبوری چالان عدالت میں پیش کر دیا گیا،ملزم نوید سے واقعہ کے لئے استعمال کی جانے والی موٹر سائیکل پولیس نے برآمد کر لی ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کے لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں عمران خان زخمی ہوئے، ایک شخص کی موت ہوئی، اللہ والا چوک میں استقبالیہ کیمپ میں فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بھگدڑ مچ گئی جب کہ موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آور کو فوری طور پر حراست میں لے لیا، ملزم نوید نے اعتراف جرم کر لیا اور کہا تھا کہ عمران خان لوگوں کو گمراہ کر رہے تھے، اسلئے فائرنگ کی،

    ویڈیو:عمران خان پر حملہ کرنیوالا ملزم گرفتار،عمران خان کیسے آئے باہر؟

     عمران خان کو پتہ تھا کہ انہیں ہٹانے کی منصوبہ بندی جاری ہے،

    شوکت خانم میں عمران خان کا علاج جاری ہے،میڈیکل رپورٹس تسلی بخش قرار دے دی 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    قبل ازیں نجی ٹی وی کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان پر وزیرآباد میں حملہ کیس کی تحقیقات میں دوسرے حملہ آور کی موجودگی اور فائرنگ کے شواہد نہیں ملے۔ جے آئی ٹی کے ذرائع کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آور ایک ہی تھا جس کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم نوید اس وقت پولیس کی تحویل میں جسمانی ریمانڈ پر ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقات میں عمران خان کے کنٹینر پر کھڑے ایک گارڈ کی فائرنگ کے ٹھوس شواہد ملے ہیں گارڈ کی شناخت کیلئے کنٹینرپر موجود گارڈز کے اسلحہ کا فارنزک کروایا جائے گا

  • دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کا وفد پاکستان پہنچ گیا

    دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کا وفد پاکستان پہنچ گیا

    دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کا وفد پاکستان پہنچ گیا.

    دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن کی پاکستانی مارکیٹ میں انٹری،گوگل کا وفد پاکستان پہنچ گیا۔ گوگل کا وفد وفاقی وزیر آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام سید امین الحق سے ملاقات کرے گا۔ وفد وزیر قانون، چیئرمین پی ٹی اے اور دیگر عہدیداروں سے بھی ملے گا جس میں پاکستان میں دفتر کھولنے اور سرمایہ کاری پر بات چیت ہوگی۔

    وزیر آئی ٹی سید امین الحق کا کہنا ہے کہ گوگل کو پاکستان میں دفتر کھولنے پر قائل کریں گے، گوگل، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پاکستان سے کروڑوں کماتے ہیں، انہیں چاہئے کہ پاکستان میں دفتر قائم کرکے نوجوانوں کو ملازمت دیں۔ امین الحق نے کہا کہ کسی بھی تنازع کی صورت میں ہم دفتر سے رجوع کرسکیں گے، ریاست، مذہب اور کلچر کے خلاف مواد کو ڈیلیٹ کروا سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) امین الحق نے کہا تھا کہ عالمی سرچ انجن گوگل نے پاکستان میں رابطہ آفس کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے سید امین الحق نے کا تھا کہ گوگل آفس کا قیام پاکستانی صارفین کیلئے اہم سنگ میل ثابت ہوگا، گوگل ایشیا پیسیفک نے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹریشن کروالی ہے، حکام سے رابطے جاری ہیں، دسمبر کے دوسرے ہفتے میں وفد کی پاکستان آمد متوقع ہے، گوگل وفد سے ملاقات میں پالیسیز، صارفین کے مسائل، حکومتی تعاون سمیت دیگر امور پر گفتگو ہوگی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
    ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
    فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    انہوں نے مزید کہا تھا کہ گوگل آفس یوٹیوب سمیت گوگل کی تمام ایپلی کیشنز سے متعلق امور کی نگرانی کرے گا، گوگل ایڈورٹائزنگ سے متعلق معاملات پر صارفین کو فوری ریسپانس مل سکے گا، گوگل کو وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے بھرپور تعاون حاصل ہوگا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک نے بھی پاکستان میں اپنا رابطہ آفس کھولنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے، امید ہے فیس بک بھی اس ضمن میں جلد ہی اپنا فیصلہ جاری کرے گا، پاکستان میں بین الاقوامی اداروں کے دفاتر کھولنے کیلئے وزارت آئی ٹی مسلسل ان ادراوں سے رابطے میں ہے۔

  • پارلیمان کو چھوڑکرسڑکوں پرفیصلے کرنے سے جمہوری نظام کیسے چلے گا؟ سپریم کورٹ

    پارلیمان کو چھوڑکرسڑکوں پرفیصلے کرنے سے جمہوری نظام کیسے چلے گا؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے عمران خان کے وکیل سے دو سوالات پر وضاحت مانگ لی ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایک شخص کو لاکھوں عوام نے ووٹ دے کر رکن پارلیمنٹ منتخب کیاآپ نے دلائل میں کہا کہ رکن پارلیمنٹ عوامی اعتماد کا امانت دار ہے، منتخب رکن پارلیمان سے باہر نکل کر کہے کہ فیصلہ سڑکوں پر کروں گا تو کیا یہ جمہوریت ہے؟ اراکین پارلیمنٹ کا پارلیمان کو چھوڑ کر سڑکوں پر فیصلے کرنے سے جمہوری نظام کیسے چلے گا؟اگر ارکان پارلیمنٹ عوام کا اعتماد جیت کر آئے ہیں تو پارلیمان میں بیٹھیں

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف ایکسٹینشن کیس میں قانونی خلا کو پر کیا تھا،اسفند یار ولی کیس میں بھی سپریم کورٹ نے ترامیم کالعدم قرار دی تھیں،عدالت نے کہا کہ اسفند یار ولی کیس میں عدالت نے انسانی حقوق سے منافی ہونے پر قانون کالعدم قرار دیا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم کیس میں تو آپ کہہ رہے ہیں کہ جو مسنگ ہے اس کو شامل کیا جائے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم سے جو شقیں نکالی گئیں ان سے قانون ہی غیر موثر ہو گیا،نیب ترامیم کے خلاف مقدمے میں نیب قانون اصل حالت میں بحال کرنے کا کہا گیا ، جسٹس منصور علی شاہ نےکہا کہ نیب کی جن شقوں میں ترمیم ہوئی وہ بنیادی حقوق کے خلاف نہیں ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں بہت سے سقم بھی تھے نیب قانون میں کسی شخص کو محض الزام پر 90 روز کے لیے گرفتار کر لیا جاتا تھا، نیب ترامیم ملکی قانون میں پیش رفت ہیں، نیب قانون پر ترمیم سے پہلے بہت تنقید بھی ہوتی رہی ہے، وکیل نے کہا کہ نیب سمیت کسی بھی فوجداری مقدمے میں تحقیقات کے دوران گرفتاری کا حامی نہیں ہوں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی نیت جاننے کے لیے نیب ترامیم پر جو بحث ہوئی وہ دیکھنا ہو گی،وکیل نے کہا کہ نیب ترامیم پر پارلیمنٹ میں کوئی بحث ہوئی ہی نہیں ہے، عدالت نے کہا کہ حکومتی وکیل کا موقف ہے کہ نیب ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں ہوئیں،وکیل نے کہا کہ نیب قانون میں کوئی ترامیم عدالتی فیصلوں کی بنیاد پر نہیں ہوئیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا نیب ترامیم کے خلاف پبلک بھی کچھ کہہ رہی ہے؟پھر عدالت خود سے تعین کرے کہ نیب ترامیم سے عوام متاثر ہو رہی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درشن مسیح کیس میں پبلک نے عدالت سے رجوع کیا تھا،کیا نیب ترامیم کیس میں پبلک نے عدالت سے رجوع کیا ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ درشن مسیح کیس میں این جی اوز نے عدالت سے رجوع کیا تھا،خواہش ہے کہ کرپشن کے خلاف بھی این جی اوز بن جائیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب ترامیم کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست زیر التوا ہے بتائیں کہ نیب ترامیم کے خلاف کیس واپس ہائیکورٹ کیوں نہیں بھجوایا جا سکتا؟ سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست کل تک ملتوی کر دی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • 22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ،رجسٹریشن کروا لیں،رکن ممالک کو مراسلہ جاری

    22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ،رجسٹریشن کروا لیں،رکن ممالک کو مراسلہ جاری

     

    پاکستان برج فیڈریشن کے زیر انتظام 22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہو گی

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کی جانب سے اس حوالہ سے رکن ممالک بنگلہ دیش، بھارت، اردن، کویت،پاکستان، فلسطین، سعودی عرب، سری لنکا،متحدہ عرب امارات کے صدور کو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ 22 ویں برج فیڈریشن چیمیئن شپ پاکستان کے شہر لاہور میں شروع ہو گی، 22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ کا آغاز 5 مئی بدھ سے ہو گا اور 13 مئی تک جاری رہے گی، اعلامیہ میں لاہور کی سیاحتی صنعت بارے میں بھی بتایا گیا اور کہا گیا کہ لاہور میں مشہور بادشاہی مسجد، وزیر خان مسجد، لاہور قلعہ سمیت کئی تاریخی عمارات سمیت سکھ اور صوفی مزارات بھی ہیں

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ 22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین کے انعقاد کے لئے ہمیشہ کی طرح پر جوش ہیں، شرکا کے لئے اس چیمپئن شپ کو یادگار بنائیں گے، چیمپئن شپ کو انٹرنیٹ پر پوری دنیا میں لائیو دکھانے کا انتظام بھی کیا جائے گا، چیمپئن شپ میں چار ایونٹس شامل ہوں گے: اوپن، ویمن، سینئرز اور مکسڈ ٹیمیں،لاہور کے معروف ہوٹل پی سی میں چیمپین شپ کا انعقاد کیا جائے گا،

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کی جانب سے جاری مراسلے میں 22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ میں شرکت کےلئے شرائط، فیس، اور شیڈول بارے بھی بتایا گیا ہے،فیس کی ادائیگی کے لئے بینک اکاؤنٹ بھی دیا گیا ہے ،رکن ممالک کے صدور کو کہا گیا ہے کہ جنوری 2023کے آختر تک ٹیموں کی رجسٹریشن مکمل کروا لیں، اس ضمن میں کسی بھی معلومات کے لئے پاکستان برج فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری احسان قادر سے انکے فون نمبر+92 342 4330000 یا ای میل secretary@pakistanbridgefederation.com, ihsanqadir@imlpk.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

    پاکستان برج فیڈریشن کے صدر مبشر لقمان پاکستان میں برج کے فروغ کے لئے متحرک ہیں ، پاکستان میں 22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ کے حوالہ سے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ برج کے فروغ کے لیے برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ اہم قدم ہے ،انہوں نے پاکستان کی ٹیم کے لئے بھی نیک جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ گڈ لک ٹیم پاکستان، مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ 22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ کا پاکستان میں ہونا پاکستان کے لئے ایک اعزاز ہے، بین الاقوامی کھلاڑی پاکستان آئیں گے. اس چیمپین شپ میں 22 ممالک کے کھلاڑی اور ٹیمیں شرکت کریں گے۔ لاہور میں ہونے والی چیمپین شپ کے نتائج آنے سے آٹھ ممالک ورلڈ برج چیمپئن شپ کے لئے کوالیفائی کریں گے ، ورلڈ برج چیمپین شپ اگلے برس اگست میں مراکو میں ہو گی،

    مبشر لقمان پاکستان برج فیڈریشن کے صدر منتخب

    سپریم نیشنل برج چیمپئن شپ:باغی ٹی وی ٹیم کی شاندار کاکردگی

    لاہور میں تین روزہ پاکستان نیشنل برج ٹورنامنٹ اختتام پذیر 

    برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

    جورڈن(اردن) انٹرنیشنل برج فیسٹول میں باغی ٹی وی کی ٹیم شرکت 

  • انسانوں کی وجہ سے  کرۂ ارض میں تبدیلیاں

    انسانوں کی وجہ سے کرۂ ارض میں تبدیلیاں

    کیا انسانی سرگرمیاں زمین سے زندگی کو معدوم کر رہی ہیں .

    کرّۂ ارض کی تاریخ میں نامساعد حالات نے پانچ مرتبہ زیادہ تر جانداروں کو صفحۂ ہستی سے مٹایا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین پر زندگی ایک بار پھر خطرے میں پڑ سکتی ہے، کچھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم چھٹی بڑی معدومیت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ کوئی بھی معتبر سائنسدان اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ جس رفتار سے فطرت تباہ ہو رہی ہے اس کے حوالے سے ہم بحران کا شکار ہیں. انسانوں کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں، زمین کے استعمال میں تبدیلیاں اور آلودگی تیزی سے کرۂ ارض کو تبدیل کر رہی ہے، جس سے مختلف انواع کے لیے موافقیت پیدا کرنا اور زندہ رہنا مشکل ہو رہا ہے۔

    کینیڈا میں فطرت کے لیے ’آخری موقع‘ قرار دیے جانے والے سربراہی اجلاس میں سائنس دان اور رہنما بحران کے پیمانے کو بتانے کی شدت سے کوشش کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ’کوپ-15‘ (COP15) نامی ماحولیات پر بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ 10 لاکھ حیاتیاتی انواع اب ’معدومیت کے دہانے پر‘ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’دنیا بھر میں سینکڑوں برسوں سے ہم نے افراتفری کا ایک ہنگامہ برپا کیا، تباہی کے اقدامات کیے ہیں۔‘
    بڑے پیمانے پر معدوم ہونا کیا ہے؟

    بڑے پیمانے پر معدومیت زمین کی تاریخ میں ایسے واقعات ہیں جب کرۂ ارض پر تیزی سے اپنی تین چوتھائی یا اس سے زیادہ انواع معدومیت کا شکار ہوجاتی ہیں۔ سائنس دان جو فوسل ریکارڈ (ماضی کی پتھر میں بدلی ہوئی اشیا کا سائینٹیفک مطالعہ نیز مدفون یا پتھر میں بدلے ہوئے ہونے کے حالات) کا مطالعہ کرتے ہیں وہ ’پانچ عظیم‘ (Big Five) بڑے پیمانے پر معدومیتوں کا حوالہ دیتے ہیں جو 54 کروڑ سالوں کے دوران رونما ہوئے ہیں۔ ایک چھوٹے سیّارچے یا ایسٹرائیڈ کے زمین سے ٹکرانے کے اثرات کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے اس کی وجہ سے ڈائنوسار معدوم ہوگئے تھے۔

    جو واقعہ کچھ عرصہ پہلے وقوع پذیر ہوتا ہے وہی زیادہ مشہور بھی ہوتا ہے- جب ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے ایک سیارچہ (ایسٹرائیڈ) کرہ ارض کے اب میکسیکو والے حصے سے ٹکرایا تو اُس واقعے نے جنوب مغربی امریکہ کے اُس خطے میں آگ لگا دی اور زمین پر چلنے والے ڈائنوسارز کو معدوم کردیا۔ دیگر مثالوں میں 25 کروڑ سال پہلے ’قدیم حیاتی‘ دور کا تباہی کا واقعہ ’عظیم معدومیت‘ (Great Dying) شامل ہے، جب زمین پر تقریباً 90 فیصد انواع فنا ہوگئی تھیں۔ یہ بالکل معلوم نہیں ہے کہ ان تمام تمام بڑے پیمانے پر معدومیت کے واقعات کے وقوع پذیر ہونے کی وجہ کیا تھی، لیکن ان کے امکانات میں آب و ہوا، سمندروں اور زمین میں تیز اور ڈرامائی تبدیلیاں بھی شامل تھیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم زندگی کی محتلف انواع کو اس سے کہیں زیادہ تیزی سے کھو رہے ہیں جتنا کہ زندگی کا ارتقاء اُنھیں پیدا کر رہا ہے، اور کچھ ماہرین تو کہتے ہیں کہ یہ ہمیں ایک نئے بڑے پیمانے پر معدوم ہونے کے راستے پر ڈال سکتا ہے – اس معدومیت کا شکار ہماری اپنی نسلِ انسانی بھی ہو گی۔ میکسیکو سٹی کی یو این اے ایم یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات ڈاکٹر جیرارڈو سیبالوس کہتے ہیں، ’ہم ارتقاء کا راستہ بدل رہے ہیں۔ اگرچہ ہم بڑے پیمانے پر معدومیت میں نہیں ہیں لیکن ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ اس نظام کو خطرے میں ڈال رہا ہے جس نے ہمارے لیے زندہ رہنا ممکن بنایا ہے۔‘ معدومیت کی شرح کی پیمائش کرنا مشکل ہے کیونکہ آج بھی ہم اکثر انواع کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے یا یہ کہ وہ کتنے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

    دستیاب محدود ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ہم نے پچھلے 500 سالوں میں 1 فیصد سے کم انواع کو کھو دیا ہے، لیکن بہت سے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ حقیقی اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں کیونکہ زیادہ تر انواع جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں ان کو 1800 کی دہائی کے وسط تک بیان نہیں کیا گیا تھا۔2015 میں سائنس دانوں نے زمینی گھونگوں کی 200 معلوم انواع کے میوزیم کے مجموعوں، ریکارڈز اور ماہر تبصروں کا مطالعہ کیا۔ انھیں پتہ چلا کہ جب سے اصلی جنگلی حیات میں ایک نوع کے طور پر ان انواع کی درجہ بندی کی گئی تھی اس وقت سے بہت سی انواع کو جنگلی حیات میں نہیں دیکھا گیا تھا اور اُس کا دسواں حصہ پہلے ہی سے معدوم ہو چکا تھا۔ اگر وسیع تر رجحانات کی علامت کے طور پر لیا جائے تو رپورٹ تیار کرنے والوں کا اندازہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ہم تمام معلوم انواع میں سے ساڑھے سات فیصد سے 13 فیصد تک کے درمیان پہلے ہی کھو چکے ہیں۔

    مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے اورنیتھولوجسٹ (پرندوں کے ماہر) ڈاکٹر الیگزینڈر لیز کہتے ہیں کہ یہ ’ایک بہت بڑے نقصان کا اشارہ ہے جو موجودہ اعداد و شمار کا نمائندہ نہیں ہے۔‘ اگرچہ ہم نہیں جانتے کہ حالیہ برسوں میں کتنی انواع معدوم ہوئی ہیں، جنگلی حیات کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ صرف 50 سالوں میں عالمی جنگلی حیات کی آبادی میں اوسطاً 69 فیصد کمی آئی ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے ماہر حیاتیات پروفیسر انٹونی بارنوسکی کہتے ہیں کہ ’آپ کو (معدومیت کے) اس مقام تک لے جانے میں پچاس سال سے زیادہ وقفے نہیں لگتے جہاں ان میں سے زیادہ تر انواع تباہ اور ختم ہونے والی ہیں۔‘

    سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ ہم فوسل ریکارڈ کو دیکھ کر اور اس وقت کے دوران جب بڑے پیمانے پر معدوم نہیں ہو رہے تھے، معدومیت کی اوسط ’پس منظر کی شرح‘ کا حساب لگانے کے لیے اس کا استعمال کرتے ہوئے ہم کتنی تیزی سے انواع کو کھو رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ اس پس منظر کی شرح کا موازنہ معدومیت کی جدید شرحوں کے ساتھ کرتے ہیں جو ریکارڈز سے جمع ہوتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ دونوں کی صف بندی کیسے ہوتی ہے۔ مانووا یونیورسٹی آف ہوائی کے ماہر ماحولیات ڈاکٹر رابرٹ کووی کے مطابق، ان مطالعات سے پائے جانے والے تخمینوں کی ضخامت ہمیں بتاتی ہے کہ آج معدومیت کی شرح نمایاں طور پر پہلے سے زیادہ ہے – 100 سے 1,000 گنا کے درمیان زیادہ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
    ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
    فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    کچھ سائنسدانوں ان نتائج کی درستگی پر شک کرتے ہیں، لیکن زیادہ تر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ معدوم ہونے کی شرح ماضی کے اکثر اوقات کے مقابلے آج زیادہ ہے۔ محققین زمین پر مختلف ادوار کے دوران معدومیت کی شرح کا اندازہ لگانے کے لیے فوسل ریکارڈ کا استعمال کرتے ہیں۔ بہرحال چاہے ان سب کا مطلب یہ ہو کہ ہم بڑے پیمانے پر معدومیت میں ہیں یا نہیں، اس معاملے پر بہت زیادہ بحث ہوتی ہے۔ میکسیکو سٹی کی یو این اے ایم یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات ڈاکٹر سیبالوز کا کہنا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ ہم 2150 کے آخر تک مکمل طور پر بڑے پیمانے پر معدومیت میں داخل ہو جائیں گے، اور یہ کہ ہم اگلی دو صدیوں میں تمام پودوں اور جانوروں کا 70 فیصد کھو سکتے ہیں۔

    امریکہ کی ییل یونیورسٹی کے ماہر امراضیات، پروفیسر پنسیلی ہل کا کہنا ہے کہ فطرت پر ہمارے کاموں کے اثرات کے نقصان کو محسوس کرنے کے لیے انسانوں کے لیے بڑے پیمانے پر معدوم ہونے کے واقعے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے ہمیں اس بارے میں کارروائی کرنے کی ضرورت کے لیے معیار کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’بہت چھوٹی آب و ہوا کی خرابیوں نے پورے معاشرے کو ختم کر دیا ہے۔ 20 سال کی خراب خشک سالی ایک پوری تہذیب کو تباہ کر سکتی ہے – یہی وہ پیمانہ ہے جو ہمارے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انواع کی قدرتی رہائش گاہوں کی حفاظت اور جنگلی حیات کے لیے راہداری بنا کر ہم فطرت کو موافقت اور اس کی بحالی میں مدد دے سکتے ہیں۔

  • خلیجی ملک سے رشوت لینے کے الزام میں یورپی پارلیمنٹ کی نائب صدر گرفتار

    خلیجی ملک سے رشوت لینے کے الزام میں یورپی پارلیمنٹ کی نائب صدر گرفتار

    خلیجی ملک سے رشوت لینے کے الزام میں یورپی پارلیمنٹ کی نائب صدر گرفتار کر لیا گیا.

    خلیجی ملک سے رشوت لینے کے الزام میں یورپی پارلیمنٹ کی نائب صدر ایواکیلی کو گرفتار کرلیا گیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق اتوار کو بیلجیئم میں تفتیشی حکام نے ایوا کیلی کے گھر سے نوٹوں سے بھرے بیگز برآمد کیے تھے جس پر انہیں حراست میں لے لیا گیا، یورپی پارلیمنٹ نے تحقیقات کی روشنی میں نائب صد ایوا کیلی کے اختیارات کو معطل کردیا ہے۔

    بیلجیئم کی پولیس ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ قطر نے برسلز کی پالیسیز پر اثرانداز ہونے کے لیے یورپی سیاست دانوں کو بھاری رشوت دی ہے، ابتدائی طور پر چھ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں سے چار پر فرد جرم عائد کردی گئی اور دو کو رہا کیا۔
    استغاثہ نے سولہ گھروں کی تلاشی لی اور چھ لاکھ یورو ضبط کرلیے، انہیں کئی ماہ سے شک تھا کہ ایک خلیجی ریاست برسلز میں فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    حرا کلچرل کالونی: مکہ مکرمہ آنے والوں کے لیے ایک نیا تجربہ
    ملتان ٹیسٹ؛ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
    فیفا ورلڈ کپ؛ ارجنٹائن اور کروشیا کی ٹیمیں سیمی فائنل میں کل آمنے سامنے ہوں گی
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ’’ٹک ٹاک‘‘ پر بہادری دکھانے کا انجام، مصری لڑکا معذور ہو گیا
    روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں میں 3 گنا اضافہ
    ایوا کیلی نے قطر کی حالیہ لیبر اصلاحات کی حمایت میں عوامی سطح پر بات کی تھی، بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹر نے حراست میں لیے گئے چاروں افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی لیکن ایک عدالتی ذریعے نے اے ایف پی کو تصدیق کی ہے کہ ایوا کیلی بھی ملزمان میں شامل ہیں۔ فیڈرل پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ برسلز کے تفتیشی جج نے چار افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے الزامات ہیں۔

  • عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں؟ فیصلہ 15 دسمبر کو

    عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں؟ فیصلہ 15 دسمبر کو

    اسلام آباد سیشن کورٹ، عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے دلائل کا آغاز کر دیا ،کہا عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ سے ملنے والی رقم سے سڑک بنائی، 2018میں قانون بنا کہ 20 فیصد رقم توشہ خانہ میں جمع کروا کر تحفہ حاصل کیا جاسکتا ہے، تحریک انصاف کی حکومت نے 20 فیصد سے رقم 50 فیصد تک بڑھا دی،گھڑی کی قیمت ساڑھے آٹھ کروڑ روپے لگائی گئی،عمران خان بتانے میں ناکام رہے کہ گھڑی آگے کتنے میں بیچی گئی، کیس گھڑی نہیں بلکہ عمران خان کے اثاثوں کی تفصیلات سے متعلق ہے، عمران خان اور ان کی اہلیہ نے توشہ خانہ سے 58 تحائف لیے، عمران خان کی جانب سے لئے گئے تحائف کی مالیت 14 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے،2018-19 میں عمران خان نے توشہ خانہ سے تقریباً 10کروڑ 70 لاکھ روپے کے تحائف لئے، جوتحائف یا پراپرٹی لی وہ ان کے اثاثوں میں شمار ہوگی،عمران خان کو اپنے تمام اثاثے الیکشن کمیشن کے سامنے ظاہرکرنے چاہیے تھے

    وکیل نے کہا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے جیولری بھی لی لیکن ظاہر نہیں کی، عمران خان نے اپنے گوشواروں میں 4 بکریوں اور 5 لاکھ روپے کا بھی ذکر کیا ہوا ہے سینیٹ،صوبائی یا قومی اسمبلی کیلئے الیکشن لڑنے والا کوئی فرد اپنے اثاثے ظاہرنہیں کرتا تویہ جرم ہے، عمران خان نے دوگنی قیمت کے تحائف توشہ خانہ سے نکلوائے جس کا اقراربھی کرچکے ہیں، عمران خان نے تمام تحائف کی ایک تہائی سے کم قیمت توشہ خانہ میں جمع کرائی،عمران خان تحائف کی قیمت پبلک نہیں کرنا چاہتے تھے،عمران خان نے توشہ خانہ سے142 ملین میں سے107 ملین روپے کے تحائف 20 فیصد قیمت پرحاصل کیے عمران خان دراصل چاہ ہی نہیں رہے تھے کہ 142 ملین روپوں کے تحائف پبلک کیے جائیں،2019/20 میں عمران خان نے ٹیکس ریٹرنزمیں 8 ملین روپے توشہ خانہ کی مد میں ظاہر کیے،عمران خان نے 2019/20 میں نہیں بتایا کہ 8 ملین روپے کن آئٹمزکی قیمت ہے اگرکوئی آئٹمز ٹرانسفر ہوئے تو اس کا بھی گوشواروں میں اظہار کرنا لازم ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی تحفہ یا آئٹم توشہ خانہ سے ملکیت بنایا جائے اورظاہر نہ کیا جائے عمران خان کی جانب سے 2020/21 کے گوشواروں کو الیکش کمیشن صحیح مانتا ہے 2020/21 تک توشہ خانہ کا معاملہ قومی اسمبلی اورکیس ہائیکورٹ میں آچکا تھا عمران خان کا توشہ خانہ کا طریقہ کارمنی لانڈرنگ والا ہے توشہ خانہ تحائف کی رقم کیا کسی اور نے ادا کی یا کیش میں کی گئی؟11 ملین کا جو ٹیکس بنتا تھا اس کو چھپایا گیا لیکن وہ معاملہ ٹیکس اتھارٹیزکا ہے، عمران خان کے 2017/18 اور 2020/21 کے گوشوارے درست ہیں عمران خان کے 2018/19 اور 2019/20 کے گوشوارے متنازع ہیں،2021 میں کچھ رقم کوظاہرکیا گیا جو اس سے پچھلے 2 سال میں ظاہرنہیں کیا گیا

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں؟ فیصلہ 15 دسمبر کو سنایا جائے گا سیشن کورٹ اسلا م آباد نے فیصلہ سنانے کیلئے 15 دسمبر کی تاریخ مقرر کر دی ،جج سیشن کورٹ اسلا م آباد ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ 15دسمبر کو 2 بجے فیصلہ سنایا جائے گا،

    دوسری جانب تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کو ترمیم شدہ پارٹی آئین کی کاپی جمع کرادی تحریک انصاف نے پارٹی آئین میں ترمیم کے ذریعے جماعتی ڈھانچے میں تبدیلی کی ہے ترمیم کے ذریعےپارٹی ٹکٹ جاری کرنےکیلئے باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا گیا، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے ترمیم شدہ پارٹی آئین طلب کیا تھا،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن عمران خان کو نااہل کر چکا ہے،اب نیب نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں، نیب نے توشہ خانہ کے حوالہ سے سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق صدر آصف زرداری، سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف بھی تحقیقات کی تھیں،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 63 ون کے تحت نااہل قراردیا تھا،الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ عمران خان کی نااہلی 5 رکنی کمیشن کا متفقہ فیصلہ ہے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے غلط گوشوارے جمع کروائے

    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا تھا،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا یہ ایسی چوری ہے جس میں مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی سب کچھ ثابت ہے

    جھوٹ پھیلانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،عمران خان کی نااہلی پر بلاول کا ردعمل

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ