Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • جنوبی ایشیاء شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے، ڈاکٹر کلیم عباسی

    جنوبی ایشیاء شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے، ڈاکٹر کلیم عباسی

    جنوبی ایشیاء شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے، ڈاکٹر کلیم عباسی

    وہ گزشتہ روز انسٹی ٹیوٹ آف ایگر و انڈسٹری اینڈ اینوائرمنٹ، فیکلٹی آف ایگریکلچر اینڈ اینوائرمنٹ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام پہلی بین الاقوامی کانفرنس برائے کلائمیٹ چینج کے افتتاحی سیشن سے بطور مہمان مقرر خطاب کررہے تھے۔ڈاکٹر کلیم عباسی نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور کئی بڑی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں جو گلوبل وارمنگ کا شاخسانہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ رواں سال صوبہ سندھ،بلوچستان اور دیگر مقامات پر حالیہ مون سون کی بارشیں اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کو بڑے جانی و مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا اورقومی معیشت کو 30ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔

    رئیس جامعہ کشمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ زراعت جو پاکستانی معیشت کا اہم جزو ہے ان ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے جو پریشان کن حقیقت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے دنیا کا کوئی خطہ محفوظ نہیں مگر جنوبی ایشیائی ممالک بالخصوص پاکستان اور آزادکشمیراس کے نشانے پر ہیں۔ڈاکٹر کلیم عباسی نے کہا کہ حالیہ مون سون کی طوفانی بارشوں نے سندھ اور بلوچستان میں کھڑی فصلوں کو بے پناہ نقصان پہنچایا جس کے ایک زرعی ملک پر اثرات ناقابل تلافی ہیں۔انہوں نے یونیورسٹی آف بہاولپور کے وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کو اس اہم موضوع پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس اہم مسئلے کی طرف فوری توجہ دیں اور طویل المدتی حکمت عملی کے ذریعے اپنے ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں۔

    افتتاحی سیشن میں میزبان وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ساہیوال پروفیسر ڈاکٹر جاوید اختر، وائس چانسلر سند ھ مدرستہ السلام کراچی پروفیسر ڈاکٹر مجیب الدین صحرائی میمن، ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر اینڈ اینوائرمنٹ پروفیسر ڈاکٹر معظم جمیل اور چیئرمین انسٹیٹیوٹ آف ایگر و انڈسٹری اینڈ اینوائرمنٹ ڈاکٹر غلام حسن عباسی نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ کلائمیٹ چینج ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کے اور اس کے دیرپا حل کے لیے اسے اپنی اقدار کا حصہ بنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں اب انسانی بقاء کا مسئلہ بن چکی ہیں جن کے حل کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    خان صاحب کی نظریں کہہ رہی ہیں کہ محمود خان آ سکتا ہے تو وہ کیوں نہیں آیا؟

    مسلم لیگ ن ایک فرد واحد کی خاطر اسمبلیاں ختم نہیں ہونے دے گی۔

    ہمارے ساتھ بیٹھ کر پرویز الہیٰ نے عمران خان کو سلیس پنجابی میں ڈیڑھ سو گالیاں دی تھیں،خواجہ آصف کا انکشاف

    الیکشن کی تاریخ چاہئے تو عمران خان پی ڈی ایم قیادت سے ملیں، وزیر داخلہ

  • فیصل امین خان گنڈہ پورنے اسمبلی رکنیت سے جمع کروایا استعفیٰ

    فیصل امین خان گنڈہ پورنے اسمبلی رکنیت سے جمع کروایا استعفیٰ

    ڈیرہ اسماعیل خان،صوبائی وزیربلدیات سردار فیصل امین خان گنڈہ پور نے صوبائی اسمبلی خیبرپختونخواہ کے اسپیکرکے پاس اپنا استعفیٰ جمع کرا دیا، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے پختونخواہ اور پنجاب اسمبلیوں کی تحلیل کے اعلان ہوتے ہی سب سے پہلا استعفیٰ صوبائی وزیر بلدیات خیبر پختونخواہ سردارفیصل امین خان گنڈہ پور نے پیش کر دیاہے۔

    واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر سردارعلی امین خان گنڈہ پورپہلے ہی سے قومی اسمبلی میں اپنا استعفے جمع کراچکے ہیں۔ صوبائی وزیربلدیات سردار فیصل امین خان گنڈہ پور نے قائدپاکستان تحریک انصاف عمران خان کے حکم پر صوبائی اسمبلی خیبرپختونخواہ کے اسپیکرکے پاس اپنا استعفیٰ جمع کرادیاہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے پختونخواہ اور پنجاب اسمبلیوں کی تحلیل کے اعلان ہوتے ہی سب سے پہلا استعفیٰ صوبائی وزیر بلدیات خیبر پختونخواہ سردارفیصل امین خان گنڈہ پور نے پیش کر دیاہے۔اس سلسلے میں سابق وفاقی وزیر سردارعلی امین خان گنڈہ پور پہلے ہی سے قومی اسمبلی میں اپنا استعفے جمع کراچکے ہیں۔

    دوسری جانب سابق ایم این اے داور خان کنڈی کا تحصیل پروا کا دورہ، تحصیل پروا ،جھوک لعل خان گاڈی ، جھوک فتح خان گاڈی ، جھوک ممدو گاڈی ، نائیویلہ ومختلف دیہاتوں میں ورکروں اور دوستوں سے ملاقات موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال ،آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو اوراہم فیصلے کیے گئے ۔ آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے سابق ایم این اے داور خان کنڈی نے تحصیل پروا کے مختلف دیہاتوں کادورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے تحصیل پروا ،جھوک لعل خان گاڈی ، جھوک فتح خان گاڈی ، جھوک ممدو گاڈی ، نائیویلہ ومختلف دیہاتوں میں ورکروں اور دوستوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پرسابق ایم این اے داور خان کنڈی نے اپنے دوستوں اورورکروں سے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔انہوںنے آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی جبکہ الیکشن میں حصہ لینے کیلئے مشاورت کی اوراہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    خان صاحب کی نظریں کہہ رہی ہیں کہ محمود خان آ سکتا ہے تو وہ کیوں نہیں آیا؟

    مسلم لیگ ن ایک فرد واحد کی خاطر اسمبلیاں ختم نہیں ہونے دے گی۔

    ہمارے ساتھ بیٹھ کر پرویز الہیٰ نے عمران خان کو سلیس پنجابی میں ڈیڑھ سو گالیاں دی تھیں،خواجہ آصف کا انکشاف

    الیکشن کی تاریخ چاہئے تو عمران خان پی ڈی ایم قیادت سے ملیں، وزیر داخلہ

  • ڈیرہ،جنگل زڑکنی سے قتل شدہ نعش برآمد،پولیس نے کئے کاروائیوں میں ملزمان گرفتار

    ڈیرہ،جنگل زڑکنی سے قتل شدہ نعش برآمد،پولیس نے کئے کاروائیوں میں ملزمان گرفتار

    ڈیرہ اسماعیل خان ،تھانہ درابن کی حدود جنگل زڑکنی سے قتل شدہ نعش برآمد،نعش کی شناخت زکریا ولد گل روز قوم مروت سکنہ زڑکنی سے ہوئی ہے، پڑتال ریکارڈ تھانہ سی ٹی ڈی کرنے پر مذکورہ ٹی ٹی پی گنڈہ پور زڑکنی گروپ کا سر گرم رکن ہے جو پولیس کو دہشت گردی کی مختلف دفعات میں مطلوب تھا۔ملزم ذیل مقدمات میں مطلوب مجرم اشتہاری تھا01۔مقدمہ نمبر10مورخہ27.01.2022جرم 324.353.3/4ESA.148.149.7ATA تھانہCTDڈیرہ مقدمہ نمبر 54 مورخ ہ02.05.2022جرم 324.353.148.149.7ATA۔مقتول کی نعش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    تھانہ درابن کی حدود جنگل زڑکنی سے قتل شدہ نعش برآمدہوئی ہے۔نعش کی شناخت زکریا ولد گل روز قوم مروت سکنہ زڑکنی کے نام سے ہوئی ہے۔ پڑتال ریکارڈ تھانہCTDکرنے پر ملزم زکریاولد گل رو زقوم مروت سکنہ زڑکنیTTPگنڈہ پور زڑکنی گروپ کا سر گرم رکن ہے جو پولیس کو دہشت گردی کی مختلف دفعات میں مطلوب تھا۔

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    گرل فرینڈ کی لاش کے 35 ٹکڑے کرنیوالے ملزم نے کیا عدالت میں جرم کا اعتراف

    دوسری جانب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شعیب خان کے احکامات پرڈی ایس پی پہاڑپور فضل رحیم خان گنڈہ پور کی قیادت میں ایس ایچ او پنیالہ سردار عظیم وزیر کی کاروائیاں،4ملزمان گرفتار،اسلحہ و ایمونیشن برآمد، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شعیب خان کے احکامات پرڈی ایس پی پہاڑپور فضل رحیم خان گنڈہ پور کی قیادت میں ایس ایچ او تھانہ پنیالہ سردار عظیم وزیر نے پولیس نفری کے ہمراہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے پولیس کومطلوب ملزمان کفایت اللہ،شبیر پسران عطا اللہ،محمد یوسف ولد کشمیر اقوام بابا خیل سکنہ وانڈا لعلی جبکہ دوسرے مقدمے میں پولیس کومطلوب ملزم شیر اکبر ولد سرور خان قوم مٹھی خیل سکنہ وانڈا گنڈھیر سے1کلاشنکوف بمعہ فٹ میگزین13عدد کارتوس برآمد کرکے مقدمہ درج کرلیا۔تھانہ پنیالہ پولیس نے ملزم کوگرفتارکرکے پابندسلاسل کردیا ہے ۔ ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شعیب خان کے اشتہاریوں کی گرفتاری کے احکامات دینے پر زبردست الفاظ میں خرا ج تحسین پیش کیاہے اورپولیس کی کاروائیوں کوسراہاہے۔

  • اے این ایف کی کارروائی؛ منشیا ت, ممنوعہ کیمیکل برآمد، دو خواتین سمیت 32 ملزمان گرفتار

    اے این ایف کی کارروائی؛ منشیا ت, ممنوعہ کیمیکل برآمد، دو خواتین سمیت 32 ملزمان گرفتار

    اینٹی نارکوٹکس فورس کی ملک گیر کارروائیاں، منشیا ت , ممنوعہ کیمیکل برآمد،دوخواتین سمیت 32ملزمان گرفتار

    اینٹی نارکوٹکس فورس پاکستان نے گزشتہ ایک ہفتہ میں 34ملک گیر کارروائیوں میں 3000.65کلو گرا م منشیا ت، 4820لیٹرممنوعہ کیمیکل برآمدکرکے دوخواتین سمیت 32ملزمان کو گرفتار کر لیا۔اے این ایف ہیڈ کوارٹر راولپنڈی سے جاری بیان کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس نے 21نومبرسے 27 نومبر کے دوران34ملک گیر انسداد منشیات کارروائیاں کیں ۔ اے این ایف بلوچستان نے 8کارروائیوں میں2583.986کلوگرام منشیات اور4820لیٹر ممنوعہ کیمیکل برآمد کر لیا جن میں2100کلو افیون، 30 کلو ہیروئن ،453 کلو چرس ، 0.986 کلوآئس اور 4820لیٹر ممنوعہ کیمیکل شامل ہے ۔ان کارروائیوں کے دوران 2 ملزمان کو گرفتارکر کے 2گاڑیاں بھی قبضے میں لی گئیں ۔

    اے این ایف پنجاب نے8کارروائیوں میں168.276کلو منشیات برآمدکی جن میں 20.4کلو افیون ، 1.500کلو ہیروئن 143.245 کلوچرس ، 2.32کلو آئس اور 0.811 کلو الپرازولم گولیاں شامل ہیں۔ان کارروائیوں میں ایک خاتون سمیت 11 ملزمان گرفتار کر کے 3 گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی گئیں۔ اے این ایف خیبر پختونخوا نے8کارروائیوں کے دوران 242.016کلومنشیات برآمدکرکے 11ملزمان کو گرفتار کیا اور 5گاڑیاں بھی قبضے میں لی گئیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ 6 سے 12 گھنٹے تک جاری
    روحانی رابطہ ہمیشہ فوج کے ساتھ قائم رہے گا،جنرل قمر جاوید باجوہ
    اسلام آباد: پولیس گاڑی کی ٹکر سے ماں بیٹی کی ہلاکت، ڈرائیور کیخلاف مقدمہ درج
    ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن نصیرآباد کی منفرد کارکردگی،ہرماہ ایک کامیاب کاروائی بمعہ پریس کانفرنس
    انسداد دہشتگردی عدالت پشاور نے سنائی دہشتگرد کو 14 برس قید کی سزا
    سال 2022 میں 215 ٹریفک حادثات میں 184 افراد جاں بحق،152 زخمی
    برآمدہ منشیات میں 124.800 کلو افیون 6.71,کلو ہیروئن ، 106.006کلو چرس اور 4.5کلو آئس شامل ہیں ۔اے این ایف سندھ نے2کاروائیوں میں1.530کلو منشیات برآمد کی جبکہ 3 ملزمان کو گرفتارکر لیا۔ برآمد کردہ منشیات میں1.530کلو ہیروئن شامل ہے۔اے این ایف راولپنڈی نے8کارروائیوں کے دوران 4.842کلومنشیات برآمدکرکےایک خاتون سمیت 5ملزمان کو گرفتار کیا ۔ برآمدہ منشیات میں0.542کلو ہیروئن ، 1.440کلو چرس ، 2.732 کلوآئس، 0.028کلو ویڈ اور100گرام ڈیزیپام گولیاں شامل ہیں ۔ ترجمان نے بتایاکہ تمام مقدمات انسداد ِ منشیات ایکٹ کے تحت متعلقہ تھانوں میں درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے

  • سعودی عرب میں الاحسا نخلستان فیسٹول کا انعقاد

    سعودی عرب میں الاحسا نخلستان فیسٹول کا انعقاد

    سعودی عرب میں الاحسا نخلستان فیسٹول کا انعقاد
    مختلف قومیتوں سے متعدد بین الاقوامی وفود سعودی عرب میں موجود دنیا کے سب سے بڑے نخلستان میں الاحساء کے ثقافتی اور ورثے کے عناصر کو دیکھنے کے لیے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ سعودی ہیریٹیج اتھارٹی اور الاحسا گورنری نے الاحسا میونسپلٹی کے تعاون سے قطر میں فیفا ورلڈ کپ کے موقع پر ایک ماہ تک جاری رہنے والے ’’الاحسا نخلستان‘‘فیسٹول کا انعقاد کیا ہے۔

    فیسٹول میں 6 تاریخی مقامات کو خصوصی طور پر پیش کیا جارہا ہے جسے دیکھنے کیلئے ورلڈ کپ شائقین کی بڑی تعداد نے الاحسا کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔ ’’الاحسا نخلستان‘‘ فیسٹول کو صوبے کے اہم ترین ثقافتی مقامات سے واقفیت حاصل کرنے اور اس علاقے کے تاریخی ورثے کے متعلق آگاہی پھیلانے کیلئے ترتیب دیا گیا ہے۔ قطر میں ورلڈ کپ میں شرکت کیلئے آنے والوں کو مشرقی سعودی عرب کے قطر کے قریب اس سرحدی علاقے کی ثقافت اور ورثے اور تفریحی تقریبات میں شرکت کا موقع بھی مل رہا ہے۔

    تاریخی ورثہ کی سرگرمیاں

    تہوار کے آغاز میں الاحساء کے گورنر شہزادہ سعود بن طلال بن بدر نے تاریخی مرکز ھفوف کا دورہ کیا، یہاں تاریخی قیصریہ مارکیٹ، ایوانِ بیعت، امیری سکول، کوٹ باغ اور آثار قدیمہ کا ابراہیم کے محل کو پیش کیا گیا ہے. یہ واقعات خطے کے قدیم تاریخ کی مناسبت سے ایک منفرد ورثے کی شکل اختیار کر گئے، عمارتوں کو تھری ڈی ڈسپلے کے ساتھ روشن کیا گیا ہے، سعودی کافی کی نمائش ہے ، روایتی کھانے فروخت کرنے والے علاقے ہیں۔ ایک دلکش خاندانی ماحول میں لوک رقص کی پرفارمنس کے مناظر اور مہذب اور روایتی واقعات کے مرکب کو میوزیکل پرفارمنس کے ساتھ رنگین بنا دیا گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ 6 سے 12 گھنٹے تک جاری
    روحانی رابطہ ہمیشہ فوج کے ساتھ قائم رہے گا،جنرل قمر جاوید باجوہ
    اسلام آباد: پولیس گاڑی کی ٹکر سے ماں بیٹی کی ہلاکت، ڈرائیور کیخلاف مقدمہ درج
    ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن نصیرآباد کی منفرد کارکردگی،ہرماہ ایک کامیاب کاروائی بمعہ پریس کانفرنس
    انسداد دہشتگردی عدالت پشاور نے سنائی دہشتگرد کو 14 برس قید کی سزا
    سال 2022 میں 215 ٹریفک حادثات میں 184 افراد جاں بحق،152 زخمی
    امیری سکول نے روایتی مصنوعات بنانے کے طریقوں جیسے بشت الحساوی کی کی نمائش بھی کی ہے۔ اسی طرح روایتی فنون جیسے آرٹ کی نمائشوں کے ذریے سٹوکو نقوش پیش کئے گئے۔ تعلیمی نمائش، یومیہ تعلیمی ورکشاپس، میوزیکل پرفارمنس اور دستکاری کے مختلف گوشے اس کے علاوہ موجود ہیں۔

  • گرل فرینڈ کی لاش کی 35 ٹکڑے کرنیوالے ملزم پر تلواروں سے حملے کی کوشش

    گرل فرینڈ کی لاش کی 35 ٹکڑے کرنیوالے ملزم پر تلواروں سے حملے کی کوشش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گرل فرینڈ کو قتل کر کے لاش کے 35 ٹکڑے کرنے والے ملزم آفتاب پر کچھ افراد نے تلواروں سے حملے کی کوشش کی ہے

    ملزم آفتاب کو عدالت پیش کیا گیا تھا، عدالت نے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے، ملزم کو جیل میں الگ کمرہ دیا گیا ہے اور اسکی سیکورٹی کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں، ملزم کے کمرے میں سی سی ٹی وی بھی نگرانی کے لئے لگائے گئے ہیں، ملزم کو جب تحقیقات کے لئے پولی گراف ٹیسٹ کے لئے لے جایا گیا تو اس دوران گاڑی پر سوار ہوتے وقت ملزم آفتاب پر چند افراد نے حملے کی کوشش کی، پولیس نے حملہ ناکام بنا دیا ہے اور ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، ملزمان کے قبضے سے تلواریں ملی ہیں، ملزمان ایک ہی گاڑی میں آئے تھے، گاڑی کی تلاشی لی گئی اسے بھی ایک ہتھوڑا اور تلواریں برآمد ہوئیں

    دوسری جانب تحقیقاتی اداروں نے آلہ قتل برآمد کر لیا ہے جس سے ملزم نے اپنی گرل فرینڈ کو قتل کر کے پھر لاش کے ٹکڑے کئے تھے، تحقیقای اداروں کے مطابق ملزم آفتاب کی نشاندہی پر ہی آلہ قتل برآمد کیا گیا ہے، شردھا کی انگوٹھی بھی برآمد کر لی گئی ہے جو ملزم نے شردھا کو قتل کرنے کے بعد فلیٹ پر آنے والی دوسری لڑکی کو دے دی تھی، ملزم کی نشاندہی پر تحقیقاتی اداروں نے اس لڑکی کو طلب کیا اور انگوٹھی لے لی، یہ لڑکی پشیہ کے لحاظ سے ماہر نفسیات ہے جس نے ملزم آفتاب کے ساتھ اسکے فلیٹ پر جنسی تقلق قائم کیا تھا ، دونوں کا رابطہ ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ہی ہوا تھا،

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    یہ ہے پنجاب،ایک روز میں ایک شہر میں جنسی زیادتی کے چھ کیسزسامنے آ گئے

    واضح رہے کہ ملزم نے شردھا واکر کو مئی میں قتل کر کے لاش کے 35 ٹکڑے کر کے فریج میں رکھ دیےتھے، ملزم نے شردھا کی لاش کے ٹکڑے 18 دن میں مختلف مقامات پر پھینکے ,میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی کے علاقے مہرولی میں ملزم نے جس فلیٹ میں اپنی گرل فرینڈ کو قتل کیا تھا ، قتل کے وقت اس نے موٹر چلا دی تھی تا کہ اسکی چیخیں کسی کو سنائی نہی دیں، ملزم نے ممبئی کی شردھا کو قتل کر کے اسکی لاش فریج میں رکھی اور اٹھارہ دن تک لاش کے ٹکڑے شہر کے مختلف علاقوں میں پھینکتا رہا، بھارتی میڈیا کے مطابق ملزم کو پولیس نے گرفتار کر رکھا ہے، ملزم کو دہلی پولیس چھترپور کے جنگلاتی علاقہ میں لے گئی اور تقریبا تین گھنٹے گزارے ،ملزم سے تحقیقات کی گئیں اور اس نے لاش کے ٹکڑے کہاں کہاں پھینکے ان مقامات کے بارے میں ملزم سے پوچھا گیا، پولیس حکام کے مطابق ملزم تیز دماغ والا ہے، ملزم کو ہندی آتی ہے لیکن وہ سوالوں کے جواب انگریزی میں دیتا ہے، ملزم نے تسلیم کیا کہ جب وہ لاش کے ٹکڑے کرتا تھا تو اسوقت قتل کرنے کی طرح موٹر چلا دیتا تھا تا کہ ٹکڑے کرنے کی بھی آوازیں دور تک نہ جائیں،

    ملزم کے پڑوسیوں نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ ملزم کسی سے زیادہ بات چیت نہیں کرتا تھا،شام کو ملزم روز گھر آتا تھا، کسی کے ساتھ اسکی دوستی وغیرہ علاقے میں نہیں تھی، ملزم اپنا کھانا بھی آن لائن ڈلیوری سے منگواتا تھا،اپنی گرل فرینڈ کو قتل کرنے کے بعد ملزم اگلے روز مارکیٹ گیا وہاں سے 23 ہزار کی فریج خریدی، اسے گھر لایا اور لاش فریج میں رکھ دی، جس چاقو سے ملزم لاش کے ٹکڑے کرتا تھا اسے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا،

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    گرل فرینڈ کی لاش کے 35 ٹکڑے کرنیوالے ملزم نے کیا عدالت میں جرم کا اعتراف

  • یوم وفات،مامونی رائسم گوسوامی

    یوم وفات،مامونی رائسم گوسوامی

    پیدائش:14 نومبر 1942ء
    گوہاٹی، آسام
    برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
    وفات:29 نومبر 2011ء
    گوہاٹی، آسام، بھارت
    قلمی نام:مامونی رائسم گوسوامی
    پیشہ:سماجی کارکن، مصنفہ، ادیبہ، شاعرہ
    قومیت:بھارتی
    دور:1956ء-2011ء
    اصناف:آسامی ادب
    موضوع:Plight of the
    ۔ dispossessed in
    ۔ بھارت
    ۔ and abroad
    نمایاں کام:The Moth Eaten
    ۔ Howdah of a Tusker
    ۔ The Man from Chinnamasta
    ۔ Pages Stained With Blood
    شریک حیات:مادھون رائسم ائینگار (متوفی)

    مامونی رایسم گوسوامی ایک آسامی مصنفہ، شاعرہ، پروفیسر اور لکھاری تھیں۔ انھیں 1983ء میں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز، 2001ء میں گیان پیٹھ انعام اور پرنسپل پرنس کلاوس لاوریٹ انعام، 2008ء سے نوازا جا چکا ہے۔ وہ عصر حاضر کی مشہور ادیبہ ہیں جن کی کئی کتابیں آسامی سے انگریزی میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔
    اپنی ادبی دنیا کے علاوہ وہ سماجی تبدیلی کے لیے بھی مشہور ہیں۔ انھوں نے اپنی تحریروں میں سماجی آزادی اور سماجی تبدیلی کی بات کی ہے اور آزاد آسام اور حکومت ہند کے مابین ثالثی بن کر صلح و امن کی خوب کوششیں کیں۔ ان کی کوششوں کی وجہ سے ایک گروپ بنام پپلز کنسلٹیٹو گروپ بنا۔ وہ خود کو امن کی متلاشی مانتی تھیں۔ ان کی تحریروں کو کئی اسٹیج اور ناٹک میں دکھایا گیا ہے۔ ایک فلم اداجیہ ان کی ناول پر بنی ہے۔ اور اسے بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔ ان کی زندگی پر ایک فلم بنی جس کا نام ورڈس فروم دی مسٹ ہے اور جسے جہنو بروا کے ڈیریکٹ کیا ہے۔
    ابتدائی زندگی اور تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اندرا گوسوامی کی ولادت گوہاٹی میں ہوئی۔ ان کے والد اومرکنٹ گوسوامی اور والدہ امبیکا دیوی ہیں۔ انتدائی تعلیم گوہاٹی میں حاصل کرنے کے بعد کوٹن کالج کوہاٹی سے آسامی ادب میں گریجویشن کیا اور وہیں سے اسی موضوع میں ماسٹر بھی کیا۔
    کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔
    1962ء میں ان کی پہلی کتاب ”چناکی موروم“ منظر عام پر آئی جو کہانیوں کا مجموعہ تھی اور اس وقت وہ طالبہ ہی تھی۔ آسام میں انہیں مامونی بائدیو کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب کے ناشر کیرتی ناتھ نے انہیں اپنے رسالہ میں لکھنے کے لیے دعوت دی اور اس وقت وہ محض 8 برس کی تھیں۔
    ذہنی دباؤ
    ۔۔۔۔۔۔
    بچپن ہی سے انہیں ذہنی دباو کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی خود نوشت سوانح عمری، دی ان فنشڈ آٹوبایوگرافی، میں انہوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے شیلونگ میں کئی بار اپنے گھر سے کودنے کی کوشش کی۔ متعدد خود کشی کے اقدام نے ان کی جوانی کی زندگی کو اجیرن بنا دیا۔ شادی کے محض 18 ماہ بعد ان کے کرناٹک نزاد شوہر کا کشمیر میں ایک سڑک حادثہ میں انتقال ہو گیا جس کے بعد انھوں نے نیند کی گولیاں لینی شروع کر دیں۔ اس کے بعد انہیں آسام لایا گیا اور انہوں نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور سینک اسکول، گوالپارا میں معلمہ ہو گئیں۔ یہاں نے انہوں پھر لکھنا شروع کیا لیکن اس بار ان کی تحریروں میں زندگی کے حادثات کی جھلک صاف دکھائی دیتی تھی بالخصوص شوہر کی وفات اور مدھیہ پردیش اور کشمیر میں زندگی گزارنے کا تجربہ ان پر کافی اثر کر چکا تھا۔
    ورانداون کی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوالپارا میں تدریس کے بعد ان کے استاد نے انہیں ورنداون جانے کا مشورہ دیا تاکہ کچھ ذہنی سکون مل سکے۔ انہوں نے اپنی بیوگی کا تذکرہ اپنی ناول دی بلیو نیکیڈ بارجا، 1976ء میں کیا اور ورنداون کی دکھ بھری زندگی کا بھی نقشہ کھینچا ہے۔ ایک درندناک پہلو ورنداون کا یہ بھی ہے کہ جوان بیوہ عورتوں کو آشرم والے خوب ترجیح دیتے ہیں جبکہ بوڑھی عورتیں محروم رہ جاتی ہیں۔ ورانداون میں انہوں نے راماین کا مطالعہ شروع کیا تلسی داس کے راماین کا کثیر حصہ پڑھ ڈالا۔ تلسی داس کی راماین انہوں نے محض 11 روپیہ میں خریدی تھی۔
    دہلی یونیورسٹی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قدہلی یونیورسٹی کے شعبہ بھارتی زبان وادب میں آسامی زبان کی پروفیسر ہو گئیں اور اس طرح اب ان کا مسکن دہلی ہو گیا۔ یہیں رہ کر اہوں نے اپنی شاہکار کتابیں لکھیں جن میں کئی افسانے جیسے ہری دوئے، ننگوتھ شوہور، بوروفور رانی شامل ہیں۔
    انہوں نے اپنی کتاب پیجیز سٹینڈ وتھ بلڈ میں سکھوں پر ہونے مظالم کو موضوع بنایا جب سابق وزیر اعظم بھارت اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھ مخالف فسادات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ گوسوامی اس وقت دہلی شکتی نگر، اترپردیش علاقہ میں قیام پزیر تھیں اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے فسادات کا مشاہدہ کیا تھا۔
    کامیابی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1982ء میں انہیں ساہتیہ اکادمی اعزاز کے نوازا گیا۔ 2000ء میں گیان پیٹھ انعام سے سرفراز ہوئیں۔ گوسوامی کے ناول کے دو خاص موضوعات عورت اور آسامی سماج ہے مگر انہوں آسامی سماج میں ایک مرد کردار اختراع کیا جو اندرناتھ کا ہے جسے انہوں نے اپنی کتاب دتال ہنتیر اونی ہودہ میں لکھا ہے۔
    کتابیات
    ۔۔۔۔۔۔
    ناول
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1972ء ۔ چیناور سروت
    ۔ (2)1976ء نیل کنٹھی براہ
    ۔ (3)1980ء اہیرون
    ۔ (4)1980ء میمور دھورا
    ۔ (5)1980ء بدھو ساگور دھوکھور گیشا
    ۔ (6)1988ء دتال ہتیر اونی کھوا ہودا
    ۔ (7)1989ء اودے بھانور چرترو
    ۔ (8)ننگوتھ سوہور
    خود نوشت سوانح
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)این ان فنشڈ آٹوبایوگرافی
    ۔ (آسامی زبان:আধা লেখা দস্তাবেজ)
    ۔ (2)بایوگراگیز نیو پیجیز
    ۔ (آسامی زبان:দস্তাবেজ নতুন পৃষ্ঠা)
    ۔ (3)بایوگراگیز نیو پیجیز
    ۔ (آسامی زبان:অপ্সৰা গৃহ)
    افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بیسٹ
    ۔ (2)دوارکا اینڈ ہز سن
    ۔ (3)دی جرنی
    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پین اینڈ فلیش
    ۔ (2)پاکستان
    ۔ (3)اوڈے تو ا ہور
    غیر افسانوی ادب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)راماین فروم گنگا ٹو برہم پتر، دہلی 1996ء
    ۔ (2)آن لائن
    ۔ (3)دی جنرل
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1982ء- ساہتیہ اکیڈمی
    ۔ (2)1989ء- بھارت نرمان اعزاز
    ۔ (3)2000ء- گیان پیٹھ انعام
    ۔ (4)2002ء- پدم شری اعزاز
    ۔ (انہوں نے قبول کرنے سے منع کر دیا)
    ۔ (5)2007ء- اروناچل پردیش کی
    ۔ راجیو گاندھی یونیورسٹی کی جانب سے
    ۔ ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگری
    ۔ (6)2008ء- اندرا گاندھی
    ۔ نیشنل اوپن یونیورسٹی کی جانب سے
    ۔ ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگری
    ۔ (7)2008ء- ایشور چندر ودیاساگر
    ۔ گولڈ پلیٹ من جانب ایشیاٹک سوسائٹی
    ۔ (8)2009ء- آسام رتن
    ۔ ریاست آسام کا اعلیٰ ترین اعزاز۔

  • یوم وفات، فیاض ہاشمی،معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار

    یوم وفات، فیاض ہاشمی،معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار

    یوم وفات، فیاض ہاشمی،معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار

    تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
    یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے

    پیدائش:18 اگست 1920ء
    کولکاتا،برطانوی ہند
    وفات:29 نومبر 2011ء
    کراچی،پاکستان
    شہریت: پاکستان
    پیشہ:غنائی شاعر،نغمہ نگار

    فیاض ہاشمی ہند و پاک کے معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار اور مقالمہ نویس تھے۔
    حالات زندگی و فن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض ہاشمی 18 اگست 1920ء کو کلکتہ، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کلکتہ گرامر اسکول سے حاصل کی اور باقاعدہ ہومیو پیتھ ڈاکٹر بنے لیکن پریکٹس نہیں کی کیونکہ رجحان شاعری کی طرف تھا۔ وہ آٹھ زبانوں پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ 1935ء میں فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے تھے۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی بہت شعر کہنے شروع کردیے تھے جس کی بنیاد پر کلکتہ میں ہونے والے مشاعروں میں انھیں کمسن شاعر کی حیثیت سے بطورِ خاص بلوایا جاتا تھا۔ انھوں نے فلمی گیتوں میں اُردو اور ہندی کی آمیزش سے ایک نیا انداز اپنایا جس کی وجہ سے ان کے گیتوں کو لازوال شہرت عطا ہوئی۔ فیاض ہاشمی کی شاعری کے علاوہ موسیقی میں بھی شُد بُد رکھتے تھے۔ ان کی اس منفرد اور قابلِ قدر خصوصیت کی بنا پر H.M.V نامی گراموفون کمپنی کے ڈائریکٹر بنا دیے گئے۔ اس کمپنی میں فیاض ہاشمی کی ملاقات ایک بہت بڑے موسیقار کمل داس گپتا سے ہوئی۔ ان دونوں کی جوڑی خوب نبھی اور بڑے لازوال گیت تخلیق ہوئے۔ فیاض ہاشمی کا نام ہندستان بھر میں ایک کم عمر گیت نگار کے طور پر پہچانا جانے لگا۔ کمل داس گپتا اور فیاض ہاشمی کی جوڑی نے جگ موہن، طلعت محمود، جونتھیکا رائے، پنکج ملک اور ہیمنت کمار جیسے بڑے گلوکاروں کو موسیقی کی دنیا میں متعارف کرایا اور بے پناہ شہرت کا حامل بنایا۔ ان گلوکاروں کے مشہورگیتوں میں تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی، چودہویں منزل پہ ظالم آ گیا، اِک نیا انمول جیون مل گیا، یاد دلواتے ہیں وہ یوں میرا افسانہ مجھے، ہونٹوں سے گل فشاں ہیں وہ کے علاوہ طلعت محمود کی آواز میں بے شمار گیت اور غزلیں ہیں۔

    اسی طرح پنکج ملک یہ راتیں یہ موسم یہ ہنسنا ہنسانا، ہیمنت کمار کا بھلا تھا کتنا اپنا بچپن، جگ موہن کا یہ چاند نہیں تیری آرتی ہے، جوتھیکا رائے ان ہی کی وجہ سے بھجن کی شہزادی قرار پائیں۔ جوتھیکا رائے کا چپکے چپکے یوں ہنسنا کافی مشہور ہوا۔ 1948ء میں وہ پاکستان منتقل ہو گئے۔ ان کی مطالبے پر گراموفون کمپنی نے ان کا ٹرانسفر لاہور کر دیا اور انہیں H.M.V لاہور کا ڈائریکٹر بنادیا۔ یہاں انہوں بے شمار فنکاروں کو اکٹھا کیا جن میں منور سلطانہ، فریدہ خانم، زینت بیگم، سائیں اختر حسین اور سائیں مرنا کے علاوہ اور بھی بہت سے فنکار تھے۔ 1956ء میں رائلٹی کی ادائیگی پر اختلاف کی بنا پر وہ کمپنی سے علاحدہ ہو گئے اور کراچی آ گئے لیکن 1960ء میں ایس ایم یوسف انہیں دوبارہ لاہور لے آئے اور وہ ان کے ادارے سے وابستہ ہو گئے۔ وہ پاکستان آئے تو انھوں نے گلوکاروں کے ساتھ ساتھ استاد حسیب خاں ببن کار، استاد فتح علی خان، استاد بڑے غلام علی خان، استاد مبارک علی خان، ماسٹر غیاث حسین اور استاد محمد شریف خان پونچھ والے کو بھی گراموفون کمپنی میں ملازمت دلوائی۔ شاعر حزیں قادری اور مشیر کاظمی بھی انہی کے توسط سے کمپنی سے وابستہ ہوئے۔ ریاض شاہد کو بڑا مکالمہ نگار بنانے میں فیاض ہاشمی کی معاونت شامل ہے۔
    ازدواجی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض ہاشمی نے تین شادیاں کیں، پہلی بیگم سے سات بچے ہیں، دوسری شادی اداکارہ کلاوتی سے کی جو مسلمان تھیں، ان سے ایک بیٹا تھا، تیسری بیگم سے چار بچے ہیں جو اپنی والدہ کے ساتھ امریکا میں مقیم ہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    1944ء – راگ رنگ (شاعری)
    بطور نغمہ نگار مشہور فلمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سہیلی
    آشیانہ
    اولاد
    دل کے ٹکڑے
    سہاگن
    لاکھوں میں ایک
    زمانہ کیا کہے گا
    عید مبارک
    سویرا
    ہزار داستان
    ایسا بھی ہوتا ہے
    مشہور فلمی نغمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو جو نہیں ہے توکچھ بھی نہیں ہے (گلوکار: ایس بی جون، فلم: سویرا)
    آج جانے کی ضد نہ کرو (گلوکار: حبیب ولی محمد، فلم: بادل اور بجلی)
    تصویر تیری دل مِرا بہلا نہ سکے گی (گلوکار: طلعت محمود)
    چلو اچھا ہوا تم بھول گئے (گلوکار: نورجہاں، فلم: لاکھوں میں ایک)
    گاڑی کو چلانا بابو (گلوکار: زبیدہ خانم، فلم: انوکھی)
    قصہ غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے (گلوکار: مہدی حسن، فلم: داستان)
    یہ کاغذی پھول جیسے چہرے (گلوکار: مہدی حسن، فلم: دیور بھابی)
    نشان کوئی بھی نہ چھوڑا (گلوکار: مہدی حسن، فلم: نائلہ)
    لٹ الجھی سلجھا رے بالم (گلوکار: نورجہاں، فلم: سوال)
    ساتھی مجھے مل گیا (گلوکار: ناہید اختر، فلم: جاسوس)
    ہمیں کوئی غم نہیں تھا غمِ عاشقی سے پہلے (گلوکار: مہدی حسن / مالا، فلم: شب بخیر)
    رات سلونی آئی (گلوکار: ناہید نیازی، فلم: زمانہ کیا کہے گا)
    مشہور ملی نغمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں دی ہمیں آزادی کے دنیا ہوئی حیران، اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے احسان
    ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
    سورج کرے سلام، چندا کرے سلام
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض ہاشمی 29 نومبر، 2011ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پا گئے۔

    غزلیں
    ۔۔۔۔۔۔
    (1)
    مستوں کے جو اصول ہیں ان کو نبھا کے پی
    اک بوند بھی نہ کل کے لیے تو بچا کے پی
    کیوں کر رہا ہے کالی گھٹاؤں کے انتظار
    ان کی سیاہ زلف پہ نظریں جما کے پی
    چوری خدا سے جب نہیں بندوں سے کس لیے
    چھپنے میں کچھ مزا نہیں سب کو دکھا کے پی
    فیاضؔ تو نیا ہے نہ پی بات مان لے
    کڑوی بہت شراب ہے پانی ملا کے پی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    نہ تم میرے نہ دل میرا نہ جان ناتواں میری
    تصور میں بھی آ سکتیں نہیں مجبوریاں میری
    نہ تم آئے نہ چین آیا نہ موت آئی شب وعدہ
    دل مضطر تھا میں تھا اور تھیں بے تابیاں میری
    عبث نادانیوں پر آپ اپنی ناز کرتے ہیں
    ابھی دیکھی کہاں ہیں آپ نے نادانیاں میری
    یہ منزل یہ حسیں منزل جوانی نام ہے جس کا
    یہاں سے اور آگے بڑھنا یہ عمر رواں میری

  • میاں بیوی کے مابین لڑائی، دو سالہ بچہ گود سے زمین پر گرنے سے ہوا جاں بحق

    میاں بیوی کے مابین لڑائی، دو سالہ بچہ گود سے زمین پر گرنے سے ہوا جاں بحق

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میاں بیوی کے مابین لڑائی،دو سالہ بچہ زمین پر گرنے سے جان چلی گئی

    واقعہ کراچی میں پیش آیا، شہر قائد کے جناح ہسپتال میں شوہر اور بیوی کے درمیان جھگڑے کے دوران ماں کی گود سے بیٹا زمین پر گرنے سے جاں بحق ہوگیا ، ایدھی حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے لڑکے کی شناخت 2 سالہ عاطف کے نام سے ہوئی، متوفی کی والدہ نے پولیس کو ابتدائی بیان میں بتایا کہ ٹریفک حادثے میں وہ خود اور 2 بیٹیاں زخمی ہوگئی تھیں اورجناح ہسپتال میں طبی امداد کے بعد ایمرجنسی کے باہر فٹ پاتھ پر ہی ٹھہری ہوئی تھی کہ اس کا شوہر آصف آیا اور مجھ سے ایک ہزار روپے مانگے نہ دینے پر اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور میری گود میں موجود 2 سالہ بیٹا زمین پر گرنے سے جاں بحق ہوگیا

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ بچے کا والد آصف نشے کا عادی بتایا جاتا ہے جسے پولیس نے گرفتار کرلیا ہے جبکہ بچے کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح ہسپتال منتقل کر دی گئی ہے، متاثرہ خاندان سہراب گوٹھ کوئٹہ بس سٹاپ کے قریب کا رہائشی بتایا جاتا ہے

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    11 سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے پر بھارتی فوجی اہلکار گرفتار

    دوسری جانب ضلع ویسٹ پولیس نے مضر صحت گٹکا ماوا فروخت کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ملزمان کو مین منگھوپیر روڈ جمشید پمپ کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔ملزمان کی گرفتاری تھانہ پیرآباد پولیس کی جانب سے عمل میں لائی گئی۔ملزمان سے بھاری تعداد میں تیار مضر صحت گٹکا ماوا اور فروختگی کی رقم برآمد کی گئی،ملزمان کے خلاف سندھ گٹکا ماوا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے،گرفتار ملزمان میں ارشد ولد خواجہ محمد اور اصغر علی ولد شیر علی شامل ہیں

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

  • عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں امریکی جیل میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار کی جانب سے حافظ یاسر عرفات اور وزارت خارجہ کے حکام عدالت میں پیش ہوئے عدالتی حکم پر امریکہ کے ساتھ کی گئی خط و کتابت کا ریکارڈ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کیا گیا،عدالت نے دفتر خارجہ کے حکام سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے دوبارہ وہی پراسس شروع کر دیا جو پہلے کر چکے ہیں ،درخواست گزار کے وکیل حافظ یاسر عرفات نے عدالت میں کہا کہ دفتر خارجہ نے جو رپورٹ جمع کرائی ہے اس کی کاپی فراہم کی جائے تا کہ میں اس کو دیکھ لوں

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جو خط و کتابت ہوئی ہے وہ دکھائیں ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے دفتر خارجہ کی پیش کردہ خط و کتابت پر عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تمام خط و کتابت کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے کیس کی سماعت 7 دسمبر تک ملتوی کردی

    عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کراچی میں احتجاج

    اچھا ہوتا وزیراعظم اپنی تقریر میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر کرتے۔ حافظ سعد رضوی

     یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ