ججز کے دورے کے دوران اڈیالہ جیل کے حکام کی قیدیوں سے ناروا سلوک کی نشاندہی کیس کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے مجسٹریٹ کو قیدی کو اڈیالہ جیل سے طلب کرنے کا حکم د ے دیا ،عدالت نےحکم دیا کہ قیدی کا میڈیکل بورڈ سے طبی معائنہ کروایا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے مجسٹریٹ کو قیدی کا بیان قلمبند کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ قیدی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے گواہوں طلب کرسکتے ہیں،تشدد کا واقعہ ہوا یا نہیں، ایک ہفتے میں تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے، مبینہ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے قیدی کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود ہیں، کسی بھی قیدی پر تشدد کی اجازت نہیں دی جاسکتی، جوڈیشل مجسٹریٹ قیدی کی دوران حراست حفاظت یقینی بنائیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 7دسمبر تک ملتوی کردی
ایک رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ٹھیکے پر دیئے جانے کا انکشاف ،ہر ایک کے ریٹ فکس ہوتے ہیں ،اڈیالہ جیل کے سابقہ قیدی راجہ فواد نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چیف مہتاب ، ملک طاہر اور راحیل نامی شخص محکمہ جیل کے ناسورہیں، اڈیالہ جیل میں منشیات فروشی میں ملوث ہیں ، اڈیالہ جیل میں دو لاکھ روپے میں موبائل فون رکھنے کی اجازت دی جاتی ہے ، سابقہ قیدی اڈیالہ جیل راجہ فواد نے کہا کہ دہشتگردوں کے لیے بنائے گئے ٹارچر سیل میں قیدیوں کو ڈال کر تشدد کیا جاتا ہے ، مالی طور پر مضبوط قیدیوں کو لڑائی جھگڑے کے کیس میں ملوث کر کے ٹارچرسیل منتقل کیا جاتا ہے بعد ازاں گھر والوں سے پیسوں کا تقاضہ بھی کیا جاتا ہے ، سابقہ قیدی کا نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہنا تھا جیل انسپکشن اور دوروں کے درمیان اگر کوئی قیدی شکایت کر دے تو اس پر سنگین نوعیت کا تشدد کیا جاتا ہے ،
مخصوص سہولیات کیلئے بیرک نمبر 1 تا 8 دو لاکھ 30 ہزار روپے فی قیدی ریٹ طے پا گیا۔زرائع کے مطابق بیرک نمبر 9 ایک لاکھ 20 ہزار روپے فی قیدی طے ہوا ہے قصوری بیرک کا ریٹ 3 لاکھ 50 ہزار روپے فکس کر دیا گیا ہے۔بڑے جرائم پیشہ افراد جیل اسپتال منتقلی 1 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کریں گے۔زرائع جیل فیکٹری ماہانہ 13 لاکھ روپے ٹھیکے پر دے دی گئی قیدی لنگر 20 لاکھ سے اوراندرون تلاشی 22 لاکھ رشوت وصول کیجائے گی۔زرائع جیل پی سی او سے ماہانہ 7 لاکھ روپے رشوت طے کی گئی ہے۔ غلہ گودام سے 45 لاکھ روپے اور نیب کے کیسز میں قید وی آئی پی ملزمان 2 لاکھ روپے فی قیدی رشوت دیں گے۔بی کلاس میں ملاقات کیلئے 50 ہزار روپے اور اڈیالہ جیل کانفرنس ملاقات کا ریٹ 70 ہزار روپے طے کیا گیا ہے۔ایڈمن بلاک میں پریزن رہائش گاہوں کے دونوں فلور کے کمرے 35 لاکھ روپے کرائے پر دئیے گئے جیل میں منشیات خصوصا آئس،شراب فراہمی کا ٹھیکہ مخصوص کنٹریکٹر کو 42 لاکھ روپے میں دیا گیا ۔کینٹین اور چوکر قوانین میں سنگین بے ضابطگیاں لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔جیل میں الیکٹرونک ڈیوائسز اور موبائلز فون کے استعمال سے بین الاقوامی گینز سے رابطے بحال کرنے کیلئے بھاری رشوت کا انکشاف ہوا ہے۔
اڈیالہ جیل میں پریزن آفیسر سیکشن میں ملاقات کیلئے جیل کا مین سوئچ بند کرکہ خصوصی ملاقات اور محفلیں سجائیں جاتی ہیں۔ مختلف ادوار میں تعینات سپریڈنٹ جیل کا سابقہ سروس ریکارڈ ان کے کرتوتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔راولپنڈی اڈیالہ جیل میں انتظامیہ کے رویہ سے دلبرداشتہ عمر قید کے مجرم کی خودکشی کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔
ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک نے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر کی رقم منتقل کردی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر تصدیق کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نےکہا ہے کہ ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) نے آج اپنے بورڈ کی منظوری کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو 500 ملین ڈالر کی رقم ٹرانسفر کردی ہے۔ اسحاق ڈار کہا کہ حکومت پاکستان کو 500 ملین ڈالر کی رقم پروگرام فنانسنگ کے طور پر منتقل کی گئی ہے۔
Asian Infrastructure Investment Bank (AIIB) has transferred today, as per their Board’s approval, to State Bank of Pakistan/Government of Pakistan US $ 500 million as program financing.
قبل ازیں اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ پاکستان کو تین مالیاتی اداروں سے مجموعی طور پر4ارب ڈالرز ملیں گے جو سیلاب سے پیدا ہونے والے معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ہوں گے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ورلڈ بینک سے 1تا2ارب ڈالرز ،ایشیائی ترقیاتی بینک سے ڈیڑھ ارب اورایشین انفرا اسٹریکچر انویسٹمنٹ بینک سے 50کروڑ ڈالرز ملیں گے۔
جو قوم اپنے محافظوں کو بھلا دیتی ہے وہ خود بھی بھلا دی جاتی ہے۔کیونکہ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہاں ممالک کی سرحدیں دیواروں کی حیثت رکھتی ہیں اور ان کی حفاظت سپاہی اور بندوقیں کرتی ہیں۔ بےپناہ چیلنجز، مشرق اور مغرب سے دشمن کی یلغار، ملک کے اندرہائیبرڈ وار کی للکار، مہنگائی کے مارے غریبوں کی پکار، گرتی معیشت، تاریخی بجٹ خسارہ، قدرتی آفتوں کی بھرمار۔ایسے میں دنیا کی ساتویں بڑی اور 9th most powerful فوج کے سپہ سالار اپنے دفاعی بجٹ میں سو ارب کمی کی پیش کش کر دے۔ یہ انتہائی حیرانی کی بات ہے کیونکہ اس فوج نے صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں کرنی، بلکہ ہر اُس چیز سے لڑنا ہے جو ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے۔
چاہےگرتی معیشت ہو یا بگڑتی خارجہ پالیسی ۔
شدید موسمی تغیرات ہوں یا اچانک قدرتی آفتیں۔
چاہےتعلیم ، صحت ہو یا دہشت گردی
پاک فوج نےہر میدان میں سول اداروں کے ساتھ کندے سے کندھا ملا کر اپنا کردار ادا کرنا ہے۔یہی نہیں بلکہ اس نےپوشیدہ امتحانات کو جھیلتے ہوئے مقدس مشن کی آبیاری بھی کرنی ہے، جو ایک کوہ گراہ ہی سرانجام دے سکتا ہے۔پاکستان کی فوج پر انیس سو ستر میں جی ڈی پی کا6.5% خرچ ہو رہا تھاا ور دوہزار اکیس ، بائیس میں جی ڈی پی کا2.54% جہاں پاکستان کی فوج کا بجٹ 8.8 billion doller ہے وہیں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت اپنی فوج پر 76 billion doller خرچ کر رہا ہے۔sipri military data base کے مطابق جہاں بھارت ملٹری پر اخراجات کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے تو وہیں پاکستان کا اخراجات کے حوالے سے چالیس ممالک کی لسٹ میں 23rd تیسواں نمبر ہے۔جہاں پاکستان کا دشمن اپنے فوجی پر سالانہ
42000 $ خرچ کر رہا ہے وہیں پاکستان اپنے فوجی پر 12500 $ سالانہ خرچ کر کے اسی دشمن کےسامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا ہوا ہے ۔
ان حیران کن کامیابیوں کے پیچھے بلاشبہ فوجی قیادت کا اہم کردار ہے کیونکہ قیادت شاندار کارناموں کو اپنے سر کا تاج بنانےکا نام نہیں ہے۔بلکہ قیادت اپنی ٹیم کو ایک مقصد پر فوکس رکھنے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل ترغیب دینے کا نام ہے۔خاص طور پر ایسے حالات میں جب سازشوں کا جال ہر طرف بکھرا ہو ، اندرونی اور بیرونی دشمن ہر طرف سے داو پیچ کھیل رہا ہو۔ اور اس مقصد کے نتائج برائے راست ملکی سالمیت پر اثر انداز ہو رہے ہوں۔ وہ قیادت جو کامیابی کا سہرا اپنے سر سجانے کی بجائے پیچھے کھڑی دوسروں کو چمکنے کا موقع فراہم کر رہی ہو۔وہی حقیقی قیادت کہلانے کی حق دار ہوتی ہے اورقیادت کا یہ حق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خوب ادا کیا۔ دفاعی بجٹ کو کم سے کم تک محدود رکھنے کے علاوہ، پاک فوج نے سال 2019 میں دفاعی بجٹ کی مختص رقم کو منجمد کرنے کا ایک بے مثال قدم بھی اٹھایا۔اس معمولی بجٹ میں پاک فوج نے نہ صرف پرانے روائیتی ہتھیاروں کو استعمال کے لیے برقرار رکھا بلکہ ناگزیرنئے روایتی ہتھیاروں کے نظام،سمولیٹرز،سائبر وارفیئر کی ص،لاحیتوں، میزائل اور جوہری ٹیکنالوجی میں جدیدترین پیش رفت کو بھی شامل کیا ۔دیگر مدمقابل افواج کے مقابلے میں کم ترین بجٹ ہونے کے باوجود پاک فوج نے اپنی معیاری صلاحیتوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا۔ اور یہ دنیا کی واحد فوج ہے جس نے دہشت گردی کو شکست دی۔
کیا آپ کو پتا ہے کہ پاک فوج نے سال دوہزار بیس ، اکیس میں اٹھائیس ارب روپے ٹیکس کی مد میں حکومت کو دیا۔؟کیا آ پ کو پتا ہے کہ فوجی فاونڈیشن ایک کاروباری منصوبہ نہیں بلکہ ایک ویلفیئر ادارہ ہے جو اپنی انکم کا73%شہدا کی فیملی، جنگ کے نتیجے میں ہونے والے معزور اور زخمیوں اور ریٹائر فوجیوں پر خرچ کرتا ہے۔ اس میں کام کرنے والے
17% لوگوں کا تعلق شہدا کی فیملیوں جبکہ83% سویلین سے ہے۔ فوجی فاونڈیشن نے سال دوہزار اکیس میں تقریبا ایک ارب روپے فلاحی کاموں پر خرچ کیئے۔ اگر یہ ادارہ خود فنڈ generate نہ کرے تو حکومت پر سالانہ دس ارب روپے کا مزید بوجھ بڑھ جائے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس فوجی گروپ دیتا ہے جو سالانہ 150 ارب روپے بنتا ہے۔ اور گزشتہ پانچ سالوں میں ایک ٹریلین روپے حکومت کو ٹیکس دے چکا ہے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ ملک بھر کے DHA’s
میں صرف تیس سے پینتیس فیصد لوگ سابق فوجی ہیں باقی سب سویلین کام کرتے ہیں۔کیا آپ کو پتا ہے کہ آرمی ویلفیئر آرگنائزیشن سالانہ 156% ٹیکس دیتی ہے جو دفاعی بجٹ کا 26% بنتا ہے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ پاک فوج نے جنرل باجوہ کی سربراہی میں حکومت کو GSP PLUS status برقرار رکھنے کے لیے ستائیس انٹرنیشنل کنوینشن کرنے میں مدد فراہم کی۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں فوج نے پاکستان کی قومی سلامتی کے نقطہ نظر کو ماحول، انسانی اور روایتی سلامتی کے ساتھ ہم آہنگی کے تعلقات کو استوار کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ترتیب دیا۔ قومی سلامتی کو ہی مدنظر رکھتے ہوئے پاک فوج نے Karkey Karadeniz Electrik Uterimتنازعات کا حل نکالا۔ سول اور فوجی قیادت پر مشتمل ایک کور کمیٹی نے ترکی، سوئٹزرلینڈ، لبنان، پاناما اور دبئی میں کرپشن کے شواہد کو بے نقاب کیا۔ یہ ثبوت کور کمیٹی کی جانب سے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ICSID) ٹریبونل کے سامنے پیش کیے گئے۔
پاک فوج نے کارکے تنازعہ کو خوش اسلوبی سے حل کیا اور ICSID کی طرف سے عائد 1.2 billion doller جرمانہ بچایا۔ اگر تنازعہ طے نہ ہوتا اور پاکستان رقم ادا کر دیتا تو پاکستان کی جی ڈی پی تقریباً دو فیصد تک سکڑ جاتی اور پاکستان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرتا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں Rekodiqمعاملہ فوج کی ان گنت کوششوں سے حل ہوا۔ اورپاکستان کو ریکوڈک کیس میں11 بلین ڈالر کے جرمانے سے بچایا گیا اور اس منصوبے کی تشکیل نو کی گئی جس کا مقصد بلوچستان میں اس جگہ سے سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر کی کھدائی کرنا تھا۔ ریکوڈک معاہدہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ذاتی کوششوں کا نتیجہ تھا کیونکہ انہوں نے تمام فریقین کو قومی اتفاق رائے کے لیے قائل کیا۔ اور تین سال کی انتھک محنت اور بات چیت کے مراحل سے گزر کر طے ہوا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ریکوڈک ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے بڑی سونے اور تانبے کی کان ہو گی۔ یہ پاکستان کو قرضوں سے نجات دلائے گا اور ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔
ریکوڈک وفاقی، صوبائی حکومتوں اور بلوچستان کے عوام کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ ہر جنگ کا ایک ہیرو ہوتا ہے اور وہ ہیرو وہ ہوتا ہے جو چیلنجز کو قبول کرتا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے چھ سالہ دور میں کئی چیلجز کو کھلے د ل سے قبول کیا۔اور بلاشبہ چاہے ایف اے ٹی ایف ہو یا ریکوڈک karkey disputesettalment ہو یا نیشل ایکشن پلان۔ ان محاذوں کے ہیرو جنرل قمر جاوید باجوہ ہی ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں جس طرح پاکستان کو FATF کی گرے لسٹ سے نکلانے کے لیے کام کیا گیا اس کا ذکر سنہرے حروف میں کیا جائے گا۔ دشمن کے بھرپور زور لگانے اور اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کے باوجود پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل جانا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔اس کام کے لیے نہ صرف تیس سے زائد وزارتوں اور محکموں کے درمیاں کوآرڈینیشن بلکہ چودہ قوانین اور تیس سے زائد rules/regulations پاس کی گئی۔
بات پاکستان کی معیشت کی ہو اور سی پیک کا ذکر نہ ہو یہ اچھنبے کی بات ہے۔ سی پیک نے پاکستان اور دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقت چین کے تعلقات کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ اوران مضبوط تعلقات کے لیے اہم کردار پاک فوج نے جنرل باجوہ کی قیادت میں ادا کیا ہے کیونکہ فوج کی جانب سے جس طرح CPECاور چینی حکام کو فراہم کردہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا گیا تھا۔اس کے بغیر اس منصوبہ کا پایہ تکمیل تک پہنچا ممکن نہیں۔سی پیک منصوبہ پہلے دن سے ہی دشمن کی چھاتی پر مونگ دل رہا ہے اور وہ اسے سبوتاژ کرنے کے لیئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ سی پیک کے حوالے سے چین نے جنرل باجوہ کی خدمات کو کئی موقعوں پر سراہا۔وقت گواہ ہے کہ اگر اس پاک سرزمین نے لہو کا خراج مانگا تو وہاں افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں نے ہمیشہ سبقت لی۔
چاہے امن ہو یا جنگ، ہنگامی حالات ہو یا آفت ،پاک فوج کے جانبازوں نے ملک کے وقار کو ہمیشہ بلند کیا۔پاک فوج قوم کے ماتھے کاجھومر ہے جو سیاچن گلیشیئرسے لے کر سندھ کے ریگزاروں تک، سوات آپریشن سے آپریشن ردالفساداورسمندروں تک ہر جگہ پاکستان کی بہادر افواج اپنے خون سے ہمت واستقلال کی داستان رقم کرتی ہے ،یہ نہ صرف سرحد پار دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے ہیں بلکہ اس کے ایجنٹ دہشت گردوں کو کونوں کھدروں سے نکال کر جہنم واصل بھی کر تےہیں
اس لیے تاریخ شاہد ہے کہ ہر مشکل وقت میں سیاسی قیادت اور عوام نے پاک فوج سے مدد لینے کو ہی اولین ترجیح قرار دیا ۔قوم کے بیٹے کبھی کراچی کی سڑکوں سے نکاسی آب کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں تو کبھی پہاڑوں کی چوٹیوں پر مقیم ہم وطنوں کی داد رسی کے لیے پہنچتے ہیں ۔ چاہے مری میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنا ہو یا سیلاب زدہ علاقوں سے۔
لوگوں کو ریلیف مہیا کرنا ہو یا کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے اقدامات ہوں ،اہم مواصلاتی شریانوں کو کھولنا ہو یا ٹڈی دَل کے فصلوں پر حملوں کا سدباب ہو پاک فوج نے انتہائی مربوط اور منظم انداز میں اپنا کردار نبھایا۔
کرونا وائرس جب 2020ء میں پاکستان پہنچا تو وطن عزیز کے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف کے ساتھ فوج نے ایک منظم ادارہ ہونے کا ثبوت دیا ، ضرورت مند ہم وطنوں کو ان کے دروازوں پر راشن فراہم کیا، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے ریلیف پیکجز دئیے گئے جس کی حقدار اقلیتیں بھی تھی۔آئسولیشن وارڈز کا قیام ہو یا لاک ڈاون پالیسی، ٹریک اینڈ تریس پالیسی ہو یا خوراک کی فراہمی کوئی بھی کام پاک فوج کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا۔ابھی کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اقدامات جاری تھے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ٹڈی دَل کی آفت نمودار ہوئی جس سے ملک کی بہت سی فصلیں تباہ ہوئیں۔ قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، ریسکیو اور دیگر اداروں کے ساتھ افواجِ پاکستان نے ملک کو اس آفت سے نکالنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا، اورتقریباً دس ہزار جوان و افسر تعینات کیئے گئے ۔ اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے برائے راست اس آپریشن کا معائنہ کیا۔سیلاب آیا تو پاک فوج نے عوام کی مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔پاک فوج نے 83 نکاسی آب کے آلات، 20 کشتیوں اور دیگر ضروری مشینری اور سازوسامان کے ساتھ آپریشن کا آغاز کیا۔نہ صرف گنجان آباد علاقوں میں پھنسے41,482 افراد کو گاڑیوں اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات تک منتقل کیا بلکہ ضرورت مند لوگوں میں راشن کے 180120 پیکٹس بھی تقسیم کئے گئے،ملک بھر میں آرمی، نیوی اور فضائیہ کے ریلیف کیمپس قائم کیئے گئے جہاں پچاس ہزار سے زائد افراد کو ریلیف ملا۔ جبکہ 250 میڈیکل کیمپس میں آرمی ڈاکٹرز، نرسنگ اور پیرامیڈیکس سٹاف اب تک 83ہزار سے زائد مریضوں کو فری طبی امداد فراہم کرچکا ہے
نہ صرف پاک فوج کی اعلی قیادت بلکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاکستان آرمی کی تمام فارمیشنز اور سینئر کمانڈرز موجود رہے اور امدادی کارروائیوں میں مصروفِ عمل رہے ، اور ہیلی کاپٹرز مسلسل متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائی کررہے تھے اور انہی کوششوں کے دوران پاک فوج کے لیفٹنٹ جنرل سرفراز سمیت سینئر فوجی افسران نے جام شہادت نوش فرمائی ۔
پاکستان کو دنیا میں سب سے زیادہ آفات کے خطرے کی سطح کا سامنا ہے، جو 2020 کے انفارم رسک انڈیکس کے مطابق
191 ممالک میں سے 18 ویں نمبر پر ہے،ماضی میں جتنے بھی لرزا دینے والے زلزلے اور سیلاب گزرے ان میں پاک فوج کے جوانوں کا کردار ناقابل فراموش رہا ، پاک فوج نے ہمیشہ منظم ادارہ ہونے کا ثبوت دیا ہے اور اندرونی یا بیرونی چیلنجز کے باوجود ہر صورتحال میں قوم کو مایوس نہیں ہونے دیا۔ یہی وہ ادارہ ہے جس نے نہ صرف حکومت کے ساتھ مل کر ہر آفت اور چیلنج سے نمٹنے کے لیے کام کیا بلکہ بطور ادارہ بھی لوگوں کو اس مشکل وقت سے نکالا، ابھی بھی فوجی قیادت ملک کو دیوالیہ ہونےسے بچانے کے لئے متحرک ہے، اور دوست ممالک میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے سیاسی قیادت کی مدد کر رہی ہےکسی بھی ملک کی کامیاب خارجہ پالیسی میں اس ملک کی فوجی طاقت اور معیشت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جبکہ پاکستان کی فوج پاکستان کے لیے روح کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو جسم سے نکل جائے تو پیچھے کچھ نہیں بچتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں دفاعی تعلقات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چاہے چین ہو یا امریکہ، عرب ممالک ہوں یا یورپ۔ ہر ملک پاکستان سے خارجہ تعلقات استوار کرتے ہوئے ا سکی فوجی طاقت کو مدنظر رکھتا ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی اس طاقت کو بڑ ے اچھے طریقے سے ملک کے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ اور سعودی عرب، چین، امریکہ، ترکی اور روس سے پاکستان کے لیے بے حد فواہد حاصل کیے۔ یہ جنرل باجوہ ہی تھے جنہوں نے چین اور سعودی عرب سے پاکستان کے قرضے ری شیڈول کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔پاکستان کے اندر کرکٹ ڈپلومیسی کی دوبارہ سے بنیاد رکھی ،بین الاقوامی تاثر کو تبدیل کرنے میں فوجی سفارت کاری بہت اہم تھی اور ملٹری ٹو ملٹری تعلقات نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کی راہ ہموار کی۔ سری لنکا پہلا ملک تھا جس نے 2019
کے آخر میں بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ دوبارہ شروع کرنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیااور آج پاکستان میں الحمد للہ انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہو چکی ہے۔
بھارت کی شدید ترین مخالفت کے باوجود کرتار پور کوریڈور کی کامیاب بنیاد رکھ کر ملک میں مذہبی سیاحت کو فروغ دیا۔ جس کے نتیجے میں سکھ برادری کے ساتھ بہتر تعلقات، پاکستان کو دوسرے مذاہب کے لیے محفوظ مقام کے طور پر پیش کرنے میں مدد ملی۔
اور یہ سب کچھ اتنا آسان نہ تھا۔۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کی سرپرستی میں پاک فوج نے ملک میں محفوظ ماحول پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ اب تک پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسی ہزار قربانیاں اور ایک سو پچاس بلین ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے۔ اور ابھی بھی آپریشن رد الفساد کے دوران قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاکہ دہشت گردوں کی باقیات اور چھپے ہوئے خطرات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔آپریشن ردالفساد کے تحت فوج کے تعاون سےنیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، سابقہ فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے اور انتہا پسندی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرنا شامل ہے۔ کُل دو لاکھ بائیس ہزار آٹھ سو چھیتیسCombing operations کے دوران72,364ہتھیار برآمد ہوئے جبکہ 5.029 ملین گولہ بارود برآمد کیا گیا۔دوہزار ایک سے لے کر اب تک ان آپریشنز کے دوران فوج کے
5460 اہلکار شہید جبکہ19070اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔، جبکہ دوہزار سترہ سے آپریشن رد الفساد کے دوران291
اہلکار شہید اور647 اہلکار صرف بلوچستان میں زخمی ہو چکے ہیں جبکہ دوہزار نو سے اب تک 12914 دہشت گردون کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ قوم کے اعتماد اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے ہی پاکستان نے دہشت گردی کی لعنت کو کامیابی سے شکست دی ہے۔ پاکستان کی داخلی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے۔غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ماحول پیدا کیا۔ بلاشبہ، ایک محفوظ ماحول سرمایہ کاروں کو اعتماد فراہم کرتا ہے اور سیاحت کی صنعت کو فروغ دیتا ہے۔ اور اسی مقصد کی تکمیل کے لیے پاکستان،پاک فوج کی کوششوں سے، 2,600 کلومیٹر طویل افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام تقریباً مکمل کر چکا ہے جس کا مقصد سرحد پار سے بے قابو نقل و حرکت کو روکنا ہے جس سے دہشت گردی اور اسمگلنگ دونوں کو ہوا ملتی ہے کیونکہ لوگوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ پاک فوج کے مغربی سرحد پر باڑ لگانے کا 94%
کام مکمل ہو چکا ہے۔ ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا 5 جنوری 2022 کا بیان باڑ کے مقصد کی ترجمانی کرتا ہے۔ جس کے مطابق سیکیورٹی، بارڈر کراسنگ اور تجارت کو منظم کرنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑ کی ضرورت ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ ان کی حفاظت کرنا ہے۔ یہی نہین بلکہ پاک فوج نے دوحہ معاہدے پر دستخط کرنے اور مغربی سرحد پر سیکورٹی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ۔اس کے علاوہ ایران کا دورہ کرنے والے زائرین کا تحفظ، لائن آف کنٹرول پر پوسٹوں کو محفوظ بنانا، کشمیر ایکشن پلان کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا، افغانستان سے انخلا کا عمل، اور بارڈر کراسنگ اور سمگلنگ میں کمی کے اہم کارنامے بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں سر انجام ہوئے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملٹری ڈپلومیسی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں نے ان ممالک کے ساتھ مجموعی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مزید قومی، اقتصادی اور سفارتی مقاصد کی راہ ہموار کی۔ کامیاب فوجی تربیت اور مشقوں کے نتیجے میں روس کے ساتھ تعلقات بھی بحال ہوئے۔ پاکستان نے اردن، نائجیریاں، سعودی عرب، چین، برطانیہ، بحرین، ترقی، ملائشیا، مراکش، سمیت متعد ممالک کے ساتھ ملٹری ڈپلومیسی کے تحت ایکسر سائزز میں حصہ لیا۔ جبکہ امریکہ، روس اور نیٹو کے ساتھ بھی بیشتر ایکسرسائزز میں حصہ لیا گیا۔پاکستان کو ایک پرامن اور کھیلوں سے محبت کرنے والی قوم کے طور پر متعارف کروانے کے لیے عالمی مقابلوں اور میگا ایونٹس کا انعقاد کروایا گیا جس میں ملک کا حقیقی چہرہ پیش کیا گیا۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے نہ صرف فوج کی دفاعی ضروریات کو اولین ترجیح دی بلکہ دفاعی برآمدات پر بھی خصوصی توجہ دی۔ جہاں فوجی سفارت کاری نے پاکستان کے خارجہ تعلقات کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا وہیں اس نے قومی مقاصد کے حصول کے ساتھ ساتھ معاشی بہتری میں ریاستی اداروں کی تکمیل بھی کی ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی اسلحے کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ظاہر ہوتا رہا ، جو کامیاب فوجی سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ ایم او ڈی پی MODP
کے مطابق، پچھلے پانچ سالوں میں دفاعی برآمدات (تقریباً 60 ارب روپے) اور اندرون ملک فروخت (تقریباً 70 ارب روپے) میں بے مثال اضافہ ہوا۔ دوہزار انیس میں نائجیریا کو 184 ملین امریکی ڈالر میںJF-17 برآمد اور 33.33 ملین امریکی ڈالر مالیت کے عراق کو 12 ایکس مشاک کے معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے بین الاقوامی مارکیٹ کی 1/3 one thirdقیمت پر مقامی طور پر تیار کردہ الخالد ٹینکوں کو تیار کرنے کا بیڑا اٹھایا۔برآمدات پیدا کرنے کے علاوہ،
MoDP نے قومی خزانے میں سالانہ تقریباً 6 ارب روپے ٹیکس/ڈیوٹیز ادا کیں اور دفاعی پیداوار کے شعبے میں آٹھ ہزار ملازمتیں پیدا کیں۔ انتہائی سیاسی تقسیم رائے کی وجہ سے اگر ہم یہ کہیں کہ فاٹا کا خیبر پختون خواہ میں انضمام جنرل قمر جاوید باجوہ کی ذاتی کوششوں کے بغیر ممکن نہ تھا۔ تو غلط نہ ہو گا۔ اور اس کام پر نہ صرف فاٹا کے عمائدین بلکہ
fata youth Jirga نے بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمات کو خوب سراہا ۔ پاک فوج کی انتھک محنت اور سیکیورٹی کے بغیر یہ عمل مکمل ہونا ناممکنات میں سے تھے۔ پاک فوج نے نہ صرف یہاں اس عمل کو نافذ کرنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ گورننس، پولیس،قانون سازی، جوڈیشل کمپلیکسس،صحت اور تعلیم کے شعبہ میں بھی مرکزی کردار ادا کیا جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ یہی نہیں بلکہ خیبر پختونخواہ کے newly merged Districts میں بارڈر فینسنگ، بارڈر ٹرمینلز،
temperory displacemet persons میں اسی ارب کی تقسیم، 619 تعلیمی ادارے مکمل، پانچ کیڈٹ کالج مکمل اور269
تعلیمی ادارے زیر تعمیر ہیں۔ 140صحت کے مراکز مکمل جبکہ ستر زیر تعمیر ہیں۔980 مکمل جبکہ کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر360 کلومیٹر سڑکیں زیر تعمیر ہیں۔اربوں روپے کے سینکڑوں پراجیکٹس
socio economic sectors
developments works
chief of army staff youth employment scheme
re habilitation & construction
کی صورت میں جاری ہیں اور بیشتر پایہ تکمیل تک پہچ چکے ہیں پاک فوج اس وقت بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی اور معاشرتی خوشحالی پر بھی تاریخی کام کر رہی ہے۔ ا س مقصد کے لیے نہ صرف سینکڑوں سکول، ہسپتال فوج کی زیر نگرانی کام کر رہے ہیں جس میں چالیس ہزار بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ گیارہ سو کلو میٹر لمباسڑکوں کا جال بچھانے میں بھی پاک فوج اہم کردار ادا کر رہی ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کی سر پرستی میں پاک فوج نے
badani
chaman
اور
kech
میں قائم کی ہیں۔ تاکہ وہاں پر معاشی سرگرمیاں پیدا کی جا سکیں۔لوگوں کی زندگیوں کو بہتر کیئے بغیر، انہیں روزگار فراہم کیئے بغیر کسی بھی علاقے میں امن ممکن نہیں اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس سنہرے اصول کو اپنی پالیسی کا حصہ بناتے ہوئے جہاں انتشار پسندوں کا قلعہ قمع کیا وہیں معصوم لوگوں کو ان کے چنگل سے بچانے کے لیے معاشی سرگرمیاں بھی شروع کروائی۔ جس نے امن کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔پاک فوج کا یہ کمال ہے کہ ا س نے اپنے سے کئی گنا بڑے ملک بھارت کی فوج کو ہر لحاظ سے ٹکر دی ہے۔ اور دفاعی بجٹ کے پہاڑ جیسے فرق کو کبھی بھی اپنے عزم کے درمیاں حائل نہیں ہونے دیا۔ اور انتہائی ذہانت سے اپنے آپ کو ہر قسم کے چیلنچ کے لیے وقت سے پہلے تیار رکھا۔ اور بھارت کی تسلط پسندانہ سوچ کو اپنی حکمت عملی اور عزم سے ہمیشہ شکست دی۔پیشہ ور سنائپرز کی تربیت کے لیے آرمی سنائپر سکول کی منظوری دی گئی۔ حقیقت پسندانہ تربیت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آرمی سمیلیٹر رجیمsimulator regime
کو فوج میں شامل کیا گیا VT-4 ٹینک کی شمولیت کی گئی جو ایک جدید ترین مشین ہے، جس کا موازنہ دنیا کے کسی بھی جدید ٹینک سے کیا جا سکتا ہےاسی طرح ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے
HIMAD air defence system
SH-15 Howitzer self propelled artillery system
زمین اور سمندر پر اونچی پرواز کرنے والا
CH-4 Male UAV
J-10 C fighter aircraft
اور
Type 54 Frigates
سمیت بیشتر جدید ترین ہتھیار شامل کیئے گئے۔فوج کی ٹرپل پلے سروسز (وائس، ویڈیو اور ڈیٹا) کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ایک محفوظ موبائل کمیونیکیشن سسٹم بنایا گیا ہے ۔ملکی خزانے پر بوجھ کم کرنے کے لیے خود انحصاری اور معاشی وسائل کے حصول کے لیے، پاک فوج دفاعی پیداوار کے مختلف شعبوں میں مقامی طور پر بھی کام کر رہی ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے پاکستان کی معاشی شہہ رگ کراچی کے1.1 trillion
کے transformation planکو آرمی کی مدد سے لانچ کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے خصوصی توجہ دی۔
تعلیم کسی بھی قوم کے مستقبل کا تعین کرتی ہے، پاک فوج اس وقت ملک میں نہ صرف تعلیم کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے بلکہ دور حاضر کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے جدید تعلیم کو بہترین طریقے سے متعارف کروا رہی ہے۔ اس وقت ملٹری تعلیمی اداروں سے759426طلبا ہائیر سکینڈری لیول جبکہ71411طلبا اعلی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ تعلیم کو ہر طبقے تک رسائی دینے کے لیے فوج اپنے زرائع سے سالانہ نہ صرف 831 million خرچ کر رہی ہے بلکہ دوہزار پانچ سے اب تک Army public school and education system تحت کے 81655 اساتذہ کو معیاری تعلیم دینے کے لیے ٹریننگ بھی دے چکی ہے۔ جبکہ وفاقی تعلیمی سیکٹر کی مدد کے ساتھ ساتھ فوج
special education
youth development
technical & vocational trainingانٹر نیشنل معیار کے مطابق سمیت، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر
Army public school for international Studies کا آغاز بھی کر چکی ہے۔جہاں تعلیم کے میدان میں فوج بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے وہیں صحت کے شعبے میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دی جا رہی ہیں، پاک فوج نے خاص طور پر دور دراز علاقوں (سندھ، کے پی کے، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں اینڈ کشمیر) میں مفت طبی کیمپوں کا قیام، قدرتی آفات کے دوران طبی امداد اور وفاقی اور صوبائی طبی انفراسٹرکچر میں قوم کی بے لوث خدمت کی ہے اور ان صوبوں میں میڈیکل کیمپوں کے زریعے ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد مریضوں کا اعلاج کیا جا چکا ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے عہدے کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان کو بے شمار خطرات سے بچایا بلکہ دنیا کی ساتویں بڑی فوج کے سربراہ ہونے کا حق بھی خوب نبھایا۔ ان کی سربراہی میں پاک فوج نے لازوال کامیابیاں حاصل کی ، ایسے کام کیئے ایسے چیلجز سے نبٹاجو ان کی پیشہ وارانہ زندگی سے ہٹ کر تھے۔تاریخ گواہ ہے کہ جنرل باجوہ کے دور میں جس طرح پاکستان کے ہر گلی کوچے سے کشمیر کے ساتھ یکجہتی کی تحریک نے زور پکڑا اس کی مثال ماضی میں بہت کم ملتی ہے۔جنرل باجوہ نے ایک مقدس مشن کی آبیاری کرتے ہوئے افغانستان میں اپنے پتے اس خوبصورتی سے کھیلے کے دنیا کی سپر پاورکو پاکستان پر انحصار کے بغیر وہاں سے نکلنا محال ہو گیا اور دشمن پاکستان کے مفادات کو ضرب لگانے کی بجائے اپنے زخم چاٹتا رہ گیا۔جس طرح پاکستان کو عالمی تنہائی سے نکال کر پاکستان پر چھائے نحوست کے بادلوں کو مار بھگایا۔ جنرل باجوہ آپکے کارنامے پاک فوج میں مشعل راہ بن چکے ہیں۔ اور قوم کو آپ پر فخر ہے۔
فرح خان نے توشہ خانہ سے متعلق الزامات پر عمر فاروق ظہور، نجی ٹی وی اور اس کے اینکر کو لیگل نوٹس بھیج دیا۔
عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی ساتھی فرح خان نے توشہ خانہ کے تحائف فروخت کرنے کے الزامات پر عمر فاروق ظہور ، نجی ٹی وی اور اس کے اینکر کو لیگل نوٹس بھیج دیا۔ ہتک عزت کا نوٹس عمران خان اور فرحت شہزادی سے متعلق غلط اور من گھڑت خبر نشر کرنے پر بھیجا گیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ عمر فاروق سے کبھی ملاقات ہوئی نہ گھڑی بیچنے میں فرح خان (فرحت شہزادی) کا کوئی کردار ہے۔سوچی سمجھی سازش کے تحت من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔احمد نورانی نے بھی اپنی اسٹوری میں خود وضاحت کی ہے کہ ہے کہ 2019ء میں فرحت شہزادی نے دبئی کا سفر نہیں کیا۔
بھکر گاڑیوں میں غیر قانونی ایل پی جی گیس ری فیلنگ کرتے ہوئے زوردار دھماکہ ۔دھماکے سے چار افراد شدید زخمی تین گاڑیاں تباہ اور مکان کی چھت اور دیواریں گر گئیں
بھکر جھنگ روڈ نزد بدر کالونی مکان میں بلال حسین والد اورنگزیب قوم بھڈوال جو کہ ایل پی جی گیس کی غیر قانونی ری فیلنگ کا کام خفیہ طور پر کرتا تھا گزشتہ رات بارہ بجے گاڑی میں گیس ری فیلنگ کر رہا تھا کہ گیس کی لیکنگ سے آگ بھڑک اٹھی اور زور دار دھماکہ ہو دھماکہ سے تین گاڑیوں کو نقصان ہوا اور مکان کی چھت اور دیواریں گر گیئں اور چار افراد شدید زخمی ہوئے ۔
دھماکہ کی آواز سنتے ہی اہل علاقہ میں خوف وہراس پھیل کیا اور اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گیئں اور زخمیوں کو ریسکیوز 1122 نے ڈی ایچ کیو ہسپتال ریفر کر دیا گیا۔سول ڈیفنس کے ڈسٹرکٹ آفیسر عرفان نے ملزمان کے خلاف غیر قانونی کام کرنے پر تھانہ میں کاروائی کے لیے اشتغاثہ دے دیا
ضابطہ اخلاق کیس؛ عمران خان پر جرمانہ برقرار، رانا ثنا پر جرمانہ ختم
الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس میں عمران خان پر جرمانہ برقرار اور رانا ثنا اللہ پر جرمانہ ختم کرنے کا محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ باغی ٹی وی کے مطابق الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل مسترد کردی اور ان پر جرمانہ برقرار رکھا۔ قبل ازیں فیصلے میں عمران خان پر 30 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔
محکمے کے افسران اور اہلکار ” امیر سے امیر تر” ہوتے جا رہے ہیں
ڈیرہ مراد جمالی ( محبوب مگسی/ باغی ٹی وی )
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و نارکوٹکس نصیر آباد کی منفرد کارکردگی قابل تحسین ہے ہر ماہ ایک کامیاب کارروائی کر کے مخصوص اور محدود منشیات پکڑی جاتی ہے ملزمان حسب معمول رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مخصوص اور من پسند صحافی بلا کر ایک مخصوص قسم کی پریس کانفرنس کر کے فوٹو سیشن کیا جاتا ہے باقی سارا مہینہ محکمے کے افسران اور اہلکار آرام سے گزار کیتے ہیں کوئٹہ سے جیکب آباد تک نیشنل ہائی وے پر” سب اچھا” ہوتا ہے اور مبینہ طور پر ہر ممنوعہ چیز بغیر کسی رکاوٹ کے اندرون سندھ اسمگل ہو رہی ہوتی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ محکمہ ایکسائز اینڈ نارکوٹکس و ٹیکسیشن کے افسران و اہلکار تیز رفتاری سے ” امیر سے امیر تر” ہوتے جا رہے ہیں ۔
اسکولز میں میوزک ٹیچرز نعت، قوالی اور حمد سکھائیں گے، وزیر تعلیم سندھ
وزیر تعلیم سندھ نے کہا ہے کہ اسکولز میں میوزک ٹیچرز نعت ، قوالی ،حمد سکھائیں گے۔ اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں ارکان کے مختلف توجہ دلاﺅ نوٹسز زیر بحث آئے ۔ تحریک لبیک کے مفتی قاسم فخری نے سرکاری اسکولز میں عربی ٹیچرز نہ ہونے پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں میوزک ٹیچر تو بھرتی ہورہے ہیں مگر سرکاری اسکولوں میں عربی کے ٹیچر موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے کہاکہ لوگوں کو پہلے اچھا انسان بنانے کی ضرورت ہے جس کے بعد وہ خود بخود اچھے مسلمان بن جائیں گے، ریاضی کا ٹیچرز یہ نہیں سکھا سکتا ہے کہ حمد و نعت کیسے پڑھنی ہے، میوزک ٹیچرز نعت قوالی حمد سکھائیں گے، نعت خواں، حمد خواں سُر میں پڑھ سکے گا، میوزک ٹیچرز کے حوالے سے آپ لوگوں کو دل بڑا کرنا چاہیے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ تیسری سے آٹھویں کلاس تک ناظرہ قرآن پڑھایاجاتاہے ۔عربی ٹیچرز کی 480اسامیاں اسکولوں میں خالی ہیں جنہیں پر کیا جائے گا۔
کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ 6 سے 12 گھنٹے تک جاری ہے.
اولڈ سٹی ایریا سمیت شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 6 سے 12 گھنٹے تک جاری ہے جبکہ کے الیکٹرک کا دعویٰ ہے کہ شہر بھر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ 4 گھنٹے سے زائد نہیں ہے۔ شہر بھر میں کی جانے والی ایک سروے رپورٹ کے مطابق اولڈ سٹی ایریا کے مختلف علاقوں رنچھوڑ لائن، شو مارکیٹ، گارڈن، عثمان آباد، سٹی ریلوے کالونی، لیاری، کھارادر، جوڑیا بازار سمیت اطراف کے علاقوں میں صبح 5 بجے سے رات 12 بجے تک 4 مرتبہ بجلی کی فراہمی معطل رہتی ہے اور ہر دفعہ کا دورانیہ کم از کم ڈھائی سے 3 گھنٹے تک ہوتا ہے جبکہ اس کے علاوہ درمیان میں بھی ایک یا دو گھنٹے کے لیے بجلی کی فراہمی معطل کر دی جاتی ہے۔
عثمان آباد کے رہائشی ریٹائرڈ سرکاری ملازم اعجاز نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے دو کمروں کے فلیٹ کا بجلی کا بل 9 ہزار روپے سے زائد آیا ہے جبکہ ان کے گھر میں نہ ایئر کنڈیشن اور نہ ہی فرج ہے ان سب چیزوں سے ہٹ کر دن بھر میں 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ رہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جس اذیت سے گزر رہے ہیں اس کے بارے میں حکمران سوچ بھی نہیں سکتے ہیں، تینوں وقت کے لیے روٹی اور چائے بازار سے لانی پڑتی ہے کیونکہ صبح 5 بجے بجلی بند کر دی جاتی ہے اور ساڑھے 8 بجے آتی ہے، اس کے بعد دن 11 بجے سے ڈیڑھ بجے، پھر شام 5 بجے دوبارہ بجلی کی فراہمی معطل کر دی جاتی ہے اور شام 7 بجے آتی ہے جبکہ بات یہیں ختم نہیں ہوتی رات گیارہ بجے دوبارہ علاقہ تاریکی میں ڈوب جاتا ہے اور 2 بجے بجلی بحال کی جاتی ہے۔
رنچھوڑ لائن، لیاری سٹی ریلوے کالونی اور دیگر مزکورہ علاقوں کے مکین بھی کے الیکٹرک کے ظلم کی اپنے اپنے انداز سے کہانی سناتے ہیں جبکہ بجلی کے ماہانہ بلوں کے لیے تو ہر طبقے کا آدمی روتا نظر آیا ہے فرق اتنا ہے کہ جو لوگ صاحب حیثیت ہے وہ دکھاوے کا رونا روتے ہیں اور جو سسٹم کے کچلے ہوئے غریب شہری ہیں وہ حقیقتاً روتے اور حکومتوں کو گالیاں دیتے ہوئے ملے ہیں۔ سروے رپورٹ کے مطابق کورنگی، اورنگی ٹاؤن، لانڈھی، ملیر، شاہ لطیف، سرجانی ٹٓاؤن، نارتھ کراچی، لیاری تیسر ٹاؤن خدا کی بستی اور اطراف کے علاقوں میں 6 سے 8 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جبکہ بجلی کے بل جو دیے جا رہے ہیں اس میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بجلی کی فراہمی تواتر سے جاری ہے۔
شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کے شہریوں کے دکھ کی داستان بھی سن لیں ہم کراچی والے اسی ملک کے باسی ہیں ہمارے انسان ہونے کی تذلیل نہ کریں اور ہمیں اس عذاب سے نجات دلانے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کریں۔
جنرل قمرجاوید باجوہ نے کمان کی چھڑی نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیرکوسونپ دی
جنرل قمرجاوید باجوہ عہدے سےسبکدوش ،جنرل عاصم منیر پاک فوج کے 17ویں آرمی چیف بن گئے جنرل سید عاصم منیر نے پاک فوج کے 17ویں آرمی چیف کی حیثیت سے فوج کی کمان سنبھال لی جنرل سید عاصم منیر نے فوجی کیریئر کے دوران بہترین عسکری پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا
قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج سے طویل تعلق رہا پاک فوج کے ساتھ تعلق میرے لیے باعث فخر ہے،میرے 6 سالہ دور میں دہشت گردی سے لیکر ہر مشکل میں فوج نے میری آواز پر لبیک کہا،فوج میں خدمات کا موقع دینے پراللہ کامشکور ہوں ،میرا روحانی رابطہ ہمیشہ فوج کے ساتھ قائم رہے گا، جنرل عاصم منیر کو سپہ سالار بننے پر مبارکباد پیش کرتاہوں ،جنرل عاصم منیر حافظ قران اور باصلاحیت افسرہیں، یقین ہے فوج ان کی قیادت میں نئی منازل عبور کرے گ، ان کی تعیناتی مثبت ثابت ہوگی خوشی ہےکہ فوج ایک مایہ ناز اور قابل افسر کے حوالے کرکے جارہا ہوں۔آج سے 44 سال پہلے میرا فوجی سفر شروع ہوا جو اختتام پذیر ہورہا ہے 6 سالہ دور میں ایل او سی کے معاملات، دہشتگردی، امن و امان یا قدرتی آفات کا مقابلہ ہو، اس فوج نے ہمیشہ میری آواز پر لبیک کہا میں نے ان سے جہاں پسینہ مانگا انہوں نے خون دیا ان کی اسی قربانیوں کی وجہ سے آج ملک امن کا گہوارہ ہے مجھے اپنی فوج پر فخر ہے جو کم وسائل کے باوجود سیاچن سے لے کر صحرا تک سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے یہ لسانیت، رنگ نسل اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہوکر ملک کے چپے چپے کا دفاع کرتی ہے یقین ہے آنے والے وقت میں فوج جنرل عاصم کی قیادت میں اس سے بڑھ کر ملک کی خدمت کرے گی
جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ بطور آرمی چیف اپنی 6 سالہ مدت کے دوران ملک و قوم کے لیے جو ہو سکتا تھا وہ کیا، ملک و قوم کے لیے خدمات پر مطمئن ہوں، جنرل سید عاصم منیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ اب کمانڈ ان کے حوالے ہے،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بہترین آفیسر ہیں،
جنرل قمر جاوید باجوہ کو پرتپاک انداز سے جی ایچ کیو سے رخصت کیا گیا ،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے الوداع کہا ،پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بھی سابق آرمی چیف کو الوداع کہا ،ڈی جی آئی ایس آئی اور اعلیٰ فوجی افسران نے جی ایچ کیو تقریب سےجنرل قمر جاوید باجوہ کو رخصت کیا
سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ عنقریب گمنامی میں چلا جاؤں گا لیکن فوج سے روحانی رابطہ ہمیشہ قائم رہے گا جب فوج کی کا میابیاں ہوگی خوشی ہوگی اور جب فوج پر مشکل وقت آئے گا میری دعائیں آپ کے ساتھ ہوں گی