Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • پنجاب میں گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کا بائیو میٹرک نظام 2 ماہ کیلئے معطل

    پنجاب میں گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کا بائیو میٹرک نظام 2 ماہ کیلئے معطل

    راولپنڈی: محکمہ ایکسائز نے پنجاب میں نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کا بائیو میٹرک نظام 2 ماہ کیلئے معطل کردیا ہے جس کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : نوٹیفکیشن کے مطابق سیکریٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن 2 ماہ بعد از خود بحال ہوجائے گا ٹرانسپورٹرز، گاڑیوں کےشورومزمالکان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے رجسٹریشن،ٹرانسفر کا نیا ایس او پی بھی تیار کر لیا گیا ہے-

    ٹھٹھہ : کراچی نیشنل ہائی وے پر سیم نالے کے قریب کوسٹر اور ٹرک میں تصادم متعدد…

    نوٹیفیکیشن کے مطابق نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن،ٹرانسفر کے لئے مالک گاڑی،مکمل فائل،دستاویزات،گاڑی بھی پیش کرنا ہوگی تمام ہارڈ شپ کیسوں میں،مجاز افسران کی تسلی سے رجسٹریشن،ٹرانسفر بغیر بائیو میٹرک ہوگی۔

    واضح رہے کہ یہ فیصلہ گزشتہ ماہ کیا گیا تھا لیکن کابینہ میں یہ معاملہ رکا ہوا تھا تاہم اب کابینہ کی جانب سے بھی اس فیصلہ کی حتمی منظوری دیدی گئی ہے بائیو میٹرک نظام صرف ہارڈ شپ کیسز پر لاگو کیا جائیگا۔کابینہ کی جانب سے بھی اس فیصلہ کی منظوری کے بعد نوٹیفیکیشن جاری کرنے کیلئے فائل سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کنٹرول کو ارسال کر د ی گئی تھی-

    سکھر ٹو کراچی طیارہ لینڈنگ کے دوران حادثے کا خطرہ بے بنیاد خبر ہے. ترجمان سی اے اے

  • ارشد شریف قتل کیس:مراد سعید نے اپنے جواب میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے دس سوالوں کے جواب مانگ لئے

    ارشد شریف قتل کیس:مراد سعید نے اپنے جواب میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے دس سوالوں کے جواب مانگ لئے

    فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما مراد سعید کا جواب سامنے آگیا-

    باغی ٹی وی : مراد سعید نے اپنے جواب میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے دس سوالوں کے جواب مانگ لئےمراد سعید نے کہا کہ ‎موجودہ حالات اوروفاقی حکومت کے رویےکےتناظر میں ایف آئی اےسے غیرجانبدار،شفاف اورخودمختار انکوائری کی توقع نہیں کی جاسکتی،‎ارشد شریف کے سرکاری پوسٹ مارٹم کے حوالے سے بھی وفاقی حکومت کا کردار متنازعہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تحقیق کرے کہ شہید ارشد شریف پر 16 سے زائد مقدمات درج کروانے والے مدعیان کون تھے اور ان کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما تھے۔

    مراد سعید نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سراغ لگائے شہید ارشد شریف کی تحقیقاتی صحافت کس کیلئے خطرہ تھی، پاکستان میں کون شہید ارشد شریف کو دھمکاتا اور ہراساں کرتا تھا، کس نے ان کی دبئی روانگی کی تصاویر جاری کیں۔

    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ سراغ لگایا جائے کہ دبئی کے ہوٹل کی لابی میں کس کی ایما پر ارشد شریف کو دبئی چھوڑنے کا کہا گیا، ۲۳ اکتوبر کوقتل کےفوراً بعد کس نے میڈیا میں ان کےقتل کو ایکسیڈنٹ کا رنگ دینےکی کوشش کی؟ وہ کس طاقتور پاکستانی کےخلاف تحقیقاتی رپورٹ مرتب کررہے تھے؟۔

    آرمی چیف کی ٹیکس معلومات لیک ہونےپر وزیر خزانہ کا سخت نوٹس،ایف بی آر کو فوری تحقیقات کا حکم

    انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد حکومتی عہدیداران اور ریاستی اداروں کے جانب سے کیونکر عجلت میں حقائق کے برخلاف اور الزامات پر مبنی پریس کانفرنسز کی گئیں؟۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے سابق رہنما فیصل واوڈا نے کہا کہ سینئیر صحافی ارشد شریف قتل کے معاملے پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بہترین کام کررہی ہے،امید ہے ان بڑوں لوگوں تک ہاتھ پہنچے گاجن پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا ، سلمان اقبال کا اس قتل سےکوئی تعلق نہیں، ان سے درخواست کروں گا پاکستان ضرور آئیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ارشد شریف کا سازشی قتل ہوا اور قریب سے گولی ماری گئی، جب تک میں نے پریس کانفرنس نہیں کی تھی پاکستان سویا ہوا تھا ارشد شریف کا فون اور آئی پیڈ نہیں ملا، جو قتل میں ملوث ہیں وہ طاقتور، پلانر اور سمجھدار ہیں، مجرمان کو پکڑنا چاہیے جو پاکستان سے باآسانی نکل جاتے ہیں، ہمیں گولی چلانے والے نہیں بلکہ چلوانے والے تک پہنچنا چاہیے۔

    معروف شاعر اطہر نفیس کا یوم وفات

  • فیصل واوڈا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں پیش،ارشد شریف قتل سے متعلق ایک اور دعویٰ کر دیا

    فیصل واوڈا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں پیش،ارشد شریف قتل سے متعلق ایک اور دعویٰ کر دیا

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کے سابق رہنما فیصل واوڈا نے کہا کہ سینئیر صحافی ارشد شریف قتل کے معاملے پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بہترین کام کررہی ہے،امید ہے ان بڑوں لوگوں تک ہاتھ پہنچے گاجن پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ ارشد شریف قتل کے شواہد ابھی پیش نہیں کیے، یہ تکلیف دہ معاملہ ہے،اس کیس میں گھٹیا قسم کا مذاق نہیں کرنا چاہیے۔

    آرمی چیف کی ٹیکس معلومات لیک ہونےپر وزیر خزانہ کا سخت نوٹس،ایف بی آر کو فوری تحقیقات کا حکم

    فیصل واوڈا نے کہا کہ ایف آئی اے نے دس سوالوں پر مبنی سوالنامہ دیا ہے،رشد شریف کے قتل کا پاکستان میں پلان بنایا گیا، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بہترین کام کررہی ہے، امید ہے ان بڑوں لوگوں تک ہاتھ پہنچےگا جن پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا، سلمان اقبال کا اس قتل سےکوئی تعلق نہیں، ان سے درخواست کروں گا پاکستان ضرور آئیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ارشد شریف کا سازشی قتل ہوا اور قریب سے گولی ماری گئی، جب تک میں نے پریس کانفرنس نہیں کی تھی پاکستان سویا ہوا تھا ارشد شریف کا فون اور آئی پیڈ نہیں ملا، جو قتل میں ملوث ہیں وہ طاقتور، پلانر اور سمجھدار ہیں، مجرمان کو پکڑنا چاہیے جو پاکستان سے باآسانی نکل جاتے ہیں، ہمیں گولی چلانے والے نہیں بلکہ چلوانے والے تک پہنچنا چاہیے۔

    باپ نے تین بیٹوں کے قاتل چوتھے بیٹے کو معاف کردیا

    انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو لانگ مارچ تک دھکیلنا بند گلی میں لے جانا ہے، عمران خان کو نااہل کرواکر وزیراعظم میں نے نہیں انہی لوگوں نے بننا ہے، عمران خان پارٹی کےاندر صفائی کریں وہ میرے لیڈرتھے، ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا،جب بلائیں گے جاؤں گا۔

  • معروف شاعر اطہر نفیس کا یوم وفات

    معروف شاعر اطہر نفیس کا یوم وفات

    کنور اطہر علی خاں کی پیدائش علی گڑھ کے قصبہ پٹل کے ایک معزز خاندان میں22 فروری سنہ 1933کو ہوئی تھی ان کی ابتدائی تعلیم علی گڑھ میں ہی ہوئی۔علی گڑھ کے قصبہ پٹل سے ہجرت کر کے وہ سنہ 1949میں کراچی چلے گئے تھے او روہاں مشہور اخبار ” جنگ “ کے انتظامی شعبے سے وابستہ ہوئے او رترقی کر کے چیف اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر پہنچے۔

    اطہر نفیس نے ایک منفرد شاعر کی حیثیت سے ادب میں اپنا مقام بنایا۔ اطہر نفیس کو کم وقت ملا اور صرف 47برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی زندگی میں تو ان کا شعری مجموعہ شائع نہیں ہو سکا لیکن انتقال کے بعد احمد ندیم قاسمی نے اسے”کلام“ کے نام سے شائع کیا۔کم عرصے میں ہی انہوں نے اپنی منفرد آواز کے نقوش چھوڑے۔

    اطہر نفیس صرف شاعر نہیں بلکہ صحافی بھی تھے۔ انہوں نے پاکستان کے مشہور اخبار ”جنگ“ میں کالم اور حالاتِ حاضرہ پر مضامین بھی لکھے۔ لیکن اطہر نفیس پر اس اخبار میں انتظامی ذمہ داریاں بھی تھیں ا س لیے وہ لکھنے، پڑھنے پر بہت زیادہ وقت نہیں دے سکے۔ یہ حقیقت ہے کہ اطہر نفیس کے اندر ایک منفرد شاعر موجودتھا۔ جس کی فکر الگ تھی، محسوسات الگ تھے، سوچنے کا انداز الگ تھا اور ادائیگی بھی الگ تھی۔ وہ منفرد اسلوب کے مالک تھے۔ ان کے احساسات ہی نہیں، لفظیات بھی الگ تھیں اور انہوں نے اپنے احساسات کا اظہار بھی الگ انداز میں کیا ہے:

    اب میری غزل کا بھی تقاضا ہے یہ تجھ سے
    انداز و ادا کا کوئی اسلوب نیا ہو
    یا پھر اپنی انفرادیت کا احساس وہ کچھ یوں دلاتے ہیں:

    ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے ہم صورت گر کچھ خوابوں کے
    بے جذبہٴ شوق سنائیں کیا کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا

    اطہر نفیس جس دور میں شاعری کر رہے تھے اس زمانے میں کئی ایسے شعرا موجود تھے جو اپنے اسلوب کے لحاظ سے منفرد انداز رکھتے تھے۔ ان میں ا ن سے فیض احمد فیض، منیر نیازی، حبیب جالب وغیرہ تھے تو ہم عصروں میں ابن انشا،مصطفیٰ زیدی، شکیب جلالی، اقبال ساجد اور عزیز حامدمدنی وغیرہ تھے۔ لیکن اطہر نفیس نے ان کے درمیان سے ایک نئی راہ نکالی۔ ان کے یہاں بہت سادگی ہے، یہی وجہ ہے کہ تمام اہم گلوکاروں نے ان کی غزلوں کو اپنی آواز دی ہے۔ کیوں کہ یہ اشعار بہت آسانی سے سامعین کے ذہن میں اتر جاتے ہیں اور دل پر اثر کرتے ہیں۔ ا ن کی مشہور غزلوں میں:

    وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا
    کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں کوئی سچا شعر سنائیں کیا
    اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے تادیر اسے دہرائیں کیا
    وہ زہر جو دل میں اتار دیا پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا
    پھر آنکھیں لہو سے خالی ہیں یہ شمعیں بجھنے والی ہیں
    ہم خود بھی کسی سے سوالی ہیں اس بات پہ ہم شرمائیں کیا

    اک آگ غم تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
    جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامن دل کو بچائیں کیا

    اطہر نفیس کی اس غزل میں جو کیفیت موجود ہے اس کی تفسیر بیان کرنا آسان نہیں ہے۔ ان کے غزلیات میں کوئی مشکل لفظ کم ہی آتا ہے۔ جو ترسیل میں دشواری پیدا کرے۔ اس لیے اطہر نفیس کا ہر شعر اپنی کیفیت خود بیان کر دیتا ہے۔

    در اصل اطہر نفیس صرف ایک حساس شاعر ہی نہیں، صحافی بھی تھے اور انہوں نے چیزوں کو ان کی جزئیات کے ساتھ دیکھا اور پرکھا ہے۔ اس لیے جب وہ انہیں اشعار میں بیان کرتے ہیں تو ان کی لفظیات تبدیل ضرور ہو جاتی ہیں لیکن ان کے پرکھنے کا انداز نہیں بدلتا:

    تو ملا تھا اور میرے حال پر رویا بھی تھا
    میرے سینے میں کبھی اک اضطراب ایسا بھی تھا
    زندگی تنہا نہ تھی اے عشق تیری راہ میں
    دھوپ تھی، صحرا تھا اور اک مہرباں سایہ بھی تھا
    عشق کے صحرا نشینوں سے ملاقاتیں بھی تھیں
    حسن کے شہر نگاراں میں بہت چرچا بھی تھا
    ہر فسردہ آنکھ سے مانوس تھی اپنی نظر
    دکھ بھرے سینے سے ہم رشتہ مرا سینہ بھی تھا
    تھک بھی جاتے تھے اگر صحرا نوردی سے تو کیا
    متصل صحرا کے اک وجد آفریں صحرا بھی تھا

    یا پھر یہ غزل لے لیجئے، جس کے اندر ایک اضطراری اور اضطرابی کیفیت کروٹیں لے رہی ہے:

    پھر کوئی نیا زخم نیا درد عطا ہو
    اس دل کی خبر لے جو تجھے بھول چلا ہو
    اب دل میں سرِ شام چراغاں نہیں ہو تا
    شعلہ مرے دل کا کہیں بجھنے نہ لگا ہو
    کب عشق کیا کس سے کیا جھوٹ ہے یارو
    بس بھول بھی جاؤ جو کبھی ہم سے سنا ہو

    اطہر نفیس کے یہاں عصری مسائل تو موجود ہیں ہی جن کو انہوں نے اپنے احساسات میں تپا کر نیا اسلوب بخشا ہے، لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے تصوف کے مسائل بھی بیان کیے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا معرفت سے گہرا لگاؤ تھا۔ احمد حسین صدیقی ’دبستانوں کا دبستان کراچی‘ میں لکھتے ہیں کہ اطہر نفیس کو بابا ذہین شاہ تاجی سے بے حد عقیدت تھی۔ مذہب سے بھی ان کا گہرا لگاؤ تھا۔

    اطہر نفیس کا کلاسیکی شاعری سے بھی بہت لگاؤ تھا۔ حالانکہ وہ جدید اسلوب کے شاعر ہیں، مگر اس کے باوجود ان کے یہاں کلاسیکی روایات کا التزام ملتا ہے اور اس نے ان کی شاعری کو نفاست عطا کی ہے۔

    ڈاکٹر مناظر عاشق ہر گانوی لکھتے ہیں ”اطہر نفیس کی غزل میں ذائقہ اورنیا آہنگ ملتا ہے۔ ان کے لہجے میں گد اختگی ہے، زبان کی سادگی ان کی شاعری کا نمایاں وصف ہے ان کی عصری حسیات نے نئے شاعرانہ وجدان کی تشکیل کی ہے۔ احساس کی شکست و ریخت سے ان کو حظ ملتا ہے اور اس کی ادائیگی ان کی شاعری کو ایک منفرد آہنگ عطا کرتی ہے:

    سکوتِ شب سے اک نغمہ سنا ہے
    وہی کانوں میں اب تک گونجتا ہے
    غنیمت ہے کہ اپنے غم زدوں کو
    وہ حسنِ خود نگر پہچانتا ہے
    بہت چھوٹے ہیں مجھ سے میرے دشمن
    جو میرا دوست ہے مجھ سے بڑا ہے
    مجھے ہر آن کچھ بننا پڑے گا
    مری ہر سانس میری ابتدا ہے

    اطہر نفیس نئے پیکر تراشتے ہیں، نئی لفظیات کی تشکیل کر تے ہیں اور ادائیگی کا منفرد التزام کرتے ہیں:

    اطہر تم نے عشق کیا کچھ تم بھی کہو کیا حال ہوا
    کوئی نیا احساس ملا یا سب جیسا احوال ہوا
    راہ وفا میں جاں دینا بھی پیش روں کا شیو ہ تھا
    ہم نے جب سے جینا سیکھا جینا کا رِ مثال ہوا
    عشق افسانہ تھا جب تک اپنے بھی بہت افسانے تھے
    عشق صداقت ہو تے ہوتے کتنا کم احوال ہوا
    راہ وفا دشوار بہت تھی تم کیوں میرے ساتھ آئے
    پھول سا چہرا کمہلایا اور رنگِ حنا پامال ہوا

    اطہر نفیس بھیڑ میں بھی اکیلے نظر آتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کی آواز میں انفرادیت اور نیا پن ہے۔ وہ اپنے اظہا رکے لیے نئی زمینیں تلاش کر کے لاتے ہیں:

    دم بد م بڑھ رہی ہے یہ کیسی صدا شہر والو سنو
    جیسے آئے دبے پاؤں شہرِ بلا شہر والو سنو
    خاک اڑاتی نہ تھی اس طرح تو ہوا اس کو کیا ہوگیا
    دیکھو آواز دیتا ہے اک سانحہ شہر والو سنو
    عمر بھر کا سفر جس کا حاصل ہے اک لمحہٴ مختصر
    کس نے کیا کھو دیا کس نے کیا پا لیا شہر والو سنو
    اس کی بے خو ف آنکھوں میں جھانکوں کبھی اس کو سمجھوں کبھی
    اس کو بیدار رکھتا ہے کیا واقعہ شہر والو سنو

    21نومبر سنہ 1980کو صرف 47سال کی عمر میں اطہر نفیس کا کراچی میں انتقال ہو گیا اور وہیں سخی حسن قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی۔ انہوں نے عشق میں ناکامی پر زندگی بھر شادی نہیں کی ۔ ان کی قبر کے کتبے پر ان کا اپنا شعر کندہ ہے-

    وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال سنائیں کیا
    کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض کا یوم وفات

    برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض کا یوم وفات

    برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض کو نیا سے رخصت ہوئے 4 سال بیت گئے-

    برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض 28 جولائی 1945 کو ہندوستان کے شہر میرٹھ کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب کا نام ریاض الدین اور والدہ محترمہ کا نام حسنہ بیگم ہے۔

    تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر کے حیدر آباد سندھ میں آباد ہوا۔ فہمیدہ نے ابتدائی تعلیم حیدر آباد سے اور ایم اے سندھ یونیورسٹی جام شورو سے کیا۔ دوران تعلیم وہ ڈی ایس ایف کے پلیٹ فارم سے ایوب خان کے خلاف تحریک میں سرگرم عمل رہیں۔1967 میں شادی کے بعد وہ لندن منتقل ہو گئیں۔ وہاں سے انہوں نے تیکنیکی تعلیم میں ڈپلومہ کیا۔ اس دوران بی بی سی ریڈیو کی اردو سروس میں بھی کام کیا۔

    1973 میں لندن سے وطن واپس آئیں۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں انہوں نے ایک اردو ادبی رسالہ” آواز” جاری کیا جس میں وہ حکومت کی غیر جمہوری پالیسیوں پر تنقیدی مضامین لکھتی رہیں جس پر ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے گئے اور ان کے رسالے کو بند کر دیا گیا تھا جس کی بناء پر وہ پاکستان سے جلاوطنی اختیار کر کے ہندوستان چلی گئیں ۔

    1981 سے 1987 تک ہندوستان میں قیام پذیر رہیں۔اس دوران وہ جامعہ ملیہ۔اسلامیہ دہلی سے وابستہ رہیں ۔ وہاں ان کا ایک شعری مجموعہ” کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے” شائع کیا گیا جبکہ اس سے قبل پاکستان میں ان کے دو شعری مجموعے ” بدن "دریدہ اور ایک دوسرا شعری مجموعہ شائع ہو چکا تھا ۔ جنرل ضیا کی وفات کے بعد وہ اپنی جلاوطنی ختم کر کے اپنے وطن واپس آ گئیں۔

    محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں انہیں نیشنل بک کونسل کی چیئر پرسن مقرر کیا گیا تھا ۔ فہمیدہ ریاض نے جمہوریت کی بحالی، انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کی محرومی کے حوالے سے بھرپور جدوجہد کی۔ فہمیدہ ریاض کی نصف درجن سے زائد کتابیں شائع ہوئیں جن میں "حلقہ مری زنجیر کا” ہم رکاب، ادھورا آدمی، میں مورت ہوں ، اپنا جرم ثابت ہے، اور ” آدمی کی زندگی” شامل ہیں ۔

    فہمیدہ نے دو شادیاں کی تھیں پہلی شوہر سے ایک بیٹی اور دوسرے شوہر سے ایک بیٹی اور ایک بیٹا کبیر پیدا ہوا۔ کبیر 2007 میں امریکہ میں ایک حادثے میں فوت ہو گئے جس کا فہمیدہ کو شدید صدمہ ہوا ۔ 21 نومبر 2018 میں فہمیدہ ریاض کا انتقال ہوا۔

    فہمیدہ ریاض کی شاعری سے انتخاب

    اب سو جاؤ

    اور اپنے ہاتھوں کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
    تم چاند سے ماتھے والے ہو
    اور اچھی قسمت رکھتے ہو
    بچے کی سو بھولی صورت
    اب تک ضد کرنے کی عادت
    کچھ کھوئی کھوئی سی یادیں
    کچھ سینے میں چھبھتی یادیں
    اب انہیں بھلا دو سو جاؤ
    اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
    سو جاؤ تم شہزادے ہو
    اور کتنے ڈھیروں پیارے ہو
    اچھا تو کوئی اور بھی تھی
    اچھا پھر بات کہاں نکلی
    کچھ اور بھی یادیں بچپن کی
    کچھ اپنے گھر کے آنگن کی
    سب بتلا دو پھر سو جاؤ
    اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
    یہ ٹھنڈی سانس ہواؤں کی
    یہ جھلمل کرتی خاموشی
    یہ ڈھلتی رات ستاروں کی
    بیتے نہ کبھی تم سو جاؤ
    اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو

    اس گلی کے ہر موڑ پر

    اس گلی کے موڑ پر اک عزیز دوست نے
    میرے اشک پونچھ کر
    آج مجھ سے یہ کہا
    یوں نہ دل جلاؤ تم
    لوٹ مار کا ہے راج
    جل رہا ہے کل سماج
    یہ فضول راگنی
    مجھ کو مت سناؤ تم
    بورژوا سماج ہے
    لوٹ مار چوریاں اس کا وصف خاص ہے
    اس کو مت بھلاؤ تم
    انقلاب آۓ گا
    اس سے لو لگاؤ تم
    ہو سکے تو آج کل کچھ مال بناؤ تم
    کھائی سے نکلنے کی آرزو سے پیشتر
    دیکھ لو ذرا جو ہے دوسری طرف ہے گڑھا
    آج ہیں جو حکمراں ان سے بڑھ کے خوفناک ان کے سب رقیب ہیں
    دندنا رہے ہیں جو لے کے پاتھ میں چھرا
    شکر کا مقام ہے
    میری مسخ لاش آپ کو کہیں ملی نہیں
    اک گلی کے موڑ پر
    میں نے پوچھا واقعی
    سن کے مسکرا دیا کتنی دیر ہو گئی
    لیجیۓ میں اب چلا اس کے بعد اب کیا ہوا
    کھڑکھڑائیں ہڈیاں
    اس گلی کے موڑ سے وہ کہیں چلا گیا

    پچھتاوا

    خداۓ ہر دوجہاں نے جب آدمی کو پہلے پہل سزا دی
    بہشت سے جب اسے نکالا
    تو اس کو بخشا گیا یہ ساتھی
    یہ ایسا ساتھی ہے جو ہمیشہ ہی آدمی کے قریں رہا ہے
    تمام ادوار چھان ڈالو
    روایتوں میں حکایتوں میں
    ازل سے تاریخ کہہ رہی ہے
    کہ آدمی کی جبیں ہمیشہ ندامتوں سے عرق رہی ہے
    وہ وقت جب سے کہ آدمی نے
    خدا کی جنت میں شجر ممنوعہ چکھ لیا
    اور
    سرکشی کی
    تبھی سے اس پھل کا یہ کسیلا ذائقہ
    آدمی کے کام و دہن میں ہر پھر کے آ رہا ہے
    مگر ندامت کے تلخ سے ذائقے سے پہلے گناہ کی بے پناہ لذت

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • آرمی چیف کی ٹیکس معلومات لیک ہونےپر وزیر خزانہ کا سخت نوٹس،ایف بی آر کو فوری تحقیقات کا حکم

    آرمی چیف کی ٹیکس معلومات لیک ہونےپر وزیر خزانہ کا سخت نوٹس،ایف بی آر کو فوری تحقیقات کا حکم

    اسلام آباد: وزیر خزانہ نے آرمی چیف کے اہلخانہ کی ٹیکس معلومات افشا ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیےمیں کہا گیا ہےکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اوران کے خاندان کی ٹیکس تفصیلات لیک ہونے کے معاملے کا سنجیدگی سے سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے غیرقانونی اقدام قرار دیا ہے اور ایف بی آر کو معاملے کی فوری طور پر تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عمران خان انتشار پھیلانے اسلام آباد آرہا مگر انہوں نے وعدہ توڑا تو کاروائی ہوگی. عطاء تارڑ


    وزارت خزانہ کے مطابق معلومات کی لیکیج ٹیکس دہندگان کی معلومات کو خفیہ رکھنے کے قانون کی خلاف ورزی ہے، وزیر خزانہ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو طارق پاشا کو معاملے کی فوری انکوائری شروع کرنے کی ہدایت جاری کردی ہیں۔


    وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے ہدایت کی ہے کہ معاملے میں ملوث لوگوں کا سراغ لگا کر بیس دن میں رپورٹ پیش کی جائے۔

    ٹھٹھہ : کراچی نیشنل ہائی وے پر سیم نالے کے قریب کوسٹر اور ٹرک میں تصادم متعدد زخمی

    اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ جس نامعلوم ذمہ دار نے یہ اطلاعات لیک کیں یہ اس کی سنگین غلطی ہے، طارق پاشا ذاتی طور پر اس معاملے کی فوری انکوائری کریں اور 24گھنٹے میں ذمہ داروں کا تعین کرکے رپورٹ پیش کریں-

  • باپ نے تین بیٹوں کے قاتل چوتھے بیٹے کو معاف کردیا

    باپ نے تین بیٹوں کے قاتل چوتھے بیٹے کو معاف کردیا

    باپ نے تین بیٹوں کے قاتل چوتھے بیٹے کو معاف کردیا

    بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ میں باپ نے اپنے تین بیٹوں کو قتل کرنے والے چوتھے بیٹے کو معاف کردیا۔ باغی ٹی وی کے مطابق 27 ستمبر کو کوئٹہ کے علاقے جائنٹ روڈ پر ایک واقعہ پیش آیا جس میں چمن سے تعلق رکھنے والے آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر ناصر اچکزئی کے تین بیٹے قتل کردیے گئے۔ واقعہ یہ رپورٹ ہوا کہ ڈاکٹر ناصر کے بیٹے شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد جوائنٹ روڈ پر واقع ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی واپس آرہے تھے کہ گھر کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی اور ان کے تین بیٹے 20 سالہ موسیٰ زریان، 18 سالہ صدران اور 8 سالہ بیٹا زرنگ موقع پر جاں بحق ہوگئے جب کہ چوتھا بیٹا قیس بچ گیا تھا اور ایک ملازم زخمی حالت میں ملا تھا۔

    بیٹے اور ملازم نے ابتدائی بیان دیا کہ ان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی تاہم پولیس نے تفتیش کے بعد ڈاکٹر ناصر کے چوتھے بیٹے کو گرفتار کیا جس نے قتل کا اعتراف کرلیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے ملازم اسفند پر بھی فائرنگ کی تاہم وہ مرا نہیں اور زخمی ہونے کے بعد آنکھیں بند کرکے لیٹا رہا، فائرنگ کے بعد جب لوگوں کا شور سنا تو زخمی اسفند گاڑی سے باہر آگیا۔
    یہ بھی پڑھیں؛
    فیفا کے وارے نیارے ہوگئے؛ اسپانسر شپ سے ایک بلین ڈالر اضافی کمالیے
    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار
    انتظار ختم! تاریخ کا مہنگا ترین عالمی فٹبال میلہ قطر میں سج گیا:میزبان ملک قطرپہلے میچ میں ہی ہارگیا
    پولیس کے مطابق ملزم نے اسپتال لے جانے کے دوران اپنے ملازم کو ڈرایا کہ کسی کو کچھ بتایا تو مار دے گا، لوگوں کا رش دیکھ کر زخمی اسفند کو اسپتال پہنچایا۔ گرفتاری کے بعد ملزم قیس نے بیان دیا کہ اس نے شادی کی تقریب سے واپسی پر تینوں بھائیوں کو قتل کیا، واقعہ کے دن گھر سے کزن کا پستول اٹھالیا تھا، دل میں جائیداد کا لالچ بھی تھا، بھائی ہر بات میں روک ٹوک کرتے تھے جس سے خوش نہ تھا، بھائیوں سے اکثر جھگڑا ہوتا تھا ان سے تنگ تھا۔ آج والد آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر ناصر اچکزئی نے تین بیٹوں کے قاتل اپنے چوتھے بیٹے کو معاف کردیا ہے اور بیان جمع کرادیا ہے تاہم قاتل کی سزا سے متعلق عدالت فیصلہ کرے گی۔

  • سکھر ٹو کراچی طیارہ لینڈنگ کے دوران حادثے کا خطرہ بے بنیاد خبر ہے. ترجمان سی اے اے

    سکھر ٹو کراچی طیارہ لینڈنگ کے دوران حادثے کا خطرہ بے بنیاد خبر ہے. ترجمان سی اے اے

    ترجمان سی اے اے سیف اللہ خان نے باغی ٹی وی کے سینئر صحافی ملک رمضان اسراء کو بتایا کہ سکھر ٹو کراچی طیارہ لینڈنگ کے دوران حادثے کا خطرہ والی خبر بے بنیاد اور جھوٹ ہے کیونکہ یہ بات اس طرح تھی نہیں جس طرح میڈیا میں پیش کی جاری ہے.

    واضح رہے ایک نجی ٹی وی نے خبر دی جسکے مطابق "سکھر سے کراچی آنے والا نجی کمپنی کا طیارہ لینڈنگ کے دوران اگلے ٹائر نہ کھلنے کے سبب حادثے کا شکار ہوتے ہوتے رہ گیا۔ نجی کمپنی کا جہاز حادثے سے بچ گیا، ائر کرافٹ سیلز اینڈ سروسز لمیٹڈ کا طیارہ (رجسٹریشن نمبر اے پی ایس اے ایل) سکھر سے کراچی آ رہا تھا کہ کراچی ائرپورٹ پر لینڈنگ کے وقت جہاز کے نوز(اگلے ٹائر) کھل نہیں سکے۔ نوز وہیل نہ کھلنے سے طیارے کے کیپٹن نے ایمرجنسی لینڈنگ کے لیے ائر ٹریفک کنٹرول کو مطلع کیا۔ کراچی ائرپورٹ کے رن وے پر سول ایوی ایشن کے فائر ٹینڈر اور میڈیکل ٹیمیں پہنچیں۔”
    یہ بھی پڑھیں؛
    فیفا کے وارے نیارے ہوگئے؛ اسپانسر شپ سے ایک بلین ڈالر اضافی کمالیے
    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار
    انتظار ختم! تاریخ کا مہنگا ترین عالمی فٹبال میلہ قطر میں سج گیا:میزبان ملک قطرپہلے میچ میں ہی ہارگیا
    نجی ٹی وی نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے مزید لکھا کہ "ایمرجنسی لینڈنگ سے قبل طیارے نے فضا میں تین چکر لگائے۔ فضا میں چکر لگاتے ہوئے طیارہ کا نوز وہیل کھل جانے سے نارمل لینڈنگ ہوگئی۔ تاہم خیال رہے کہ ایسا کئی جہازوں کے ساتھ ہوچکا ہے. کینیڈا میں ٹیک آف کے دوران ایک طیارے کا اگلا پہیہ گر گیا جس کے بعد طیارے کو واپس اتارنا پڑا تھا. ایئر کینیڈا کی ایکسپریس فلائیٹ کو جیز ایوی ایشن آپریٹ کرتی ہے۔ تین جنوری 2020 کو جس وقت حادثہ پیش آیا پرواز مونٹریال ٹروڈو ایئرپورٹ سے روانہ ہوئی تھی۔”

    تاہم اس حوالے سے جب باغی ٹی وی نے جب سی اے اے کے ترجمان سیف اللہ خان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ جسطرح خبر دی جارہی ہے ایسا کوئی خطرہ نہیں تھا کہ خدانخواستہ کوئی حادثہ ہوجائے. ان کا مزید کہنا تھا کہ نوز وہیل کھلا ہوا تھا جبکہ وہ جو اندر لایٹ ہوتی جس سے معلوم ہوتا کہ وہیل کھلا ہوا نہ نہیں وہ جل نہیں رہی تھی تو پائلٹ نے تصدیق کیلئے ائیر کرافٹ‌ سے چیک کروایا کہ ہمارا وہیل کھلا یا نہیں لیکن چونکہ اندھیرا تھا اور معلوم نہیں ہورہا تھا تو اس لیئے احتیاطی طور پر فائر فائیٹر کو الرٹ کروایا دیا تھا.

  • فرانسیسی صدر کو خاتون نے تھپڑ ماردیا۔ ویڈیو وائرل

    فرانسیسی صدر کو خاتون نے تھپڑ ماردیا۔ ویڈیو وائرل

    فرانسیسی صدر کو خاتون نے تھپڑ ماردیا۔ ویڈیو وائرل

    سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو زیر گردش ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون کو خاتون تھپڑ مار رہی ہے۔ اس حوالے صحافی ملک رمضان اسراء نے اپنے ٹوئیٹ میں ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا: فرانسیسی صدر کو ون ورلڈ گورنمنٹ کی تجوید دینے پر یہ تھپڑ مار دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل بھی ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں جب فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کو جنوب مشرقی فرانس کے سرکاری دورے کے دوران تھپڑ مارا گیا تھا۔
    جس وقت صدر میکخواں کو تھپڑ مارا گیا تھا، اسی دوران اس شخص نے ’ڈاؤن ود میکرون ازم‘ (یعنی میکخواں کا دور ختم) کا نعرہ بھی لگایا تھا۔

    واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا تھا کہ صدر میکخواں ویلانس شہر کے ایک علاقے میں موجود تھے جب ان کی جانب سے شہریوں کو روکنے کے لیے قائم ایک رکاوٹ کے قریب جانے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا ۔

    یہاں سبز رنگ کی شرٹ میں ملبوس ایک شہری نے انھیں تھپڑ رسید کیا تھا اور اس کے فوراً بعد سکیورٹی اہلکار میکخواں کو بچانے کے لیے وہاں پہنچ گئےتھے۔ یہ اہلکار فرانسیسی صدر کو وہاں سے واپس کھینچ لیتے ہیں۔ ملک کے مختلف سیاستدانوں کی جانب سے واقعے کی مذمت کی گئی تھی ۔
    فرانسیسی وزیراعظم یان كاستيكس نے واقعے کے بعد قومی اسمبلی میں بتایا تھا کہ جہوریت کا مطلب بحث اور جائز اختلاف ہے لیکن ’اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تشدد، لفظی جارحیت یا جسمانی حملے کیے جائیں۔‘

  • 50 سال بعد فلمی دنیا کے عظیم ترین مارشل آرٹ آرٹسٹ بروس لی کی موت کی وجہ سامنے آگئی

    50 سال بعد فلمی دنیا کے عظیم ترین مارشل آرٹ آرٹسٹ بروس لی کی موت کی وجہ سامنے آگئی

    پچاس سال بعد فلمی دنیا کے عظیم ترین مارشل آرٹ آرٹسٹ بروس لی کی موت کی وجہ سامنے آگئی
    تقریبا 50 سال بعد فلمی دنیا کے عظیم ترین مارشل آرٹ آرٹسٹ بروس لی کی موت کی وجہ سامنے آگئی ہے۔ سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں دعوی کیا ہے کہ بروس لی کی موت زیادہ پانی پینے کی وجہ سے ہوئی ہے، لیکن یہ ایک تحقیق ہے اس کی تصدیق نہیں کی گئی، رپورٹ کے مطابق اداکار کو موت کے دن شام ساڑھے 7 بجے پانی پینے کے بعد سردرد اور سر چکرانے کی شکایت ہوئی تھی، جس کے بعد انہوں نے ایک درد کم کرنے کی دوا کھائی اور انہیں 2 گھنٹے بعد مردہ حالت میں دریافت کیا گیا۔

    بروس لی کی میڈیکل رپورٹ میں لکھا گیا کہ ان کا دماغ سوج گیا تھا جس سے ان کی موت ہوئی، جس کی وجہ دوائی لکھی گئی لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ان کا زیادہ پانی بینا ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ کی سوجن کی وجہ ہائپو نیٹریمیا ہو سکتی ہے، جس سے گردوں کو اتنا زیادہ پانی مل جاتا ہے کہ وہ فلٹر نہیں ہو پاتا۔ میڈیکل ماہرین کے مطابق ہائپو نیٹریمیا کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب کوئی فرد بہت کم وقت میں بہت زیادہ پانی پی لیتا ہے اور گردے اس پانی کو فلٹر کر نہیں پاتے، تاہم ایسا کم پانی پینے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
    یہ بھی پڑھیں؛
    فیفا کے وارے نیارے ہوگئے؛ اسپانسر شپ سے ایک بلین ڈالر اضافی کمالیے
    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار
    انتظار ختم! تاریخ کا مہنگا ترین عالمی فٹبال میلہ قطر میں سج گیا:میزبان ملک قطرپہلے میچ میں ہی ہارگیا
    ایک تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بروسلی کی دماغ میں سوجن دو ماہ سے ہی شروع ہو گئی تھی، لیکن تشخیص نہیں ہو سکی۔ جبکہ ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ بروسلی نے پانی پینا چھوڑ دیا تھا وہ صرف گاجر اور سیب کا جوس پی رہے تھے۔ تاہم ایسے شواہد موجود نہیں جن سے عندیہ ملتا ہو کہ بروس لی نے ایسا کیا تھا، بروس لی موت 20 جولائی 1973 کو 32 سال کی عمر میں ہوئی تھی ،