Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کا تسنیم حیدر کے بیان پر ردعمل آگیا

    وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کا تسنیم حیدر کے بیان پر ردعمل آگیا

    اسلام آباد: وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ تسنیم حیدر نامی شخص پاکستان مسلم لیگ (ن) لندن کا ترجمان نہیں۔اطلاعات کے مطابق مریم اورنگزیب نے کہا کہ تسنیم حیدر کا مسلم لیگ (ن) سے کوئی تعلق نہیں، کوئی شخص زبردستی پارٹی ترجمان بننے کی کوشش نہ کرے۔

    وزیراطلاعات نے کہا کہ تسنیم حیدر کے پاس اگر ( ارشدشریف قتل کیس ) کے حوالے سے ثبوت ہیں تو جے آئی ٹی کے قانونی فورم پر پیش کریں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تسنیم حیدر کے ساتھ تصویر میں نظر آنے والا شخص پی ٹی آئی لندن کا آرگنائزر ہے، جعلسازی، جھوٹ اور فیک نیوز سے ارشد شریف کے اصل قاتلوں سے توجہ نہیں ہٹائی جاسکتی۔

    دوسرے جانب مسلم لیگ ن لندن کے رہنما زبیرگل نے کہا کہ تسنیم حیدر کے الزامات پر انہیں برطانوی عدالت لیکر جائیں گے۔زبیرگل کے مطابق تسنیم حیدر مسلم لیگ(ن) کے ہر گز ترجمان نہیں، یہ ڈرامہ ارشد شریف کے اصل قاتلوں سے توجہ ہٹانے کیلئے رچایا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ تسنیم حیدر شاہ نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان پر حملہ اور صحافی ارشد شریف کے قتل کی سازش لندن میں ہوئی، نواز شریف کے ساتھ حسن نواز کے دفتر میں 3 ملاقاتیں ہوئیں، مجھے میٹنگ کے لیے بلا کر بتایا گیا کہ ارشد شریف اور عمران خان کو قتل کرنا ہے۔

    تسنیم حیدر نے بتایا کہ پہلی میٹنگ 8 جولائی، دوسری 20 ستمبر اور تیسری 29 اکتوبر کو ہوئی، مجھ کہا گیا کہ نئے آرمی چیف کی تقرری سے پہلے ارشد شریف اور عمران خان کو راستے سے ہٹانا ہے، ناصر بٹ نے نواز شریف سے میرا تعارف گجرات کے مضبوط شخص کے طور پر کرایا۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کےدورے

    آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کےدورے

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے دورے ،اطلاعات کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آج بلوچستان کے شہر لسبیلہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اپنے گھروں سے محروم ہونے والے علاقے کے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے تعمیر کیے گئے لال گل گوٹھ میں پہلے سے تعمیر شدہ گاؤں کا افتتاح کیا۔

    لسبیلہ کا یہ علاقہ جس کا گاؤں لال گل گوٹھ حالیہ سیلاب میں بری طرح تباہ ہو گیا جس میں لائیو سٹاک، لوگوں کا ذاتی سامان اور بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ نئے پہلے سے تیار کردہ گاؤں میں ایک پرائمری اسکول شامل ہے، اسے آف گرڈ شمسی توانائی سے روشن کیاگیاہے اورعلاقے کے لوگوں کے لیے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایک ٹیوب ویل بھی فراہم کیاگیا ہے۔

     

     

    پاک فرج کےترجمان کی طرف سےاس منصوبےکی تفصیل بتائی گئی ہے،جس میں کہا گیا ہےکہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نےاس منصوبے کوریکارڈ وقت میں مکمل کیاجیسا کہ پاکستانی فوج نے گاؤں والوں سےیہ وعدہ کیا تھا۔

    لسبیلہ پہنچنے پرپاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کو ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل کمال اظفر نے سیلاب متاثرین کی بحالی کے کام کی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی۔

    اس موقع پرآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لال گل گوٹھ میں نئے تجدید شدہ پرائمری اسکول کے اساتذہ اور طلباء اور مقامی دیہاتیوں سے ملاقات کی۔ آرمی چیف نے اس موقع پر اہل علاقہ کی عوام کو مخاطب کرتے ہوئےکہا کہ پاک فوج وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے شروع کیے جانے والے بحالی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گی۔ اس موقع پر اعلیٰ سول اور ملٹری حکام بھی موجود تھے۔

    بعد ازاں آرمی چیف نے کوئٹہ کور، ایف ڈبلیو او، فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان اور پاکستان کوسٹ گارڈز کے دستوں سے بات چیت کی اور حالیہ سیلاب میں ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے عمل کے دوران ان کی کوششوں کو سراہا۔

    لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر، چیئرمین این ڈی ایم اے اور لیفٹیننٹ جنرل کاشف نذیر، انجینئر ان چیف، دورے کے دوران آرمی چیف کے ہمراہ تھے۔قبل ازیں آمد پر کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

  • ملائیشیا:عام انتخابات میں کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کرسکی

    ملائیشیا:عام انتخابات میں کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کرسکی

    کواللمپور:ملائیشیا کے عام انتخابات میں کوئی بھی جماعت حکومت بنانے کیلئے واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکی۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اب مختلف جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کا سوچ رہی ہیں‌

    ملائیشیا کے الیکشن کمیشن کے مطابق انور ابراہیم کے اتحاد پاکاتان ہراپن (پی ایچ) نے 222 رکنی پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ 82 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ سابق وزیراعظم محی الدین یاسین کی پیریکاتن نیشنل (پی این) 73 نشستوں کے ساتھ پیچھے ہے، موجودہ ملائیشین وزیراعظم اسماعیل صابری یعقوب کی حکمران جماعت باریسن نیشنل (BN) اتحاد کو صرف 30 نشستوں پر ہی کامیابی ملی۔

    زیادہ نشستیں جیتنے والے دونوں امیدواروں انور ابراہیم اور محی الدین نے اتوار کو اپنی اپنی کامیابی کا اعلان کردیا حالانکہ نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں میں سے کسی کے پاس حکومت بنانے کے لیے درکار ووٹ نہیں ہیں، حکومت بنانے کیلئے 112 ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔

    ہفتہ کی رات اپنے حامیوں سے خطاب میں انور ابراہیم نے دعویٰ کیا کہ انہیں حکومت بنانے کے لیے پارلیمنٹ کے اراکین کی کافی حمایت حاصل ہے اور وہ بادشاہ کو لکھے گئے خط میں اپنی حمایت کی تفصیل دیں گے، جبکہ محی الدین نے اپنے حامیوں کو یہ بتایا کہ وہ صباح اور سراواک سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ایک اتحاد بنانے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

    الیکشن میں ملائیشیا کے سابق وزیراعظم 97 سالہ مہاتیر محمد 53 سال میں پہلی مرتبہ اپنی پارلیمانی سیٹ ہار گئے۔ مہاتیرمحمد نے دو دہائیوں سے زائد عرصے تک ملائیشیا کے وزیر اعظم کے طور پر کام کیا وہ اپنی پارلیمانی نشست برقرار رکھنے میں ناکام رہے، 1969 کے بعد انتخابات میں مہاتیر کی یہ پہلی شکست ہے۔

  • پی ٹی آئی کو 2013 کے بعد بھی فارن فنڈنگ

    پی ٹی آئی کو 2013 کے بعد بھی فارن فنڈنگ

    پاکستان تحریک انصاف کو 2013 کے بعد بھی فارن فنڈنگ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے جنگ کے مطابق الیکشن کمیشن کے اگست میں فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 2008 سے 2013 تک ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی لیکن حاصل دستاویزات کے مطابق یہ فنڈنگ 2013 کے بعد بھی جاری رہی۔

    سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ، ہیکنگ اور فراڈ کی شکایات میں اضافہ

    رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی نے اکتوبر 2014 سے مارچ 2015 تک امریکا میں غیر ملکی رجسٹرڈ اداروں سمیت مختلف اداروں سے 4 لاکھ ڈالرز سے زائد رقم اکٹھی کی-

    رپورٹ کے مطابق سابق وفاقی وزیر علی زیدی اور سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اس عرصے میں امریکا کا دورہ کیا اور اکتوبر 2014 سے مارچ 2015 تک فنڈز جمع کرنے کی مہم چلائی جس میں چار لاکھ ڈالرز سے زائد رقم اکٹھی کی-

    رپورٹ کے مطابق رقم میں سے 3 لاکھ 5 ہزار ڈالرز پاکستان میں موجود پارٹی اکاؤنٹس میں پانچ اقساط میں منتقل کیے گئے، پی ٹی آئی کے بیرون ملک چیپٹر کے سیکرٹری عبداللہ ریار کے پاس ان فنڈز کے حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا دعویٰ رہا ہے کہ اُنہوں نے بیرون ممالک سے جتنے بھی فنڈز اکھٹے کیے ہیں وہ قانون کے مطابق ہیں۔

    واضح رہے کہ 2 اگست 2022 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر ممنوعہ فنڈز لینا ثابت ہو گیا ہے۔

    گوجرہ : نام نہاد معزز سود خور صحافی بن گئے،صحافت کی آڑ میں غیرقانونی کام عروج…

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ’متفقہ‘ فیصلہ سنایا تھا فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن میں غلط ڈیکلیریشن جمع کرایا۔

    پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ ​​کا مقدمہ پارٹی کے بانی ارکان میں سے ایک اکبر شیر بابر (المعروف اکبر ایس بابر) نے نومبر 2014 میں الیکشن کمیشن میں دائر کیا تھا۔

    انہوں نے پارٹی پر غیر اعلانیہ اکاؤنٹس کے ذریعے غیر ملکی کمپنیوں اور غیر ملکی شہریوں سے رقوم حاصل کرنے کا الزام لگایا تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن کی تحقیقات کے دوران کئی باتیں سامنے آئیں۔

    اے این ایف کی ملک بھر میں کاروائیاں،کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط

    تحریک انصاف کی قیادت شروع سے ہی اس مقدمے کے ‘غیر قانونی’ ہونے کے باعث مخالفت كرتے رہے ہیں، جبکہ کئی موقعوں پر انہوں نے دوسری سیاسی جماعتوں خصوصاً ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف پاکستان مسلم لیگ ن کے فنڈز کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

    2014 کے بعد سے رواں برس 2 اگست تک کیس کی تقریباً 200 سماعتیں ہوئیں، جبکہ مقدمہ دائر ہونے کے وقت سے تحریک انصاف نے 30 مرتبہ سماعتوں میں التوا مانگا اوچھ مرتبہ مقدمےکےناقابل سماعت ہونے یا الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سےباہر ہونےکی درخوا ستیں دائر کیں جبکہ نو بار وکیل تبدیل کیے۔

    الیکشن کمیشن نے 21 بار تحریک انصاف کو دستاویزات اور مالی ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کیں۔

    پاکستان تحریک انصاف نے اس کیس کی وجہ سے الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر پی ٹی آئی مخالف جماعتوں کی طرف داری کا الزام لگایا اور ملک میں انتخابات کروانے کے ذمہ دار ادارے کے خلاف گاہے بگاہے احتجاج بھی کیا۔

  • ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش

    ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش

    ٹیپو سلطان شیرِ میسور، سلطان حیدر علی کے سب سے بڑے فرزند، ہندوستان کے اصلاح و حریت پسند حکمران، بین المذاہب ہم آہنگی کی زندۂ جاوید مثال، طغرق (فوجی راکٹ) کے موجد تھے

    ٹیپو سلطان 20 نومبر 1750ء (بمطابق جمعہ 20 ذوالحجہ، 1163 ہجری ) کو دیوانہالی میں پیدا ہوئے۔ موجودہ دور میں یہ بنگلور دیہی ضلع کا مقام ہے جو بنگلور شہر کے 33 کلومیٹر (21 میل) شمال میں واقع ہے۔ ٹیپو سلطان کا نام آرکاٹ کے بزرگ ٹیپو مستان اولیاء کے نام پر ہے۔ اسے اپنے دادا فتح محمد نام کی مناسبت سے فتح علی بھی کہا جاتا تھا۔

    حیدر علی نے ٹیپو سلطان کی تعلیم پر خاص توجہ دی اور فوج اور سیاسی امور میں اسے نوعمری میں ہی شامل کیا۔ 17 سال کی عمر میں ٹیپو سلطان کو اہم سفارتی اور فوجی امور پر آزادانہ اختیار دے دیا۔ اسے اپنے والد حیدر علی جو جنوبی بھارت کے سب سے طاقتور حکمران کے طور پر ابھر کر سامنے آئے کا دایاں ہاتھ سمجھا جاتا تھا

    ‘ٹیپو سلطان کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔ آپ بنگلور، ہندوستان میں 20 نومبر، 1750ء میں حیدر علی کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو بزورِ طاقت روکے رکھا اور کئی بار انگریز افواج کو شکست فاش بھی دی

    ٹیپو سلطان کا قول تھا :

    ”شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے“

    آپ نے برطانوی سا مراج کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت فراہم کی اور برصغیر کے لوگوں کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے سنجیدہ و عملی اقدامات کیے۔ سلطان نے انتہائی دوررس اثرات کی حامل فوجی اصلاحات نافذ کیں، صنعت و تجارت کو فروغ دیا اور انتظامیہ کو ازسرنو منظم کیا۔ سلطان کو اس بات سے اتفاق تھا کہ برصغیر کے لوگوں کا پہلا مسئلہ برطانوی اخراج ہے۔ نظام اور مر ہٹوں نے ٹیپو کی طاقت کو اپنی بقاء کے لیے خطرہ سمجھا اور انگریزوں سے اتحاد کر لیا

    ٹیپو سلطان نے ترکی، ایران، افغانستان اور فرانس سے مدد حاصل کرنے کی کوششیں کیں مگر کامیاب نہ ہو سکے

    ٹیپو سلطان کی زندگی ایک سچے مسلمان کی زندگی تھی۔ وہ مذہبی تعصب سے پاک تھے۔ یہی وجہ تھی کہ غیر مسلم ان کی فوج اور ریاست میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ ٹیپو سلطان نے اپنی مملکت کو مملکت خداداد کا نام دیا۔ حکمران ہونے کے باوجود خود کو عام آدمی سمجھتے تھے۔ با وضو رہنا اور تلاوتِ قرآن آپ کے معمولات میں سے تھے۔ ظاہری نمود و نمائش سے اجتناب برتتے تھے۔ ہر شاہی فرمان کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کیا کرتے تھے۔ زمین پر کھدر بچھا کر سویا کرتے تھے

    ٹیپو سلطان ہفت زبان حکمران کہے جاتے ہیں۔ آپ کو عربی، فارسی، اردو، فرانسیسی، انگریزی سمیت کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ آپ مطالعے کے بہت شوقین تھے اور ذاتی کتب خانے کے مالک تھے جس میں کتابوں کی تعداد کم و بیش 2000 بیان کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ سائنسی علوم میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کو برصغیر میں راکٹ سازی کا موجد کہا جاتا ہے

    ہر جنگ میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ رہنے والے ٹیپو سلطان اپنے زمانے کے تمام فنون سپہ گری سے واقف تھے۔ اپنی افواج کو پیادہ فوج کی بجائے سواروں اور توپ خانے کی شکل میں زیادہ منظّم کیا۔ اسلحہ سازی، فوجی نظم و نسق اور فوجی اصلاحات میں تاریخ ساز کام کیا

    میسور کی آخری جنگ کے دوران جب سرنگاپٹم کی شکست یقینی ہو چکی تھی، ٹیپو سلطان کی فوج کے دو غداروں میر صادق اور پورنیا نے اندورن خانہ انگریزوں سے ساز باز کرلی تھی۔ میر صادق نے انگریزوں کو سرنگاپٹم کے قلعے کا نقشہ فراہم کیا اور پورنیا اپنے دستوں کو تنخواہ دینے کے بہانے پیچھے لے گيا

    ٹیپو نے محاصرہ کرنے والے انگریزوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی اور قلعے کو بند کروا دیا لیکن غدار ساتھیوں نے دشمن کے لیے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور قلعے کے میدان میں زبردست جنگ چھڑ گئی۔ با رُود کے ذخیرے میں آگ لگ جانے کے باعث مزاحمت کمزور ہو گئی اس موقع پر فرانسیسی افسر نے ٹیپو کو چترادرگا بھاگ جانے اور اپنی جان بچانے کا مشورہ دیا مگر ٹیپو راضی نہ ہوئے اور 4 مئی، 1799ء کو میدان جنگ میں دشمنوں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے

    شاعر مشرق علامہ اقبال کو ٹیپو سلطان شہید سے خصوصی محبت تھی۔ 1929ء میں آپ نے شہید سلطان کے مزار پر حاضری دی اور تین گھنٹے بعد باہر نکلے تو شدّت جذبات سے آنکھیں سرخ تھیں۔ انہوں نے فرمایا :

    ”ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی وہ مذہب ملّت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتا رہا یہاں تک کہ اس مقصد کی راہ میں شہید ہو گیا“

    علامہ اقبال نے ضرب کلیم میں سلطان ٹیپو کی وصیت کے عنوان سے مندرجہ ذیل نظم لکھی ہے

    تو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول
    لیلٰی بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول

    اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز
    ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول

    کھویا نہ جا صنم کدہ کائنات میں
    محفل گداز گرمی محفل نہ کر قبول

    صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے
    جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول

    باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے
    شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول

    سیماب اکبرآبادی نے مندرجہ ذیل نظم کے ذریعے خراج عقیدت پیش کیا ہے

    اے شہید مرد میدان وفا تجھ پر سلام
    تجھ پہ لاکھوں رحمتیں لا انتہا تجھ پر سلام

    ہند کی قسمت ہی میں رسوائی کا سامان تھا
    ورنہ تو ہی عہد آزادی کا ایک عنوان تھا

    اپنے ہاتھوں خود تجھے اہل وطن نے کھو دیا
    آہ کیسا باغباں شام چمن نے کھو دیا

    بت پرستوں پر کِیا ثابت یہ تو نے جنگ میں
    مسلم ہندی قیامت ہے حجازی رنگ میں

    عین بیداری ہے یہ خواب گراں تیرے لیے
    ہے شہادت اک حیات جاوداں تیرے لیے

    تو بدستور اب بھی زندہ ہے حجاب کور میں
    جذب ہو کر رہ گیا ہستی پر شور میں

    تلاش و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • ترکیہ کی شام میں کرد فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری،12 افراد ہلاک

    ترکیہ کی شام میں کرد فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری،12 افراد ہلاک

    انقرہ: ترکیہ نے استنبول بم دھماکے میں کرد پارٹی کے ملوث ہونے پر شام میں ان کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی، برطانیہ میں قائم مانیٹرنگ گروپ کے مطابق بمباری میں کم از کم 6 ممبران سمیت 12 حکومتی حامیوں کو ہلاک کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق ترکیہ کے وزیر دفاع نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ سب کچھ ملبہ بنانے کی گھڑی آچکی ہے اس کے علاوہ کسی گروہ کا نام لیے بغیر انتہائی سخت انداز میں گالی کی زبان استعمال کرتے ہو ئے کہا کہ ان کو اپنے حملوں کی بڑی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

    سعودی عرب نےانسداد وبائی امراض کیلئےعالمی فنڈ میں 5 کروڑ ڈالرعطیہ کرنےکا اعلان کیا

    ترک وزیر دفاع نے اس ٹویٹ کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی جس میں ایک لڑاکا طیارے کو اُڑان بھرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اس کے بعد اپنی اگلی ٹوئٹس میں انہوں نے بتایا کہ ٹھیک ٹھیک نشانے لے کر دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کردیئے اس کے ساتھ ایک ویڈیو بھی ٹویٹ کی گئی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک ہدف کو تلاش کی جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی دھماکے کی آواز آتی ہے۔

    کردش فورسز کا بتانا ہے کہ ترکیہ کے حملے کا ہدف شمال مشرقی شام میں کوبین کا علاقہ تھا۔ واضح رہے اس کوبین شہر کو ہی داعش نے قبضے میں لیا تھا۔

    شمالی نائیجریا کے گاؤں پر مسلح افراد کا حملہ،12 افراد ہلاک

    امریکی اتحادی فوج ایس ڈی ایف کے چیف کمانڈر مظلوم عابدی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ترکیہ کی بمبار ی سے ہمارے محفوظ علاقوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے حلب، حسکیہ میں بمباری کی گئی ہے۔

    شامی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے کہا ہے کہ گنجان آباد علاقے کو ہدف بنایا گیا ہے، نیز ان علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جن میں شامی رجیم کی فورسز تعینات ہیں۔

    ترکیہ کے فوجی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے میں کرد پارٹی کے اسلحہ خانے، خندقیں، فیکٹری، تربیت گاہ اور کمین گاہوں کو مٹی کا ڈھیر بنادیا گیا۔ یہ کارروائی استنبول بم دھماکے کے جواب میں کی گئی۔

    ترکیہ کی جانب سے بمباری میں ہلاکتوں سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا لیکن شام میں جنگ کو مانیٹر کرنے والے برطانوی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ کے حملے میں 12 اہلکار مارے گئے جن میں کرد جنگجو اور شامی فوجی بھی شامل ہیں۔

    کویت میں 2017 کے بعد پہلی مرتبہ ایک پاکستانی اور 2 خواتین سمیت سات افراد کو پھانسی

  • قطر میں فٹ بال ورلڈکپ 2022 کا رنگا رنگ افتتاحی تقریب سے آغاز ہو گیا

    قطر میں فٹ بال ورلڈکپ 2022 کا رنگا رنگ افتتاحی تقریب سے آغاز ہو گیا

    قطر میں فٹ بال ورلڈکپ 2022 کا رنگا رنگ افتتاحی تقریب سے آغاز ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : قطرکے شہر الخور کے البیت اسٹیڈیم میں فیفا ورلڈکپ 2022 کی افتتاحی تقریب ہوئی جس میں عربی ثقافت کےرنگ پیش کیے گئے، افتتاحی تقریب کے باقاعدہ آغاز سے قبل ایک ویڈیو میں سمندر کے اندر، وہیل اور شارک مچھلیوں کو تیرتے دکھایا گیا، تقریب کے آغاز پر اُونٹ اور فنکار وں نے رقص کیا۔

    افتتاحی تقریب میں معروف بالی وڈ اداکار مورگن فری مین نے امید، اتحاد اور برداشت کا پیغام دیا ورلڈ کپ میں شریک ٹیموں کے جھنڈوں کے ساتھ بھی فنکاروں نے پرفارمنس پیش کی، پھر ورلڈ کپ فٹ بال کا آفیشل میسکوٹ میدان میں لایا گیا۔

    جنوبی کوریا کے مشہور زمانہ میوزک بینڈ، بی ٹی ایس کے سنگر جونگ کوک نے قطر کے معروف فنکار فہد الخوبیسی کے ہمراہ ورلڈ کپ کے آفیشل گانے ڈریمرز پر پرفارم کیا۔

    قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے ورلڈکپ کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کیا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی فیفا ورلڈکپ کی افتتاحی تقریب میں شریک تھےامیر قطر کے خطاب کے بعد آتشبازی کا بھی مظاہر ہ کیا گیا

    خیال رہے کہ آج افتتاحی میچ میزبان قطر اور ایکواڈور کے درمیان ہوگا جو کہ پاکستانی وقت کے مطابق 9 بجے شروع ہوگا-

  • موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

    موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

    امریکامیں ہونے والی نئی تحقیق میں ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ موت کے قریب پہنچنے پر لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ان کی زندگی کسی فلم کی طرح گزرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : نیویارک یونیورسٹی کے گروسمین اسکول آف میڈسین کی تحقیق میں ایسے 567 افراد کو شامل کیا گیاتھا جن کی حرکت قلب تھم گئی تھی مگر طبی امداد کے بعد وہ زندگی کی جانب واپس لوٹ آئے۔

    موت کاایک وقت مقررہے:عمرے پرجانےوالاپاکستانی شہری دومنٹ دل کی دھڑکن بند…

    محققین نے بتایا کہ موت کے منہ پر پہنچنے والے افراد نے زندگی کی جانب واپس لوٹنے کے بعد مختلف تجربات شیئر کیے تحقیق میں ہر 5 میں سے ایک فرد نے موت کے منہ میں پہنچنے کے بعد مختلف تجربات کو رپورٹ کیا۔

    محققین کے مطابق ان افراد کا کہنا تھا کہ ہمارا شعور کا کام کررہا تھا اور انہیں ایسا تجربہ ہوا جیسے انہوں نے دوبارہ زندگی گزار لی ہو۔

    موت کے منہ میں پہنچنے کے بعد ان افراد نے بتایا کہ انہیں جسم سے الگ ہونے کا تجربہ ہوا، ڈاکٹروں کو بچانے کی کوشش کرتے دیکھا مگر کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی، جبکہ اپنی زندگی کے اقدامات، ارادوں اور دیگر افراد کے بارے میں مقاصد کا تجزیہ کرنے کا موقع بھی ملا۔

    محققین کے مطابق لوگوں کو ہونے والے تجربات خواب، واہمے یا تصور کا دھوکا نہیں تھے بلکہ یہ حقیقی تجربات ہیں جن کا سامنا ہمیں مرتے وقت ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ موت کے قریب پہنچنے والے افراد اپنی زندگی، مقاصد اور اقدامات کا گہرائی میں جاکر بامقصد تجزیہ کرتے ہیں، یعنی ایک بار پھر خیالات میں اپنی زندگی دوبارہ جی لیتے ہیں۔

    اسمارٹ فونز مختلف الرجیز کا شکار بناکر بیمار بھی کرسکتے ہیں،تحقیق

    تحقیق کے دوران دماغی مانیٹرنگ سسٹمز کو بھی مریضوں پر استعمال کیا گیا تھا اور زندگی کی جانب لوٹ آنے والے مختلف دماغی لہروں کو دریافت کیا گیایہ دماغی لہریں عام طور پر اس وقت دیکھنے میں آتی ہیں جب لوگ شعوری طور پر کچھ تجزیہ کررہے ہوتے ہیں یا پرانی یادیں ذہن میں اجاگر ہوتی ہیں۔

    ایم ڈی، پی ایچ ڈی، مطالعہ کے اہم تفتیش کار انتہائی نگہداشت کے معالج،NYU Langone اور Health کے شعبہ طب میں ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کے ساتھ ساتھ تنظیم کے اہم نگہداشت اور بحالی کی تحقیق کے ڈائریکٹر سیم پارنیا کہتے ہیں کہ یہ یاد کیے گئے تجربات اور دماغی لہر کی تبدیلیاں نام نہاد قریب قریب موت کے تجربے کی پہلی علامتیں ہو سکتی ہیں، اور ہم نے انہیں پہلی بار ایک بڑے مطالعے میں پکڑا ہے

    انہوں نے کہا کہ ہمارے نتائج اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ موت کے دہانے پراور کوما میں رہتے ہوئے،لوگ ایک منفرد باطنی شعوری تجربے سے گزرتے ہیں، جس میں پریشانی کے بغیر آگاہی بھی شامل ہے۔

    نتائج سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ موت کے وقت بھی انسانی شعور مکمل طور پر کام کرنا نہیں چھوڑتا۔

    محققین کی جانب سے اب اس حوالے سے تحقیق کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

    بچپن میں پریشان کن اور برے حالات جوانی میں امراض قلب کا باعث بن سکتے ہیں ،تحقیق

  • سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ، ہیکنگ اور فراڈ کی شکایات میں اضافہ

    سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ، ہیکنگ اور فراڈ کی شکایات میں اضافہ

    لاہور: سوشل میڈیا کے ذریعے بلیک میلنگ، ہیکنگ اور فراڈ کی شکایات بڑھنے لگی ہیں۔

    باغی ٹی وی: فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے تحت رواں سال کے صرف ساڑھے چار ماہ کے دوران 40 ہزار 650 شکایا ت موصول ہوئی ہیں۔

    محبوبہ نے شادی سے انکار پر مخبری کردی، منشیات فروش مال سمیت گرفتار

    ایف آئی اے کے مطابق سب سے زیادہ الیکٹرانک فراڈ کی شکایات موصول ہوئیں جن کی تعداد 16 ہزار670 ہےجبکہ ایف آئی اے کو پورے ملک سے سوشل میڈیا کرائمز کی سات ہزار شکایات ملی ہیں۔

    ایف آئی اے کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں کو بد نام کرنے کی پانچ ہزار182 شکایات ملیں جب کہ سوشل میڈیا ایپ کے ذریعے مرد و خواتین کو بلیک میل کرنے کی 501 شکایات موصول ہوئی ہیں۔

    ٹھٹھہ :کينجھر جھيل ،اداروں کی غفلت،مچھلی، سائبیرین اور مقامی پرندوں کی کھلے عام نسل کشی جاری

    اعداد و شمار کے تحت ایف آئی اے کی جانب سے انکوائریز کرنےکے بعد رواں سال 600 سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

  • محبوبہ نے شادی سے انکار پر مخبری کردی، منشیات فروش مال سمیت گرفتار

    محبوبہ نے شادی سے انکار پر مخبری کردی، منشیات فروش مال سمیت گرفتار

    کبیر والہ: سرائے سدھو میں محبوبہ نے شادی سے انکار پر منشیات فروش کو مال اور ساتھی سمیت گرفتار کرادیا۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ سرائے سدھو کے نواحی علاقے میں پیش آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ علاقے کی ایک خاتون نے منشیات فروش ابرار سے متعلق پولیس کو مخبری کی کہ وہ منشیات سپلائی کررہا ہے اور اس کے ساتھ اس کا دوست بھی موجود ہے۔

    پولیس نے اطلاع ملنے پر کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش ابرار کو اس کے ساتھی عدیل موہانہ کے ہمراہ گرفتار کرلیا جن سے چرس اور ہیروئن برآمد ہوئی تاہم پولیس نے ہیروئن کی برآمدگی ظاہر نہیں کی اور صرف تین کلوگرام چرس برآمدگی کا مقدمہ درج کردیا۔

    دریں اثنا واقعے سے متعلق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اطلاع دینے والی خاتون، منشیات فروش ابرار کی سابقہ محبوبہ ہے جس نے ابرار کی جانب سے شادی سے انکار کرنے پر اسے سبق دینے کے لیے پولیس کو یہ اطلاع دی۔

     

    ادھربروری پولیس نے گزشتہ روز ہزارہ ٹاؤن میں منشیات فروشوں اور عادی افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش محمد علی عرف ایرانی کوگرفتار کر کے ڈیڑھ کلو چرس قبضے میں لے لی جبکہ 15عادی افراد کو بحالی سینٹر منتقل کردیا۔

     

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا