کراچی: پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور کسٹم نے مشترکہ آپریشن کے دوران کشتی سے 420کلوگرام آئس کرسٹل قبضے میں لے لی جس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مالیت4ارب90کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے۔
پی ایم ایس اے ہیڈکواٹرزمیں کسٹم حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ڈپٹی ڈی جی میری ٹائم سکیورٹی ایجسنی کموڈورعامراقبال خان کا کہنا تھا کہ کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کراچی کے ساتھ مشترکہ انسدادمنشیات آپریشن کے دوران کھلے سمندر میں منشیات کی بڑی کھیپ کی اسمگلنگ کو روکا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انٹیلیجس پرمبنی آپریشن کے دوران شمالی بحیرہ عرب سے لانچ سے 420کلوگرام آئس کرسٹل تحویل میں لی گئی،اس کارروائی کے دوران 5اسمگلرز کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔
ترجمان میری ٹائم سکیورٹی ایجسنی کمانڈرفاروق کا کہناتھا کہ مذکورہ کشتی کی پانچ روزسے مسلسل نگرانی کی جارہی تھی،ایران سے اسمگل ہونے والی منشیات کی یہ کھیپ مبینہ طورپریورپ کے مختلف ممالک کو اسمگل کی جانا تھی۔
پی ایم ایس اے حکام کے مطابق آپریشن میں بڑی مقدار میں منشیات کی ضبطگی اس بات کا ثبوت ہے کہ سمندر کی نگرانی پرمامورادارے کسی بھی غیر قانونی کام/مقاصد کے لیے پاکستانی پانیوں کے استعمال کو روکنے کے لیے چوکس اور پرعزم ہیں،پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی سمندر میں امن و امان قائم کرنے کے لیے اپنی قومی ذمہ داریوں کو نبھاتی رہے گی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس سینیٹر تاج حیدر کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔
سینیٹر میاں رضا ربانی کی جانب سے پیش کردہ ممبر پارلیمنٹز کے استحقاق بل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ممبر پارلیمنٹز کو سیاسی ایجنڈا کی تکمیل کے لیے زیر حراست رکھا جاتا ہے اور ماضی میں ممبر پارلیمنٹز کو حراست میں رکھنے کے حوالے سے پانچ صفحے پر مشتمل خط اسپیکر اور چئیرمین سینیٹ کو لکھ چکا ہوں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بھی کہہ چکی ہے کہ ممبر پارلیمنٹ کو اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ اسپیکر اسمبلی اور چئیرمین سینیٹ کو خط میں لکھا کہ موجودہ قانون کے مطابق ایسا ممکن نہیں اور اس حوالے سے قانُون سازی کی ضرورت ہوگی۔
سیکریٹری وزارت پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قومی اسمبلی نے اپنے رولز میں ترمیم کر لی ہے اور سینیٹ بھی ایسا کر سکتی ہے ۔اس پر سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ رولز میں ترمیم کافی نہیں، ایکٹ آف پارلیمنٹ مناسب ہوگا۔ سیکریٹری پارلیمانی امور نے بل کا نام ممبر پارلیمنٹ استثنی اور استحقاق بل رکھنے کی تجویز بھی دی۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے سینیٹر رضا ربانی کی جانب سے پیش کردہ ممبران سینیٹ اور قومی اسمبلی کے استحقاق اور استثنی کا بل، سینیٹر علی ظفر، سینیٹر ولید اقبال اور سیکریٹری پارلیمانی امور کی جانب سے تجویز کردہ ضروری ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا۔
کمیٹی اجلاس میں ایرا کے ملازمین کی برطرفی کے معاملہ پر بھی غور کیا گیا۔ سینیٹر تاج حیدر نے بتایا کہ اس وقت چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین ایرا دونوں کا عہدہ خالی ہے اور اسکو جواز بنا کر ایرا حکام نے کہا ہے کہ معاملے کو موخر کر دیا جائے۔ چالیس خاندانوں کے روزگار کا معاملہ ہے اور اسے ایسے ہی نہیں چھوڑ سکتے۔ سینیٹر افنان اللہ خان کا کہنا تھا کہ "ایرا میں تو جنگل کا قانون ہے اور غیر قانونی معاملات چل رہے ہیں۔ سابق چئرمین ایرا کو کمیٹی نے سفارش کی ، لیکن اس نے نہ کمیٹی تجویز پر عمل کیا، نہ ہی ہمیں جواب دیا۔ اس معاملے کو استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جائے”۔ کمیٹی نے ایرا حکام کی کمیٹی اجلاس میں غیر حاضری اور سفارشات پر عدم عمل درآمد کے حوالے سے خط لکھنے اور وزیر اعظم پاکستان کو بھی اس حوالے سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ ایرا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا تقرر جلد سے جلد کیا جائے۔
کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز، افنان اللہ خان، ولید اقبال، میاں رضا ربانی، بیرسٹر علی ظفر، پروفیسر ساجد میر، عابدہ محمد عظیم اور متعلقہ وزارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
سینئرممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب زاہد اختر زمان کی زیرصدارت اشٹام انسپکٹرز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ماہانہ اجلاس میں ممبر ٹیکسز نوید حیدر شیرازی اور چیف اسٹیمپ انسپکٹر محمد طارق سمیت دیگر افسران کی نے شرکت کی۔اجلاس میں سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو زاہد اختر زمان کو سی وی ٹی اور اسٹامپ ڈیوٹی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو زاہد اختر زمان نے ہدایت کی کہ تمام پرائیویٹ ہاوسنگ سوسائیٹز کا آڈٹ کیا جائے، آڈٹ نہ کروانے والی پرائیویٹ ہاوسنگ سوسائیٹز کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ ہاوسنگ سوسائیٹوں کو نوٹس دیے جائیں اور عملدرآمد نہ کرنے والی پرائیویٹ ہاوسنگ سوسائیٹز کو سیل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرائیویٹ ہاوسنگ سوسائیٹز میں خرید و فروخت کا تمام تر ریکارڈ رجسٹرار دفتر میں موجود ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جعلی اشٹام کی فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاون کیا جائے اور تمام انسپکٹرز اسٹیمپ وینڈرز کی روزانہ چیکنگ کو یقینی بنائیں۔ موبائل ایپ کے ذریعے اشٹام کی خریدوفرخت پر بھی کڑی نظر رکھی جائے۔انہوں نے کہا کہ رہائشی اور کمرشل بلڈنگز کی ٹرانسفر پر خصوصی بھی نظر رکھی جائے اور ٹرانسفر ہونے والی پراپرٹی کی تصاویر کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔انہوں نے اسٹیمپ انسپکٹرز کو ہدایت کی کہ رجسٹرار اور رجسٹری محرر کے دفاتر کے آڈٹ کو یقینی بنایا جائے اور ریکوری کو بروقت سرکاری خزانے میں جمع کروایا جائے۔انہوں نے کہا کہ تمام ڈویژن اور اضلاع میں اشٹام انسپکٹرز کے لیے دفاتر بنائیں جائیں گئے، اشٹام انسپکٹرز کا سروس سٹرکچر بنایا جائے گا اور نئے اشٹام انسپکٹر بھی بھرتی کیے جائیں گے۔
بعد ازاں سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو زاہد اختر زمان کی زیر صدارت کمیٹی روم میں پلس پراجیکٹ، ڈیجیٹل گردواری اور نئے بنائے جانے والے پورٹل سسٹم کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری ریونیو مہر شفقت اللہ مشتاق، ممبر ٹیکسز نوید حیدر شیرازی، ڈائریکٹر جنرل لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اکرام الحق سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں افسران نے سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو زاہد اختر زمان کو نئے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو زاہد اختر زمان نے کہا کہ ڈیجیٹل گردواری مکمل نہ کرنے والے اضلاع کو نوٹس جاری کیے جائیں۔انہوں نے90 فیصد سے کم ڈیجیٹل گردواری کرنے والے 16 اضلاع کو جلد از جلد گردواری مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کیں۔سنیئر ممبر نے کہا کہ حکومت کی خصوصی ہدایت پر شہریوں کی جائیداد کی محفوظ بنانے اور ویریفکیشن کے لیے نیا پورٹل سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے جس کے ذریعے شہری گھر بیٹھے اپنی جائیداد کی فرد ملکیت حاصل کر سکیں گے، ملکیت اور فرد بیع بھی شہری اپنے موبائل کے ذریعے ڈاون لوڈ کرکے پرنٹ حاصل کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بورڈ آف ریونیو کی جانب سے نیا پورٹل سسٹم شہریوں کو فراڈ سے بچانے کے لیے معاون ثابت ہو گا، جائیداد کا بیعانہ کرنے والے شہریوں کا ریکارڈ بھی پورٹل پر موجود ہو گا اور پورٹل پر جائیداد کی خرید و فروخت کا تمام ریکارڈ موجود ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ پورٹل پر کرایہ نامہ کی رجسٹریشن بھی کی جائے گی اور کرائے پر دی جانے والی جائیداد کا سابقہ ڈیٹا بھی پورٹل پر دیکھا جا سکے گا کہ پہلے کس کس کرایہ دار کو بلڈنگ یا مکان کرایہ پر دیا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ دیہی مراکز کا قیام حکومت کا اہم منصوبہ ہے جس سے ہزاروں شہری روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھر کی دہلیز پر استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دیہی مراکز مال میں آنے والے افراد کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔ایس ایم بی آر نے کہا کہ دیہی مراکز مال کے لئے چوکیدار سمیت دیگر عملہ بھی بھرتی کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بورڈ آف ریونیو کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کوشاں ہے
اسلام آباد میں کنٹینر ایسے پڑے ہیں جیسے کوئی اور ہی حالات ہیں. اسلام آباد ہائی کورٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد میں راستوں کی بندشسے متعلقا رپورٹ طلب کر لی۔ ریمارکس میں کہااسلام آباد میں کنٹینر ایسے پڑے ہیں جیسے کوئی اور ہی حالات ہیں۔ کنٹینر لگانے کی بجائے اور طریقے کیوں نہیں استعمال کرتے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اسلام آباد کے تاجروں کی پی ٹی آئی دھرنا کے باعث سڑکوں کی بندش کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر آئی جی اسلام آباد کو طلب کر لیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئی جی اسلام آباد سترہ نومبر کو راستوں کی بندش سے متعلق رپورٹ پیش کریں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟ پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ موٹروے وفاقی حکومت کے تحت ہے، کھلوا کیوں نہیں رہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ لاء اینڈ آرڈر صوبائی حکومت کا معاملہ ہے اس لیے بند ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پورے اسلام آباد میں کنٹینر ایسے پڑے ہیں جیسے کوئی اور ہی حالات ہیں،اچھی سی رائیٹس فورس کیوں نہیں بناتے کنٹینر کیوں لگاتے ہیں؟ کنٹینر لگانے کی بجائے اور طریقے کیوں نہیں استعمال کرتے. اسلام آباد کے تاجروں کی جانب سے درخواست میں کہا گیا تھا کہ دھرنےکا اعلان اور قائدین کی ہدایت پر سڑکیں بند کردی گئیں۔شہریوں اور تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں،پی ٹی آئی کو پابند کیا جائے دھرنا اور جلسے کا انعقاد اسلام آباد سے باہر کریں۔عدالت نے کیس کی سماعت سترہ نومبر تک ملتوی کر دی
لاہور:ارشد شریف کے متعلق وہ تمام غلط خبریں جن کی سچائی آپ جاننا چاہتے ہیں۔ ثبوتوں کے ساتھ اہم انکشافات کرتے ہوئے شنیئرصحافی مبشرلقمان اہم پہلو بیان کیئے ہیں
مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کے ساتھ ظلم ہوا ، اس کو قتل کردیا گیا ،لیکن اس سے بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ اس کے قتل سے متعلق اہم حقائق کو جان بوجھ کرتوڑمروڑ کرپیش کیا جارہا ہے تاکہ ارشد شریف کے اصل قاتل سامنے نہ آئیں ،ان کا کہنا تھا کہ جہاں اگرکینیائی حکام نے نااہلی کا ثبوت دیا ہے تو پاکستانی ڈاکٹرز نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ لوگ ارشد شریف کے قتل سے سیاسی طور پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ کسی بھی طرح درست نہیں ہے ،ان کایہ بھی کہنا تھا کہ ارشدشریف پر قتل سے پہلے تشدد کے قتل کی باتیں کررہے ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ارشد شریف پر کتنی دیر تک تشدد ہوا ،ناخن کس نے اتارے اور کیوں اتارے یہ بھی ابھی تک معمہ بنا ہوا ہے مگرآج اس معمے کو حل کرنے کی کوشش کروں گا
مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ ارشد شریف کا جو کینیا میں پوسٹ مارٹم ہوا اس رپورٹ کے صفحہ نمبر 2لکھا ہوا ہے کہ ایک گولی ارشد شریف کے کان کے بہت قریب لگی اور دوسری کان سے نیچے تیس سینٹی میٹر دائیں طرف لگی یعنی اس کا اشارہ دل کی طرف جارہا ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ کی چھوٹے خودکارہتھیار سے چلائی گئی، یہ معلوم نہیں کہ پہلے گولی کہان لگی ، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نیچے نظرماریں تو جو وزارت خارجہ نے کچھ لکھا ہے وہ بھی واضح ہورہا ہے کہ جو گولی کنپٹی پر لگی جہاں سے لگی وہاں سے نکلی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مقام ایک ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ایک گولی پیچھے کمرسے لگی اور سینہ چیرتی ہوئی آگے نکل گئی
ارشد شریف پر کتنا تشدد ہوا آج تک کوئی ایسے ایکسپرٹ نہیں جو یہ اندازہ لگا سکیں کہ کتنے گھنٹے تشدد ہوا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ارشد شریف کےناخن نکالنے کے حوالے سے بھی بہت غلط بیانی کی گئی ، لیکن دوسری طرف پوسٹ مارٹم پرلکھا ہوا ہے کہ ڈی این اے کے لیے ارشد شریف کے ناخن رکھے ہوئے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گردے ، جلد ، خون کے سیمپل ،معدے اور جگر کے کچھ حصے بھی ارشد شریف کے جسم سے نکالے گئے ، ان کو حاصل کرنےکے لیے یقینا کٹ لگایا گیا ہے
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں جس طرح ارشد شریف پرپوسٹ مارٹم کرنے کے لیے جوطریقہ اختیارکیا گیا وہ قابل شرم ہے ،دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ارشد شریف پر تشدد کیا گیا جس کی وجہ سے اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں ، ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کو جتنی قریب سے گولیاں ماری گئیں اس سے تو پسلیوں کو ڈیمج ہونے سے کوئی نہیں روک سکتااس گولی نے کتنی پسلیوں کو ڈیمج کیا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ،
ان کا کہنا تھا کہ پسلیاں کیسے ٹوٹیں یہ تو بعد میں بتائیں گے لیکن یہ ظاہر ہے کہ ارشد شریف کو بہت قریب سے گولیاں ماری گئیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپنی مرضی کی رپورٹ لینے کےلیے ڈاکٹرلگادیئے گئے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ سارے کے سارے پمز کے ڈاکٹرز ہیں،پروفیسر ڈاکٹر وقارہیں جو کہ سرجری کے ماہر ہیں ان کا پوسٹ مارٹم سے کیا تعلق ، ایسے ہی پروفیسر لال رحمن جو کہ نیوروسرجن ہیں ، پروفیسر ممتازخان نیازی جنرل سرجن ، پروفیسر فرخ کمال فرانزک اسپیشلسٹ،ڈاکٹرنسرین بٹ میڈیکل آفیسر اور ڈاکٹرمحمد ارشاد حسین بھی ایک عام ڈاکٹرہیں ، ان کا پوسٹ مارٹم سے کیا تعلق ہے ،
ڈاکٹرالطاف حسین ای این ٹی ،ڈاکٹرعمرفاروق اس پینل میں شامل ہیں، ان کہنا تھا کہ جس ایک فرانزک اسپیلسٹ شامل کیا گیا اسی ڈاکٹرفرخ کمال کی تعلیم کا کوئی پتہ نہیں کہ کس شعبے میں ماہر ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں جو کینیا میں تیار ہوئی ، کہا گیا کہ اس کہ نہ داڑھی تھی اور نہ موچھیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ لوگ بتائیں گے کہ ارشد شریف کے ساتھ کیا ہوا
ان کا یہ بھی کہنا تھا ، اس بورڈ نے کینیا سے آنے والے پوسٹ مارٹم کو ہی بنیاد بنا کر کہانی لکھ دی ، ان کا کہنا تھا پھپھڑوں کو بھی گولی لگنے سے نقصان پہنچ سکتا تھے، ان کہنا تھا کہ میں نے یہ فیصلہ اسلیے کیا کہ ہمیں ادھر ادھر کی باتوں اور قیاس ارائیوں سے بچنا چاہیے ، ان کا کہنا تھاکہ ہمیں کینیا کے ماہرین ڈاکٹرز کی رپورٹ کو ہی بنیاد بنا لیا ایسےنہیں ہونا چاییے تھا ،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگ کے رہنما، وزیراعظم کے مشیر عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے ہم پر مقدمات سیاسی مخالفت کی بنا پر بنائے جارہے ہیں،پہلے بھی جھوٹے مقدمات کا سامنا کیا ہے۔
عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے وزیرآباد واقعے میں پرویز الہی ملوث ہوں، یہ جائز نہیں کہ مرضی کا پرچہ دیں، پرچہ پرویز الہیٰ پر دیں جس کی حکومت تھی، چار لوگ شہید ہوئے، سیکورٹی پنجاب حکومت کی ذمہ داری تھی، سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے ہو سکتا ہے وزیرآباد واقعہ مین پرویز الہیٰ کا ہاتھ ہو،ہم گھبرانے والے نہیں، تحریک انصاف اپنے لئے الگ قانون چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کو سکیورٹی کی فراہمی پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہے۔
قبل ازیں گوجرانوالہ کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عمران خان کو دھمکیاں دینے کے کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا اللہ تارڑ، سائرہ تارڑ اور محمد بخش تارڑ کی عبوری ضمانت میں سات روز کی توسیع کردی عدالت نے حکم دیا کہ عطا اللہ تارڑ، سائرہ تارڑ اور محمد بخش تارڑ 21 نومبر کو دوبارہ پیش ہوں گے۔
راولپنڈی چائلڈ بیورو کی 18 بچوں کے لواحقین کی تلاش میں مدد کی اپیل
چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر بیورو راولپنڈی کی تحویل میں موجود 18 گمشدہ و لاوارث بچوں کے لواحقین کی تلاش جاری ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق17 لاکھ 83 ہزار سے زائد مسلمان فضائی سفر طے کرکے ارض مقدس عمرہ کرنے پہنچے.
گزشتہ ساڑھے 3 ماہ کے دوران عمرہ کی ادائیگی کے لئے 3 لاکھ 70 ہزار خوش نصیب پاکستانی سعودی عرب پہنچے ہیں۔ سعودی عرب عمرہ سیزن یکم محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے اور 20 ذوالقعدہ تک جاری رہتا ہے۔ 21 ذوالقعدہ سے 30 ذوالحجہ تک حج سیزن کہا جاتا ہے۔ سعودی عرب میں رواں برس عمرہ سیزن کا آغاز 30 جولائی 2022 سے شروع ہوا۔
توشہ خانہ ریفرنس، عمران خان کیخلاف فوجداری مقدمہ کے لیے ریفرنس ٹرائل کورٹ بھیج دیا گیا
الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بھجوا دیا ،الیکشن کمیشن کے مطابق ٹرائل کورٹ عمران خان پر کرپٹ پریکٹس کا ٹرائل کرے،الیکشن کمیشن نے عمران خان کیخلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیا تھا ریفرنس الیکشن ایکٹ کے سیکشن 137 ،170 ،167 کے تحت بھیجا گیا
واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن عمران خان کو نااہل کر چکا ہے،اب نیب نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں، نیب نے توشہ خانہ کے حوالہ سے سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق صدر آصف زرداری، سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف بھی تحقیقات کی تھیں،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 63 ون کے تحت نااہل قراردیا تھا،الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ عمران خان کی نااہلی 5 رکنی کمیشن کا متفقہ فیصلہ ہے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے غلط گوشوارے جمع کروائے
توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا تھا،
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا یہ ایسی چوری ہے جس میں مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی سب کچھ ثابت ہے
یو ٹرن ماسٹر نے انٹرویو میں جھوٹ کا اعتراف کر لیا،پیپلز پارٹی
سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی نیئر بخاری نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکی سازش بیانیہ اور دستبرداری پر عمران خان کو پارلیمانی کمیشن میں طلب کرکے آئین کا نفاز کیا جائے،
سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ غیر ملکی اخبار کو انٹرویو میں سائفر بیانیہ سے دستبرداری من گھڑت سازش کا اعتراف جرم ہے، وزیراعظم کا عہدہ حاصل کرنے والے عمران خان نے اپنے ماتھے پر "حب الوطنی” سے ناآشنا شخص کا داغ سجایا ہے، قومی سلامتی اداروں کے خلاف گھناونی سازش کا جھوٹا پلندا لہرانے والے اپنا گندہ کردار سامنے لے آیا ہے، یو ٹرن ماسٹر نے انٹرویو میں جھوٹ کا اعتراف کیا ہے بیرونی سازش بیانیہ سے دستبرداری اعلان سے عمران خان کی سازشی ذہنیت آشکار ہو گئی ہے، قومی مفاد کو داؤ پر لگانے والے عمران نیازی کی ملک دشمنی کے مترادف گہرا گھاؤ لگانے کی سازش ناکام بنائی گئی،
نیئر بخاری کا مزید کہنا تھا کہ ماضی قریب میں افواج پاکستان کو متنازعہ بنانے اور بغاوت پر اکسانے والے کا اصل کردار کھل کر سامنے آگیا ہے،یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ اپوزیشن نے سازشی کو نکال کر قومی خدمت سر انجام دی ہے،اپوزیشن نے ملک کے لئے خطر ناک بننے والے عمران خان کو آئینی ہتھیار سے بر وقت باہر نکال کر کسی بڑے سانحے سے بچایا، دشمن ممالک کے شہریوں کے ممنوعہ فنڈز پر پلنے والے عمران خان کا سازشی بیانیہ مودی یاری اور خوشنودی کے مترادف تھا،
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکی سازش کا بیانیہ ختم، اب امریکہ سے اچھے تعلقات زندگی کی آخری خواہش ھے۔عمران خان امریکی سازش کے بیانیے کو پیچھے چھوڑ کر امریکا کے ساتھ پھر سے اچھے تعلقات قائم کرنے پر تیار ہوگئے۔برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ امریکی سازش کا معاملہ ختم ہوچکا۔ پاکستان کو دنیا بھر خاص طور پر امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہییں۔پاکستان اور امریکا کے تعلقات غلام اور مالک کے رہے ہیں، لیکن اس میں بھی زیادہ قصور پاکستانی حکومتوں کا تھا۔