Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • بابا بلھے شاہ کے نام سے منسوب فلم پر سینیٹ قائمہ کمیٹی  برہم، سینسر بورڈ اور پروڈیوسر طلب

    بابا بلھے شاہ کے نام سے منسوب فلم پر سینیٹ قائمہ کمیٹی برہم، سینسر بورڈ اور پروڈیوسر طلب

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے بابا بلھے شاہ کے نام سے منسوب فلم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں مرکزی فلم سینسر بورڈ کے حکام اور فلم کے پروڈیوسر کو طلب کر لیا۔

    کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ حضرت بابا بلھے شاہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، ان کا کلام آج بھی لوگوں کو ازبر ہے اور انہوں نے ہمیشہ محبت، امن اور انسان دوستی کا درس دیاایک فلم کے ذریعے بابا بلھے شاہ کے نام کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی، جس میں ایک بندوق بردار کردار کے ساتھ ’بلھا‘ کا نام جوڑا گیا۔

    سینیٹر پرویز رشید نے سوال اٹھایا کہ سینسر بورڈ نے اس فلم کو منظوری کیسے دی، جبکہ چیئرمین سینسر بورڈ اس حوالے سے تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے فلم میں کردار یہ مکالمہ بولتا ہے کہ ’وہ کل کا بلھا تھا، میں آج کا بلھا ہوں‘، جو بابا بلھے شاہ کی شخصیت اور تعلیمات کے منافی ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ فلم میں ’بلھا‘ نامی کردار کا بابا بلھے شاہ سے تعلق ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم ان کے نزدیک بھی اس نوعیت کی فلم میں یہ نام استعمال نہیں ہونا چاہیے تھا بابا بلھے شاہ کی تعلیمات امن، محبت اور رواداری پر مبنی تھیں، جبکہ فلم میں تشدد اور قتل و غارت کو دکھایا گیا ہے۔

    وزیر اطلاعات نے تجویز دی کہ فلم کے پروڈیوسر اور سینسر بورڈ حکام کو طلب کرکے اس معاملے پر وضاحت لی جائے، جبکہ سینیٹر پرویز رشید نے معاملہ اسی قائمہ کمیٹی میں زیرِ بحث رکھنے پر زور دیا،بعد ازاں قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں مرکزی فلم سینسر بورڈ کے حکام اور فلم کے پروڈیوسر کو طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا تاکہ معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔

  • وزیراعظم نےکاروباری برادری کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا

    وزیراعظم نےکاروباری برادری کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کاروباری برادری کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور کہا کہ انہیں پیداوار بڑھانے اور برآمدات کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔

    وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات پرجائزہ اجلاس منعقد ہوا، جسمیں ملک کے ٹیکس نظام میں جاری اصلاحات اور بہتری کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کاروباری برادری کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور کہا کہ انہیں پیداوار بڑھانے اور بر آ مدات کےفروغ کے لیےہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی-

    ایف بی آر کے کردار کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کاروباری طبقے کے ساتھ مکمل تعاون کرے اور ان کے جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرےوزیراعظم نے ایف بی آر کے سینئر افسران کو ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی کا دورہ کرنے کی ہدایت دی تاکہ کاروبا ر ی برادری سے براہِ راست رابطہ قائم ہو سکے اور ان کے مسائل کو بلاتاخیر حل کیا جا سکے، اس کے علاوہ، ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والی کمپنیوں کی سر کاری سطح پر حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کا اعتراف بھی کیا جائے گا-

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کا حتمی مقصد کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا، اور ٹیکس کے نظام کو مزید شفاف اور آسان بنانا ہے تاکہ کارو باری برادری کا اعتماد بڑھ سکے،اجلاس کے دوران ایف بی آر حکام نے وزیراعظم کو کارکردگی اور جاری اصلاحات کے نفاذ پر بریفنگ دی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ شوگر، سیمنٹ، ٹوبیکو، ٹائلز اور فرٹیلائزرز کی صنعتوں میں پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کامیابی سے نصب کیا جا چکا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل اور مشروبا ت کی صنعتوں میں اس نظام کی تنصیب کا عمل جاری ہے،پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں گزشتہ ایک سال کے دورا ن شوگر انڈسٹری میں 42 بلین روپے، سیمنٹ انڈسٹری میں 38 بلین روپے، اور بیوریجز انڈسٹری میں 15 بلین روپے کا اضافی ٹیکس اکٹھا ہوا ہے۔

    اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

  • اسحاق ڈار سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات

    اسحاق ڈار سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات

    شنگھائی تعاون تنظیم یعنی ایس سی او کے سیکریٹری جنرل نورلان یرمیکبایف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کی –

    ملاقات میں تنظیم کی ترجیحات، رکن ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ اور علاقائی و بین الاقوامی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات کے دور ان دونوں رہنماؤں نے ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، ٹرانسپورٹ اور علاقائی رابطہ کاری سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقہ کار پر مفید گفتگو کی۔

    ایس سی او کے سیکریٹری جنرل نورلان یرمیکبایف نے خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا،انہوں نے ایس سی او کی مؤثریت اور کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے اپنی تجاویز بھی پیش کیں اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہونے والے ایس سی او کونسل آف فارن منسٹرز کے آئندہ اجلاس کی تیاریوں سے آگاہ کیا۔

    اسحاق ڈار نے ایس سی او کے مقاصد کے فروغ کے لیے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ستمبر 2026 میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی چیئرمین شپ سنبھالنے سے قبل تمام رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے تیار ہے،انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کامیاب انداز میں کرے گا۔

  • وزیراعظم سے اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر کی ملاقات

    وزیراعظم سے اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور و ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی،

    ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ، چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے،ملاقات میں عالمی انسانی بحرانوں، موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز، غزہ اور افغانستان کی صورت حال سمیت باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا بھر میں پیچیدہ انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے رابطہ انسانی امور یعنی او سی ایچ اے کی خدما ت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران ادارے کی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہےانہوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے کی قومی صلاحیت مضبوط بنانے میں او سی ایچ اے کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے قومی اور صوبائی اداروں نے گزشتہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی قدرتی آفات سے نمٹنے کی استعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے، تاہم موسمیاتی خطرات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور تمام سطحوں پر رابطے اور تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

    اس موقع پر ٹام فلیچر نے پاکستان اور او سی ایچ اے کے درمیان گزشتہ برسوں سے جاری قریبی تعاون کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا انہوں نے کہا کہ پائیدار امن ہی جنگوں سے جنم لینے والے انسانی اور معاشی بحرانوں سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

    ٹام فلیچر نے وزیراعظم کو غزہ میں انسانی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کے دوران او سی ایچ اے کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا،انہوں نے افغانستان میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے او سی ایچ اے کی کوششوں میں پاکستان کے مسلسل تعاون کو بھی سراہا۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی انسانی تعاون کے فروغ، قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور متاثرہ و کمزور طبقات تک بروقت امداد کی فراہمی کے لیے اقوام متحدہ اور او سی ایچ اے کے ساتھ اپنا قریبی تعاون آئندہ بھی جاری رکھے گا۔

  • فوج کے جوانوں کی قربانیاں اور اعزازات پوری قوم کا فخر اور سرمایہ ہیں،ملک محمد احمد خان

    فوج کے جوانوں کی قربانیاں اور اعزازات پوری قوم کا فخر اور سرمایہ ہیں،ملک محمد احمد خان

    اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ شہدا کی تضحیک کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور اس معاملے پر مولانا فضل الرحمان کو پوری قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر قومی اداروں اور شہدا کے احترام پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔

    لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) ایک بڑی سیاسی قوت ہے، تاہم مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان سے انہیں شدید اختلاف ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد بھی اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی۔

    انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان کی توہین چاہے الفاظ سے ہو یا کسی عمل کے ذریعے، ناقابلِ برداشت ہے، جبکہ فوج کے جوانوں کی قربانیاں اور اعزازات پوری قوم کا فخر اور سرمایہ ہیں، کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما کو قومی جذبات اور حساس معاملات کا خیال رکھنا چاہیے ریاستی اداروں کے کردار پر بحث ہو سکتی ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ ناگزیر ہے۔

    ملک محمد احمد خان نے کہا کہ کسی بھی دہشتگرد، خواہ اس کا تعلق کسی بھی گروہ سے ہو، اس کے ساتھ ریاست کے مذاکرات مناسب نہیں دہشتگردوں کو سیاسی جدوجہد کرنے والوں کے برابر نہیں رکھا جا سکتا ،جو عناصر مساجد، امام بارگاہوں، عدالتوں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، ان سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی ٹرین حملے اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے اعترافات کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا افواجِ پاکستان دہشت گردوں سے مذاکرات کرے یا ان کے خلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر دہشتگرد اگر اکثریت کو یرغمال بنانے کی کوشش کریں تو ریاست اور افو اجِ پاکستان کی ذمہ داری واضح ہے، تاہم اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کی خاموشی قابلِ سوال ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عناصر کو دوبارہ ملک میں خوف و ہراس پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ماضی کے مذاکرات اور ان کے نتائج کا بھی غیرجا نبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے، جبکہ داتا دربار، آرمی پبلک اسکول پشاور اور دیگر دہشتگرد حملوں کے شہدا کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا،پوری قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے اور ملک میں پائیدار امن کا قیام سب کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ عمران خان کی تحریک اگر فوج کے سیاسی کردار کے خلاف ہوتی تو وہ اس کی حمایت کرتے، لیکن فوج کی مدد سے اقتدار میں آنا اور پھر فوج کے غیرجانبدار ہونے پر اس کی مخالفت کرنا درست طرزِ عمل نہیں، انہوں نے پرویز الٰہی، متحدہ مجلس عمل اور ماضی کی سیاسی جماعتوں کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ادوار میں سیاسی جماعتوں کے مؤقف تبدیل ہوتے رہے ہیں، اس لیے سیاسی بیانات میں تسلسل اور ذمہ داری ضر وری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ کہے کہ پاکستان کی حفاظت پر مامور جوان صرف تنخواہ کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں تو یہ شہدا اور قومی جذبات کی توہین ہے، ایسے بیانات نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ قومی مفاد کے بھی منافی ہیں، 2014 کے دھرنے کی بنیاد انتخابی عمل پر اعتراضات اور 4 حلقوں کی تحقیقات کا مطالبہ تھا۔ بعد ازاں عدالتی فیصلوں میں بعض انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ضرور ہوئی، تاہم انہیں منظم دھاندلی قرار نہیں دیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ آر ٹی ایس، فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق اعتراضات کے حل کے لیے پارلیمانی اور قانونی فورمز کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا تھا، مگر ایسا نہیں کیا گیا انتخابی معاملات پر احتجاج کے باوجود آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنا ہی جمہوری روایت ہے عالمی حالات کے تناظر میں قو می معاملات پر سنجیدگی، ذمہ داری اور اتحاد کا مظاہرہ وقت کی اہم ضرورت ہے پاکستان کی سفارتی کامیابیوں، امن کے اقدامات اور د ہشتگردی کے خلاف ریاستی مؤقف کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ شہدا کی قربانیوں کو پوری قوم قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور شہدا کے اہلِخانہ کے جذبات کا احترام ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے، کیونکہ ایک شہید کی قربانی پوری قوم کے امن اور سلامتی کی ضمانت بنتی ہے سیاسی جماعتوں کے مؤقف میں اصولی یکسانیت ہونی چاہیے اور وقتی مفادا ت کے تحت مؤقف تبدیل نہیں ہونا چاہیے، اگر فوج کے سیاسی کردار پر اعتراض کیا جاتا ہے تو یہی اصول ہر دور اور ہر حکومت پر یکساں طور پر لاگو ہونا چا ہیے۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی سیاسی حکومتوں کے قیام اور مختلف فیصلوں میں فوج کے کردار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، اس لیے سیاسی جماعتوں کو اپنےسابقہ فیصلوں اور موجودہ مؤقف کےدرمیان تضاد کا بھی جائزہ لینا چاہیےانتخابی اعتراضات کاحل سڑکوں کے بجائے آئینی اور قانونی فورمزخصوصاً الیکشن ٹریبونلز کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ چند انتخابی درخواستوں یا تنازعات کی بنیاد پر پورے انتخابی نظام کو متنازع قرار دینا مناسب نہیں۔

    انہوں نے زور دیا کہ انتخابات پر عوام کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے شفاف نظام اور تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اس امر پر اتفاق ضروری ہے کہ انتخابی نتائج کو کس آئینی طریقۂ کار کے تحت تسلیم یا چیلنج کیا جائےسوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات اور گمراہ کن بیانیے قومی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، اس لیے قومی معاملات پر گفتگو ہمیشہ حقائق، ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ ہونی چاہیے۔

    ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان کو مغربی سرحد، بلوچستان اور دہشتگردی سمیت متعدد سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں اور عوام کا متحد ہونا ناگزیر ہے دہشت گردی کے الزامات اور ریاستی مؤقف میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے، جبکہ پاکستان نے دہشت گر د ی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، سیاسی بیانیوں سے بڑھ کر قومی اداروں، افواجِ پاکستان اور شہدا کے وقار کا تحفظ ہی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔

  • شہدا کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی،مولانا طاہر اشرفی

    شہدا کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی،مولانا طاہر اشرفی

    چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ جو ہماری حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرے، اس کی توہین کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ہمراہ کراچی میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ دہشتگرد ملک کے امن کے دشمن ہیں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے جوان مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ افوا جِ پاکستان کے جوان چند ہزار روپے تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ وطن کے دفاع اور شہادت کے جذبے کے ساتھ سرحدوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

    حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ شہدا کی قربانی کا کوئی مالی معاوضہ نہیں ہو سکتا، شہادت مومن کا اعلیٰ مقام اور باعثِ فخر ہے، جبکہ اسلامی ریاست کے محافظو ں کی خدمات اور قربانیاں انتہائی قابلِ احترام ہیں انہوں نے کہا کہ جو ہماری حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرے، اس کی توہین کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔

    حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی کو اپنے شہدا کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دیں گے سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ قومی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کا حوصلہ بلند کریں اور سیاسی اختلافات کو اداروں پر تنقید کا ذریعہ نہ بنائیں۔

    پاکستان آج دنیا میں امن کے داعی کے طور پر ابھر رہا ہے، اس لیے قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہےسیاست کے میدان میں سیاست ہونی چاہیے، اداروں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے کا کسی کو حق حاصل نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ شہدا کے اہلِخانہ کے دکھ میں پوری قوم برابر کی شریک ہے، جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ریاست اور قومی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہےفتنۂ الخوارج اور دیگر دشمن عناصر کو قوم اچھی طرح پہچان چکی ہے، اس لیے دانستہ یا نادانستہ کسی بھی دشمن یا دہشتگرد کا سہولتکار نہیں بننا چاہیے۔

    نیوز کانفرنس کے دوران حافظ طاہر اشرفی جذباتی اور افسردہ بھی ہوگئے اور انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ افواجِ پاکستان اور شہدا کی عزت و حرمت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ صوفیا کرام کی دھرتی ہے، جہاں حضرت لعل شہباز قلندرؒ اور حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ جیسے عظیم بزرگوں نے محبت، رواداری اور اخوت کا درس دیا سندھ کی سرزمین ہمیشہ امن، بھائی چارے اور انسان دوستی کا پیغام دیتی آئی ہے، اسی روایت کو مزید مضبوط بنا نے کی ضرورت ہے۔

    ے کہا کہ سندھ حکومت قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی تاکہ ملک میں اتحاد، ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں کی جا سکیں اگر ہم سب اخلاص کے ساتھ امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ضرور مدد فرمائے گا،معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر ہوا ہے اور پوری قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے پاک فوج کی قربانیاں قوم کے لیے با عثِ عزت ہیں اور ملکی سلامتی، استحکام اور امن کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

  • شادی سے انکار پر شخص نے خاتون پر آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگادی

    شادی سے انکار پر شخص نے خاتون پر آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگادی

    لاہور: والٹن روڈ پر شادی سے انکار پر ایک شخص نے خاتون پر آتش گیر مادہ پھینک کر اُسے آگ لگا دی جبکہ واقعے کے دوران ملزم خود بھی آگ کی لپیٹ میں آ کر جھلس گیا، جس کے بعد متاثرہ خاتون اور زخمی ملزم دونوں کو جناح اسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا۔

    چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے جناح اسپتال لاہور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے متاثرہ خاتون سے ملاقات کرکے اس کی خیریت دریافت کی اور اسے انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی،انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اور پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی متاثرہ خاتون کے ساتھ ہیں اس موقع پر انہوں نے ایم ایس، ڈاکٹرز اور اسپتال انتظامیہ سے متاثرہ خاتون کے علاج سے متعلق بریفنگ بھی لی۔

    حنا پرویز بٹ نے اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ متاثرہ خاتون کو ہر قسم کی بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی واقعے کا مقدمہ تھانہ فیکٹری ایریا میں درج کر لیا گیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خاتون اپنے 4 سالہ بیٹے کو مدرسے میں داخل کروانے کے لیے لے کر جا رہی تھی گلی میں پہنچنے پر ملزم نے اسے روک کر تنگ کرنا شروع کر دیا خاتون کے شور مچانے پر ملزم نے اس پر آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگا دی جس کے نتیجے میں خاتون کے چہرے، بال اور جسم کے مختلف حصے جھلس گئے۔

    حنا پرویز بٹ کے مطابق ملزم پہلے بھی 2 شادیاں کر چکا تھا اور اس کی دونوں بیویاں ناراض ہو کر میکے چلی گئی تھیں بیویوں کی ناراضی کے بعد ملزم نے اپنی پڑوسی خاتون سے دوستی کی اور 3 بچوں کی ماں کو خلع لے کر اس سے شادی کرنے کا مطالبہ کیا، خاتون کے انکار پر ملزم طیش میں آ گیا اور اس نے خاتون کو آگ لگا دی۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنا، دباؤ ڈالنا یا شادی کے لیے مجبور کرنا ناقابل برداشت جرم ہے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا واضح پیغام ہے کہ خواتین ہماری ریڈ لائن ہیں، خواتین پر تشدد کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ملزم کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔ پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی متاثرہ خاتون کو قانونی، طبی اور ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔ خواتین پر تشدد اور ہراسگی میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

  • ملکی اداروں کیخلاف متنازع بیان:عدالت نے مولانا فضل الرحمان کو طلب کر لیا

    ملکی اداروں کیخلاف متنازع بیان:عدالت نے مولانا فضل الرحمان کو طلب کر لیا

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ایک متنازع بیان کے خلاف گوجرانوالا کی عدالت میں پٹیشن دائر کردی گئی ہے، جس پر عدالت نے انہیں 28 جولائی کو طلب کرلیا ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نےپنجاب کے شہر قصور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ملکی اداروں اور خاص طور پر فوج کے حوالے سے سخت اور متنازع گفتگو کی تھی اس دوران انہوں نے فوجی جوانوں کی شہادت کے حوالے سے بھی ایک انتہائی متنازع بیان دیا تھا،اس بیان کے خلاف گوجرانوالا میں ایک سینئر وکیل کی جانب سے پٹیشن دائر کی گئی ہے، جس پر کارروائی کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو 28 جولائی کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔

    دوسری جانب کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مذہبی رہنما مولانا حافظ طاہر اشرفی پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور شہداء کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے انہوں نے سیکیورٹی اداروں پر ہونے والی تنقید اور متنازع بیانات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں شہداء کے اہلِ خانہ سے معافی مانگتا ہوں کیونکہ شہداء کے لواحقین ان بیانات سے شدید غمزدہ ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان پر مجھے فخر ہے اور شہداء ہمارے سر کا تاج ہیں، اس لیے شہداء کے والدین کی دل آزاری کسی بھی صورت قبول نہیں کی جا سکتی، مولانا طاہر اشرفی نے سیکیورٹی اداروں کے جوانوں کی خدمات کا اعتراف کرتےہوئےواضح کیا کہ دہشت گرد اس ملک کے امن کے دشمن ہیں جبکہ ملک کے اندر ہماری فورسز کے جوان مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔

    انہوں نے زور دے کر کہا کہ فورسز کے جوان محض تنخواہ کے لیے سرحدوں کی حفاظت نہیں کر رہے بلکہ یہ جوان ہمارے اور ہمارے وطن کے پرامن مستقبل کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں پاکستان اس وقت دنیا میں امن کے داعی کے طور پر ابھر رہا ہے اور اس امن کے پیچھے ان جوانوں کا خون شامل ہے۔

    انہوں نے ملک کے سیاسی رہنماؤں کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سیاستدان ہمارے سیکیورٹی اداروں کو اپنی تنقید کا نشانہ نہ بنائیں بلکہ سیاستدانوں کا اصل کام یہ ہے کہ وہ مشکل وقت میں ہمارے جوانوں کا حوصلہ بڑھائیں سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ سیاست کے میدان میں سیاست کریں، اداروں پر سیا ست کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں ہے اور ہم آئندہ فورسز کے جوانوں کی توہین کرنے کی کسی کو بھی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

    مولانا فضل الرحمان کے مبینہ خطاب پر وفاقی وزراء اور دیگر سیاست دانوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل اور مذمت کا سلسلہ شروع ہوا اور ملک کی سیاسی قیادت نے اُن سے معافی کا مطالبہ کیا۔

  • امریکی حملوں میں 30 سے زائد ایرانی شہری اور 7 فوجی جاں بحق، 260 سے زائد زخمی

    امریکی حملوں میں 30 سے زائد ایرانی شہری اور 7 فوجی جاں بحق، 260 سے زائد زخمی

    ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران جنوبی ایران پر ہونے والے امریکی حملوں میں 30 سے زائد عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

    ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم سوگوار خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کی یاد کو سلام پیش کرتے ہیں حکومت اپنی پوری طاقت کے ساتھ عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی کیونکہ جنوبی ایرا ن اس سرزمین کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔

    دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ جنوب مشرقی ایران میں واقع ایران شہر کے بمپور گیریژن پر امریکی میزائل حملوں میں سات ایرانی فوجی جاں بحق ہوئے ہیں ایرانی فوج نے اس کارروائی کو بزدلانہ جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس جرم کا مناسب وقت پر فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

    ایرانی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق، امریکی فوج کی جانب سے تیرہ میزائلوں کے ذریعے بمپور کی بیرکوں پر حملہ کیا گیا جس سے 388 ویں بریگیڈ کے سات اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ان کے دفاعی اقدامات کی وجہ سے جانی نقصان کو ایک حد تک محدود رکھنے میں مدد ملی، ورنہ امریکی حملوں کا مقصد گیسٹ ہاؤس، گارڈ پوسٹس اور رہائشی تنصیبات کو نشانہ بنا کر زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔

    ایران کی وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمانپور نے بتایا کہ حالیہ امریکی حملوں میں 260 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 222 افراد کو ضرور ی طبی امداد کی فراہمی کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں جن کی عمریں 18 سال سے کم ہیں، جبکہ ان مخصوص حملوں میں کم از کم دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    واضح رہے کہ امریکی افواج نے ایران کی بندرگاہوں پر دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ درجنوں ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پانچویں دن بھی لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔

  • بلوچستان میں آپریشن شعبان جاری، مزید 3 خوارج ہلاک

    بلوچستان میں آپریشن شعبان جاری، مزید 3 خوارج ہلاک

    بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کا مشترکہ ”آپریشن شعبان“ بھرپور انداز میں جاری ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کی مشترکہ کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، جن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے تازہ کارروائیوں میں مزید 3 خارجی دہشت گرد ہلاک ہونےکی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کےبعد آپریشن شعبان کےدوران ہلاک ہونےوالے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 88 ہو گئی ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 5 جولائی سے اب تک آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 126 خارجی دہشت گرد مارے جا چکے ہیں سیکیورٹی فورسز کی زمینی اور فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور ان کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں، بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک آپریشن شعبان بلا تعطل جاری رہےگا اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں اسی شدت سے جاری رکھی جائیں گی۔