Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پنجاب کے وزیر تعلیم  کا اپنا بیٹا بھی سرکاری اسکول میں زیر تعلیم ہے،مریم نواز

    پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پنجاب کے وزیر تعلیم کا اپنا بیٹا بھی سرکاری اسکول میں زیر تعلیم ہے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عارف والا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سرکاری اسکولوں کو جدید تعلیمی اداروں میں تبدیل کر رہی ہے، جہاں غریب اور امیر کے بچوں کو یکساں سہولتیں اور مواقع میسر ہوں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عارف والا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ وہ بارشوں کے موسم میں بچوں کو غیر محفوظ مقامات پر نہ بھیجیں،حالیہ دنوں میں ایک زیرِ تعمیر مکان کی چھت گرنے سے 14 بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جس کا انہیں بے حد دکھ ہے جب بھی کسی بچے کے نا لے، ٹرین یا کھلے مین ہول میں گرنے کی خبر سنتی ہوں تو شدید تکلیف ہوتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو کھلے مین ہول بند کرنے کی ہدایات دے رہی ہے، تاہم بعض شرپسند عناصر رات کے وقت ان کے ڈھکن چرا لیتے ہیں، جس سے شہریوں خصوصاً بچوں کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے ان پر پنجاب کے 13 کروڑ عوام اور لاکھوں طلبہ کی ذمہ داری ہے، اسی لیے حکومت تعلیم اور طلبہ کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جن بچوں کے پاس معیاری سفری سہولت نہیں، ان کے لیے گرین الیکٹرک بسوں کا دائرہ کار مسلسل بڑھایا جا رہا ہے تاکہ وہ محفوظ اور آرا م دہ سفر کر سکیں،وزیراعلیٰ نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ فخر سے کہیں کہ وہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ حکومت نے سرکاری اسکولوں میں بھی وہی سہولتیں فراہم کرنے کا عزم کیا ہے جو مہنگے نجی تعلیمی اداروں میں دستیاب ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تعلیم سب سے بڑی برابری پیدا کرنے والی قوت ہے اور اعلیٰ تعلیم انسان کے لیے ترقی کے نئے راستے کھول دیتی ہے نواز شریف سکول آف ایمیننس میں داخلوں کے لیے غیرمعمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی، جہاں ایک ہزار نشستوں کے لیے پانچ پانچ ہزار طلبہ نے ٹیسٹ دیا ان اسکولوں میں ایک ڈی ایس پی کا بچہ بھی پڑھتا ہے اور ایک مزدور کا بچہ بھی، کیونکہ ٹیلنٹ کا تعلق دولت سے نہیں ہونا چاہیے۔

    مریم نواز نے اعلان کیا کہ طلبہ کے لیے ایک لاکھ لیپ ٹاپ اور مزید 50 ہزار ہونہار اسکالرشپس دی جائیں گی، پنجاب بھر کے سرکاری اسکولوں میں 40 ارب روپے کی لاگت سے تمام بنیادی سہولتوں کی کمی دور کی جا رہی ہے، جن میں نئے کلاس رومز، فرنیچر، باتھ روم، صاف پانی، پنکھے اور دیگر ضروری سہو لتیں شامل ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ حکومت سائنس، ٹیکنالوجی، ریاضی، کمپیوٹر اور آئی ٹی لیبز قائم کر رہی ہے، جبکہ پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت کی لیبز بھی بنائی جا رہی ہیں تاکہ پنجاب کے طلبہ بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے بچوں کی طرح جدید علوم حاصل کر سکیں انہوں نے طلبہ کو مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور روبو ٹکس سیکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ یہی مہارتیں مستقبل میں کامیابی کی ضمانت ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اپنا بیٹا بھی سرکاری اسکول میں زیر تعلیم ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت سرکاری تعلیمی نظام پر اعتماد رکھتی ہےپنجاب میں تعلیم کے شعبے میں تبدیلی کا یہ صرف آغاز ہے اور جلد ہی صوبے بھر میں 300 جدید اسکول قائم کیے جائیں گے۔

  • ماڈل ہما سلیم  کامعروف کرکٹر کی جانب سے مسلسل ہراساں کئے جانے کا الزام

    ماڈل ہما سلیم کامعروف کرکٹر کی جانب سے مسلسل ہراساں کئے جانے کا الزام

    پاکستانی اداکارہ اور ماڈل ہما سلیم نے ایک نامعلوم پاکستانی کرکٹر پر ہراساں کرنے، ذہنی تشدد اور دھمکانے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قانونی کارروائی کی تیاری کر رہی ہیں اور جلد اپنی قانونی ٹیم کے ساتھ شواہد بھی سامنے لائیں گی۔

    ہما سلیم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ مذکورہ کرکٹر نے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور شوبز انڈسٹری سے وابستہ افراد سے رابطے کیے اور تعلق ختم ہونے کے باوجود مبینہ ہراسانی کا سلسلہ جاری رہا،جب بھی میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہوں، وہ دوبارہ سامنے آ کر مجھے ذہنی طور پر پریشان کرتا ہے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے دوبارہ کام شروع کیا تو ان کے پیشہ ورانہ حلقے کے افراد کو بھی ان کے خلاف مبینہ طور پر منفی پیغامات بھیجے گئے ماڈل نے کہا کہ یہ تعلق ذہنی اذیت پر مبنی تھا اور انہوں نے نام ظاہر کیے بغیر کرکٹر کو “دھوکے باز، فراڈی اور خواتین کا استحصال کرنے والا قرار دیا، انہوں نے مزید الزام لگایا کہ کرکٹر اور اس کے اہلِ خانہ نے مل کر ان کی کردار کشی کی منظم مہم چلائی۔

    ہما سلیم کا کہنا تھا کہ کوئی بھی خاتون اس وقت تک خود کو عوامی تنقید کے لیے پیش نہیں کرتی جب تک اس کے پاس تمام راستے ختم نہ ہو جائیں ان کے پاس مذکورہ کرکٹر کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے فنڈز ہوٹلوں میں مبینہ طور پر استعمال کیے جانے سے متعلق معلومات موجود ہیں ان کی قانونی ٹیم دستاویزی شواہد مرتب کر رہی ہے اورآئندہ چند روز میں قانونی کارروائی کے دوران مزید تفصیلات اور متعلقہ شواہد بھی عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

    ہما سلیم نے اپنی پوسٹس میں کسی بھی کرکٹر کا نام ظاہر نہیں کیا جب کہ ان کے الزامات پر تاحال کسی کرکٹر، پاکستان کرکٹ بورڈ یا متعلقہ فریق کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

  • اینکر ریحان طارق توہین مذہب کیس: بعد از گرفتاری  ضمانت کی درخواست خارج

    اینکر ریحان طارق توہین مذہب کیس: بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج

    لاہور: اینکر ریحان طارق کی توہینِ مذہب کے مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج کردی گئی۔

    ضلع کچہری لاہور میں اینکر ریحان طارق کی توہین مذہب کے مقدمے میں ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے وکلا کے دلائل کے بعد فیصلہ سنایا، اینکر ریحان طارق کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کے موقع پر عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ این سی سی آئی اے سے کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کر رکھا تھا، عدالتی حکم پر این سی سی آئی اے کی جانب سے متعلقہ ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا۔

    وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ کے مطابق مقدمے میں لگائی گئی دفعات قابل ضمانت ہیں ،سوال سے توہین ثابت نہیں ہوتی،سماعت کے دوران این سی سی آئی اے کے پراسکیوٹر نے ضمانت کی مخالفت کی، جس پر عدالت نے درخواست خارج کردی۔

    واضح رہے کہ این سی سی آئی اے نے توہین مذہب کا مقدمہ درج کررکھا ہےریحان طارق کو توہینِ مذہب کے سنگین الزامات کے تحت درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، جہاں ضمانت خارج ہونے کے بعد اب ان کی حراست برقرار رہے گی۔

  • پڑوسی یا خطے کے اسلامی ممالک کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، ایران

    پڑوسی یا خطے کے اسلامی ممالک کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، ایران

    ایران نے کہا ہے کہ اس کا اپنے پڑوسی ممالک یا خطے کے اسلامی ممالک کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم اگر امریکا نے ایران پر حملے جاری رکھے تو جنگ کا دائرہ نئے محاذوں تک پھیل سکتا ہے۔

    ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران ہمیشہ خطے کے ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ کا حامی رہا ہے ایران کی مسلح افواج کی اولین ذمہ داری ملک کی سلامتی، قومی مفادات اور خودمختاری کا دفاع ہے، اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا-

    ترجمان نے واضح کیا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتا، بلکہ خطے میں استحکام اور تعاون کو ترجیح دیتا ہے،اگر امریکا کی جانب سے ایران پر فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو ایران اپنی جوابی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر سکتا ہے۔

    انہوں نےکہا کہ اگر امریکی جارحیت برقرار رہی تو جنگ نئے محاذوں تک پھیل جائے گی۔ ان کے مطابق ایران کی مسلح افواج کی تمام صلاحیتیں ابھی تک استعمال نہیں کی گئیں، اور اگر دشمن نے مزید حملے کیے تو ایران کا ردعمل حالات کے مطابق ہوگا، جو مخالفین کی توقعات سے بھی زیادہ سخت ہو سکتا ہے-

    سیاسی مبصرین کے مطابق ایران ایک جانب اپنے پڑوسی ممالک کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کی پالیسی ان کے خلاف نہیں، جبکہ دوسری جانب امریکا کو سخت پیغام دے رہا ہے کہ مزید حملوں کی صورت میں تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

  • دلجیت دوسانجھ کے فلم ’ستلج‘ کیلئے صرف ایک روپے معاوضہ لینے کی حقیقت سامنے آ گئی

    دلجیت دوسانجھ کے فلم ’ستلج‘ کیلئے صرف ایک روپے معاوضہ لینے کی حقیقت سامنے آ گئی

    معروف اداکار دلجیت دوسانجھ نے ایک اہم وجہ کے باعث اپنی نئی فلم ’ستلج‘ کے لیے صرف ایک روپے معاوضہ لیا۔

    فلم ’ستلج‘ کے ڈائریکٹر ہنی ٹریہن نے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ انکشاف کیا ہے کہ اداکار دلجیت دوسانجھ نے فلم میں کام کرنے کے لیے صرف ایک رو پے بطور علامتی معاوضہ وصول کیا تھا، اسکرپٹ سننے اور جسونت سنگھ خالڑا کی تصویر دیکھنے کے بعد دلجیت جذباتی ہو گئے کہا کہ ایسی شخصیت کا کردار ادا کر نے کے لیے معاوضہ لینا میرے لیے شرم کی بات ہو گی۔

    ہنی ٹریہن نے بتایا کہ انہوں نے دلجیت کو معاوضہ لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تاہم اداکار نے صرف معاہدے کی قانونی کارروائی مکمل کرنے کے لیے ایک روپے لینے پر رضامندی ظاہر کی، شوٹنگ کے دوران بھی دلجیت دوسانجھ نے بھرپور تعاون کیا اور شیڈول میں تاخیر کے باوجود کبھی شکایت نہیں کی۔

    واضح رہے کہ فلم ’ستلج‘ زی فائیو پر ریلیز ہونے کے دو روز بعد ہی پلیٹ فارم سے ہٹا دی گئی تھی جس کے بعد یہ فلم ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے، بھارتی حکومت نے قومی سلامتی کے خدشات کی بنیاد پر فلم کو بھارت میں زی فائیو سے ہٹانے کا مطالبہ کیا فلم ستلج پنجاب میں 1980ء اور 1990ء کی دہائی کے دوران مبینہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور پولیس کے مبینہ مظالم پر مبنی ہے۔

    فلم سکھ انسانی حقوق کارکن جسونت سنگھ خالصہ کی زندگی سے متاثر ہے، جنہوں نے پنجاب ہزاروں گمشدگیوں اور مبینہ ہلاکتوں کی تحقیقات کیں جسونت سنگھ کھالڑہ نے انکشاف کیا تھا کہ پنجاب میں ہزاروں افراد کو ماورائے عدالت قتل کر کے خاموشی سے جلا دیا گیا کھالڑہ نے بلدیاتی ریکارڈز سے 25 ہزار سے زائد ایسے افراد کا سراغ لگایا جنہیں پولیس نے قتل کر کے خاندانوں کو اطلاع دیے بغیر نامعلوم لاشوں کے طور پر جلا دیا جسونت سنگھ کھالڑہ نے اپنی تحقیقات پر پریس کانفرنسیں کیں اور بیرونِ ملک بھی آواز اٹھائی جسونت سنگھ خالصہ کو 1995ء میں اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا-

    کھالڑہ کی بیوہ پرمجیت کور کھالڑہ نے انصاف کے حصول کے لئے طویل قانونی جدوجہد کی۔ پرمجیت کور کھالڑہ برسوں سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ پنجاب میں سکھوں کے خلاف مبینہ ریاستی جرائم پر پولیس سربراہ کے پی ایس گل کا بین الاقوامی سطح پر احتساب ہو۔ پنجاب پولیس کریک ڈاؤن کے سربراہ K. P. S. Gill پر کھالڑہ قتل کے حوالے سے کبھی فردِ جرم عائد نہ ہوئی فلم میں سکھوں کی ماورائے عدالت گمشدگیوں اور قتل کے لئے “نسل کشی” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے

  • سعودی دارالحکومت ریاض میں گیس سلنڈر دھماکا ، 6 پاکستانی جاں بحق

    سعودی دارالحکومت ریاض میں گیس سلنڈر دھماکا ، 6 پاکستانی جاں بحق

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں گیس سلنڈر کے دھماکے میں 6 پاکستانی جاں بحق ہو گئے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے علاقے منفوحہ میں گزشتہ شب گیس سلنڈر کے دھماکے کا واقعہ پیش آیا جہاں ایک رہائشی عمارت میں گیس سلینڈر پھٹنے سے شدید دھماکہ ہوا، جس کے باعث عمارت کے ایک حصے کو بھی نقصان پہنچا جاں بحق ہونے والے تمام 6 افراد کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے بتایا جاتا ہے۔

    پاکستانی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی میتوں کی وطن واپسی اور دیگر قانونی کارروائیوں کے لیے سعودی حکام سے رابطے میں ہیں، متاثرہ خاند انوں کو ہر ممکن سفارتی معاونت فراہم کی جائے گی، ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ سعودی حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے واقعے کے بعد سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔

  • افغانستان میں 75 فیصد امدادی اداروں نے خواتین کی ملازمت   سے متعلق طالبان کی شرائط قبول کر لیں

    افغانستان میں 75 فیصد امدادی اداروں نے خواتین کی ملازمت سے متعلق طالبان کی شرائط قبول کر لیں

    افغانستان میں کام کرنے والے 75 فیصد امدادی اداروں نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے خواتین کی ملازمت سے متعلق طالبان کی عائد کردہ شرائط قبول کر لی ہیں-

    جینڈر اِن ہیومینیٹیرین ایکشن ورکنگ گروپ اور ہیومینیٹیرین ایکسیس ورکنگ گروپ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نئے سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان کے تمام 34 صوبوں میں کام کرنے والے 122 امدادی اداروں سے حاصل کردہ معلومات کا جائزہ لیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق طالبان کی پابندیوں، بین الاقوامی فنڈنگ میں کمی اور خواتین کی ملازمت پر عائد سخت شرائط نے امدادی شعبے کو شدید متاثر کیا ہے، سرو ے میں بتایا گیا کہ 56 فیصد اداروں نے فنڈنگ میں کمی کے باعث افغان خواتین ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا، جبکہ 46 فیصد اداروں نے کہا کہ خوا تین اب پہلے کی طرح دفاتر میں آ کر کام نہیں کر سکتیں۔

    رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ پابندیاں ہرات میں دیکھی گئیں، جہاں 36 فیصد اداروں نے سخت رکاوٹوں کی نشاندہی کی۔ اس کے بعد کابل (31 فیصد)، ننگرہار (22 فیصد)، قندھار (20 فیصد) اور کنڑ (17 فیصد) کا نمبر آتا ہے 45 فیصد امدادی ادارے اب بھی مرد اور خواتین دونوں عملے کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ 16 فیصد خواتین ملازمین طالبان کی پابندیوں کے باعث گھروں سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق 61 فیصد اداروں نے بتایا کہ خواتین ملازمین کو سرکاری یا امدادی کام کے سلسلے میں سفر کے دوران ایک مرد سرپرست (محرم) کا ساتھ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے 49 فیصد اداروں کے مطابق خواتین ملازمین طالبان کی نقل و حرکت اور لباس سے متعلق پابندیوں کے باعث شدید ذہنی دباؤ اور سیکیورٹی خدشات کا شکار ہیں بعض اداروں نے یہ بھی بتایا کہ کام پر جاتے ہوئے خواتین کو طالبان کی ’وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ کے اہلکا ر روک کر پوچھ گچھ کرتے ہیں خواتین پر عائد پابندیوں سے سب سے زیادہ تعلیم اور صحت کے شعبے متاثر ہوئے ہیں، جہاں خواتین کی خدمات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن نے بھی خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی امداد میں مسلسل کمی کے باعث افغانستان سمیت بحران زدہ ممالک میں خواتین کی معاونت کرنے والی کئی تنظیمیں بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔

  • ایم اے پاس شخص کو سوئیپر کی ملازمت،وفاقی آئینی عدالت نے صوبا ئی حکومت کی اپیل خارج کر دی

    ایم اے پاس شخص کو سوئیپر کی ملازمت،وفاقی آئینی عدالت نے صوبا ئی حکومت کی اپیل خارج کر دی

    وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں ایم اے پاس شخص کو سوئیپر کی ملازمت دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے صوبا ئی حکومت کی اپیل خارج کر دی۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران عدالت نے اس معاملے پر سخت ریمارکس دیےسماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا اب ایم اے پاس کرنے والا شخص سوئیپر کا کام کرے گا؟‘ انہوں نے کہا کہ اگرچہ متعلقہ شخص گزشتہ 10 برس سے ملازمت کر رہا ہے، اس لیے اب اسے نوکری سے نکالنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔

    عدالت نے تجویز دی کہ صوبائی حکومت شکایت کنندہ کو کسی دوسری مناسب جگہ ملازمت فراہم کرےاس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں سوئیپر کی کوئی خالی آسامی موجود نہیں ہے، اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے، کیا خیبرپختونخوا اتنا صاف ستھرا ہو گیا ہے کہ سوئیپر کی ضرورت ہی نہیں؟ صاف ستھرا تو کسی اور صوبے کا سنا تھا۔

    دورانِ سماعت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بھی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے دریافت کیا کہ متعلقہ ملازم سے کیا کام لیا جاتا ہے، جس پر ایجوکیشن آفیسر نے بتایا کہ اس کی ذمہ داریوں میں جھاڑو لگانا اور صفائی کرنا شامل ہے۔

    اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ کیا اس کے جھاڑو لگانے پر کسی کو شرم نہیں آتی؟ ایم اے پاس شخص کا سوئیپر کی نوکری کرنا ایک المیہ ہے،ایسے نظام کو تو شاباش دینی چاہیے،بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل مسترد کر دی۔

  • آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، دفترخارجہ

    آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل اور آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، علاقائی سلامتی اور خارجہ امور سے متعلق اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی ہےترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تمام تنازعات اور اختلافات کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہےاسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے اگرچہ اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو بعض چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کو تشدد ختم کرنے اور 22 جون 2026 کے پاک قطر مشترکہ اعلامیے اور مفاہمتی یادداشت کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

    ترجمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے خصوصاً ترقی پذیر ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں پاکستان عالمی توانائی کی فراہمی، تجارت، خوراک کے تحفظ اور دیگر اقتصادی شعبوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے بخوبی آگاہ ہے امید ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد معمول پر آئے گی اور بحری جہازوں کی محفوظ، آزاد اور بلا تعطل آمدورفت یقینی بنائی جائے گی۔

    ترجمان نے پاکستانی قیادت کی حالیہ سفارتی مصروفیات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے 10 جولائی کو قطری قیادت اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے الگ الگ رابطے کیے جن میں انہوں نے تمام فریقین پر ہر ممکن تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرنے پر زور دیا قطری قیادت نے اس موقع پر خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کے فعال اور مثبت کردار کی بھرپور تعریف کی۔

    طاہر اندرابی نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے برقرار رکھے ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل کی راہ ہموار کی جا سکے 13 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیرا عظم محمد نواز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے ہمراہ قطر کے دارالحکومت دوحہ کا دورہ کیا اس دورے کا مقصد پاکستان کے د یرینہ دوست ملک قطر کے امیر اور قطری قیادت سے تعزیت اور اظہارِ ہمدردی کرنا تھا۔ پاکستانی قیادت نے اس موقع پر قطر کے ساتھ یکجہتی اور قریبی تعلقا ت کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ترجمان نے بتایا کہ حال ہی میں ایک دوست ملک کے وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان کا سرکاری دورہ بھی کیا اس موقع پر وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جن میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، اعلیٰ تعلیم، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا دونوں ممالک نے اقتصادی روابط میں اضافے، سفارتی مکالمے کو مضبوط بنانے اور عوامی روابط کے فروغ پر اتفاق کیا۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں پاکستان اور پرتگال کے درمیان سالانہ دوطرفہ مشاورت بھی منعقد ہوئی پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری برائے یورپ سفیر عائشہ علی نے جبکہ پرتگال کے وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل برائے خارجہ پالیسی سفیر ہیلینا مالکاٹا نے کی دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ اس حوالے سے دفتر خارجہ کی جانب سے تفصیلی اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے اور او آئی سی کے رکن ممالک میں خواتین کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے تعاون جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان ہر سطح پر رابطے موجود ہیں اور پاکستان ملک میں موجود تمام چینی شہریوں اور عملے کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

    انہوں نے برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمے سے متعلق سوال پر کہا کہ پاکستان اس جرم کی سخت مذمت کرتا ہے، تاہم یہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے، شبیر حسین برطانوی شہری ہیں، ان کی پرورش بھی برطانیہ میں ہوئی، اس لیے حکومت پاکستان کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنماؤں کے خلاف بھارتی قومی تحقیقاتی ادارے (این آئی اے) کی جانب سے چارج شیٹ دائر کیے جانے کی بھی مذمت کی انہوں نے کہا کہ بھارت سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات اور جعلی ٹرائلز کے ذریعے حریت قیادت کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم کشمیری عوام کو ان کے حق خودارادیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلگام واقعے کے حوالے سے بھارت اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا، حالانکہ پاکستان نے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی، لیکن بھارت سیاسی نعرے بازی اور سنسنی پھیلانے میں مصروف ہے۔

  • ون ڈے ورلڈ کپ کےنئے فارمیٹ کا اعلان،پاک بھارت کے درمیان اضافی میچز کا امکان

    ون ڈے ورلڈ کپ کےنئے فارمیٹ کا اعلان،پاک بھارت کے درمیان اضافی میچز کا امکان

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 2027 میں جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے نئے فارمیٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اضافی میچ ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے-

    آئی سی سی کے مطابق 2027 کا ورلڈ کپ 14 ٹیموں پر ہی مشتمل ہوگا، تاہم ٹورنامنٹ کا ڈھانچہ پہلے سے مختلف ہوگا، نئے فارمیٹ کے تحت کوالیفائی کر نے والی 14 ٹیموں میں سے سب سے کم درجہ بندی رکھنے والی تین ٹیمیں ابتدائی مرحلے میں کھیلیں گی، جن میں سے صرف ایک ٹیم اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرے گی اس کے بعد مرکزی مرحلے میں 12 ٹیمیں شامل ہوں گی، جنہیں دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر گروپ میں 6، 6 ٹیمیں ہوں گی۔

    گروپ مرحلے کے بعد پہلے کی طرح ”سپر سِکس“ مرحلہ نہیں ہوگا بلکہ اس کی جگہ ”سپر سیون“ مرحلہ متعارف کرایا گیا ہے اس مرحلے میں ٹیمیں مزید اہم میچز کھیلیں گی، تاہم اس بار کوارٹر فائنلز نہیں ہوں گے یعنی ٹورنامنٹ میں ناک آؤٹ مرحلے کا ایک اضافی راؤنڈ نہیں رکھا گیا۔

    آئی سی سی کا کہنا ہے کہ نئے فارمیٹ کا مقصد ٹورنامنٹ کو زیادہ دلچسپ، مسابقتی اور اہم بنانا ہےاس تبدیلی سے ایسے میچز کی تعدا د کم ہوگی جن کے نتائج سے ٹورنامنٹ پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، جبکہ ہر میچ کی اہمیت بھی بڑھ جائے گی نئے فارمیٹ کی وجہ سے گروپ اور سپر7 مرحلے میں زیادہ میچز کھیلے جا ئیں گے، جس کے باعث بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اضافی مقابلہ ہونے کا امکان بھی بڑھ گیا ہے، بشرطیکہ دونوں ٹیمیں اگلے مرحلے تک رسا ئی حاصل کر لیں۔

    بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کئی برسوں سے دوطرفہ کرکٹ سیریز نہیں کھیلتے ، دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی کے عالمی ٹورنامنٹس یا ایشیا کپ جیسے محدود ایونٹس میں ہی آمنے سامنے آتی ہیں دونوں ملکوں کے درمیان آخری دوطرفہ سیریز 2006 میں پاکستان میں کھیلی گئی تھی، جس میں ٹیسٹ اور ون ڈے میچز شامل تھے۔

    کرکٹ کے شائقین کی بڑی تعداد اور دونوں ممالک کے درمیان اس تاریخی مقابلے کی مقبولیت کے باعث بھارت اور پاکستان کا میچ نشریاتی حقوق اور تجارتی آمدنی کے لحاظ سے آئی سی سی کے لیے سب سے زیادہ اہم مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    آئی سی سی نے مردوں کے 2028 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فارمیٹ میں بھی تبدیلی کی منظوری دی ہے اس ٹورنامنٹ میں 20 ٹیمیں ہی شریک ہوں گی، لیکن گروپ مرحلے سے 8 کے بجائے 10 ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچیں گی، ”سپر 10“ مرحلے میں بہترین کارکردگی دکھانے والی دو ٹیمیں براہ راست سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی، جبکہ باقی سیمی فائنل کی نشستوں کا فیصلہ ایک نئے ایلیمینیٹر مرحلے کے ذریعے ہوگا۔