Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • بھارت کے ایٹمی پلانٹ کا مبینہ حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک

    بھارت کے ایٹمی پلانٹ کا مبینہ حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک

    رینسم ویئر گروپ ‘ورلڈ لیکس’ نے بھارت کے سب سے بڑے ایٹمی بجلی گھر ‘کڈانکلم’ (Kudankulum) سے متعلق تقریباً 19,000 حساس فائلیں ڈارک ویب پر لیک کر دی ہیں، لیک ہونے والی دستاویزات میں پلانٹ کے بلیو پرنٹس اور سپلائر کی تفصیلات شامل ہیں، البتہ حکام کے مطابق اس کا تعلق بنیادی جوہری سسٹمز سے نہیں ہے-

    برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق لیک ہونے والے ڈیٹا میں مبینہ طور پر تنصیبات کے کچھ حصوں کے نقشے اور سپلائرز کی تفصیلات شامل ہیں جبکہ ہیکرز کے گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معلومات ریلائنس گروپ سے حاصل کی گئی ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق کڈنکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ بھارتی ریاست تمل ناڈو میں واقع ہے اور یہ بھارت کے 7 جوہری پلانٹس میں سب سے بڑا ہے جبکہ یہ وزیراعظم نریندر مودی کے ملک میں جوہری توانائی کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا مرکزی حصہ ہے اس پلانٹ کا ٹھیکہ بھارتی کاروباری شخصیت انیل امبانی کے ریلائنس گروپ کے پاس ہے-

    ریلائنس گروپ نے رائٹرز کو جاری بیان میں کہا کہ ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کرنے والی کمپنی یوٹا کے سرور پر ریلائنس کے ڈیٹا میں جزوی دراندازی ہوئی ہے اور اس واقعے سے حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم ریلائنس نے یہ نہیں بتایا کہ کون سا ڈیٹا متاثر ہوا۔

    نیوکلیئر تھریٹ انیشیٹو کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا لیک پلانٹ کی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے لیک ہونے والے ڈیٹا میں مبینہ طور پر تنصیبات کے کچھ نقشے، سپلائرز کی تفصیلات، اجلاسوں اور معائنوں کا ریکارڈ، آلات کے جائزے اور انشورنس پالیسیز شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ریلائنس کی لیک ہونے والی 8 لاکھ 58 ہزار فائلز میں سے 19 ہزار فائلیں سب سے زیادہ حساس معلوم ہوتی ہیں جو ورلڈ لیکس کی ویب سائٹ پر موجود ہیں ریلائنس انفراسٹرکچر، جو اس گروپ کی ذیلی کمپنی ہے نے 2018 میں پلانٹ کے یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے لیے انفراسٹرکچر ڈیزائن اور تعمیر کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا یہ دونوں یونٹس تاحال زیر تعمیر ہیں اور 2027 تک فعال ہونے کی توقع ہے، یہ یونٹس مجموعی طور پر 2 ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کر یں گے۔

    خبررساں ایجنسی کے مطابق ورلڈ لیکس رینسم ویئر گروپ ہے اور اس سے قبل Nike اور ٹاٹا گروپ کو نشانہ بنا چکا ہے یہ گروپ عموماً کمپنیوں کی جانب سے تاوان ادا نہ کرنے پر چوری شدہ ڈیٹا اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دیتا ہے جس تک رسائی خصوصی براؤزر کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔

    جون میں ورلڈ لیکس نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اس نے ٹاٹا گروپ کی فائلوں کے بدلے 15 لاکھ ڈالر تاوان طلب کیا تھا، ان فائلز میں ایپل اور ٹیسلا جیسے کلائنٹس کے خفیہ ڈیزائن شامل تھے اور تاوان کا مطالبہ مسترد ہونے پر ڈیٹا ویب سائٹ پر جاری کر دیا گیا تھا۔

    ورلڈ لیکس کی ویب سائٹ پر جاری دستاویزات بظاہر جوہری ری ایکٹرز کے بنیادی نظام سے متعلق نہیں تاہم ان میں یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹمز کے نقشے اور ایک کنٹرول روم کا نقشہ بھی شامل ہے فائلوں میں سپلائرز کی تجاویز، منظور شدہ سپلائرز کی فہرست اور 2024 میں نیوکلیئر پاور کارپو ریشن اور ریلائنس کے مشترکہ معائنے سے متعلق اجلاس کا ریکارڈ بھی شامل ہے جس میں آلات کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

    ایک اور دستاویز کے مطابق ریلائنس انفراسٹرکچر اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے ایک انشورنس پالیسی بھی حاصل کر رکھی ہے جس کے تحت اگر یونٹ 3 یا یونٹ 4 دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں تو انہیں 112 ملین ڈالر تک کا معاوضہ مل سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ڈیٹا غلط ہاتھوں میں چلا جائے تو اس سے پلانٹ کے معاون نظاموں کا نقشہ بنایا جا سکتا ہے، سپلائرز کی شناخت کی جا سکتی ہے اور سکیورٹی میں موجود کمزوریوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے نکولس روتھ کے مطابق یہ ڈیٹا صرف یہ نہیں دکھاتا کہ کس کو اس منصوبے تک رسائی حاصل ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس رسائی کے ذریعے کن سسٹمز تک پہنچا جاسکتا ہے۔

    سائبر سکیورٹی کمپنی سرفشارک کے مطابق بھارت دنیا میں ڈیٹا لیک کے حوالے سے تیسرے نمبر پر ہے۔

  • ڈمپر ڈرائیور نے اپنے مالک کے کہنے پر  ڈیوٹی پر مامور پولیس افسر کو کچل دیا

    ڈمپر ڈرائیور نے اپنے مالک کے کہنے پر ڈیوٹی پر مامور پولیس افسر کو کچل دیا

    پنجاب کے ضلع اٹک میں جی ٹی روڈ پر لارنس پور ٹول پلازہ کے قریب ایک ڈمپر ڈرائیور نے اپنے مالک کے کہنے پر فرض شناس ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس افسر کو کچل کر شہید کر دیا۔

    ہائی وے پولیس کے مطابق یہ ڈمپر اوور لوڈ تھا اور پٹرولنگ آفیسر جاوید اکبر نے اسے روکنے کا اشارہ کیا تھا انہوں نے ڈرائیور سے اوور لوڈنگ کے چالان کے لیے رسید اور ڈرائیونگ لائسنس مانگا لیکن ڈرائیور نے دستاویزات دینے کے بجائے گاڑی سڑک کنارے کھڑے ڈیوٹی افسر کے اوپر چڑھا دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

    پولیس کو اس ہولناک واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موصول ہو گئی ہے جس کی مدد سے تحقیقات کی جا رہی ہیں موٹروے پولیس کے ترجمان نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مفرور ڈمپر ڈرائیور نے اپنے مالک کی ترغیب پر یہ انتہائی قدم اٹھایا ٹرک کے مالک نے ڈرائیور کو موبائل پر کہا کہ اس کو کچل دو اور ڈمپر بھگا دو، اس سفاکانہ حکم پر عمل کرتے ہوئے ڈرائیور نے پولیس افسر جاوید اکبر پر ڈمپر چڑھا دیا اور انہیں کچلتا ہوا موقع سے فرار ہو گیا۔

    موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ شہید اکبر کے ناحق قتل کے تمام تر پختہ شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں اور ٹرک کے مالک اور ڈرائیور دونوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے دونوں ملزمان اس وقت روپوش ہیں لیکن انہیں بہت جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا،شہید ہونے والے فرض شناس پولیس افسر جاوید اکبر کے سوگواران میں ایک بیوہ اور پانچ بچے شامل ہیں۔

    شہید جاوید اکبر کی نمازِ جنازہ مردان میں ادا کر دی گئی ہے جس کے بعد انہیں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقے میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہےنمازِ جنازہ اور تدفین میں پولیس حکام، اہلخانہ اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اس دکھ کی گھڑی میں آئی جی موٹروے پولیس نے شہید کے اہلِ خانہ سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہےآئی جی موٹروے نے اپنے پیغام میں کہا کہ محکمہ اس مشکل وقت میں شہید کے ورثا کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے اور ان کی دیکھ بھال کی جائے گی,جاوید اکبر جیسے فرض شناس اور بہادر پولیس افسران پر پورے محکمے کو فخر ہے جنہوں نے فرض کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا لیکن قانون کی بالادستی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

  • روہنگیا کے مسلمان پناہ گزینوں کی کشتیوں کو حادثہ، 500 سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ

    روہنگیا کے مسلمان پناہ گزینوں کی کشتیوں کو حادثہ، 500 سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ

    خلیج بنگال میں روہنگیا مسلمانوں کی دو کشتیاں ڈوبنے کے بعد 500 سے زائد افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    عالمی اداروں کے مطابق یہ پناہ گزین میانمار اور بنگلہ دیش کے خستہ حال کیمپوں سے فرار ہو کر بہتر زندگی کی تلاش میں سمندری سفر پر نکلے تھے لیکن سمندری لہروں کا شکار ہو گئے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے شعبے اور ہجرت کے عالمی ادارے ’آئی او ایم‘ نے جمعرات کو جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں اس واقعے کی تفصیلات بتائی ہیں۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق یہ دونوں کشتیاں جون کے آخر میں میانمار کی مغربی ریاست راکھین سے روانہ ہوئی تھیں جن میں سوار پناہ گزینوں کی اکثریت روہنگیا مسلمانوں پر مشتمل تھی اور ان میں کچھ ایسے پناہ گزین بھی شامل تھے جنہوں نے بنگلہ دیش کے کیمپوں سے میانمار پہنچ کر اس سفر کا آغاز کیا تھاان میں سے ایک کشتی جس پر تقریباً 250 افراد سوار تھے، روانگی کے فوراً بعد ہی لاپتہ ہو گئی اور اس سے رابطہ منقطع ہو گیادوسری کشتی جس پر 280 افراد سوار تھے، 8 جولائی کو میانمار کے ساحل کے قریب ڈوب گئی۔

    دونوں عالمی اداروں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ ان واقعات اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی ابھی تک باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے، لیکن یو این ایچ سی آر اور آئی او ایم کو قیمتی جانوں کے ممکنہ ہولناک نقصان پر شدید تشویش ہےعام طور پر روہنگیا پناہ گزین سال کے اس حصے میں سمندری سفر سےگریز کرتے ہیں کیونکہ مون سون کے موسم میں بارشوں اور طوفان کی وجہ سے سمندر انتہائی خطرناک ہو جاتا ہے تاہم حالیہ شدید بارشوں اور سیلابی صور ت حال کے باوجود ان پناہ گزینوں نے مجبوراً یہ خطرناک ترین راستہ چنا۔

    امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق اس وقت بنگلہ دیش کے انتہائی گنجان آباد اور خستہ حال کیمپوں میں تقریباً بارہ لاکھ روہنگیا مسلمان کسمپر سی کی زندگی گزار رہےہیں جو میانمار کی فوج کے تشدد سے بچنے کے لیے وہاں پناہ گزین ہوئے تھے ان پناہ گزینوں کے پاس میانمار واپس جانے کا کوئی محفو ظ راستہ نہیں ہےکیونکہ وہاں اب بھی وہی فوج برسرِاقتدار ہےجس نے 2017 میں روہنگیا نسل کشی کی تھی اور جو روہنگیا اب بھی میانمار میں رہ رہے ہیں وہ نظر بند کیمپوں میں انتہائی سخت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

    اس کے علاوہ امریکا اور دیگر ممالک کی طرف سے امداد میں کٹوتی کے بعد بنگلہ دیش کے کیمپوں میں پناہ گزینوں کے کھانے پینے کے راشن میں بھی کمی کر دی گئی ہے جبکہ میانمار کی فوج اور راکھین کے ایک مقامی مسلح گروپ کے درمیان جنگ نے حالات کو مزید ابتر بنا دیا ہے ان سنگین حالات کے با عث روہنگیا پناہ گزینوں کی بڑی تعداد لکڑی کی بنی ٹوٹی پھوٹی کشتیوں میں ملائیشیا پہنچنے کے لیے اپنی جان داؤ پر لگا رہی ہے، اس دوران اب تک کئی معصو م بچے، عورتیں اور پناہ گزین لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ عالمی اداروں نے زور دیا ہے کہ اس انسانی المیے کو روکنے کے لیے دنیا کو خوابِ غفلت سے جاگنا ہو گا۔

    یو این ایچ سی آر اور آئی او ایم نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے اس خطرناک ترین سمندری راستے پر مزید جانی نقصان کو روکنے کے لیے مضبوط علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت ہےجس میں تلاش اور بچاؤ کےکاموں کو تیز کرنا، پناہ اور تحفظ تک رسائی دینااور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ سال 2025 روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے اب تک کا سب سے مہلک ترین سال رہا ہے جس میں ساڑھے چھ ہزار سے زائد افراد نے سمندر ی راستے سے نقل مکانی کی اور ان میں سے لگ بھگ 900 افراد سمندر برد یا لاپتہ ہو گئے۔

  • نواز شریف اسکول آف ایمیننس کے لئے 71 ہزار سے زائد درخواستیں موصول

    نواز شریف اسکول آف ایمیننس کے لئے 71 ہزار سے زائد درخواستیں موصول

    وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا ہےکہ جب وزیراعلیٰ مریم نواز کے مفت اور معیاری تعلیم کےوژن کےتحت 65 نواز شریف اسکول آف ایمیننس کا باقاعدہ افتتاح کیا جائے گا۔

    وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے مفت اور معیاری تعلیم کی فراہمی کے وعدے کی تکمیل کا آغاز کل سے ہو رہا ہے، جب صوبے بھر میں 65 نواز شریف اسکول آف ایمیننس باقاعدہ طور پر فعال ہو جائیں گے، وزیراعلیٰ مریم نواز خود مختلف ڈویژنوں کا دورہ کرکے اسکول آف ایمیننس کا افتتاح کریں گی، جبکہ ان منصوبوں کے ذریعے پنجاب معیاری تعلیم کے میدان میں ایک اور اہم قدم آگے بڑھا رہا ہے۔

    رانا سکندر حیات کے مطابق 65 نواز شریف اسکول آف ایمیننس میں داخلوں کے لیے 71 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جس سے اس منصوبے میں عوام کی غیر معمولی دلچسپی اور اعتماد کا اظہار ہوتا ہے،کئی سکولوں میں ایک ایک نشست پر متعدد بچے ویٹنگ لسٹ میں موجود ہیں،اسکول آف ایمیننس میں بڑی تعداد میں درخواستیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ والدین کا سرکاری اسکولوں پر اعتماد بحال ہو رہا ہےیہ اسکول عالمی معیار کے مطابق قائم کیے گئے ہیں اور ان میں متوسط طبقے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ آمدنی والے خاندان بھی اپنے بچوں کو داخل کروانا چاہتے ہیں۔

    وزیر تعلیم نے کہا کہ داخلوں کے عمل میں مکمل طور پر میرٹ کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول آف ایمیننس کا دائرہ کار بتدریج تمام اضلاع تک وسیع کیا جائے گا اور وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق جلد ہی 300 نواز شریف اسکول آف ایمیننس مکمل کرکے فعال کر دیے جائیں گے۔

  • بنگلہ دیش:معزول وزیراعظم شیخ حسینہ اور خاندان سے منسلک 6.2 ارب ڈالر کے اثاثے ضبط

    بنگلہ دیش:معزول وزیراعظم شیخ حسینہ اور خاندان سے منسلک 6.2 ارب ڈالر کے اثاثے ضبط

    بنگلہ دیشی حکام نے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ، ان کے خاندان اور 10 کاروباری گروپوں سے منسلک تقریباً 6.2 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیش کے فنانشل انٹیلیجنس یونٹ نے بتایا ہے کہ شیخ حسینہ، ان کے اہل خانہ اور 10 کاروباری گروپوں سے منسلک مجموعی طور پر 760 ارب ٹکا (تقریباً 6.2 ارب امریکی ڈالر) مالیت کے اثاثے ضبط کیے گئے ہیں،جبکہ منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کی تحقیقا ت کے سلسلے میں 98 مقدمات بھی درج کیے جا چکے ہیں۔

    ادارے کے سربراہ اختیار محمد مامون نے سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ضبط کیے گئے اثاثوں میں سے 570 ارب ٹکا کے اثاثے بنگلہ دیش میں جبکہ 190 ارب ٹکا کے اثاثے بیرون ملک موجود تھے شیخ حسینہ اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں اب تک 98 مقدما ت درج کیے جا چکے ہیں جبکہ بیرون ملک منتقل کی گئی رقوم کی واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں حکومت کو امید ہے کہ سال کے اختتام تک اس حوالے سے مثبت پیشرفت سامنے آئے گی۔

    اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد شیخ حسینہ بھارت چلی گئی تھیں، جہاں وہ اب بھی مقیم ہیں،اقتدار سے معزولی کے بعد بنگلہ دیش کی مختلف عدالتیں انہیں متعدد مقدمات میں غیر موجودگی میں سزا سنا چکی ہیں، جن میں ڈھاکہ کے پوش علاقے میں سرکاری پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق بدعنوانی کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ ایک عدالت انہیں انسانیت کے خلا ف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت بھی سنا چکی ہے۔

    دوسری جانب بنگلہ دیشی وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ حکومت شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ وہ ملک وا پس آکر عدالتوں کا سامنا کریں انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے گا اور اپیل سے متعلق فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔

  • امریکی فوج کے سابق اہلکار کی کمپنیوں کے طیارے سوڈان کی باغی فورسز  کو سپلائی فراہم کرنے میں ملوث،برطانوی میڈیا

    امریکی فوج کے سابق اہلکار کی کمپنیوں کے طیارے سوڈان کی باغی فورسز کو سپلائی فراہم کرنے میں ملوث،برطانوی میڈیا

    برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج کے سابق اہلکار کی کمپنیوں کے طیارے سوڈان کی باغی فورسز کو سپلائی فراہم کرنے میں ملوث رہے-

    خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک جامع تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی فوج کے اسپیشل فورسز کے سابق اہلکار اور دفاعی کنٹریکٹر اسٹیون شاولس کے زیرِ کنٹرول کمپنیوں نے ایسے پرانے بوئنگ طیارے چلائے جو سوڈان کی خانہ جنگی کے دوران ان فضائی مراکز تک پروازیں کرتے رہے جہاں سے ریپڈ سپور ٹ فورسز (RSF) کو رسد اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جاتی تھی۔

    تحقیق کے مطابق شاولس سنگاپور میں قائم کمپنی سی اے ڈی جی (CADG) کے سربراہ ہیں، جو گزشتہ 2 دہائیوں سے امریکی حکومت اور اقوام متحدہ کے متعدد منصوبوں پر کام کرتی رہی ہے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان کی کمپنیوں کو امریکی فوجی اور امدادی منصوبوں کے تحت کم از کم 41 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں ان منصوبوں میں افغانستان، عراق، کینیا، موزمبیق اور وسطی افریقی جمہوریہ سمیت مختلف ممالک میں تعمیراتی اور لاجسٹک خدمات شامل رہی ہیں۔

    رائٹرز نے اپنی تحقیقات میں معلوم کیا کہ شاولس سے وابستہ کمپنیوں نے کم از کم 3 پرانے بوئنگ طیارے استعمال کیے جو چاڈ، لیبیا، صومالیہ اور سوڈان کے ان ہوائی اڈوں تک پروازیں کرتے رہے جنہیں اقوام متحدہ، سفارتی ذرائع اور عسکری ماہرین آر ایس ایف کی سپلائی لائن کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

    تحقیق کے مطابق مئی 2025 میں سوڈانی فوج نے دارفور کے شہر نیالا کے ہوائی اڈے پر ایک بوئنگ 737 کو فضائی حملے میں تباہ کر دیا تھا اس حملے میں 54 افراد ہلاک ہوئے جن میں 51 آر ایس ایف جنگجو بھی شامل تھے۔ رائٹرز کے مطابق اس طیارے کا پائلٹ اور گراؤنڈ انجینئر شاولس کی متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ کمپنی Occidental Support Services کے ملازم تھے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رائٹرز کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اسٹیون شاولس یا ان کی کسی کمپنی پر کسی ملک نے پابندیاں عائد کی ہوں یا ان کے خلاف سرکا ری سطح پر کسی غیر قانونی سرگرمی کا الزام ثابت ہوا ہو، تاہم ان کے زیرِ انتظام طیاروں کی سرگرمیوں، ان کے مالی وسائل اور ان میں منتقل کیے جانے وا لے سامان کے بارے میں متعدد سوالات اب بھی جواب طلب ہیں،یہ تحقیق کارپوریٹ ریکارڈ، ہوابازی کے رجسٹر، سیٹلائٹ تصاویر، فلائٹ ٹریکنگ ڈ یٹا، موبائل لوکیشن ریکارڈ، سوشل میڈیا مواد اور 40 سے زائد انٹیلی جنس حکام، سفارت کاروں، ہوابازی کے ماہرین اور علاقائی امور کے تجزیہ کاروں سے گفتگو کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

    سوڈان میں 2023 سے جاری خانہ جنگی کے دوران آر ایس ایف نے ملک کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں آر ایس ایف پر دارفور میں نسل کشی، جنگی جرائم اور شہریوں پر مظالم کے الزامات عائد کر چکی ہیں، جبکہ سوڈانی فوج پر بھی جنگی جرائم کے الزامات لگائے گئے ہیں آر ایس ایف کی معاونت کرنے والے کسی بھی فرد یا ادارے کو امریکی اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ ان پابند یو ں کے تحت اس گروپ کو لاجسٹک، نقل و حمل یا دیگر خدمات فراہم کرنا ممنوع ہے۔

    اسٹیون شاولس نے رائٹرز کے تفصیلی سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا، جبکہ آر ایس ایف، سوڈانی فوج، امریکی محکمہ دفاع اور متحدہ عرب امارات کے حکام نے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف پیش نہیں کیا۔

  • پشاور:گھر میں آگ لگنے سے4 بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق

    پشاور:گھر میں آگ لگنے سے4 بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق

    پشاور کے علاقے تہکال پایان میں ایک انتہائی افسوسناک اور ہولناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک گھر میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے سے ایک ہی خاندان کے 6افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    جاں بحق ہونے والوں میں میاں، بیوی اور ان کے چار معصوم بچے شامل ہیں جو آگ کی لپیٹ میں آنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے اس دلخراش واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور آگ پر قابو پانے کے لیے کارروائی شروع کی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق، سرچ آپریشن کے دوران گھر کے ایک کمرے سے چھ افراد کے جسد خاکی نکالے گئے جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت ہو گئی ہے جن میں 55 سالہ سراج، ان کی 40 سالہ اہلیہ، 11 سالہ حریرہ،9 سالہ حنایا، 4 سالہ حسنین اور3سالہ منہال شامل ہیں ہلاک ہونے والے تمام افرا د ایک ہی کمرے میں موجود تھے اور ان کی موت آگ کی شدید تپش اور دم گھٹنے یعنی دھویں کی وجہ سے ہوئی ہے۔

    اس واقعے کے حوالے سے ریسکیو 1122 کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ آگ مکان کے ہال والے حصے میں لگی تھی جہاں فرنیچر، فوم اور دیگر سا ما ن رکھا ہوا تھاجس نےتیزی سے آگ پکڑ لی ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہیں اور اس حوالے سےتحقیقات کی جا رہی ہیں ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر مکمل قابو پا لیا تھا لیکن کمرے میں دھواں اور تپش زیادہ ہونے کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔

  • پاسداران انقلاب کا کویت ، اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    پاسداران انقلاب کا کویت ، اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    امریکی فوج نے آج رات پھر ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، ایرانی میڈیا کے مطابق سیریک، اہواز، چابہار، بندر عباس اور قیشم جزیرے میں دھماکے سنے گئے، جس کے جواب میں ایران نے اردن اور کویت میں امریکی تنصیبات پر حملے کئے۔

    امریکی سینٹ کام نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے کمانڈ مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، میزائل، ڈرون صلاحیتوں اور ساحلی نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا، بندرِ عباس میں بھی اہداف نشانہ بنائے گئے، حملوں کا مقصد ہدف ایران کی ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے خطرے کی فوجی صلاحیت ہے۔

    گورنر ہرمزگان کا کہنا ہے کہ قیشم میں امریکی حملے میں فش پاؤڈر بنانے والی فیکٹری کو نقصان پہنچا، تاہم فیکٹری خالی ہونے کے باعث جانی نقصان نہیں ہوا،حالیہ امریکی حملوں میں 7 ایرانی فوجی اور 30 عام ایرانی شہری شہید اور 260 سے زائد ایرانی زخمی ہو چکے۔

    ادھر ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن کی الازرق ائیربیس میں امریکی فوج کے مواصلاتی نظام، ایک مستقل ریڈار سائٹ کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے،ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی فوج نے کہا کہ یہ کارروائی ایران پر حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی، اس کے علاوہ کویت میں واقع علی السالم ائیربیس پر میزائل اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق اس نے (C-RAM) ابتدائی وارننگ ریڈار اور امریکی فوجیوں کے جمع ہونے کے مقام کو نشانہ بنایا، یہ حملہ آپریشن “نصر 2” کی آٹھویں لہر کے دوران کیا گیا،اس کے علاوہ پاسداران انقلاب نے جنوب مغربی شہر اندیمشک کے اوپر امریکی ایم کیو 9 ڈرون کو تباہ کرنے کا دعو یٰ کیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ یہ ڈرون اس کی ایرو اسپیس فورس کے زیرِ استعمال نئے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا۔

  • ٹرمپ کی کارکردگی پر 59 فیصد امریکیوں کے عدم اطمینان  کااظہار

    ٹرمپ کی کارکردگی پر 59 فیصد امریکیوں کے عدم اطمینان کااظہار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی کے حوالے سے ایک تازہ عوامی سروے میں ان کی مقبولیت میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔

    سروے کے مطابق 59 فیصد امریکی شہری صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے ناخوش ہیں، جبکہ صرف 37 فیصد افراد نے ان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا یہ رائے شماری 10 سے 13 جولائی کے دوران کی گئی، جس میں مجموعی طور پر 1616 افراد نے حصہ لیا۔ سروے کے نتائج کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات اور پالیسیوں پر عوامی اعتماد میں کمی آئی ہے۔

    سروے میں شامل 54 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد عالمی سطح پر امریکا کے اثر و رسوخ میں کمی آئی ہے، جبکہ متعد د افراد نے خارجہ پالیسی اور عالمی معاملات سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کیا ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کا رجحان عالمی کشیدگی اور جنگی حالات کے باوجو د برقرار ہے۔ عوامی رائے میں سب سے زیادہ تشویش معیشت، مہنگائی، روزگار اور امریکا کے عالمی کردار سے متعلق امور پر ظاہر کی گئی۔

    سیاسی ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے حالیہ سرو ے میں ڈیموکریٹس کو ریپبلکن پارٹی پر 4 فیصد برتری حاصل رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی رجحانات میں تبدیلی آ رہی ہے اگر یہی رجحان برقرار رہا تو ڈیموکریٹس کانگریس کے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو سخت مقابلہ دے سکتے ہیں۔

    امریکی سیاسی سروے کے معروف ادارے ریئل کلیئر پولیٹکس کے مطابق صدر ٹرمپ کی موجودہ اوسط مقبولیت بھی دباؤ کا شکار ہے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 41 فیصد امریکی شہری ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، جبکہ 56.4 فیصد نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ٹرمپ کی مقبولیت میں اتار چڑھاؤ گزشتہ ایک سال سے جاری ہے، تاہم گزشتہ چند ماہ کے دوران اس میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

    کارنیل یونیورسٹی کے روپر سینٹر فار پبلک اوپینین ریسرچ کے مطابق امریکی تاریخ میں کسی صدر کی سب سے کم مقبولیت سابق صدر ہیری ٹرومین کو درپیش آئی تھی، جن کی مقبولیت کی شرح فروری 1952 میں صرف 22 فیصد تک رہ گئی تھی۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی کارکردگی پر ہونے والے جائزے کو مسترد کرتے ہوئے ان کے اقدامات کا دفاع کیا ہے وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے ’نیوز ویک‘ کو ای میل کے ذریعے بتایا کہ امریکی تاریخ میں کسی بھی دوسرے صدر نے عوام کے لیے وہ کام نہیں کیے جو صدر ٹرمپ نے کیے ہیں ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، معیشت کو مضبوط بنانے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2025 میں دوسری مرتبہ امریکی صدر کا منصب سنبھالا تھا ان کی دوسری مدتِ صدارت میں امیگریشن، تجارتی پالیسی، حکومتی اخراجات، خارجہ تعلقات اور معاشی فیصلے امریکی سیاست میں اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔

  • وزیراعظم سے چیئرمین این ڈی ایم اے  کی ملاقات

    وزیراعظم سے چیئرمین این ڈی ایم اے کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے ملاقات کی جس میں ملک میں مون سون بارشوں کے دوران ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مون سون کے دوران صوبائی حکومتوں اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کے ساتھ رابطوں اور ہم آہنگی کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم کو ملک میں مون سون بارشوں کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال کی تیاری پر بریفنگ دی، اس کے علاوہ وزیراعظم کو پیشگی اطلاع نظام کو مکمل فعال بنانے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ اس حوالے سے تعاون پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔