Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • قائمہ کمیٹی داخلہ کا سیکرٹری وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد سمیت دیگر کے سمن جاری کرنیکا فیصلہ

    قائمہ کمیٹی داخلہ کا سیکرٹری وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد سمیت دیگر کے سمن جاری کرنیکا فیصلہ

    قائمہ کمیٹی داخلہ کا سیکرٹری وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد سمیت دیگر کے سمن جاری کرنیکا فیصلہ

    سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی کے گھر پر ایف آئی اے کی جانب سے 13 ستمبر2022 کو مارے جانے والے چھاپے، تلاشی اور حراساں کرنے کے معاملے کے حوالے سے چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا تھا جس میں سیکرٹری وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد، ڈی آئی جی اپریشنز اسلام آباد، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم ایف آئی اے، ڈائریکٹر ایف آئی اے کو طلب کیا گیا تھا مگر قائمہ کمیٹی کے آج کے منعقد ہ اجلاس میں صرف ڈائریکٹرانتظامیہ اسلام آباد کے علاوہ متعلقہ محکموں کا ایک بھی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔چیئرمین و اراکین کمیٹی نے اداروں کے نمائندوں کے اس رویے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف سمن جاری کرکے آئندہ سوموار کو کمیٹی اجلاس طلب کر کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اور تنبیہ کی گئی کہ اگر آئندہ اجلاس میں بھی انہوں نے شرکت نہ کی تو استحقاق کی تحریک سمیت دیگر اختیارات پر عمل کیا جائے گا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی جو ملک کے ایک نامور اور مشہور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور گزشتہ 26 سالوں سے سیاست میں متحرک ہیں۔ ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کرناناقابل فہم ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران پارلیمنٹرین کے خلاف جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے قابل مذمت ہے۔سیکرٹری داخلہ کو آج کے کمیٹی اجلاس کے حوالے سے خط لکھا تھا۔اسپیشل سیکرٹری داخلہ سے بات بھی ہوئی تھی۔ آئی جی اسلام آباد پولیس، ایف آئی اے، چیف کمشنر و دیگر کو بھی نوٹسز بجھوائے گئے اور آگاہ بھی کیاگیاتھا مگرکسی نے آنے کی زحمت نہیں کی۔پارلیمنٹرین اور عام عوام کے ساتھ اداروں کے ایسے رویے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ لوگوں کے گھروں میں بغیر وارنٹ گھسنا خلاف قانون ہے۔ہر ایک کی چادر اورچار دیوار ی کے تقدس کو ملحوظ خاظر رکھنا چاہیے۔

    قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ یہ انتہائی اہم کمیٹی ہے۔ آج قانون اور پارلیمنٹ کے تقدس کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔سینیٹرسیف اللہ سرور خان نیازی ہماری جماعت کے اہم رکن ہیں۔ان کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔متعلقہ ادارے کے اہلکار خواتین کے بغیر ان کے بیڈ روم تک گھس گئے اور خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا گیا۔ پاکستان میں ایسے برے حالات کبھی نہیں دیکھے گئے جو آج کل دیکھے جا رہے ہیں۔پارلیمنٹ، آزادی اظہار رائے اور شخصی آزادی کی باتیں کرنے والے آج کہاں گم ہو گئے ہیں۔ رنگیلا شاہی کے حالات بن چکے ہیں۔حکومت نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی۔ سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ قائمہ کمیٹی ان کیمرہ اجلاس طلب کر کے معاملات کا جائزہ لے اور متعلقہ ادروں کا موقف بھی سنے۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ متعلقہ اداروں نے جتنی بڑی غلطی کی ہے اب پارلیمنٹ کا سامناکرنے کی ان کی جرات نہیں رہی۔یہ زیادتی ناقابل برداشت ہے۔ ملک کے حالات جس طرف کو جا رہے ہیں وہ صحیح نہیں ہیں۔

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    دوسری شادی کرنے کیلئے بیوی کو قتل کرنیوالا ملزم گرفتار

    سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے جن اداروں کے نمائندوں کو طلب کیا تھا انہوں نے پارلیمنٹ کو اہمیت دینے کی زحمت ہی نہیں کی۔ ان کو سمن جاری کیے جائیں اور کمیٹی کے سامنے پیش کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ آئی جی اسلام آباد پولیس اور آئی جی پنجاب نے 25 مئی کو جو نہتے عوام کے ساتھ سلوک کیا تھا انتہائی قابل افسوس ہے۔ سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ ایوان بالاء میں 18 سال ہوگئے ہیں۔ آج کل جو حالات دیکھے جا رہے ہیں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ قائمہ کمیٹی پارلیمنٹ کی ایکسٹینشن ہوتی ہے۔ متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے نہ صرف اس قائمہ کمیٹی بلکہ پورے ایوان کے تقدس کو مجروع کیا ہے ان کے خلا ف سخت ایکشن ہونا چاہیے۔ ہماری روایات آئین پاکستان اور قانون پاکستان کے تحفظ سمیت عام عوام کے عزت و حرفت کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ بغیر سرچ وارنٹ کے کسی کی چادر اور چار دیوار ی کے تقدس کو پامال کرنے کی قانون اجازت نہیں دیتا۔ اگر موجودہ سینیٹر کے ساتھ ایسا ظالمانہ رویہ اختیار کیاگیا ہے تو عام عوام کا کیا حال ہوگا۔ سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ ہماری جماعت کے پارلیمنٹرین کو ایف آئی اے نے نوٹس جاری کیے تو انہوں نے قانون کے مطابق اس پر عمل کیا اور بھر پور تعاون کیا۔ مگر سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی اور ان کے گھروالوں کو جو ہراساں کیا گیا وہ ناقابل برداشت اور شرمندگی کا باعث ہے۔سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہاکہ قانون سب کیلئے یکساں ہے تمام اداروں کو قانون کے مطابق عمل کرنا چاہیے اور خلاف قانون کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جانا چاہیے۔

  • سابق قومی کرکٹرزکی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے قومی اسکواڈ کی سلیکشن پر کڑی تنقید

    سابق قومی کرکٹرزکی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے قومی اسکواڈ کی سلیکشن پر کڑی تنقید

    پاکستان کے سابق کرکٹرز نے ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے اعلان کے بعد چیف سلیکٹر محمد وسیم سمیت ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق اور بیٹنگ کوچ محمد یوسف پر کڑی تنقید کی –

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاویدنے کہا کہ ایشیا کپ والی ہی ٹیم منتخب ہوئی ہے، مجھے نہیں لگتا یہ ٹیم ورلڈ کپ میں بہت اچھا کر سکے،پاکستان کی بولنگ اچھی ہے لیکن بیٹنگ میں مشکلات کا سامنا رہے گا-

    آئی سی سی ٹی ٹو20ورلڈکپ کیلئےقومی اسکواڈکااعلان

    عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ اوپننگ میں بابر اور رضوان ہی ہوں گے، وہ جگہ تو خالی نہیں ہوگی، بابر اور رضوان اپنی جگہ پر رہیں گے، تیسرے نمبر پر شان کو کھلایا جائےگا اور مڈل آرڈر ہی ہماری اصل پرابلم ہے مجھے نہیں پتا حیدر علی کو کس بنیاد پر ٹیم میں شامل کیاگیا، اسی طرح حارث کی سلیکشن سمجھ میں نہیں آتی، اس نے کہاں پرفارم کیا؟-

    انہوں نے کہا کہ شان مسعود نے پرفارم کیا، خوشی ہے کہ انہیں اسکواڈ میں جگہ ملی، شان مسعود نے اپنی بیٹنگ بہتر کی ہے، آپ کو شعیب ملک اور سرفراز احمد سے ضد ہےتو کوئی نیا ٹیلنٹ لائیں۔

    پاکستان کے سابق آل راؤنڈر شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ شعیب ملک کو انگلینڈ کی ہوم سیریز کے خلاف ٹیم میں رکھنا چاہیے تھا۔

    قومی اسکواڈ کے انتخاب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ ٹیم میں شان مسعود کی واپسی ہوئی لیکن شعیب ملک کو 3 سے 4 میچز دینے چاہیے تھےہماری ٹیم کو اس ایریا میں ایک اچھے بیٹر کی ضرورت ہے اور وہ تجربہ کار ہے، مسلسل اسی نمبر پر کھیلتا رہا ہے-

    انگلش کپتان کا پاکستان کیخلاف سیریز مس کرنے کا امکان

    شاہد آفریدی نے کہا کہ وہ لڑکا ٹیم میں ہونے کا مستحق تھا، اس نے دنیا میں ہر جگہ کرکٹ کھیلی ہے اور وہ ہر ٹیم میں پرفارم کرتا ہے، دنیا کی ہر فرنچائز کا انتخاب شعیب ملک ہوتا ہے، وہ سب سے زیادہ فٹ کھلاڑی ہےشعیب کے ہونے سے بابر اعظم کو گراؤنڈ میں بہت سپورٹ ملتی چاہے وہ کھیلتا یا نہیں۔

    پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے اعلان کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ایوریج لوگوں کو ایوریج بندے ہی پسند آتے ہیں، ایوریج لوگوں سے غیر معمولی فیصلوں کی توقع نہیں کی جا سکتی-

    انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ماشاء اللہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کیا ٹیم سلیکٹ کی ہے، پاکستان کا مسئلہ مڈل آرڈر تھا لیکن انہوں نے کہا ہم تسلسل کےساتھ ایسا فیصلہ کریں گے کہ جوآپ کو پسند آئے یعنی ہم اتنا برا فیصلہ کریں گے کہ مڈل آرڈر کوتبدیل ہی نہیں کریں گے میں کہہ کہہ تھک چکا ہوں کہ فخر کو کچھ عرصہ اوپننگ کراؤ، آسٹریلوی پچز پر بال اوپر آتی ہے، فخر کو سوٹ کریں گی یہ کنڈیشنز لیکن نہیں بابر نے اوپننگ سے نہیں ہٹنا-

    چیف سلیکٹر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شعیب اختر نے کہا کہ جب وہ ہی ایوریج ہوگا تو فیصلے بھی ایسے ہی ہوں گے، مجھے ویسے بھی اس سے کسی قسم کی امید نہیں،ثقلین آخری دفعہ 2002 میں کرکٹ کھیلا تھا پتہ نہیں اسے ٹی ٹوئنٹی کا آئیڈیا ہے یا نہیں، وہ میرا دوست ہے اسے یہ باتیں اچھی نہیں لگیں گی لیکن ثقلین یہ آپ کے بس کی بات نہیں-

    پاکستان کے ساتھ سیریز سے ورلڈ کپ کی تیاری کا اچھا موقع ملے گا، جوز بٹلر

    بیٹنگ کوچ محمد یوسف سے متعلق شعیب اختر کا کہنا تھا کہ اس جیسا بندہ ہو اور ٹیم کی بیٹنگ پرفارم نہ کرے، یہ میری سمجھ سے باہر ہے، اس کے بعد آپ سب کا اور میرا پسندیدہ افتخار جو کہ مصباح پارٹ ٹو ہے، میں ذاتی نہیں ہو رہا لیکن یہ آپ سب کے دل کی آواز ہی ہےمجھے ڈر ہے کہ کہیں اس بیٹنگ لائن اپ کے ساتھ پاکستان پہلے راؤنڈ سے ہی باہر نہ ہو جائے-

    دوسری جانب وکٹ کیپر کامران اکمل نے اپنے یوٹیوب چینل پر ویڈیو پیغام میں کہا کہ یہ ٹیم چیف سلیکٹر، کوچ اور کپتان کی پسند سے بنائی گئی ہے، کل کو اگر کھلاڑی پرفارم نہیں کرتے تو یہ سب اپنے اوپر دباؤ لینے کے بجائے کرکٹرز پر بوجھ ڈالیں گے کہ انہوں نے پرفارم نہیں کیا جبکہ ٹیم تو آپ نے ہی سلیکٹ کی تھی اس ٹیم کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے آنکھوں پر پٹی باندھ کر ٹیم کا اعلان کیا گیا، یہ اسکواڈ ایک بار پھر دوستی یاری کے لیے بنایا گیا ہے۔

    کامران اکمل نے کہا کہ چیف سلیکٹر صاحب کو کھلاڑیوں کی پرفارمنس نظر نہیں آرہی؟ جو ٹیم میں ہونے کا مستحق ہے اسے ضرور ہونا چاہیےشرجیل خان کواسکواڈ کا حصہ بنانا چاہیے تھا، اس کےعلاوہ شعیب ملک تجربےوالا کھلاڑی ہےاسے شامل کرنا چاہیے تھا، انٹرنیشنل ٹیمیں کھلاڑیوں کے سیکھنے کے لیے نہیں بنائی جاتیں، پرفارمنس کےلیےبنتی ہیں، یہ ایونٹ روز روز نہیں ہوتے، اللہ کرے ہماری ٹیم اچھی پرفارم کرے لیکن اس سے زیادہ اچھی ٹیم کا انتخاب ہو سکتا تھا۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ: آسٹریلیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز و دیگر ٹیموں کے سکواڈز کا اعلان

    وکٹ کیپر بیٹر نے کہا کہ مجھے لگتا ہے ہمارے لوگوں کی یادداشت بہت کمزور ہے، ایشیا کپ میں مڈل آرڈر پر کافی تنقید ہوئی سب نے بہت بات کی لیکن اب نیا ایونٹ شروع ہونے والا ہے تو سب بھول جائیں گے اور اگلی خوشی کا انتظار کرتے رہیں گے۔

  • حکومت اور سرکار میں موثر اخلاقی ضابطے، کے موضوع پر  مذاکرہ ،شرکاء نے دیں اہم تجاویز

    حکومت اور سرکار میں موثر اخلاقی ضابطے، کے موضوع پر مذاکرہ ،شرکاء نے دیں اہم تجاویز

    حکومت اور سرکار میں موثر اخلاقی ضابطے، کے موضوع پر مذاکرہ ،شرکاء نے دیں اہم تجاویز

    “حکومت اور سرکار میں موثر اخلاقی ضابطے” کے موضوع پر ایک مذاکرہ سکول آف گورننس اینڈ سوسائٹی، یونیورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا۔

    اس مذاکرے میں جسٹس ریٹائرڈ شیخ احمد فاروق، محترمہ عارفہ صبوحی ، سابقہ سیکرٹری حکومت پاکستان، پروفیسر راحت العین، ڈاکٹر راغب نعیمی، مہتمم جامعہ نعیمیہ ، خرم اسلم خان، سابقہ جوئنٹ ڈائریکٹر جنرل، اینٹیلیجنس بیورو، اظہر رشید خان، ایڈیشنل آئی جی/ ڈائیریکٹر جنرل نیشنل پرزنز اکیڈمی، نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا

    ڈاکٹر نوید الہی نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور موضوع کی اہمیت سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ شرکا نے تاسف کا اظہار کیا کہ رفتہ رفتہ معاشرے اور سول سروس میں اخلاقی انحطاط نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ تا ہم شرکا نے کار آمد تجاویز دیں جو کہ اس میں بہتری کا سبب بن سکتی ہیں۔ مثلاً ایسے موثر قوانین بنائے جائیں جو سرکاری ملازمین سے اپنے سرکاری فیصلوں کی وجوہات بتانے کا تقاضا کرتے ہیں، مثال کے طور پر معلومات کی آزادی کا قانون. مناسب ‘عوامی مفاد کے انکشافات’ کے تحفظ کے لیے ‘وسل بلور’ تحفظ کا قانون بنایا جائے۔

    میرٹ کی بنیاد پر ترقی ، تعیناتی اور بھرتی ہونی چاہئے اور امتیازی سلوک کے خلاف نظام وضع کیا جائے۔ اخلاقیات کے ضابطوں کے مواد اور استدلال میں تربیت اور ترقی، اخلاقی نظم و نسق کے اصولوں کا اطلاق، سرکاری طاقت کا صحیح استعمال، اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے تقاضے کی تربیت۔ مؤثر بیرونی اور اندرونی شکایات اور ازالے کے طریقہ کار وضع کئیے جائیں۔ اصولوں یا اخلاقیات کا ایک کم از کم سیٹ ہونا چاہیے جیسے مفاد عامہ کی خدمت، شفافیت، دیانتداری، قانونی حیثیت، انصاف پسندی، جوابدہی وغیرہ۔ان پہ عملداری لازم کی جائے۔ اس بحث پہ مبنی تفصیلی رپورٹ مرتب کی جائے گی جو تمام متعلقہ حلقوں تک پہنچائی جائے گی۔

    ڈاکٹر نوید الہی نے آخر میں کہا کہ اس موضوع پہ بحث معاشرے کے ہر شعبے میں ہونی چاہئیے تاکہ اسکی ترویج ہو اور اطلاق ہو۔

  • کیا پی ٹی آئی حکومت میں کسی پر پولیس نے تشدد نہیں کیا؟ سپریم کورٹ

    کیا پی ٹی آئی حکومت میں کسی پر پولیس نے تشدد نہیں کیا؟ سپریم کورٹ

    کیا پی ٹی آئی حکومت میں کسی پر پولیس نے تشدد نہیں کیا؟ سپریم کورٹ
    سپریم کورٹ میں شہباز گل پر تشدد اورجسمانی ریمانڈ کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے وفاقی اور تفتیشی افسران کو نوٹسز جاری کردیئے سپریم کورٹ نےتفتیشی افسران کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی شہباز گل پر تشدد اورجسمانی ریمانڈ کیخلاف کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی

    دوران سماعت شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا،جو تشدد شہباز گل پر کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی، جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل نے کہا کیا تھا کس بنیاد پر کیس بنایا گیا؟ وکیل نے کہا کہ شہباز گل نے ایک تقریر کی جس کو بنیاد بنا کر 13 دفعات لگائی گئیں،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے شہباز گل کے وکیل کی سرزنش کی اور کہا کہ کس بنیاد پر جسمانی ریمانڈ دیا گیا،وکیل نے کہا کہ آپ عرض کر دیں کہ جسمانی ریمانڈ کیوں دیا گیا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ میں عرض کروں آپ کیا بات کر رہے ہیں، جج سے ایسے بات کرتے ہیں،شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے الفاظ واپس لیتے ہوئے معذرت کر لی

    جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل نے تقریر نہیں کی بلکہ ٹی وی پر انٹرویو دیا تھا، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کیس کی تیاری ہی نہیں کی،آپکو جسمانی ریمانڈ دینے کے طریقہ کار اور مقصد کا ہی نہیں پتہ،اس مقدمے میں ملزم سے کیا چیز ریکور کرنا تھی؟کیا پولیس نے شہباز گل سے زبان ریکور کرنی تھی جس سے وہ بولا تھا؟شہباز گل سے جو ریکوری کی گئی اس کا کیس سے کوئی تعلق ہی نہیں،تشدد کیخلاف شہباز گل کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا ہوگا،کیا آپ نے تشدد کیخلاف متعلقہ فورم سے رجوع کیا؟ شہباز گل کو متعلقہ فورم پر درخواست دائر کرنے سے کس نے روکا ہے؟ جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پی ٹی آئی حکومت میں کسی پر پولیس نے تشدد نہیں کیا؟ وکیل نے کہا کہ پولیس تشدد کے واقعات کم ہی سامنے آتے ہیں،ملکی تاریخ کا سب سے متنازعہ ریمانڈ شہباز گل کا دیا گیا،

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج نے آرڈر میں لکھا کہ شہباز گل کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں کیا جج تشدد کے کیس میں بطور گواہ بھی پیش ہونگے؟ عدالت نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجسٹریٹ قیدی کے حقوق کا ضامن ہوتا ہے آپکو اتنا بھی علم نہیں،کیا ضابطہ فوجداری کا اطلاق سپریم کورٹ پر ہوتا ہے؟ وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہوتا ہے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق نہیں ہوتا،

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

  • مخالفین کی نقلیں اتارنے اور اردو ٹھیک کرنے والے خود لیٹر اور کلو میں فرق بھول گئے،شیری رحمان

    مخالفین کی نقلیں اتارنے اور اردو ٹھیک کرنے والے خود لیٹر اور کلو میں فرق بھول گئے،شیری رحمان

    وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ مخالفین کی نقلیں اتارنے اور اردو ٹھیک کرنے والے خود لیٹر اور کلو میں فرق بھول گئے-

    وفاقی وزیر شیری رحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دوسروں کی غلطیاں تب نکالیں جب آپ خود کوئی غلطی نہ کرتے ہوں مخالفین کی نقلیں اتارنے اور اردو ٹھیک کرنے والے خود لیٹر اور کلو میں فرق بھول گئےاگر کسی اور سے یہ غلطی ہوئی ہوتی تو تحریک انصاف اس کے خلاف مہم چلا چکی ہوتی۔

     

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وفاقی وزیرمواصلات کی ملاقات

    انہوں نے کہا کہ عمران خان غلطیاں کریں لیکن ہم نقلیں نہیں اتاریں گے اور عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ زبان ہر انسان کی پھسل سکتی ہے اور غلطی ہر کوئی کر سکتا ہے۔

    شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہی روپے کی قدر گر رہی ہے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گزشتہ روز ویڈیو خطاب میں زبان پھسل گئی تھی ،کہیں لیٹر اور کلو کا فرق بھول گئے تو کہیں ڈیزل کی قیمتوں میں گڑ بڑ کر بیٹھے تھے-

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے مختلف اشیاء کی قیمتوں کے اعداد و شمار بتائے موجودہ حکومت کا اپنے دور حکومت سے موازنہ کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ان کے دور میں آٹا 50 روپے فی کلو تھا لیکن آج کراچی میں آٹا 100 روپے لیٹر ہوگیا ہے۔

    عمران خان اپنے خطاب میں ڈیزل کی قیمتوں میں بھی گڑ بڑ کر بیٹھے ، اپنے دورِ حکومت اور موجودہ دورِ حکومت میں ڈیزل کی ایک ہی قیمت بتا کر کہا کہ آج ڈیزل سو روپے مہنگا ہوگیا ہے ۔

  • ملکہ الزبتھ دوم کی وفات: شہد کی مکھیوں کو بھی خبر دے دی گئی

    ملکہ الزبتھ دوم کی وفات: شہد کی مکھیوں کو بھی خبر دے دی گئی

    ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد شاہی خاندان کے کئی انوکھے اور قدیم رسم و روایت سامنے آئے ہیں-

    باغی ٹی وی : ایسی ہی ایک روایت جس میں شہد کی مکھیوں کو ملکہ کی وفات کی خبر دینا بھی شامل ہے، جس کے لیے خصوصی طور پر چند افراد پر مشتمل ایک گروہ کو ملکہ کی وفات کی افسردہ خبر شاہی محل میں موجود شہد کی مکھیوں کو دینے کیلئے بھیجا گیا۔

    یوکرین کو ہتھیار فروخت کرنا اخلاقی طور پر درست ہے،پوپ فرانسس

    شاہی خاندان میں یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ اگر شاہی محل کی مکھیوں کو ان کے مالک کی وفات یا تبدیلی کے متعلق نہ بتایا جائے تو وہ شہد بنانا بند کر دیتی ہیں۔


    جان چیپل گذشتہ 15 برس سےشاہی محل میں شہد کی مکھیوں کو پال رہےہیں انھوں نے بکنگھم پیلس اور کلارنس ہاؤس (شاہ چارلس کی بطور شہزادہ ویلز سرکاری رہائش گاہ) کی حدود میں موجود شاہی خاندان کی شہد کی مکھیوں کو یہ خبر سنائی، جو صدیوں سے شاہی خاندان کی روایت کا حصہ ہے۔


    ڈیلی میل کے مطابق چیپل کا کہنا تھا کہ انھوں نے شاہی محل میں موجود شہد کی مکھیوں کو نئے بادشاہ کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ وہ نئے بادشاہ کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔

    اس روایت کے مطابق شہد کی مکھی کے ہر چھتے کے پاس جا کر مالکن کی وفات کے بارے میں بتانا پڑتا ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ آپ کہیں نہ جانا، آپ کے نئے مالک آپ کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔

    ملکہ برطانیہ کے تابوت کی حفاظت پر تعینات گارڈ بے ہوش ہو کر گرپڑا

    ملکہ برطانیہ کو الوداع کہنے کی تیاریاں عروج پر ہیں، بکھنگم پیلس میں شاہی گارڈز کی ریہرسل ہوئی جس میں رائل بینڈ سمیت ملکہ کے فرضی تابوت کو لیے گارڈز نے ریہرسل میں حصہ لیا ملکہ کے تابوت کی حفاظت پر شاہی گارڈز کا عملہ 24 گھنٹے تعینات ہے۔

    ملکہ کا تابوت چار دن تک ویسٹ منسٹر ہال میں رہے گا، جبکہ ملکہ کی آخری رسومات 19 ستمبر کو مکمل ہوں گی۔ انتظامیہ کے مطابق آخری روز تک 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد ملکہ کے دیدار کیلئے آئیں گے۔

    ملکہ کے انتقال پر پھولوں کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے، ترکی سے پھول ٹرکوں کے بجائے کارگو طیارے پر برطانیہ پہنچائے جانے لگے ہیں۔

    ترکی کے مطابق برطانیہ سے پھولوں کے آرڈرز میں 90 فیصد اضافہ ہوا ہے، تاہم ترک پھول فروش صرف 40 فیصد مانگ کو پورا کرنے کے قابل ہیں کیونکہ پہاڑی علاقوں میں پیداوار کم ہو رہی ہے۔ ترکش کارگو کا کہنا ہے کہ انطالیہ اور اسپارٹا سے آخری رسومات کے لیے تیرہ ٹن وزنی پانچ لاکھ سے زائد پھولوں کی ترسیل شروع کر دی ہے۔

    ترک کارگو نے ہفتے کے آغاز میں تقریباً چار ٹن پھول لندن پہنچائے تھے، ترکی سے برطانیہ کو پھولوں کی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کا تابوت ویسٹ منسٹر ہال پہنچا دیا گیا

  • چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل 14روز کی چھٹی پر چلے گئے

    چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل 14روز کی چھٹی پر چلے گئے

    چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل 14روز کی چھٹی پر چلے گئے۔

    باغی ٹی وی : حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل کی 17 سے 30 ستمبر تک چھٹی منظور ہوئی ہے۔

    نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ کامران علی افضل کی غیر موجودگی میں چیئرمین پی اینڈ ڈی عبد اللہ سنبل چیف سیکرٹری آفس کے معاملات دیکھیں گے۔

    پراپرٹی ٹرانسفر فیس میں بڑی کمی:رئیل اسٹیٹ اورکاروباری طبقہ خوش ہوگیا

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے کام جاری رکھنے سے معذرت کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو مراسلہ بھی بھیجا تھا۔

    ذرائع کے مطابق مراسلے میں لکھا گیا تھا کہ تبادلے کارکردگی کی بنیاد پر ہونے چاہئیں نہ کہ سیاسی تبدیلی کی بنیاد پر، ٹرانسفر پوسٹنگ احکامات پر صرف دستخط کرنے والا ربڑ اسٹیمپ نہیں بن سکتا سیاسی تبدیلی اور فیصلوں سے پہلے ہی بیوروکریسی کا کام متاثر ہوا ہے۔

    کورونا وبا اپنے اختتام کے قریب ہے، ڈبلیو ایچ او

    چیف سیکرٹری کابینہ کے سیکرٹری کے طور پر کام کرتے ہیں، کابینہ اجلاس میں سیکرٹری کے فرائض سیکرٹری آئی اینڈ سی نے انجام دیے۔

    کامران علی افضل نے بطور چیف سیکرٹری پنجاب اپنے عہدے کا چارج گزشتہ برس نومبر میں سنبھالا تھا ان کا تعلق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 21ویں کامن سے ہے۔بطور چیف سیکرٹری پنجاب تعیناتی سے قبل وہ وفاقی سیکرٹر ی صنعت و پیداوار خدمات سر انجام دے رہے تھے۔

    ضروری غذائی اجناس کی ترسیل کے سلسلے میں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹرکا بڑا فیصلہ

  • بارشوں اورسیلا ب سے ڈیڑھ کروڑ لوگ سندھ میں بے گھر ہوئے ،وزیراعلیٰ سندھ

    بارشوں اورسیلا ب سے ڈیڑھ کروڑ لوگ سندھ میں بے گھر ہوئے ،وزیراعلیٰ سندھ

    حیدر آباد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وفاقی وزیرمواصلات اسعد محمود کی ملاقات ہوئی ہے
    ملاقات میں حیدر آباد میں موٹروے اورجامشورو ،سیہون روڈ کی تعمیر پرتبادلہ خیال کیا گیا،اجلاس میں چیف سیکریٹری سہیل راجپوت، چیئرمین پی اینڈ ڈی سیکریٹری ورکس شریک تھےک اجلاس میں سکھر حیدرآباد موٹروے ایم6 کی تعمیر اتی امور زیربحث آیا، اجلاس میں بتایا گیا کہ سکھر حیدرآباد موٹروے وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل ہے، سکھرحیدرآباد موٹروے روڈ بی او ٹی پر بنایا جا رہا ہے،سکھرحیدرآباد موٹروے روڈ بی او ٹی پر بنایا جا رہا ہے، تعمیر پر 1.37 ٹریلین روپے خرچ آئے گا،سکھر حیدرآباد موٹروے ایم 6 اہم روڈ ہے جس کو سی پیک منصوبے میں نظرانداز کیا گیا سکھرحیدرآباد موٹروے وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل ہے، ہم چاہتے ہیں سکھر حیدرآباد موٹروے ایم6 روڈ پر کام جلد شروع کیا جائے،

    وفاقی وزیرمواصلات اسعد محمود نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو اسکیمز پر کام میں پیش رفت پر بریفنگ دی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ میں نے 2018 سے 22 تک جامشورو،سیہون روڈ کی تعمیر کیلئے 6 خطوط وزیراعظم کو لکھے، ایک خط شاہد خاقان عباسی،4 عمران خان اور آخری خط شہباز شریف کو لکھا ہے،2018میں عمران خان کو خط لکھا کہ اس روڈ پر 225 حادثات ہوئے،عمران خان کو لکھا کہ حادثات میں 196 افرادجاں بحق اور 225 زخمی ہوئے، یہ روڈ این ایچ اے کا ہے، جس کی تعمیر پر ہم نے وفاقی حکومت کو 2017 میں 7 ارب روپے ادا کیے، آخری خط میں نے وزیراعظم شہباز شریف کو 20 اپریل کو لکھا کہ روڈ کی تعمیر کروا کے دیں،وزیراعظم نے مہربانی کی کہ این ایچ اے کو ہدایات دیں کہ روڈ کی تعمیر مکمل کی جائے، سکھر ملتان ایم۔5 پر میرپور ماتھیلو انٹرچینج کی تعمیر اور اسکو قومی شاہراہ سے ملانا شامل ہے شہداد کوٹ بائے پاس کی تعمیر کی اسٹڈی ، عمرکوٹ انٹرچینج ، سکھر روہڑی برج اور لیاری ایلویٹڈ فرائٹ کوریڈور شامل ہیں

    ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر مواصلات مصروفیات کے باوجود حیدرآباد آئے آج اچھی ملاقات ہوئی ، حیدرآباد سے سکھرموٹروے پر کام کرنے کا اتفاق ہوا ،عمر کوٹ ، کیٹی بندر گھارو سمیت مختلف شاہراہوں پر بات ہوئی،جو جگہیں بند ہیں وہاں نیشنل ہائی وے اور ہم ساتھ مل کر کام کررہے ہیں ،انڈس ہائی وے پر 8 سے 10 فٹ پانی ہے،اللہ کی طرف سے آزمائش آئی ہے بارشوں اورسیلا ب سے ڈیڑھ کروڑ لوگ سندھ میں بے گھر ہوئے ،جو بھی خیمے دستیاب تھے دے دیئے گئے، 15 لاکھ مزید چاہیئں راشن کے لیے سب سے رابطہ کررہے ہیں ، متاثرہ علاقوں میں تیسرا چکر لگا رہا ہوں،میں آگے مزید اضلاع جارہا ہوں،جو لوگوں کو چھوڑ کرگئے ہیں ان سے حساب کرینگے،حکومت سے مطالبہ کرنا متاثرین کا حق ہے،ان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اگر حکومت صبر چھوڑے گی تو مشکلات ہونگی،سندھ کی سر زمین پر 120 ملین ایکڑ فٹ پانی آیا ہے،ماہرین نے تجویزدی کہ پانی کو گھما دیں، مجھے یہ بتائیں کہ پانی کو کسطرح گھما سکتے ہیں ،

    مفتی عبدالقوی کو صرف تھپڑہی نہیں جوتے بھی مارے ہیں، حریم شاہ کا دعویٰ

    مفتی عبدالقوی نےبہت گندی باتیں کیں؛ایسی باتیں کہ سن کرہرکوئی شرمسارہوجائے:حریم شاہ نےگفتگولیک کردی

    مفتی عبدالقوی کی خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو وائرل

    اداکارہ میرا کی فیملی کی جائیداد پر قبضہ، ملزم نے دھوکہ دہی کی سب حدیں پار کر لیں

  • کورونا وبا اپنے اختتام کے قریب ہے، ڈبلیو ایچ او

    کورونا وبا اپنے اختتام کے قریب ہے، ڈبلیو ایچ او

    قومی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس کے مزید 98 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں-

    باغی ٹی وی : قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا کے 268 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹے میں 14 ہزار 467 کورونا ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 98 افراد کے نتائج مثبت ریکارڈ ہوئے۔


    این ایچ آئی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 0.68 فیصد رہی، جبکہ ملک بھر میں کورونا کے 85 مریضو ں کی حالت تشویش ناک ہے، جب کہ اس دوران کوئی مہلک وبا کے باعث کوئی ہلاکت بھی رپورٹ نہیں ہوئی۔

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈہانوم گیبریاسیس نے 14 ستمبر بدھ کے روز کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کا خاتمہ اب نظر آنے لگا ہے۔

    خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے ایک ورچوئل پریس کانفرنس کےدوران کہا کہ ہم ابھی تو وہاں نہیں پہنچے ہیں۔ لیکن اس کا خاتمہ نظر آرہا ہے۔ ہم اس وبائی مرض کو ختم کرنے کی اس سے بہتر پوزیشن میں اس سے پہلے کبھی نہیں تھے۔

    ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ قبل اس کے کہ اس وبائی مرض کی شدت میں ایک بار پھر اضافہ ہو جائے، دنیا کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اگر ہم ابھی اس موقع کو ضائع کر دیتے ہیں، تو پھر ہم کورونا کی مزید اقسام کےخطرات کومول لیں گے، جس سے زیادہ اموات، زیادہ خلل اور زیادہ غیر یقینی صورتحال کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے مختصراً چھ نکاتی ایک پالیسی شائع کی ہے، جس کا مقصد وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنا ہے۔ اس میں تنظیم نے اس بات کی سفارش کی کہ تمام ممالک میں ہیلتھ ورکرز اور عمر رسیدہ افراد سمیت خطرے میں پڑنے والے تمام گروپوں کے سو فیصد لوگوں کو ویکسین لگانا ضروری ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ وائرس کی جانچ اور اس کی رپورٹ کو ترتیب دینے کا سلسلہ بھی جاری رکھیں۔ پالیسی میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ مستقبل میں انفیکشن کی کسی بھی ممکنہ لہرکے پیش نظر پہلےہی سےطبی آلات کی مناسب فراہمی کو برقرار رکھیں، ویکسین لگانے کے ساتھ ہی ٹیسٹنگ کی مہم کو تیز کر کے یورپ میں منکی پاکس کی وبا کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔

    ڈبلیو ایچ او میں کوویڈ19 سے متعلق تکنیکی قیادت کرنے والی ماریا وان کرخوف نے کہا کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ جس تعداد میں کیسز رپورٹ کیے جاتے ہیں، حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ تعداد میں کیسز موجود ہوتے ہیں،اس وقت بھی وائرس پوری دنیا میں انتہائی تیزی سےبلند سطح پر گردش کر رہا ہے، اومیکرون کی ذیلی اقسام یا پھر اس کی دیگر اقسام انفیکشن کی مزید لہروں کا سبب بن سکتی ہیں انفیکشن کی لہروں سے اتنی بڑی تعداد میں مستقبل میں اموات کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

  • ضروری غذائی اجناس کی ترسیل کے سلسلے میں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹرکا بڑا فیصلہ

    ضروری غذائی اجناس کی ترسیل کے سلسلے میں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹرکا بڑا فیصلہ

    سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں عوام کے کھانے پینے اور ضروری غذائی اجناس کی ترسیل کے سلسلے میں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹر نے بڑا فیصلہ کیا ہے

    آج صبح نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹر کا باضابطہ اجلاس ڈپٹی چیئرمین نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹر کی زیرِ صدار ت ہوا۔ جس میں تمام چیف سیکرٹریز اور فیڈریٹنگ یونٹس نے شرکت کی اور فوڈ سیکیورٹی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں عوام کو غذائی اجناس خصوصاََ ٹماٹر اور پیاز کو فاسٹ ٹریک پر منگوانے کے اقدمات کی ہدایت کی گئی۔

    نیشنل فوڈسیکرٹری نے نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹر کو بتایا کہ لوگوں کو کھانے پینے کی ضروری اشیاء جس میں پیاز اور ٹماٹر شامل ہیں، مہیا کرنے کے لئے ہنگامی سطحوں پراقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ۔فورم نے ہدایت دی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ملک میں عوام کے لئے غذائی اجناس کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ فورم کو بتایا گیا کہ اس وقت غذائی اجناس کا سٹاک کافی تعداد میں موجود ہے اور اگلی فصل کی کاشت سے پہلے پہلے تک اگر بروقت اقدامات کر لئے جائیں تو انشاء اللہ پاکستان میں غذائی قلت نہیں ہو گی۔ فورم نے ہدایت دی کہ اس سلسلے میں ایک مکمل روڈ میپ تیار کر لیا جائے جس میں گندم، چاول، دالیں اور دیگر ضروری اشیا ء کی نہ صرف فراہمی کو یقینی بنایا جائے بلکہ متاثرہ علاقوں میں بھی پہنچانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔

    فورم نے خاص طور پر ہدایات جاری کی گئیں کہ کسی بھی قسم کی ذخیرہ اندوزی سے اجتناب کیا جائے اور اس حوالے سے صوبوں کو درخواست کی گئی کہ وہ تمام ذخیرہ اندوز افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے جوکہ ان اشیاء کو ذخیرہ اندوزی کر کے مصنوعی قلت اور قیمتوں کے بڑھانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے جاپان کے سفیرکی کراچی میں ملاقات ہوئی ہے

    منچھر جھیل کا سیلابی پانی تمام یوسیز میں 8 سے 10 فٹ تک موجود ہے ،وزیراعلیٰ سندھ

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    سیلاب متاثرین کی بحالی،پنجاب حکومت اوردعوت اسلامی کا ملکر کام کرنے پر اتفاق