Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ملک میں کل6579 کلومیٹر سڑکوں، 246 پلوں، 176 دکانوں کو نقصان پہنچا،این ایف آر سی سی

    ملک میں کل6579 کلومیٹر سڑکوں، 246 پلوں، 176 دکانوں کو نقصان پہنچا،این ایف آر سی سی

    نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ نقصان سندھ اور خیبر پختونخوا میں ہوا۔این ایف آر سی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے بنیادی ڈھانچے اور نجی املاک کے نقصانات ہوئے ہیں، ملک میں کل6579 کلومیٹر سڑکوں، 246 پلوں، 176 دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    قمبر شہداد کوٹ، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز،ٹھٹھہ،بدین اور جیکب آباد کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیںں .بلوچستان میں کوئٹہ،نصیرآباد،جعفرآباد،جھل مگسی بھی شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ بولان،صحبت پور، لسبیلہ بھی شدید متاثر ہوئے۔کے پی میں دیر،سوات،چارسدہ،کوہستان،ٹانک،ڈی آئی خان شدید متاثرہ علاقے ہیں، پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور سیلاب سے شدید متاثر ہیں۔

    این ایف آر سی سی نے بتایا کہ پاک فوج کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز محصور افراد کو نکالنے کیلئے485 پروازیں کرچکے ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں میں 22 پروازیں کی گئیں، 70 افراد کو بچایا گیا، جبکہ ہیلی کاپٹرز سے 29.9 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا۔

    این ایف آر سی سی کے مطابق اب تک ہیلی کاپٹرز کے ذریعے 4424 پھنسے افراد کو نکالا جاچکا ہے، ریلیف کیمپس اور امدادی اشیا جمع کرنے کے پوائنٹس مکمل فعال ہیں، ملک بھر میں147 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

    284 کلیکشن پوائنٹس سندھ،جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں قائم ہیں، سیلاب متاثرین کیلئے امدادی اشیا کو جمع اور آگے تقسیم کیا جارہا ہے۔

    این ایف آر سی سی نے بتایا کہ اب تک6 ہزار855 ٹن خوراک متاثرین میں تقسیم کی جاچکی ہے، 1203 ضروری اشیا اور 45 لاکھ 97 ہزار569 ادویات متاثرین کو دی جاچکی ہیں ،متاثرہ علاقوں میں اب تک 250 طبی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، طبی کیمپوں میں 1 لاکھ 2721 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا۔

    اس کے علاوہ پاک فضائیہ اور بحریہ کی جانب سے بھی ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں، پاک بحریہ کے 2 ہیلی کاپٹروں نے سندھ کے علاقوں میں50 پروازیں کیں،این ایف آر سی سی کے مطابق پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز نے465 افراد کو بچایا،3505 کلو راشن اور 300 کلو ادویات تقسیم کیں،نیوی کی8 غوطہ خور ٹیموں نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں26 غوطہ خور آپریشن کیے۔

    علاوہ ازیں نیوی نے56 میڈیکل کیمپس میں 38 ہزار 496 مریضوں کا علاج کیا گیا، 4 فلڈ ریلیف کیمپس،6 کلیکشن پوائنٹس اور2 خیمہ بستیاں لگائی ہیں۔این ایف آرسی سی نے بتایا کہ پاک فضائیہ کی بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور 90 پروازوں سے 1521 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

    پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرین میں 4800 ٹینٹس، 2 لاکھ 16 ہزار4 کھانے کے پیکٹ، 2584 کلو راشن کے پیکٹ،1 لاکھ 96 ہزار677 لیٹر پانی، 19 ٹینٹ سٹی، 18ہزار441 لوگوں کو خوراک،خشک راشن اورطبی امداد دی۔این ایف آر سی سی کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ نے اب تک54 ریلیف کیمپ،44 میڈیکل کیمپس لگائے، میڈیکل کیمپس میں 46ہزار980 مریضوں کا علاج کیا گیا ہے۔پاک فضائیہ نے سندھ میں نوابشاہ، سکھر، میرپور خاص، تلہاڑ، جیکب آباد، سیہون میں کام جاری رکے ہوئے ہیں۔

    بلوچستان میں پاک فضائیہ سمگلی،قلعہ عبداللّٰہ اور قلعہ سیف اللّٰہ میں امداد پہنچا رہی ہے، راجن پور،ڈی جی خان،اسکردو، غذر، نلتر، گھانچے، نوشہرہ،چارسدہ،سیدو شریف، شانگلہ، لارام میں مصروف عمل ہے۔

  • سیلابی پانی، ٹرین آپریشن کی بحالی میں مشکلات کا سامنا

    سیلابی پانی، ٹرین آپریشن کی بحالی میں مشکلات کا سامنا

    ریلوے حکام نے ٹریک اور پلوں پر سیلابی پانی ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر100فیصد مسافر و فریٹ ٹرین آپریشن بحال ہونے میں مزید 12سے15روز تاخیر سے شروع ہونے کا عندیا دیدیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ریلوے انتظامیہ نے آج 11 ستمبر تک مسافروں کو تمام ٹرینوں کا ری فنڈ دیدیا ہے البتہ کل 12 ستمبر سے صرف روہڑی اسٹیشن تک رحمان بابا ٹرین کو پشاور سے براستہ فیصل آباد چلایا جائے گا،اپ اور ڈاؤن کی 30 سے زائد ٹرینیں بند ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ریلوے حکام کو سیلابی پانی کی وجہ سے ٹرین آپریشن شروع کرنے میں ٹیکینکل مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اگر ٹرین آپریشن شروع کیا جاتا ہے تو ریلوے انفراسٹرکچر کو مزید ٹیکینکل نقصان پہنچنے کے خدشہ ہے۔

    چیف آپریٹنگ سپرنٹنڈنٹ آفیسر ریلوے وقار شاہد کے مطابق ٹریک پر سیلابی پانی کی صورتحال کا چوبیس گھنٹے جائزہ لیا جارہا ہے، ریلوے ٹریک اور پلوں پر سیلابی پانی کی وجہ سے ٹرین آپریشن کسی صورت شروع نہیں کیا جاسکتا ،100 فیصد مسافر اور فریٹ ٹرین آپریشن بحال ہونے میں مذید 12سے 15 روز لگ سکتے ہیں جیسے ہی صورتحال بہتر ہوگی سو فیصد ٹرین آپریشن شروع کردیا جائے گا۔

    ذرائع کےمطابق اپ اور ڈاؤن کی 30 سے زائد ٹرینیں مکمل طور پر بند ہیں جس کی وجہ سے ریلوے خسارہ بھی بڑھتا جارہا ہے۔

  • پنجاب حکومت کے پاس نئی گاڑیوں کیلئے پیسے ہیں سیلاب متاثرین کیلئے نہیں،خرم دستگیر

    پنجاب حکومت کے پاس نئی گاڑیوں کیلئے پیسے ہیں سیلاب متاثرین کیلئے نہیں،خرم دستگیر

    وفاقی وزیرتوانائی خرم دستگیرنے کہا کہ سیلاب سے بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا،سیلاب سے بجلی سپلائی میں رکاوٹ آئی تھی،سیلاب سے متاثرہ بجلی کا نظام مکمل بحال کر دیا ہے،دن رات کی محنت کے بعد بجلی کا نظام بحال کیا گیا ہے.

    گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرتوانائی خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ اب صرف معمول کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے ،دادو کا گریڈ اسٹیشن بلوچستان اور جنوبی سندھ کی سپلائی کیلئے بہت اہم ہے،دادو کے گریڈ اسٹیشن پر خطرہ ابھی بھی موجود ،پانی کا ریلا اس کی طرف بڑھ رہا ہے،ہم دادو گریڈ اسٹیشن کو بچانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں،دادو شہر چاروں طرف سے پانی میں گھیرا ہوا ہے.

    خرم دستگیرنے کہا کہ ملک میں خسارے والے فیڈرز میں معمول کی لوڈشیڈنگ جاری ہے،کچھ لوگ اس ملک میں فساد پھیلانے چاہتے ہیں، خیبر پختونخوا میں سیلاب سے بجلی کے کھمبے بھی پانی میں بہہ گئے تھے،یہ سیاست کا نہیں بلکہ سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کا وقت ہے،سیلاب متاثرین کی بحالی کی حکومت اپنا کام کر رہی ہے،کسی جتھے کے پاس جلسے کیلئے 10 کروڑ ہیں تو بہتر یہی تھا کہ وہ سیلاب متاثرین کیلئے استعمال ہوتے،سیلاب متاثرین کیلئے حکومت پنجاب کے پاس پیسے نہیں.

    انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے پاس وزرا کیلئے نئی گاڑیاں خریدنے کیلئے30کروڑ روپے موجود ہیں،ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ایک دن بھی پیٹرول کی شارٹیج نہیں ہوئی،بجلی کے بلوں کا بہت دکھ تھا مگر وزیر اعظم نے فوری طور پر ریلیف دیا،بجلی کی قیمت نیچے آئیگی، تمام اسٹیشن چلا کر لوڈشیڈنگ کو کنٹرول رکھا، کل خبر آئی ان کے دور میں یوٹیلٹی اسٹور میں 6ارب روپے کا گھپلا ہوا،ان کے دور میں کویڈ فنڈز میں کم ازکم 140ارب روپے کا گھپلا ہوا ہے،300یونٹ والوں کو ریلیف فوری طور پر دیدیا ہے ،ہم نے متاثرین کو گھر بنا کر دینے ہیں، کروڑوں لوگوں کو کھانا فراہم کرنا ہے، تحریک انصاف کا فتنہ اور فساد جلد عوام کے سامنے بے نقاب ہوجائے گا.

  • امریکہ، پاکستان  میں سیلاب زدگان کے لیے مزید 2 کروڑ ڈالر امداد دے گا

    امریکہ، پاکستان میں سیلاب زدگان کے لیے مزید 2 کروڑ ڈالر امداد دے گا

    جوبائیڈن انتظامیہ پاکستان میں سیلاب زدگان کے لیے مزید 2 کروڑ ڈالر امداد دے گی۔

    امریکی رکن کانگریس شیلا جیکسن لی نے ہیوسٹن میں فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کیا اور اس موقع پر شیلا جیکسن نے کہاکہ پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد امریکی انتظامیہ کو صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں بائیڈن انتظامیہ نے مزید 20 ملین ڈالرز کی منظوری دے دی ہے۔

    دوسری جانب میئر ہیوسٹن اور رکن کانگریس ایل گرین کا کہنا تھا کہ ہم اس مشکل گھڑی میں پاکستانیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، عالمی برادری پاکستان کی مدد کرے۔

    قبل ازیں امریکا نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 3 کروڑ ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا تھا۔اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے کے مطابق پاکستان میں سیلاب کے باعث ہونے والی تباہی سے افسردہ ہیں۔

    امریکی سفارت خانے نے اعلان کیا تھا کہ یوایس ایڈ کے ذریعے انسانی امداد میں مزید 3 کروڑ ڈالرز (6 ارب پاکستانی روپے سے زائد) دیں گے۔امریکی سفارت خانے کا کہنا تھا کہ امداد کیلئے مقامی شراکت داروں اورحکام کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور امداد کا مقصد متاثرین کوفوری خوراک، صاف پانی، مالی مدد اورپناہ گاہ دینا ہے۔

    دوسری جانب امریکا میں تعینات پاکستان کے سفیر مسعود خان نے امریکا کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے 3 کروڑ ڈالر امداد پر اظہار تشکر کیا تھا.ان کا کہنا تھاکہ انسانی بنیادوں پر3 کروڑ ڈالر امداد پر امریکا کے شکر گزار ہیں، اس آفت کے دوران امریکا کے پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کو سراہتے ہیں۔

  • یواین سیکرٹری جنرل پاکستان کا دورہ مکمل کرکے واپس چلے گئے

    یواین سیکرٹری جنرل پاکستان کا دورہ مکمل کرکے واپس چلے گئے

    یواین سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان کا دورہ مکمل کرکے واپس چلے گئے، سیلاب سے تباہی کا ذمہ دار جی ٹوئنٹی ممالک کو قرار دیا اور عالمی برادری سے پاکستان کی مدد کی اپیل کی ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس کی روانگی سے قبل ٹرمینل پر ملاقات کی، وزیر اعلیٰ سندھ نے یو این کے سیکرٹری جنرل کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے اور متاثرین سے ملاقات کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے انتونیو گوتریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی عالمی برادری کو پاکستان کے سیلاب متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اپیل قابل ستائش ہے، اس موقع پرمراد علی شاہ نے یو این سیکرٹری جنرل کو سندھ کے روایتی تحائف اجرک اورسندھی ٹوپی دے کر ٹرمینل ون سے رخصت کیا۔

    اس سے قبل انتونیو گوتریس نے وزیراعظم شہبازشریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ سندھ اور بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا، ساتھ ہی سیلاب متاثرین کے کیمپس کا دورہ کیا، دورے کے دوران انہوں نے پاکستان میں سیلاب سے تباہی کا ذمہ دار جی ٹوئنٹی ممالک کو قراردیتے ہوئے کہا کہ 80 فیصد کاربن کا اخراج یہی جی ٹونٹی ممالک کرتے ہیں۔

    انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ سوال پاکستان کیلئے امداد کا نہیں، پاکستان کے ساتھ انصاف کا ہے۔عالمی حدت میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے لیکن خمیازہ پاکستان بھگت رہا ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں دیکھی تباہی الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتی، ترقی یافتہ ملک پاکستان کو تباہی سے نکالنے میں مدد کریں۔

    انہوں نے کہا کہ تباہی سے نمٹنے کی پاکستان میں سکت نہیں اور نہ ہی پاکستان اکیلے یہ کرسکتا ہے، اقوام متحدہ پاکستان کی آواز کے ساتھ آواز ملائے گا، بحالی کے آپریشن میں کافی فنڈز کی ضرورت ہوگی، ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری ہے، جس کے بعد بحالی کا آپریشن ہوگا۔

  • راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت کئی شہروں  میں موسلادھاربارش، ہائی الرٹ جاری

    راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں موسلادھاربارش، ہائی الرٹ جاری

    جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھاربارش سے جل تھل ایک ہوگیا، نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے، واسا نے ہائی الرٹ جاری کردیا۔

    ایم ڈی واسا کے مطابق نشیبی علاقوں میں واسا عملہ ہیوی مشینری کے ساتھ موجود ہے، گولڑہ کے مقام پر 32 ملی میٹر، چکلالہ پر 30 اور سید پور کےے مقام پر 21 ملی میٹرملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔چکوال اور شکر گڑھ میں بھی بادل جم کر برسے، اسلام آباد میں صبح سویرے بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا۔

    جڑواں شہروں پر کالی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں، واسا نے مسلسل بارش کے باعث راولپنڈی میں ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔ایم ڈی واسا کے مطابق بوکڑہ میں 15، شمس آباد میں13 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کا لیول5 فٹ اور گوالمنڈی پل پر 4 فٹ ہے۔

    علاوہ ازیں مظفرآباد اور گردونواح میں بارش کا سلسلہ جاری،،ایس ڈی ایم نے شہریوں کو موسمی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے سفر کی ہدایت کی ہے،شہری ندی نالوں اور دریاوٴں کے قریب جانے سے گریز کریں .جبکہ اٹک شہر اورگردونواح میں بارش سے گرمی کی شد ت میں کمی آگئی.

    سوہاوہ ،شہر اور گردونواح میں موسلادھار بارش ہوئی،بارش سے متعدد علاقوں میں فیڈر زٹرپ کر گئے اور بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی،خوشاب اور گردونواح میں بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا،دینہ اور گردونواح میں بارش سے گرمی کی شدت میں کمی آگئی.

  • یو این سیکریٹری جنرل  کی سیلاب متاثرین کی بے مثال  معاونت پر مشکور ہیں، وزیراعظم

    یو این سیکریٹری جنرل کی سیلاب متاثرین کی بے مثال معاونت پر مشکور ہیں، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ یو این سیکریٹری جنرل کی سیلاب متاثرین کی بے مثال معاونت پر مشکور ہیں، انتونیو گوتریس کا دورہ سیلاب سے جنم لینے والے انسانی المیے سے متعلق آگاہی کیلئے اہم ہے،یو این سیکریٹری جنرل کے ہمدردانہ اور قائدانہ کردار نے بے حد متاثر کیا.


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیضام میں وزیاعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری کی مدد کی ضرورت ہے.

    وزیارعظم نے کہا کہ یو این سیکریٹری جنرل سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی سے دلی طورپررنجیدہ ہوئے،یو این سیکریٹری جنرل سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی سے دلی طورپررنجیدہ ہوئے،موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں انہوں نے جو کہا اس پر دنیا کو توجہ دینی چاہیے.

    شہباز شریف کا مذید کہنا تھا کہ میں یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا سیلاب متاثرین کی مثالی حمایت کیلئےشکرگزار ہوں.انکا دو روزہ دورہ اس انسانی سانحے کےبارے دنیا بھر میں آگاہی پھیلانے کیلئے نہایت اہم رہا. انکی ہمدردی اور قائدانہ خصوصیات نے مجھےمتاثر کیا.پاکستان کو اس چیلینج سےنبردآزما ہونےکیلئے عالمی تعاون کی ضرورت ہے.


    دوسری جانب یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پاکستان کے دورہ اور سیلاب کی صورتحال کا مشاہدہ کرنے کے بعد ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے ایسے نقصانات نہیں دیکھے جو سیلاب سے پاکستان میں ہوئے.

    انہوں نے کہا کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے ملکوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ے گا،موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات متاثرہ ملکوں کی برداشت سے باہر ہوسکتے ہیں،موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے جو مشترکہ توجہ کا متقاضی ہے.

  • نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نوازکی آج چوتھی برسی

    نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نوازکی آج چوتھی برسی

    سابق وزیراوعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کو دنیا سے بچھڑے 4 برس بیت گئے، مشرف دور میں پارٹی کو متحد رکھنے کیلئے مرحومہ کی جدوجہد آج بھی یاد ہیں، اپوزیشن جماعتوں کو آمریت کیخلاف متحد کرنے پر ’’مادر جمہوریت‘‘ کا خطاب بھی دیا گیا۔

    پاکستان کے تین مرتبہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ اور سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کینسر کے عارضہ کے باعث 68 برس کی عمر میں 11 ستمبر 2018 میں لندن کے ہسپتال میں انتقال کر گئی تھیں۔

    بیگم کلثوم نواز تین مرتبہ پاکستان کی خاتون اول رہیں۔ لاہور کے کشمیری گھرانے میں پیدا ہونے والی کلثوم نواز رستم زماں گاما پہلوان کی پوتی تھیں، بیگم کلثوم نواز کو اگست 2017 میں لندن کے ہارلے کلینک لے جایا گیا جہاں انہیں کینسر تشخیص کیا گیا، جون 2018 میں دل کا دورہ پڑنے پر انہیں اسی طبی مرکز میں دوبارہ داخل کرایا گیا، جہاں وہ وفات تک زیر علاج رہیں۔

    مرحومہ تقریبا ایک سال 25 دن تک لندن میں زیر علاج رہیں اور بالآخر موت وحیات کے کشمکش کے بعد 11 ستمبر 2018 کو اس دنیا فانی سے کوچ کر گئیں۔ مرحومہ کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

  • دادو شہر اور گردونواح میں سیلاب کا خطرہ

    دادو شہر اور گردونواح میں سیلاب کا خطرہ

    دادو شہر اور گردونواح میں سیلاب کا خطرہ ہے، شہر کی پہلی ڈیفنس لائن چک پل ٹوٹنے کے بعد شہر کو بچانے کے لیے پلان بی پر عمل درآمد شروع کردیا گیا۔

    پلان بی کے تحت بائی پاس روڈ پر بُرڑا نہر کے پشتوں پر رنگ بند کی تعمیر کا عمل جاری ہے، بھاری مشینوں کے ذریعے مٹی لاد کر رنگ بند کو 15 فٹ تک اونچا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق منچھر جھیل کا ریلا دادو کا رنگ بند عبور کرگیا ہے، پانی میں گھرے لوگوں نے محفوظ مقامات پر نقل مکانی شروع کردی ہے۔خطرے کی وجہ سے ڈسٹرکٹ جیل دادو کے قیدیوں کو حیدرآباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب بھان سعید آباد کے گرڈ اسٹیشن میں بھی پانی داخل ہونے سے بجلی بند کردی گئی۔ منچھر جھیل میں مختلف مقامات پر کٹ لگانے سے دریائے سندھ میں پانی کا اخراج ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔

  • بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 74 ویں برسی

    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 74 ویں برسی

    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 74 ویں برسی آج انتہائی عقیدت واحترام سے منائی جا رہی ہے، بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

    کراچی شہر کی بندرگاہ کے قریب واقع وزیر مینشن نامی عمارت میں 1876 کوجناح بھائی پونجا کے گھرآنکھ کھولنے والے محمد علی جناح آنے والے برسوں میں مسلمانان ہند کے میر کارواں بن گئے اور عرصہ دراز سے استحصال میں پھنسی قوم کو اپنی سیاسی بصیرت کی وجہ سے الگ مملکت کی شناخت دی۔قائداعظم کو پاکستان کی آزادی کے لیے ان کی بے مثال خدمات پر خراج تحسین پیش کرنے کیلئے خصوصی پروگرام نشر کئے جا رہے ہیں۔

    بابائے قوم کےسنہری اصول آج بھی مسائل کی دلدل سے نکلنے کیلئے مشعل راہ ہیں، قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مختلف تقاریب بھی منعقد کی گئی ہیں۔

    یاد رہے کہ برصغیر میں ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کا وہ دیرینہ خواب جو اسلامیان ہند گذشتہ دو صدیوں سے دیکھتے چلے آرہے تھے 14 اگست کو شرمندہ تعبیر ہوا، قائد اعظ محمد علی جناح قوم کیلئے آزادی حاصل کرنے کے فوراً بعد 11 ستمبر 1948 کو انتقال کرگئے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے آج بابائےقوم قائداعظم محمدعلی جناح کا74 یومِ وفات ہے.پوری قوم آج کےدن قائدِاعظم کی مسلمانانِ برصغیر کےحقوق کی جنگ میں انتھک جدوجہد، دوراندیشی اورقائدانہ صلاحیتوں پرانہیں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے.قائدِ اعظم کی قیادت کےبغیر مسلمانوں کیلئےآزاد ریاست کاخواب کبھی شرمندہءِ تعبیرنہ ہوتا.

    انہوں نے کہا کہ آج قوم کو پاکستان کو درپیش چیلینجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے بابائے قوم کے ایمان، اتحاد اور تنظم کے لازوال سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی سب سے ذیادہ ضرورت ہے. معاشی مشکلات میں گھرے وطنِ عزیز کو سیلاب کی قدرتی آفت کا سامنا ہے یم.

    شہباز شریف نے کہا کہ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ ہم اپنے ایمان کی طاقت، اتحاد اور بھائی چارے سے اپنی صفوں میں ایسا نظم و ضبط لے کر آئیں گے کہ صرف سیلاب و معاشی مشکلات نہیں بلکہ تمام چیلینجز پرقابو پاکر قائد کےعظیم پاکستان کی منزل کو جلد حاصل کر لیں گے.راستہ دشوار ضرور ہےمگر منزل کا حصول ناممکن ہر گز نہیں.

    وفاقی وزیر برائے خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ قوم کو ہر مشکل امتحان میں قائدِ اعظم کی پیروی کرنا ہوگی، آج ایک بار پھر سیلاب کی شکل میں ارضِ وطن کو ایک چیلنج کا سامنا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کے یومِ وفات پر اپنے پیغام میں کہا کہ قیامِ پاکستان جیسا عظیم کارنامہ قائدِ اعظم کی جمہوری جدوجہد کا نتیجہ ہے، وہ ملک میں سب کے لیے سماجی انصاف چاہتے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ قائدِ اعظم کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے اصولوں پر کاربند رہیں، ان کے رہنما اصول اتحاد، یقین محکم اور نظم وضبط پر کاربند ہونا ہو گا۔

    سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ قائد اعظم نے سیاسی جدوجہد کر کے آزاد ریاست کی بنیاد رکھی، قائد اعظم کی فلاسفی پر عمل پیرا ہیں۔بابائے قوم کی برسی پر اپنے پیغام میں آصف علی زرداری نے بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو متحد اورمضبوط بنانے کی ضمانت 1973 کا آئین ہے، اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری نے قائد اعظم کے پاکستان کو مستحکم کیا ہے۔

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے کہا کہ پوری قوم بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہے. قائدِاعظم کے زریں اصول اتحاد،ایمان نظم و ضبط ہمارے لیے مشعل راہ ہیں. آئیں عہد کریں کہ قائدِاعظم کے فرمودات پر عمل پیرا ہو کر ملک کو آگے لے کر جائیں گے. باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک قوم بن کر ملک کو قائد اعظم کا پاکستان بنائیں گے.

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒکے یوم وفات پر پیغام میں کہنا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے فرمودات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔قائداعظمؒ کے زریں اصولوں ”ایمان، اتحاد، تنظیم“ کو اپنا کر ہم مملکت خدا داد پاکستان کو درست سمت میں ڈال سکتے ہیں۔ میں سمجھتاہوں کہ قائداعظمؒ کے اصولوں پر چل کر ہی ہم پاکستان کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ آج اگر ہم خود کو آزاد قوم کہلاتے ہیں تو اس کے پیچھے قائداعظمؒ کی مدبرانہ سیاست ہے۔بانی پاکستان محمد علی جناحؒ بااصول، انصاف پسند اور جرأت مند مدبر تھے۔ تحمل،برداشت اوررواداری پر مبنی پرامن معاشرے کا قیام بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کا خواب تھا۔ ایسا پاکستان جہاں سب کو یکساں سماجی و معاشی انصاف ملے گا۔ قائد اعظمؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سیاسی اور ذاتی مفادات کو پس پشت رکھ کر بحیثیت قوم اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی کی مثالی فضا پیدا کی جائے۔